Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 16) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 16) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
صبح میں سردی کی نمی گھلی ملی تھی مگر اب پہلے والا کہر نہیں تھا۔۔ ٹھنڈ آہستہ آہستہ اپنا ٹھنڈا آنچل سمیٹنے لگی تھی اور موسمِ گرما کی یخ سی تپش اب محسوس ہورہی تھی۔۔
وہ بی جان کے ساتھ کچن میں بیٹھی ناشتہ زہرمار کررہی تھی۔ سیاہ جوڑے میں ملبوس اس کا پاکیزہ سا حسن بہت اداس، بہت خفا سا لگتا تھا۔۔ بی جان نے ایک سیکنڈ کو ہاتھ روک کر اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا تو پوچھ ہی لیا۔۔
“کیا ہوا ہے امل۔۔؟ میں دیکھ رہی ہوں، جب سے رشتہ طے ہوا ہے تب سے تم بہت گم صم، بہت خاموش ہو۔۔ سب ٹھیک ہے ناں بیٹے۔۔؟ رشتے سے تو کوٸ مسٸلہ نہیں ہاں۔۔؟”
کچھ تھا امل کے انداز میں جو بی جان کو چونکا گیا تھا اور ان کے اس طرح کے استفسار پر وہ بھی یکدم گویا جاگی تھی۔۔
“نہیں۔۔ یہ رشتہ اگرچہ اس کی مرضی سے نہیں ہوا مگر پھر بھی وہ اپنے بابا کی دی گٸ زبان کا پاس رکھے گی۔۔ یہی تو ایک عہد لیا تھا اس نے خود سے۔۔ کہ چاہے جو بھی ہوجاۓ۔۔ وہ کبھی بھی زمان کو مایوس نہیں کرے گی۔۔ زندگی کے کسی پل۔۔ کسی پہر۔۔ کسی ساعت میں بھی نہیں۔۔
تو اب۔۔ پھر یہ اداسی کی گہری چھاپ۔۔ یہ لمحہ بہ لمحہ وجود پر پڑتی گرد۔۔ خوفزدہ کرینے والی سوچوں کا ایک لامتناہی سلسلہ۔۔
یہ سب کیا تھا۔۔؟
نہیں۔۔ اسے اپنے آپ کو کھڑا کرنا ہوگا۔۔ اُٹھانا ہوگا۔۔ جمع کرنا ہوگا۔۔ وہ بکھرنے لگی ہے تو خود کو سمیٹے گی بھی۔۔ ہاں۔۔ وہ یہ کرے گی۔۔ یہ اسے ہی کرنا ہوگا۔۔
ایک ساتھ صدیوں کے فیصلے لمحوں میں کرتی وہ جیسے ایک دم ہی بہت کچھ کر لینا چاہتی تھی۔۔ زندگی ختم نہیں ہوٸ ابھی۔۔ اس زندگی کو محنت سے سنوارا جاسکتا ہے۔۔ اور جو کیا جا سکتا ہے۔۔ وہ اسے کرنا چاہیۓ۔
اگلے ہی پل اب وہ مسکرا کر بی جان کو دیکھ رہی تھی۔۔
“کچھ نہیں بی جان۔۔ آپ تو بس خواہ مخواہ پریشان ہوجاتی ہیں۔ دیکھیں ٹھیک ٹھاک تو ہوں میں بالکل۔۔ کہیں سے لگ رہا ہے کہ میں ٹھیک نہیں۔۔؟”
مگر اس نے اس سوال کے اگلے پل ہی جان لیا تھا کہ جو بھی ہوگا۔۔ وہ حقیقی خوشی سے کوسوں دور ہوگا۔۔ اسے اداکاری کرنی پڑے گی۔۔ ایک لمبی تھکا دینے والی ادکاری۔۔!
“ہوں۔۔ اب ٹھیک لگ رہی ہو۔۔ پتہ ہے۔۔”
انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اپنے کپ میں گرم گرم چاۓ انڈیلی۔۔ پھر نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“جب کوٸ بہت باتیں کرنے والا انسان خاموش ہوجاۓ ناں تو بہت عجیب سا لگتا ہے۔ اس انسان کو خود بھلے کچھ بھی بدلا ہوا نہ لگے مگر جو اس کے ساتھ ایک زندگی گزار چکے ہوں وہ ضرور ان کے اس بدلاٶ سے بیزار ہونے لگتے ہیں۔۔ اسی لیۓ تم بھی جب تک بولتی رہتی ہو۔۔ پٹر پٹر جب تک تمہاری زبان چلتی رہتی ہے میں مطمٸن رہتی ہوں کہ امل ٹھیک ہے۔۔ لیکن جیسے ہی کوٸ بات، کوٸ جملہ یا پھر ایک چھوٹا سا کوٸ سانحہ بھی تمہیں ناگوار گزر جاۓ تو تم ایک دم سے بالکل خاموش ہوجاتی ہو۔۔ ایک طرف۔۔ سب سے الگ تھلگ۔۔”
وہ لبوں کو کاٹتی سر جھکاۓ ان کی باتیں سنتی رہی۔ اس کے نازک سے وجود کے شفاف آٸینوں میں گہری دراڑیں پڑنے لگی تھیں۔۔
کیسے وہ سب کو مطمٸن کرپاۓ گی کہ وہ ٹھیک ہے۔۔ یا اللّہ۔۔!
اس کا دل بہت بوجھ تلے دبنے لگا تھا۔۔ سانس لیتے یوں لگتا تھا گویا کوٸ سینے کو شکنجے میں لے کر گھونٹ رہا ہو۔۔
“اچھا۔۔۔ ایسا ہے۔۔”
اندر مچتی توڑ پھوڑ کے برعکس مسکراتا چہرہ اُٹھایا تو آنکھیں خواہ مخواہ ہی بھیگ گٸیں۔۔
“پھر دیکھیۓ گا میں کتنی باتیں کرتی ہوں۔۔ اتنی باتیں کرونگی، آپ کو اور بابا کو اتنے قصے کہانیاں سناٶنگی کہ آپ لوگ مجھ سے تنگ آجاٸیں گے اور جواباً میری جلد از جلد شادی کی دعا مانگیں گے۔۔”
وہ کہہ کر ہنسی تو دل کچھ اور ہی زخمی ہوگیا۔۔ کیوں ہوتا تھا ایسا کہ انسان بہت تکلیف میں ہنسنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا اندر گہرے نشانوں سے بھرنے لگتا ہے۔۔ اس کے دل پر بھی نشان لگنے لگے تھے۔۔ جو جتنے زیادہ ہوتے اتنی ہی اذیت دیتے۔۔
“بھلا یہ کیا بات ہوٸ۔۔ ماں،باپ کبھی بیزار نہیں ہوتے اولاد سے۔۔ کبھی تنگ نہیں ہوتے۔۔”
“بھلے اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نہ ہو۔۔۔؟”
چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتے اس نے شہد رنگ آنکھیں ان پر جماٸ تھیں۔۔
“ہاں بھلے ہی اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نہ ہو۔۔ والدین کبھی اس سے تنگ نہیں ہوسکتے۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ نوح علیہ اسلام عذاب آنے کے بالکل آخری وقت میں بھی اپنے بیٹے کو دوسری پہاڑی سے بلارہے تھے۔ آخری وقت تک ان کا دل اپنی اولاد کے ساتھ اٹکا ہوا تھا۔۔ اگرچہ وہ نافرمان تھا، اللّہ کا انکار کرنے والا تھا۔۔ اتنے بڑے جرم کے باوجود بھی وہ اسے بلارہے تھے۔۔ پناگاہ کی جانب۔۔ اللّہ کے عذاب سے اللّہ کی رحمت کی جانب۔۔ مگر امل۔۔”
ان کی اداس سی آواز پر اس کا دل کروٹیں لینے لگا تھا۔۔
“کچھ لوگ نہیں مانتے۔۔ کبھی بھی نہیں مانتے۔۔ مگر میں ایک ماں ہوں۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں نوح علیہ اسلام کی تکلیف۔۔ والدین تو ایسے ہوتے ہیں امل۔۔ نافرمان سے نافرمان اولاد کو بھی گلے لگا لیتے ہیں۔۔”
“مگر کچھ اولادیں اچھی بھی ہوتی ہیں بی جان۔۔ میں آپ کی اچھی اولاد بنوں گی۔ میں آپ کو اور آغا جان کو کبھی مایوس نہیں کرونگی بی جان۔۔ کیونکہ کچھ اولادیں حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی پیروی کرتی ہیں اور وہ بھی آخری وقت تک اپنے والدین کے لیۓ دعاٸیں مانگتی ہیں بی جان۔۔”
اس نے ان کی جانب محبت سے دیکھتے کہا تو بی جان نے بے ساختہ اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر پھیر کر اسے سُکھی رہنے کی دعاٶں سے نوازا۔۔
“بڑی بی بی۔۔ وہ باہر آپ کو کوٸ بلا رہا ہے۔۔”
نوراں کی بات پر بی جان نے اس کا سر تھپکا اور پھر اُٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گٸیں۔۔ وہ خالی خالی سی بیٹھی رہ گٸ۔۔
باہر سبزہ زار پر قمیض شلوار میں ملبوس ایک درمیانی عمر کا آدمی بی جان کے سامنے کھڑا ان سے کچھ کہہ رہا تھا۔۔
“تو فرید کہاں ہے۔۔؟”
“بڑی بی بی۔۔ میں بتا تو رہا ہوں آپ کو کہ وہ ایک مہینہ کام پر نہیں آسکے گا اس کی بیوی کی طبیعت اب پہلے سے خاصی خراب رہنے لگی ہے۔۔ لیکن وہ اس عزت کی روزی کو چھوڑنا نہیں چاہتا اسی لیۓ مجھے ایک مہینے کے لیۓ اپنی جگہ کام کرنے بھیج دیا۔۔ بڑی بی بی۔۔ ہم غریب لوگ ہیں۔۔ ہم پر رحم کریں بڑی بی بی۔۔ فرید کا کوٸ بھی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔۔”
بی جان کو بے طرح اس دیہاتی کی بے بسی پر ترس آیا تھا۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔ تم کر لو اس کی جگہ کام۔۔ لیکن پھر ایک مہینے کے اندر اندر فرید یہاں پر چاہیۓ مجھے۔۔ ٹھیک۔۔؟”
“جی۔۔ جی بی بی جی۔۔ بالکل ایسا ہی ہوگا۔۔”
اس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تو بی جان نے اسے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا۔ اسی پل امل داخلی دروازے سے نکل کر باہر سبزہ زار کی جانب بڑھی۔۔ دور کیاریوں میں لگے بیشتر رنگ برنگے پودے اس کا شوق تھے۔۔ بہت زیادہ خوشی یا پھر بہت زیادہ تکلیف دہ لمحات میں وہ ان کے پاس ضرور آتی تھی۔۔
اس کا سیاہ فراک ہوا کے باعث پیچھے کی جانب پھڑپھڑا رہا تھا اور جھک کر کسی گلاب کی خوشبو کو محسوس کرتے سمے اس کے بالوں کی لٹیں اسکے چہرے پر جھولنے لگی تھیں۔ دور اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھتی شازیہ کا حلق تک کڑوا ہوچلا تھا۔۔ دل میں نفرت کے وہ غبار پکنے لگے تھے جو سب کچھ تباہ کردینے کی طاقت رکھتے تھے۔۔ اپنی سیاہ کاریوں کو ایسے کسی کے منہ سے سن کر جو ذلت اس نے اُٹھاٸ تھی وہ اس ذلت کو کبھی بھی نہیں بھول سکتی تھی۔۔
“تم دیکھنا امل کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں۔۔”
اس نے کھڑکی کا پردہ برابر کیا اور پھر شکیلا کو اپنے کمرے سے آواز دی۔۔ اگلے ہی پل شکیلا اس کے گھٹنے سے لگی بیٹھی تھی۔۔
“تمہاری چھوٹی بھابھی کے کیا حال چال ہیں۔۔؟”
شکیلا نے بے طرح حیران ہو کر اسے دیکھا تھا۔ شازیہ نامی لڑکی اس کے گھر والوں کا پوچھ رہی تھی۔۔ ہاں وہ ہی۔۔ جس نے کبھی ملازمین کو ایک ذلیل مخلوق سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔۔
“ج۔۔ جی بی بی ٹھیک ہے وہ تو۔۔”
“ہوں۔۔ ویسے اتنے کام کرتی ہو تم۔ انسان سے اپنے گھر کا کام نہیں ہوتا اور تم یہ پوری حویلی سنبھالتی ہو ہاں۔۔! اوپر سے اس غربت نے مت ماری ہوٸ ہے آدھی دنیا کی تو۔۔”
شکیلا کے چہرے پر ہواٸیاں اُڑنے لگی تھیں۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہنا چاہیۓ اسی لیۓ زور زور سے سر ہلانے لگی۔۔
“میں تمہاری تنخواہ سے زیادہ دونگی تمہیں شکیلا۔۔ لیکن پھر اس کے بدلے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔۔ بولو۔۔ کروگی ناں کام۔۔ دیکھو میں نوراں کو بھی کہہ سکتی تھی لیکن تم زیادہ قابلِ بھروسہ ہو میرے لیۓ۔۔”
“جی بی بی آپ کہیں کام۔۔”
اس نے بے ساختہ اس کے گھٹنے دباۓ تھے۔۔
“کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری امل بی بی، ولی سرکار کو پسند کرتی ہیں۔۔؟”
شکیلا کی آنکھیں گویا پھٹ کر بار گرنے کو ہوگٸ تھیں مگر پھر بھی وہ سوکھتے گلے کے ساتھ بیٹھی رہی۔۔ شازیہ اب رازداری سے جھک کر اسے کچھ کام سمجھا رہی تھی۔۔
سبزہ زار پر کھڑی، کومل ہاتھوں سے پھولوں کی نرمی کو محسوس کرتی امل اس سب سے بے خبر اپنے دل کے کانٹے نکال نکال کر پھولوں کی پہلوٶں میں رکھتی جارہی تھی۔۔
پھر ایک لمحے کو ٹھٹک کر سیدھی ہوٸ۔۔ کسی کی نظریں اسے اپنے پشت پر محسوس ہوٸ تھیں۔۔ ریشمی چٹیا سے نکلی لٹوں کو دھڑکتے دل کے ساتھ چہرے سے ہٹاتی وہ جیسے ہی پلٹی۔۔ دور کھڑے ولی سے نظریں جا ملیں۔۔
آس پاس لہلہاتی ہوا پل بھر کو گویا ٹھہر سی گٸ تھی، جھولتے پھولوں نے سبزہ زار پر پنپتے معطر سے جذبے کو محسوس کر کے سر اُٹھایا۔۔ لمحے ساکت ہوگۓ تھے۔۔ دھڑکن تھم گٸ تھی۔۔
چلتا پہر ٹھہر جاۓ تو محبت ہوجایا کرتی ہے۔۔
زندگی میں کوٸ ایسا تو ہوتا ہی ہے کہ جس کی موجودگی میں بھاگتے لمحے تھم جاتے ہیں، سانسیں رکنے لگتی ہیں اور محبت۔۔ محبت کسی روشنی کی طرح ہر زاویے سے گر کر چمک رہی ہوتی ہے۔۔
یاد رکھیۓ کہ ٹھہرے لمحے محبت کو زندگی دیا کرتے ہیں۔۔ انہیں روک لیا کریں۔۔
وہ دونوں بھی رک گۓ تھے۔۔
اور پھر اس نے دیکھا کہ ولی قدم قدم چلتا اس تک آرہا ہے۔۔ اس سے پلکیں جھپکانا مشکل ہوا۔۔ اونچا سا ولی اسی کی طرف آرہا تھا۔ امل بغیر کسی جنبش کے ساکت کھڑی رہی۔۔ اسے لگا وہ ہلی تو سارے لمحے بہتی ہوا میں تحلیل ہوجاٸنگے۔۔
چند قدموں کے فاصلے پر وہ رک گیا تھا۔۔ نسواری آنکھیں جو اب ہر دم بہت سپاٹ رہنے لگی تھیں اس سمے کسی جذبے کے سحر میں قید لگتی تھیں۔۔ کیا مجھے بتانا چاہیۓ کہ وہ جذبہ کونسا جذبہ ہوتا ہے۔۔؟
“کیسی ہیں آپ۔۔؟”
دھیمے لہجے کا استفسار۔۔ نرم نظروں کا ارتکاز۔۔ امل ٹوٹنے لگی تھی۔۔
“ٹھیک ہوں۔۔ زندہ ہوں۔۔ دیکھیں۔۔”
ہر ہر لفظ گویا ولی کے دل میں کھب گیا تھا۔۔
“کیوں کرتی ہیں ایسی باتیں آپ۔۔؟”
اس نے جیسے تھک کر اس سے پوچھا تھا۔
“کیسی باتیں کرتی ہوں میں۔۔؟”
“ایسی تکلیف دینے والی۔۔”
“اچھا۔۔ سہی۔۔ آپ یہ سب کریں تو وہ جسٹیفاٸیڈ لیکن اگر میں ایسی باتیں کروں تو یہ درست نہیں۔۔ زبردست قسم کی ججمینٹ ہے ویسے آپ کی ولی۔۔”
“میں یہ نہیں کہہ رہا بی بی۔۔”
“آپ جو بھی کہیں مجھے اس سے کوٸ لینا دینا نہیں سمجھے آپ۔۔!! میں نے کہا تھا ناں آپ سے کہ میں مر چکی ہوں آپ کے لیۓ۔ پھر کیا چیز ہے جو آپ کو ایک بار پھر سے یہاں تک کھینچ لاٸ ہے۔۔؟”
اس کی آواز پھٹنے لگی تھی مگر وہ روٸ نہیں۔۔ ضبط سے شہد رنگ آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکنے لگا۔۔
“ایک بات کہنی تھی آپ سے۔۔”
اس کے تیز لہجے کے برعکس اس کا لہجہ بہت دھیما تھا۔
“سن رہی ہوں۔۔”
اس نے بے رخی سے کہہ کر چہرہ دوسری جانب پھیر لیا تھا۔۔ ولی اسے چند پل دیکھے گیا۔۔
“میں آپ کو پروٹیکٹ کرونگا امل بی بی۔ اپنی زندگی کی آخری سانس تک حفاظت کرونگا آپ کی۔۔ اسی لیۓ آپ بے فکر ہو کر اپنی نٸ زندگی کو شروع کریں۔ کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔ کسی غم کسی تکلیف کو نہیں آنے دونگا میں آپ تک۔۔ یہ وعدہ ہے ولی احمد کا آپ سے۔۔”
ایک جھٹکے سے اس نے اپنا چہرہ اس کی جانب پھیرا تھا۔۔
“لیکن مجھے آپ کی اس ساری جھوٹی سچی کہانیوں میں کوٸ دلچسپی نہیں ہے ولی۔۔ کیا آپ نے سنا میں نے کیا کہا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی آپ کی۔۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ نفرت کرو مجھ سے، میرے دیٸے گۓ تحفے کو کچرے کے ڈبے میں پھینکتے ایک پل کو رحم نہیں کھاتے آپ۔ لوگوں کو بے اعتناٸ کے ان عذابوں سے گزارتے ہیں کہ جن سے روح تک بلبلا اُٹھے مگر پھر آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے آپ سے محبت ہوجاتی ہے۔۔!! کیوں کرتے ہیں آپ ایسی باتیں کہ جس سے نہ چاہتے ہوۓ بھی دل آپ کی جانب ہمکنے لگتا ہے۔۔! سب آپ کو آپ کے اس ظلم پر معاف کر سکتے ہیں ولی لیکن میں۔۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔”
خراش زدہ سی آواز میں تیزی سے بول کر اب وہ ہانپنے لگی تھی۔۔ گہرے گہرے سانس لیتی اسے نفرت سے دیکھنے لگی تھی کہ جس نے اسے اس حالت تک پہنچا دیا تھا۔
“اگر میں معافی مانگوں۔۔ کیا تب بھی آپ مجھے معاف نہیں کریں گی۔۔؟”
“نہیں۔۔ کبھی بھی۔۔ کبھی بھی معاف نہیں کرونگی آپ کو میں۔۔ ساری زندگی بھی معافی مانگتے رہیں گے ناں تب بھی معاف نہیں کرونگی آپ کو۔۔ کبھی معاف نہیں کرونگی آپ کو۔۔”
اسے لگا اس کا دل درد سے پھٹ جاۓ گا۔۔ ولی کی کی نسواری آنکھوں میں تکلیف سوا ہونے لگی تھی۔۔
“چلیں۔۔ خیر ہوگٸ۔۔ جہاں ساری دنیا معاف نہیں کررہی وہاں آپ بھی معاف نہ کریں۔۔ ویسے میں قابل بھی اسی کے ہوں۔۔ آپ ٹھیک کرینگی بالکل۔۔ ایسا ہی کرنا چاہیۓ آپ کو۔۔”
اسے دیکھتے دیکھتے وہ آہستہ سے پیچھے جانے لگا تھا۔۔ امل کی آنکھ سے آنسو پھسلا۔۔ پھر وہ مڑ کر لمبے لمبے قدم بھرتا گاڑی میں جابیٹھا۔۔ اگلے پل پورچ سنسان پڑا تھا اور اس کی دھول اُڑاتی گاڑی گاٶں کے کچے راستوں پر دوڑ رہی تھی۔۔
امل نے بے اختیار ساتھ رکھی کرسی تھامی تھی۔۔ اس کے قدموں سے جان لمحہ بہ لمحہ ختم ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
“ماں جی۔۔ یہ بابا کہاں ہیں۔۔؟ صبح سے نظر نہیں آرہے مجھے۔۔”
ہاشم نے ان کے کمرے میں جھانکتے ہوۓ پوچھا تو نگار نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“پتہ نہیں۔۔ جاتے وقت کہہ کر گۓ تھے کہ کسی دوست سے ملنے جارہا ہوں شہر۔۔ تمہیں نہیں بتا کر گۓ۔۔؟”
“نہیں مجھ سے تو کوٸ بات نہیں کی انہوں نے۔ خیر میں فون کرتا ہوں انہیں پھر بتاتا ہوں آپ کو۔۔”
وہ الجھ کر جیب سے فون نکالتا واپس مڑا اور پھر نمبر ڈاٸل کرتا تیزی سے زینے اترنے لگا۔ دوسری جانب ولی کی دھول اُڑاتی گاڑی اس وقت ایک سنسان سے ڈیرے کے پاس رکی تھی۔ سیاہی میں ڈوبا ڈیرہ ہر جانب سے اجنبی سا تھا۔ یہ گاٶں سے قدرے فاصلے پر ایک ویران جگہ پر بنا قدیم طرز کا ہیڈ کوارٹر تھا جسے پچھلے وقتوں میں ٹارچر سیل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔۔
اس نے ایک پل کو تاریکی میں ڈوبے ڈیرے کو دیکھا اور پھر کرخت سا چہرہ لیۓ گاڑی سے اتر آیا۔۔ اندھیرے میں جانے پہچانے راستوں پر قدم اُٹھاتے اسے کوٸ دقت نہیں ہورہی تھی، شاید وہ ان سب راستوں کا عادی تھا۔۔
“بابا، ولی کیا کرنے والا ہے۔۔؟”
اصغر نے چاۓ کا کپ حسن کے سامنے رکھتے ہوۓ فکر مندی سے پوچھا تو وہ دور کسی غیر مرّٸ نقطے کو دیکھتے مسکرادیٸے۔۔
“ولی ان سب کی چمڑیاں ادھیڑنے والا ہے اصغر۔۔”
اس نے لوہے کے زنگ آلود دروازے کو دھکیل کر کھولا تو وہ عجیب سی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ اوپر سے گرتی روشنی نے نیچے تہہ خانے کو جاتے زینوں کو آدھا منور کر رکھا تھا۔۔ ایسے کے شروع کی سیڑھیاں دکھاٸ دیتی تھیں اور باقی کی اندھیرے میں ڈوبی لگ رہی تھیں۔۔
“ہاشم بہت خطرناک ہے بابا۔۔ ولی کو ٹھیک سے سمجھادیا تھا ناں آپ نے۔۔!”
اس کی پریشانی سوا ہونے لگی تھی۔۔ حسن نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔
“کیا تمہیں لگتا ہے اصغر کہ مجھے ولی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے۔۔؟”
اصغر ان کی بات پر چند لمحوں کو خاموش سا ہوگیا۔۔
اس نے آہستہ قدموں سے تاریکی میں ڈوبے زینے عبور کیۓ اور پھر ایک طویل سحر زدہ سی راہداری میں آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔۔
“کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہمارے یہاں ولی جیسے کتنے ہی بچے ہوتے ہیں جو ناکردہ گناہوں کی سزاٸیں کاٹتے انسان سے جانور بن جاتے ہیں۔ اس میں قصور ان بچوں کا نہیں ہوتا اصغر جو ناجاٸز طریقے سے پیدا ہوۓ ہوں بلکہ اس سارے کھیل میں ہماری پوری سوساٸٹی قصور وار ہوتی ہے۔ ہم ایک کے گناہ کی سزا دوسرے کو دینے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ پھر چاہے کچھ بھی ہو۔۔ اپنے سے عزیز لوگوں کی جھوٹی ساکھ کو قاٸم رکھنے کے لیۓ ہم ایسے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو بھڑکتی آگ میں پھینک دیتے ہیں۔۔”
طویل راہداری کے آخری سرے پر کوٸ روشنی سی تھی جو جگمگا رہی تھی۔ عجیب مدھم سی زرد روشنی۔۔
“اپنی غلطی ماننے کے بجاۓ، سماج میں حیا کا پرچار کرنے کے بجاۓ، نکاح کو عام اور سادہ بنانے کے بجاۓ ہم اسے اور مشکل بناتے جارہے ہیں۔ جانتے ہو اس وقت اس معاشرے میں سب سے مشکل کام کیا ہے۔۔؟ نکاح کرنا۔۔!! نکاح کرنا اتنا مشکل، اتنا مہنگا اور اتنا پہنچ سے دور کردیا گیا ہے کہ اس کے برعکس زنا سستا اور سہل لگنے لگا ہے۔ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کے بجاۓ ان براٸیوں سے جنم لینے والے معصوم بچوں کو سزاٸیں دے کر خود کو تسکین دیا کرتے ہیں۔ اس بات کا ادراک کیۓ بغیر کہ اس سب کے ذمّے دار ہم ہی لوگ ہیں۔۔”
راہداری کے آگے ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں درمیان میں لگی کرسی پر کسی کا وجود مبھم سی مدھم روشنیوں میں نیم واضح سا تھا۔ اس انسان کے دونوں ہاتھ پیچھے کو بندھے تھے اور گردن ایک ہی زاویے پر رکھنے کے باعث اب کے جھکا رکھی تھی۔۔
“اس معاملے میں ہم سے اچھے گورے ہیں جو اپنی غلطیوں کا ٹوکرا کسی اور کے سر مارنے کے بجاۓ اپنا سب کیا دھرا اون کرتے ہیں۔ ہم سے اخلاقی، مذہبی اور سماجی اقدار میں وہ کہیں پیچھے سہی مگر انسانیت کی قدر میں وہ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ وہ کسی کے ناجاٸز بچے کو دیکھ کر یہ نہیں کہتے کہ یہ گند کا ڈھیر ہیں یا کسی کے گناہوں کی سزا۔۔ بلکہ وہ آگے بڑھ کر گرے پڑے انسانوں کو اُٹھا کر ان کو سنوارنے کی اہلیت، ہمت اور طاقت رکھتے ہیں۔ ہمارے اندر سے تو اب تک یہی بیماری ختم نہیں ہوٸ کہ ہم ان سے زیادہ پاکیزہ ہیں اور وہ ہم سے رتبے اور مقام میں پیچھے۔۔ اس بے جا کی بڑھتی چاہ ہی نے ہمارے اندر سے ہمارے غلطیوں کو تسلیم کرنے کا خمیر نکال باہر کیا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک خود کو پرفیکٹ دیکھنا چاہتا ہے۔ بے داغ، اجلا اور شفاف۔۔۔ مگر میں تمہیں ایک بات بتاٶں اصغر۔۔“
انہوں نے ایک پل کو رک اپنے بیٹے کی جانب دیکھا تھا۔۔
”انسان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر بے داغ، پاک اور پرفیکٹ کبھی نہیں ہوسکتا اور نہ ہم سے اس چیز کی ڈیمانڈ کی گٸ ہے کہ ہم پرفیکٹ بنیں۔ کیونکہ ہم پیدا ہی ایسے نہیں کیۓ گۓ۔ ہم کوشش کرسکتے ہیں، دن بہ دن کی محنت سے خود کو سمیٹ کر ایک اچھے سانچے میں ڈال سکتے ہیں مگر ہم اس سانچے کے ہر شگاف کو نہیں بھر سکتے۔ اگر ہم اس غلط فہمی سے نکل آٸیں تو ہوسکتا ہے کہ پھر کوٸ ولی اس سفاک معاشرے کا نشانہ نہ بنے۔۔“
ان کے لہجے میں بے حد افسوس در آیا تھا۔۔ اصغر نے گہرا سانس لیا۔ اس معاشرے کی بے حسی پر تو اسے بھی بہت سے اعتراض تھے مگر کیا کیا جاتا۔۔ جو نہیں بدلنا چاہتے وہ کبھی نہیں بدل سکتے۔
ولی نے ایک قدم ایک جانب کو بنے چھوٹے سے تاریک کمرے کی جانب پھیرے۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو اندر روشن مدھم روشنی میں سامنے بیٹھے جانور کے بال ایک لمحے کو چمکے تھے۔ اپنے مالک کو دیکھتے ہی کتا ایک دم اُٹھ کر خوشی سے دُم ہلانے لگا تھا۔ بھونک کر اس نے اس کو شاید خوش آمدید بھی کہا تھا۔۔ ولی قدم قدم چلتا اس تک آیا۔۔ پھر جھک کر اس کا گلا پٹے سے آزاد کیا اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔ کتا اب اس کے چہرے پر پیار کررہا تھا۔۔ اس نے مسکراتے ہوۓ اس کے بال سہلاۓ اور پھر اس کا پٹا ہاتھ میں پکڑے اسے باہر لے آیا۔۔
ایک جانب اسے باندھ کر اس نے آگے بڑھ کر درمیان میں جھولتے بلب کو روشن کیا تو ایک پل کو گردن جھکاۓ شخص نے بے اختیار چہرہ اُٹھایا اور پھر تکلیف سے آنکھیں چندھیاٸیں۔
ولی نے اس کے عین سامنے کرسی رکھی اور پھر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا۔۔ وہ اب آنکھوں پر پڑتی تیز روشنی کو بمشکل سہار کر آگے والے کو دیکھ رہا تھا اور جیسے ہی اس پر ولی کا چہرہ واضح ہوا اسکا کسی نے سانس تک روک دیا۔۔ آج سب کچھ ویسا ہی تھا۔۔ بس ولی نے جگہیں بدل دی تھیں۔۔ کل جس جگہ پر ولی تھا آج اسی جگہ پر حسین تھا۔۔ تو کیا قدرت کے انتقام کا اُلٹا چکر شروع ہوچکا تھا۔!! کیا اعمال واقعی پلٹ آتے ہیں۔۔!! کیا اتنی جلدی پلٹ آتے ہیں۔۔؟
اس سے بھی جلدی پلٹ آتے ہیں۔۔!!
”کیا تم جانتے ہو حسین کہ کتے کبھی بھی کچھ نہیں بھولتے۔۔!“
اور ایک پل کو حسین کی نظروں نے اس کے پیچھے بندھے بھونکتے کتے کی جانب سفر کیا تو اس کی رگوں میں گردش کرتا سارا کا سارا خون جم گیا۔۔
”تم بھول گۓ حسین۔۔ لیکن میں نہیں بھولا۔۔ اور نہ ہی میں تمہیں وہ سب بھولنے دونگا۔۔ اب تم بھی دیکھو گے کہ۔۔ ولی کیا بن چکا ہے۔۔“
اس نے اُٹھ کر کتے کو پٹے سے آزاد کیا اور پھر حسین کو بے یقینی سے مرتا ہوا چھوڑ کر دروازہ بند کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ سیاہ پڑتی سیاہ رات میں۔۔ آج حسین کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ بند ہونے والا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
