Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 13) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 13) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
وہ گیا تو پھر چلا ہی گیا۔۔
وہ چلا گیا تو واقعی ساری حویلی سے روشنیاں سِمٹنے لگیں، چراغوں میں روشنی نہ رہی اور قلم کی روشناٸیاں ہوتے ہوۓ بھی صفحہء قرطاس خشک رہنے لگے۔۔
ہاں وہ ایسا ہی تھا، موجود تھا تو اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی اور جب چلا گیا تھا تو اس کی غیر مجودگی بھی بہت سوں پر اثرانداز ہورہی تھی۔ ان بہت سوں میں بی جان، زمان اور امل پیش پیش تھے۔ زمان بہت خاموش رہنے لگے تھے، بی جان اسے یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھرا کرتی تھیں اور امل۔۔۔
وہ اب اکثر دالان کے پچھلے حصّے میں خاموشی سے ایک طرف بیٹھی ہوتی تھی۔ کبھی اس کے کمرے میں موجود چیزوں کو دیکھ کر آزردہ ہوجاتی۔ ہر شے پر اس کا نقش ثبت تھا، ہر زاویہ گواہی دیتا تھا کہ وہ تھا۔۔ رہا کرتا تھا اور اب جاچکا تھا۔۔
کبھی کبھی تو اداسی اتنی بڑھ جاتی تھی کہ اسے خود سے وحشت ہونے لگتی مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو سنبھال لیا۔
ولی کی تو چار سال تک واپسی ہی نہ ہوٸ۔ زمان نے اس کے سکون کی خاطر اسے شہر ہی میں ایک فلیٹ لے دیا تھا جس میں وہ مسلسل چار سال پڑھاٸ کے دوران رہا اور ان چار سالوں میں مجال ہو جو اس نے پلٹ کر حویلی والوں کی جانب دیکھا بھی ہو۔ ہر مہینے زمان اور بی جان اس سے ملنے چلے جاتے اور بس۔۔
نہ اس نے کبھی آنے کی خواہش کا اظہار کیا اور نہ ہی زمان نے کبھی اس پر زور ڈالا۔ اس کی ذہنی حالت کے لیۓ یہی بہتر تھا کہ وہ اس حویلی سے حال فی الحال کوسوں دور ہی رہتا۔ مگر کوٸ کیسے جان سکتا تھا بھلا، کہ دو شہد رنگ آنکھیں اس کی دید کو ترسی جارہی تھیں۔کوٸ ادراک نہ کرسکا۔۔ اور اس سارے عرصے کی تکلیف امل نے اکیلے ہی جھیلی۔ اسے یہ سب اکیلے ہی جھیلنا تھا۔ وہ جو نہیں تھا تو کس سے کہا جاتا۔۔۔؟
وہ جو زبان کی جنبش سے قبل پلکوں کی جنبش تک پڑھ لیا کرتا تھا اب وہ جو نہیں تھا تو کسی پر الفاظ ضاٸع کرنے کا فاٸدہ بھلا۔۔۔؟
اس سارے عرصے میں وہ اللّہ سے جُڑ گٸ۔ پہلے اس نے اسے اپنی تنہاٸ کا ساتھی بنایا اور پر آہستہ آہستہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہوتا گیا۔ اس کی نمازیں پُرسکون ہوتی گٸیں اور ولی کے حق میں دعاٶں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ وہ بہت اچھی مسلمہ نہیں تھی، زبان پر آۓ طنز، اور بہت سی کڑوی باتوں کو بولنے سے اکثر وہ خود کو نہیں روک پاتی تھی۔ غصّہ بھی بہت آتا تھا اور لوگوں کو جھاڑنے کے فن میں بھی محترمہ تاک تھیں مگر وہ پھر بھی جانتی تھی۔۔ کہ کس سے بات کی جانی چاہیۓ اور کس سے نہیں۔۔ کس سے کتنے فاصلے پر رہنا ہے اور کس سے کتنی نرمی برتنی ہے اسے یہ سب آتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسے اندازہ ہوگیا کہ کسی غیر سے محبت کرنا درست نہیں مگر مسٸلہ تو یہ تھا کہ وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔ اور جب سے اس سے محبت کی تھی تب سے وہ بدتمیز غیر لگا ہی نہیں کرتا تھا۔۔ اگر جو کبھی اسے نۓ سِرے سے زندگی شروع کرنے کا موقع ملا تو وہ کبھی اس سے محبت نہیں کرے گی۔۔
اس نے آنسو رگڑتے برہمی سے سوچا۔ رات کے آخری پہر سنسان پڑی دنیا میں وہ جاگ رہی تھی اور ولی کے مسلسل یاد آنے پر اسے بے طرح غصّہ آرہا تھا اور اس بات پر بھی غصّہ آرہا تھا کہ اس کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔۔ بے بسی سے آنکھیں مسلتے وہ یکدم روپڑی۔ پھر چہرہ اُٹھا کر آسمان کو دیکھا۔۔ آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا۔ اس نے اپنے برابر چارپاٸ پر سوٸ بی جان کو دیکھا۔۔ وہ چھت پر ان کے ساتھ سورہی تھی۔ پھر چہرہ موڑ کر تاروں بھری رات پر نظر ڈالی۔۔ آج افق پر چاند نہیں جگمگا رہا تھا مگر پھر بھی تاروں کی مبھم روشنی نے آسمان چمکا رکھا تھا۔۔ وہ یاسیت سے نم ہوتی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے گٸ۔
دوسری جانب ولی اپنے فلیٹ کی ریلنگ میں کھڑا اس حبس زدہ سی رات میں تاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ پھر گہرا سانس لیتا اندر مڑا۔۔
“مجھے معاف کردیجیۓ گا بی بی۔۔”
ریلنگ سے ہٹتے یہ آخری بات تھی جو اس نے امل سے کہی اور پھر رات آنکھوں میں کاٹنے کے لیۓ بستر پر چلا آیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
آج حویلی میں عجب قسم کی رونق تھی۔ ہر سُو نامحسوس سی چہل پہل ہورہی تھی۔ ملازمین بی جان کی ہدایتوں پر دوڑے دوڑے کام کررہے تھے۔
زینوں سے اترتی، ہاتھوں سے سیاہ بال سمیٹتی امل نے ایک طاٸرانہ نگاہ سب پر ڈالی اور پھر بی جان کی جانب گھومی۔۔
“یہ اتنا پھیلاوہ کس بات کا ہے بی جان۔۔؟”
ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے اس نے پوچھا تو وہ پُرجوش سی بتانے لگیں۔۔
“ولی آرہا ہے آج شہر سے۔ پڑھاٸ ختم ہوگٸ ہے اس کی اور اب وہ یہیں رہے گا ہماری آنکھوں کے سامنے، ہمارے ساتھ۔۔”
اس کے ہاتھ سے ریشمی بال پھسل کر کمر پر بکھرتے چلے گۓ، بے یقینی سے وہ بی جان کو ہونق بی تک رہی تھی۔۔
“کیا۔۔۔! کب آرہا ہے وہ۔۔؟ کس وقت آۓ گا۔۔؟؟ اور ایسے اچانک کیسے آسکتا ہے وہ۔۔!”
بی جان نے خفگی سے دیکھا تھا اسے۔
“کیا مطلب اچانک۔۔؟ پڑھاٸ ختم میرے بچے کی اور اب وہ یہیں رہے گا ہمارے ساتھ۔ ہاۓ میری تو آنکھیں ہی تھک گٸیں ہیں اسے ہنستا کھیلتا دیکھنے کے لیۓ۔ اب وہ یہاں میری نظروں کے سامنے رہے گا تو میں اس کے سارے دکھوں پر مرہم رکھ دونگی۔ اب کچھ بھی نہیں آنے دونگی اس تک میں۔ بہت سہہ لیا میرے بچے نے۔۔”
انگلیوں سے آنکھوں کے گوشے صاف کرتیں بی جان کچن کی جانب ہولیں تو وہ جیسے ہوش میں آٸ۔ اسے اس حقیقت پر یقین کرنے میں وقت لگ رہا تھا۔ کہ وہ آرہا ہے۔ خدایا وہ آرہا ہے۔۔! وہ اب اس کی آنکھوں کے سامنے رہے گا۔۔ وہ اسے دیکھ پاۓ گی۔۔! اس نے آس پاس بکھری سی حویلی کو دیکھا۔ طلوع ہوٸ صبح یکدم ہی چمکنے لگی تھی۔۔ روشن ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر وہ آگیا۔۔
پہلے سے زیادہ سحر انگیز ہو کر۔۔ پہلے سے زیادہ وجیہہ اور خوبصورت ہو کر۔۔ اس کی نسواری آنکھیں غیر سنجیدہ پہلے بھی نہیں رہتی تھیں مگر اب ان پر چڑھا سخت سا سنجیدہ تاثر بہت جچ رہا تھا۔ شہری لباس میں ملبوس، سیاہ پینٹ اور سیاہ ہی ٹی شرٹ پر ہلکی سی چاکلیٹی جیکٹ پہنے وہ مزید دراز قد اور مضبوط لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے کمرے کی قد آور کھڑکی سے اسے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گٸ۔۔
جناب۔۔
کیا رنگ ڈھنگ ہیں۔۔
اس نے کھڑکی کا پردہ برابر کرتے ہوۓ خفت سے سوچا اور پھر جب تک وہ لوگوں سے مل ملا کر اپنے کمرے میں نہ چلا گیا تب تک وہ کمرے سے باہر نہ نکلی۔۔
چار سالوں سے اسے سوچتے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس کے یوں اس طرح سامنے آجانے پر اتنا نروس ہوجاٸیگی۔ اس نے سر نفی میں ہلایا اور پھر دھڑکتے دل کو قابو کرتی کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر کی جانب بڑھی۔ آج اتوار تھا اور آج کے دن سب کا ناشتے کی ٹیبل پر ہونا اس حویلی میں بہت ضروری خیال کیا جاتا تھا۔۔
اف کیسے بیکار اصول ہیں۔۔
زینے اترتے اس نے ہونٹوں کو آپس میں مس کرتے سوچا اور پھر گہرا سانس بھرتی کچن میں داخل ہوگٸ۔ وہ نکھرا نکھرا سا سفید شلوار قمیض میں ملبوس دھیمی آواز میں آغا جان سے کوٸ بات کررہا تھا یکدم اسے دیکھ کر ٹھٹکا اور پھر لمحے کے ہزارویں حصّے میں سنبھل بھی گیا۔۔
کسی نے اس کا ٹھٹک کر سنبھلنا محسوس کیا ہو یا نہ۔۔ مگر امل نے یہ سب بہت سرعت سے محسوس کیا تھا اور اس کی ہتھیلیاں اتنی ہی تیزی سے پسیج گٸ تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیس سے لان کے سوٹ میں ملبوس وہ کچن میں داخل ہوٸ تو اس کی نظر سب سے پہلے اسی وجود پر پھسلی۔
وہ بس ایک لمحہ تھا۔۔ ٹھٹک کر سنبھلنے کا۔۔
نظروں اور دھڑکنوں کے ہم آہنگ ہونے کا۔۔
اور پھر اتنی ہی تیزی سے اپنے اپنے سمٹے داٸروں کی جانب سفر کرنے کا۔۔
وہ سلام کرتی اندر داخل ہوٸ اور پھر خاموشی سے بی جان کے ساتھ جا بیٹھی۔
ولی سردار بابا سے اب ڈیرے پر ہوتے معاملات کی بابت گفتگو کررہا تھا۔ سنجیدگی اور دھیمی سی آواز میں۔ پہلے سے خاصہ بڑا بڑا۔۔ نکھرا نکھرا سا۔۔
زیرک اور ذہین۔۔
اس نے ایک خفیف سی نگاہ اس پر اُٹھاٸ اور اتنی ہی سرعت سے ناشتے کی جانب متوجہ ہوٸ۔
گاہے بگاہے وہ بی جان پر نظر ڈالتا تھا مگر اسے ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔ چار سال قبل وہ اس سے اتنا نہیں جھجھکتی تھی اور نہ ہی اتنا گریز آڑے آتا تھا ہاں البتہ اب جبکہ اس نے بہت سے ماہ اس سے دور رہ کر گزارے تھے تو یہ سب جذبات اس پر یکدم ہی وارد ہوۓ۔ وہ ایک بااعتماد لڑکی تھی، حق بولنے والی اور غلط بات پر آگے والے کو ٹوک دینے والی۔۔ فطری جھجھک اور فطری حیا اس میں تھی مگر جب بھی کوٸ غلط کاری اس کے سامنے آتی تو وہ خود کو روک نہیں پاتی تھی۔۔ عموماً اس کے لبوں پر خاموشی ہی رہتی مگر جب وہ غصے میں آکر وہ بولنا شروع کرتی تو پھر ایک ہی سانس میں بے دریغ بولے جاتی۔۔ زمان اکثر کہا کرتے تھے کہ امل ویسے کبھی بھی کسی چیز کا اظہار نہیں کر سکتی مگر ہاں۔۔ اگر اسے غصہ دلا دیا جاۓ تو وہ فر فر بولنے لگ جاٸیگی۔۔
ابھی بھی اس نے بمشکل چند نوالے ہی زہر مار کیۓ اور کرسی سے اُٹھ گٸ۔ تینوں نے بیک وقت سر اُٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ ان کے ایسے دیکھنے پر سٹپٹاٸ۔۔
“ناشتہ کرلیا تم نے۔۔؟”
سب سے پہلے آغا جان بولے تھے۔
“جی آغا جان۔۔”
اس کے سر ہلانے پر وہ ذرا حیران ہوۓ۔
“اتنی جلدی۔۔!”
اس سے پہلے کہ وہ کوٸ جواب دیتا بی جان بول پڑیں۔۔
“یہ اس کا روز کا معمول ہے زمان۔ ایسے ہی ناشتہ کرتی ہے یہ۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ ناشتہ ڈھنگ سے کیا کرو، کچھ کھایا کرو ٹھیک سے مگر نہیں۔۔ ایسے ہی ایک دو نوالے لے کر اُٹھ جاتی ہے۔ ایک چڑیا بھی زیادہ کھاتی ہوگی تم سے امل۔۔”
آخر میں خفا سی نگاہ اس پر ڈالی تو بے ساختہ ہی اس کی نگاہ ولی پر پھسلی۔ اس کے گال میں پڑتا گڑھا نمایاں تھا مطلب اس نے اپنی امڈتی مسکراہٹ روکی تھی۔ دوسری جانب زمان نے اب کے کچھ اور حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
”پہلے تو ٹھیک سے کھاتی تھیں کھانا۔۔ اب کیا ہوا ہے۔۔؟”
اف۔۔ اس کا دل کیا بس رونے لگ جاۓ۔ جتنا جلدی یہاں سے نکلنا تھا بات اتنی لمبی ہوتی جارہی تھی۔۔
“میں زیادہ کھاتی ہوں بابا، ابھی بھی کھایا ہے لیکن اب جتنی بھوک لگے گی اتنا ہی کھاٶنگی ناں۔۔ اس سے زیادہ کیسے کھالوں۔۔؟”
وہ رو نہیں رہی تھی مگر اسے لگا کہ وہ کہ بس اب وہ رودے گی۔ ولی نے نرم مگر سنجیدہ آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر بی جان کی جانب متوجہ ہوا۔
“کوٸ بات نہیں بی جان، ابھی بی بی کو جانے دیں یہ بعد میں کھالینگی۔ دراصل کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں صبح ہی صبح بھوک نہیں لگتی۔ وہ کچھ دیر بعد بھوک محسوس کرتے ہیں اور تب ہی ٹھیک سے کھا سکتے ہیں۔ بی بی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ وہ ٹھیک طرح ہی کھاتی ہیں بس ٹاٸمنگ کا فرق ہے۔۔”
بہت سبھاٶ سے اس نے بی جان سے کہا مگر بی جان کو تو جیسے موقع مل گیا تھا۔۔
“یہ۔۔ تم نہیں جانتے اسے۔۔ اس نے اپنی بھوک کا ٹاٸم خود خراب کیا ہے اسی لیۓ اب اسے بھوک نہیں لگتی۔ ناشتہ ہو، دوپہر کا کھانا ہو یا رات کا۔۔ اسے سو سو آوازیں دے کر بلانا پڑتا ہے کھانے کے لیۓ۔ خود کبھی جو یہ کچن میں جھانک جاۓ کھانے کے لیۓ ممکن ہی نہیں۔۔”
امل اس سارے عرصے میں سر زور زور سے نفی میں ہلارہی تھی۔ اور ملتجی نگاہوں سے آغا جان کو دیکھ رہی تھی کہ بس۔۔ اب اور سوال نہیں۔ نہیں تو ان سوالوں کے جواب میں ڈانٹ یقینی ہوگی۔ ولی نے لب سمیٹ کر مسکراہٹ دباٸ۔ اس کے داٸیں گال میں پڑتا ڈمپل ایک پل کو بھی غاٸب نہیں ہوا تھا۔
“یہ تو بیٹا غلطی ہے آپ کی۔ کھانا آپ کو وقت پر کھانا چاہیۓ اور یہ دو چار نوالوں سے نہیں ہوتا کچھ بھی۔ ایک دفعہ آپ کی قوتِ مدافعت کمزور ہوگٸ ناں تو پھر آپ بیمار رہنے لگو گی ہر وقت۔۔ ایسے نہیں کیا کرو بچے۔۔”
آغا جان نے بہت نرمی سے اسے نصیحت کی تو اس نے سر ہلایا اور غیر محسوس طریقے سے واپس کرسی پر بیٹھ گٸ۔
ولی پوری طرح سے ناشتے کی جانب متوجہ ہوا۔۔
خفا سی امل نے چاۓ لینے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا اور پھر چاۓ کپ میں اُنڈیلی۔۔ بُھورا سا گرم مایہ کپ میں ندی کی صورت گرنے لگا۔۔ وہ اب پھر سے زمان اور بی جان کے ساتھ محوِ گفتگو تھا۔
”لو۔۔ اب جب بیٹھی ہی ہو تو ڈھنگ سے ناشتہ بھی کرلو۔۔ دوں پراٹھا۔۔۔؟“
بی جان کے پوچھنے پر پھر سے سب اسے ہی دیکھنے لگے تھے۔ اس نے آہستہ سے سر اثبات میں ہلادیا۔ ولی سے اب اس کی اور بیچارگی نہیں دیکھی جارہی تھی۔۔
”بی جان۔۔ یہ پراٹھا مجھے دے دیں۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے میں شہر میں آپ کے پراٹھوں کو کتنا مِس کیا کرتا تھا۔۔“
بچوں کی طرح کہا تو بی جان نے ایک پل کے لیۓ بھی سوچے بغیر مسکراتے ہوۓ سنہرا سا پراٹھا اس کی پلیٹ میں رکھ دیا اور جیسے ہی نوراں کو مزید پراٹھوں کے لیۓ آوازیں دینے لگیں تو وہ یکدم اُٹھ کھڑی ہوٸ۔
”میں جاتی ہوں بی جان۔ میں بنواتی ہوں ابھی، پھر کھالونگی آپ لوگ کریں ناشتہ۔۔“
اس کے بولنے پر بی جان نے سر ہلایا تو اس کی نظر بے ساختہ اپنے محسن پر پڑی مگر وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے قدم آگے کی جانب بڑھاۓ لیکن
دل ہمک ہمک کر اسکی نسواری آنکھوں کو دیکھنے کی چاہ کررہا تھا مگر نہیں۔۔۔۔! وہ کیسے مڑ کر دیکھ سکتی تھی۔۔
مگر پھر اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پیچھے دیکھا۔۔
اور پھر جلدی سے آگے بڑھ گٸ۔۔
یہ شخص بنا کچھ کہے سب جان جاتا تھا۔۔
اسی لیۓ تو لوگوں کو اپنا عادی بنا لیتا تھا یہ۔۔
اس کی عجیب سے انداز میں ہوٸ ملاقات اب درست سمت میں سفر کرنے لگی تھی۔ مگر اس سارے عرصے میں اس سے جھجھک کٸ گنا بڑھ گٸ تھی، جس سے اب امل کو الجھن ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج۔۔
”اسلام علیکم۔۔“
شناسا سی آواز پر ولی نے فاٸلوں سے چہرہ اُٹھایا۔ صبح کی تازہ سی روشنی کھڑکی کے راستے اس کے آفس میں گر رہی تھی۔ ٹیبل پر دھریں بہت سی فاٸلز کُھلی تھیں اور کچھ کو دیکھنا ابھی باقی تھا۔
”وعلیکم اسلام۔۔ بیٹھو۔۔“
سلام کا جواب دیتے ہی اس نے اسے ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر پشت کرسی سے ٹکا کر اس نو عمر سے لڑکے کو گہری نظروں سے دیکھا۔ وہ گول گلے والا سوٸٹر اور رف سی جینز میں ملبوس اپنے مخصوص لا اوبالی انداز سے خاصا مختلف لگ رہا تھا۔ ایک دم گہرا اور بہت پُراسرار سا۔۔۔
”میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں ولی سر۔۔“
معمول کے برخلاف بات کسی بھی لطیفے سے شروع کیۓ بغیر اس نے کہا تو ولی نے اب کے آنکھیں سُکیڑ کر اسے دیکھا۔۔
”کہو۔۔۔“
اس کا انداز محتاط تھا۔۔
”میں پچھلے کٸ دنوں سے آپ کا ماضی چھان رہا تھا۔۔“
”جانتا ہوں۔“
ولی کے سکون میں فرق نہیں آیا۔۔
”میں آپ کو ہاشم سرکار کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔“
وہ چند پل اسے دیکھتا رہا۔۔
”کیا بتانے چاہتے ہو اور کیوں۔۔؟“
”دشمن کا دشمن آپ کا دوست ہوتا ہے راٸٹ۔۔؟“
محسن نے کہہ کر تاٸیدی انداز میں ابرو اُٹھایا تو ولی نے آنکھیں سُکیڑ کر اسے دیکھا۔ جیسے جانچ رہا ہو کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔۔
”اور دشمن کا دوست آپ کا دُشمن۔۔“
ولی کے جواب پر محسن کے چہرے پر ایک تلخ سا تبسم پھیل گیا۔ پھر وہ ذرا آگے کو ہو کر ولی کی نسواری آنکھوں میں جھانکا۔۔
”کیا آپ کو لگتا ہے میں اس کا دوست ہوں۔۔؟“
”لگنے نہ لگنے سے کیا ہوتا ہے محسن۔۔؟ مدینہ کی مسجد میں نماز پڑھنے والے اکثر منافق ہوا کرتے تھے۔“
اس کی بات پر محسن کے ابرو تعجب سے اوپر کو اُٹھے تھے۔۔
”میں اگر آپ کا دوست نہیں ہوتا تو کبھی ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام نہیں کرتا۔“
”صاف لفظوں میں کہو محسن۔۔“
”اوکے“
ولی کی تنبیہ پر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔
”ہاشم نے مجھے ہاٸیر کیا تھا آپ کی زندگی کھنگالنے کے لیۓ۔۔“
”جانتا ہوں۔۔“
”آپ جانتے تھے۔۔؟!“
محسن چونکا تھا۔ اسے اس بات کا اندازہ تھا کہ ولی اس کی کھوج کے بارے میں واقف ہے مگر اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ اسے ہاٸیر کرنے والا کوٸ اور نہیں ہاشم تھا۔۔
”کب سے جانتے ہیں آپ۔۔۔؟“
وہ مشکوک ہوچکا تھا۔ مگر ولی ویسے ہی بیٹھا رہا۔۔
”جس رات تم نے ہڈی پہن کر میرے آفس میں پہلی نقب لگاٸ تھی۔ اس رات سے۔۔“
”آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔۔؟“
اس کی آواز بہت کمزور لگ رہی تھی۔ ولی مسکرایا۔
”عرصے سے اور چل کیا رہا ہے محسن۔۔؟ یہ ہاشم۔۔ اسے کیا لگتا ہے کہ یہ نورآباد میں بیٹھ کر کوٸ بات کرے گا اور وہ بات میرے کانوں تک نہیں پہنچے گی۔ آٸ مین سیریٸسلی۔۔! “
اس نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔۔
” یہ دنیا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ چھوٹی ہے محسن۔ اور اس دنیا کا یہ چھوٹا سا حصہ تو اور بھی چھوٹا ہے۔ یہاں کسی کا راز، راز نہیں ہے۔ ذرا نگاہوں کو سکیڑ کر دیکھو تو فضا میں ثبت آثار اپنا آپ آشکار کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ تو پھر ایک بھرپور پلاننگ سے کیا گیا کام تھا۔ تمہیں کیا لگتا ہے ہر گلی کُوچے میں موجود لوگوں سے دوستی میں نے کیوں کر رکھی ہے۔۔؟ ظاہر ہے اپنی شادی پر تو بلانا نہیں ہے میں نے انہیں۔۔“
محسن کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوٸ تھیں اور لب بے یقینی سے وا تھے۔۔
”آپ نے کبھی مجھے نہیں کہا کہ آپ سب جانتے ہیں۔۔“
”تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔۔“
لاپرواہی سے کندھے جھٹک کر کہا تو محسن پل میں سنبھلا۔ سامنے بیٹھا یہ بندہ اس کے گھر کی کام والی نہیں تھا کہ جس پر دھونس جما کر وہ اسے حیران کردیتا۔۔ وہ اس سے کٸ قدم آگے تھا اور حیرت تو یہ تھی کہ اس نے ان قدموں کے نشان تک مٹا رکھے تھے۔۔
”اور کیا کیا جانتے ہیں آپ۔۔۔؟“
”یہ بھی کہ تم حسین اور ہاشم میں سے کسی ایک کی موت دیکھنا چاہتے ہو۔۔“
اس کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اُٹھی تھی۔ تھوک نگل کر اس نے ولی کو دیکھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
”آپ کو کیسے پتہ۔۔۔؟“
”پتہ ہے بس۔۔ لیکن تم بتاٶ کہ کیوں موت چاہتے ہو ان کی۔۔؟“
اس نے اب کے نرمی سے پوچھا تو محسن چند پل سر جھکا کر خاموش بیٹھا رہا۔ جیسے جمع تفریق کررہا ہو کہ اسے کیا بتانا چاہیۓ اور کیا نہیں۔۔
”جب موت کے سفر پر نکلنے کا عہد ساتھ کرتے ہیں تو پھر اپنے ساتھی سے کچھ نہیں چھپاتے۔۔ غدّاری کے زمرے میں آتا ہے یہ سب۔۔“
اس کی بات پر محسن نے گہرا سانس لیا اور پھر اسے دیکھا۔۔
”حسین نے میرے گھر والوں کو قتل کروایا تھا۔“
اس نے کہہ کر چند لمحوں کا وقفہ کیا۔۔
”میں تیرہ سال کا تھا اس وقت۔ میرے بابا اور میری ماں کام کیا کرتے تھے حسین کی حویلی میں۔ ایک کمی کمین نوکر سے زیادہ کی حیثیت نہیں تھی میرے والدین کی۔ مگر میرے بابا پھر بھی اس کے تلوے سے لگے رہے۔ وہ ہمارے چھوٹے سے گھرانے کو غربت کی سُولی پر نہیں لٹکانا چاہتے تھے۔ اسی دوران میرے بابا کے کان میں اس کے کسی راز کی بھنک پڑ گٸ۔ نا صرف بابا کو پتہ چلا بلکہ ماں بھی جان گٸیں تھیں اس بات کو اسی لیۓ اس نے میرے گھر والوں کو۔۔“
اس نے ایک پل کو رُک کر گلابی پڑتی آنکھیں مسلیں۔۔
”میرے بڑے بھاٸ، بابا اور ماں تینوں کو رات کی تاریکی میں ہی کراۓ کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروادیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔ کہ میرے بابا، ماں اور رٸیس بھاٸ کی داٸیں جانب والی پسلیوں کی جگہ پر بڑے بڑے گھاٶ تھے۔ اور جانتے ہیں۔“
اس نے گیلی آنکھیں اُٹھاٸیں۔ ولی ترحم سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
”انہیں سات سات دفعہ ایک ہی جگہ چُھرے مارے گۓ تھے۔۔“
اس کی آخری بات پر وہ چونکا۔۔
سات دفعہ چُھرا۔۔ اسکے کانوں میں ایک دم سے کرم کی آواز گُونجی تھی۔۔
”میری آپا کو سات دفعہ چُھرا مارا گیا تھا۔۔ “
”تم شیور ہو کہ سات دفعہ ہی مارا تھا چُھرا۔۔؟“
”بالکل۔۔“
اس کے استفسار پر محسن نے سر ہلایا تھا۔ ولی نے مٹھی بند کر کے لبوں پر جماٸ۔ فضا میں تیرتے ساکت نُکتے اب کے جُڑنے لگے تھے۔
”پھر تم کیسے بچ گۓ۔۔۔؟“
اب کے وہ سنجیدگی سے آگے ہو کر بیٹھا تو محسن نے گہرا سانس لیا۔۔
”میں زیادہ تر اپنے ماموں کے گھر رہا کرتا تھا۔ ان کا گھر شہر میں تھا۔ اس گاٶں سے خاصہ دور۔ اگر میں بھی اس رات اپنے گھر میں ہوتا تو مجھے بھی قتل کردیا جاتا مگر میں بچ گیا۔۔ انتقام کا چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر اختتام پر ایک نہ ایک سرواٸیور رہ ہی جاتا ہے جو اس چکر کو پھر سے شروع کرتا ہے اور۔۔“
وہ ایک پل کو ٹھہرا۔۔
” اس جرم کا سرواٸیور میں ہوں۔۔“
آخر میں اس کی آواز بہت سرد ہوگٸ تھی۔ یکدم سپاٹ اور غرّاتی ہوٸ۔۔
”یہاں بہت سے سرواٸیور ہیں محسن حوصلہ رکھو۔ ان کے شروع کیۓ گۓ انتقام کے چکر اب اُلٹی طرف چلیں گے۔۔ خیر تم بتاٶ۔۔ کیا بتانا چاہتے تھے مجھے ہاشم کے حوالے سے۔“
اس کی بات پر محسن پہلے تو اس کا چہرہ دیکھتا رہا اور پھر جب وہ بولا تو ولی کے جسم کا ہر عضو سُن پڑتا گیا۔ اسے لگا کسی نے اس کے پورے وجود کو ٹھنڈے یخ سمندر میں ڈال دیا ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
