Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 2)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

زمان احمد اور بی جان شہر سے واپس آرہے تھے،رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہر طرف سنّاٹا قاٸم کیۓ ہوۓ تھا۔۔ یکدم زمان احمد نے گاڑی کو بریک لگایا تو گاڑی جھٹکے سے رُکی۔۔

“کیا ہوا آغا جان۔۔؟” بی جان نے حیرت سے اِنہیں دیکھا۔۔ وہ گاٶں کے داخلی حدود میں پہنچ چکے تھے۔۔

“مجھے بچّے کے رونے کی آواز آرہی ہے۔۔”

انکی بات پر بی جان نے آنکھیں پھیلاٸیں۔۔

“مگر رات کے اس پہر۔۔۔” وہ انکی بات سُنے بغیر گاڑی سے اُترچکے تھے۔۔

آواز کا تعاقب کرتے وہ گاٶں کی مسجد تک پہنچ چکے تھے۔۔ مسجد کی سیڑھیوں پر تولیۓ میں بچّہ لپٹا رکھا تھا۔۔ اور مستقل رو رہا تھا۔۔

انہوں نے اسے آگے بڑھ کر اُٹھایا اور پھر چہرہ آس پاس گُھما کر دیکھا مگر کسی انسان کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لاۓ۔۔ بی جان نے ششدر ہو کر پہلے زمان احمد کو دیکھا اور پھر انکے ہاتھ میں پکڑے نو مولود کو۔۔

“یہ۔۔۔ یہ کیا ہے آغا جان۔۔ یہ کس کا بچّہ ہے۔۔؟”

“مجھے نہیں معلوم زمانی بیگم۔۔ یہ معصوم مسجد کی سیڑھیوں پر پڑا تھا۔۔ آس پاس بھی کوٸ نہیں تھا۔۔” انہوں نے بی جان کو بچّہ تھمایا۔۔ بچّہ بے حد خوبصورت تھا۔۔ انکی آغوش میں آتے ہی خاموش ہوگیا تھا۔۔

“یہ تو بہت خوبصورت ہے آغاجان۔۔”

“ہاں پتہ نہیں کس بے حِس نے اسکے ساتھ ظلم کیا ہے۔۔۔” وہ ڈراٸیو کرتے پریشانی سے بول رہے تھے۔۔

صبح ہوتے ہی انہوں نے پورے گاٶں میں اعلان کروادیا تھا کہ یہ جسکا بھی بچّہ ہے حویلی سے لے جاۓ۔ مگر دودن کی مسلسل جدّوجہد سے بھی کوٸ حل نہ نکلا تھا۔۔

“یہ بچّہ کس گند کی پوٹلی ہے زمان۔۔ ابھی پھینک آٶ اسے۔۔ “

حُسین احمد گرج رہے تھے۔ بی جان نے دہل کر انکی سفّاکی کو دیکھا تھا۔۔ سفید حویلی میں سارے گھر والے اکھٹے تھے۔۔

زمان احمد نے بے یقینی سے بڑے بھاٸ کو تکا تھا۔۔

“بھاٸ صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ “

“ٹھیک کہہ رہا ہوں۔۔ کسی کے گناہ کی ذلّت تم ہمارے خاندان کےماتھے پر پوتنا چاہتے ہو۔۔ میں تمہیں اسکی اجازت ہر گز نہیں دے سکتا۔۔”

“میں اس معصوم کو ظالم معاشرے کے حوالے نہیں کرسکتا۔۔ جنہوں نے گناہ کیا ہے۔۔ وہ انکا اپنا فعل ہے۔۔ اور ہر کوٸ اپنی بد فعلیوں کا خود ذمّہ دار ہے۔۔ کسی اور کے گناہوں کی سزا میں اس معصوم ذات کو نہیں دے سکتا۔۔ ہرگز بھی نہیں۔۔”

“وہ بچّہ ناجاٸز ہے زمان۔۔ کوٸ اولاد کو یوں رات کے اندھیرے میں مسجد کے باہر نہیں ڈالتا۔۔ کوٸ بھی اپنے گناہوں کی سزا کو گلے کا طوق نہیں بناتا،پھر تم کیوں جذباتی ہو کر کسی کی،کی گٸ بد فعلی کا عذاب اپنے سر پر ڈال رہے ہو۔۔؟ ہوش کے ناخن لو۔۔ اور اس سے پہلے کہ وہ بچّہ بڑا ہوکر سوالیہ نشان بن جاۓ۔۔ اسے اس حویلی سے نکال باہر کرو۔۔ “

حسن احمد کی بات پر بی جان نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔ زمان احمد کی کنپٹی کی رگیں بے اختیار اُبھری تھیں۔۔

“بھاٸ جان۔۔ وہ بچّہ۔۔۔ جو کوٸ بھی ہو۔۔ میں اب اسے۔۔ اس حویلی سے۔۔ باہر نہیں بھیجونگا۔۔ وہ گناہ جو انسان کریں اسکی سزا انسانوں کو ہی ملنی چاہیۓ کسی معصوم جان کو نہیں۔۔ وہ بچّہ اب میرے گھرانے کا حصّہ ہے۔۔ لوگ جو بھی کہتے رہیں۔۔”

انکی بات دو ٹوک تھی۔۔

“زمان۔۔”

“بس بھاٸ صاحب۔۔ آپ نیکی میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجھے نیکی کرنے سے روکنے کا بھی کوٸ حق نہیں رکھتے آپ۔۔ اور اس سفّاک دنیا میں۔۔ کون کتنا پاکیزہ اور کتنا بدکار ہے۔۔ یہ تو آپ بھی اچھے سے جانتے ہیں اور میں بھی۔۔”

آخر میں انکا لہجہ بہت کچھ افشاں کرتا ہوا تو حسین اور حسن احمد کا سارا خون پل بھر کو نچڑ کر رہ گیا۔۔ اور انہیں اندازہ ہو ہی گیا کہ زمان اتنا بھی بے خبر نہیں تھا جتنا کے وہ اسے سمجھ رہے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا نام کیا رکھیں گے آغا جان۔۔؟” بی جان اسے ساتھ لپٹاۓ پوچھ رہی تھیں۔۔

“ولی احمد۔۔” زمان نے مسکرا کر کہا۔۔

“بہت پیارا نام ہے۔۔” بی جان بھی مسکرا رہی تھیں۔۔

وہ چار سال کا ہوا تو بی جان کے یہاں ننّھی سی امل نے جنم لیا۔۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔۔ ڈر تھا چُھونے سے میلی ہوجاٸیگی۔۔

“تم لوگے اسے گود میں ولی۔۔؟” بی جان نے اسکے آگے امل کو کیا تو وہ بدک کر پیچھے ہوا۔۔

“نہیں بی جان۔۔” معصومیت سے نفی میں سر ہلایا۔۔

“کیوں۔۔؟”

“یہ گِر جاٸیگی۔۔ چھوٹی سی ہے ناں۔۔” وضاحت دی تو بی جان ہنس دیں۔۔

“نہیں گِرے گی تم لو تو سہی۔۔” مگر وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہا تھا۔۔ اسکی نسواری آنکھیں امل کو تک رہی تھیں۔۔ پھر اس نے ڈرتے ڈرتے اسکے گالوں پر اپنے ننّھے ہاتھ رکھے۔۔ گالوں کی نرمی محسوس کرتے ہی فوراً ہاتھ پرے کر لیۓ۔۔ بی جان ہنستی ہی رہ گٸیں اسکی معصوم حرکت پر۔۔

وہ تھوڑا سمجھدار ہوا تو ایک دن “امل” کے نام کا مطلب پوچھنے لگا۔۔

“امل کا مطلب ہوتا ہے “اُمید”۔۔

آں ۔۔۔ اسے سمجھنے میں دقّت ہوٸ۔۔

“اور نا جاٸز کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔؟” معصومیت سے پوچھا مگر بی جان نے اسے کرنٹ کھا کر دیکھا تھا۔۔

“ولی۔۔ یہ کس نے کہا ہے تم سے۔۔؟!”

“وہ بختیار لالہ۔۔ نثار لالہ۔۔ ہاشم لالہ۔۔ سب مجھے ناجاٸز کہتے ہیں بی جان۔۔”

اسکی بات پر بی جان نے تینوں کو بلوایا اور ایک ایک تھپّڑ رسید کیا۔۔

“آٸندہ کوٸ ایسی بات نہیں کرے گا۔۔” انہوں نے تینوں کو ڈانٹا۔۔ مگر ہاشم روتا ہوا گھر گیا اور ساتھ نگار بیگم کو کھینچتا لے آیا۔۔ وہ آتے ہی چلاّنے لگیں۔۔

“کیا ہوا بھابھی۔۔”؟ بی جان شور کی آواز سُن کر کچن سے نکل آٸیں۔۔ ولی بھی لاٶنج میں آگیا تھا۔۔

“اس حرام کی اولاد کیلیۓ تم نے میرے ہاشم پر ہاتھ اُٹھایا۔۔ اب اس غلاظت کی پوٹلی کی وجہ سے تم ہمارے بچّوں کو ماروگی۔۔ تم اس حرامزادے کی وجہ سے اب ہمیں ذلیل کرو گی زمانی۔۔! یاد رکھو۔۔ گندے خون کی پیداوار کبھی خوشحالی کو نہیں لے کر آتی۔۔ بربادی لاتی ہے ہمیشہ۔۔”

انکی آواز سے ملازم بھی اکھٹّے ہو گۓ تھے۔۔

“بھابھی۔۔”

چپ کر جاٶ بس تم۔۔ اور توُ۔۔ آٸندہ کھیل اس غلیظ کے ساتھ۔۔” ولی کی جانب اشارہ کر کے کہا تو وہ خوف سے بی جان کے پیچھے چُھپنے لگا۔۔

اور پھر بہت عرصے بعد اسے ناجاٸز کا مطلب بھی سمجھ آہی گیا تھا۔ وہ دن اسکے ہنسنے کا آخری دن تھا۔۔ بلکہ وہ تو اسکی زندگی کا ہی آخری دن تھا۔۔ وہ اس وقت سے مردہ ہوگیا تھا جب اسکول کے باہر۔۔ کالج یہاں تک کے یونیورسٹی تک میں لوگ اس سے دور بھاگتے تھے۔۔ جیسے وہ کوٸ مکروہ مخلوق ہو۔۔ گند کا ڈھیر ہو۔۔ یا شاید اسے کوٸ ایسی بیماری ہو جو انہیں اسکے چُھوتے ہی لگ جاۓ گی۔۔ اس نے ہنسنا چھوڑ دیا تھا۔۔ بولنا چھوڑ دیا تھا۔۔ لوگوں سے ملنا ملانا چھوڑ دیا تھا۔۔ انکی نظریں اسے چھیدتی ہوٸیں اسکی روح کے آر پار ہوتی تھیں۔۔ ان نظروں کی اذیت سے آج بھی اکثر راتوں کو وہ ڈر کر اُٹھ جایا کرتا تھا۔۔ اسے خوفناک خواب آیا کرتے تھے۔۔ ان خوابوں کی وجہ سے اس نے سونا چھوڑ دیا تھا۔۔ اسے سونے سے نفرت ہونے لگی تھی۔۔ خواب دیکھنے سے نفرت ہونے لگی تھی۔۔ اسے۔۔ اپنے وجود سے گِھن آنے لگی تھی۔۔ وہ گند تھا۔۔ گند کا ڈھیر تھا۔۔ وہ مرجانا چاہتا تھا۔۔ اسکے پاس جینے کا کوٸ جواز باقی تھا ہی نہیں۔۔ اس کی معصوم آنکھوں کا خواب تو صرف وہ پری زاد تھی کہ جس کو وہ اپنے ساۓ سے بھی محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ وہ منہوس تھا۔۔ اسے اپنی نحوست امل پر ہرگز نہیں ڈالنی تھی۔۔ نہیں وہ cursed ہے۔ وہ کبھی اس سے نہیں کہے گا۔۔ وہ کبھی اسکو بھنک بھی نہیں پڑنے دے گا۔۔ وہ اس کو خود سے کوسوں دور رکھے گا۔۔۔ ہر حال میں۔۔ ہر رات سوتے وہ خود سے یہ وعدہ لیا کرتا تھا۔۔ وہ محبّت نہیں کرسکتا تھا۔۔ اسکا محبّت پر کوٸ حق نہیں تھا۔۔ وہ مرے گا۔۔ کتّے کی موت ہی مرے گا۔۔ ساری دنیا کہتی تھی۔۔ اور اسے اس بات کا یقین تھا۔۔ کہ اسکی موت بھی اتنی ہی ذلیل ہوگی۔۔ جتنی کے اسکی زندگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گہرا سانس لے کر ماضی کے جلتے لمحات کو پرے دھکیلا۔۔ فجر کی اذان گونجی تو وہ نماز کے لیۓ اُٹھ کھڑا ہوا۔۔ غسل کرکے سُرمٸ رنگ کا لباس زیب تن کیا اور اِسکن رنگ کی شال کندھوں پر ڈال کر دروازہ بند کرتا کمرے سے باہر نکل آیا۔۔

یہ اسکا معمول تھا۔۔ اسے بمشکل چند گھنٹے ہی نیند آتی تھی۔۔ اور وہ نیند بھی اتنی بیدار تھی کہ کوٸ پاس سے بھی گزرتا تو اسکی آنکھیں پٹ سے وا ہوجاتیں۔۔

اس نے فجر کی پاکیزہ ٹھنڈک کو سانس کے ساتھ اندر اُتارا تو جلتے وجود میں طمانیت سی پھیل گٸ۔۔ ساری رات ڈستی سوچیں اسے جگاۓ رکھتی تھیں اور وہ انکا زہر خود میں اُتارتا رہتا تھا۔ اس نے تھک کر آنکھیں بند کیں اور زہر آلودہ خیالات سے دامن بچانا چاہا۔۔ مگر کیسے۔۔ وہ اس ذلّت کو کیسے بھول سکتا تھا۔۔ آخر کیسے وہ۔۔ وہ سب کچھ ماضی کے جھروکوں میں دھکیل سکتا تھا۔۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔ سُرخ سی نسواری آنکھیں نم سی محسوس ہوتی تھیں۔۔

“ولی۔۔”

پیچھے سے بی جان کی آواز آٸ تو وہ چونک کر پلٹا۔۔

“نماز کے لیۓ جارہے ہو؟”

“جی بی جان”

“اللّہ تیری اس جوانی کی حفاظت کرے ولی۔۔ جا اللّہ کی امان میں”

پھر اسکی آنکھیں دیکھ کر ٹھٹکیں۔۔

“تم رات سوۓ تھے؟”

اس نے چونک کر انکی جانب دیکھا۔۔

“ولی آنکھیں سُرخ کیوں ہورہی ہیں۔۔؟”

“کچھ نہیں بی جان۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ پریشان مت ہوا کریں۔۔ یہ آنکھیں پانی جانے کی وجہ سے سُرخ ہو رہی ہیں۔۔ آپکو پتہ تو ہے۔۔ نہانے کی وجہ سے میری آنکھیں ہمیشہ سے ایسی ہوجایا کرتی تھیں۔۔”

“آنکھوں میں پانی جانے کی سُرخی اور آنکھوں سے پانی نکلنے کی سُرخی الگ ہوا کرتی ہے ولی”۔۔

وہ لبوں کو بھینچتا بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گیا تھا۔۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اسے یوں براہِ راست آگاہ کرینگی کے سُرخیاں بھی اپنے اندر پیغام سمیٹے ہوۓ ہوتی ہیں۔۔

“اللّہ تیری حفاظت کرنے والا ہے۔۔ جاٶ نماز پڑھو جاکر۔۔”

وہ آگے بڑھ کر داخلی دروازے کے پار غاٸب ہوا تو وہ اپنی آنکھیں رگڑتیں فجر کا وضو کرنے چلی گٸیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ نماز پڑھ کر آیا تو لان کی جانب نازک سراپے پر اسکی نگاہ اُٹھی اور پھر جُھک گٸ۔۔ وہ لان کی ٹھنڈک میں نماز پڑھ کر فارغ بیٹھی دُور آسمان کو تک رہی تھی۔۔

اتنی ٹھنڈ میں باہر کیا کررہی ہیں۔۔! اسے اچھنبا ہوا۔۔

اس نےنظر انداز کر کے آگے قدم بڑھاۓ مگر وہ بے اختیار اسے پُکار بیٹھی۔۔ اسکے مضبوط قدم زنجیر ہوۓ۔۔ اس آواز پر تو ساری زندگی بھی ٹھہر سکتا تھا۔۔

“جی بی بی۔۔”

وہ اس سے ایک فاصلے پر رُک گٸ تھی۔۔

“آپکی طبیعت کیسی ہے۔۔؟ بی جان بتا رہی تھیں کہ آپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔۔ کیا ہوا ہے۔۔؟ آپ بالکل بھی خیال نہیں رکھتے ہیں اپنا ولی۔۔”

اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔۔ کہ وہ حال پوچھتے پوچھتے اسے ڈانٹنے لگی تھی۔۔ وہ اسکی فکر پر تلخی سے مسکرایا۔۔

“مجھے کچھ نہیں ہوتا بی بی۔۔ ٹھیک ہوں میں۔۔ بہت سخت جان واقع ہوا ہوں۔۔”

سر جھٹک کر تلخی سے کہا۔۔

“ایسے نہ کہیں ولی۔۔”

“چلیں میں ایسا نہیں کہتا۔۔ ساری دنیا کہتی ہے کہ اتنی ذلّت کے بعد بھی مرتا نہیں ہے۔۔”

“ایسے نہ کہا کریں ولی۔۔ “

اب کے اسکی التجا بھیگنے لگی تھی۔۔ “دنیا جو بھی کہے۔۔ اس سب میں آپکا کوٸ قصور نہیں ہے۔۔ جو ہوا اس سب میں آپ قصور وار نہیں ہیں ولی۔۔ یہ دنیا قصور وار ہے۔۔ اسکی ظالم روایتیں۔۔ جھوٹی امارتیں قصور وار ہیں۔۔ آپ تو معصوم ہیں۔۔ اس سارے قصّے میں آپ مظلوم ہیں۔۔ یہ دنیا ظالم ہے۔۔ خود کو اذیت دینا چھوڑ دیں۔۔”

یہ حد تھی۔۔ آخری لفظ کانپ سے گۓ تھے۔۔ امل رورہی تھی۔۔ اس نے امل کو رُلادیا۔۔ کتنا منحوس تھا وہ۔۔ کتنی زندگیاں اذیت میں جھونکی تھیں اس نے۔۔

“کیوں رو رہی ہیں آپ۔۔؟”

اس نے ضبط سے کہا۔۔

”آپ رُلاتے ہیں مجھے۔۔۔“

آنکھیں رگڑ کر صاف کرتی وہ اس کاٸنات کی سب سے پاکیزہ اپسرا لگ رہی تھی۔ وہ چند پل اسے دیکھے گیا۔۔

”مت رویا کریں۔۔“

بہت آہستہ سے کہا۔۔

اسی پل اس نے آنکھیں اُٹھاٸ تھیں۔۔ کیا کبھی تم نے وقت کو رُکتے دیکھا ہے۔۔؟ وہ ایسا ہی لمحہ تھا جو ٹھہر گیا تھا ان دونوں کے درمیان۔۔ اس کی گلابی آنکھوں نے اسکی شہد رنگ بھیگی نظروں کو چھوا۔۔

کاش وہ وقت کی لگام کو کس کر تھام سکتا اور ان بھیگتی آنکھوں کے سارے آنسو خود میں جذب کرلیتا۔۔ امل نے بے اختیار آنکھیں جُھکاٸیں۔۔ وہ ان آنکھوں کی تکلیف کو مزید نہیں سہار سکتی تھی۔۔ یہ زخمی آنکھیں اسے زخم دے رہی تھیں۔۔ اسکا وجود زخم زخم ہونے لگا تھا۔۔

“میرے لیۓ مت رویا کریں امل بی بی۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔”

اتنا کہا اور آگے بڑھ گیا۔۔ امل روتی رہی۔۔ وہ ڈھیر سارا رونا چاہتی تھی۔۔ وہ اسکے لیۓ رونا چاہتی تھی۔۔ اسکے حصّے کا رونا چاہتی تھی۔۔

وہ کمرے کے واش روم میں بیسن پر جُھکا منہ دھو رہا تھا۔۔

اسے یہاں سے چلے جانا چاہیۓ۔ اگر وہ یہاں رہا تو امل کو زیادہ تکلیف دے گا۔۔ اور اس پر تو وہ اپنی ذات کا سایہ بھی نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔

اور بھیگی آنکھیں۔۔۔!

اس نے آنکھیں بند کر کے بے بسی سے چہرہ اوپر اُٹھایا۔مگر اب وہ اسکی سانسوں میں قطرہ قطرہ تحلیل ہونے لگی تھی جسے وہ چاہ کر بھی خود سے جُدا نہیں کرسکتا تھا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔

اس روز سفید حویلی میں معمول کے بر خلاف چہل پہل تھی۔۔ ملازمین چُستی سے کاموں میں مگن تھے۔۔وہ بی جان کے کسی کام سے آیا تھا۔۔ باریکی سے حویلی میں ہوتے کاموں کا جاٸزہ لیا اور پھر بی جان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

“ارے ولی۔۔ آٶ۔۔”

وہ مسکراٸیں۔۔ ولی ادب سے چلتا صوفے پر آبیٹھا۔۔

“آج امل کے لیۓ حسن بھاٸ اپنے چھوٹے بیٹے نفیس کا رشتہ لا رہے ہیں۔۔”

وہ جو نظریں جُھکاۓ بیٹھا تھا چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔۔ رگوں میں دوڑتے خون کی گردش یکدم تیز ہوٸ تھی۔۔ اسکی سماعتیں جل اُٹھیں۔۔

“بس امل کے فرض سے بھی آزاد ہو جاٶں تو سکون سے مر سکوں۔۔”

وہ اسکے اندر ہوتی توڑ پھوڑ سے بے خبر کہہ رہی تھیں۔۔ اس نے ضبط سے دانت پر دانت جماۓ تو کنپٹی کی رگیں اُبھر آٸیں۔۔

“ہاں بیٹا تمہیں اس لیۓ بلایا تھا کہ تم ذرا شادی کے انتظامات دیکھ لینا۔۔ رشتہ تو بچپن سے طے تھا۔۔ اب صرف تاریخ ہی رکھی جاٸیگی۔۔ اور شادی بھی جلد ہی رکھیں گے۔۔بھابھی بتا رہی تھیں۔۔”

اسے قسمت کے فیصلے پر ہنسی آٸ تھی۔۔ اسے خود پر ہنسی آٸ۔۔ اسکی قسمت اتنی بھی ظالم ہوسکتی ہے اسے اُمید نہیں تھی۔۔ اتنی ظالم۔۔۔! کہ اب اسے اپنی محبّت کو کسی اور کے حوالے کرنا تھا اور سِتم یہ تھا کہ خوش دلی سے کرنا تھا۔۔

“جی بی جان۔۔ میں سب سنبھال لونگا۔ فکر نہ کریں۔۔”

ٹہرے ہوۓ لہجے میں کہا اور بے جان قدموں سے اُٹھ آیا۔۔ زینوں سے نیچے اُتر رہا تھا کہ وہ اوپر چڑھتی ہوٸ نظر آٸ۔۔ امل نے اسے دیکھا۔۔ وہ ایک۔۔۔ بس ایک پل کے لیۓ رکا تھا اور پھر اتنی تیزی سے اُترا گویا زینوں کو قدموں تلے روند ڈالنا چاہتا ہو۔۔ وہ اسے مُڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔

ولی نے گاڑی ریورس کی تو ٹاٸر چرچرا اُٹھے۔۔ دروازے پر جمے ملازم نے اسے کبھی اتنے غصّے میں نہیں دیکھا تھا۔۔ وہ گاڑی تیزی سے نکال لے گیا تھا۔۔ سختی سے اسٹیرنگ پر جمے ہاتھ۔۔ اور سپاٹ سا چہرہ۔۔ وہ کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا۔۔ وہ نارمل رہا ہی نہیں تھا۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *