Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 14) Part - 1

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

امل سارا وقت قانتہ کے ساتھ تھی۔

نہ اس نے آگے بڑھ کر دُلہنوں کی رسم کی اور نہ ہی کسی اور کام میں دلچسپی لی۔ وہ ایک جانب خاموشی سے قانتہ کے ساتھ بیٹھی رہی تھی۔۔

قانتہ نے اس کا دمکتا چہرہ دیکھا اور پھر صوفے پر ذرا آگے ہوکر بیٹھی۔۔ پھر اس کے گود میں رکھے ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے نرم سے ہاتھ میں قید کیا تو امل چونکی۔۔

“جو ہوگیا اسے بُھول جاٶ۔۔”

قانتہ نے بہت نرمی سے کہا تھا۔ اسکا گلا دُکھنے لگا۔ آنسو بہت دیر سے روک رکھے تھے جس کی وجہ سے درد اب اندر ہی اندر گُھل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں گلابی پڑنے لگیں۔۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔”

اس نے کمزور سی آواز میں کہا ضرور، مگر قانتہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں نکالا۔ اس کے لمس سے پتہ نہیں کیوں اسے ولی کے احساس کی خوشبو آیا کرتی تھی۔۔ شاید ہم جس انسان کے بھی قریب ہوتے ہیں اسی کی خوشبو، اس کے لمس کا احساس، اسکا انداز سب کچھ ہمارے اندر غیر محسوس طریقے سے اترتا جاتا ہے۔۔ قانتہ کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ امل کو اسے دیکھ کر ولی کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ بنا کسی تعلق کے اس سے دو ہی ملاقاتوں میں قریب ہوگٸ تھی۔۔

“لیکن مجھے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔”

انہوں نرمی سے مسکرا کر اس کے جواب کی نفی کی تو اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ بالکل ولی کا سا انداز تھا۔۔ آہستہ سے اس کی آنکھیں پڑھ کر اس کے جملوں کا انکار کرنے والا انداز۔۔

“میں ڈر گٸ تھی۔۔”

اس نے جھکا چہرہ اُٹھا کر قانتہ کو براہِ راست دیکھنے سے پرہیز کیا۔ لاٶنج کے اس طرف صوفوں پر خواتین کا رش خاصہ کم تھا کیونکہ رسم کا اہتمام باہر سبزہ زار پر کیا گیا تھا۔ یہاں لاٶنج تک بھی مہمانوں کے شور کی دبی دبی سی آواز آرہی تھی۔۔

“میں نے ہمیشہ خود کو عام لڑکیوں سے اونچا سمجھا، ہمیشہ خود کی عزت کی اور دوسروں سے کرواٸ۔ میں عام لڑکیوں کی طرح نہیں، میں غلط جگہ پر کہی گٸ غلط بات کو اور غلط بات کرنے والے کو روک سکتی ہوں تو میں کچھ بھی کرسکتی ہوں۔ اگر مجھے لفظوں کی ٹھوکروں سے سب کچھ اُڑانا آتا ہے تو میں ایک عام دبّو اور اندھی، بہری لڑکی سے قدرے مختلف ہوں۔ میں dignified ہوں۔ قابلِ عزت۔۔ کسی کو بھی میری بے عزتی کرنے کا کوٸ حق نہیں اور یقین کریں قانتہ۔۔ میں نے کبھی بھی کسی کو خود پر بولنے نہیں دیا۔ لوگ اگر کوٸ نازیبہ بات کر بھی جاتے ہیں تو میں انہیں اسی وقت روک دیتی ہوں مگر آج۔۔”

اس نے گیلی سانس اندر کو کھینچی۔ قانتہ نرمی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔

“آج اس نے مجھ سے کہا کہ ہر کسی سے بات نہیں کی جاتی۔ ہر کوٸ بات سے سمجھنے والا نہیں ہوتا۔ وہ اتنی جلدی سمجھ گیا اور میں۔۔ میں ساری زندگی سے اسی زعم میں ہوں کہ میں اپنے لفظوں سے کچھ بھی کرسکتی ہوں۔ کسی کو بھی روک سکتی ہوں، کسی کو بھی انجام تک پہنچا سکتی ہوں، مگر میں غلط تھی قانتہ۔ میں تو ایک کمزور سی لڑکی ہوں۔ آج جب نفیس نے مجھ سے بدتمیزی کی تو میں اسے روک نہیں پاٸ اور اگر ولی نہیں آتا تو پتہ نہیں۔۔”

اس کی آواز آخر میں خوف سے کانپی تو قانتہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا۔

“وہ کبھی تنہا نہیں کرے گا تمہیں۔ ڈرو نہیں، خوفزدہ مت ہو، تم اب بھی ایک بہادر اور حق بات کرنے والی لڑکی ہو۔ تم نے جو اس وقت اس لڑکے سے کہا تو یہ بھی ہمت تھی تمہاری۔ بعض لڑکیاں تو اتنا بھی کہنے کی ہمت نہیں کرپاتیں۔ تم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی باتوں کا جواب دیا بہت اچھا کیا۔ ہم عورتیں۔۔ ہمارے پاس ان لفظوں کے علاوہ اور ہے کیا امل۔۔؟ ہمارے پاس ہماری آواز ہے، ہمارے الفاظ ہیں، ہمارا وقار ہے۔۔ ہم اگر ہاتھ سے مقابلہ نہیں کرسکتیں تو کیا ہوا۔۔۔؟ یہ ہمارے مرد کس لیۓ ہیں۔۔؟ یہ مقابلہ کرینگے ہمارے لیۓ ہاتھوں سے مگر ہم۔۔ ہم اپنی زبانوں سے مقابلہ کرتیں ہیں، اپنے دلاٸل سے، اپنے طریقہ کار سے۔۔ تم اسے ہلکا مت لو امل۔ عدالتوں میں لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر جب ہم جیسی عورتیں مضبوط دلاٸل دیتی ہیں تو بڑے بڑے مجرم صرف ہماری آواز کی وجہ سے سُولی چڑھتے ہیں۔ جانتی ہو ابنِ سفی کہا کرتے تھے کہ عورت طاقتور ہوتی ہے۔۔ اتنی طاقتور کہ مرد پیدا کرتی ہے۔۔!”

قانتہ کے نرم مگر مضبوط لفظوں نے بکھرتی سی امل کی ڈھارس بندھاٸ تھی۔ اس کا دل جو خوف سے سُکڑ رہا تھا یکدم ہی شانت ہوگیا۔

“ولی۔۔ مجھ سے بہت ناراض ہوگا قانتہ۔۔”

کچھ دیر بعد اس نے پھر کہا تو وہ مسکراٸ۔۔

“تمہاری کوٸ غلطی نہیں پھر کیوں ناراض ہوگا وہ تم سے۔۔؟ وہ ایسے بلاوجہ ناراض نہیں ہوتا تم پریشان مت ہو۔۔”

“مگر پھر بھی۔۔ مجھے پتہ نہیں کیوں وہ بہت عجیب سا لگ رہا ہے کچھ دنوں سے۔ عجیب سا خاموش، بہت بھیانک سی خاموشی ہے اس کی۔۔ جیسے۔۔ جیسے بس ہر پل دماغ میں جمع تفریق کررہا ہو، ہر وقت اپنے اہداف طے کررہا ہو، بس ہر وقت بے سکونی کی حالت میں ہو۔ یونیورسٹی سے آنے کے بعد وہ ٹھیک ہوگیا تھا مگر اب۔۔ اب پھر سے وہ ویسا ہی بنتا جارہا ہے جیسا پہلے تھا۔ مجھے اب خوف آرہا ہے اس سے۔۔”

قانتہ نے اس کی بات پر آہستہ سے سر ہلایا۔ یہ سب تو اسے بھی بہت وقت سے محسوس ہورہا تھا۔۔

“مجھے بھی ٹھیک نہیں لگ رہا وہ کافی دنوں سے۔۔ خیر ہم کیا کرسکتے ہیں سواۓ دعا کے۔ پوچھو تو کچھ بتاتا بھی نہیں ہے، سب کچھ اندر ہی اندر پال کر رکھا ہوا ہے۔۔ اللہ بس حفاظت کرے اس کی۔۔”

قانتہ نے کہہ کر اس کا ہاتھ تھتھپایا اور پھر نرمی سے چھوڑ دیا۔۔

“پریشان مت ہو للّہ سب بہتر کرنے والا ہے۔۔”

ان کی تسلی پر اس نے گہرا سانس لیا اور پھر ساتھ بیٹھے زین کے بالوں میں ہاتھ پھیرا.. اسی پل باہر سے عجیب افراتفری کی سی آوازیں آٸیں تو دونوں نے بیک وقت پلٹ کر باہر کی جانب دیکھا۔ باہر تیزی سے بوچھاڑ برسنے لگی تھی اور لوگ اب اندر کی جانب بھاگتے آرہے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ساری رات اس نے کس طرح گزاری کچھ یاد نہ پڑتا تھا۔ پہلے وہ اسے اسپتال لے کر گیا پھر اس نے پولیس کو کال کی۔۔ سُرنگ کے آس پاس اب بہت سے اہلکار کھڑے جانچ پڑتال کررہے تھے۔۔ crime scene پر پولیس کے علاوہ کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ پہلے کرم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیۓ بھیجا گیا اور پھر ساری کاررواٸ کے بعد اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا۔ ولی جانتا تھا کہ اس ساری تگ دو کا کوٸ فاٸدہ نہیں۔ ہاشم کی ایک کال پر پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور پھر کرم کا کیس فاٸلوں میں بند کر کے شیلف کے سب سے پچھلے حصے میں رکھ دیا جاۓ گا۔

دو تین دن بعد کرم کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا اور دنیا ایک بار پھر سے اپنا کارواں جاری رکھے گی۔

دو دنوں کی مسلسل بے خوابی اور پھر اپنی آنکھوں کے سامنے کرم کے گرم سے وجود کو ٹھنڈا پڑتا دیکھنا اسے پھر سے وہیں دھکیل گیا تھا جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ سب کچھ وہیں چلا گیا تھا۔۔ اسی تاریک کباڑ خانے کے آس پاس۔۔

سردار بابا کو اس نے فون کرکے کہہ دیا تھا کہ وہ دو دن تک گھر نہیں آ پاۓ گا۔ کسی ضروری کام کی وجہ سے۔ اور اس کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ زمان نے مزید اسے کریدنا مناسب نہ سمجھا۔

کرم کو جب غسل دے کر صحن میں بچھی چارپاٸ پر لا کر ڈالا گیا تو سارا گاٶں اس کے ماں باپ کی دلدوز چیخوں سے گونج اُٹھا۔ ہر ایک کی آنکھ اشکبار تھی اور ہر ایک کے دل سے آہیں نکل رہی تھیں۔ سب ایسے انجام سے پناہ طلب کررہے تھے، مگر ولی۔۔ وہ ان سب کو خالی خالی نظروں سے دیکھے گیا۔۔ دل اتنا ویران تھا کہ حد نہیں، کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔ سب کچھ ایک بار پھر راکھ کا ڈھیر بنتا جارہا تھا۔۔

جنازہ اُٹھانے کا وقت آیا تو اس نے کندھا دیا اور پھر مسلسل قبروستان تک اس نے کسی کو بھی اپنی جگہ پر کندھا نہیں دینے دیا۔ کرم کا باپ پیچھے پیچے روتا ہوا آرہا تھا، اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے جوان بیٹے کا جنازہ ان ناتواں کندھوں پر اُٹھا سکتا۔ سارے راستے لوگ اس کی آہ و بکا سے لرزتے رہے تھے۔ مگر کسی نے اسے رونے سے نہیں روکا۔ کیونکہ نہ تو کسی کے پاس وہ لفظ تھے جن سے اسے تسلی دی جاتی اور نہ ہی ایسا دل۔۔ کہ اس بوڑھے باپ کے آنسو برداشت کیۓ جاتے۔۔

قبرستان پہنچ کر اسے لحد میں اتارتے اس نے ایک آخری بار اس کا نو عمر پُرکشش سا چہرہ دیکھا اور پھر اسے اندر اتار دیا۔ قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد لوگ آہستہ آہستہ چھٹنے لگے۔ وہ خاموشی سے اسکی قبر کو دیکھے گیا۔ اس کی آنکھیں گلابی تھیں اور چہرہ۔۔ چہرہ سپاٹ۔۔ سرد سا۔۔

چند پل وہ اس دن چڑھی دھوپ میں اس کی تازہ قبر کو دیکھے گیا اور پھر اس سے ایک وعدہ لیتا پلٹ آیا۔۔

“تم دیکھنا کرم میں ان کا کیا حال کرتا ہوں۔۔”

گاڑی حویلی کی جانب دوڑاتے ہوۓ وہ مستقل ایک ہی بات دہراۓ جارہا تھا۔۔ ولی احمد کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا۔۔ ہر گز بھی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

وہ حویلی میں داخل ہوا تو دوپہر کی مخصوص چہل پہل تھی۔ دو دن وہ گھر سے باہر رہا تو اسے اندازہ نہیں ہوا کہ جتنے وقت وہ باہر رہا انہیں دنوں مہندی اور بارات تھی جو اس کی غیر موجودگی میں گزر چکی تھی اور اب ایک دن کے وقفے کے بعد شاید ولیمہ رکھا گیا تھا۔

اس کا دماغ اتنا تھکا ہوا تھا اور سر اتنا دُکھ رہا تھا کہ کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ تاریخ کیا تھی، کس دن کی تھی۔۔

سب سے پہلے بی جان کی نظر اس پر پڑی تو وہ اس طرف آٸیں۔۔

“کام ہوگیا تمہارا۔۔؟”

“جی بی جان۔۔”

اس نے بمشکل کہا تو آواز بیٹھی ہوٸ تھی۔ دو دن کی مسلسل خاموشی سے اس کا گلا عجیب سا ہورہا تھا۔

مگر کچھ تھا جو بی جان کو ٹھٹکا گیا تھا۔ انہوں نے اس کی چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔

“اتنا تیز بخار ولی۔۔!! تمہاری طبیعت اتنی خراب ہے اور تم باہر کام کررہے تھے۔۔ خدایا۔۔ بیٹھو ادھر آکر۔۔ آٶ ادھر۔۔”

وہ منع کرنا چاہ رہا تھا مگر پھر بھی بی جان اسے ہاتھ سے پکڑ کر لاٶنج میں لے آٸیں۔ اسی پل زمان زینوں سے اترتے نظر آۓ۔ امل بھی ان کے ساتھ ہی تھی۔ ولی کو دیکھ کر چونک گٸ۔۔

“زمان۔۔ ذرا دیکھیں اسے کتنا شدید بخار ہورہا ہے، اپنا جو ذرا خیال کر لے یہ لڑکا۔ نوراں۔۔ نوراں۔۔ جا ولی کے لیۓ کھانا لگا پتہ نہیں کب سے کھانا نہیں کھایا ہے اس نے۔۔”

زمان بھی پریشانی سے اس کے ساتھ آ بیٹھے تھے۔ اور اب بار بار اس کی پیشانی پر اپنے ہاتھ کی پشت رکھ کر دیکھ رہے تھے۔۔

“اتنا بخار کیسے ہوگیا ولی۔۔؟ کہاں تھے تم۔۔؟”

ان کی پریشان سی آواز پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“ٹھیک ہوں سرداربابا۔ بس ہلکا سا بخار ہے۔۔”

“ہلکا سا۔۔۔!!”

بی جان نے خفگی سے اسے ٹوکا تو اب کے وہ بالکل خاموش سا ہو کر بیٹھ گیا۔ امل کا دل بھی ایک دم سے بہت پریشان ہوگیا تھا مگر ابھی اس کے سامنے ایسے جانا۔۔ اس نے دھڑکتے دل سے زینے عبور کیۓ اور پھر لاٶنج میں چلی آٸ۔ ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کچن کی جانب مڑ گٸ۔ دُلہنوں کے گھر سے آیا ڈھیروں ڈھیر ناشتہ اب تک ویسے ہی پڑا تھا۔ مگر نوراں ولی کے لیۓ تازہ کھانا نکال رہی تھی۔۔ اس نے بھی آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ بٹایا۔۔

“کھانا کھاٶ اور دواٸ لے کر اپنے کمرے میں آرام کرو جا کر۔ خبردار جو اب کسی بھی کام کے لیۓ باہر نکلے تم تو۔۔”

سردار بابا اس پر برہم نہیں ہوتے تھے مگر ابھی اس کی ایسی لاپرواہی پر ان کا غصہ سوا نیزے پر جا پہنچا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں سردار بابا بس یہ۔۔”

“ولی احمد جو میں نے کہہ دیا وہ تم نے سُن لیا۔۔”

اور پھر ولی نے آگے سے کچھ بھی نہیں کہا۔۔ خاموشی سے ہاتھ دھوۓ کھانا زہر مار کیا اور پھر اپنے کمرے میں آکر بستر پر چت لیٹ گیا۔ آنکھیں موندیں مگر پھر گھبرا کر کھول دیں۔ ہر جانب کرم کی آواز گونج رہی تھی، ہر طرف اسکے رونے کی آوازیں تھیں، اس کا خون میں لت پت جسم، برستی بارش، ٹھنڈے گوشت کی بُو۔۔

وہ بے اختیار بستر پر اُٹھ بیٹھا۔ اس کا سانس اوپر نیچے تھا اور دل کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گِرالیا۔ چند پل ویسے ہی بیٹھا رہا پھر گہرا سانس لے کر بستر پر لیٹ گیا۔ سُرخ نسواری آنکھیں اب پھر سے چھت کو تک رہی تھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔

امل گم صم سی بی جان کو تک رہی تھی۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ بی جان اسے پکار رہی ہیں۔

“امل۔۔۔”

اب کے انہوں نے اس کے آگے اپنا ہاتھ لہرایا تو وہ یکدم جاگی۔ ان کا چہرہ دیکھا۔ وہ اسکی غاٸب دماغی پر بغور اسے دیکھ رہی تھیں۔۔ اس نے خجل ہو کر شانوں پر دھرا دوپٹہ خواہ مخواہ ٹھیک کیا تھا۔۔

“جی بی جان۔۔”

“تم کہاں گُم ہو ہاں۔۔؟ کب سے آوازیں دے رہی ہوں تمہیں۔ حد ہوگٸ ہے۔۔ اتنی سی عمر میں اتنا گم صم بیٹھنا مجھے تو سمجھ نہیں آرہا۔۔”

وہ اب کے اسے ڈانٹ رہی تھیں مگر اس کا دماغ اب بھی یہاں نہیں تھا اور دل۔۔ دل تو عرصے سے ولی کا ہو کر رہ گیا تھا۔

“سوری بی جان۔۔”

اس نے آہستہ سے کہا۔۔

“اچھا اب چھوڑو یہ سب۔ جاٶ جا کر دیکھو کہیں شازیہ اور امینہ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ ابھی ابھی آٸیں ہیں وہ ماں کے گھر سے تو تم جا کر ان سے بات چیت کرو۔۔ حال احوال لو ان کا۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ جب سے وہ دونوں رُخصت ہو کر آٸ ہیں تم نے ایک دفعہ بھی ان کے ساتھ ٹھیک سے بات نہیں کی۔ یہ طریقہ بہت غلط ہے بیٹے۔۔ وہ دونوں اپنا گھر چھوڑ کر یہاں آٸ ہیں۔۔ ان کو بالکل بھی ایسا محسوس نہیں ہونا چاہیۓ کہ وہ غیروں کے گھر آٸ ہوں۔۔ جاٶ اب اُٹھو۔۔”

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ بس اپنے کمرے میں سر منہ لپیٹے لیٹی رہے۔ کسی سے کوٸ بات نہ کرے اور نہ کوٸ اس سے بات براۓ بات کرے مگر نہیں۔۔ پاکستان میں ابھی personal space نام کی کوٸ چیز ایجاد نہیں ہوٸ۔ انسان کسی بھی حال میں ہو خواہ مخواہ سب سے ہنس کر بات کرنا لازمی ہے۔۔!

اس نے بوجھل ہوتے دل کے ساتھ کُشن صوفے پر رکھا اور پھر دوپٹہ کندھوں پر درست کرتی اُٹھ کھڑی ہوٸ۔

نثار اور بختیار دونوں کا کمرہ زینوں کے اس پار تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور پھر خود کو بلاوجہ مسکرانے کے لیۓ تیار کرنے لگی۔ اسے پتہ تھا کہ نہ تو شازیہ اسے پسند کرتی ہے اور نہ ہی امینہ۔۔ دونوں کا کھنچا سا رویہ اسے ہمیشہ سے ان دونوں سے ایک فاصلے پر لے آیا تھا۔اور یہ تو طے ہی تھا کہ وہ ان سے کبھی بے تکلف نہیں ہوپاۓ گی۔۔ کیونکہ وہ دونوں تھیں نگار بیگم کی بیٹیاں۔۔ تیکھے طرار جملے بولنے والیں۔۔ اور ایسے لوگوں سے تو اس کی ویسے بھی نہیں بنتی تھی۔۔

اس نے دروازے کے پار رُک کر ایک پل کو رُخ ولی کے کمرے کی جانب پھیرا۔ دروازہ بند تھا، اور وہ شاید سو رہا ہو اندر۔۔

“کیا وہ زیادہ غصہ ہوگا مجھ پر۔۔؟ لیکن میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔ پتہ نہیں پھر کیوں عجیب سا ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ خود بات کیوں نہیں کرتا آخر۔۔؟؟ اور دو دنوں سے کہاں تھا وہ۔۔؟”

افوہ امل۔۔ ابھی ان باتوں کو چھوڑو۔۔ اس نے سر جھٹک کر پہلے گہرا سانس لیا اور چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاٸ۔۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔۔ اور پھر اندر داخل ہوٸ۔۔

شازیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں میں برش چلا رہی تھی اور بختیار واش روم میں تھا۔ اسے اندر آتا دیکھ کر اس کے چلتے ہاتھ رُکے تھے۔

“اسلام علیکم بھابھی۔۔”

اس نے مسکرا کر سلام کیا تو شازیہ بھی مسکرادی۔۔ پھر یونہی بالوں کو چٹیا میں گُوندھنے لگی۔۔

“وعلیکم اسلام۔۔ آٶ ناں وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔؟ ویسے خیال آگیا تمہیں اتنے دنوں میں مجھے سلام کرنے کا۔۔؟”

حسبِ عادت اس کا طنز شروع ہوچکا تھا مگر امل نے کمالِ ضبط سے مسکرا کر اس کے لہجے کو نظر انداز کیا۔۔

“سوری بھابھی دراصل ان دنوں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہی تھی اسی لیۓ میں سلام نہیں کرسکی آپ سے اور نہ حال چال پوچھا۔۔ آپ بتاٸیں کیسی ہیں۔۔؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپکو۔۔؟”

اس نے بہت سہولت سے کہہ کر اس کا عکس آٸینے میں دیکھا۔۔ وہ اب چٹیا کے چھوٹے ہوۓ بالوں پر برش پھیر کر انہیں پیچھے پھینک رہی تھی اور ہاتھوں میں بھری بھری چوڑیاں ہر پل اس کی جنبش پر بج بج جاتی تھیں۔۔ بلاشبہ وہ نٸ دُلہن ہی لگ رہی تھی۔۔

“نہیں کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو میں خود ہی کہہ دونگی۔ اور ہاں ظاہر ہے نیا گھر ہے، اپنے گھر سے خاصہ مختلف تو کچھ وقت لگے گا ہی مجھے یہاں ٹھیک طرح سے رہنے میں۔۔ خیر تم بتاٶ طبیعت کو کیا ہوا تھا۔۔؟؟”

وہ اب کے اس کی جانب مڑی تو امل مسکراٸ۔۔

“کچھ نہیں بھابھی بس تھوڑا بخار تھا اور سر پر بوجھ۔۔ اب ٹھیک ہوں۔۔”

وہ اب تک وہیں دروازے میں کھڑی تھی۔ کچھ تھا جو اسے ان کمفرٹیبل کررہا تھا مگر ابھی یوں اس طرح سے جانا درست نہیں تھا سو وہ بھی جم کر کھڑی رہی۔۔

“خیر۔۔ اب شادی کی جھنجھٹوں میں تو طبیعت اکثر خراب ہو ہی جاتی ہے اس میں ایسی کوٸ بات نہیں۔ ویسے یہ ولی کہاں ہے۔۔؟ جب سے میں آٸ ہوں تب سے نظر ہی نہیں آرہا۔۔”

وہ اب بیڈ پر بیٹھی اپنے سوٹ کا دوپٹہ اُٹھا کر شانوں پر پھیلا رہی تھی۔ امل گڑبڑاٸ۔۔

“جی۔۔۔؟ پتہ نہیں وہ سارا دن باہر ہی ہوتا ہے بھابھی اور اس کی مصروفیات کو تو صرف بی جان یا پھر بابا ہی جانتے ہیں۔ اگر کہیں شہر وغیرہ جانا ہوتا ہے تو وہ بابا کو بتا دیتا ہے۔۔ مجھے اس بارے میں کوٸ علم نہیں۔۔”

“اچھا۔۔”

ایک ذو معنی مسکراہٹ نے چھوا تھا شازیہ کے لبوں کو۔ امل نے بے چین سی سانس خارج کی۔۔ یہ عورت اسے مسلسل غیر آرام دہ کررہی تھی۔۔

“میں نے تو سُنا تھا کہ تم ولی سے خاصی بے تکلف ہو۔۔! اسی لیۓ مجھے لگا کہ تمہیں کچھ نہ کچھ تو خبر ہوگی ہی۔۔”

امل کو اپنا چہرہ سفید پڑتا لگا۔۔ اس نے گلا کھنکھار کر بمشکل چند لفظ کہے تھے۔۔

“کہاں سے سُنا ہے آپ نے۔۔؟”

“مجھے تو امی نے بتایا تھا۔ انہیں شاید ارجمند چچی نے بتایا ہو۔۔ اور ارجمند چچی کو شاید ناجیہ نے۔۔ کیوں۔۔؟ کیا تم اس سے بے تکلف نہیں ہو ۔۔۔؟”

اسی وقت بالوں کو تولیۓ سے رگڑتا بختیار واش روم سے باہر نکلا تو اسے لگا اب تو اس سے کوٸ بات نہیں کی جاۓ گی۔۔ مگر پھر بھی اس نے کمزور سی آواز میں خود کو کہتے سُنا۔۔

“ای۔۔ ایسی کوٸ بات نہیں ہے بھابھی۔ جس نے بھی کہا ہے اسے شاید کوٸ غلط فہمی ہوٸ ہو۔۔ اچھا میں چلتی ہوں۔۔ آپ آرام کریں۔۔”

اور اگلے ہی پل وہ کمرے سے باہر تھی۔ شازیہ نے ذو معنی انداز میں دوپٹے کا پلّو لے کر سر پر ڈالا اور اور پھر مسکرا کر سنگھار آٸینے کے سامنے کھڑے بختیار کو دیکھا۔۔

چلو کچھ تو اس کے بھی ہاتھ لگا امل کے خلاف۔ اور شوہر تو پہلے ہی اس کی مٹھی میں تھا۔۔ ادھر وہ اس کے معاملات میں اپنی ناک اڑاۓ اور ادھر وہ اس کو ناکوں چنے چبوا دے۔۔ گہری ہوتی شام میں عجیب سا حبس تھا جو محسوس ہوتا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے کمرے سے باہر نکلی تو قدم لڑکھڑا رہے تھے اور دل خوف سے سکڑ کر پھیل رہا تھا۔ ناجیہ نے اتنے سب لوگوں کو اپنی طرف سے اُلٹی سیدھی باتیں بتادیں اور وہ ادھر مزے سے بیٹھی رہی۔ اگر جو یہ بات بی جان، بابا یا پھر بختیار بھاجی کو پتہ چلیں تو وہ تو اس کا قتل ہی کردینگے۔۔ بے اختیار اسے رونا آیا تھا۔۔

دل سنبھال کر اس نے جیسے قدم آگے بڑھاۓ ولی اپنے کمرے سے نکلا۔ صبح کے برعکس خاصہ بہتر، دھلے بالوں کو پیچھے جماۓ۔۔ وہ شاید ابھی ابھی شاور لے کر آیا تھا۔

دروازہ آہستہ سے بند کیا اور پھر جیسے ہی آگے بڑھنے لگا اس کی نظر امل پر پڑی۔ کچھ تھا کہ وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔ ایک پل کو آنکھیں سکیڑ کر اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھا۔ امل اس کے ایسے دیکھنے پر گڑبڑاٸ تھی اور اس سے پہلے وہ پوچھ لیتا کہ مسٸلہ کیا ہے وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ اس نے فوراً اپنے قدم زینوں کی جانب پھیرے اور پھر پیچھے دیکھے بغیر اوپر بھاگتی گٸ۔ ولی بغور اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔

اس نے اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ جلدی سے بند کیا اور چند پل وہیں دروازے سے لگی کھڑی رہی۔ اس کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔ کیا ناجیہ کم تھی جو اب اسے یوں اس طرح بلیک میل کرنے کے لیۓ شازیہ بھی آگٸ تھی۔۔ اور اگر یہ بات شازیہ کو پتہ ہے تو ظاہر ہے امینہ کو بھی پتہ ہوگی۔۔

آہ۔۔ اس کے دل پر بوجھ بڑھتا ہی جارہا تھا۔

مغرب کی اذانیں گونجی تو اس نے اپنا رخ واش روم کی جانب پھیرا۔ ایک ہی حل نظر آرہا تھا ابھی تو۔۔

ولی نے چند پل اس کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر سوچتی نظریں دوسری سمت پھیریں۔ اب کے اس کی نظریں بختیار کے کمرے کے دروازے پر ٹک گٸ تھیں۔۔ پھر وہ سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا۔

وہ وضو بنا کر آستینیں کلاٸیوں پر برابر کرتی سنگھار آٸینے تک آٸ۔۔

ایک نظر خود کو آٸینے میں دیکھا۔۔ اس کی چٹیا سے نکلی گیلی لٹیں مومی چہرے پر چپکی ہوٸ تھیں اور شہد رنگ آنکھیں اداسی کی زد میں لگتی تھیں۔ صوفے سے دوپٹہ اُٹھا کر اس نے چہرے کے گرد باندھا۔۔ پھر کچھ یاد آنے پر ایک لمحے کو مڑی۔۔

“ٹھیک ہیں ناں آپ۔۔۔؟”

کسی کی آواز گونجی تھی اس کے کانوں میں۔۔ دو آنسو لڑھک کر اس کے گالوں پر پھسلے، ہونٹ لرزنے لگے اور تیرتی سانسیں کانپنے لگیں۔۔

“ہماری کہانی اتنی مشکل کیوں ہے ولی۔۔؟ میں نے تو محبت کی ہے آپ سے۔۔ کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے۔۔؟ اور آپ۔۔”

اس نے اپنے آنسو رگڑے تھے۔ گیلی سانس اندر کو کھینچی۔۔

“آپ کو تو میری کوٸ پرواہ ہی نہیں۔ دیکھیں لوگوں کے کیسے کیسے سوالوں کے جواب دے رہی ہوں میں۔ کیوں مجھے تنہا کردیتے ہیں آپ ہمیشہ۔۔؟ کیوں کرتے ہیں آپ میرے ساتھ ایسے۔۔؟”

آنسو اب متواتر بہنے لگے تھے۔ دل زخمی ہونے لگا تھا اور یاد کے پردے پر اس کا چہرہ پھر سے چمکنے لگا تھا۔ اس نے آنکھیں چند پل بند کیں۔ گرم گرم آنسو رخسار پر پھسلنے لگے مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ دوسری جانب نظر آتے اس کے چہرے کو محو ہو کر دیکھ رہی تھی۔ اسے محسوس کررہی تھی۔۔۔! وہ دور تھا تو دور کیوں نہیں لگتا تھا۔۔؟ کیوں دور ہوتے ہوۓ بھی اس کی قربت محسوس ہوتی تھی۔۔!

اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جاۓ نماز بچھا کر نماز کے لیۓ کھڑی ہوگٸ۔ مغرب کی نماز اول وقت میں ادا کرنے والے نفاق سے محفوظ رہتے ہیں۔۔ اس نے بھی اپنا ایمان بچانے کی ادنیٰ سی کوشش کی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔

شام کی سیاہی میں عشاء کی سیاہی گھلنے لگی تو حویلی کے سنہرے قمقمے بھی روشن کردیۓ گۓ۔ ساری حویلی ان کی روشنی میں نہا گٸ تھی۔۔

شازیہ، امینہ اپنے شوہروں کے ساتھ لاٶنج میں بیٹھی تھیں اور سربراہی صوفے پر آغا جان مسکرا کر شازیہ کی بات سن رہے تھے۔ بی جان بھی مقابل صوفے پر براجمان نثار کی کسی بات پر ہنس رہی تھیں۔۔ اسی پل سامیہ حویلی میں داخل ہوٸ تھی۔ خوش و خرم، خوبصورت سا کڑھاٸ والا جوڑا زیب تن کیۓ، ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے وہ خاصی بھری بھری سی لگتی تھی۔ نٸ نویلی دُلہن۔۔! شازیہ اور امینہ کے چہروں سے کہیں زیادہ بابرکت چہرہ لیۓ۔۔

“اسلام علیکم خالہ۔۔ اسلام علیکم آغا جان۔۔”

وہ ایسی ہی تھی ہنس مُکھ۔۔ گھلنے ملنے والی۔۔

گھر میں داخل کیا ہوٸ ساری حویلی کو پر رونق کردیا۔۔

بی جان اب کے آگے بڑھ کر اس سے گلے مل رہی تھیں اور ساتھ ساتھ شاید اسے باقی مواقعوں کی غیر موجودگی پر ڈانٹ بھی رہی تھیں۔۔ جس پر وہ کھلکھلا کر معذرت کرتی ان سے الگ ہوٸ۔ شازیہ اور امینہ سے گلے ملی۔ ان کو شادی کی مبارک بادوں سے نوازا۔۔

“داماد کہاں ہے میرا۔۔؟”

آغا جان کے استفسار پر وہ بے اختیار ہنسی تھی۔

“آپ کے داماد جی کہہ رہے تھے کہ وہ نہیں آسکتے اندر۔۔ دراصل کسی کام سے جانا تھا آغا جان انہیں اسی لیۓ اندر نہیں آۓ۔ کل ولیمے میں ضرور آٸنگے۔۔”

آغا جان نے مسکرا کر سر ہلایا۔ بی جان بار بار اس کے چہرے کی بلاٸیں لیتی تھیں۔ شازیہ اور امینہ سے چند ایک باتوں کے بعد اس نے آس پاس نظر دوڑاٸ۔۔

نہ امل تھی اور نہ ہی ولی۔۔

“خالہ امل کہاں ہے۔۔؟”

“امل کمرے میں ہے اپنے۔۔”

ان سب سے معذرت کرتی وہ اوپر اس کے کمرے کی جانب بڑھی۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر اندھیرا پھیلا تھا اور وہ چادر سر تک تانے سو رہی تھی۔ اس نے ہاتھ مار کر کمرے کی بتیاں روشن کیں تو چادر کے اندر سے آواز آٸ۔۔

“بی جان پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کریں۔۔”

“بی جان کی بچی۔۔”

اس نے آگے بڑھ کر اس کی چادر کھینچی تو وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی۔۔

“سامی۔۔”

نعرہ لگا کر وہ بیڈ سے اتری اور اس کے گلے لگ گٸ۔ سامیہ ہنس رہی تھی۔ پھر اسے خود سے الگ کیا۔

“سب نیچے بیٹھے ہیں اور آپ محترمہ کمرے میں بند کیا مراقبہ کررہی ہیں۔۔؟ شادی کا گھر ہے مگر تم باز نہ آنا اپنی حرکتوں سے۔۔ اور یہ حال دیکھو اپنا کیا کر رکھا ہے تم نے۔۔ سدھر جاٶ امل۔۔”

اسے گھرک کر وہ آگے بڑھی اور پھر اس کے بیڈ پر بکھری چادر کو لپیٹا۔ تکیۓ درست کیۓ ۔۔ امل مسکرا کر پیچھے سے اس کے گلے لگ گٸ تھی۔ اسے دیکھ کر اتنی خوشی ہوٸ تھی کہ حد نہیں۔۔ ایک ڈھارس سی بندھی تھی اس کے دل کو۔۔

“ارے۔۔ اچھا چھوڑو تو مجھے۔۔”

اس کے ہاتھ کھولے۔۔

“ماشااللہ بہت خوبصورت ہوگٸ ہو سامی۔ اسفر بھاٸ کیسے ہیں۔۔؟”

اس کے کھلتے چہرے کو دیکھ کر امل نے بے ساختہ کہا تو وہ ہنس دی۔ وہی بات بات پر ہنسنے کی عادت۔۔

“ٹھیک ہیں تمہارے اسفر بھاٸ بھی۔ مگر تمہیں کیا ہوا ہے ہاں۔۔؟ کیا حال بنا رکھا ہے خود کا تم نے۔۔؟ تم تو کبھی بھی خود سے لاپرواہی نہیں برتتیں۔۔ پھر اب کیا ہوا ہے۔۔؟”

اس کی ڈھیلی چٹیا سے نکلیں چھوٹی چھوٹی لٹیں جابجا اس کے چہرے کے اطراف میں بکھری ہوٸ تھیں۔ آنکھیں رونے کی وجہ سے عجیب تھکی تھکی لگ رہی تھیں اور چہرہ سُتا ہوا۔۔

“ٹھیک تو ہوں کیا ہوا ہے مجھے۔۔؟”

اس نے پلٹ کر اپنا چہرہ آٸینے میں دیکھا اور دھک سے رہ گٸ۔ یہ تو اس کا چہرہ ہرگز بھی نہیں تھا۔۔ اتنا سُتا ہوا اور تھکا تھکا سا۔۔

“دیکھ لیا کتنا ٹھیک ہے تمہارا حال۔۔”

سامیہ اب آگے بڑھ کر اس کی وارڈراب میں لٹکےکپڑے اُلٹ پلٹ کررہی تھی۔ پھر ایک کاسنی رنگ کی فراک ہاتھ میں لیۓ واپس آٸ۔

“جاٶ شاور لو جا کر اور فریش ہوجاٶ۔۔ کچھ کھایا ہے تم نے۔۔؟”

اس کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا تو سامیہ نے اس پر ایک “حد ہوگٸ ہے” والی نظر ڈالی اور باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ اس نے مسکراتے ہوۓ بیڈ پر پڑی فراک اُٹھاٸ اور واش روم میں گھس گٸ۔ اس کا بوجھل دل ایک دم ہی سامیہ کے آنے سے ہلکا پھلکا ہوگیا تھا۔ کسی کا پرواہ کرنا انسان کو کتنا ہلکا پھلکا کردیتا ہے ناں۔۔ کاش آپ بھی یہ بات جان سکتے ولی احمد۔۔

گہرا سانس لیتی وہ آگے بڑھ گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *