Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 5)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

اس نے بمشکل اپنے اُبلتے آنسوٶں کو حلق میں اُتارا تو بہت سا نمکین پانی اسکے اندر گرنے لگا۔ اور جو آنسو انسان کے اندر گرتے ہیں وہ اسکو درھم برھم کردیتے ہیں۔ باہر گرتے آنسو تو اپنے ساتھ اندر پلتی اذیت کو باہر لے آتے ہیں مگر جو آنسو نظر نہیں آتے وہ روح کو بھگوتے انسان کو کہیں اندر سے صاف کرتے ہیں۔ اسکے اندر پلتی کثافت، گھٹن، تنگدلی اور بہت سے جذبے ان آنسوٶں کے ذریعے باہر بہہ جاتے ہیں مگر محبت۔۔ ہاں محبت ان آنسوٶں کے گرنے سے کچھ اور سیراب ہوجاتی ہے۔ اسکی محبت بھی سیراب ہو رہی تھی۔ اپنی طاقت قاٸم رکھنے کے لیۓ اسکی جان کھینچ رہی تھی۔ اسکا دل بے تحاشہ دکھنے لگا تھا۔ آنکھوں پر آنسو روکنا اسکے لیۓ مشکل ہونے لگا تھا۔ اس نے گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ اسے رک رک کر دیکھنے لگے تھے۔ وہ حویلی کے کٸ ایکڑ پر پھیلے لان میں کھڑی تھی اور اس نے ساتھ لگے فوارے کا کنارہ تھام رکھا تھا۔ فوارے کے تین درجوں سے پانی بہتا دوبارہ اوپر کی سمت جارہا تھا۔ اس نے سانس بحال کرکے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کیا اور پھر یخ پڑتے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا۔۔ تھوک نگل کر وہ دوپٹہ سر پر درست کرتی آگے بڑھی۔ لاٶنج کے عین وسط میں اسکی دوست سامیہ بیٹھی تھی۔ سُرخ جوڑا زیب تن کیۓ بنی سنوری وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ کٸ لڑکیاں اسکے کانوں میں سرگوشیاں کرتیں اسے شاید اسکے شوہر کے نام سے چھیڑ رہی تھیں۔

سامیہ کے چہرے میں گھلتے گلال اور آنے والے حسین لمحوں کی اُمید دیکھ کر امل کے دل کو کچھ ہوا۔۔ گھر کی خواتین آتے جاتے اسکی بلاٸیں لے رہی تھیں۔ اسے دعاٶں سے نواز رہی تھیں۔

وہ دروازے میں ایستادہ سارے منظر کسی بُت کی طرح دیکھتی بہت سے آنسوٶں کو اندر اتارتی سامیہ کو محو سی دیکھے گٸ تو کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا۔۔وہ جیسے پل بھر میں ہوش میں آٸ تھی۔۔

“بیٹا یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔؟”

اور پھر خاتون کو اسکا چہرہ دیکھ کر جیسے یاد آیا۔۔

“امل۔۔؟ امل زمان۔۔؟ بیٹا یہاں کیوں کھڑی ہے۔۔ ؟ سامیہ کب سے انتظار کررہی تھی تیرا۔۔ اور اب جب آگٸ ہے تو دروازے کی زینت بنی ہے تُو۔۔”

ایک معمر سی خاتون نے اسے پہچان کر خود سے گلے لگاتے اسکی غاٸب دماغی پر چوٹ کی تو وہ شرمندہ سی ہوگٸ۔۔ اسے واقعی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح داخلی دروازے کے وسط میں کھڑی ہے۔۔

“وہ خالہ میں اپنی بہن ناجیہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ پتہ نہیں کہاں چلی گٸ ہے۔۔ آپ نے دیکھا ہے اُسے۔۔؟” اچانک اسے ناجیہ کا خیال آیا تو اس نے اسے تلاش کرنے کے لیۓ یہاں وہاں گردن گُھماٸ۔۔

“ارے یہیں ہوگی کہاں جانا ہے اُس نے۔۔ تُو جا وہاں سامیہ کے ساتھ بیٹھ۔ ابھی کچھ دیر میں رُخصتی ہوجاۓ گی تو تمہیں بات کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔۔”

انہوں نے اسے تلاش کرتا دیکھ کر اسے روکا پھر۔۔ سامیہ کی جانب اشارہ کرکے اسے امل کی جانب متوجہ کیا۔ وہ اسے دیکھ کر چہک اُٹھی تھی۔ پھر ہاتھ ہلا کر مسکراتے ہوۓ اسے اپنے پاس بُلایا تو امل نے پھیکا سا مسکراتے ہوۓ بوجھل قدم اسکی جانب بڑھا دیۓ۔۔

گھر میں عجیب افراتفری سی مچی تھی۔ خواتین اور لڑکیوں کا بہت رش تھا۔ ہنسی مزاق، قہقہے اور پھولوں رنگوں کی برسات تھی جیسے۔ گھر گیندے کے پھول سے سجے ہونے کے باعث اسی کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔

وہ راستہ بناتی اسکے پاس آکر پہلے گلے لگی پھر اس سے الگ ہوکر اسکا صبیح چہرہ دیکھا۔ وہ دور سے جتنی خوبصورت لگ رہی تھی قریب سے دیکھنے پر تو اسکا رُوپ کچھ اور طرح نکھر رہا تھا۔دیکھنے والی آنکھ کو خیرہ کرتا اسکا رُوپ امل کو بہت بھلا لگا۔ اسکے دل سے بے اختیار اسکے اچھے نصیب کی دعا نکلی تھی۔۔

“کیا ہوا ہے تمہیں۔۔؟”

اسکے مسکراہٹ چہرے پر سجانے کے باوجود بھی سامی نے اسکے اُداسی میں لپٹی آنکھوں کو محسوس کرلیا تھا۔۔

“کچھ نہیں۔۔”

اس نے گلا صاف کرکے مسکراتے ہوۓ کہا تو سامیہ کی پیشانی پر پریشانی پھیلی۔۔

“کس کے ساتھ آٸ ہو۔۔؟” کیا ولی کے ساتھ۔۔؟”

اس نے سمجھ کر اسکا چہرہ جانچتے سوال کیا تو امل کی آنکھیں جھلملا اُٹھیں۔ اسکا سر اثبات میں خود بخود ہل گیا تھا۔ سامیہ نے اسے دُکھ سے دیکھا۔۔

“کیا ہوا ہے۔۔؟ کوٸ بات ہوٸ ہے کیا۔۔؟ اس نے ڈانٹ دیا ہے کیا تمہیں۔۔۔؟”

اس نے ایک ہی سانس میں بہت سے سوال کیۓ تو امل نے سر اُٹھا کر نفی میں ہلایا۔

“ڈانٹتا ہی تو نہیں ہے وہ مجھے۔۔ سب کی طرح مجھے بھی کھینچ کر رکھا ہوتا تو میں اتنا آگے نہ بڑھتی سامیہ۔۔ وہ سختی ہی تو نہیں کرتا میرے ساتھ۔ اتنا نرم ہوجاتا ہے مجھے لگتا ہے جیسے میرا دل پانی بن کربہنے لگے گا۔۔ ساری دُنیا کے ساتھ بے اعتناٸ برتتا ہے تو مجھے کیوں الگ رکھا ہوا ہے سب سے۔۔؟ میرے ساتھ بھی ویسا ہی کرے۔۔ مجھے کیوں الگ جگہ دی ہوٸ ہے۔۔؟ اسے اندازہ بھی نہیں ہے کہ اس کی نری مجھے اندر کہاں تک زخمی کرتی ہے۔”

بولتے بولتے اسکی آنکھ سے آنسو پھسلا تو سامیہ اسے اُٹھا کرکمرے میں لے آٸ۔۔ باہر کا شور ہنگامہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی دب سا گیا تھا۔۔ وہ شاید سامیہ کا کمرہ تھا۔۔ اسی لیۓ ہر جگہ پھیلے کپڑے، گُلاب کے پھولوں اور پرفیوم کی ملی جُلی مہک نے کمرے کو عجیب سے حصار میں رکھا ہوا تھا۔۔

اس نے اسے بیڈ پر بٹھایا پھر اسکے برابر فکر مند سی آبیٹھی۔ اسکا ہاتھ لے کر اپنے ہاتھ میں قید کیا تو امل سے خود پر قابو پانا مشکل ہونے لگا۔۔

“اسے میرے ساتھ اتنا اچھا نہیں ہونا چاہیۓ تھا سامیہ۔۔ اسکی نرمی نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ میں کہیں کی نہیں رہی۔۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ میں خود کو کیسے سمجھاٶں۔۔؟ کیسے خود کو باز رکھوں۔۔ کیسے اپنے ہمکتے دل کو روکوں۔۔؟”

اسکی آواز آخر میں کانپی تو سامیہ کے دل کو کچھ ہوا۔۔ وہ اسکی محبت کو بہت پہلے سے جانتی تھی۔۔

ّ”کچھ نہیں ہوگا۔۔ اللّہ بہت مہربان ہے امل۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔ تم کیوں فکر مند ہوتی ہو۔۔؟ کیا وہ کسی اور کو پسند کرنے لگا ہے۔۔؟”

“وہ کسی اور کو پسند کرتا کسی اور سے محبت کرتا تو میں خود کو سمجھا کر بہلا کر اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیتی مگر سامیہ۔۔”

وہ بے چینی سے اسکی جانب مُڑی تھی۔۔

” وہ کسی اور کو پسند نہیں کرتا۔۔ کسی لڑکی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا ولی۔ مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے میں اسے بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔ مگر جس داغ نے اسکی ذات کو بچپن سے خول میں قید کررکھا ہے وہ داغ اب اسے مجھ سے دور کررہا ہے سامی۔۔ میں نے اسکی آنکھوں میں اپنے لیۓ محبت کی نمی دیکھی ہے۔۔ اسکے گریز میں پنہاں عقیدت محسوس کی ہے۔۔ میں نے وہ سب کچھ دیکھا ہے سامیہ جو وہ عرصے سے چھپانا چاہتا تھا۔۔”۔۔

بولتے بولتے وہ رُکی تو سامیہ نے اسے کندھے سے تھام کر اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھا۔۔ وہ بہت ٹوٹی بکھری لگ رہی تھی۔۔

“اگر وہ تم کو واقعی چاہتا ہے تو وہ تم تک آنے کی کوشش ضرور کرے گا امل۔ وہ تمہیں یوں اس طرح منجدھار میں نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا بھروسہ کرو اس پر۔۔”

“اس پر تو اپنے آپ سے بھی زیادہ بھروسہ ہے مجھے۔ مگر وہ میرے قریب کبھی نہیں آٸیگا سامیہ۔ وہ اپنے ساتھ میری ذات کو نہیں رولنا چاہتا۔۔ وہ خود کو مکروہ سمجھتا ہے۔ اپنے ساۓ سے بھی نفرت کرتا ہے۔۔ دُکھ اسی بات کا تو ہے کہ وہ خود کو نہیں پہچانتا۔۔ وہ نہیں جانتا سامی کہ کتنے لوگ اسے دیکھ کر زندہ ہیں۔۔ سانس لے رہے ہیں۔۔ اس کی ذات میں تحفظ محسوس کرتے ہیں۔۔ بہت سے لوگ ہیں سامی۔۔ مگر وہ نہیں جانتا۔۔ کچھ نہیں پتہ اسے۔۔۔”

اسکا دُکھ اب غم میں بدلنے لگا تھا۔

“میں بات کروں اس سے۔۔؟”

سامیہ نے اسکی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ کر کہا تو امل نے تھک کر سر نفی میں ہلایا۔۔

“اس سے کیا ہوگا۔۔؟ بات کرنی ہوتی اور بات سے وہ مان جاتا تو یہ میں کرچکی ہوں۔۔ وہ کبھی نہیں مانے گا۔۔ اور میرے دونوں بھاٸ اس سے حد درجہ نفرت کرتے ہیں سامیہ۔۔ میرے لیۓ کوٸ اُمید نہیں ہے۔۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔”

اسی پل کسی نے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر دروازہ کھولا تو وہ بیک وقت دروازے کی جانب مڑیں۔ سامیہ کی امّی اسے بلارہی تھیں۔ اسنے اسکو مسکرا کر دیکھا اور پھر اسکا فرشی لہنگا سنبھالتی اسے باہر لے کر آٸ۔ مہمان آنا شروع ہوگۓ تھے اور اب دُلہن کی رُخصتی کا وقت قریب آنے لگا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ولی ویسے ہی سیٹ کی پُشت سے سر ٹکا کر یاسیت سے گاڑی کی چھت کو دیکھ رہا تھا۔ جو ابھی اسکی گاڑی سے نکل کر گٸ ہے کاش اسکے دل سے بھی اتنی آسانی کے ساتھ نکل جاتی۔ کاش کے وہ اس سے کبھی محبت ہی نہ کرتا۔ خوفزدہ راتوں میں اسکے خواب نہ دیکھتا تو آج اسکی آنکھیں۔۔ اسکا دل۔۔ اسکا وجود اتنا زخمی نہ ہوتا۔ جو دُکھ اس کی ذات کے ساتھ تھا۔ وہ تو ویسے بھی اسکا عادی ہوگیا تھا۔۔ مگر جو دُکھ امل کے وجود کو ڈھانپنے لگا تھا اسکا سوچ کر ہی اسے سانس لینا مشکل لگا۔۔ ابھی کل ہی کی تو بات تھی جب بی جان نے اسے امل کے رشتے کے لیۓ کہا تھا۔ اسکی شادی کی تیاریوں کا حکم دیا تھا۔ اسے امل کو خود رخصت کرنا تھا۔ اسکی خوشیوں کے درمیان آکر وہ اسکے خوابوں کا خون نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ تو دُھلی چاندنی تھی۔ اتنی شفّاف اور پاکیزہ تھی کہ اس نے اسے کبھی نظربھر کر دیکھا تک نہ تھا۔۔ وہ کیسے اسے اپنے ساتھ رول سکتا تھا۔۔؟ کیا وہ ایسا کرسکتا تھا..؟ کیا اس میں اتنی ہمّت تھی کہ وہ اسکے نام کو خود کے نام کے ساتھ جوڑ کر اسے معاشرے کے لامتناہی سوالات کے حوالے کردیتا۔۔؟ کیا وہ کبھی ایسا کرسکتا تھا۔۔؟ وہ اس سے محبت کرتا تھا۔۔ اور محبت کرنے والے تو محبوب کو گرم ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔۔ وہ کبھی اسکی ذات کو سوالیہ نشان نہیں بناۓ گا۔۔ جو ستم زندگی نے اس پر کیۓ تھے وہ ان کو اسکے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیگا۔۔ ہاں وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔۔

مگر۔۔ جو سوال وہ اس سے ابھی کر گٸ تھی کیا وہ ان سوالات سے کبھی پیچھا چُھڑا پاۓ گا۔۔؟ کیا وہ کبھی اسکی آنکھوں کے حصار سے آزاد ہو پاۓ گا۔۔؟ کیا کبھی اسکی جلتی ذات کو قرار آجاۓ گا۔۔؟ وہ کیوں اس سے اتنے مشکل سوال کیا کرتی تھی۔۔؟ آخر کیوں وہ نہیں سمجھتی تھی کہ وہ اسکے قابل نہیں تھا۔۔ کیوں وہ اسے ہمیشہ اُلجھا دیا کرتی تھی۔۔؟ کیوں۔۔۔؟

اس نے تھک کر آنکھیں کھولیں۔ اسکی بوجھل نسواری آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اتنی خوبصورت کہ اگر وہ کسی کو نظربھر کر دیکھ لیتا تو آگے والا دنوں انکے سحر سے نہ نکل سکتا۔ وہ جس ماں کا بھی بیٹا تھا بلاشبہ وہ ماں بہت حسین تھی۔ اس نے گردن کے گرد لپٹی شال کو درست کیا اور جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلنے لگا تو اس کا فون بج اُٹھا۔۔ اس نے موباٸل نظروں کے سامنے کیا تو جلتا موباٸل اسکے چہرے کو روشن کرنے لگا۔ نمبر دیکھ کر اسکے چہرے پر شناساٸ بکھری تو اس نے فون اُٹھا لیا۔۔

“کیسے ہو ولی۔۔؟”

کار میں خاموشی کے باعث بولنے والی کی آواز باہر تک سُناٸ دے رہی تھی۔

“میں ٹھیک۔۔ آپ کیسی ہیں قانتہ اور زین کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔؟”

“میں ٹھیک اور زین بھی اللّہ کا شکر ہے ٹھیک ہے۔۔ تمہیں یاد کررہا تھا۔۔ تم آۓ نہیں اس دن کے بعد۔۔ کیا مصروف ہو۔۔؟”

چند پل دوسری جانب سے آتی آواز کو سنتا وہ خاموش رہا پھر دھیرے سے مسکرا کر کہنے لگا۔۔

“جلد آٶنگا۔۔ تھوڑا سا مصروف ہوں ان دنوں۔۔ زین کو بتا دیجیۓ گا کہ ولی کو وہ بالکل ٹھیک چاہیۓ۔۔”

“ٹھیک ہے میں بتا دونگی۔۔”

دوسری جانب وہ شاید مسکراٸ تھی۔۔

” وہ کیسی ہے۔۔؟” ان کے پوچھنے پر ولی نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

“ٹھیک۔۔”

“اور تم۔۔؟ کیا تم ٹھیک ہو۔۔؟”

وہ چند پل اس سوال پر لب کاٹتا رہا۔۔

ّ”جی میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔ شاید۔۔”

کچھ دیر بعد اس نے خود کو کہتے سُنا تھا۔

“اتنا سب کچھ اپنے اندر رکھتے ہو تم۔ کبھی بول دیا کرو ولی۔۔ کبھی اپنا دل کھول کر رکھ دینا انسان کو بہت ہلکا پھلکا کردیتا ہے۔ میں ہر وقت تمہیں ایسا کرنے کے لیۓ نہیں کہہ رہی جانتی ہوں کہ آسان نہیں ہے تمہارے لیۓ یہ سب کرنا۔۔ مگر ہر وقت۔۔ ہر وقت اندر ہی اندر اتنا سب کچھ رکھنا بہت خطرناک ہے۔ خود کے ساتھ ذرا نرمی سے چلا کرو۔۔”

ان کی پُر خلوص سی فکر مندی پر وہ بوجھل دل سے مسکرایا تھا۔۔

“اتنے عرصے تک خود کے اندر اتنا سب کچھ رکھا ہے ناں قانتہ کہ اب کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ دل اتنا خالی ہے کہ اسکا خالی پن کبھی کبھی کاٹنے کو دوڑتا ہے۔۔ میرے اندر کچھ نہیں ہے۔ کھوکھلا ہوگیا ہوں میں۔۔ بات کرنے کے لیۓ کچھ ہو تو میں کچھ کسی سے بانٹوں میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔۔”

اسکی دھیمی آواز نے کار کے اندر عجیب سی اُداسی بکھیر دی تھی۔۔ دوسری جانب قانتہ نے گہری سانس لی۔۔

“جیسے تم پرسکون رہو۔۔ میں تو تمہاری آسانی کے لیۓ بول رہی تھی۔ تمہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے مجھے ولی۔۔ تمہارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔۔”

“ظلم ہوا ہے یا نہیں ہوا۔۔ کس نے کیا ہے کیوں کیا ہے۔۔ ان سوالات سے تو کب کی جان خلاصی ہوگٸ ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کسی نے ظلم نہیں کیا۔۔ کسی نے زیادتی نہیں کی قانتہ۔۔ مجھے ایسے ہی پیدا ہونا تھا۔۔ مجھے اتنی ہی ذلّت اُٹھانی تھی۔۔ اتنی ہی گالیاں سُننی تھیں۔۔ مجھے اتنی ہی اذیتوں سے گُزرنا تھا۔۔ کسی نے کچھ نہیں کیا۔۔ سب کچھ یوں ہی لکھا تھا اور یوں ہی ہونا تھا۔۔ بھلا قسمت کےکاغذ پر کچھ لکھ کر دوبارہ مٹایا گیا ہے۔۔؟ میں کسی کو قصور وار نہیں ٹہراتا۔۔ کچھ داستانوں کا ادھورا رہ جانا ہی انکی کاملیت ہوتی ہے۔ میں بھی ایسی ہی کسی داستان کا کمزور سا ورق ہوں۔ ایسے ہی آیا تھا اور ایسے ہی چلا جاٶنگا۔۔ اس سے زیادہ کی نہ چاہت ہے اور نہ حسرت۔۔ ہاں بس جو اپنے دل سے بے بس ہوکر مجھ سے محبت گانٹھنے لگے ہیں ان کے لیۓ پریشان ہوں۔۔”

وہ کہہ کر خاموش ہوا تو قانتہ چند پل کچھ نہ بولی۔۔ وہ جیسے الفاظ تلاش کررہی تھی۔

“تو تم کیوں آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ نہیں تھام لیتے۔۔؟ کیوں اسے تکلیف دیتے ہو؟”

“میں اسے تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں۔ اسے تکلیف دینے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔۔ ہاں لیکن اسکا ہاتھ تھام کر اسے دنیا کے سامنے رُسوا نہیں کرسکتا میں قانتہ۔۔ جس سب سے میں گزرا ہوں وہ سب آسان ہرگز نہیں تھا۔ میں اسے اپنے ساتھ مٹی میں نہیں رول سکتا۔۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔۔”

“ہوسکتا ہے جسے تم ذلّت سمجھ رہے ہو اسی میں تمہاری بقاء ہو۔۔ ہوسکتا ہے وہ تمہارے لیۓ ڈھال بن جاۓ۔۔ تمہاری خوفناک راتوں میں تمہیں تنہا محسوس نہ ہونے دے۔۔ وہ اگر تم سے محبت کرتی ہے تو کبھی کچھ بھی تم تک نہیں آنے دے گی جیسے تم اس تک کچھ نہیں آنے دیتے۔۔”

“وہ اتنی نازک ہے قانتہ۔۔ وہ یہ سب نہیں کرسکتی۔۔”

“محبت عورت کو سمندر میں کھڑی برفیلی چٹّان سے زیادہ مضبوط کردیتی ہے ولی۔۔ محبت وہ آبِ حیات ہے جو موت کو جاتی زندگیوں کو زندگی کی جانب کھینچ لاتی ہے۔۔ تم اسے مزاق نہ سمجھو۔۔ وہ أگر تمہیں واقعی چاہتی ہے تو وہ تمہیں کبھی تنہا نہیں کرے گی۔۔ وہ عورت ہے۔۔ عورت کی تو مٹی گوندھی ہی محبت کے پانی سے گٸ ہے۔۔ اسکا وجود تو اُٹھا ہی محبت کے خمیر سے ہے۔۔ تمہاری محبت اسے اتنا مضبوط کردے گی کہ تم خود بھی حیران رہ جاٶگے۔۔”

“پھر بھی میں اسکے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتا۔۔ امل کو تکلیف ہوٸ تو ولی خود کو کبھی معاف نہیں کر پاۓ گا۔۔”

اسکی آنکھوں میں ضبط کی سُرخی ابھری۔ اسے کچھ دیر پہلے امل کی جگمگاتی آنکھیں یاد آٸیں تو اسے نۓ سرے سے اذیت ہونے لگی۔۔

“میں نے بس راستہ بتایا ہے تمہیں آگے تمہاری مرضی۔۔ خیال رکھنا۔۔”

دوسری جانب سے فون رکھا گیا تو ولی نے بھی گہرا سانس لے کر فون ڈیش بورڈ پر ڈال دیا۔۔ چند پل گاڑی ہی میں بیٹھا رہا پھر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔۔ باہر گاڑی کی بہ نسبت زیادہ سردی تھی۔ ہوا کا جھونکا اسے سرسراتے ہوۓ گزرا تو اس نے کندھے پر ڈلی شال کو درست کیا اور رُخ موڑ کر برقی قمقموں سے سجی حویلی کو دیکھنے لگا۔۔ حویلی کے باہر شاید بارات آگٸ تھی اسی لیۓ دروازے پر خاصہ رش لگا ہوا تھا۔ ڈھول بجانے والے بھی دروازے میں ٹہرے زور و شور سے ڈھول بجا رہے تھے اور دولہے والوں کی طرف سے رقص کیا جارہا تھا۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی کثافت کو باہر نکالنے کی کوشش کی تھی۔

دولہے والوں کا استقبال کرتے لوگ اب انہیں حویلی کے اندر لے کر جارہے تھے۔۔ اس نے اپنی پُشت گاڑی کے ساتھ ٹکاٸ اور باراتیوں کو دیکھے گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

“وہ ہم پر کیس کرنے کی دھمکی دے کر گیا ہے۔۔ ہمارے سامنے۔ ہمارے منہ پر۔۔ ایسے میں کیا چاہتے ہو تم ہم اپنی ساری سیاسی ساکھ کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں۔ اس ایک عدد زرعی زمین کے لیۓ۔۔! یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہوگا ہاشم۔۔ جو کہ میرے لیۓ کرنا بالکل بھی آسان نہیں۔۔ ایسے حالات میں اگر کوٸ اسکینڈل ان میڈیا والوں کے ہاتھ لگ گیا تو میں کہیں کا نہیں رہونگا۔۔”

حسن شاہ کی بات پر بالوں کو سہلاتا ہاشم کا ہاتھ بے ساختہ ساکت ہوا تھا۔ اس نے بے یقینی سے چہرہ اُٹھا کر سامنے بیٹھے معمّر سے آدمی کو دیکھا جو بلاشبہ اپنے حُلیے سے اس گاٶں کا وڈیرا ہی لگتا تھا مگر سیاسی چکاچوند کے باعث اس نے اپنا حُلیہ درست کررکھا تھا۔۔ ہر سیاسیتدان شخص کی طرح۔۔!

“اگر تمہیں کراۓ کے قاتلوں کی ضرورت ہے تو مجھ سے لے لو مگر اس قسم کی بات منہ سے نکال کر میرا بنا بنایا کھیل مت چوپٹ کرو۔۔” جواباً ہاشم بھی اسی تلخی سے بولا تو حسن شاہ کو اپنے کان تپتے محسوس ہوۓ۔ انہیں اپنی ساری محنت پانی میں غرق ہوتی نظر آرہی تھی۔۔

“دیکھو ہاشم۔۔ ہماری دوستی ایک طرف۔۔ ہماری یاری کا اس سارے معاملے سے کوٸ تعلق نہیں۔۔”

“تعلق ہے۔۔”

ہاشم نے درشتی سے اسکی بات کاٹ دی تھی۔۔

“اس سارے قصّے کا ہماری دوستی سے بہت گہرا تعلق ہے حسن۔۔ وہ میرا دشمن ہے۔۔ اور تمہارا بھی عنقریب بن ہی جاۓ گا۔۔ کیونکہ دوست کا دشمن آپکا دوست نہیں ہوتا دشمن ہی ہوتا ہے۔ تم اسے اس طرح اس زمین پر من مانی نہیں کرنے دے سکتے۔۔ تمہیں وہ زمین کسی بھی طرح۔۔ کسی بھی حال میں۔۔ اس سے لینی ہے۔۔”

اسکی غرّاہٹ پر حسن کو ٹھنڈا ہونا پڑا تھا۔ ہاشم غصّے کی آگ میں جلتا اسے کہیں سے بھی اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔۔ اس نے اب کے سبھاٶ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔

ّ”جنگ کبھی بھی ہاتھوں سے ہتھیاروں سے یا اثرورسوخ سے نہیں لڑی جاتی ہاشم اور جذباتیت سے تو بالکل بھی نہیں۔۔ جنگ ہمیشہ دماغ سے لڑی جاتی ہے۔۔ اعصاب سے لڑی جاتی ہے۔۔۔۔ اگر ہم جذباتیت میں آگۓ اور غلط وار پر مارے گۓ تو نقصان ہمارا ہے کسی اور کا نہیں۔۔ وہ ولی احمد ہے۔۔ بھلے ہی غلاظت کا گڑھا ہو اسکا وجود۔۔ مگر اسکے حوصلوں اور اسکے ٹھنڈے انداز کی داد دینی پڑے گی۔۔ وہ عقل مند ہے۔۔ کچھ دنوں پہلے وہ ہمیں زمین کے لیۓ راضی کرنے نہیں آیا تھا۔۔”

اسکی بات پر غصّے سے کھولتے ہاشم نے اسے ناسمجھی سے دیکھا تو حسن شاہ مسکرایا۔۔

“وہ ہمارے اعصاب دیکھنے آیا تھا۔۔ ہماری ہمّت دیکھنے آیا تھا۔۔ ہم کتنے مضبوط ہیں اس بات کا اندازہ کرنے آیا تھا وہ۔۔”

چند پل لگے تھے ہاشم کو سب سمجھنے میں۔۔

“وہ ہماری کمزوریاں جانتا ہے۔ اور جس مقام پر ابھی ہم کھڑے ہیں اس سے بھی بخوبی واقف ہے وہ۔ ہم اپنی سیاست کی وجہ سے ایک پتّہ بھی فی الحال نہیں ہلا سکتے اسی بات کا فاٸدہ اٹھا رہا ہے وہ۔۔ اور ہم ابھی اسے اسکی چلانے دینگے کیونکہ ہر وقت حملہ کرنے کا نہیں ہوتا۔۔ میں نے کہا ناں کہ جنگیں دماغ سے لڑی جاتی ہیں۔۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے۔ جس نے سب سے کمزور لمحوں میں اپنے اعصاب جماۓ رکھے وہ یہ جنگ جیتے گا۔۔”

ہاشم کو کسی طور اسکی باتوں پر صبر نہیں آرہا تھا مگر بقول حسن شاہ کے، کہ صبر کبھی نہیں آتا۔۔ صبر لانا پڑتا ہے۔۔ جیسے گناہ خود بخود سرزد ہوجاتے ہیں اور نیکی کرنی پڑتی ہے۔۔

“پھر کب تک ارادہ ہے تمہارا اسے گردن سے دبوچنے کا۔۔؟”

بہت ضبط سے اس نے یہ سوال کیا تھا وہ بس ولی کی لاش دیکھنا چاہتا تھا۔۔ اسکے سُلگتے وجود کو ایک ہی طرح سے سکون آسکتا تھا اور وہ تھی ولی کی موت۔۔۔۔! مگر ابھی وہ ملتوی ہوتی دکھاٸ دے رہی تھی۔۔

“صبر کرو۔۔ جلد یا بدیر وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ہاشم۔۔ مگر اس سارے عرصے میں تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔۔”

وہ تراشی ہوٸ مونچھوں کو بل دیتا سیدھا ہوا تو ہاشم نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔

“اسکی کمزوری۔۔۔ مجھے ولی احمد کی کمزوری لا کر دو ہاشم ۔۔ پھر میں تمہیں اسکا سر لا کر دونگا۔۔”

“اسکی کیا کمزوری ہوگی بھلا۔۔”

“کمزوری ہوتی ہے۔۔ ہر ایک کی ہوتی ہے۔۔ اسکی بھی ہوگی۔۔”

“مثلاً۔۔۔؟”

“کیا وہ کسی کو پسند کرتا ہے۔۔؟ کسی سے محبت کرتا ہے ۔۔؟ یا پھر کوٸ ایسا بندہ جو اسکے قریب ہو۔۔ کوٸ ایسا جسے وہ عزیز رکھتا ہو۔۔؟”

حسن کی بات پر ہاشم نے نظریں چند پل سُکیڑ کر سوچنے کی کوشش کی مگر جواب ندارِد۔۔ اسے ولی کی ایسی کوٸ خامی نہیں پتہ تھی۔۔

“ڈھونڈو۔۔ اسکی کمزوریاں ڈھونڈو اگر وہ تمہیں مرا ہوا چاہیۓ تو ۔۔۔میرے پاس اسکے ویک پواٸنٹس لاٶ۔۔”

اور پھر واپسی کے سارے راستے اسکے ذہن میں حسن کی باتیں گونجتی رہیں۔ کمزوری۔۔۔ ولی کی کمزوری۔۔ کیا ہوسکتی ہے۔۔؟ وہ بے خوف ہے کیونکہ کوٸ بھی اسکے آگے پیچھے نہیں۔۔۔ مگر کوٸ تو ہوگا۔۔ کچھ تو ایسا ہوگا کہ جہاں وہ چُوکا ہوگا۔۔ جہاں اس نے غلطی کی ہوگی۔۔ ہاں ضرور۔۔۔

ڈراٸیو کرتے ہوۓ اسکا ذہن تیزی سے کام کررہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

شادی کے دن کے بعد سے ناجیہ اس سے ملنے نہیں آٸ تھی اور نہ امل نے اسے اسکے گھر جاکر منانے کی کوشش کی تھی۔ اسکا ذہن پہلے ہی پراگندہ تھا مزید وہ ناجیہ کے نخرے اُٹھانے کی ہمّت خود میں نہیں پاتی تھی۔ پیپرز کی وجہ سے اس نے زیادہ سے زیادہ کمرے میں رہ کر پڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ایک قسم کا بہانہ بھی تھا کہ جس کے ذریعے وہ ولی کا سامنہ کرنے سے بچ سکتی تھی۔۔ وہ خود کے دل کو نہیں روک سکتی مگر اسکی جانب بڑھتے قدموں کو تو روک سکتی تھی ناں۔ اور جو وہ کرسکتی تھی۔۔ اسے وہ کرنا چاہیۓ۔۔ سو اس نے خود کو کمرے میں مقید کرلیا تھا۔۔

“امل۔۔۔؟ “

بی جان نے اسکے کمرے میں جھانکا تو اس نے کتابوں سے سر اُٹھایا۔ قد آدم دیوار گیر شیشے کی کھڑکی سے گرتی دھوپ میں اسکا چہرہ چمک رہا تھا۔ گیلے بالوں کو کمر پر کُھلا چھوڑے، سیاہ چوڑی دار پجامے اور سیا ہی لمبی قمیص میں ملبوس اسکا حسن دُھلا دُھلایا سا لگ رہا تھا۔ مومی جلد سے چند گیلی لٹوں کو ہٹاتی وہ کوٸ موم کی گڑیا جیسی دکھتی تھی۔۔

“جی بی جان۔۔۔؟”

اس نے ایک ہاتھ میں پین اور دوسرے میں کاغذ پکڑ رکھا تھا۔۔ شاید وہ اپنے نوٹس اکھٹے کرکے ترتیب سے رکھ رہی تھی۔

“دو دن سے کمرے میں بند ہے۔۔ خیریت تو ہے۔۔؟”

وہ اس کے کمرے میں چلی آٸیں تو امل بھی جو جُھکی ہوٸ تھی سیدھی ہو بیٹھی۔۔ سیدھے ہونے سے اسکے چہرے پر پڑتی دھوپ زاویہ بدلنے کی وجہ سے غاٸب ہوگٸ تھی۔۔

“جی بی جان۔۔ بس تیاری کرنی ہے پیپرز کی اور آپکو تو پتہ ہے کتنا پڑھنا ہوتا ہے۔ بغیر پڑھے کہاں گزارہ ہے۔۔”

اس نے کتابیں پرے کیں اور بی جان کے ساتھ بیڈ پر آبیٹھی۔ نہانے کی وجہ سے اسکے بال گیلے تھے اس نے گیلے بالوں کو سمیٹ کر آگے کندھے پر ڈالا اور بی جان کی گود میں سر رکھ لیا۔۔ بی جان نے جھک کر اسکی صبیح پیشانی چومی تو اسکے لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے۔۔ کتنا سکون تھا انکی آغوش میں۔۔

“کیا ہوگیا ہے میری بچّی کو۔۔؟ کیوں مجھے بُجھی بُجھی سی لگ رہی ہے آجکل۔۔؟”

انہوں نے نرمی بھری شفقت سے کہا تو اس کا دل قرار میں آگیا۔ پچھلے دنوں کی پھیلی بے چینی جیسے چھٹنے لگی تھی۔۔

“کچھ نہیں بی جان۔۔ بس دل پتہ نہیں کیوں عجیب سا ہورہا ہے۔ بوجھل بوجھل سا۔۔ گھبرایا ہوا۔۔ جیسے کوٸ انہونی ہونے والی ہے۔۔ کچھ ہونے والا ہے۔۔”

اس نے کمرے میں گرتی دھوپ کے اندر گھومتے ننّھے ذرّوں کو دیکھتے ہوۓ کہا تو بی جان نے ناسمجھی سے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ اسکی خوبصورت آنکھیں کمرے میں بچھی دھوپ پر جمی تھیں۔۔

“ہوتا ہے۔۔ کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے۔ لیکن کیا کوٸ بات ہوٸ ہے۔۔؟ کسی نے کچھ کہا ہے تم سے۔؟ پہلے تو میری امل ایسی نہیں تھی۔۔ اب میرے گھر کے سب سے خوبصورت پھول کو کیا ہوا ہے۔۔؟”

اس نے انکی بات پر شہد رنگ آنکھیں اُٹھا کر انہیں دیکھا۔ وہ بی جان کا پرتُو تھی۔ پل بھر کے لیۓ زمانی بیگم کو لگا وہ اپنی جوانی دیکھ رہی ہیں۔۔

“کچھ نہیں بی جان۔۔ وجہ ہی تو سمجھ نہیں آرہی مجھے۔۔ اور اگر کوٸ وجہ سمجھ بھی آرہی ہے تو وہ اتنی مبہم ہے کہ میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پارہی۔۔ میں کوٸ فیصلہ نہیں کر پارہی بی جان۔۔ میرا دل اب پہلے کی طرح نہیں خوش ہوتا۔۔ میں کیا کروں۔۔۔؟”

بچوں کی طرح اس نے سوال کیا تو بی جان مسکراٸیں۔۔ انکی امل کب اتنی بڑی ہوٸ انہیں تو پتہ ہی نہیں چلا۔۔

“کیوں ہورہا ہے میری بچی کا دل بوجھل۔۔؟ کس نے پریشان کیا ہے میری امل کو۔۔؟”

اور پریشان لفظ پر اسکی آنکھوں کے سامنے ولی کا چہرہ گھوما تو اس نے سر جھٹکا۔ اُس کی بلاوجہ کی کھڑی کی گٸ دیواروں میں اب اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔ اور وہ اسکو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔ اُس نے اسے بہت پریشان کیا تھا مگر اب نہیں۔۔ وہ خود کو بدلے گی۔۔ وہ اس اذیت میں مزید نہیں رہ سکتی۔

“بی جان۔۔”

وہ یکدم اُٹھ کر بیٹھی تھی۔۔

“اگر کسی کو۔۔ کسی کو کوٸ اچھا لگنے لگے۔۔ مطلب بلاوجہ۔۔ یا پھر وہ شخص اسے پسند آنے لگے۔۔ خاص کر ایک لڑکی کو۔۔ تو کیا یہ بُری بات ہے۔۔؟ میں اپنے لیۓ نہیں پوچھ رہی مجھ سے میری ایک دوست نے پوچھا تھا مجھے تو اسکا جواب سمجھ نہیں آیا۔۔ آپکو کیا لگتا ہے۔۔؟”

آخر میں محتاط ہوکر انکا چہرہ دیکھا مگر بی جان کے تاثرات ویسے ہی نرم گرم سے تھے۔۔

“یہ بُری بات ہے یا اچھی بات میں نہیں جانتی امل۔۔ مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ شادی سے پہلے عورت کی زندگی میں آنے والا مرد تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔۔۔”

انکی بات سن کر وہ چند پل ساکت رہ گٸ تھی۔

“نکاح سے پہلے اگر عورت کسی کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دے یتی ہے۔۔ کسی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خوابوں کا حصّہ بنا لیتی ہے یا پھر وہ اسکی چاہت کو خود پر لباس کی طرح اوڑھتی ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اسکی شادی وہاں نہیں ہوٸ کہیں اور ہوگٸ تو جانتی ہو کیا ہوتا ہے۔۔؟”

انہوں نے مشفق نگاہوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ دھواں دھواں چہرہ لیۓ جیسے جم سی گٸ تھی۔۔

“تو پھر وہ کسی دوسرے کے نکاح میں ہوتے ہوۓ بھی اس تعلق کا حق نہیں ادا کر پاتی۔ وہ اس تعلق کو تعلق نہیں بنا پاتی چاہے کتنی بھی کوششیں کرلے۔۔ اور آخر میں تھک ہار کر عورت اپنا گھر خراب کرلیتی ہے۔ وہ کسی ایک کی ہوکر رہنے کی قاٸل ہوتی ہے مگر عملی زندگی میں اسکا دل اور اسکا جسم دو مختلف سمت کے مسافر بن جاتے ہیں جو کہ اس کو کہیں کا نہیں رہنے دیتے۔۔”

انہوں نے اپنی بات سمیٹ کر اسے اسے دیکھا تو وہ پل میں سنبھلی۔۔ نہ جانے اسے اس سردی میں عجیب سی گھٹن کیوں ہونے لگی تھی۔۔ پھر بھی ہمّت کرکے اس نے دوبارہ سوال کیا۔۔

“تو ایسے میں کیا کرنا چاہیۓ بی جان۔۔ ؟ اس میں تو عورت کا کوٸ قصور نہیں۔۔ اس میں تو اسکی کوٸ غلطی ہوتی ہی نہیں ہے۔ محبت تو بس ہوجاتی ہے۔۔ وہ تو کسی سے اجازت نہیں لیتی۔۔ کسی کے دکھ درد کسی کے حالات کا انتظار نہیں کرتی۔۔ پھر ایسے بے قابو جذبے کی سزا اس انسان کو کیوں دی جاۓ جو اس سب میں قصوروار تھا ہی نہیں۔۔ یہ تو کوٸ انصاف نہیں ہوا بی جان۔۔”

وہ جیسے بلبلا اُٹھی تھی۔ وہ تو اس سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔ اسکی چاہت میں اس نے کتنی ہی راتیں جاگ کر گزاری تھیں۔۔ تو کیا۔۔ وہ بھی خیانت کی مرتکب تھی۔۔؟ کیا اس سے بھی گناہ سرزد ہوگیا تھا۔۔؟ مگر اس نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔۔ اس نے یہ سب خود نہیں کیا تھا یہ تو بس۔۔ بس ہوگیا تھا۔۔

“یہ ہمارا وہم ہوتا ہے بچے کہ ہم قصوروار نہیں۔۔۔”

وہ مسکراٸیں تو اسے لگا کمرے میں گرتی دھوپ اسکے بیڈ تک آگٸ ہے اور اب اسکے بیڈ سے ہوتے ہوۓ وہ اسے اپنی آگ میں جُھلسانے کے لیۓ بے تاب ہے۔۔

“ہم قصوروار ہوتے ہیں۔۔ محبت تو بیج کی مانند ہوتی ہے۔ کسی بھی زرخیز دل کی زمین میں یہ بیج آلگتا ہے۔ لیکن میرے بچے۔۔۔”

وہ رُکیں تو اسے لگا وہ کبھی اپنی آنکھیں نہیں جھپک پاۓ گی۔ اسے لگا وہ پتّھر کی ہوجاۓ گی۔۔

“بیج تو آبیاری سے تناور درخت بنتے ہیں۔ یہ محبتیں، نفرتیں، حسد۔۔ یہ سب۔۔ یہ سارے جذبے تو بیج کی طرح ہوتے ہیں۔ ہم ان کی دیکھ بال کرتے ہیں۔ صدیوں انکے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اپنے اندر انہیں جگہ دیتے ہیں۔ ان سب کی پرورش کسی معصوم پودے کی طرح کرتے ہیں لیکن پھر ایک وقت ایسا آتا ہے امل کہ وہ سارے پودے جن کی صدیوں آبیاری کی گٸ ہو وہ تناور درخت بن جاتے ہیں۔۔ اور انہیں اپنی ذات سے اکھاڑ پھینکنا ہرگز بھی مزاق نہیں ہوتا۔۔”

بی جان خاموش ہوٸیں تو اسے لگا جیسے اسکے سامنے چلتی فلم رک گٸ۔ وہ فلم اسکی زندگی کی فلم تھی۔ جس میں اس نے کٸ راتیں جاگ کر۔۔ کٸ سال تک اس ننّھے سے بیج کی آبیاری کی تھی۔ اس کی محبت کو سنوارا تھا۔ کٸ سال۔۔۔ ہاں کٸ سال سے وہ یہی تو کررہی تھی۔ جب سے شعور کی دنیا میں آٸ تھی۔ جب سے وہ آنکھوں کو اچھا لگنے لگا تھا۔ اور اب وہ چلی تھی اس تناور درخت کو اکھاڑنے۔۔ اس محبت کو ختم کرنے۔ یہ سب اتنا آسان تو نہ تھا۔۔ اسے پہلی دفعہ معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تھا۔ اور دل کے معاملوں سے زیادہ بھلا کونسے معاملات زیادہ سنگین ہوا کرتے ہیں۔۔؟

“اب تم اپنے بالوں کو سنوارو دیکھو سُوکھنے لگے ہیں اور ہاں۔۔ میں نے سُوجی کا حلوہ بنایا ہے تمہارا پسندیدہ۔۔ جلدی سے آجاٶ۔۔”

وہ اسکے ماتھے پر پیار کرتی اُٹھیں تو اسے لگا کہ بیڈ پر چڑھتی دُھوپ اسکے پیروں کو جلانے لگی ہے۔۔ اس نے گھبرا کر پیر سمیٹے تھے۔۔ کچھ دیر کی نرم گرم سی دھوپ اب اسے بھڑکتی آگ لگ رہی تھی۔۔ بالکل اس جذبے کی طرح جو اسکے دل میں قیام پذیر تھا۔ پہلے وہ نرم پھوار کی مانند دل پر بہت نرمی سے برستا تھا مگر اب اس پھوار میں گویا یکدم طوفان آنے لگا تھا۔۔ اور اس طوفان سے پہلے کی خاموشی اسکے دل میں راٸج تھی۔۔ جسکا سوچ کر ہی اسے خوف آنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

“ولی سر ۔۔ آپکو سردار بابا بلا رہے ہیں حویلی میں۔۔”

وہ ڈیرے پر بنے آفس میں کام کررہا تھا جب شاہ نواز کی بات پر سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اسکے آس پاس بہت سی فاٸلز بکھری تھیں اور بہت سا کام ابھی اسکا منتظر تھا مگر سردار بابا کا بلاوہ آگیا تھا اور وہ ایک سیکنڈ کی دیر بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اس نے ساری فاٸلز پرے کرکے ٹیبل سے موباٸل، چابیاں اور چشمہ اُٹھاتا پھر آفس سے باہر نکل آیا۔ ڈیرہ حویلی سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ اس نے گاڑی میں بیٹھ کر ایگنیشن میں چابی گُھماٸ اور انجن کے حرکت میں آتے ہی اس نے کار آگے بڑھا دی۔

آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ حویلی پہنچا تو معمول سے زیادہ اسے حویلی میں چہل پہل محسوس ہوٸ۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی۔ سیاہ قمیص شلوار میں ملبوس کندھے پر بُھوری شال ڈالے وہ دور سے چلتا ہوا اونچا شاندار سا مرد لگ رہا تھا۔ لان عبور کرکے وہ حویلی کے داخلی دروازے میں داخل ہوا تو اس نے آنکھوں پر لگے چشمے کو اُتارا اور اسی سنجیدگی سے آگے بڑھتا گیا۔ سیڑھیاں چڑھتے اس کے قدموں کی دھمک پتہ دیتی تھی کہ وہ آگیا ہے۔ ہاں وہ ایسا ہی تھا۔۔ اتنا ہی دلکش۔۔ اتنا ہی دلفریب۔۔!

سردار بابا کے کمرے کے باہر پہنچ کر وہ چند لمحے ٹہرا رہا اور پھر جیسے ہی دستک دینے کے لیۓ اس نے ہاتھ اُٹھایا اسکا ہاتھ ہوا میں معلّق رہ گیا۔۔ کوٸ دروازہ کھول کر باہر نکل رہا تھا۔ اور وہ جو کوٸ بھی تھا سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔ اسکی نظر پہلے دودھیا پیروں پر پڑی پھر اوپر اٹھتی گٸ۔ وہ نازک سراپے میں کوٸ قید وجود تھا۔۔ اور چہرے پر اسکی نگاہ پڑتے ہی گویا اسکا دل بند ہوا۔ شہد رنگ خوبصورت آنکھوں سے اسے دیکھتی امل کی نگاہوں میں بھی بلا کی حیرت تھی۔ چند پل لگے تھے ولی کو سنبھلنے میں۔۔ اس نے گلا کھنکھار کر بے اختیار نظریں پھیریں۔ امل کے سر سے ڈھلکا دوپٹّہ اسکے شانوں پر گرا تھا اور سیاہ بالوں کے ہالے میں مقید اسکا چہرہ ولی کو اچھا خاصہ ڈسٹرب کر گیا تھا۔۔

وہ بھی سنبھل کر اسکے ساتھ سے نکلنے لگی تو اس سے ہلکے۔۔ بہت ہلکے سے ٹکراٸ۔۔ اندر جاتے ولی کے قدم جم سے گۓ تھے۔۔ اور امل۔۔ وہ گھبرا کر وہاں سے بھاگ آٸ تھی۔ اس نے دوبارہ پیچھے مُڑ کر ولی کو دیکھا تک نہ تھا۔۔

وہ سرعت سے کمرے میں داخل ہوا اور امل۔۔ وہ کچن میں جا چُھپی۔۔

“ارے ولی۔۔ آگۓ تم۔۔”

سردار بابا اخبار دیکھ رہے تھے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوۓ سیدھے ہوۓ۔ پھر اخبار لپیٹ کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا۔ انکے چہرے پر تندرستی کی جھلک دیکھ کر ولی کو کچھ سکون ملا تھا ورنہ کچھ دیر پہلے ہونے والی مڈ بھیڑ نے اسکا ذہن ماٶف کردیا تھا۔۔

“ولی بچے۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ۔۔ بختیار اور نثار کی شادی رکھی ہے ہم نے۔ بی جان کہہ رہی تھیں کہ امل کے فرض سے بھی فارغ ہوجاتے ہیں مگر مجھے لگتا ہے امل ابھی چھوٹی ہے اور پڑھ بھی رہی ہے۔ اسی لیۓ اسکی پڑھاٸ مکمل ہونے کے بعد اسکا کچھ سوچیں گے۔ البتہ بختیار اور نثار کی شادی ہے ولی اور وہ بھی اگلے مہینے۔ تو تیاری بہت کرنی ہے۔۔ کام بہت ہیں اور وقت کم۔۔ “

امل کا ذکر۔۔ اور ایسا خوشگوار ذکر انکے منہ سے سن کر ولی کو لگا اسکی ذات سے کوٸ بوجھ ہٹا ہے۔ اس کے دل پر پہاڑ کھا تھا۔ مگر اب ایک دم اسکا دل اس بوجھ سے آزاد ہوا تو اس نے خود کو ہلکا پُھلکا محسوس کیا۔۔

“تو تم جتنے بھی کیسس اور زمینی مسٸلے ہیں انکو جلد از جلد نبٹاٶ اور شادی کی تیاریوں میں اس بوڑھے باپ کی مدد کرو۔۔”

وہ آخر میں ہنسے تو ولی مسکرا دیا ۔۔

“آپ فکر مت کریں۔۔ میں ویسے بھی لگا ہوا ہوں سارے معاملات سمیٹنے میں آپ ٹینشن مت لیں۔۔”

اس نے انکی تسلّی کرواٸ تو وہ کُھلے دل سے مسکراۓ۔۔

“جب کہتے ہو ناں کہ میں سب کررہا ہوں۔۔ یا میں سب کرلونگا۔۔ جانتے ہو کیسا محسوس کرتا ہوں میں۔۔”

اس نے انکے مسکراتے لہجے پر لبوں پر تبسم روک کر انہیں دیکھا۔۔ آج اسکا دل چاہ رہا تھا مسکرانے کا۔۔ آج اسے مسکرانا بُرا نہیں لگ رہا تھا۔۔

“ایسا لگتا ہے کہ میں دُنیا کا خوش قسمت ترین باپ ہوں کہ جسکے نصیب میں ایسا ذمّے دار بیٹا لکھا ہے قدرت نے۔۔تم بہت قیمتی ہو ولی۔۔ میں اپنے رب کا بہت شکرگزار ہوں تمہارے معاملے میں۔۔”

وہ خاموش ہوۓ تو اس نے محبت سے گردن جھکادی۔۔

“اچھا ہاں۔۔ وہ نور آباد والی زمین کا کیا ہوا۔۔؟ کیس کیا تم نے۔۔؟”

انہیں ایک دم یأد آیا تو پوچھ لیا۔۔ ولی مسکراتا ہوا اُٹھا تھا۔۔

“کیس کرنے کی نوبت نہیں آۓ گی سردار بابا۔۔ حسن شاہ کا پیغام آیا ہے میرے پاس۔ وہ یہ زمینی مسٸلہ اپنے انتخابات سے پہلے پہلے ختم کرنا چاہتا ہے۔۔”

“بہت خوب۔۔ اچھا جاٶ اور اپنا خیال رکھنا۔۔”

وہ انکی اجازت پر انہیں سلام کرتا کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔۔ اور جب وہ کچن کے پاس سے گزرنے لگا تو بی جان نے اسے کچن سے ہی آواز دی۔۔ وہ کچن میں چلا آیا تو اسکی نظر بے اختیار اس سراپے کی جانب اُٹھ گٸ جو اسکی جانب پُشت کیۓ کھڑی تھی۔۔ اس نے اپنی اُمڈتی مسکراہٹ بمشکل روکی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

امل نے بی جان کے اسے آواز دے کر اندر بُلانے پر زور سے آنکھیں مینچی تھیں۔ اف۔۔ ایک تو بی جان بھی ناں۔ اب وہ کیا کرے گی۔۔ نہیں وہ اسکا سامنہ نہیں کرسکتی ابھی۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔ اس نے جلدی سے اپنا رُخ پھیرا تھا۔۔ وہ اب کچن میں کھڑا بی جان سے باتیں کر رہا تھا۔ یکا یک بی جان نے اسکو آواز دی تو اس نے زور سے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔ خدایا۔۔ نہیں۔۔ وہ اسے ہرگز بھی نہیں دیکھے گی۔۔

“جی بی جان۔۔؟”

اسکی جانب سے یکسر انجان بنتے اس نے جی کڑا کر بی جان سے سوال کیا تو بی جان جو ولی سے باتیں کررہی تھیں اسے رک کر دیکھا۔

“ارے دیکھ کیا رہی ہو۔۔ سُوجی کا حلوہ دو ولی کو اس کو بھی تو بہت پسند ہے۔۔”

“آپ نے سُوجی کا حلوہ بنایا ہے۔۔؟” اسکے خوشگوار سے استفسار پر اس نے بمشکل خود کو غصّے میں آنے سے روکا تھا۔ دل کیا سُوجی کا حلوہ اس پر اُلٹ دے۔۔

“ہاں تمہارے اور امل کے لیۓ۔۔ اسے بھی تمہاری طرح بہت پسند ہے۔۔” اف اف۔۔ بی جان ناں بس۔۔ اس نے گرم گرم حلوہ پیالی میں نکالا اور چمچ اس میں رکھ کر اسے ولی کی جانب بڑھا دیا۔۔ ولی نے مسکراہٹ روک رکھی تھی اسکا ڈمپل جو مسکراہٹ روکنے کی وجہ سے پڑتا تھا وہ اُبھرا ہوا تھا۔۔ امل نے دانت پیسے۔۔

وہ حلوہ کھا کر بی جان سے سر پر پیار لیتا کچن سے پلٹا تو اس نے سکون کا سانس خارج کیا۔۔ بڑی ہنسی آرہی تھی جناب کو۔۔ میں جان بوجھ کر نہیں ٹکراٸ تھی۔۔ وہ تو غلطی سے ہو گیا تھا۔۔ لیکن پھر جو میں نے کیا۔۔ اف ۔۔ اس نے پھر سے آنکھیں مینچی تھیں۔ اسکے کان سُرخ ہونے لگے تھے۔۔ کچن کی کھڑکی جو لان میں کُھلتی تھی۔ اس نے اس سے جھانک کر باہر دیکھا۔۔ وہ چشمہ آنکھوں پر چڑھاتا دور ہوتا جارہا تھا۔ اور سیاہ قمیص شلوار میں جو وہ جچ رہا تھا وہ الگ۔۔ مطلب کیا ضرورت تھی سیاہ جوڑا پہننے کی بھلا۔۔ اس نے غصّے سے سر جھٹکا مگر پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کھڑکی سے باہر جھانکا وہ اب دور اپنی گاڑی کی جانب بڑھتا دکھاٸ دے رہا تھا۔۔ لیکن اسکی نگاہ کہیں اور ٹک گٸ تھی۔۔ دور لان سے ولی کو محو ہوکر دیکھتی ناجیہ۔۔ اسکے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔۔

یہ کیوں دیکھ رہی ہے ولی کو۔۔ اف اس نے خود کو ایسی سوچ پر گھرکا اور اپنے کمرے کی جانب دوڑ گٸ۔۔ یہ جانے بغیر کے ولی اسکی معصوم حرکت پر مسکراتا اب تک لطف اندوز ہورہا تھا۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *