Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 12) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

اس نے سر گٹھنوں میں دے رکھا تھا اور ویران آنکھیں لاک اپ کی کچی زمین پر جما رکھی تھیں۔۔ یکایک بہت سے لوگوں کی آوازوں پر اس نے سر اُٹھایا۔۔ دو تین اہلکار سلاخوں کے اس پار کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے اور دوسرا آفیسر جھک کر اس کے لاک اپ کا تالا کھول رہا تھا۔ وہ اب گردن پوری اُٹھاۓ ان لوگوں کو دیکھتا رہا۔۔ ریڑھ کی ہڈی نہ جانے کیوں سنسنا اُٹھی تھی۔۔ اہلکاروں نے اندر داخل ہو کر اسے اُٹھایا۔۔

“ک کہاں لے جارہے ہو مجھے۔۔ چھوڑو مجھے۔ چھوڑو۔۔”

مسلسل مزاحمت کرتا وہ اپنا بازو اہلکار کی سخت گرفت سے چھڑا رہا تھا مگر وہ ایک بہت جاندار قسم کا آدمی تھا۔۔ اس کی گرفت سے نکلنا آسان نہیں تھا۔۔

ایک کمرے میں لے جا کر اسے کرسی پر گویا پٹخا گیا اور پھر اہلکار گھوم کر اس کے سامنے رکھی کرسی پر جابیٹھا۔۔ وہ شاید اس تھانے کا ٹارچر سیل تھا۔ کمرہ نہ زیادہ بڑا تھا اور نہ ہی زیادہ چھوٹا، درمیان میں ایک میز رکھی تھی جس پر چند کورے کاغذات اور قلم رکھے تھے، میز کے آمنے سامنے صرف دو کرسیاں تھیں۔ ایک جس پر ولی بیٹھا ہوا تھا اور ہتھکڑی میں بندھے ہاتھ گود میں پڑے تھے اور دوسری جانب کرخت چہرے والا بھاری سا اہلکار تھا جس کی چبھتی نظریں ولی پر ساکت تھیں۔ باقی کے اہلکار دروازہ بند کرتے باہر کی جانب بڑھے تو ولی چونکا۔۔

چہرہ گھما کر پہلے بند دروازے کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھے آدمی کو۔۔

“کیوں کیا تم نے اس لڑکی کا ریپ۔۔۔؟”

اس کی عجیب سی آواز کمرے کی دیواروں سے پلٹ کر آتی عجیب سا ارتعاش پیدا کررہی تھی مگر ولی اس کے سوال پر جم گیا تھا۔۔

“میں نے پوچھا کیوں کیا تم نے اس کے ساتھ ایسا۔۔؟”

“میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے سمجھے۔۔!”

ایک جھٹکے سے اس نے ہتھکڑی میں بند ہاتھ ٹیبل پر مارے تو کمرہ اس کی آواز سے گونج اُٹھا۔۔

“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ مجھے یہ بتاٶ کہ تم نے کس وقت اس کا ریپ کیا اور کیوں۔۔؟”

اسکے سر کے اوپر جھولتا بلب ہولے ہولے داٸیں سے باٸیں اور پھر باٸیں سے داٸیں لہرا رہا تھا۔ اس کی تیز روشنی آنکھوں میں چبھن پیدا کردیتی تھی اور سر میں درد کی سی ٹیسیں اُٹھنے لگتی تھیں۔۔

“میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ تم یہ بات اچھے سے جانتے ہو لیکن میرے سامنے یہ اداکاری۔۔”

اس کی بات پوری بھی نہیں ہوٸ تھی کہ آفیسر گھوم کر اس کی کرسی کی جانب آیا اور پھر اس کو بالوں سے پکڑ کر اس کا سر ٹیبل پر دے مارا۔۔ ایک دفعہ، دو، تین، چار۔۔

اسکا جیسے سر گھوم کر رہ گیا تھا۔ اہلکار نے اس کا چہرہ بالوں سے دبوچ کر اونچا کیا۔ اس کے ماتھے سے خون کی پتلی سی لکیر بہہ کر کنپٹی میں جذب ہوگٸ۔۔ ادھ کھلی آنکھوں سے اسے اہلکار کا چہرہ نظر آیا تھا۔۔

“تم چوبیس اکتوبر کی رات کہاں تھے۔۔۔؟” پھر پوچھا۔۔

“اپنے دوست کے ساتھ تھا میں۔۔”

اس نے بھی اسی بے خوفی سے کہا تو اب کے اہلکار سیدھا ہوا اور پھر اس کی کرسی کو ایک لات ماری تو وہ بندھے ہاتھوں کے ساتھ دور جاگرا۔۔ داٸیاں گھٹنا اور ہاتھ بہت بری طرح چِھل گیا۔۔ سر بہت زور سے کرسی کے ہتّھے سے ٹکرایا تھا۔۔

“بولو۔۔ کہاں تھے چوبیس اکتوبر کی رات تم۔۔۔؟”

وہ اسی کرخت چہرے کے ساتھ اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا اور پھر اس کا سر بالوں سے پکڑ کر اوپر کو اُٹھایا۔۔

“میں اپنے دوست۔۔۔”

الٹے ہاتھ کا بھاری تھپڑ اسے پڑا تو اس کا چہرہ ایک جانب کو گھوم گیا۔۔ گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ اسے کھانسی آٸ تھی۔۔

“کہاں تھے چوبیس اکتوبر کی رات تم۔۔۔؟”

ایک بار پھر پوچھا تو اس نے اب کے گلابی آنکھوں سے اہلکار کو دیکھا۔۔

“تمہاری ماں کے ساتھ تھا۔۔”

ایک زوردار مکّا اس کے جبڑے پر پڑا تو وہ دیوار سے جاٹکرایا۔۔

اہلکار اسے اُٹھا کر سیدھا کرتا کرسی کی جانب لایا اور پھر کمرے کے اندھیر حصّے سے ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھالایا۔۔ ولی کی ادھ کھلی آنکھوں نے اس ڈنڈے کو دیکھا اور پھر اہلکار کو۔

“کہاں تھے چوبیس اکتوبر کی رات تم۔۔۔؟”

“اپنے دوست کے۔۔”

موٹا سا ڈنڈا بہت زور سے مارا تھا اس کے سر پر۔۔ ایک سیکنڈ کے لیۓ ساری دنیا چکرا کر رہ گٸ۔۔ اور پھر ہر دفعہ کے استفسار پر اس کا ایک سا جواب اس کے جسم پر ضربیں لگاتا گیا۔۔ اس کا پورا جسم سُرخ ہوگیا تھا اور اتنا درد کرنے لگا تھا گویا پِیپ کا کوٸ پکا ہوا پھوڑا ہو۔۔ جسم پر جابجا گہرے نِیل پڑ گۓ تھے اور سر تو جیسے مستقل گھوم رہا تھا۔۔ چکراتے سر کے ساتھ اس کا دل متلایا تو اس کے منہ سے قے نکلی۔۔ گرم گرم آنسو بھی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔

بہت بُری حالت میں اسے لاکپ میں لا کر پٹخا گیا تھا۔۔ اس ساری رات درد سے بلکتا ولی کرّاہ رہا تھا۔۔ شدید ٹیسوں کے باعث وہ کبھی ایک جانب کو لڑھکتا اور کبھی دوسری جانب کو۔۔ آنکھوں سے آنسو ویسے ہی بہہ رہے تھے اور گلے میں ایک بار پھر سے بہت کچھ اٹکنے لگا تھا۔۔

ابھی تو چند دن پہلے زندگی اچھی لگنے لگی تھی۔۔ ابھی تو اس نے اس کی نرم سی محبت کو ٹھیک سے محسوس بھی نہیں کیا تھا۔۔ ابھی تو وہ اس کی آنکھوں کے سحر سے آزاد بھی نہیں ہوپایا تھا۔۔ ابھی تو۔۔ ابھی تو بہت کچھ باقی تھا مگر وہ فنا ہوتا جارہا تھا۔۔

اوندھے پڑے لڑکے کو ایک ایک کر کے اس کی ہر ادا یاد آنے لگی تو دل کا ہر زخم ہرا ہوتا گیا۔۔ آنکھوں سے بہتے آنسوٶں میں شدت آگٸ۔۔ اوپر والے سے شکوے بڑھتے گۓ۔۔

اور پھر اس کی سسکیوں کی ہلکی ہلکی سی آواز اس لاک اپ میں گونجنے لگی۔۔ رات کے اس پہر سنسان پڑا تھانہ اس کی دلدوز سسکیوں کی لپیٹ میں آرہا تھا۔۔

وہ اسی طرح اوندھے منہ لیٹا اب کے بلند آواز سے رونے لگا تھا۔۔ اندر اتنی توڑ پھوڑ مچی تھی کہ کچھ بھی سُجھاٸ نہ دیتا تھا۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کس کس زخم کو روۓ۔۔ کس کس درد کا ماتم کرے۔۔ کس کس دم توڑتی خواہش کا لہو اپنی گُھٹتی رگوں کے ساتھ لپیٹتا جاۓ۔ سب ختم ہورہا تھا۔۔ وہ مٹی ہورہا تھا۔۔ راکھ کا ڈھیر بنتا جارہا تھا۔۔

اب کے سسکیاں بہت بلند ہو کر رونے کی آواز میں بدل گٸ تھیں۔۔

پھر وہ بمشکل بے طرح دُکھتے جسم کو گھسیٹتا سیدھا ہوا۔ جوڑ جوڑ، نس نس میں درد خون کے ساتھ بہہ رہا تھا۔ زندگی تھی کہ کسی بھی طرح اس پر رحم کرنے کو تیار نہ تھی۔۔ آس پاس پلتے لوگ تھے جو کسی بھی طرح اسے اس کے اندھیر ، تاریک ماضی سے نکلنے ہی نہ دیتے تھے۔۔ اسے جلا رہے تھے۔۔ پل پل ماررہے تھے۔۔ کمر دیوار سے لگاٸ اور گھٹنے سمیٹ کر سینے سے۔۔ گھٹی گھٹی سی سسکیوں کی آواز اب تک سُناٸ دیتی تھی۔۔

اچھی زندگی کی خواہش اور کسی ایسی جگہ رہنے کا خواب جہاں اسے کوٸ نہ جانتا ہو، سب کچھ اس لاک اپ میں نے نگل لیا تھا اور اگر اس کے اندر کچھ باقی رہ گیا تھا تو وہ صرف انتقام کی چاہ تھی۔۔ جنہوں نے اس کی زندگی برباد کی تھی ان کا خون پینے کی پیاس رہ گٸ تھی بس۔۔

امل کی محبت اور اپنی ذات کا احساس تو اسی رات ختم ہوگیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ کبھی اب کسی سے محبت نہیں کرپاۓ گا۔۔ آج اس کے اندر موجود سب ختم ہورہا تھا۔۔

آنسوٶں کو بے دردی سے رگڑ کر اس نے اپنی ابھرتی سسکیوں کا گلا گھونٹ دیا۔۔ دانت سختی سے جما لیۓ۔۔ ضبط سے آنکھیں سُرخ پڑنے لگیں۔۔ مگر اب بس۔۔

اب وہ نہیں روۓ گا۔۔

آنسو روکنے کے باعث گلے میں پھندے پڑنے لگے، دل بند ہونے لگا۔۔ مگر نہیں۔۔ اب ان آنکھوں سے کوٸ آنسو نہیں ٹپکنا تھا۔۔ اس کے اندر جلتی آگ نے اس کے آنسوٶں کو خشک کردیا تھا۔۔ لاک اپ میں اب کے سسکیوں کی آواز نہ سُناٸ دیتی تھی۔۔ بس عجب سی وحشت پھیل گٸ تھی۔۔ گھٹنوں کو سینے سے سمیٹ کر بیٹھا لڑکا درد کی انتہاٶں پر پہنچنے کے بعد اب کچھ بھی محسوس نہیں کرپارہا تھا۔۔ ایک الاٶ تھا جو بھڑک رہا تھا بس۔۔ ایک راکھ تھی جس کے اندر آخری چنگاری باقی رہ گٸ تھی۔۔ اب کچھ نہیں تھا اس کے اندر۔۔

اس نے سر دیوار کی پشت سے ٹکا دیا اور خالی خالی نظروں سے چھت کو دیکھے گیا۔ سیاہ رات میں گاٶں کی پہاڑی سے کسی بھیڑیے کی رونے کی آواز آٸ تھی۔۔ جیسے اپنے کسی زخمی ساتھی کے دُکھ میں شرکت کا اعلان ہو۔۔ اس نے چہرہ جھکا کر اپنے زخمی جسم کو دیکھا۔۔

ضبط کی نمی آنکھوں میں تیرنے لگی مگر آنسو باہر نہیں گِرا۔۔ پلکوں کی باڑھ پر ٹھہر گیا۔۔ بھیڑیے کے رونے کی آواز اب تک سُناٸ دے رہی تھی۔۔ تاریک لاک اپ میں بیٹھا لڑکا بھی زخمی بھیڑیا بن گیا تھا۔۔جس کی واپسی کے اب سارے راستے بند ہوچکے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

دوسری جانب زمان نے بذاتِ خود مولوی صاحب سے جا کر ملاقات کی تھی جس کا نتیجہ کچھ بھی نکلا تھا۔ وہ اسی بات پر مصر تھے کہ یہ حرکت ولی کی ہی ہے۔ ان کی بیٹی سے بات کرنا چاہتے تھے زمان مگر مولوی صاحب نے سختی سے منع کردیا کہ اب ان سب کی کچھ ضرورت نہیں۔۔ ولی کو سزا ہوگی اور وہ اسی طرح سلاخوں کے پیچھے سڑتا رہے گا۔۔

پریشانی سے جب وہ گھر لوٹے تو بی جان دروازے میں ہی ٹِکی تھیں۔ ان کے شکستہ سے انداز پر ان کا اپنا وجود بھی ڈھے گیا تھا۔۔ امل نے تو پھر کمرے کا دروازہ ہی نہیں کھولا۔۔ خود کو اندر بند کرلیا۔۔ اور مستقل روۓ جارہی تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کرے تو کیا کرے۔ جاۓ تو کدھر جاۓ۔۔ کہے تو کس سے کہے۔۔

زمان صبح ہوتے ہی تھانے پہنچے، ولی کی ابتر حالت دیکھ کر ان کے دل کو دھکا سا لگا تھا۔

“اتنا تشدد کرنے کی اجازت کس نے دی ہے آپ لوگوں کو۔۔۔؟”

وہ اے ایس پی پر دھاڑے مگر جواباً وہ خاموش رہا۔۔ ولی نے سردار بابا کی آواز سُن لی تھی مگر سر نہیں اُٹھایا۔۔ اس کا دل ہر شے سے اُچاٹ تھا۔۔

“یہ اعترافی بیان کی کاررواٸیاں ہیں زمان صاحب، حوصلہ رکھیۓ۔۔”

“حوصلہ رکھوں۔۔۔!”

انہوں نے زخمی آنکھوں سے اے ایس پی عبید کو دیکھا تھا۔

“اس طرح کا تشدد کیا نتیجہ لے کر آتا ہے کیا آپ نہیں جانتے۔۔؟ وہ ایک چھوٹا بچہ ہے جس کا جرم ابھی ثابت نہیں ہوا ہے اور آپ لوگوں نے ایک رات میں کیا حالت کر دی اس کی۔۔!”

ان کی گرج سے ایک پل کو تھانہ لرز کر رہ گیا تھا۔۔

“شیخ صاحب حوصلہ رکھیۓ۔۔ میں۔۔”

“میں بھی دیکھتا ہوں کہ میرے بیٹے کو آپ لوگ اب اس سب میں کیسے گھسیٹتے ہیں۔۔ اگر اب اسے کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو میں آپ کا یہ تھانہ تہس نہس کرکے رکھ دونگا۔۔ اور اب بات آپ سے کورٹ میں ہوگی۔۔”

ایک جھٹکے سے وہ کہہ کر اُٹھے تو ان کے ساتھ موجود گارڈز بھی انہی کے ساتھ باہر کی جانب ہولے۔۔ عبید نے بے اختیار پریشانی کے ساتھ پیشانی مسلی تھی۔۔ پھر موباٸل اُٹھا کر جلدی جلدی کوٸ نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔۔ کچھ ہی دیر میں ہاشم اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔۔

“تمہارے سردار بابا کیس کرنے کی دھمکی دے کر گۓ ہیں۔۔”

وہ جو بہت آرام دہ سا بیٹھا تھا یکدم سیدھا ہوا۔۔ پیشانی پر یکدم فکر مندی چمکی۔

“کیا بکواس ہے یہ۔۔۔!”

“جی یہ یہی بکواس ہے جو سُن رہے ہو تم، تیار رکھو اب خود کو کیونکہ تمہارے سردار بابا بہت غصّے میں گۓ ہیں یہاں سے۔ اور چونکہ یہ صرف ایک ڈھونگ تھا تو تم اب اپنی کمر مضبوط رکھنا، کیونکہ جتنے پیسے تم نے اس مولوی کو یہ سب کرنے کے لیۓ دیۓ ہیں اس میں وہ الزام تو لگا سکتا ہے مگر عدالت میں گواہی وہ کبھی نہیں دے گا۔۔ اور سونے پر سہاگہ۔۔ اس سارے کیس میں ولی کے پاس ایک نہیں دو دو ایلی باٸیز ہیں۔ ایک اس کا دوست اور دوسرا اس دوست کا باپ جو کہ خود بھی ایک وکیل ہے۔۔ اب جو سوچنا ہے سوچو کیونکہ میں تمہیں پہلے ہی منع کرچکا تھا اس سارے قصّے سے۔۔”

اے ایس پی سرد لہجے میں بولتا یکدم خاموش ہوا تو ہاشم نے مٹھی بند کر کے لبوں پر جما لی۔ اس کا سارا کھیل اس پر اُلٹ رہا تھا۔۔ اگر جو مولوی نے منہ کھول دیا یا پھر اس کی بیٹی نے۔ تو پھر وہ تو کہیں کا نہیں رہے گا۔۔

“کوٸ کیس نہیں ہوگا۔۔ کسی ٹراٸل تک نوبت نہیں جاۓ گی۔ میں دیکھتا ہوں اس مولوی کو تم جب تک اس کا منہ بند رکھنا”

پریشانی میں بولتا وہ جلد ہی وہاں سے اُٹھ گیا۔۔ اے ایس پی نے اسے تاسف سے جاتے دیکھا اور پھر لاک اپ میں بند لڑکے کو جو رات سے ایک ہی انداز میں بیٹھا تھا۔۔ انہیں بے ساختہ اس پر ترس آیا۔۔

“اجمل تالا کھولو۔۔”

کچھ سوچ کر اجمل کو بولتا وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر لاک اپ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

“ولی۔۔۔؟”

اس نے آواز پر سر اُٹھا کر سنسان آنکھوں سے اے ایس پی کو دیکھا تھا۔۔ ان آنکھوں کی وحشت دیکھ کر عبید دنگ رہ گیا۔۔

“کھانا کیوں نہیں کھایا تم نے۔۔؟”

اس کے ساتھ رکھی ٹرے کو دیکھ کر اس نے ولی کی جانب چہرہ پھیر کر کہا۔۔ کھانا جوں کا توں رکھا ہوا تھا۔۔

“بھوک نہیں تھی مجھے۔۔”

اس نے کہا اور پھر سے سر گھٹنوں میں دے لیا۔۔ اے ایس پی اس کے قریب چلتا پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔۔ پھر اس کے جُھکے سر کو دیکھا۔۔ دھوپ کے باعث اس کے سیاہ گھنے بال چمک رہے تھے۔۔ نسواری آنکھیں زمین پر جما رکھی تھیں۔ اٹھی سی خوبصورت ناک اور باریکی سے بنے ہونٹ۔۔ وہ بلاشبہ بہت خوبصورت لڑکا تھا۔۔ اپنی جوانی پر پہنچ کر یقیناً اس نے قیامت ڈھانی تھی۔۔

“تمہارے آگے زندگی پڑی ہے ابھی، اسے ضاٸع مت کرنا کسی بھی قسم کے انتقام میں۔۔”

جتنی آہستگی سے اس نے کہا تھا اتنی ہی تیزی سے ولی نے سر اُٹھایا تھا۔۔

“یہ زندگی بنی ہی انتقام کے لیۓ ہے سر، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے سواۓ انتقام لینے کے۔۔ میں انہیں اس زمین پر خوش و خرم نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے مجھ پر زمین تنگ کردی تھی آپ دیکھیۓ گا کہ میں ان پر زمین کیسے تنگ کرونگا۔۔ ابھی نہیں تو دس سال بعد۔۔ دس نہیں تو بیس سال بعد۔۔ لیکن یہ مرینگے۔۔ اور انہیں۔۔”

نسواری آنکھوں کی ساکت پتلیاں گلابی پڑنے لگیں۔۔

“میں مارونگا۔۔”

دھیمی آواز میں عجیب سی غرّاہٹ تھی۔۔ جیسے کسی زخمی شیر کی دھاڑ میں ہوتی ہے۔

اے ایس پی اسے چند پل دیکھے گیا۔۔

“اور اس کے بعد تمہارا کیا ہوگا۔۔۔؟”

“میرا۔۔!”

وہ اس سوال پر ہنس دیا۔۔ آنکھوں میں جمے آنسو پلکوں پر ٹھہرے ہوۓ تھے۔ شاید انہی کا اثر تھا کہ اس کی ہنسی بھی نم سی محسوس ہوتی تھی۔۔ آنسوٶں سے بھیگی ہوٸ۔۔

“اس سب کے بعد میں خود کو بھی ختم کرلونگا۔۔ جس جگہ سے ان کی لاش ملے گی اسی جگہ سے میری لاش بھی ملے گی۔۔”

اے ایس پی چند لمحے مبہوت سا بیٹھا رہ گیا۔

“میرے لیۓ اس زمین پر کچھ بھی نہیں ہے سر، میں یہاں صرف ذلت اُٹھانے آیا تھا بس۔ کسی کی حرام تسکین کا نتیجہ ہوں میں اور ایسے نتاٸج کا مرنا ضروری ہوتا ہے۔ میرا مرنا ضروری ہے۔۔ اور میں مرونگا۔۔ کبھی اگر آپ کو میں نہ ملوں تو سمجھ لیجٸے گا کہ ولی کسی سرد مردہ خانے میں ہوگا۔۔ کیونکہ میری منزل اب وہی ہے۔۔ نہ اس سے کچھ آگے اور نہ پیچھے۔۔”

عبید کو اس کی باتوں سے وحشت ہوٸ تو لاک اپ سے اُٹھ آیا۔۔ ولی نے آنکھیں موند کر سر پھر دیوار سے ٹکا دیا تھا۔۔ آگے کا لاٸحہ امل ابھی طے کرنا باقی تھا۔۔ وہ کمزور ہے اور وہ طاقتور بنے گا۔۔ اتنا طاقتور کہ ہاشم اور حسین کو موت کے گھاٹ اُتار سکے۔۔ ہاں۔۔ بالکل ایسا ہی ہوگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مولوی نے اس نے کے خلاف درج رپورٹ واپس لے لی تھی اور ولی تھانے کے بعد سیدھا اسپتال لے جایا گیا۔۔ اس کے زخموں کا علاج ضروری تھا۔۔ اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد وہ حویلی میں داخل ہوا تو بختیار اور نثار نے تنفر سے اسے دیکھ کر قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا دیۓ۔۔

اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔۔ نہ ذلت نہ عزت۔۔ بی جان بار بار اس کے زخمی چہرے پر، کبھی اسکے بازوٶں پر ہاتھ پھیر کر رو پڑتی تھیں۔۔

دو دن اسی خاموشی میں کٹ گۓ۔۔ وہ اپنے کمرے میں پڑا رہا۔۔ کسی سے کوٸ بات نہیں کی۔۔ پھر ایک شام وہ لان میں چلا آیا۔۔ شام کی چاۓ پر بی جان اور صرف سردار بابا ہی تھے۔۔ اسے آتا دیکھ کر دونوں مسکراۓ مگر وہ نہیں مسکرایا۔۔

آہستہ سے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔۔

“بیٹھو بیٹے۔۔”

زمان نے کرسی کی جانب اشارہ کیا مگر اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“سردار بابا، میں پڑھنا چاہتا ہوں اور کل میری بات ہوٸ ہے اصغر سے۔ اس نے کہا کہ میرا اینٹری ٹیسٹ کلیٸر ہوگیا ہے اور اب صرف داخلہ لینا ہے یونیورسٹی میں۔۔ لیکن۔۔”

وہ ایک پل کو رُکا تو زمان جو اس کی بات غور سے سن رہے تھے محتاط سے ہوکر بیٹھے۔۔

“ہاں کہو۔۔”

“میں ہاسٹل میں رہنا چاہتا ہوں۔۔ “

چند لمحوں کے لیۓ کوٸ کچھ نہ بولا۔۔

“ٹھیک ہے رہ لو بھلے کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔ بتاٶ کب سے ہیں ایڈمیشنز۔۔۔؟”

زمان نے فوراً بات سنبھال لی تھی اور وہ بھی در حقیقت یہی چاہتے تھے کہ وہ یہاں سے کچھ عرصے کے لیۓ چلا جاۓ۔ اسی لیۓ فراخدلی سے اسے اجازت دے دی۔ اس کے جانے کے بعد زمانی نے بے یقینی سے زمان کو دیکھا تھا۔۔

“آپ کیسے اجازت دے سکتے ہیں اسے۔۔۔؟”

“زمانی۔۔” انہوں نے ٹانگ پر سے ٹانگ ہٹاٸ اور پھر اپنا کپ میز پر رکھتے سیدھے ہوۓ۔۔

“یہ اس کے لیۓ بہتر ہے کہ وہ یہاں سے کچھ عرصے کے لیۓ چلا جاۓ، دور ہوجاۓ اس حویلی سے۔ ویسے بھی آۓ گا تو وہ یہیں ناں۔ تم پریشان مت ہو۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔ بس دعا کرو کہ ہمارا ولی بدلے نہ۔۔ کیونکہ اس کی غیر معمولی خاموشی مجھے پریشان کررہی ہے۔”

انہوں نے نظریں دوبارہ لان کے راستے پر ڈالیں جہاں سے وہ ابھی ابھی گیا تھا۔ بی جان نے دکھے دل کے ساتھ ٹھنڈی سی سانس لی تھی۔۔

چند دن بعد اس کا ایڈمیشن ہوگیا اور پھر وہ اپنا سامان باندھنے لگا۔ اسے ہاسٹل جانے کی کوٸ خوشی نہیں تھی۔ اسے بس یہاں سے نکلنا تھا۔ یہاں سے باہر جانا تھا کیونکہ اس حویلی میں اس کا دم گھٹتا تھا۔ بیگ پیک کرنے میں بی جان نے اس کی مدد کی تھی۔ وہ کچن میں رات کے پہر کسی کام سے آیا تو دیکھا وہ اداسی سے کچن میں کھڑی لان کی جانب کھلتی کھڑکی سے باہر کو دیکھ رہی تھی۔۔

اس نے قدم واپس موڑ لیۓ مگر وہ آہٹ پر سر گھما کر دیکھ چکی تھی۔۔

“ولی۔۔۔!”

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔ کچھ تھا جو اس کے اندر ابھرا تھا۔۔ شاید اس کی دھڑکن تھی جس کی آواز نے اسکی سماعت کو اپنے شکنجے میں قید کیا تھا۔

“جی بی بی۔۔۔”

وہ وہیں دروازے میں ایستادہ رہا البتہ اس کی جانب اپنا سراپا پھیر لیا تھا۔۔ ان کے درمیان بہت سا فاصلہ تھا۔۔ دُھلی چاندنی کھڑکی کے راستے کچن میں گررہی تھی۔۔

“کیسے ہیں آپ۔۔۔؟”

نرمی سے پوچھا۔۔ ولی اس نرمی سے پگھلنے لگا۔۔ اس کے اندر جمی برف میں ارتعاش سا اُٹھا تھا۔۔

“ٹھیک۔۔”

“ٹھیک تو نہیں لگ رہے۔۔” وہ وہیں کھڑے کھڑے بولی۔۔ اس نے گہرا سانس لیا۔۔

“ٹھیک ہوں۔۔۔”

“کیوں جارہے ہیں۔۔۔؟”

اف کیا سوال کررہی تھی یہ لڑکی۔ اس نے یاسیت میں جکڑی آنکھیں اٹھاٸیں۔ امل کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔۔

“ہاسٹل کی لاٸف بہت اچھی ہوتی ہے سنا ہے۔ بس وہی انجواۓ کرنے جارہا ہوں۔۔”

اس نے لہجے میں بشاشت لانے کی کوشش کی تھی مگر آنکھوں کی ویرانی پر اس کا کوٸ اختیار نہیں تھا۔۔

“اچھا۔۔” وہ قریب چلی آٸ۔ پھر اس سے ایک فاصلے پر رُک گٸ۔۔

“اور یہاں اگر جو کبھی بارش برسی تو اس گرج میں کس کا ہاتھ تھامونگی میں کبھی یہ سوچا ہے۔۔۔؟”

وہ ایک پل کو ساکت ہوا تھا۔۔

“جب بُلاٸنگی آجاٶنگا۔۔”

“اور اگر نہ آۓ تو۔۔۔؟”

“کیوں اتنے مشکل سوال کرتی ہیں آپ۔۔؟”

“میرے سوال آسان ہیں ولی بس آپ کے جواب ذرا مشکل ہیں۔ اندازہ ہے ان جوابات کو خود میں اتارنے کے لیۓ کتنی ہمت درکار ہوتی ہے۔۔ کہاں سے لاٶں اتنی طاقت میں۔۔۔؟ آپ تو جارہے ہیں۔ کبھی میرا بھی سوچ لیا کریں۔۔ کیونکہ ان آنکھوں کو آپ کو ہر پل، ہرلمحہ دیکھنے کی عادت ہوگٸ ہے۔۔ جانتے ہیں عادت کتنی جان لیوا ہوتی ہے۔۔؟”

اس کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا تھا۔۔ آنسو۔۔ ہاں اس کی آنکھوں میں آنسو جما ہونے لگے تھے۔۔ جنہیں کبھی نہ بہانے کا اس نے خود سے عہد لے رکھا تھا وہ اب اس کی آنکھوں سے گرنے کو بے تاب ہونے لگے تھے۔۔ کیا تھی یہ لڑکی۔۔۔! ساحرہ تھی شاید۔۔ اپنے سحر سے اس کی ساری تکلیف چپکے سے چُرالیا کرتی تھی۔۔

“اتنی جان لیوا ہوتی ہے کہ اگر کوٸ نظروں سے پل بھر کو بھی اوجھل ہوجاۓ تو سانس تک لینے میں دُشواری ہوجاتی ہے ولی۔۔ کیا آپ چاہتے ہیں میں سانس بھی نہ لوں۔۔؟”

اس کے پاس جواب نہیں تھا۔۔ چپ چاپ کھڑا اس سنہری سی لڑکی کو دیکھے گیا۔ اس کی محبت آج بھی سینے کو گھونٹ رہی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ اب وہ کچھ بھی محسوس نہیں کر پاۓ گا مگر وہ غلط تھا۔۔ بالکل غلط تھا۔ امل کی محبت مردہ سے ولی کو پھر سے زندہ کررہی تھی۔۔

“میں قابل نہیں ہوں آپ کے۔۔”

کچھ دیر بعد اس نے کہا تو آواز میں بہت ہلکی سی لرزش تھی۔۔ ایسی جیسے کچھ کھو دینے کے خوف کی لرزش ہوتی ہے۔۔ ایسی جیسے کسی جان سے پیارے کی تکلیف پر ہوتی ہے۔۔

وہ ذرا اور قریب آٸ۔۔

“یہ میں طے کرونگی آپ نہیں۔۔”

انگلی اُٹھا کر اسے تنبیہ کی تو وہ مسکرادیا۔ اتنے عرصے میں وہ آج مسکرایا تھا۔۔

“میں نے تو کبھی اپنی مرضی کی ہی نہیں بی بی، جب بھی، جو بھی کرینگی آپ ہی کرینگی مگر۔۔”

“مگر کے آگے کے جملے میں جانتی ہوں، قابل نہیں ہوں آپ کے، میرے ماں باپ کا پتہ نہیں ہے، میرا آگے پیچھے کچھ نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ ویسے اب آپ کو نکل آنا چاہیۓ اس سب سے ولی۔۔ لوگ نہیں بھول رہے تو نہ بھولیں بھاڑ میں جاٸیں۔۔ لوگوں کی پرواہ ہے کسے۔۔؟ مجھے تو بالکل بھی نہیں ہے۔۔ اور اگر آپ کو ان کی پرواہ ہے بھی تو جلد اس سب کو اپنے ذہن سے نکال دیں۔۔”

اسے سختی سے وارننگ دیتی وہ اس سمے دیکھنے کی چیز لگی تھی۔ اس سے بلا کی جھجھک تھی، شرم تھی اور بہت سا گریز بھی آڑے آتا تھا مگر جب وہ حق بولنے پر آتی تھی تو ان سب میں سے کوٸ چیز بھی اسے پیچھے نہیں دھکیلتی تھی۔ وہ بیک وقت کُھل کر سامنے آنے والی لڑکی نہیں تھی اور نہ ہی اس کا حسن نگاہوں کو چُندھیاتا تھا۔۔ بلکہ اس کا حسن بہت پُرسکون تھا۔۔ نظروں کو تکلیف نہیں دیتا تھا، طمانیت بخشتا تھا۔۔ شروع میں وہ اسے صرف ایک شرماٸ لجاٸ سی دوشیزہ لگتی تھی مگر ہاں۔۔ جب وہ بولنے لگتی تھی تو کیا غضب ڈھاتی تھی شاید اس کا اندازہ اسے خود بھی نہیں تھا۔۔

“میں آپ سے کوٸ وعدہ نہیں کرسکتا۔۔”

اس نے آہستہ سے اس کی چڑھتی امیدوں کو ہاتھ سے پکڑ کر زمین پر اُتار دیا تھا مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔۔

“لیکن میں تو اس ایک ہی وعدے کے سہارے جیونگی جو آپ مجھ سے نہیں کرینگے۔۔”

دھلی چاندنی سارے کچن کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔۔ ہر شے چاندی سے منور ہونے لگی تھی۔ امل کا نازک وجود بھی اور ولی کا اونچا سراپا بھی۔

“ضد مت کریں۔۔”

“آپ بھی تو مستقل یہی کررہے ہیں۔”

“میں ضد کررہا ہوں۔۔۔؟”

اس نے حیرت سے انگلی سینے پر رکھ کر پوچھا تو وہ دھیرے سے مسکراٸ۔ چاروں طرف چاندنی سی تحلیل ہونے لگی تھی۔۔

“آپ نہیں کررہے ضد، ضد صرف میں کررہی ہوں اور ضد صرف میں ہی کرسکتی ہوں۔۔ آپ نہیں کرینگے ضد۔۔ میں آپ کو کرنے ہی نہیں دونگی۔”

کیا مان تھا اور انداز نے تو گویا ولی کی معمول پر چلتی دھڑکنوں کو کٸ گنا بڑھا دیا تھا۔ یہ لڑکی اس کے دل پر حکومت کرتی تھی اور جس حق سے کرتی تھی ناں۔۔ اس نے ہونٹ دبا کر گردن کے پیچھے ہاتھ پھیرا تھا۔

“خیال رکھیۓ گا۔۔ چلتا ہوں۔۔”

اسے ایک نظر دیکھا بھی نہیں اور پلٹ گیا۔ وہ بھاگتی ہوٸ اس کے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔ اس کی بجتی پایل نے اس کی سانسوں کو الجھا سا دیا۔ وہ اسے آواز دے کر روک نہیں رہی تھی۔ شاید جانتی تھی کہ اسے آواز دیدی تو وہ پتھر کا ہوجاۓ گا مگر اس کی آواز کو کبھی نظر انداز نہیں کرے گا۔ اس کے پیچھے مسلسل بجتی اس کی پایل اسے روک رہی تھی مگر وہ کیسے رک سکتا تھا۔۔ رات کی تاریکی میں ڈوبی حویلی میں اس کے بجتی پایل شور کرنے لگی۔۔ مگر ولی نہیں رُک رہا تھا۔۔ پھر ایک جگہ اس ساز کی آواز آنا بند ہوگٸ۔۔ شاید وہ کہیں پیچھے رہ گٸ تھی۔۔ اس نے گلابی پڑتی آنکھوں کو زور سے بند کیا اور کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔ چند پل دروازے سے لگ کر کھڑا رہا۔۔ ہمت ہی نہیں رہی تھی ہلنے کی۔۔

دوسری طرف وہ ایک ستون کا سہارا لیۓ کھڑی نمکین آنکھوں سے اس راستے کو دیکھے گٸ جس سے وہ گزر کر گیا تھا۔۔

اور پھر اس رات دو نفوس نے کروٹیں بدلتے گزاری تھی۔۔ عجیب سا تھا ان کا رشتہ۔۔ نہ اظہار تھا نہ کوٸ وعدہ۔۔ کچھ بھی نہیں تھا مگر پھر بھی بہت کچھ تھا۔۔ صبح وہ چلا گیا تو امل کھڑکی سے ہٹ آٸ۔۔ غم تو بس اسی بات کا تھا کہ، سانس رُک رُک کر آتی تھی، دم نکلتا نہیں تھا اور یاد تھی کہ ساتھ چھوڑتی ہی نہ تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *