Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 1)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

دُور اُفق پر تیرتے بادلوں نے نیلگوں آسمان پر سفید سی چادر تان دی تھی۔۔ ہوا کے دوش پر اپنی منزل کی جانب گامزن بادل مختلف اشکال اختیار کرتے پیغام رسانی کررہے تھے کی کوٸ بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔۔ زندگی کے تند و تیز جھکّڑ۔۔ انسان کو تبدیل کر دیتے ہیں ۔۔۔ وہ انسان کو ہمیشہ اُجلا اور ہمیشہ میلا نہیں رہنے دیتے۔۔ وقت کی مدھم رفتار پر قدم دھرتا انسان آخر عُمر میں پہنچ کر کیا بن جاتا ہے کوٸ ادراک کیسے کرسکتا ہے۔۔!

وہ بھی اپنی زندگی کے گرم تھپیڑوں کو یاد کرتا لان کی یخ دُھند میں جاگنگ کررہا تھا،پسینے کی بوندیں اسکے جسم پر اُبھری ہوٸ معلوم ہوتی تھیں۔۔ چہرے کے تاثرات پتھریلے تھے۔۔ پہاڑوں پر جمی یخ برف جیسے۔۔

ہلکی پھلکی ورزش سے فارغ ہو کر وہ خود کو تولیۓ سے پونچتا کمرے کی جانب آیا۔۔

نوراں نے دروازے پر دستک دے کر اسے متوجہ کیا تو وہ گردن خشک کرتا پلٹا۔۔

”صاحب ناشتہ لگادوں“

وہ موءدب سی کھڑی اجازت طلب کر رہی تھی۔۔

”ہوں۔۔ میں شاور لے کر آتا ہوں۔۔“

اورپھر واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔

شاور لے کر فریش ہوتا وہ کچن کی سمت آگیا۔۔ کچن میں ناشتے کی طویل ٹیبل پر۔۔ معمول کی گہماگہمی تھی۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح خاموشی سے آیا۔۔ اور کرسی کھینچ بیٹھا۔۔

وہ عموماً ناشتہ اپنے کمرے میں ہی کیا کرتا تھا۔۔ اسے یوں سب کے درمیان بیٹھنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا تھا ۔۔ طنز اور حقارت سے لبریز نگاہیں۔۔ اسے اور اسکی بھرپور ابھرتی جوانی کو تار تار کردیا کرتی تھیں۔۔

مگر یہ اس سفید حویلی کا حسن تھا۔۔ اور اسکے کچھ اُصول تھے۔۔ جنکی پابندی اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی۔۔ چھٹی کے دن سب اکھٹے ناشتہ کیا کرتے تھے۔۔ اور ہر چھٹی پر اسکے حلق سے نوالہ نگلنا مشکل ہوجاتا تھا۔۔

”ولی ڈیرے پر سب ٹھیک جارہا ہے۔۔؟“ شیخ زمان نے ناشتے کے دوران اس سے پوچھا۔۔ کاروبار کے تمام کام اسی کے ذمّے تھے۔۔

”جی سردار بابا۔۔“ اس نے ادب سے جواب دیا۔۔

”پچھلے دنوں کچھ نقصان ہوگیا تھا۔۔ اشرف نے بتایا مجھے۔۔ مگر تمہارے منہ سے تو اس بات کی بھنک بھی نہیں نکلی۔۔“

تحکم اور رعونت سے بھر پور جملہ اسے کوڑے کی طرح رسید کرنے والا بختیار احمد تھا۔۔

اس نے ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں اُٹھاٸیں اور سردار بابا کو دیکھا۔۔

”یہ ہمیں آگاہ کرچکا ہے بختیار۔۔ ہر دفعہ بغیر تحقیق کے بات مت کیا کرو۔۔“

زمان احمد کی مضبوط آواز نے ڈاٸننگ ہال کو سنّاٹے میں غرق کردیا تھا۔۔

”آغا جان میں آپکی اولاد ہوں۔۔ اپنے کاروبار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا میرا فرض ہے،جب آپ ذاتی کاروبار کی ڈوریں غیروں کے ہاتھ میں دینگے تو یقیناً کسی کو تو چیک رکھنا ہوگا۔۔“

اس نے پھر سے زہر اُگلا تھا۔۔ پھر ولی کو لفظوں کا کوڑا رسید کیا تھا۔۔ اس نے سختی سے لب بھینچے۔۔ جیسے بہت سا ضبط کیا۔۔

”باااااس“

زمان احمد نے ہاتھ اٹھا کر سختی سے اپنے بیٹے کو روک دیا۔۔ سارا ڈاٸننگ ہال دم سادھے بیٹھا تھا۔۔ سب کھانے سے ہاتھ کھینچ چکے تھے۔۔ ماحول میں تناٶ در آیا تھا۔۔

”جب اپنے سکّے کھوٹے ہوں تو غیروں کو اپنانا پڑتا ہے۔۔ اور یہ جو تمہارے ذہن میں خنّاس بھرا ہے ناں کہ ولی غیر ہے۔۔ اس خباثت کو اپنے دماغ سے نکال دو۔۔ وہ اولاد ہے ہماری۔۔ اولاد کی طرح پالا ہے ہم نے اُسے۔۔“

زمان تنے چہرے کے ساتھ گرج رہے تھے۔۔ بختیار استھزاء ہنسا۔۔

”معاف کیجٸیے گا آغا جان۔۔۔ مگر کسی کو اولاد کہنا اسے آپکی اولاد تو نہیں بنادیتا ناں۔۔ اصل اولاد تو وہ ہی ہوتی ہے۔۔ خون کے رشتوں سے متّصل۔۔ اور یہ جانے بغیر کہ اسکا کردار کیسا ہے۔۔ اسکی رگوں میں کونسا غلیظ خون گردش کررہا ہے۔۔ آپ اسے ہمارے لڑکیوں سے بھرے گھر میں آنے جانے کی اجازت دیٸے بیٹھے ہیں۔۔“

بختیار ہرزہ سراٸ سے باز نہیں آیا تھا۔۔ اسکے دماغ کی خباثت اب منہ کے راستے باہر کو نکل کر ساری فضا کو آلودہ کررہی تھی۔۔ زمان احمد کا چہرہ سرخ ہوا۔۔

ولی نے مٹھی زور سے بھینچی تھی۔۔ یہ طنز۔۔ یہ سنسناتا جملہ۔۔ اسکے خون کی گردش کو تیز کر گیا تھا۔۔

”یہ مت بھولو بختیار احمد کہ تم اپنی راتیں ،جہنّم کے کن سیاہ گڑھوں میں گزارتے ہو۔۔ دوسروں کے کردار پر میلی نگاہ ڈالنے سے پہلے اپنے رنگین مزاج کی بھی خبر رکھو۔۔ جس کے من کا آٸینہ میلا ہو اسے بھلا دوسرا اجلا نظر آبھی کیسے سکتا ہے۔۔ لڑکیوں کے گھر میں آنے سے اسے نہیں تمہیں روکنا چاہیۓ۔۔ اپنے باپ کو اب اتنا بھی بے خبر نہ سمجھو بختیار۔۔“

انکی آواز میں پھنکار تھی۔۔ ایسی پھنکار جس سے بختیار بلبلا اٹھا تھا۔۔ گھر کی خواتین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیۓ تھے۔۔ بی جان نے زمان احمد کو مزید کچھ کہنے سے روکا۔۔

”رہنے دو بیگم۔۔ اس نے ہمارا صبر تمام کردیا ہے۔۔ اس نے ہماری زندگی بھر کی ریاضت پر لات ماری ہے ۔۔“

انکی آنکھیں ضبط سے سُرخ پڑ رہی تھیں۔۔ بی جان نے دکھ سے اپنی اولاد کو دیکھا۔۔

بختیار غصّے سے کرسی کھینچ کر اٹھا اور ٹھوکریں مارتا کچن سے نکل گیا۔۔

ولی نے بھی نیپکن سے ہاتھ پونچے اور سپاٹ سا کرسی کھیچتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ امل نے جھجھکتے ہوۓ نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ درد کی جس بھٹّی میں وہ بچپن سے سُلگتا آیا تھا۔۔ وہ اس سے بے خبر نہیں تھی۔۔ اسکے کردار سے بہت باخبر تھی۔۔ کہ وہ گھر کی لڑکیوں کو دیکھتا بھی نہیں تھا۔۔ اسکے کردار پر ایسا حملہ۔۔ ولی کا دکھ محسوس کر کے اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں۔۔ طلوع ہوٸ اُجلی صبح اداسی میں ڈوبنے لگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظر احمد اپنے باپ کے اکلوتے چشم و چراغ تھے،باپ کے گزر جانے کے بعد کاروبار اور معاملات کی باگیں انہوں نے بہت کم سنی میں سنبھال لی تھیں۔ شادی ہوٸ تو خدا نے انکو تین بیٹوں سے نوازا۔۔ حسین احمد۔۔ حسن احمد اور زمان احمد۔۔

نظر احمد اپنے باپ کا پر تُو تھے۔۔ انتہاٸ نیک دل اور شریف انّفس طبیعت کے مالک تھے۔۔

جب انکی طبیعت ناساز رہنے لگی تو انہوں نے جاٸیداد کا بٹوارہ تینوں بیٹوں کے درمیان انتہاٸ انصاف سے کیا کہ کسی کو بھی انکے فیصلوں سے اختلاف نہ ہوا۔۔

تین حویلیاں۔۔ ساتھ ساتھ اونچے ستونوں پر جمی شان سے سر اُٹھاۓ کھڑی تھیں۔۔

زمان احمد بھاٸیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔۔ انکے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔۔ بختیار احمد، نثار احمد اور امل۔۔ حسن احمد کے تین بیٹے تھے۔۔ نذیر احمد،رشید احمد، نفیس احمد اور ناجیہ۔۔ حُسین احمد کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔۔ شازیہ،امینہ اور ہاشم احمد۔۔

تینوں بھاٸیوں میں سب سے زیادہ نظر احمد سے مماثلت رکھتے زمان احمد تھے۔ انکے دونوں بڑے بھاٸیوں نے دولت کی چکاچوند میں خود کی اور باپ کی عزت خاک کرنے میں کوٸ کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی۔۔ انکی اولادیں بھی انہی کے نقشِ قدم پر گامزن تھیں۔۔

زمان احمد۔۔ کبھی دولت کے نشے میں دُھت ہو کر خود کی اور باپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔ وہ باحیا اور نیک تھے۔۔ گاٶں والوں کے ساتھ معاملات۔۔ انصاف اور عدل پر مبنی کرتے۔۔ انکے بیٹے نہ کاروبار میں دلچسپی لیتے تھے اور نہ پڑھاٸ میں۔۔

حالات کے سامنے سینہ تانے اور کاروباری اُلجھنوں کو سُلجھاتے سُلجھاتے وہ تھک سے گۓ تھے۔۔ ایسے میں ولی انکا بہت بڑا سہارا تھا۔۔ وہ انکی اولاد نہیں تھا۔۔ مگر وہ نکی اولاد سے بڑھ کر تھا۔۔ اپنے ناتواں کندھوں کا بوجھ اسکے مضبوط شانوں پر ڈال کر وہ خاصے مطمٸن تھے۔۔ انہیں اسکی نیک نیتی اور ایمانداری پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ تھا۔۔ ولی احمد کی زندگی پر بس ایک داغ تھا۔۔ اور وہ داغ۔۔ زمان احمد چاہ کر بھی نہ مٹا سکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ڈیرے سے تھکا ہارا واپس آیا تھا،اور بنا کسی کی جانب دیکھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔ اسکا کمرہ لان سے متصل تھا۔۔ گھر کے باقی حصّوں سے الگ تھلگ۔۔ یہ کمرہ اسکی اپنی پسند تھا۔۔ سب سے الگ اور جُدا۔۔

اس نے کبھی خود کو اس گھر کا فرد بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔ اس نے کبھی زمان احمد کو آغا جان تک نہیں کہا تھا۔۔ آغا جان سے اپناٸیت جھلکتی تھی اور وہ اسی اپناٸیت کو مفقود رکھنا چاہتا تھا۔۔ اس نے ہمیشہ باقی ملازمین کی طرح انہیں سردار بابا کہا تھا۔۔

اس گھر کے مکین اسکی سوچوں تک کو زہریلا کردیا کرتے تھے۔۔ اس پر طنز کے وہ جملے کسا کرتے تھے کہ جنکی کڑواس اسے ساری ساری رات جگاۓ رکھتی تھی۔۔ انہی باتوں کے باٸث وہ بچپن ہی سے خول میں مقید ہو کر رہ گیا تھا۔۔ اسکی شخصیت۔۔ اسکی سوچ۔۔ کسی پر بھی عیاں نہیں تھی۔۔ اس نے کبھی عیاں ہونے ہی نہیں دی تھی۔۔ حویلی والوں نے اسے شاز ہی مسکراتے دیکھا تھا۔۔ وہ مختصر بولتا تھا۔۔ زیادہ تر یک لفظی جواب پر اکتفا کیا کرتا تھا۔۔

”ولی“ بی جان نے اسے ہمیشہ کی طرح محبّت سے مخاطب کیا تھا۔۔ وہ بے اختیار پلٹا۔۔ چہرے پر تھکن اور گھنی پلکوں پر جمی گِرد اس بات پر شاہد تھی کے وہ لمبے سفر سے آیا ہے۔۔

”کیسا ہے میرا بچّہ؟“

”ٹھیک بی جان“ اس نے ادب سے گردن جھکا دی تھی۔۔

”کہاں رہ گۓ تھے۔۔ کب سے انتظار کی سولی پر لٹکی ہوں“

”منع بھی کرتا ہوں مت کیا کریں انتظار۔“ وہ تھکن سے مسکرایا۔۔

”کیسے نہ کروں۔۔ جگر گوشہ ہو تم۔۔“ انکی آنکھیں نم ہوٸیں۔۔ اولاد کا رویّہ ہر گز بھی ولی کے ساتھ مناسب نہیں تھا۔۔

”ولی میری جان۔۔ میں معافی۔۔“

وہ تڑپ کر آگے آیا۔۔

”یہ کیا کر رہی ہیں آپ بی جان۔۔ مجھے شرمندہ مت کریں۔۔ مجھے عزت دی ہے آپ لوگوں نے۔۔ اگر آپ لوگ مجھے اس حویلی میں جگہ نہ دیتے تو میں معاشرے میں سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا۔۔“

اسکے لہجے میں تھکن عود آٸ تھی۔۔

بی جان نے آنسو صاف کر کے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر بمشکل مسکراٸیں۔۔

”اچھا کھانا کھایا“

”نہیں“

”چلو تم اپنے کمرے میں جاٶ میں کھانا بھجواتی ہوں۔۔“

وہ پلٹنے لگا کہ وہ دروازے سے دوڑتی آٸ۔۔ نازک وجود سنبھالتی۔۔ وہ سانس درست کرنے میں ہلکان ہورہی تھی۔۔

”بی جان۔۔ وہ۔۔“ اس نے سانس لیا۔۔ ولی نے نظریں پھیرلی تھیں۔۔

”اری کیا ہوگیا۔۔ کیوں سانس چڑھا لیا ہے“

”بی جان بابا کی طبیت۔۔ “ بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے شفّاف کانچ میں پانی چمکنے لگا۔۔

”کیا ہوا آغا جان کو۔۔“ اس نے بے اختیار اس سے براہِ راست پوچھا تھا۔۔ وہ اسکو براہِ راست دیکھنے سے بھی گُریز کیا کرتا تھا۔۔

”انکی طبیعت“

اور اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ حویلی کے اندر دوڑا تھا۔۔ اندھا دھند آغا جان کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔ وہ بیڈ پر لیٹے اپنا سینہ مسل رہے تھے۔۔ وہ بے اختیار ان پر جھکا۔۔

”آغا جان۔۔ آغا جان۔۔“ بی جان بھی پیچھے سے پکارتی آٸیں۔۔

اس نے فوراً کال کر کے ڈاکٹر کو گھر بلایا۔۔ ڈاکٹر کے آتے ہی سارا کمرہ حویلی کے مکینوں سے بھر گیا تھا۔۔ امل ایک طرف کھڑی ہچکیوں سے رورہی تھی۔۔ بی جان صوفے پر بے جان سی بیٹھی تھیں۔۔ دونوں بیٹے گھر سے باہر رنگ رلیاں منانے نکلے ہوۓ تھے۔۔ بس ایک وہ ہی تھا جو مضبوط چٹّان کی طرح گھر اور باہر کے معاملات سنبھال رہا تھا۔۔

زمان احمد کو ٹینشن کے باٸث ماٸینر سا اٹیک ہوا تھا۔۔ پریشانی کی کوٸ بات نہیں تھی۔۔ وہ دواٶں کے زیرِاثر دنیا کے جھمیلوں سے بے خبر گہری نیند سو رہے تھے۔۔

”ایسی اولاد سے تو بہتر تھا میں بے اولاد رہتی۔۔“ بی جان رورہی تھیں۔۔ اور دونوں بیٹوں کو کوستی جارہی تھیں۔۔ وہ انکے سامنے گھٹنوں پر کہنیاں جماۓ ہتھیلیوں کو باہم ملاۓ خاموش بیٹھا تھا۔۔

”آپ سردار بابا کی صحت کے لیۓ دعا کریں بی جان“

اس نے انہیں تسلّی دی۔۔

”خدا تمہیں لمبی عُمر دے ولی۔۔ تم تو وہ روشنی ہو۔۔ جس سے میرا وجود۔۔ میری زندگی روشن ہے۔۔ “

وہ روتے ہوۓ اسے دعاٸیں دے رہی تھیں۔۔ پھر انہیں اسکی سُرخ آنکھیں دیکھ کر تھکاوٹ کا احساس ہوا۔۔

”ہاۓ بچّے جا۔۔ جا کر نہا لے میں کھانا لگواتی ہوں۔۔“

”میں ٹھیک ہوں بی جان۔۔“ اسکی بھوک مر گٸ تھی۔۔

”ارے تھک گیا ہے۔۔ ذرا دیکھ خود کو۔۔ ایسی خوبصورت جوانی کو کیوں زہریلی سوچوں کی نظر کررہا ہے۔۔ اُٹھ چل۔۔ “

وہ انکی ڈانٹ پر دھیمے سے مسکراتا اٹھا۔۔ ڈانٹ میں بھی وہ اسکی تعریف کرنا نہیں بھولتی تھیں۔۔

”امل۔۔۔ امل۔۔“ وہ امل کو آوازیں دینے لگیں تو ولی چونک گیا۔۔

”ارے ذرا ولی کو کھانا گرم کردو۔۔ نوراں اور باقی ملازم سارا دن کے تھکے ہیں۔۔ جا بچے“

اور وہ انکی بات نہ ٹال سکا۔۔ تھکے قدموں سے کمرے کی جانب آیا۔۔ شاور لیا۔۔ اور آرام دہ سے کرتے شلوار میں کچن کی جانب چلا آیا۔۔ اسے ہر گز یہ گوارا نہیں تھا کہ امل اسکے کمرے میں آۓ۔۔

وہ پیازی رنگ کے نفیس سے سُوٹ میں ملبوس دوپٹہ سر پر سلیقے سے لیۓ۔۔ خاموشی سے کھانا ٹیبل پر لگا رہی تھی۔۔ رونے کے باٸث اسکی آنکھیں سُرخ متورم سی ہورہی تھیں۔۔ اور چہرہ گرم نمکین بارش برسا کر دُھلا دُھلایا سا لگ رہا تھا۔۔

وہ سنجیدگی سے کرسی کھینچ بیٹھا۔۔ امل نے جھجھکتے ہوۓ اسے دیکھا تھا۔۔

”بابا ٹھیک تو ہو جاٸنگے ناں۔۔“

”ضرور“

”آپ۔۔۔ آپ۔۔“ سکی جھجھک پر اس نے پہلی دفعہ نسواری آنکھیں اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔

”کہٸیے بی بی۔۔ “

”آپ آغا جان کو سمجھاٸیے ناں۔۔ کہ وہ پریشان مت ہوا کریں۔۔ اس طرح وہ اپنی طبیعت مزید خراب کر لیں گے۔۔ پلیز آپ بات کیجیۓ گا آغا جان سے۔۔“

اس نے بمشکل اپنی بات مکمل کی تھی۔۔ ولی کے سامنے بات کرنا اسکے لیۓ ہمیشہ سے کٹھن تھا۔۔ وہ ہمیشہ اپنے گِرد اندیکھا سا حصار کھینچے رکھتا تھا جسے کسی کو بھی پاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔۔ مگر امل۔۔ وہ اتنی نازک تھی کہ وہ اسکے ساتھ سختی برت ہی نہیں سکتا تھا۔۔

”آپ بے فکر ہو جاٸیں۔۔ میں بات کرونگا آغا جان سے۔۔“

اس نے مختصر جواب دے کر اسکی پریشانی اپنے سر لےلی تھی۔۔

”اب جاٸیے بی بی۔۔ آپکا یہاں کھڑا ہونا مناسب نہیں۔“

اس نے نرمی سے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گٸ۔۔۔ کیا کوٸ اس سے بھی بڑا عزت کا محافظ ہو سکتا تھا۔۔ وہ ابھی نہیں جانا چاہتی تھی۔۔ وہ اسے اپنی کانچ سی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اسے۔۔ ابھی اور دیکھنا چاہتی تھی۔۔ مگر۔۔ اس نے اپنے قدم کچن سے باہر کی سمت بڑھا دیۓ۔۔ کیونکہ اسے اور دیکھنے کا مطلب تھا۔۔ ساری رات آنکھوں میں کاٹنا۔۔ مگر اسے رات آنکھوں میں کاٹنا عزیز تھا۔۔ کیونکہ اسے وہ عزیز تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جاگ تو وہ بھی رہا تھا۔۔

اسکی بھیگی بھیگی کانچ سی آنکھیں۔۔ اسکے گرد حصار قاٸم کیۓ ہوۓ تھیں۔۔ ان آنکھوں نے اسے بہت دفعہ جگایا تھا۔۔ اب تو اسے گنتی بھی بھول گٸ تھی۔۔ اسکی جھجھک اور لانبی پلکوں کی لرزش اس سے چھپی ہوٸ نہیں تھی۔۔ وہ اسکو ایک نظر کے بعد دیکھتا بھی نہیں تھا۔۔ اسکا شفّاف وجود بے حد نازک تھا۔۔ وہ اسکی نظریں نہیں سہار پاتی تھی۔۔ اور اسکا کوٸ امتحان وہ لینا نہیں چاہتا تھا۔۔

وہ نظروں کی زبان سے پرہیز کرتا تھا مگر وہ اس پرہیز کو نہیں سمجھتی تھی۔۔ اسی لیۓ جب بھی اسکی آنکھیں۔۔ ولی کی آنکھوں سے چار ہوتی تھیں۔۔ کچھ نہ کچھ بول رہی ہوتی تھیں۔۔

وہ بستر پر چِت لیٹا۔۔ سُرخ نظروں سے چھت کو تک رہا تھا۔۔ یہ جانے بغیر کہ کوٸ اسے بھی اسی شدّت سے یاد کرتا کروٹیں بدل رہا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *