Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 21) 2nd Last Episode (Part - 1)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

اس نے زمان کے ساتھ کھانا کھایا۔ سارے دورانیے میں زمان کی باتوں پر مسکراتی وہ اب کے بہت بہتر محسوس کررہی تھی۔ گردن کا زخم البتہ ذرا سی جنبش پر تکلیف دیا کرتا تھا باقی کے زخموں اور چھوٹی چوٹوں میں تکلیف کا اثر بہت کم تھا یا پھر شاید اسے محسوس کم ہورہا تھا، وہ اندازہ نہیں کرپاٸ۔ اس نے کھانا کھایا اور پھر ان کو سلام کرتی کھانے کے برتن لیۓ کمرے سے باہر نکل آٸ۔ لاٶنج سے گزرتے اس کی نگاہ بے ساختہ اس کے کمرے کے بند دروازے پر پھسلی تھی۔

جانے کہاں تھا وہ۔۔؟

گہرا سانس بھرتی وہ آگے بڑھی تو بی جان کو کچن میں کام کرتا دیکھ کر انہی کے پاس چلی آٸ۔ بختیار کی ساری باتیں یقیناً وہ بھی سن چکی تھیں اور اب اس سے رخ پھیرے کھڑی تھیں کہ اس کا سامنہ کرنا ان کے لیۓ مشکل ہورہا تھا۔۔

“بی جان۔۔”

اس نے پاس جا کر انہیں پکارا پھر سلیب پر برتن رکھتی ان تک آٸ۔ انہوں نے خواہ مخواہ ہی سنہری ہوتی پیاز میں چمچ چلایا تھا۔

“بی جان۔۔؟”

اس نے اب کے انہیں کندھے سے تھام کر اپنی جانب نرمی سے گھمایا تو دھک سے رہ گٸ۔ ان کی خوبصورت آنکھوں میں بےتحاشہ آنسو جمع تھے اور پلکوں پر تو اتنا پانی لدا تھا کہ حد نہیں۔۔

“بی جان۔۔! کیا ہوا ہے۔۔۔؟”

اس نے بوکھلا کر ان کا چہر دوبارہ اپنی جانب پھیرا تھا۔

“بختیار نے جو کچھ بھی کہا بچے، م۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس سب کے بعد تمہارا سامنہ کیسے کروں۔ وہ کیسے اتنی گھٹیا بات کرسکتا ہے۔۔!! اسے میں نے یہ تو نہیں سکھایا تھا۔ میں نے تو کبھی اس میں اور ولی میں فرق نہیں کیا۔ پھر کہاں سے بھر گیا ہے اس کے اندر اتنا زہر۔۔! اسے اور ولی ۔۔ دونوں کو ہر ہر نوالہ کلمہ پڑھ کر کھلایا ہے۔ دونوں کو قرآن سناتے سناتے بڑا کیا ہے میں نے تو امل۔ پھر۔۔ پھر کیوں ہے ایسا کہ ایک ریشم ہے اور دوسرا ٹاٹ۔۔ ایک عزت کا محافظ ہے تو دوسرا سر سے چادر کھینچنے کی باتیں کرتا ہے۔ ایک زخم سمیٹتا اور دوسرا زخم دیتا ہے۔۔ میں نے تو کبھی فرق کی کسی لیکر کو ان دونوں کے درمیان نہیں آنے دیا پھر یہ سب۔۔ یہ سب اس نے کہاں سے سیکھ لیا۔۔۔!! مجھے لگتا ہے میرا دل پھٹ جاۓ گا امل اسے ایسے دیکھ کر۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ مجھے اسے کیسے سمجھانا چاہیۓ۔۔”

ایک ماں اپنی زندگی بھر کی ریاضت کو ضاٸع ہوتے دیکھ کر بلبلا اٹھی تھی۔۔ ہاں اب ان کی برداشت سے بھی سب کچھ باہر ہونے لگا تھا۔ اس نے دکھ سے انہیں دیکھا اور پھر آہستہ سے انہیں اپنے گلے لگا لیا۔

یہ ہمت اسے ہی کرنی تھی۔ اچھی بیٹی اسے ہی بننا تھا۔ اس کے والدین۔۔ ہاں اس کے والدین بوڑھے ہونے لگے تھے اور انہیں اب سنبھالنا اس کی ذمہ داری تھی۔ ان کے ہر ہر آنسو کو سمیٹنا اب اس کے کندھوں پر آگرا تھا۔ وہ وقت آگیا تھا کہ جب ان کی زندگی بھر کی محنت کا صلہ انہیں مل ہی جانا چاہیۓ تھا۔ اور اب وہ وقت بھی آگیا تھا کہ جب اسے اپنے آنسوٶں کو بھی خود ہی صاف کرنا تھا۔۔! گر کر خود اٹھنا تھا۔ گرے ہوٶں کو اٹھانا تھا۔

اس نے انہیں خود سے الگ کیا پھر مسکرا کر ان کی جانب دیکھا۔۔

“ہر پودا، ہر درخت اور ہر غذا ایک سی نہیں ہوتی بی جان۔ ایک ہی پانی، دھوپ، ہوا اور کڑی نگرانی کے باوجود بھی کچھ کو خار بننا ہوتا ہے اور کچھ کو گلاب۔۔! یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی بی جان۔ یہ تو اللہ کے کام ہوتے ہیں کہ کسے ببول بنا دے اور کسے ریشم عطا کرے۔ آپ نے زندگی بھر دھوپ میں اپنی پشت جلا کر انہیں سنوارا ہے۔ لیکن جن کا مقدر ہی کانٹے ہوں وہ پھول نہیں بن سکتے۔۔ کبھی نہیں بن سکتے۔۔”

بی جان اپنی آنکھیں دوپٹے سے صاف کرتیں اسے سن رہی تھیں۔۔

“ولی کو گھنا درخت بن کر آپ پر سایہ فگن ہونا ہی تھا اور بھاجی کو۔۔ بھاجی کو اپنی شاخیں تمازت میں جلا کر ایک اجاڑ درخت کی صورت ہی اختیار کرنی تھی۔ اس میں آپ قصوروار نہیں ہیں بی جان۔ خود کو ان باتوں کے لیۓ الزام مت دیں جن پر آپ قادر نہ ہوں۔۔”

مسکرا کر اس نے ان کی دونوں بھیگتی آنکھوں کو نرمی سے اپنے انگوٹھوں سے صاف کیا اور پھر انہیں زور سے بھینچ کر گلے لگایا۔

“اب بس بھی کریں رونا دھونا۔۔ کیا پکا رہی تھیں آپ میرے لیۓ۔۔۔؟ سوپ تھا شاید۔ جلدی کریں ناں پھر۔۔ بھوک لگی ہے مجھے۔۔”

وہ ہنس کر ہانڈی کی جانب پلٹی تھیں۔۔

“ابھی تو کھانا کھایا ہے تم نے۔۔ پھر سے بھوک لگ گٸ۔۔؟”

“سمجھا کریں ناں بی جان۔ سوپ کی بھوک لگی ہے مجھے۔ اب جلدی سے بناٸیں پلیز، میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔ تھوڑا ریسٹ کرونگی۔ اور اب آپ نے رونا نہیں ہے ٹھیک۔۔؟ میں چلتی ہوں۔”

ایک دفعہ پھر انہیں خود سے لگا کر وہ پلٹی تو بی جان نے اپنی لاڈلی کو آسودہ دیکھ کر سکون کا سانس خارج کیا تھا۔ کچن سے باہر نکلتے ہی اس کی مسکراہٹ پھیکی پڑی اور شہد رنگ آنکھیں آنسوٶں کے پانی سے جگمگانے لگیں۔ اسے سب کو بہر حال یہ یقین دلانا ہی تھا کہ وہ ٹھیک تھی۔ بالکل ٹھیک تھی۔۔ آہستگی سے زینے چڑھتے اس کا دل بھاری ہونے لگا تھا اور بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اب اس کی جان ختم ہونے لگی تھی۔ کمرے میں آکر اس کی نگاہ بیڈ پر پڑی اس کی، سیاہ شال کی جانب اٹھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی سیاہ جیکٹ رکھی تھی جو اس نے اس رات امل کے کندھوں پر ڈالی تھی۔ اس کے حلق میں آنسوٶں کا گولہ سا بننے لگا۔ آنکھوں میں ڈھیروں پانی لیۓ وہ نزدیک چلی آٸ۔ شال کو ہاتھ میں لے کر خود سے قریب کیا۔

ایک پل کو آنکھیں بند کر کے اس نے اس کے ملبوس کی مہک خود میں اتاری تو سانسیں تک مہکنے لگیں۔۔

اسے ابھی بہت سارا رونا تھا۔ بے تحاشہ رونا تھا۔۔ بے حد بے حساب رونا تھا۔ گہری ہوتی کسی شام میں، بہتی جھیل کے پاس بیٹھ کر وہ بہت سارا رونا چاہتی تھی۔۔

آگے بڑھ کر اس نے اس کی جیکٹ اٹھاٸ اور اسے بھی خود سے لگا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔ اسے آج، اسی لمحے احساس ہورہا تھا کہ وہ ولی سے پہلے سے بھی زیادہ۔۔ بہت زیادہ محبت کرنے لگی تھی۔ جب اس نے اس کے گرد چادر لپیٹی تھی۔۔ جب اس نے اس کے اتنے قریب آ کر بھی نظریں اٹھانے کی گستاخی نہیں کی تھی۔۔ جب اس کی تکلیف پر اس نے آنکھیں میچی تھیں۔۔ اور جب۔۔ جب اس کے لیۓ وہ اپنے زخموں کی پرواہ کیۓ بغیر دیوانوں کی طرح بھاگتا آیا تھا۔۔ ہاں۔۔ اسے اس سارے عرصے میں وہ پہلے سے بھی زیادہ عزیز ہوگیا تھا ۔۔ اسے وہ پہلے سے بھی زیادہ اپنا لگنے لگا تھا۔۔

لیکن ان ساری ساعتوں میں اس سے کی جانے والی محبت پہلے سے بھی زیادہ زخم دینے لگی تھی۔۔ زخموں کو ادھیڑنے لگی تھی۔۔ !

کھڑکی سے لگ کر گرتی دھوپ اداسی سے گردن جھکا کر بیٹھی ایک روتی ہوٸ لڑکی کو دیکھ رہی تھی کہ جس کی محبت نے اسے ہمیشہ رلایا ہی تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن جاسم ہاسپٹل کے لیۓ تیار ہورہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کی ولی کو نصیحتیں بھی جاری تھیں۔

“ویسے تو اب تم پوری طرح سے صحت یاب ہو لیکن پھر بھی زخم تازہ ہے۔ احتیاط کرنا بہتر ہے تمہارے لیۓ۔ “

اس نے بیزاریت سے یہاں وہاں دیکھا اور پھر جاسم کو آواز دی۔

“یہ محسن میرے کپڑے نہیں لے کر آیا ہاسپٹل سے۔۔؟”

“لایا ہے۔۔ اندر کمرے میں رکھ دیۓ تھے اس نے سارے شاپنگ بیگز۔۔”

سر ہلا کر وہ کمرے کی جانب بڑھا اور کچھ ہی دیر بعد فریش ہو کر گیلے بالوں کو تولیۓ سے رگڑتا باہر بھی چلا آیا۔ اس کا مخصوص قمیض شلوار والا لباس گاٶں میں ہی تھا اور جو شاپنگ اس کے لیۓ اصغر نے کی تھی وہ ساری جینز، شرٹ اور جیکٹس پر مشتمل تھی۔ اسے فی الحال اسی میں سے کچھ پہننا تھا۔ اسی لیۓ اس نے بلیو جینز کے ساتھ، سفید ٹی شرٹ پر ہلکے ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے بھوری جیکٹ پہن لی تھی۔ جاسم جو بس اپنی چابیاں اٹھاتا گھر سے نکلنے ہی لگا تھا اسے دیکھ کر لمحے بھر کے لیۓ ٹھہر گیا۔

وہ اب برش سے بالوں کو پیچھے جما رہا تھا۔ دیو مالاٸ کہانیوں کا بے حد خوبصورت مجسمہ۔۔!

“خیال رکھنا اپنا ولی۔”

اس نے اپناٸیت سے بس اتنا ہی کہا تو ولی نے لاپرواہی سے سر ہلایا۔ جاسم اسکی لاپرواہی پر سر ہلاتا باہر نکلا تو اس نے بھی اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھاٸیں اور باہر کی جانب بڑھا۔ گاٶں کے جانب واپسی کے سفر پر اس کا چہرہ بے حد سنجیدہ تھا۔ خوفناک حد تک سنجیدہ۔۔ گاڑی خلافِ توقع حویلی کی جانب موڑنے کے بجاۓ اس نے تھانے کو جاتے راستے پر موڑی تھی۔ بمشکل آدھے گھنٹے کی ڈراٸیو کے بعد وہ تھانے کے سامنے گاڑی روک رہا تھا۔ پھر چابی ایگنیشن سے نکالتا باہر نکل آیا۔ اندر کی جانب جاتی راہداری کو پار کرتے بہت سے اہکاروں نے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے محض سر کے خم سے انہیں جواب دیا اور اندر ہی اندر بڑھتا گیا ۔۔ ٹارچر سیل کی جانب بڑھتے اس کے قدموں کی دھمک سے آنے والی ساعتیں سکڑنے لگی تھیں۔ ایک پل کو اس نے باہر کھڑے اہلکار کی جانب دیکھا اور پھر اس کے تسلی بخش سے اشارے پر وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوگیا۔۔

اندر کا ماحول سالوں بعد بھی ویسا ہی تھا۔ خاموش،بے رحم اور ٹھنڈا۔۔ درمیانی ٹیبل کے اِس طرف کرسی پر جوگی گردن جھکاۓ بیٹھا تھا، ایسے کے ولی کی جانب اسکی پشت تھی۔۔ وہ طیش سے دانت جماتا آگے بڑھا اور اس کی کرسی کو ایک زور دار لات ماری۔ جوگی کرسی سمیت دور جاگرا تھا۔ اس نے اس حملے پر بوکھلا کر یہاں وہاں دیکھا بھی لیکن اسے ولی نظر نہیں آیا۔ وہ اس کے عین پیچھے کھڑا تھا۔ پھر ایک جھٹکے سے آگے بڑھا۔۔ ٹیبل کو لات سے پرے کیا اور جیب سے تیز دھار چھوٹا سا چاقو نکال کر اس نے جوگی کا ہاتھ بے رحمی سے پکڑا اور تین چار بار شڑپ شڑپ کی آواز کے ساتھ چاقو پھیرا تو ٹارچر سیل انسانی چیخوں سے گونج اٹھا۔۔ اس کے ہاتھ سے خون ابل ابل کر کچی مٹی میں جذب ہونے لگا تھا۔ اور وہ درد سے بلبلاتا زمین پر ادھ مرا سا پڑا تھا۔

اس نے اسے بالوں سے پکڑ کر سیدھا کر کے دیوار سے لگایا۔ پھر اس کے سامنے کرسی رکھتا بیٹھا۔ جوگی کی خوفزدہ نظروں نے پل بھر کو اس کے بےرحم سے یخ تاثرات والے چہرے کو دیکھا تھا۔ اپنے کانپتے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے دباتا وہ بالکل دیوار سے چپک کر بیٹھ گیا تھا۔

“درد ہورہا ہے۔۔؟”

ولی کی آواز اونچی نہیں تھی۔۔ لیکن اس کی سرسراتی مدھم سی آواز نے جوگی کی گردن کے بال تک کھڑے کر دیۓ تھے۔

“بہت شوق ہے تمہیں لوگوں کے خون کی بُو سونگھنے کا۔۔؟”

جوگی کا وجود تھر تھر کانپنے لگا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اسے گلے سے دبوچ کر دیوار میں مزید جمایا۔ جوگی کی آنکھیں اتنی شدت پر ابلنے لگیں۔ مگر ولی کا غصہ کم نہیں ہورہا تھا۔ اس کا سپاٹ سا ٹھنڈا چہرہ رگوں میں گردش کرتے لہو تک کو جما رہا تھا۔

“اس رات۔۔ اگر جو وہ مجھے نہیں روکتی تو خدا کی قسم میں تمہیں جان سے ماردیتا۔۔ لیکن کیا ہوا اگر جو میں تمہیں اس رات نہیں مارسکا تو۔۔؟”

جوگی کی آنکھیں پھٹ کر باہر گرنے لگی تھیں۔۔ اس نے پوری قوت سے اس کا حلق دبایا تو جوگی کا سانس رکنے لگا۔ لگتا تھا اگلے ہی لمحے روح پرواز کر جاۓ گی۔۔ لیکن ولی۔۔ اس کی سماعت میں کوٸ آواز سی گونج رہی تھی۔ اس نے ایک دو بار سر بھی جھٹکا لیکن وہ اس آواز کو نہیں جھٹک سکا۔۔ وہ اسے جھٹک دینے پر بھلا قادر ہی کب تھا۔۔

“آپ قاتل نہیں ہیں ولی۔۔!!”

“آپ ان سب جیسے نہیں ہیں۔۔”

نہیں۔۔ اس نے دوبارہ سر جھٹکا تھا۔۔ پسینے کی بوندیں اس کی کنپٹی سے پھسل کر گرنے لگیں۔

“آپ جانور نہیں ہیں ولی۔”

“آپ بے قصور ہیں ولی۔۔”

اور یہ حد تھی۔۔ اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو وہ بری طرح کھانستا ہوا دوسری جانب کو گرا۔ اسے اپنی بے بسی پر حد درجہ غصہ آیا تھا۔ لیکن وہ تھی کہ اسے انسان سے جانور بننے ہی نہیں دیتی تھی۔ وہ بھی ان سب جیسا بن کر انہیں اسی طرح جہنم رسید کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اسے خدا بننے سے روک لیا کرتی تھی۔ ہر دفعہ روک لیا کرتی تھی۔

کرسی سے اٹھ کر وہ اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا۔ جوگی نے بمشکل ذرا کی ذرا نگاہ اس پر گھماٸ تھی۔ اس نے جمے دانتوں کو مزید پیس کر اسے گریبان سے اٹھایا۔ پھر دیوار سے لگا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔

“یہ آخری وار اس لیۓ ہوگا کیونکہ اس رات تم نے اسے اذیت دی تھی۔ تم نے اسے ہاتھ لگایا تھا۔۔ تم نے۔۔ اس کے ساتھ۔۔ بدتمیزی کی تھی۔۔ اور یہ کرنے سے پہلے تمہیں سوچنا چاہیۓ تھا جوگی۔۔ ہزار بار سوچنا چاہیۓ تھا۔”

اگلے ہی لمحے اس نے ایک زوردار جما مکا اس کے جبڑے پر مارا تو جوگی کے سر پر پل بھر کو سارا ٹارچر سیل گھوم کر رہ گیا۔ وہ اب کے بے دم ہو کر زمین پر گر پڑا تھا۔ اس نے جیکٹ کی آستین سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا اور خاموشی سے سپاٹ چہرہ لیۓ باہر نکل آیا۔ وہ آج جوگی کو مارنے آیا تھا۔ قتل کرنے آیا تھا وہ اسے۔۔ لیکن وہ اسے قتل نہیں کرپایا تھا۔

تنگ و تاریک راہداریوں میں آگے ہی آگے بڑھتے اب کے اس کا بےتاثر چہرہ واضح نہ تھا۔ اس پر جمی برف جیسے صدیوں کی دشمنی کا نتیجہ تھی۔ مگر اسے اس طرح مار کر، ولی احمد کے اندر جلی آگ کو جیسے کسی نے تسکین پہنچاٸ تھی۔ ایسی تسکین جو سکون سے خالی ہوا کرتی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

بختیار نے شازیہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور اندر کی جانب بڑھا۔ وہ اس سے اپنا آپ چھڑا رہی تھی، بری طرح چلا رہی تھی مگر بختیار پر تو جیسے کوٸ جنونی سی کیفیت سوار تھی۔ اس نے اسے لاٶنج میں لا کر دھکا دیا تو وہ دور جا گری۔ بی جان اپنے کمرے سے گھبرا کر بھاگتی آٸ تھیں اور زمان جو کچھ ہی دیر پہلے سونے لیٹے تھے اس دوپہری میں، اٹھ کر آناً فانأ چشمہ لگاتے کمرے سے باہر نکلے۔۔ امل بھی زینوں سے تیزی کے ساتھ اترتی نیچے آرہی تھی۔۔

“آپ کیوں میرے ساتھ ایسا کررہے ہیں ہاں۔۔؟ وہ سب جو میرے بھاٸ نے کیا اس میں میرا تو کوٸ قصور نہیں پھر مجھے سزا کس بات کی مل رہی ہے۔۔”

شازیہ اس پر چیخی تو بختیار بگڑتے چہرے کے ساتھ اسے مارنے کے لیۓ آگے بڑھا۔ امل بے ساختہ ان کے درمیان آٸ تھی۔

“یہ آپ کیا کررہے ہیں بھاجی۔۔؟ انسانیت کی آخری حدوں سے بھی گرنا چاہتے ہیں کیا آپ۔۔! جو اس کے بھاٸ نے کیا سو کیا۔ اس کی سزا بھابھی کو نہیں دے سکتے آپ۔ انہیں سزا دینے کا کوٸ جواز نہیں ہے آپ کے پاس۔۔”

اس نے بختیار کے سینے پر پوری قوت سے زور ڈال کر اسے پیچھے دھکیلا تھا۔ زمان نے بھی ایک گرجدار آواز میں اسے تنبیہ کی۔۔

“بختیار۔۔ انسان کا بچہ بن۔ اپنی نظروں میں اس قدر نہ گر کہ پھر اٹھنا عذاب ہوجاۓ۔۔”

امل نے جھک کر روتی ہوٸ شازیہ کو ہاتھ دے کر اٹھایا۔ لیکن بختیار یکدم آگے بڑھا۔

“میں کہتا ہوں کہ تُو ابھی کہ ابھی درمیان سے ہٹ جا امل۔ مجھے اس سے حساب لینے دے۔۔”

اس نے امل کو ہاتھ سے کھینچ کر ایک طرف کیا لیکن وہ پھر سے ان کے درمیان آگٸ تھی۔ بی جان نے بھی شازیہ کو سہارا دے کر پکڑ رکھا تھا۔ اس کی حالت بہت خراب ہورہی تھی۔۔ بکھرے بال، آدھا نیچے کو جھولتا دوپٹہ اور ہچکیوں سے روتی ہوٸ وہ غیر ہوتی حالت کے ساتھ سہم کر بختیار کے بگڑتے تیور دیکھ رہی تھی۔

“بھاجی یہ آپ کیا کررہے ہیں۔۔! جو اس کے بھاٸ نے کیا آپ بھی وہی کررہے ہیں۔ خدا کے لیۓ ہوش میں آٸیں۔۔”

بختیار نے یکدم طیش میں آ کر امل پر ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اگلے ہی پل کسی نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بختیار نے چونک کر پیچھے دیکھا۔

“جب بات کرنے نہیں آتی ہے۔ تو بات کیا بھی مت کرو۔ گھر کہ عورتوں پر ہاتھ اٹھا کر کونسی مردانگی ہے جو ثابت کرنا چاہ رہے ہو تم۔۔ اور تمہیں اتنا حق کس نے دیا ہے ہاتھ اٹھانے کا۔۔”

وہ وہی تھا کہ جس کی آواز سینکڑوں مردوں میں ممتاز ہوا کرتی تھی۔ امل نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ ولی نے آرام سے بختیار کے سرخ بھبھوکا چہرے کو دیکھا اور اسے پیچھے کو دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا تھا۔

پھر چند قدم چل کر وہ جھکا اور زمین پر گرا شازیہ کا دوپٹہ اٹھایا ۔۔ اسے امل کے ہاتھ میں دیا۔

“کمرے میں لے کر جاٸیں انہیں بی بی۔۔”

امل نے اثبات میں سر ہلایا اور ہولے ہولے کانپتی ہوٸ شازیہ کو لیۓ کمرے کی جانب بڑھ گٸ۔ وہ بختیار کی طرف پلٹا۔۔

“کیا کرنا چاہ رہے ہو تم۔۔؟ جس نے ایسی گھٹیا حرکت کی ہے حساب جا کر اس سے لو نہ کہ کسی ایسے انسان پر اپنا غصہ اتارو جو اس کا مستحق نہ ہو۔”

“مجھے تم سے ڈکٹیشن لینے کی کوٸ ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ وہ میری بیوی ہے میں اسے کسی کی بھی سزا دوں اس سے تمہیں کوٸ مسٸلہ نہیں ہونا چاہیۓ۔”

اسکی سرخ انگارہ آنکھیں دیکھ کر ولی بے طرح چونکا تھا۔ یہ آنکھیں۔۔ یہ آنکھیں کسی نشے کے زیرِ اثر لگتی تھیں۔۔

“کہاں تھے تم کل ساری رات۔۔؟”

اس کے پوچھنے پر زمان جو بختیار کی جانب بڑھ ہی رہے تھے چونک کر رک گۓ۔ بی جان بھی ٹھہر گٸ تھیں۔ بختیار کے لڑکھڑاتے قدم بے ساختہ پیچھے ہٹے تھے۔۔

“دیکھ لونگا میں تمہیں۔۔ تمہیں بھی اور اس ہاشم کو بھی۔ دیکھ لونگا میں سب کو۔”

پسینے سے شرابور ہوتا وہ باہر کی جانب بڑھا۔ زمان جو اس کے پیچھے جانے لگے تھے ولی نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے اسے فکر مندی سے دیکھا تھا۔۔

“یہ۔۔ یہ کہاں تھا پچھلی ساری رات ولی۔۔؟”

ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ ولی نے انہیں کندھوں سے تھام کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔۔

“کہیں بھی نہیں سردار بابا۔ شاید مجھے غلط فہمی ہوٸ ہو۔۔”

وہ انہیں مزید کچھ بھی بتا کر تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے تھکن زدہ سی سانس خارج کی۔۔

“میں بوڑھا ہوگیا ہوں ولی لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنے بال دھوپ میں سفید کیۓ ہیں۔ اس کے قدموں کی لرزش بتا رہی تھی کہ وہ کل ساری رات کہاں رہا ہے۔۔”

اس نے گہرا سانس لے کر ان کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاۓ اور پھر بی جان کی جانب پلٹا۔ مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔ وہ اس کے ایسے مسکرانے پر نہال ہی تو ہوگٸ تھیں۔۔

“کیسی ہیں آپ بی جان۔۔؟ میں نے ان سارے دنوں میں آپ کے ہاتھ کے کھانے کو بہت یاد کیا ہاسپٹل میں۔ وہاں تو مجھے اصغر کے ہاتھ کا بنا عجیب سا کھانا کھانا پڑتا تھا۔۔”

بی جان اس کی بات پر نم آنکھوں سے ہنس دی تھیں۔ پیچھے کھڑے زمان بھی آنکھوں کی نمی صاف کرتے بے ساختہ مسکراۓ تھے۔ اس سخت سے لڑکے کو نرم باتیں کرنا بھی آتی تھیں۔۔

“ابھی لاتی ہوں۔ تُو بیٹھ۔۔ آرام کر۔۔ زخم کیسا ہے اب ہاتھ کا۔۔؟”

“بہت بہتر ہے پہلے سے۔۔”

اس کے کہنے پر انہوں نے مسکرا کر اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا پھر اپنی نظروں سے اس کی نظر اتارتیں کچن کی جانب بڑھ گٸیں۔ وہ زمان کے بلانے پر ان کے ساتھ لاٶنج میں آ بیٹھا تھا۔

“کہاں چلے گۓ تھے تم۔؟”

“اپنے دوست کے پاس تھا سردار بابا۔۔”

” زخمی تھے تم۔۔ کتنا روکا میں نے تمہیں مگر مجال ہے جو تم اپنی ضد سے باز آجاٶ۔۔”

ان کی نرم سی ڈانٹ پر اس نے مسکرا کر سر جھکایا تھا۔۔ زمان کو وہ پرسکون لگا۔۔غیر معمولی سا پرسکون۔۔ اس کے سکون نے زمان کو ذرا بے سکون کیا تھا۔۔ ولی احمد انہیں بہت بدلا ہوا لگ رہا تھا۔۔

“تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ اس سب کے پیچھے اس ہاشم کا ہاتھ ہے۔۔؟”

زمان کے سوال پر اس نے سنجیدگی سے چہرہ اٹھایا تھا۔۔

“میں اس سے خود ڈیل کرنا چاہتا تھا سردار بابا۔ وہ ایک بہت خطرناک اور شاطر انسان ہے۔ ہر کوٸ اس کے ساتھ مقابلے پر نہیں جا سکتا۔۔”

“لیکن اسے تو پولیس لے گٸ ہے گرفتار کر کے۔ مشکل ہی ہوگا اس کا اب جیل سے نکلنا۔”

ولی نے ان کی بات پر تلخی سے سر جھٹکا تھا۔

“آج ہی رِہا ہوجاۓ گا وہ سردار بابا۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے رِہا ہوگا۔۔”

زمان نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلا تھا۔۔

“پھر۔۔۔؟ میں تو اسے اتنا بڑا ظلم کر کے دندناتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ولی۔۔ کچھ کرنا پڑے گا۔۔ ایسا کرتا ہوں کچھ آدمیوں کو۔۔”

“اس سب کی کوٸ ضرورت نہیں ہے سردار بابا۔ ان سب باتوں کو میں پہلے ہی طے کرچکا ہوں۔”

“اور وہ کیا ہے۔۔؟”

اسی پل بی جان نے اسے کچن سے آواز دی تھی۔۔ اس نے مسکرا کر زمان کو دیکھا۔۔

“بی جان بلا رہی ہیں۔ ان کے بلانے پر نہیں گیا تو جانتے ہیں ناں کیا ہوگا۔۔”

ان کے سوال کو آرام سے ڈاج دے کر اب وہ کچن کی جانب بڑھ رہا تھا۔ زمان نے سوچتی نظروں سے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا۔ ولی احمد ہمیشہ کی طرح انہیں آج بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اسی پل امل شازیہ کے کمرے سے نکل کر کچن کی جانب بڑھی۔

“بی جان وہ بھابھی۔۔”

وہ بی جان کے ساتھ کھڑا باتیں کررہا تھا۔ اسکی آواز پر بی جان سمیت پلٹا۔ اس کی نظر اس سے پل بھر کو الجھی تھی۔

“ہاں۔۔کیا ہوا۔۔؟”

بی جان نے تازہ بنے سالن کی آنچ بند کر کے اسے دیکھا۔۔

“بھابھی۔۔ بلا رہی ہیں آپ کو۔۔”

اس نے کہا اور جلد از جلد کچن سے جانے کے لیۓ پر تولنے لگی۔ اس کی چند دنوں کی غیر موجودگی کے بعد وہ ہمیشہ اس کے سامنے آتے ہوۓ نروس ہوجایا کرتی تھی۔ ولی نے سنجیدگی سے رخ پھیرا۔ اس کی ہچکچاہٹ اس سے بھلا کہاں چھپی رہ سکتی تھی۔۔

“اچھا۔ ادھر آٶ، ذرا یہ ولی کو کھانا نکال دو۔ میں دیکھوں شازیہ کیا کہہ رہی ہے۔”

نہیں نہیں۔۔ وہ انہیں روکنا چاہ رہی تھی لیکن بے سود۔ بی جان کچن سے نکل کر گٸیں تو اندر ایک عجیب سا احساس تحلیل ہونے لگا۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر ریک سے پلیٹ اٹھاٸ اور جلدی جلدی کھانا نکالنے لگی۔ ولی خاموشی سے ٹیبل کے گرد لگی کرسی پر جا بیٹھا تھا۔ ہاف بندھے بالوں کے ہالے میں دمکتا چہرہ لیۓ اس نے جھکی نظروں کے ساتھ کھانا اس کے سامنے رکھا تو ولی نے اسے بس ایک نظر دیکھا۔۔ دل رکنے لگا تھا۔۔

“شکریہ۔۔”

اس کے کھانا لگا کر دینے پر اس نے لیادیا سا “شکریہ” کہا تو امل پلٹتے پلٹتے رک سی گٸ۔ اس کے رک جانے پر اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ ٹیبل پر رکھے اس کے ہاتھ کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے بھی اس کی نگاہوں کے تعاقب میں اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا اور پھر جلدی سے ہاتھ ٹیبل سے ہٹاۓ۔۔

لیکن امل اس کے دونوں ہاتھ کی زخمی جِلد کو دیکھ چکی تھی۔

“آپ میری وجہ سے بہت زخمی ہوۓ ہیں ولی۔۔ آٸ ایم سوری۔”

شہد رنگ آنکھوں میں چمکتا مدھم سا پانی ولی کو اذیت دینے لگا۔ کیا یہ لڑکی جانتی تھی کہ وہ کتنی خوبصورت تھی۔۔؟ کیا اسے پتہ نہیں تھا کہ ایسے براہِ راست دیکھ کر وہ اسے آزماٸش میں ڈالا کرتی تھی۔ اس نے بے ساختہ اس کی نظروں سے نظریں چراٸ تھیں۔ پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔

“ایسی کوٸ بات نہیں ہے بی بی۔ یہ چھوٹے موٹے زخم تو لگتے ہی رہتے ہیں۔ نارمل سی بات ہے۔ اور یہ آپ کی وجہ سے نہیں لگے۔ میری اپنی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہیں یہ۔۔”

امل اس کے پہلو بچانے پر زخمی سا مسکراٸ تھی۔

“لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ میں آپ کا سب سے گہرا زخم بنتی جارہی ہوں ولی۔۔”

اس کی بات پر اس نے چونک کر جھکا چہرہ اٹھایا تھا۔ کیا کہہ گٸ تھی یہ لڑکی۔۔! کیا کہہ رہی تھی۔۔

اس کے دل پر زخموں کے نشان گہرے ہونے لگے۔ آتی جاتی سانسوں کے ساتھ اذیت رگوں میں تحلیل ہونے لگی تھی۔ نہ چاہتے ہوۓ بھی نسواری آنکھوں کے کانچ میں سرخی اترنے لگی تھی۔

“ایسی بات نہیں ہے امل بی بی۔۔”

“لیکن مجھے تو ایسی ہی بات لگتی ہے ولی۔”

وہی دو بدو جواب دینے والی لڑکی پھر سے کہیں اس کی ہچکچاہٹ پر غالب آنے لگی تھی۔

“آپ خوش رہیں گی بی بی۔ آپ کے قابل نہیں ہوں میں۔ کبھی بھی آپ کے قابل نہیں تھا۔ زندگی کے کٸ سال بھی اسی طرح خدمت کرتا رہوں تب بھی آپ کے قابل نہیں ہو سکونگا۔۔ سمجھیں میری بات کو۔۔ ضد مت کیا کریں۔۔”

اس نے جیسے التجا کی تھی اس سے۔ امل کی آنکھ سے آنسو پھسلا۔ کھانا ٹھنڈا ہونے لگا تھا اور جذبات ابلنے لگے تھے۔۔

“میں نے کب ضد کی ہے ولی۔۔؟”

“اور آپ کیا کررہی ہیں۔۔؟”

“کیا کررہی ہوں میں۔۔؟”

“آزماٸش میں ڈال رہی ہیں مجھے۔ ایسے مت کریں۔۔”

“اور جس آزماٸش میں آپ نے مجھے ڈالا ہے ولی۔ اس آزماٸش کا کیا کروں میں۔۔؟”

تکلیف اب سوا ہونے لگی تھی۔ ادھڑے زخموں سے خون رسنے لگا تھا۔ آنکھوں میں جما ہوتا نمکین پانی منظر دھندلانے لگا تھا۔۔

“میں معافی چاہتا ہوں۔”

“معافی مت مانگیں۔ معافی مانگ کر میری زندگی بھر کی پاکیزہ سی چاہت کو داغدار مت کریں ولی۔ آپ یہ حق نہیں رکھتے۔ آپ کو کسی نے یہ حق نہیں دیا ہے۔۔”

“امل بی بی۔۔”

لیکن امل نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا۔ وہ بے ساختہ رکا۔ امل کی آنکھوں سے پھسلتے آنسو شیشے کے ٹیبل پر رکھے اس کے ہاتھ کی پشت پر قطرہ قطرہ گرنے لگے۔

“بی بی۔۔”

“نہیں ولی۔۔ اب سب ختم ہوگیا ہے۔ آپ نے مجھے کھودیا ہے ولی۔ اب تک میں اسی امید میں تھی کہ آپ مجھے کسی اور کا نہیں ہونے دیں گے۔ آپ مجھے ہمیشہ کی طرح کسی بھی تاریک کوٹھڑی سے بچانے آجاٸیں گے۔۔ لیکن ولی مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے حقیقت کا سامنہ کر لینا چاہیۓ۔ کیونکہ آپ ہمیشہ مجھے بچانے نہیں آٸیں گے۔۔”

اس نے کہہ کر ابلتی سسکیوں کو منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا اور پھر بھاگتی ہوٸ کچن سے نکلتی چلی گٸ۔ وہ ویسے ہی سن سا بیٹھا رہ گیا۔۔ اپنے ہاتھ پر گرے اس کے آنسو نجانے کیوں دہکنے لگے تھے۔ اس کے حلق میں کانٹے اگنے لگے۔۔ کھانے کو دیکھ کر دل اوب گیا۔ آہستہ سے ٹیبل سے اٹھتے ہوۓ اس نے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔ ایک ایسا فیصلہ۔۔ جو اس کے اور امل کے حق میں بہت بہتر تھا۔۔ ایک ایسا فیصلہ جو اسے بہت پہلے کرلینا چاہیۓ تھا۔۔ ہاں ایک ایسا فیصلہ۔۔۔

آنے والے وقت کے گرتے آنسوٶں کی نمی کوٸ بھی محسوس کرسکتا تھا۔ کیونکہ زندگی تو آج بھی اتنی ہی ظالم تھی جتنی کٸ سالوں پہلے تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ہاشم جیل سے رہا ہوکر آگیا تھا۔۔

لیکن حویلی میں قدم رکھتے ہی اسے عجیب سا اندھیرا محسوس ہوا۔ ایک ایسا اندھیرا جو اب تمام قمقموں کو روشن کرنے پر بھی اس حویلی سے نہیں جایا کرتا تھا۔ نگار بیگم کھنڈر ہوتا وجود لیۓ کچن میں اکیلی بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔ کسی آہٹ پر چونک کر پیچھے دیکھا تو دھک سے رہ گٸیں۔۔

پھر بھاگتی ہوٸ اس تک آٸیں۔

“تُو کہاں چلا گیا تھا ہاشم۔۔! تیرے بابا کی طبیعت بہت خراب ہوگٸ تھی بیٹا اور شازیہ۔۔ بختیار شازیہ کو مارتا ہوا لے کر گیا ہے یہاں سے ہاشم۔۔ تُو نے۔۔ تُو نے کیا، کیا ہے امل کے ساتھ۔۔؟ تیری ایک نہیں دو دو بہنوں کا گھر ہے وہ۔ اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کرسکتا ہے تُو بیٹے۔۔”

اس کے ساتھ لگی روتی ہوٸیں وہ جیسے سارے زمانے کے غم رورہی تھیں۔ ہاشم نے مسکرا کر انہیں ساتھ لگایا۔۔

“کچھ نہیں ہوگا ماں جی۔۔ ہاشم آگیا ہے ناں اب تمہارا۔ سب ٹھیک کرلے گا۔ اور رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری زندگیوں کو ایسا زنگ لگادیا ہے۔ انہیں تو میں دیکھ ہی لونگا۔ تُو فکر نہیں کر۔۔ کسی کا بھی گھر نہیں خراب ہونے دونگا میں۔۔ دیکھ لونگا ایک ایک کو۔۔”

نگار اس کے ساتھ لگیں بے تحاشہ روۓ جارہی تھیں۔ اور وہ دھیرے دھیرے دور کسی غیر مرّٸ نکتے کو چبھتی نگاہوں سے دیکھتا اپنے ذہن میں ایک بار پھر سے خونی کھیل ترتیب دینے لگا تھا۔ رات اپنے کمرے میں آکر بیٹھتے اس نے سکون سے راجا کو فون کیا اور پھر راکنگ چیٸر پر جھولتا دور جاتے فون کو سنے گیا۔۔

کیا ہوا جو ولی نے ایک جوگی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔۔؟ اس نے تو ایسے ہزاروں جوگی پال رکھے تھے۔ ولی ان سب کو ہرگز بھی نہیں پکڑ سکتا تھا۔ ایک بار پھر سے زندگیاں کھینچنے کا حکم دے کر اب وہ بہت آرام دہ سے انداز میں کرسی پر جھولنے لگا تھا۔

دوسری جانب اسی لمحے سفید حویلی میں ارجمند اور ناجیہ پھلوں، پھولوں اور خوشبوٶں سے لدی پھندی داخل ہوٸ تھیں۔ آج انہیں امل کو رسمِ حنا سے پہلے والا جوڑا دینا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے لیۓ اور گھر والوں کے لیۓ بیشتر تحاٸف بھی تھے۔ ان کے آجانے سے ایک دم مرجھاٸ سی سفید حویلی میں ہلچل سی مچ گٸ تھی۔ لاٶنج میں آج ڈھولکی رکھی گٸ تھی۔ جس کے لیۓ لڑکیاں بھی وہ اپنے ساتھ لے کر ہی آٸ تھیں۔ نفیس کی خالاٸیں بھی ساتھ ہی تھیں۔۔ عجیب سی رونق کا سماں تھا۔۔ جگمگاتے قمقوں میں جیسے کسی کے آنسوٶں کی نمی محسوس ہوتی تھی۔

ولی اپنے کمرے سے باہر نکلا۔۔ نگاہ ایک پل کو لاٶنج کی جانب اٹھی تو پتھر کا ہوگیا۔۔ نفیس کی خالاٸیں اب امل کو درمیان میں بٹھاۓ اس کی بلاٸیں لے رہی تھیں۔۔ اس پر سے پیسے وار رہی تھیں۔۔ قہقہے۔۔ خوش گپیاں۔۔

کیا کہیں اسکی گنجاٸش رہ گٸ تھی۔۔؟ اس نے بے تحاشہ درد کرتے دل کے ساتھ قدم لان کی جانب پھیرے۔ دوسری جانب جاتے فون کو بھی کان پر لگاۓ وہ ساتھ ساتھ سن رہا تھا۔۔

“کیا تمہاری شہر میں رہ کر کام کرنے والی آفر اب تک ویلڈ ہے اصغر۔۔؟”

اور ایک فیصلہ تھا کہ جسے عملی جامہ پہنانے کا وقت آچکا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن ہوگۓ تھے اسے ڈیرے سے اپنا سامان سمیٹتے ہوۓ اور سارا ڈیرہ، اس میں کام کرتے لوگ اور در و دیوار۔۔ سب جیسے اس کے جانے پر اداس تھے۔ نواز بھی خاموشی سے اس کے ساتھ سامان سمیٹ رہا تھا۔ ایک دو بار ولی کے سنجیدہ سے چہرے کو بھی دیکھ لیتا۔ لیکن وہاں کسی بھی قسم کا کوٸ افسوس، کوٸ ملال نہیں تھا۔ وہ یہاں سے جانے پر خوش تھا یا نہیں لیکن وہ مطمٸن ضرور تھا۔۔ ہاں اتنا اندازہ تو نواز کر ہی سکتا تھا۔۔

امل کی شادی میں بس اب ایک ہفتے ہی کا فرق رہ گیا تھا۔ حویلی میں ڈھولکی رکھی جانے لگی تھی اور بلاشبہ وہ گھر شادی کا گھر ہی لگنے لگا تھا۔ اس نے فاٸلز سمیٹ کر ایک جانب کو شیلف میں رکھیں اور جیسے ہی پلٹا نواز کو دیکھ کر بے ساختہ رک سا گیا۔۔

“آپ کیوں جارہے ہیں یہاں سے۔۔؟”

وہ بہت دلگرفتگی سے پوچھتا اسے گہرا سانس لینے پر مجبور کر گیا تھا۔

“بتا چکا ہوں میں تمہیں آلریڈی۔۔”

“لیکن سردار بابا یہاں آپ کے بغیر بہت تنہا ہوجاٸیں گے ولی سر۔ آپ ان کو ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔ وہ آپ کا یوں جانا برداشت نہیں کرپاٸیں گے۔”

نواز بس اسے روک لینا چاہتا تھا لیکن ولی کے وجود پر جما اٹل سا تاثر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کررہا تھا۔ اس نے ہاتھ روک کر ایک پل کو نواز کی جانب دیکھا۔۔

” اور اگر میں یہاں رک گیا تو تم نہیں جانتے کہ کتنا نقصان ہوگا نواز۔ اسی لیۓ مجھے مت روکو۔ میں مزید یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔ مجبور ہوں میں۔۔”

“میں جانتا ہوں کہ آپ کو کوٸ مجبور نہیں کرسکتا۔۔”

اس کے بچکانہ سے جواب پر ولی اداسی سے مسکرایا تھا۔

“انسان تو واقعی نہیں کرسکتے نواز مجھے مجبور۔ لیکن انسان کے اوپر ایک اور بھی طاقت ہوتی ہے جسے ہم قدرت کہتے ہیں۔ وہ ہم سے بہت سے ایسے کام کروالیتی ہے جو کوٸ انسان نہیں کرواسکتا۔ میں بھی اسی کے سامنے بے بس ہوں۔ “

“لیکن ولی سر۔۔”

“نواز جو میں نے کہہ دیا وہ تم نے سن لیا۔۔!”

اس کی نرم سی تنبیہ کو وہ بخوبی سمجھتا تھا۔ اسی لیۓ خاموشی سے اس کے ساتھ سامان سمیٹنے لگا۔

” سردار بابا کو بتادیا آپ نے۔۔؟”

کچھ دیر بعد اس نے پھر سے ہمت کر کے سوال کیا تو ولی کے چلتے ہاتھ رک سے گۓ۔ ایک بہت مشکل مرحلہ تو رہتا ہی تھا۔

“آج بتادونگا ان کو بھی۔۔”

“لیکن شہر میں آپ کریں گے کیا۔۔؟”

“میرے دوست کے والد پلاٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی کام کرونگا۔ بہت بڑی فرم چلاتے ہیں وہ۔ مجھے بھی جاب مل ہی جاۓ گی۔۔”

اس نے فاٸلز کو ایک جانب رکھا اور ٹیبل سے موباٸل اٹھا کر ٹاٸم دیکھا۔ پھر کچھ سوچتا ہوا نواز کی جانب مڑا۔۔

“مجھے کچھ کام ہے نواز۔ میں ابھی آتا ہوں تھوڑی دیر میں۔۔”

نواز پلٹا بھی کہ اس سے پوچھے وہ کہاں جارہا ہے لیکن وہ تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔ اس کے آفس کی ہر چیز جیسے اداسی کی گہری چھاپ کے زیرِ اثر لگتی تھی۔ ہر چیز پر اس کا لمس تھا۔۔ ہر چیز پر اس کا نشان ثبت تھا۔ نواز نے بھاری ہوتے دل کے ساتھ ایک بار پھر سے سامان سمیٹ کر ایک جانب کو رکھا تھا۔

اس نے گاڑی ہاشم کے ڈیرے کی جانب جاتے راستے پر ڈالی۔

آج اس کے انداز میں بے سکونی نہیں تھی۔۔ نہ ہی بے چینی تھی اور نہ کسی اضطراب کا شاٸبہ تھا چہرے پر۔ بس وہاں خاموشی تھی۔ گہری اور تھکادینے والی بھیانک خاموشی۔۔ آدھے گھنٹے کا سفر طے کر کے اب وہ گاڑی اس کے ڈیرے کے آگے روک رہا تھا۔ ایک نظر اس کے ڈیرے کو دیکھا اور پھر سرد مسکراہٹ لیۓ گاڑی سے نکل آیا۔۔

آج وہ اپنے پرانے حلیے میں ہی تھا۔ سیاہ قمیض شلوار پر بھوری شال گردن کے گرد لپیٹے۔۔ خوبصورت اور ظالم۔۔

ڈیرے پر کام کرتے بہت سے لوگوں نے اسے گردنیں گھما گھما کر دیکھا۔ ہاں وہ تھا ہی اتنا سحر انگیز۔۔ کچھ اسے کسی اور حیثیت سے بھی جانتے تھے اور کچھ کو اس کے بارے میں خاصی معلومات بھی تھی۔ کہ وہ ہاشم سے مقابلہ کرنے والا ایک بہت جرأت مند اور اکھڑ سا آدمی تھا۔

اس نے سب کو نظر انداز کرتے ہوۓ قدم اندر کی جانب بڑھاۓ۔ راہداریوں میں بھی لوگ اسے رک رک کر دیکھتے تھے۔ اس نے پرواہ کیۓ بغیر ہاشم کے آفس سے نکلتے شہیر کو دیکھا۔۔ شہیر اسے دیکھ کر یکدم الرٹ ہوا تھا۔۔

“جا کر بتادو اندر کہ ولی آیا ہے۔۔”

اس نے سکون سے ہونق بنے شہیر کو کہا تو وہ بے ساختہ اندر پلٹا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ باہر نکلا تو دروازہ ادھ کھلا چھوڑ دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ اندر جاسکتا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور اندر بڑھا۔ ہاشم اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا جُھول رہا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔ ولی بھی مسکرایا تھا۔۔

پھر اس کے مقابل لگی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتا بیٹھا۔۔

“کیسے ہو۔۔؟”

پہل ہاشم نے کی تھی۔۔

“ٹھیک ۔۔ تم کیسے رہے جیل میں۔؟”

ہاشم نے اس کی بات پر ناک سے مکھی اڑاٸ۔۔

“جیل تو میرا دوسرا گھر ہے ولی۔ تم بھی کیا بات کرتے ہو۔۔”

ولی نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوۓ سر ہلایا تھا۔

“کیسے آنا ہوا۔۔؟”

اس نے مسکرا کر پوچھا تھا لیکن آنکھیں۔۔ اس کی سیاہ آنکھیں ولی کو دیکھ کر دہک رہی تھیں۔ دوسری جانب ولی کا بھی چہرہ مسکرا رہا تھا لیکن آنکھوں میں جما برفیلا سا تاثر سب کچھ جمانے لگا تھا۔ ہاں۔۔ وہ ایک دوسرے کا عکس تھے۔۔

“آج میں تمہیں ایک کہانی سنانے آیا ہوں ہاشم۔ ایک ایسی کہانی جو تمہیں سننی چاہیۓ۔ ایک بہت دلچسپ کہانی جس کا تمہارے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔۔”

اس کی بات پر وہ دلچسپی سے آگے کو ہوا۔۔

“اور کیا ہے وہ کہانی۔۔؟”

ولی کی مسکراہٹ ایک۔۔ بس ایک لمحے کو گہری ہوٸ تھی۔۔

“کیا تم جانتے ہو ہاشم کہ تم بھی میرے جیسے ہی ہو۔۔؟”

وہ ناسجھی سے پیچھے کو ہوا ۔۔۔۔

“کیا مطلب۔۔؟”

“مطلب یہ کہ تم ۔۔۔ اور میں۔۔ ہم دونوں۔۔ ایک جیسے ہیں۔۔”

ہر ہر لفظ پر زور دے کر کہتا وہ اسے طیش دلا گیا تھا۔۔

“کیا بکواس کررہے ہو۔۔؟”

“اس میں بکواس کچھ بھی نہیں ہے ہاشم۔۔ سنو۔۔ میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ ایک ناجاٸز بچے کی کہانی۔ ایک ایسے بچے کی کہانی جو حرام رشتوں سے وجود میں آیا تھا۔ ایک ایسے بچے کی کہانی جو معاشرے کا زہر آلود سا حصہ تھا۔ ایک ایسے بچے کی کہانی جو لوگوں کی بے جا گالیاں سنتا بڑا ہوا تھا۔ ایک ایسے بچے کی کہانی جس نے ظلم کی ہر انتہا کو دیکھ کر خود کو ظالم اور مظلوم کے داٸروں سے آزاد کیا تھا۔ ایک ایسے بچے کی کہانی کہ جس نے ہر اس جرم کی سزا کاٹی جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔ اور وہ بچہ۔۔ وہ بچہ ولی احمد تھا۔۔”

” اسی لیۓ تو۔۔ تم اور میں ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ میں حلال ہوں اور تم ولی۔۔ تم حرام ہو۔۔”

آفس میں یکدم موت کا سا سناٹا چھا گیا تھا۔ سب کچھ ساکت ہوگیا۔۔ ہر شے۔۔ ہر سانس اور ہر جنبش۔۔

ولی مسکرا کر آگے کو ہوا اور اس کی سیاہ آنکھوں میں اپنی نسواری آنکھوں کے کانچ گاڑے۔۔

“لیکن وہ صرف ایک بچہ نہیں تھا ہاشم۔۔!”

ہاشم یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔

“وہ صرف ولی احمد نہیں تھا۔۔”

ہاشم کا وجود پل بھر کو برف بن گیا۔۔ برف کا سفید ڈھیر۔۔

“تم بھی۔۔ میرے جیسے ہی ہو ہاشم۔ کیونکہ تم بھی میری طرح۔۔ ناجاٸز ہو۔۔!!”

کیا تم نے کبھی روح قبض کی جانے کی آواز سنی ہے۔۔؟ وہ بھی اتنی ہی بھیانک ہوتی ہے۔۔ اتنی ہی دلخراش۔۔ اتنی ہی بے رحم۔۔ ہاشم بنا پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی نے اس پر سفید پینٹ پھیر دیا ہو۔۔

“مجھ پر ساری زندگی تم نے ظلم اس لیۓ کیا کیونکہ میں ناجاٸز تھا لیکن کیا میں تمہیں بتاٶں ہاشم کے تم خود کیا ہو۔ تم بھی ایک حرام زادے ہو۔ تم بھی حرام کی تسکین کا نتیجہ ہو ہاشم اور تم بھی۔۔ میرے ۔۔ جیسے ہو۔۔!”

ولی یکدم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ لیکن ہاشم اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ لگتا تھا جیسے ساری دنیا راکھ کا ڈھیر بن گٸ ہو۔

“اور اگر تمہیں میری بات پر یقین نہ آۓ توجا کر اپنے اس باپ سے پوچھنا لیکن ایک منٹ۔۔”

اس کے ٹیبل پر ہاتھ رکھتا وہ اس کے سامنے جھکا۔۔

گلابی آنکھوں سے اس کا سفید پڑتا وجود دیکھا۔۔

“تمہارا باپ تو اپنے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں پا کر لاغر ہوچکا ہے۔۔ تم یہ سب اپنی اس نقلی ماں سے پوچھنا کہ جس نے ساری زندگی تمہیں اپنا سگا بیٹا ماننے کا دعوہ کیا ہے۔ اور آج۔۔ اس وقت۔۔ اس تاریخ میں۔۔ تم بھی جی کر دیکھو۔۔ ایک ناجاٸز اور حرام اولاد کی حیثیت سے۔ اور اندازہ کرو کہ ولی احمد نے ہر گزرتے دن کس اذیت کو کاٹا ہے۔ چلتا ہوں۔۔ خدا حافظ۔۔!”

وہ سیدھا ہوا اور ماتھے تک ہاتھ لے جا کر سلام کیا۔۔ اس پر ایک پھنکارتی ہوٸ نگاہ ڈالی۔۔ اور باہر نکل گیا۔ اسے پتہ تھا کہ اس نے ہاشم حسین کو آج زندگی کا سب سے بڑا عذاب دیا تھا۔ ایک ایسا عذاب جس سے وہ خود کو آزاد کبھی نہیں کرپاۓ گا۔ اس نے اس کی ذات کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا۔۔ ہاں اس نے ہاشم حسین کو آج تباہ کردیا تھا۔۔ باہر نکلتے ہوۓ بجتا فون اس نے نگاہوں کے سامنے کیا۔ اور پھر کال رسیو کر کے چلتے ہوۓ فون کان سے لگایا۔۔

“کرتار پور والے کب تک آٸیں گے محسن۔۔؟”

“بس آج شام ولی سر۔۔”

” گڈ۔۔!”

اس نے بے تاثر سا کہا اور پھر پلٹ کر ایک نگاہ اس کے ڈیرے پر ڈالی۔

“آج سے تمہارا باب ہماری زندگیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ بند ہاشم۔۔”

اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھاۓ اور اس کے سیاہی میں ڈوبے ڈیرے کو پیچھے چھوڑتا گیا۔ واپسی پر اس کی کار کا رخ قبروستان کی جانب تھا۔ اسی قبروستان کی جانب جس میں اس نے اپنے ہاتھوں سے کرم کو دفنایا تھا۔ ایک پل کو اس نے گہرا سانس لیا اور پھر مغرب کی گہری ہوتی سیاہی میں ڈوبے قبروستان کو دیکھا۔

اگلے لمحے اب وہ بیشتر قبروں کے پاس سے گزرتا کرم کی تازہ قبر کے سامنے موجود تھا۔ قبروستان میں آج مُردوں کے رونے کی آوازیں مفقود تھیں۔۔ شام کی سیاہی میں ڈوبا قبروستان اسے آج بے حد پرسکون لگا تھا۔ وہ چند پل خالی خالی نظروں سے اس کی تازہ قبر پر مرجھاۓ ہوۓ پھولوں کو دیکھے گیا۔ پھر آہستہ سے گھٹنوں کے بل اس کی قبر کے سامنے بیٹھا۔۔ دور سے دیکھنے پر بس یہی دکھاٸ دیتا تھا کہ ایک اونچا سا لڑکا سر جھکاۓ کسی قبر پر بیٹھا ہے۔ روشن، پرسکون اور آرام دہ سی قبر پر۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *