Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 6)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

لمحوں کی پُھوار میں بھیگتا ولی واپس گاڑی میں آکر بیٹھا تو چند لمحے اس ماہ رُخ کا چہرہ اسکی یاد کے سیاہ پردے پر جگمگاتا رہا۔ اسکی وہ حیرت کے رنگ میں ڈھلیں شہد رنگ آنکھوں نے تو اسے کہیں وہیں قید کر لیا تھا۔ اس نے زندگی میں دوسری بار اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔۔ اور پہلے کب ایسا ہوا تھا۔۔ جیسے ہی اس نے یاد کرنا چاہا چند سالوں پہلے آٸ ایک شام اس کے آس پاس بکھر گٸ۔۔

اسے یوں اتنے قریب سے نہیں دیکھنا چاہیۓ تھا ۔ کیونکہ اسے اس طرح دیکھ کر وہ خود سے ہمیشہ دور چلا جاتا تھا۔۔۔!

اس نے نچلا لب دانتوں تلے دبا کر اپنے بے قابو ہوتے دل کو بس میں کرنے کی کوشش کی۔ پھر گاڑی آگے بڑھادی۔۔ سارے راستے امل کے خیال نے اسکا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ سارے راستے وہ اسکے انداز و اطوار پر غور کرتا آیا تھا، کبھی تو وہ اس سے اتنا جھجھکتی کہ حد نہیں اور کبھی۔۔ ہاں۔۔ اسے پھر سے کچھ یاد آیا تو مسکرادیا۔۔ کبھی وہ اس کے ساتھ یوں پیش آتی گویا کوٸ ظالم شہزادی اپنے کسی زرخرید غلام پر برس رہی ہو۔ مگر اسے اس کے یہ دونوں انداز عزیز تھے کیونکہ اس کا ہر انداز، ہر طریقہ بہت باوقار بہت پُرکشش تھا۔

اسے پھر سے اسکا گھبراہ کر بھاگنا یاد آیا تو خود بخود اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھل گۓ۔ اور وہ جو اسے نظر انداز کرکے بی جان کو پکارہ تھا اس نے۔۔

ولی نے مسکراتے ہوۓ موڑ کاٹا۔۔

آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد وہ دوبارہ ڈیرے پر موجود تھا۔ اس نے کار کا دروازہ بند کیا اور نسواری آنکھوں سے چشمہ اُتارتا اپنے آفس میں داخل ہوا۔ اندر موجود شاہ نواز اور محسن اسے آتا دیکھ کر یکدم خاموش ہوۓ تھے۔ اس نے سنجیدگی سے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور پھر ٹیبل کے پرے لگی کُرسی پر جا بیٹھا۔

“اب بول بھی دو شاہ نواز کیا مسٸلہ ہے۔۔؟”

اس نے ٹیبل کے دراز سے جھک کر فاٸل نکالتے سکون سے کہا تو شاہ نواز نے سٹپٹا کر محسن کو دیکھا۔۔

“وہ ولی سر۔۔۔”

شاہ نواز نے گلا کھنکھارا۔۔ ولی کے چلتے ہاتھ سُست ہوۓ تھے۔

“ہاں کہو۔۔۔”

“وہ ولی سر تھوڑی دیر پہلے ناجیہ بی بی آٸ تھیں۔ کہہ رہی تھیں کہ ولی کو بلاٸیں۔ ہم نے کہا کہ وہ تو حویلی گۓ ہیں۔ ہم نے کہا بھی کہ تھوڑا انتظار کرلیں مگر وہ نہیں مانیں۔ اور آپ کے آنے سے پہلے ہی نکل گٸیں۔ کیا آپ نے اُنہیں دیکھا حویلی میں۔۔ آپکی ملاقات ہوٸ ان سے۔۔۔؟”

ولی کی پیشانی شکن آلود ہوٸ تھی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی فاٸل سامنے ٹیبل پر رکھی اور پھر اسی سنجیدگی سے شاہ نواز کو دیکھا۔۔

“اگر وہ دوبارہ آٸیں اور میں یہاں نہ موجود ہوں تو ان سے کوٸ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔”

اسکی آواز میں حد درجہ رُکھاٸ تھی۔۔ شاہ نواز نے سرعت سے سر ہلایا۔۔

“جی۔۔ جی سر جیسا آپکا حکم۔۔ لیکن سر پھر۔۔ مطلب اگر انہوں نے آگے حسن صاحب کو شکایت کردی تو۔۔ یا پھر سردار بابا کو۔۔؟”

“اس سب سے میں خود نپٹ لونگا۔۔”

“جی سر جیسا حکم آپ کا۔ اچھا ولی سر ایک بات اور ۔۔۔جو علّامہ دین صاحب کی بیٹی کا کیس ہے اسکی آخری پیشی ہے کل۔۔ آپ جاٸنگے۔۔؟”

اس نے سر کو خم دیا۔۔ “ہاں میں بھی جاٶنگا۔ مگر اس بات کو یقینی بناٶ شاہ نواز کہ فیصلہ دین صاحب کی بیٹی کے حق میں ہی آۓ۔۔”

اس نے اسے تنبیہہ کی اور پھر محسن کی جانب متوجہ ہوا۔۔

“کیا رپورٹس ہیں نور آباد والوں کی۔۔؟”

“سر ویسے دیکھنے میں تو سب ٹھیک ہے مگر مجھے لگ رہا ہے جیسے کچھ ہے۔۔ کچھ پک رہا ہے اندر۔۔ اتنی آسانی سے بخشنے والے لوگ نہیں ہیں وہ۔۔ آپ پچھلی دفعہ ہاشم صاحب سے ملے تھے کیا۔۔؟”

اس نے بہت محتاط ہوکر یہ سوال کیا تھا مگر ولی کے چہرے کے تاثرات میں کوٸ بدلاٶ واقع نہ ہوا۔۔

“ملا تھا۔۔ لیکن اسکا اس سب سے کیا تعلق۔۔؟”

“تعلق ہے سر۔۔ “

اس نے آگے بڑھ کر ولی کی ٹیبل پر خاکی لفافہ رکھا۔۔

“میں جتنے دن نورآباد والوں پر چیک رکھتا رہا ہاشم سر مجھے انکے آس پاس انکے ساتھ اُٹھتے بیٹتھے دکھاٸ دیۓ۔۔ اور دوسری جانب حسن شاہ خود آپکے سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے آپکے سامنے ایک ایسے آدمی کو بٹھایا جو شکل سے ہی غنڈہ لگتا ہے۔۔ شاید صرف اس لیۓ تاکہ وہ آپ کو خوف زدہ کرسکے۔۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔۔ اور پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اگلے دن ہی آپ کو پیغام بھیج دیا کہ وہ زمین دینے کے لیۓ راضی ہیں۔۔ آپکو کچھ گڑبڑ نہیں لگ رہی۔۔؟”

محسن بہت زیرک تھا۔۔ اگرچہ اسکی عمرکم تھی مگر وہ لوگوں پر چیک رکھنے میں بہت ماہر تھا۔۔

ولی نے اسکی بات پر خاکی لفافے سے تصاویر نکال کر دیکھیں۔۔ وہ ساری ہاشم اور حسن شاہ کی تصاویر تھیں۔۔

“جانتا ہوں کہ کچھ تو مسٸلہ ہے لیکن مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ فی الحال انکی دُکھتی رگ الیکشن ہے۔ ابھی صرف انہیں اسی کمزوری کے ذریعے قابو کیاجاسکتا ہے مگر وہ اپنے بدلے نہیں چھوڑا کرتے۔۔ میں اس سے بھی واقف ہوں۔۔ تمہارا کیا خیال ہے نواز۔۔؟”

اس نے سمجھ کر کہتے ہوۓ یکلخت شاہ نواز سے پوچھا تو وہ ادب سے کہنے لگا۔۔

“سر جہاں تک میرا اندازہ ہے میرا تجربہ ہے وہ آپ پر حملہ کرسکتے ہیں اور سب سے عجیب بات جو مجھے اس وقت محسوس ہورہی ہے وہ یہ ہےکہ یہ صرف زمینی جھگڑا نہیں ہے۔۔ انہیں آپ سے کوٸ ذاتی خار ہے۔۔”

اور اس بات کو تو ولی اچھے سے جانتا تھا کہ وہ ذاتیی خار کہاں سے تھی۔

“کیا آپکا نور آباد والوں سے کوٸ پرانا جھگڑا ہے۔۔؟”

شاہ نواز نے اس سے رک کر پوچھا تو اسکا سر خودبخود نفی میں ہلا۔۔

“نورآباد والوں سے نہیں البتّہ اس سے جھگڑا ہے جو نور آباد والوں کا جگری یار ہے۔۔”

اسکے اشارے پر شاہ نواز اور محسن دونوں نے متّفق ہو کر سر ہلایا تھا۔۔

“ہماری زمین کا مسٸلہ تو حل ہوگیا سر مگر آپکو اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔ انکا الیکشن ٹلنے کے بعد نہ جانے کیا سوچے بیٹھے ہوں وہ لوگ۔۔ آپ پر ذاتی حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ آپکو جسمانی نقصان بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔۔”

شاہ نواز نے اسے خبردار کیا جسے اس نے سر جھٹک کر اُڑا دیا۔۔

“کچھ نہیں ہوگا۔۔ میرے معاملے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس دھیان رہے کہ وہ کہیں سردار بابا کو یا حویلی میں سے کسی کو نقصان نہ پہنچاٸیں۔ اور ابھی تم انکی نگرانی چھوڑ دو کیونکہ انکے ہاتھ پاٶں فی الحال بندھے ہوۓ ہیں۔ بس الیکشن کے بعد ان پر نظر رکھنا۔”

اس نی بات ختم کر کے سامنے رکھی فاٸل کھولی تو محسن باہر کی جانب بڑھ گیا البتّہ شاہ نواز ایک اور خاکی لفافہ لیۓ اسکے ٹیبل پر رکھ کر سیدھا ہوا۔۔ ولی نے سوالیہ ابرو اُٹھا کر پہلے لفافے اور پھر شاہ نواز کو دیکھا تھا۔۔

“سر یہ نفیس احمد کی معلومات ہے۔۔”

اس کے بتانے پر ولی نے خاکی لفافہ اُٹھایا اور ٹیبل کے دراز میں ڈال دیا۔۔

“ابھی اس معاملے کو رہنے دو نواز اور اب تم جاسکتے ہو۔۔”

اس کے حکم جاری کرنے پر شاہ نواز نے سمجھ کر سرہلایا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ناجیہ انگلیاں آپس میں پھنساۓ بہت بے چینی سے لان میں ٹہل رہی تھی۔ جب وہ حویلی پہنچی تھی تو اس نے ولی کو گاڑی میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تھا۔۔ لیکن اسے آواز دے کر متوجہ کرنے یا بُلانے کی ہمّت اس میں نہیں تھی۔۔ وہ کوفت زدہ ہوکر پیر پٹختی حویلی کے اندر بڑھی تو سامنے سے آتی اسکی ماں نے اسکے تیور بغور دیکھے۔۔

“کیوں بیٹا۔۔ ایسی کیا مصیبت آگٸ ہے کہ تم یوں اس طرح پیر زمین پر مار کر چل رہی ہو۔۔؟”

اس نے بے چین سی سانس خارج کرتے ہوۓ اپنی ماں کو اُکتا کر نظر انداز کیا اور صوفے پر دھم سے بیٹھی۔۔

“اری کچھ پوچھ رہی ہوں میں۔۔”

ارجمند نے اسکے بگڑتے موڈ کو جانچتی نظروں سے دیکھا تو ناجیہ کو مزید کوفت ہونے لگی۔۔

“کیا ہے امّاں۔۔ کیوں بلاوجہ سر پر سوار ہو۔۔؟”

اسکی اکتاہٹ پر ارجمند کی تیوریاں چڑھیں۔

”یہ کیا طریقہ ہے بھلا ماں سے بات کرنے کا۔۔؟ آج کل کی نسل میں تو نام کو تمیز نہیں رہی ارے جاکر سیکھو کچھ زمانی کی بیٹی سے۔۔ آواز تک نہیں سُناٸ دیتی اسکی۔۔ کیا سلیقے طریقے سے اُٹھتی بیٹھتی ہے۔ ہر آنکھ میں ستاٸش اُمڈ آتی ہے اسے دیکھ کر اور ایک تُم ہو۔۔ کہ جسے چلنے کا ڈھنگ بھی نہیں آیا اب تک۔۔“

اس کے دھم دھم کر کے چلنے پر چوٹ کرتیں وہ اسے سُلگا گٸ تھیں۔ اور امل کے حوالے نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔۔ وہ یکدم ہی ہتّھے سے اُکھڑ گٸ۔۔

”ہاں تو جاٸیں اسے ہی بنا لیں اپنی بیٹی۔ میں تو ہوں ہی آوارہ اور منہوس۔ وہ بھی کوٸ دُودھ کی دُھلی نہیں ہے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ کتنوں کو قابو کررکھا ہے اس نے اپنی معصومیت سے۔۔“

اس کے تنفّر سے کہنے پر ارجمند کی آنکھوں میں ناسمجھی اُبھری۔ امل کا ایسا ذکر ناجیہ نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔۔

”ارے کیا بک رہی ہے۔۔؟“

جب بات انکی سمجھ میں نہیں آٸ تو اسے کوستے ہوۓ پوچھا۔۔ جواباً وہ طیش میں بولی تھی۔۔

”آپکو کیا لگتا ہے کہ جس کو اپنے نفیس کے لیۓ مانگ رہے ہیں وہ کوٸ دیوی ہے یا پھر دُودھ کی دُھلی ہے۔۔ ارے ولی کو پھنسا رکھا ہے اس نے۔“

اسکے منہ سے ایسی بات سُن کر ارجمند کو لگا انکی بیٹی کا دماغ چل گیا ہے۔۔ اسے زوردار تھپڑ کندھے پر مارا تھا انہوں نے۔۔

”کیا بکواس کررہی ہے لڑکی۔۔ کیا بکے جارہی ہے۔۔؟ امل کے لیۓ۔۔ اپنی ہونے والی بھابھی کےلیۓ ایسی بات کرتے شرم نہیں آرہی تھوڑی سی بھی۔ اور وہ کیوں اس حرام کی اولاد کو پھنسانے لگی۔۔؟ اور کیا باقی سارے لڑکےمر گۓ ہیں۔۔ اس ولی پر تو کوٸ تُھوکے بھی نہیں۔۔“

انہوں نے امل کی طرف داری میں ایک لمبا قصیدہ پڑھا تو ناجیہ کو مزید آگ لگی۔۔

”ہاں ہاں۔۔ اب تم تو یہی کہو گی ناں۔۔ ہونے والی بہو جو ٹہری تمہاری۔۔ مگر میں نے اس دن خود اسے اپنی آنکھوں سے ولی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے دیکھا تھا امّاں۔۔ اب کہہ دوکے میں جھوٹ بول رہی ہوں اور میں تو ہوں ہی صدا کی جھوٹی۔۔“

اسکی بات پر ارجمند کچھ سنجیدہ ہوٸیں۔۔

”کب دیکھا تھا انہیں ساتھ تُم نے۔۔؟“

انہیں اب بھی اسکی بات پر بھروسہ نہیں تھا۔۔

”اس دن جس دن میں شادی میں گٸ تھی سامیہ کی۔۔ توبہ توبہ۔۔“ اس نے بھرپور اداکاری کرتے ہوۓ کانوں کو ہاتھ لگاۓ۔۔ ”پورا ایک گھنٹہ وہ ولی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی گپّے ہانک رہی تھی۔ میں تو نکل آٸ گاڑی سے۔ مجھے تو شرم آرہی تھی انہیں اس طرح دیکھ کر۔۔“

اسکے مرچ مصالحہ لگا کر بتانے پر ارجمند کو اپنے کان تپتے ہوۓ محسوس ہوۓ۔ انہیں نہ جانے کیوں اسکی باتیں سچ لگنے لگی تھیں۔۔

”تُو سچ کہہ رہی ہے ناجیہ۔۔ دیکھ جھوٹ نہ بولنا مجھ سے۔۔“

انہوں نے تصدیق کرتے ہوۓ اسے تنبیہہ کی تو اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔

”معاف کرے مجھے اوپر والا امّاں۔۔ اگر جو جھوٹ بولوں تو۔۔ مگر امّاں ایک بات ہے کہ اس سب میں ولی کا کوٸ قصور نہیں ہے۔۔وہ بیچارہ تو آنکھ تک اُٹھا کر نہیں دیکھتا کسی لڑکی کو۔۔ اس امل نے ہی ڈورے ڈال کر پھنسایا ہے اسے۔۔“

اس کے دل میں ٹھنڈک اُترتی جارہی تھی۔ اب امل کو پتہ چلے گا کہ آخر احساسِ زیاں ہوتا کیا ہے۔ اس نے اس دن دروازے کے پار امل اور سامیہ کی باتیں سُن لی تھیں اور تب سے ہی اسکی جلن میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ امّاں کو اس طرح سے بتا کر اسے کمینی سی خوشی ملی تھی۔ اور دوسری جانب ارجمند بیگم بہت کچھ سوچتے ہوۓ اپنا دل پکڑکر بیٹھ گٸ تھیں۔۔ جو نفیس کو امل کے ساتھ اتنی جلدی شادی پر انکار کردیا تھا تو کیا اس سب کے پیچھے وجہ انکا معاشقہ تھا۔۔؟ اور وہ حرام کی اولاد ولی۔۔۔ وہ تو پیدا ہی گندے خون سے ہوا تھا۔۔ ظاہر ہے وہی کرے گا جو اسکے ماں باپ نے کیا تھا۔۔ اس سے ہٹ کرکچھ تھوڑی کرے گا وہ۔۔ وہ منہ میں بڑبڑاتیں فون کی جانب بڑھیں تو ناجیہ کو لگا کہ اسکا کام ہوگیا۔ اب وہ بتاٸنگی اپنی بڑی جیٹھانی کو۔۔ اور اس طرح بات سارے خاندان میں پھیل جاۓ گی۔۔ اور امل۔۔ اسکے چہرے پر گھٹیا مسکراہٹ اُبھری۔۔ وہ کہیں کی نہیں رہے گی۔۔ پھر ولی۔۔ صرف میرا ہوگا۔۔ صرف اور صرف میرا۔۔

کچھ دیر پہلے کی بے چینی اس پر سے چھٹ گٸ تھی اور اب وہ خود کو بہت تازہ دم محسوس کررہی تھی۔۔ رات کی پھیلتی سیاہی میں عجیب سی گھٹن گُھلنے لگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ڈیرے سے کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا اور اسکے بڑھتے قدم اپنے لان سے متّصل کمرے کی جانب تھے۔

لاٶنج میں عجیب سا رش ہورہا تھا۔ اسکی نظر صوفوں کے درمیان حلقہ بناۓ بیٹھی لڑکیوں پر پڑی جو ڈھولک درمیان میں رکھے بجا رہی تھیں۔ اوپر صوفے پر بی جان اور نگار بیگم بیٹھی تھیں۔ کچن سے لوازمات کی ٹرالی گھسیٹ کر لاتی نوراں پر اسکی نظر پڑی تو وہ چونک کر سیدھا ہوا۔ امل اسی سیاہ جوڑے میں ملبوس مگن سی نوراں سے باتیں کررہی تھی۔ اس نے سنجیدگی سے بغیر کسی سے کوٸ بات کیۓ رُخ اپنے کمرے کی جانب موڑا۔

اسے عورتوں کے رش سے اُلجھن ہوتی تھی۔ کمرے میں آکر اس نے شانوں پر دھری بُھوری شال کو اُتار کر صوفے پر ڈالا اور وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔ پھر جُھک کر اپنے پیروں کو پشاوری چپلوں سے آزاد کیا اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔

جب واپس آیا تو اسکی آستینیں بازو تک چڑھی تھیں اور بازو کہنیوں تک گیلے ہورہے تھے۔ اس نے جاۓ نماز ڈالا اور نیت باندھ کر کھڑا ہوگیا۔ اسی پل نوراں نے دستک دے کر اسکے کمرے میں جھانکا تھا۔ وہ اسے نماز پڑھتا دیکھ کر واپس پلٹنے لگی تو امل سے ٹکرا گٸ۔۔

”کیا ہوا۔۔؟ ولی صاحب کھانا نہیں کھا رہے۔۔؟“

اسنے ادھ کُھلے دروازے سے کمرے میں جھانکا تو اسے ولی رکوع میں جُھکا ہوا نظر آیا۔ اسکا دل بے اختیار ہوکر اسکی جانب ہمکنے لگا تو اس نے سر جھٹک کر جلدی سے دروازہ بند کیا اور نوراں کو کہا کہ کچھ دیر بعد آکر اس سے کھانے کا پوچھ جاۓ۔۔ نوراں اسی کے ساتھ واپس پلٹ گٸ تھی۔۔

کچھ دیر بعد ولی نے اپنی نماز سے سلام پھیرا اور بغیر دعا مانگے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے عرصے سے دعا مانگنا چھوڑ دی تھی۔ اسے اپنے لیۓ امل بھی نہیں چاہیۓ تھی۔ وہ اسے اپنے ساتھ عذاب میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ جاۓ نماز لپیٹ کر صوفے پر ڈالتا وہ کمرے سے باہر آیا اور لان کی جانب قدم بڑھا دیۓ۔ اندر آتے بختیار سے اسکا سامنہ ہوا تھا۔۔ اور اسے دیکھتے ہی جو تلخ تبسّم بختیار کے چہرے پر اُبھرا وہ ولی کی پیشانی شکن آلود کرنے کے لیۓ کافی تھا۔

”تو جناب نے اپنے پنجے اس حویلی میں کچھ اور گاڑ لیۓ ہیں۔۔ آغا جان کے چند کام کرکے۔۔ انکی جُوتیاں سیدھی کرکے جو تم اس حویلی میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہو ناں ولی۔۔ اس سے مجھے بے خبر مت سمجھو۔۔ لیکن ایک بات بھی میری یاد رکھنا۔۔ اس ریشم کے گھر میں تم ٹاٹ کے پیوند کی حیثیت سے رہوگے ہمیشہ۔۔“

شاید کسی نے اسے نور آباد والی زمین کے کامیابی سے مل جانے کی اطلاع کردی تھی۔ اور آغا جان کے سامنے اپنی حیثیت ایک بار پھر صفر رہ جانے پر وہ کھول کر رہ گیا تھا۔ ولی نے سخت چہرہ لیۓ اسے دیکھا۔ اور پھر پلٹ کر گھر میں موجود ہنگامے کو۔۔

”کیا پھر سے تم اپنا تماشہ شروع کرنا چاہتے ہو۔۔؟“

”تماشہ۔۔ کونسا تماشہ۔۔ کون کررہا ہے تماشہ۔۔؟ میں۔۔۔؟“

اپنے سینے پر دستک دے کر اس سے پوچھا تو ولی نے دانت جماۓ۔۔

”نہ تو تم کل پیدا ہوۓ ہو ولی اور نہ میں۔۔ کون تماشہ کررہا ہے اور کون آغاجان کو اپنے اشاروں پرنچا رہا ہے یہ تو تم بھی جانتے ہو اور میں بھی۔۔ میں تو انکی اولاد ہوکر انکا اتنا وفادار نہیں اور تم۔۔۔ تم تو ٹہرے ایک ملازم۔۔ تم کیوں اتنے پُھر تیلے ہوگۓ ہو۔۔ انکی بیماری اور کمزوری میں۔۔؟“

اسکے زہر خندہ سے استفسار پر ولی کے چہرے پر سرد سی مسکراہٹ اُبھری۔۔

”جب کوٸ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے تو دراصل وہ دوسروں کو دعوت دے رہا ہوتا ہے اپنی خالی کی گٸ جگہ پُر کرنے کی۔ میں تو غیر ہوں۔ میں نے کبھی خود کو اس گھر کا فرد بنانے کی کوشش کی بھی نہیں ہے۔۔ لیکن تم تو اپنے ہو۔۔ اپنا خون ہو۔۔ تم نے اس سارے عرصے میں اس خون کا کتنا حق ادا کیا ہے۔۔؟ تم نے ایک باپ کی کتنی جُوتیاں سیدھی کی ہیں۔۔؟ تم نے کب انکے چڑھتے بُڑھاپے میں انہیں اپنا کندھا فراہم کیا ہے۔۔؟ کیا کبھی کیا۔۔؟ نہیں۔۔“

اس نے نفی میں سر ہلا کر بختیار کا سیاہ پڑتا چہرہ دیکھا۔۔

” اس دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل ہوتا ہے بختیار۔۔ اور جو ایسا سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا۔۔ وہ بکواس کرتے ہیں۔۔ دھوکہ دیتے ہیں خود کو۔۔ مکر کرتے ہیں خود کے ساتھ۔۔ تم بھی یہی کررہے ہو۔۔ کرو۔۔ شوق سے کرو۔۔ لیکن ایک دن تمہاری اولاد تمہیں بھی اسی طرح ایک طرف ڈال دیگی۔۔ اس دن تم بھی کسی ولی احمد کا انتظار کروگے۔۔ لیکن نہیں۔۔۔“

وہ رک کر پل بھر کے لیۓ مسکرایا تھا۔۔ اور اسکے چہرے پر ایسی آگ تھی۔۔ جو سب جلا کر خاک کردینے کے لیۓ کافی تھی۔۔

”ولی احمد صرف انہی کو ملا کرتا ہے جو اپنے ظرف کا دامن بڑا کرکے کسی ناجاٸز کو اپنی جاٸز زندگیوں میں جگہ دیتا ہے۔۔ ولی احمد ہر کسی کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ اور ہر کوٸ شیخ زمان نہیں ہوتا۔۔“

آخر میں اسکے لہجے کی ہتک پر بختیار کا چہرہ سُرخ پڑنے لگا تھا۔ اپنی بد اعمالیوں کی داستان کسی کے منہ سے سن کر انسانوں کے چہرہ اسی طرح سُرخ پڑجایا کرتے ہیں۔۔۔ وہ اس پر سخت نگاہ ڈال کر آگے بڑھنے لگا کہ بختیار کا ہاتھ اسے یکدم روک گیا۔ اس نے اسکے بازو کو پکڑ کر اسے آگے بڑھنے سے روکا تھا۔ ولی نے بہت ضبط سے اسے دیکھا۔۔ وہ بھی جواباً کاٹ کھانے والی نظروں سے ولی کو دیکھ رہا تھا۔۔

”تمہیں بہت باتیں کرنی آگٸ ہیں ولی۔۔ تم ذلت بھولنے لگے ہو۔۔ تم اپنے سے اونچا دیکھنے لگے ہو جو کہ تمہارے لیۓ بالکل بھی درست نہیں۔۔ کیا بھول گۓ کہ کس طرح زندگی گزاری ہے تم نے۔۔“

ولی کے برف چہرے پر ایک آنچ سی مسکراہٹ اُبھری۔۔ ایسی مسکراہٹ جس سے بختیار بے سکون ہوا تھا۔

”پتہ نہیں سب آج کل مجھے میرے ماضی کے گزرے اوراق کیوں یاد دلانا چاہ رہے ہیں۔۔؟ شاید میں تم لوگوں کے گلے میں پھنسی ہڈّی بننے لگا ہوں۔۔ جسے نہ تم نگل سکتے ہو اور نہ اُگل سکتے ہو۔ لیکن یہ سب میں نہیں کررہا بختیار۔ یہ سب تو تمہاری اپنی جمع کی گٸیں بد اعمالیاں ہیں جو تمہیں اس طرح خوف زدہ کیۓ ہوۓ ہیں۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کماۓ گناہ ہیں جو تمہیں چین نہیں لینے دے رہے۔ ولی تو کل بھی مٹی تھا اور آج بھی مٹی ہے۔ ولی کو تو نہ کل کسی چیز کی چاہ تھی اور نہ آج ہے۔۔ لیکن تم۔۔“

اس نے اسکا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکا۔ چہرے پر رقصاں مسکراہٹ اب غرّاہٹ میں بدلنے لگی تھی۔۔

”تم کبھی چین سے نہیں جی سکو گے۔ جو بے گناہوں کو بے وجہ سزا دیا کرتے ہیں قدرت انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ تم بھی قدرت کے نشانے پر ہو۔ سب ہیں۔۔ تم سب۔۔ اور اپنے کارما کو اب تم سب بُھگتو گے۔۔ جلد ید بدیر۔۔ مگر بُھگتو گے ضرور۔۔“

اس نے اسکے مکروہ چہرے پر نگاہِ غلط ڈالی اور سختی سے لب بھینچے آگے بڑھ گیا۔ بختیار دروازے میں اب تک کھڑا سُلگ رہا تھا۔ ڈھول کی آواز سے حویلی اب کے گُو نجنے لگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

”مجھے ناجیہ نے بتایا ہے نِگار بھابھی کہ وہ ولی کے ساتھ پُورا ایک گھنٹہ گاڑی میں بیٹھی گپّے ماررہی تھی۔ اف توبہ۔۔ میں نے تو اپنے کانوں کو چُھوا۔ دیکھنے میں توکیسی معصوم صورت بھولی بھالی لگتی ہے مگر حرکتیں توبہ بھابھی۔۔ میں تو اپنے نفیس کے لیۓ پریشان ہوں۔ کہتا ہے کہ شادی کرے گا تو صرف امل سے۔۔ نہیں تو ساری عمر چھڑا چھانٹ رہے گا۔۔ اب بتاٶ ذرا میں کیا کروں۔۔“

فون کان سے لگاۓ وہ چہرے پر ڈھیروں فکر مندی لیۓ فون کی دوسری جانب موجود نگار بیگم سے پوچھ رہی تھیں۔۔ انکے جواب پر چند لمحے خاموشی سے سُنے گٸیں پھر کہنے لگیں۔۔

”بھابھی تم آجاٶ ناں گھر۔۔ پھر مل کر بات کرتے ہیں۔۔“

انہوں نے الوداعی کلمات کہہ کر فون رکھا اوربے تابی سے شام کا انتظار کرنے لگیں۔۔ کب وہ نگار بیگم سے ملیں گی اور کب اس موضوع پر بات کرنا انہیں نصیب ہوگا۔۔ اس سارے قصّے سے بے خبر ذرا فاصلے پر واقع اونچے ستونوں پرجمی سفید حویلی کھڑی تھی۔ سردیوں کی نرم دھوپ حویلی کے وسیع و عریض لان پر گر رہی تھی۔ سارے ماحول کی خنکی خود میں سمیٹ کر گرتی دھوپ کے نرم ذرّوں نے سب کچھ نرم گرم سا کردیا تھا۔ وہ بھی تیار ہوکر حویلی کے داخلی دروازے سے باہر نکلی اور پتھریلی روش پر چلتی بی جان تک پہنچی جو لان میں آغا جان کے ساتھ بیٹھیں سردیوں کی دُھوپ سے لطف اندوز ہوتی چاۓ کے گُھونٹ بھر رہی تھیں۔ اسے آتا دیکھ کر مسکراٸیں۔ زمان بھی اسے دیکھ کر شفقت سے مسکراۓ تھے۔ وہ انکی زندگی کے باغ کا سب سے حسین گُلاب تھی۔۔ کھلتا ہوا حسین گُلاب۔۔

اس نے سفید یونیفارم پر بڑی سی سیاہ چادر سے خود کو ڈھک رکھا تھا۔ ہاتھ میں پکڑی چند فاٸلز اور کالج کا سفید دوپٹہ لیۓ وہ ان تک پہنچی۔۔

”آغا جان۔۔ فرید کب تک آۓ گا فارغ ہوکر۔۔ ؟“

اس نے غالباً ڈراٸیور کا نام لیتے پریشانی سے استفسار کیا تھا۔ سُوندھی ہوا سے اسکی چادر پھڑپھڑانے لگی ۔۔

”اسکی بیوی بیمار ہے بیٹا۔ آنا بہت مشکل ہے اسکا۔۔ تم کیوں پریشان ہو رہی ہو۔۔ ولی لے جاۓ گا تمہیں۔۔ ابھی بس ڈیرے کے لیۓ نکلنے ہی والا ہے وہ۔۔ ارے وہ دیکھو آگیا ولی۔۔“

انکے کہنے پر وہ بے ساختہ مڑی تھی اور اسی سرعت سے اس نے اپنا رُخ واپس بھی موڑ لیا تھا۔ اسکی سیاہ چادر اسکے بالوں سے پھسلی تو اس نے آگے سے کھنیچ کر اسے ماتھے پر برابر کیا۔۔ وہ آرہا تھا پیچھے سے۔۔ اسکے اتنے قرب پر بھلا وہ کیسے نارمل رہ سکتی تھی۔۔ عموماً اس کا دوپٹہ یا تو شانوں پر ہوتا تھا یا پھر کبھی کبھی سر پر، مگر ولی کی موجودگی میں وہ اسی طرح کنفیوژ ہوکر اُلٹی سیدھی حرکتیں کر جایا کرتی تھی۔۔

”اسّلام علیکم“

قریب پہچ کر اس نے دھیمے لہجے میں سلام کیا اور پھر جب وہ جھک کر بی جان سے پیار لینے لگا تو امل کی نظریں اسکے سراپے پر پھسلیں۔۔ اس نے نسواری رنگ کی قمیص شلوار پر سیاہ چادر گردن کے گرد لپیٹ رکھی تھی۔۔ چہرہ ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا البتّہ آنکھوں کا گلابی پن اسے معمول سے کچھ زیادہ محسوس ہوا۔۔ شاید وہ پچھلی ساری رات پھر نہیں سویا تھا۔۔

”ڈیرے پر جارہے ہو ولی۔۔؟“

آغا جان نے چاۓ کا کپ سامنے سفید میز پر رکھا اور پھر اسے دیکھتے پوچھا۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا تھا۔۔

”جی سردار بابا۔۔ کوٸ کام تھا۔۔؟“

اور پھر اسکی سرسری سی اُٹھی نگاہ امل پر پڑی تھی۔۔ امل نے ہاتھ میں پکڑی فاٸل کا کونا انگوٹھے سے کُترا۔

”بیٹا فرید نہیں آۓ گا تین چار دن اور ہماری امل کے ہورہے ہیں پرچے۔۔ تم اسے کالج لے کر بھی جاٶ اور کالج سے لے کر بھی آنا۔۔“

اسے نرمی سے حکم دے کر انہوں نے اپنا کپ اُٹھایا تو ولی نے اسی گہری سنجیدگی سے سر ہلایا۔۔

”جی سردار بابا۔۔ “

اور پھر اسکی جانب مُڑا۔۔

” آٸیے بی بی“

وہ آگے بڑھا تو امل بھی بی جان سے سر پر پیار لیتی اسکے پیچھے آٸ۔ ولی نے فرنٹ سیٹ سنبھالی اور امل نے پچھلی سیٹ۔۔ اسے ایک نظر دیکھ کر ولی نے کار آگے بڑھا دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔

کھیتوں کے درمیان بنی کچی سڑک پر انکی گاڑی دوڑ رہی تھی۔ آس پاس سرسوں کے کھیتوں پر گرتی نرم دھوپ نے سارے سبزہ زار کو چمکا رکھا تھا۔ ایک لے میں بہتی ہوا سے ایک سمت کو لہلہاتے پھول امل کو اس سمے بہت بھلے لگے تھے۔ اس نے پلکیں جھپکا کر چہرہ اندر موڑا اور پھر شہد رنگ آنکھوں سے پیچھے جھانکتے شیشے کو دیکھا۔ ولی کا سنجیدہ اور کافی حد تک اجنبی سا چہرہ اسکے سامنے آیا تھا۔ وہ اتنی گہری سنجیدگی سے ڈراٸیو کررہا تھا کہ امل نے اسے دوبارہ دیکھنے کی ہمّت تک نہ کی۔ کبھی کبھی وہ ایسی نرمی برتتا تھا گویا سارے کا سارے اسکا ہو اور کبھی کبھی یوں اجنبی ہوجاتا گویا اسے جانتا تک نہ ہو۔ کل کے واقعے کے بعد اسے لگا تھا کہ اس کا پچھلے چار سال کا چڑھایا ہوا سخت سا خول کچھ تو چٹخ ہی گیا ہوگا مگر نہیں۔۔ ولی آج بھی اس سے اتنا ہی دُور اتنا ہی اجنبی تھا۔

یہ اسکا انداز تھا اور وہ اس سے بخوبی واقف تھی۔ کسی لمحے کے زیرِ اثر وہ کبھی بھی اسکے روبرو نہیں آیا تھا۔۔

یا پھر شاید اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اسکی نرمی کے باعث آزماٸش کا شکار ہورہی ہے اسی لیۓ اس نے ہمیشہ کی طرح اس بکھرتے احساس کو سمیٹنے کے لیۓ خود کے گرد اندیکھا سا حصار کھینچا تھا۔ اور اس حصار نے امل کی ساری اُمیدوں پر ہمیشہ کی طرح پانی پھیر دیا تھا۔ اس کا دل ڈُوب ڈُوب کر اُبھرنے لگا مگر وہ اسکی حالت سے یکسر انجان گہری خاموشی سے ڈراٸیو کررہا تھا۔ جیسے اسکے نزدیک اس سے زیادہ کچھ بھی اہم نہ ہو۔۔

اس نے اپنی فاٸل کا کونا پھر سے انگوٹھے سے کُترنا شروع کیا۔ گاڑی میں پھیلی اس خاموشی نے اسے مزید نروس کردیا تھا۔۔

”ٹاٸم کیا ہے آپکی چُھٹی کا۔۔؟“

اس نے اسے دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔ سامنے لگے شیشے کے پار دیکھتے اس نے بے تاثر سا سوال کیا تھا۔ امل نے خشک ہوتے ہونٹوں کو آپس میں مس کیا اور بے اختیار پلکیں جھپکاٸیں۔

”بارہ بجے ہے چُھٹّی۔۔“

سر کو جُھکاۓ اس نے کمزور سی آواز میں کہا تو ولی نے اثبات میں سر ہلاتے گاڑی کالج کے گیٹ کے آگے روکی۔۔ وہ ہونٹ کاٹتی باہر نکلی اور دروازہ بند کرکے کالج کے گیٹ کی سمت بڑھ گٸ۔ ولی اب بھی ویسے ہی سامنے دیکھ رہا تھا۔ جب وہ کالج کے اندر بڑھ گٸ تو وہ گاڑی نکال لے گیا۔ امل آنکھوں میں ڈھیروں پانی لیۓ کالج کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھی تھی۔ اسکا دل بہت سے احساسات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

”ساری زندگی گند کا ڈھیر رہوگے تم۔ کبھی عزت کی زندگی نہیں گزار سکو گے“۔۔

ڈراٸیو کرتے اسکے ذہن کے کہیں پچھلے حصّے میں بہت عرصے پہلے کہی گٸیں نگار بیگم کی باتیں گُونجی تھیں۔ اس نے ضبط سے دانت جماۓ اور گاڑی کی رفتار کو بڑھادیا۔۔

”کیا ضرورت تھی حرام کی اولادیں گھر میں پالنے کی۔۔ اب جو بھی زمان کے ساتھ ہوگا وہ خود بُھگتے گا۔۔ کیونکہ گندے خون ہمیشہ بربادی لاتے ہیں۔۔ کبھی خوشحالی کا تصور نہیں کرسکتا انسان انکے ساتھ رہتے ہوۓ۔۔“

اسکے آس پاس شور بہت بڑھ گیا تھا۔ اسے اس شور میں ہر ایک کی آواز سُناٸ دینے لگی تھی۔ وہ ان سب کو بُھولا ہی کب تھا۔ اس نے تو ان آوازوں کے ساتھ اپنا سارا بچپن گُزارا تھا۔ اس نے ان آوازوں سے پیچھا چُھڑانے کی بہت کوششیں کی تھیں۔ اس نے اس سب سے آزادی کے لیے بہت ایڑیاں رگڑی تھیں مگر لوگوں کے کسے گۓ فقرے۔۔ انکی دی گٸیں گالیاں۔۔ انکے منہ سے نکلتے بددعاٶں کے سیلاب نے اسے چین لینے ہی کب دیا تھا۔۔ اس نے سکون آخر دیکھا ہی کب تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں اب ضبط کے باعث گہری سُرخی اُبھرنے لگی تھی۔ اسٹیرنگ کو تھامے اسکے ہاتھ مزید سخت ہوۓ تھے۔

اس نے بے ساختہ اپنی جلتی گردن پر ہاتھ رکھا۔ اس گردن پر کبھی حسین احمد کی گرفت بہت سخت رہی تھی۔ یکایک اسکے رُخسار میں جلن ہونے لگی۔ اس رخسار پر اس نے بارہا لوگوں کے طمانچے سہے تھے۔ اسے وہ رات آج بھی یاد تھی جب اسے اندھیرے کباڑ خانے میں ڈال کر باہر سے دروازہ بند کردیا گیا تھا اور اس کباڑ خانے کے اندر رال ٹپکاتا خونخوار کُتّا چھوڑدیا گیا تھا۔ جس سے لڑتے اس نے ساری رات گزاری تھی اور علی الصبح جب اسکی لاش دیکھنے کے لیۓ حسین احمد نے دروازہ کھولا تو اسے زندہ دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا تھا۔ اس نے وہ رات سرواٸیو کر لی تھی۔ اس نے وہ عذاب جھیل لیا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا اندر داخل ہوا اور ایک جانب پڑے مرے ہوۓ کتّے کو دیکھا۔ اسکی گردن سے ڈھیروں ڈھیر خون بہہ کر ولی کے پاٶں پر جما تھا اور ولی۔۔ وہ بُت بنا بیٹھا تھا۔ جیسے پتّھر کا ہوگیا ہو۔ اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں کوٸ زندگی باقی نہیں رہی تھی۔

”میں نے اسے مار دیا۔۔ وہ مجھے نوچ رہا تھا۔ مجھے چیر پھاڑ دینا چاہتا تھا تو میں نے اسکی جان لے لی۔ میں نے اپنا بدلہ نہیں چھوڑا۔ میں اپنا بدلہ کسی پر نہیں چھوڑونگا۔۔“

اسکے ہاتھ میں کوٸ نوکیلی چیز تھی۔۔ کوٸ شیشہ تھا شاید۔۔ جسے اس نے بند مُٹھی میں دبا رکھا تھا۔ خون کی چند بُوندیں اسکی بند مٹھی سے ٹپک کر نیچے کچی زمین میں جذب ہوٸیں تو اس نے ساکت پتلیاں جھپک کر چہرہ اوپر اُٹھا کر حسین احمد کو دیکھا۔۔

”تم بہت ظالم ہو ولی۔۔ بہت بڑا سرواٸیور ہو۔ تمہیں کبھی کوٸ آگ نہیں جلا سکے گی کیونکہ تم خود آگ ہو۔ تم خود ایک عذاب ہو۔۔ اور عذاب، عذاب کو نہیں کاٹا کرتا۔۔“

”کیا میرے لیۓ کام کروگے۔۔؟“

اسکے کہنے پر اسکی نسواری آنکھوں میں خون اُترا۔ وہ محض ایک چودہ سالہ لڑکا تھا۔ پتلہ دُبلا سا۔۔ مگر اسکی آنکھوں میں جلتی آگ حسین احمد کو بہت متاثر کیا کرتی تھی۔

”میں کبھی تمہارا کام نہیں کرونگا۔۔ کبھی تمہارے لیۓ کام نہیں کرونگا۔۔ کبھی تم پر تُھوکونگا بھی نہیں۔۔“

ایک زنّاٹے دار چانٹا اسے پڑا تو وہ بے اختیار ایک جانب کو لُڑھکا۔۔ اسے کھانسی آٸ تھی۔ گہرے گہرے سانس لیتے اس نے چہرہ دوبارہ حسین کی جانب گُھمایا تھا۔۔

”اس رات مسجد کے دروازے پر تمہیں ڈالنے کے بعد تمہاری ماں کو میں نے اسی کُتّے کے حوالے کیا تھا اور اس وفادار نے مجھے مایوس نہیں کیا ولی۔۔ لیکن تم۔۔ تم نے ثابت کردیا کہ تم میرا ہی خون ہو۔ مجھ سے ہی پیدا ہو۔۔“

ولی چند پل بے یقینی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔ اسے لگا وہ کبھی سانس نہیں لے سکے گا۔ اسے لگا وہ پتّھر کا ہوجاۓ گا۔۔ اسے لگا وہ مر جاۓ گا۔۔ مگر وہ نہیں مرا۔۔ وہ بچ گیا۔۔ حقیقت جاننے کے بعد بھی بچ گیا تھا وہ۔۔ اسکا باپ کوٸ اور نہیں حسین احمد تھا جسکے ناجاٸز تعلقات سے پیدا ہونے والا ولی اب اسکے لیۓ ایک گالی کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو یہ تھا وہ سچ جسے سُننے کے لیۓ اسکے کانوں نے چودہ سالوں سے انتظار کیا تھا۔۔۔! یہ تھا اسکا سچ۔۔ حسین احمد تھا اسکا باپ۔۔ اور وہ تھا اسکی ناجاٸز اولاد۔۔!

”کیوں کیا تم نے اتنا بڑا ظلم۔۔۔؟؟؟“

اسکے جسم میں گردش کرتا سارا خون اسکے دل کے گرد جما ہونے لگا تھا۔ ایک کے بعد ایک لہر اسکے سر سے لیکر پیر تک گزر رہی تھی۔ اور وہ ان لہروں کے اثر سے ٹھنڈا پڑتا جارہا تھا۔ وہ سفید پڑ رہا تھا۔۔ اسکے جسم سے جان ختم ہو رہی تھی۔۔ ختم ہونے کو تھی۔۔

ّ”محبت کرتا تھا میں تمہاری ماں سے۔۔ اسے روکتا رہا مگر وہ مجھے بہکا رہی تھی۔ اس سب میں سب سے زیادہ قصور وار تمہاری ماں تھی۔ لیکن جب مجھے لگا میں تمہیں افورڈ نہیں کرسکتا تو میں نے تمہیں مسجد کے باہر ڈلوایا اور رات کے اندھیرے میں تمہاری ماں کو اسی کباڑ خانے میں لاکر پھینگ گیا پھر اسکے بعد وہ تھی اور یہ خونخوار وفادار۔۔ مگر وہ ہار گٸ اور تم۔۔ تم جیت گۓ ولی۔۔!“

اسکی سماعت میں پگھلا سیسہ اُنڈیل دیا تھا حسین نے۔ اسے اپنی سماعتیں جلتی محسوس ہوٸیں۔ رگوں میں گویا ٹوٹے کانچ سے بکھر گۓ۔ اسکی نس نس میں درد ہونے لگا تھا۔ آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے آنسو اب کے اسکے جذب ہوۓ خون پر گررہے تھے۔ اس نے کھینچ کر سانس لیا۔۔ اسے سانس لینے میں دُشواری ہورہی تھی۔۔ کانچ چھوڑ کر اس نے خون میں لت پت ہتھیلی اپنے پُھولتے سینے پر رکھی۔۔ اسکا کوٸ سینہ گھونٹ رہا تھا۔ کوٸ اسکی سانسیں ضبط کررہا تھا۔۔

”تمہیں زندہ نہیں بچنا چاہیۓ تھا ولی۔۔ مگر بچ گۓ۔۔ تم نے زندہ رہ کر غلطی کردی ولی۔۔ تمہیں مرنا تھا۔۔ تمہارا زندگی سے رشتہ میرے لیۓ بہت مہنگا ہے مگر میں تمہیں زندہ چھوڑ رہا ہوں۔ تمہیں نٸ زندگی سے نواز رہا ہوں۔۔ جاٶ جیو اپنی زندگی۔۔“

موت کا صور اسکی سماعتوں میں پُھونک کر وہ اس سے زندہ رہنے کا مطالبہ کررہا تھا۔ ولی کی سانس اکھڑنے لگی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو ویسے ہی بہہ رہے تھے۔۔ اسی طرح متواتر۔۔ وہ زمین پر لوٹنے لگا۔۔ اسکے جگہ جگہ سے پھٹے لباس پر اسکے زخموں سے رستا خون لگا تھا۔۔ حسین احمد کھڑا ہوا اور پھر اسے نفرت سے دیکھ کر پیر سے ٹھوکر مار کر پرے کیا اور کباڑ خانے کے دروازے کو بند کرتا باہر نکل گیا۔۔ ولی اب تک زمین پر تڑپتا ہوا لوٹ رہا تھا۔ ایک جانب مرے کُتّے کی ادھ کھلی آنکھوں میں دیکھتے دیکھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا تھا۔ کتا ویسے ہی بے سُدھ ایک جانب پڑا رہا اور سیاہ رات پر چڑھا گناہوں کا ورق فجر کی صداٶں سے دُھلنے لگا۔۔ ایک اذیت تمام ہوٸ تھی۔۔ ایک اذیت کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گاڑی ایک جانب روکی اور پھر کار سے نکل آیا۔ اسے ویسی ہی گُھٹن ہورہی تھی جیسی اس رات ہوٸ تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسکی آنکھیں گیلی تھیں۔ اس نے چونک کر چہرے پر ہاتھ پھیرا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسکا تو سارا چہرہ ہی بھیگا ہوا تھا۔ یہ کب ہوا۔۔؟ اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ وہ رورہا ہے۔ وہ کیوں رورہا تھا نہیں جانتا تھا۔ مگر وہ بس رونا چاہتا تھا۔۔ اسکے اندر برسوں سے جمے آنسو امل کی نرم سی محبت میں پگھلنے لگے تھے۔۔ برف سا ولی اس محبت میں قطرہ قطرہ پِگھل رہا تھا۔ اس نے اپنے داٸیں ہاتھ کی ہتھیلی سیدھی کرکے نگاہوں کے سامنے کی۔ اس ہتھیلی پر آج بھی اس زخم کا نشان تھا۔ بلکہ اسکے تو سارے جسم پر نشان تھے۔۔ اور جو نشان اسکی روح پر تھے اسکا اندازہ کرنا تو اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا۔۔

وہ اسے کبھی نہیں ملے گی۔۔

وہ اسکی کبھی نہیں ہو سکے گی۔۔

وہ اسے اپنے قریب کبھی نہیں آنے دیگا۔۔

اور یہی باتیں سوچ کر اسکے دل سے خون رسنے لگا تھا۔ گلابی پڑتی آنکھوں پر اس نے بازو رکھا اور خود کو رونے سے روکا۔۔ اسکے گلے میں آنسوٶں کا گولہ سا پھنس رہا تھا۔ جب ضبط کے باعث اسکا گلا دُکھنے لگا تو اس نے گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔۔ اسکے اندر پھر سے ٹوٹے کانچ بکھرنے لگے تھے اور ولی اپنی بکھری ذات کو سمیٹتا ہانپنے لگا تھا۔۔ ولی تھکنے لگا تھا۔۔ ولی احمد تھک گیا تھا۔۔

دوسری جانب اپنے تاریک کمرے میں نرم سے بستر پر چت لیٹا حسین چھت کو تکتا مسکرا رہا تھا۔۔ اس چہرے پر آج بھی وہی سفّاکیت تھی جو اس رات قاٸم تھی۔ یہ وجود آج بھی اتنا ہی سرد تھا جتنا کہ کٸ سال پہلے تھا۔ اس وجود پر آج بھی سرد مہری کا وہی خول چڑھا تھا جو بہت برس پہلے تھا۔۔ حسین آج بھی وہی تھا۔۔ مگر ولی۔۔ وہ ہر دفعہ کی طرح ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔۔ ہر رات اپنے ماضی کے زخموں کو اُدھیڑتا ولی جانتا تھا کہ وہ کبھی نارمل نہیں ہوسکے گا۔۔ وہ اب کبھی زندگی کو نہیں جی سکتا تھا۔۔ اس پر زندگی حرام تھی۔۔ اور جس سے اس نے ساری زندگی سے بڑھ کر محبت کی تھی اسکا ساتھ تو خیر ویسے بھی اسکے لیۓ حرام کردیا گیا تھا۔۔

اس نے نم آنکھوں کو بے دردی سے رگڑا اور گاڑی کی جانب چلا آیا۔ دروازہ زور سے بند کیا اور کار حسین احمد کی حویلی کو جاتے راستے پر ڈال دی۔ اس نے اتنے برس انتظار کیا تھا۔۔ اس نے اتنے سال سے طاقت جمع کی تھی۔۔ اب بھی وہ یہی کررہا تھا۔۔ ایک ہی مقصد تھا اسکا۔۔ حسین احمد کو قتل کرنا۔۔ ڈراٸیو کرتے اب اسکے چہرے پر بھی ویسی ہی سفّاکیت تھی جو حسین کے چہرے کا خاصہ تھی۔۔ وہ اب تک زندہ اس لیۓ رہا تھا تاکہ حسین احمد کو اپنے ہاتھوں سے مار سکے۔۔ اور وہ ایسا ضرور کرے گا۔۔ بھلے ہی اسکے بعد اسے پھانسی ہوجاۓ۔۔ اسے اپنی کوٸ پرواہ نہیں تھی۔۔ اسے اپنی ذات سے کوٸ غرض نہیں تھا۔۔ اسے بس حسین کا سر چاہیۓ تھا۔۔ اورجب تک وہ اسے اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کردیتا اسے کسی طور چین نہیں آنا تھا۔۔ اسکے جمے دانت اور کنپٹی کو جاتی اُبھری رگ غصّے سے پھڑک رہی تھی۔۔ کوٸ اسے دیکھتا تو ڈر جاتا۔۔ یہ تو وہ ولی تھا ہی نہیں۔۔ یہ تو کوٸ اور شخص تھا۔۔

گاٶں کی کچّی سڑک پر دوڑتی گاڑی ہر لمحے سفید حویلی کے قریب ہوتی جارہی تھی۔۔ آتے وقت کے قدموں کی خوفناک دھمک کوٸ بھی محسوس کرسکتا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *