Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 3)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

”شاہ نواز“

”جی صاحب جی۔۔“

”مجھے نفیس احمد کی زندگی کا ہر پہلو لا کر دو۔ وہ کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے، کس کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے، کب جاتا ہے کب آتا ہے سب کچھ۔ اسکی زندگی کا ہر ورق مجھے شام تک اپنی ٹیبل پر چاہیۓ۔۔ اور اس معاملے میں، میں کوٸ کوتاہی برداشت نہیں کرونگا۔۔ جاسکتے ہو تم۔۔“

بات ختم کرکے اس نے سامنے دھری فاٸل کھولی مگر پھر سر اُٹھا کر دیکھا شاہ نواز اب تک سر جُھکاۓ کھڑا تھا۔۔

”کہو۔۔“

”صاحب جی۔۔ آپکے حریف پہلے ہی گھات لگاۓ بیٹھے ہیں کہ کب آپ ذرا سا چُوکیں اور وہ آپ کو دھر لیں۔ ایسے میں حویلی والوں کی زندگیوں کو کھنگالنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آپ ایک دفعہ پھر سوچ لیں۔۔“

”اسکے علاوہ میں کچھ نہیں سوچ سکتا نواز۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ اگر یہ ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔“

”ٹھیک ہے صاحب۔۔آپ فیصلہ کرچکے ہیں تو میں ہر حال میں آپکا ساتھ دونگا۔۔“

شاہ نواز اسکا وفادار اور خاصہ گھاک ملازم تھا۔ مخالفین کی کمزوریاں جاننے کے لیۓ اس نے ہمیشہ اس پر بھروسہ کیا تھا اور اسکے ملازم نے اسے کبھی مایوس نہیں کیا تھا۔

”صاحب جی۔۔ وہ۔۔ ہاشم سرکار آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔“

”ٹھیک ہے۔۔ شام کا وقت طے کردو۔۔“

اسکے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔ ہاشم وہ آخری شخص تھا جسکی وہ شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

اس نے پیشتر کاموں کو بیک وقت نپٹا کر فاٸلز ایک طرف کیں اور آخر میں زمان احمد کی نورآباد والی زمین کی فاٸل اُٹھا لی۔ یہ زمین متنازعہ ہو گٸ تھی اور چونکہ یہ دوسروں کے علاقے میں آرہی تھی تو اسکے بہت سے دعویدار اُٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ وہ بھی اپنے گاٶں کے وڈیرے تھے اور بات منوانے کے فن میں تاک۔۔! اسی لیۓ انکے ساتھ بہت صبر سے چلنا تھا مگر اب اسکا صبر جواب دینے لگا تھا کیونکہ اس زمین پر قابض لوگ ہاشم کے جاننے والے تھے اور وہ انہیں مستقل ولی کے خلاف استعمال کررہا تھا کہ کسی طرح وہ کہیں چُوکے اور وہ اسے زمان احمدکی نظروں میں گِرا سکے۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو شاہ نواز بول گیا تھا وہ اسی کا کچھ حصّہ تھا۔۔

اس نے لب بھینچ کر فون اُٹھایا اور چند بٹن دبا کر کان سے لگایا۔۔

”محسن۔۔ نورآباد والی زمین کے جتنے بھی دعویدار ہیں انکے نام پتے اور انکی سرگرمیوں کی ساری رپورٹس مجھے جمع کر کے دو۔۔ اور دیر باکل بھی مت کرنا۔۔ اب اس کام کو مزید لٹکانا نقصان دے گا۔۔“

اس نے حکم دے کر فون کان سے ہٹایا اور اپنی جگہ سے اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہاشم اسکے آفس میں دندناتا ہوا داخل ہوا۔۔ ولی اُٹھتے اُٹھتے بیٹھ گیا۔۔ وہ اچھا خاصہ اونچا لمبا سا مرد تھا باکل بانس جیسا۔ مضبوط کسرتی جسم پر چپکی ہوٸ چھوٹی آستینوں والی قمیض پہنے وہ اپنے انتہاٸ مکروہ حُلیے کی طرح ناگوار گزرتا تھا۔۔ لوگ اسے چھنٹا ہوا بد معاش کہتے تھے کیونکہ اسکا اُٹھنا بیٹھنا ٹھیک ٹھاک قسم کے بد قماش لوگوں میں تھا اور ولی اس بات سے بے خبر نہیں تھا۔۔

”وہ کیا ہے ناں ولی کہ تم سے کافی وقت سے ملاقات نہیں ہوٸ تھی۔۔ تم تو آتے نہیں اسی لیۓ میں خود چلا آیا تم سے ملنے۔ اونچی ناک رکھتے ہو ناں تم۔ بس اُسی کا احترام کرتے میں خود تمہاری خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔۔ حاضری قبول فرماٶ سرکار۔۔“

اسکا مزاق اُڑاتا لہجہ ولی کو کُھبتا تھا مگر اب وہ وقت گزر گیا تھا کہ جب وہ اس سے دب جاتا۔ ایک جنگل میں رہتے رہتے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آخر جنگل میں سرواٸیو کیسے کیا جاتا ہے۔ وہ اب۔۔ وہ کمزور ۔۔ بے بس ولی نہیں تھا۔۔ اسکے اختیار میں بہت کچھ تھا۔ اسکی بھی چھنٹے ہوۓ بدمعاشوں سے دوستیاں تھیں۔ کیونکہ اسے یہاں زندہ رہنے کے لیۓ ان سے دوستی رکھنی تھی اور اس نے وہ ہی کیا تھا۔ اگر ہاشم خطرناک تھا تو ولی بھی خوفناک راتوں کا مُسافر رہا تھا۔۔

”کیا کام تھا۔۔؟“

اس نے کہا تو صرف اتنا ہی۔۔ اسکا چہرہ ہر جذبے سے عاری۔۔ سپاٹ سا ہورہا تھا۔۔

”کام اچھے سے جانتے ہو تم۔۔“

آگے والا بھی ہاشم تھا۔ اسکی اندر کو دھنسی سیاہ آنکھوں میں ولی کے لیۓ بلا کی نفرت تھی مگر وہ مسکرا رہا تھا کیوں کے اس جنگل نے اسکو یہی سکھایا تھا۔۔

”کچھ بولو تو پتہ چلے۔۔“

اب کے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ وہ اسکےمنہ سے سننا چاہتا تھا۔ اسے دھرتے دھرتے وہ کہیں تو چُوکے گا۔ غلطی کرے گا۔۔

”انجان مت بنو ولی۔۔ جانتے ہو تم میں کس سلسلے میں یہاں آیا ہوں۔ اس زمین سے پیچھے ہو جاٶ اور دوبارہ اسکے متعلق بات کرنے کی غلطی بھی مت کرنا۔ جانتے ہو ناں نورآباد والے لاشوں کو دفنانے کے لیۓ ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی قبر وقت سے پہلے مت کُھدواٶ۔۔“

اوہ۔۔ اس کے لب ”اوہ“ میں سُکڑے پھر اپنی نسواری آنکھیں ہاشم کی آنکھوں میں گاڑھی، ہونٹ متبسم تھے مگر آنکھوں سے گویا آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔۔

اس نے مسکرا کر ہاشم کی آنکھوں میں دیکھا۔

”اپنی قبر میں نے خود کھودی ہے ہاشم، ابھی سے نہیں جب سے پیدا ہوا ہوں تب سے۔ اور یہ جو تم موت سے ڈرا رہے ہو ناں مجھے اس کا کوٸ فاٸدہ نہیں، بھلا موت سے گزر کر آۓ کسی شخص کو موت ڈرا بھی کیسے سکتی ہے۔۔ جانتے ہو موت کو کتنے قریب سے دیکھا ہے میں۔۔“

ایک پل کو وہ آگے کو ہوا، اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔

”اتنے قریب سے کہ اگر تم دیکھ لو تو دم رُک جاۓ تمہارا۔۔ اور دوسری بات۔۔ نور آباد والے اگر دفنانا اچھے سے جانتے ہیں تو قبروں کی کُھداٸ میں پیچھے ہم بھی نہیں رہے۔ کہو ، پہلے تمہاری قبر کھودوں یا ان کی جنہیں تم اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہو۔۔۔؟“

اس نے اسکی بہت ساری باتوں کا جواب ایک ساتھ دیا تھا ان باتوں کا بھی جو اس پر اُدھار رہ گٸ تھیں۔۔

”بہت بڑے ہوگۓ ہو ولی۔۔ بہت بڑے۔۔ لگتا ہے وہ ذلّت بھولنے لگے ہو اب۔۔ شاید اتنے عرصے میں کسی نے تمہیں یاد نہیں دلایا کہ تم گناہ کے جواب میں پیدا ہوۓ تھے۔۔ یا شاید۔۔“

سسی اس نے کان چُھو کر سوچنے کی اداکاری کی۔۔

”تم سے اتنے عرصے میں کسی نے تمہارے باپ کانام نہیں پُوچھا ہوگا۔۔“

وہ بلاشُبہ بہت گہری چوٹ تھی۔ اسکی کنپٹی کی رگیں بے اختیار اُبھری تھیں۔ ٹیبل پر رکھا اسکا ہاتھ سخت مٹھی میں بند ہو چکا تھا۔۔

”ولی تم آج بھی وہ ہی ولی ہو جو تھے۔ آج بھی تمہاری ذات سوالیہ نشان ہے۔ تمہارے لیۓ ۔۔اس گاٶں کے لیۓ۔۔ بلکہ اس ساری دُنیا کے لیۓ تمہاری ذات سِواۓ گند کے ڈھیر کےکچھ نہیں۔۔ مگر شاید تم حویلی میں رہتے رہتے بھولنے لگے ہو کہ تم حرامزادے ہو۔۔!“

اور یہ حد تھی وہ اُٹھا گُھوم کر ٹیبل کی دوسری جانب آیا اور ہاشم کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔ اسکی خون آشام آنکھیں ہاشم کی آنکھوں میں گڑھی تھیں۔۔ اور تنفّس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔۔

”ایک اور لفظ بھی کہا تو ہاشم۔۔ میں یہ بھول جاٶنگا کہ کبھی کسی شریف گھرانے نے تربیت کی تھی میری۔۔ اور تمہیں اتنا مارونگا۔۔ اتنا۔۔ کہ تم موت مانگوگے۔۔ مگر تمہیں موت نہیں آۓ گی۔۔ اور یہ مت بھولو کہ اگر میں حرام زادہ ہوں تو تم حرام کی اولادوں کو جنم دیتے پولیس کے چھاپوں سے بہت دفعہ بچے ہو۔“

اسکے زہریلے وار پر ہاشم نے زوردار مُکّا اسکے جبڑے پر مارا تو وہ بے اختیار پیچھے ہٹا۔ اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور اس سے نکلتا خون اسکی زبان میں اپنا ذاٸقہ گھول رہا تھا مگر وہ پرواہ کیۓ بغیر زخمی شیر کی طرح آگے بڑھا اور اسے جھپٹ کر اپنے ٹیبل پر لِٹایا پھر اندھا دھند اس پر گُھونسوں کی بارش کردی۔۔ اس پر جیسے کوٸ جنون سوار تھا۔ ہاشم نے اسے پوری قوت سے دھکّا دیا تو وہ دروازے سے جا لگا دروازے کا ناب اسکی کہنی میں بہت زور سے گُھسا تھا۔۔ وہ آگے آیا اور اسے مارنے کے لیۓ ہاتھ اُٹھایا مگر ولی نے اسکا ہاتھ روک کر اسکے پیٹ پر لات ماری تو وہ اُڑتا ہوا دور جا گرا۔۔

دونوں طاقتور تھے اور لڑنا جانتے تھے مگر آج ولی نے تہیّہ کر لیا تھا کہ وہ ہاشم کی جان لے کر رہے گا۔۔ اسی وقت محسن اسکے آفس میں داخل ہوا تو آفس کی بکھری حالت دیکھ کر اسکے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔۔ بکھرے کاغذ۔۔ اُلٹی سیدھی پڑی کُرسیاں۔۔۔ دروازے کا ٹُوٹا ناب اور گِرے ٹیبل کے پیچھے لڑتے ولی اور ہاشم۔۔ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے لگتے تھے۔۔ اس نے بھاگ کر ان کو چُھڑایا پھر وہ انہیں الگ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ دو مضبوط لوگوں کو الگ کرنا ہرگز بھی مزاق نہیں تھا۔۔ ہاشم اسے گالیاں دیتا آفس سے نکلا تو اس نے بھی ٹھوکر مار کر بکھرے کاغذات کو مزید بکھیر دیا۔۔ اسکی حالت کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔

”سر ۔۔۔ سر تھوڑی دیر کے لیۓ بیٹھ جاٸیں۔۔ آپ۔۔ آپکی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔“ محسن نے اسکے لیۓ کُرسی ٹھیک کی مگر وہ زمین پر گِرا موباٸل جھپٹ کر تیز ہوتے تنفّس کے ساتھ آفس سے باہرنکل گیا تھا۔۔ اسکا دماغ ماٶف ہورہا تھا اور جسم میں گویا جیسے کسی نے ہزاروں گُنا طاقت بھر دی تھی۔ غصّے میں انسان کی طاقت دُگنی ہوجایا کرتی ہے اس نے سُن رکھا تھا اور آج اسے اسکا اندازہ بھی ہوگیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”شاہ سر آپکو اندازہ بھی نہیں ہے کہ ہاشم سرکار اور ولی سر ایک دوسرے کو کس طرح مار رہے تھے۔۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ میں وقت پر پہنچ گیا ورنہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ماردیتے۔۔ ولی سر پر تو لگتا تھا گویا کوٸ جنون سوار ہو گیا ہو۔۔ آہ۔۔ “ اسے بے اختیار جُھرجُھری آٸ تھی۔۔

”تم نے غلط وقت پر جا کر سارا کام خراب کردیا محسن۔۔ زیادہ خود کو داد دینے کی ضرورت نہیں ہے وقت پر پہنچنے کے لیۓ۔ وہ لڑاٸ میں نے ہی پلین کی تھی۔۔“

شاہ نواز نے انتہاٸ سُکون سے کہہ کر اسے بے سُکون کردیا تھا۔۔ محسن آنکھیں پھیلاۓ اس تک آیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑا ریوالور اُلٹ پُلٹ کر دیکھ رہا تھا۔۔

”کیا مطلب۔۔ آپ نے۔۔! لیکن کیوں۔۔کہیں آپ ولی سر کو دھوکا تو نہیں دے رہے شاہ سر۔۔“ آخر میں وہ مشکوک ہوا تو شاہ نواز نے اسکے سر پر چپت لگا کر اسے پرے کیا۔۔ پھر آرام سے بتانے لگا۔۔

”جب دل میں دُشمنی کے غُبار پکنے لگیں ناں محسن تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ انسان چیخ چلّا لے، جس پر غصّہ ہے اسے مار کر اپنے اندر پکتا لاواہ باہر نکال کرے۔۔ اس سے مسٸلہ حل ہو نہ ہو۔۔ انسان کی ذات کو ایک گونہ سُکون ضرور ملتا ہے۔۔ جس پر غصّہ ہو اسے مار کر انسان کی اپنی ذات آسانی میں آجاتی ہے۔۔ اسی لیۓ کبھی کبھی ہاتھوں کی لڑاٸ بہت ضروری ہوتی ہے۔۔ میں نے بس ولی صاحب کی مدد کی ہے اس جنگ میں۔۔ یہ آگ کی جنگ ہے محسن۔۔ اس میں سب خاک ہوگا۔۔ بچے گا کچھ بھی نہیں۔۔ میں نے بس اُنہیں تھوڑی سی آسانی دی ہے۔۔“

وہ بلاشُبہ بہت ماہر اور اپنے فن میں تاک تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ کب زبان۔۔ کب دل اور کب ہاتھوں کی لڑاٸ لڑی جانی چاہیۓ۔۔ اور اس نے وہ ہی کیا تھا جو اسکے تجربے نے اسکو سکھایا تھا۔ طویل جنگوں کے لیۓ اپنی طاقت کو محفوظ رکھنا اور دُشمن کو بتاتے رہنا کے جسے تم کمزور سمجھ رہے ہو وہ اصل میں اتنا کمزور ہے نہیں۔۔ آج کی جرأت کے بعد ہاشم کو اچھے سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ولی کتنا خونخوار اور کتنا بڑا سرواٸیور تھا۔ اسے بس ہاشم کو یہی باور کروانا تھا۔۔

”آپ کی تو منطق ہی میری سمجھ سے باہر ہے شاہ سر۔ اگر ولی سر کو پتہ چل گیا تو جانتے ہیں ناں کیا ہوگا۔ آپ کو ڈر نہیں لگتا۔۔“

”میں نے وہ کیا جو ایک وفادار ملازم کو کرنا چاہیۓ بس اور کچھ نہیں۔۔ تم اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور یہ بتاٶ جو کام تمہیں ولی سر نے کہا تھا وہ کیا۔۔؟“

اس نے فاٸلز کی ورق گردانی کرتے ہاتھوں کو روک کر پوچھا تو محسن نے خاکی لفافہ اسکی جانب بڑھایا۔۔

”وہ لوگ اچھے خاصے خطرناک لوگ ہیں شاہ سر۔۔ آپ ولی سر کو آگاہ ضرور کر دیجٸیے گا۔۔ میں اب چلونگا۔۔“ وہ آفس سے باہر کی جانب بڑھا تو شاہ نواز نے گہرا سانس لے کر خاکی لفافہ کھولا اور اندر رکھے پرچوں کو پڑھتے اسکی پیشانی کی بلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ کیا حال بنا رکھا ہے ولی۔۔؟“

اصغر اسکا واحد دوست تھا۔ اس بھری دُنیا میں اسکا واحد رشتہ۔ جس نے اسے اسکی خامیوں، اسکی بد نامیوں اور اسکی ذلّت کے ساتھ قبول کیا تھا۔ ابھی بھی وہ بکھری حالت میں اسکے پاس آیا تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح اسکی ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔

”کچھ نہیں۔۔“

اس نے آستینیں چڑھا کر صوفے میں دھنستے کہا تو اصغر سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ اسکی زندگی سے بخوبی واقف تھا۔۔

”کسی سے لڑ کر آۓ ہو کیا۔۔؟ زبردست۔۔ بس ایک بات بتادو زندہ تو بچ گیا ناں وہ۔۔؟“

”مرا ہی تو نہیں ہے وہ۔۔“

اصغر نے اسکے جواب پر محتاط سا اسے دیکھا اور پھر سنبھل کر ہاتھ آگے بڑھایا پھر اسکی ناک پر آٸ خراش کو چُھوا تو ولی بے ساختہ پیچھے ہوا۔ ناگواری سے اصغر کو دیکھا۔ اصغر نے اسکے ناگواری سے دیکھنے پر دانت نکالے تھے۔۔

”معلوم ہے کہ تم جوان اور مضبوط ہو مگر اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جسے بھی چاہوگے ماروگے، اس دنیا میں قانون اور پیسے کی راج دھانی ہے، مارنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیا کرو کہ آگے والا تم سے ان دونوں چیزوں میں بڑا تو نہیں ہے۔۔ اور اگر وہ بڑا ہے تو۔۔“

ولی نے اسے ماتھے پر بل ڈال کر دیکھا تو اسکی پھسلتی زبان سنبھلی۔۔

ّ”تو۔۔ تو بھی سالے کو اتنا ہی مارنا چاہیۓ۔۔“

تھوک نگل کر بات مکمل کی تو ولی نے آنکھیں موند کر سر صوفے کی پُشت سے ٹِکایا، اسکے سر کے پچھلے حصّے میں بے تحاشہ درد ہورہا تھا، ڈار ناب لگنے کی وجہ سے اسکا پورا ہاتھ درد کی شدّت سے پھٹ رہا تھا اور پھٹے ہونٹ سے خون نکل کر وہیں جم گیا تھا۔۔

”جس نے بھی مارا ہے بچ کر تو وہ بھی نہیں گیا ہوگا یقیناً“

اصغر نے اُٹھ کر سامنے رکھی لمبی سی درازوں والی ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس اٹھایا پھر اسکے برابر میں رکھا تو اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔

”کیا۔۔ اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟ خود صاف کرو اپنے زخم۔۔ ماں نہیں ہوں میں تمہاری۔۔“

”بکو مت۔۔“

وہ بمشکل سیدھا ہوکر بیٹھا پھر آستین اوپر کرکے کہنی پر لگا زخم دیکھنے لگا۔ خون اسکے ہاتھ پر جم گیا تھا۔ اس نے ہاتھ چلایا تو بند میں درد کی ٹیسیں اُٹھنے لگیں۔۔

”چچ چچ۔۔ مطلب کوٸ بھی کام سیدھا مت کرنا تم۔ ہر وقت انڈرٹیکر کی طرح بس آنکھیں چڑھاۓ رکھنا اور لوگوں کو مارنا پیٹنا۔۔ ویل ڈن۔۔ کسی کا نہیں تو اس پری کا ہی خیال کر لو۔ تم جیسے جِن کے ساتھ اسکا گزارہ بہت مشکل ہو جاۓ گا۔۔“

اوپن کچن میں کھڑا وہ چاۓ کا پانی رکھتا مسلسل اسے جلی کٹی سُنا رہا تھا۔ مگر ماتھے پر آۓ زخم کو ہاتھ سے چُھوتا ولی، امل کے ذکر پر بے اختیار رُکا تھا۔ اسکی گردن میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوٸ۔۔

اسکی زندگی کی واحد آسانی کسی اور کے باغ کا پھول بننے جارہی تھی۔ اسکے پاس جینے کا جواز پہلے بھی نہیں تھا مگر اب اسے موت زیادہ سہل لگنے لگی تھی۔

پہلی بار اسکا دل دُکھنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ تکلیف تو وہ زخم دیا کرتے تھے جو نظر نہیں آتے تھے۔۔

”او ہیلو۔۔ زخم صاف کرو اپنے۔۔ اکّھا غُنڈے لگ رہے ہو۔۔ اور ایک بات بتاٶ۔۔ کب جانا ہے رشتہ لے کر تمہارا امل کے لیۓ۔۔؟ جلدی بتا دینا مجھے تیاری بھی کرنی ہے۔۔“

اس نے چاۓ اسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے کہا تو ولی دانت پر دانت جماتا اُٹھ کھڑا ہوا۔۔

”کبھی بھی نہیں۔۔“

”اٸیں۔۔ کیوں۔۔؟“

”کیونکہ وہ اب میری کبھی نہیں ہو گی۔۔“

”کیا مطلب۔۔؟“

اب کے اصغر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ قمیض کا گریبان ذرا سرکاۓ گردن پر آۓ زخم کے جمے خون کو صاف کررہا تھا۔ اور اسکی آنکھوں میں گلابی سی نمی تیرنے لگی تھی۔۔ یہ لفظ کہنا بھی تکلیف دیتا تھا کہ وہ اسکی کبھی نہیں ہوسکتی۔۔

اصغر نے اسکی خاموشی میں چُھپے بہت سے مفاہیم سمجھ کر گہرا سانس لیا اور اُداسی سے اپنے دوست کو دیکھے گیا جو آنسو چُھپانے کی کوشش میں اپنا سر پورا جُھکاۓ گردن کے زخم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہ نواز“

”جی صاحب جی۔۔“

”مجھے نفیس احمد کی زندگی کا ہر پہلو لا کر دو۔ وہ کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے، کس کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے، کب جاتا ہے کب آتا ہے سب کچھ۔ اسکی زندگی کا ہر ورق مجھے شام تک اپنی ٹیبل پر چاہیۓ۔۔ اور اس معاملے میں، میں کوٸ کوتاہی برداشت نہیں کرونگا۔۔ جاسکتے ہو تم۔۔“

بات ختم کرکے اس نے سامنے دھری فاٸل کھولی مگر پھر سر اُٹھا کر دیکھا شاہ نواز اب تک سر جُھکاۓ کھڑا تھا۔۔

”کہو۔۔“

”صاحب جی۔۔ آپکے حریف پہلے ہی گھات لگاۓ بیٹھے ہیں کہ کب آپ ذرا سا چُوکیں اور وہ آپ کو دھر لیں۔ ایسے میں حویلی والوں کی زندگیوں کو کھنگالنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آپ ایک دفعہ پھر سوچ لیں۔۔“

”اسکے علاوہ میں کچھ نہیں سوچ سکتا نواز۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ اگر یہ ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔“

”ٹھیک ہے صاحب۔۔آپ فیصلہ کرچکے ہیں تو میں ہر حال میں آپکا ساتھ دونگا۔۔“

شاہ نواز اسکا وفادار اور خاصہ گھاک ملازم تھا۔ مخالفین کی کمزوریاں جاننے کے لیۓ اس نے ہمیشہ اس پر بھروسہ کیا تھا اور اسکے ملازم نے اسے کبھی مایوس نہیں کیا تھا۔

”صاحب جی۔۔ وہ۔۔ ہاشم سرکار آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔“

”ٹھیک ہے۔۔ شام کا وقت طے کردو۔۔“

اسکے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔ ہاشم وہ آخری شخص تھا جسکی وہ شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

اس نے پیشتر کاموں کو بیک وقت نپٹا کر فاٸلز ایک طرف کیں اور آخر میں زمان احمد کی نورآباد والی زمین کی فاٸل اُٹھا لی۔ یہ زمین متنازعہ ہو گٸ تھی اور چونکہ یہ دوسروں کے علاقے میں آرہی تھی تو اسکے بہت سے دعویدار اُٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ وہ بھی اپنے گاٶں کے وڈیرے تھے اور بات منوانے کے فن میں تاک۔۔! اسی لیۓ انکے ساتھ بہت صبر سے چلنا تھا مگر اب اسکا صبر جواب دینے لگا تھا کیونکہ اس زمین پر قابض لوگ ہاشم کے جاننے والے تھے اور وہ انہیں مستقل ولی کے خلاف استعمال کررہا تھا کہ کسی طرح وہ کہیں چُوکے اور وہ اسے زمان احمدکی نظروں میں گِرا سکے۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو شاہ نواز بول گیا تھا وہ اسی کا کچھ حصّہ تھا۔۔

اس نے لب بھینچ کر فون اُٹھایا اور چند بٹن دبا کر کان سے لگایا۔۔

”محسن۔۔ نورآباد والی زمین کے جتنے بھی دعویدار ہیں انکے نام پتے اور انکی سرگرمیوں کی ساری رپورٹس مجھے جمع کر کے دو۔۔ اور دیر باکل بھی مت کرنا۔۔ اب اس کام کو مزید لٹکانا نقصان دے گا۔۔“

اس نے حکم دے کر فون کان سے ہٹایا اور اپنی جگہ سے اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہاشم اسکے آفس میں دندناتا ہوا داخل ہوا۔۔ ولی اُٹھتے اُٹھتے بیٹھ گیا۔۔ وہ اچھا خاصہ اونچا لمبا سا مرد تھا باکل بانس جیسا۔ مضبوط کسرتی جسم پر چپکی ہوٸ چھوٹی آستینوں والی قمیض پہنے وہ اپنے انتہاٸ مکروہ حُلیے کی طرح ناگوار گزرتا تھا۔۔ لوگ اسے چھنٹا ہوا بد معاش کہتے تھے کیونکہ اسکا اُٹھنا بیٹھنا ٹھیک ٹھاک قسم کے بد قماش لوگوں میں تھا اور ولی اس بات سے بے خبر نہیں تھا۔۔

”وہ کیا ہے ناں ولی کہ تم سے کافی وقت سے ملاقات نہیں ہوٸ تھی۔۔ تم تو آتے نہیں اسی لیۓ میں خود چلا آیا تم سے ملنے۔ اونچی ناک رکھتے ہو ناں تم۔ بس اُسی کا احترام کرتے میں خود تمہاری خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔۔ حاضری قبول فرماٶ سرکار۔۔“

اسکا مزاق اُڑاتا لہجہ ولی کو کُھبتا تھا مگر اب وہ وقت گزر گیا تھا کہ جب وہ اس سے دب جاتا۔ ایک جنگل میں رہتے رہتے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آخر جنگل میں سرواٸیو کیسے کیا جاتا ہے۔ وہ اب۔۔ وہ کمزور ۔۔ بے بس ولی نہیں تھا۔۔ اسکے اختیار میں بہت کچھ تھا۔ اسکی بھی چھنٹے ہوۓ بدمعاشوں سے دوستیاں تھیں۔ کیونکہ اسے یہاں زندہ رہنے کے لیۓ ان سے دوستی رکھنی تھی اور اس نے وہ ہی کیا تھا۔ اگر ہاشم خطرناک تھا تو ولی بھی خوفناک راتوں کا مُسافر رہا تھا۔۔

”کیا کام تھا۔۔؟“

اس نے کہا تو صرف اتنا ہی۔۔ اسکا چہرہ ہر جذبے سے عاری۔۔ سپاٹ سا ہورہا تھا۔۔

”کام اچھے سے جانتے ہو تم۔۔“

آگے والا بھی ہاشم تھا۔ اسکی اندر کو دھنسی سیاہ آنکھوں میں ولی کے لیۓ بلا کی نفرت تھی مگر وہ مسکرا رہا تھا کیوں کے اس جنگل نے اسکو یہی سکھایا تھا۔۔

”کچھ بولو تو پتہ چلے۔۔“

اب کے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ وہ اسکےمنہ سے سننا چاہتا تھا۔ اسے دھرتے دھرتے وہ کہیں تو چُوکے گا۔ غلطی کرے گا۔۔

”انجان مت بنو ولی۔۔ جانتے ہو تم میں کس سلسلے میں یہاں آیا ہوں۔ اس زمین سے پیچھے ہو جاٶ اور دوبارہ اسکے متعلق بات کرنے کی غلطی بھی مت کرنا۔ جانتے ہو ناں نورآباد والے لاشوں کو دفنانے کے لیۓ ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی قبر وقت سے پہلے مت کُھدواٶ۔۔“

اوہ۔۔ اس کے لب ”اوہ“ میں سُکڑے پھر اپنی نسواری آنکھیں ہاشم کی آنکھوں میں گاڑھی، ہونٹ متبسم تھے مگر آنکھوں سے گویا آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔۔

اس نے مسکرا کر ہاشم کی آنکھوں میں دیکھا۔

”اپنی قبر میں نے خود کھودی ہے ہاشم، ابھی سے نہیں جب سے پیدا ہوا ہوں تب سے۔ اور یہ جو تم موت سے ڈرا رہے ہو ناں مجھے اس کا کوٸ فاٸدہ نہیں، بھلا موت سے گزر کر آۓ کسی شخص کو موت ڈرا بھی کیسے سکتی ہے۔۔ جانتے ہو موت کو کتنے قریب سے دیکھا ہے میں۔۔“

ایک پل کو وہ آگے کو ہوا، اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔

”اتنے قریب سے کہ اگر تم دیکھ لو تو دم رُک جاۓ تمہارا۔۔ اور دوسری بات۔۔ نور آباد والے اگر دفنانا اچھے سے جانتے ہیں تو قبروں کی کُھداٸ میں پیچھے ہم بھی نہیں رہے۔ کہو ، پہلے تمہاری قبر کھودوں یا ان کی جنہیں تم اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہو۔۔۔؟“

اس نے اسکی بہت ساری باتوں کا جواب ایک ساتھ دیا تھا ان باتوں کا بھی جو اس پر اُدھار رہ گٸ تھیں۔۔

”بہت بڑے ہوگۓ ہو ولی۔۔ بہت بڑے۔۔ لگتا ہے وہ ذلّت بھولنے لگے ہو اب۔۔ شاید اتنے عرصے میں کسی نے تمہیں یاد نہیں دلایا کہ تم گناہ کے جواب میں پیدا ہوۓ تھے۔۔ یا شاید۔۔“

سسی اس نے کان چُھو کر سوچنے کی اداکاری کی۔۔

”تم سے اتنے عرصے میں کسی نے تمہارے باپ کانام نہیں پُوچھا ہوگا۔۔“

وہ بلاشُبہ بہت گہری چوٹ تھی۔ اسکی کنپٹی کی رگیں بے اختیار اُبھری تھیں۔ ٹیبل پر رکھا اسکا ہاتھ سخت مٹھی میں بند ہو چکا تھا۔۔

”ولی تم آج بھی وہ ہی ولی ہو جو تھے۔ آج بھی تمہاری ذات سوالیہ نشان ہے۔ تمہارے لیۓ ۔۔اس گاٶں کے لیۓ۔۔ بلکہ اس ساری دُنیا کے لیۓ تمہاری ذات سِواۓ گند کے ڈھیر کےکچھ نہیں۔۔ مگر شاید تم حویلی میں رہتے رہتے بھولنے لگے ہو کہ تم حرامزادے ہو۔۔!“

اور یہ حد تھی وہ اُٹھا گُھوم کر ٹیبل کی دوسری جانب آیا اور ہاشم کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔ اسکی خون آشام آنکھیں ہاشم کی آنکھوں میں گڑھی تھیں۔۔ اور تنفّس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔۔

”ایک اور لفظ بھی کہا تو ہاشم۔۔ میں یہ بھول جاٶنگا کہ کبھی کسی شریف گھرانے نے تربیت کی تھی میری۔۔ اور تمہیں اتنا مارونگا۔۔ اتنا۔۔ کہ تم موت مانگوگے۔۔ مگر تمہیں موت نہیں آۓ گی۔۔ اور یہ مت بھولو کہ اگر میں حرام زادہ ہوں تو تم حرام کی اولادوں کو جنم دیتے پولیس کے چھاپوں سے بہت دفعہ بچے ہو۔“

اسکے زہریلے وار پر ہاشم نے زوردار مُکّا اسکے جبڑے پر مارا تو وہ بے اختیار پیچھے ہٹا۔ اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور اس سے نکلتا خون اسکی زبان میں اپنا ذاٸقہ گھول رہا تھا مگر وہ پرواہ کیۓ بغیر زخمی شیر کی طرح آگے بڑھا اور اسے جھپٹ کر اپنے ٹیبل پر لِٹایا پھر اندھا دھند اس پر گُھونسوں کی بارش کردی۔۔ اس پر جیسے کوٸ جنون سوار تھا۔ ہاشم نے اسے پوری قوت سے دھکّا دیا تو وہ دروازے سے جا لگا دروازے کا ناب اسکی کہنی میں بہت زور سے گُھسا تھا۔۔ وہ آگے آیا اور اسے مارنے کے لیۓ ہاتھ اُٹھایا مگر ولی نے اسکا ہاتھ روک کر اسکے پیٹ پر لات ماری تو وہ اُڑتا ہوا دور جا گرا۔۔

دونوں طاقتور تھے اور لڑنا جانتے تھے مگر آج ولی نے تہیّہ کر لیا تھا کہ وہ ہاشم کی جان لے کر رہے گا۔۔ اسی وقت محسن اسکے آفس میں داخل ہوا تو آفس کی بکھری حالت دیکھ کر اسکے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔۔ بکھرے کاغذ۔۔ اُلٹی سیدھی پڑی کُرسیاں۔۔۔ دروازے کا ٹُوٹا ناب اور گِرے ٹیبل کے پیچھے لڑتے ولی اور ہاشم۔۔ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے لگتے تھے۔۔ اس نے بھاگ کر ان کو چُھڑایا پھر وہ انہیں الگ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ دو مضبوط لوگوں کو الگ کرنا ہرگز بھی مزاق نہیں تھا۔۔ ہاشم اسے گالیاں دیتا آفس سے نکلا تو اس نے بھی ٹھوکر مار کر بکھرے کاغذات کو مزید بکھیر دیا۔۔ اسکی حالت کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔

”سر ۔۔۔ سر تھوڑی دیر کے لیۓ بیٹھ جاٸیں۔۔ آپ۔۔ آپکی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔“ محسن نے اسکے لیۓ کُرسی ٹھیک کی مگر وہ زمین پر گِرا موباٸل جھپٹ کر تیز ہوتے تنفّس کے ساتھ آفس سے باہرنکل گیا تھا۔۔ اسکا دماغ ماٶف ہورہا تھا اور جسم میں گویا جیسے کسی نے ہزاروں گُنا طاقت بھر دی تھی۔ غصّے میں انسان کی طاقت دُگنی ہوجایا کرتی ہے اس نے سُن رکھا تھا اور آج اسے اسکا اندازہ بھی ہوگیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”شاہ سر آپکو اندازہ بھی نہیں ہے کہ ہاشم سرکار اور ولی سر ایک دوسرے کو کس طرح مار رہے تھے۔۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ میں وقت پر پہنچ گیا ورنہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ماردیتے۔۔ ولی سر پر تو لگتا تھا گویا کوٸ جنون سوار ہو گیا ہو۔۔ آہ۔۔ “ اسے بے اختیار جُھرجُھری آٸ تھی۔۔

”تم نے غلط وقت پر جا کر سارا کام خراب کردیا محسن۔۔ زیادہ خود کو داد دینے کی ضرورت نہیں ہے وقت پر پہنچنے کے لیۓ۔ وہ لڑاٸ میں نے ہی پلین کی تھی۔۔“

شاہ نواز نے انتہاٸ سُکون سے کہہ کر اسے بے سُکون کردیا تھا۔۔ محسن آنکھیں پھیلاۓ اس تک آیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑا ریوالور اُلٹ پُلٹ کر دیکھ رہا تھا۔۔

”کیا مطلب۔۔ آپ نے۔۔! لیکن کیوں۔۔کہیں آپ ولی سر کو دھوکا تو نہیں دے رہے شاہ سر۔۔“ آخر میں وہ مشکوک ہوا تو شاہ نواز نے اسکے سر پر چپت لگا کر اسے پرے کیا۔۔ پھر آرام سے بتانے لگا۔۔

”جب دل میں دُشمنی کے غُبار پکنے لگیں ناں محسن تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ انسان چیخ چلّا لے، جس پر غصّہ ہے اسے مار کر اپنے اندر پکتا لاواہ باہر نکال کرے۔۔ اس سے مسٸلہ حل ہو نہ ہو۔۔ انسان کی ذات کو ایک گونہ سُکون ضرور ملتا ہے۔۔ جس پر غصّہ ہو اسے مار کر انسان کی اپنی ذات آسانی میں آجاتی ہے۔۔ اسی لیۓ کبھی کبھی ہاتھوں کی لڑاٸ بہت ضروری ہوتی ہے۔۔ میں نے بس ولی صاحب کی مدد کی ہے اس جنگ میں۔۔ یہ آگ کی جنگ ہے محسن۔۔ اس میں سب خاک ہوگا۔۔ بچے گا کچھ بھی نہیں۔۔ میں نے بس اُنہیں تھوڑی سی آسانی دی ہے۔۔“

وہ بلاشُبہ بہت ماہر اور اپنے فن میں تاک تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ کب زبان۔۔ کب دل اور کب ہاتھوں کی لڑاٸ لڑی جانی چاہیۓ۔۔ اور اس نے وہ ہی کیا تھا جو اسکے تجربے نے اسکو سکھایا تھا۔ طویل جنگوں کے لیۓ اپنی طاقت کو محفوظ رکھنا اور دُشمن کو بتاتے رہنا کے جسے تم کمزور سمجھ رہے ہو وہ اصل میں اتنا کمزور ہے نہیں۔۔ آج کی جرأت کے بعد ہاشم کو اچھے سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ولی کتنا خونخوار اور کتنا بڑا سرواٸیور تھا۔ اسے بس ہاشم کو یہی باور کروانا تھا۔۔

”آپ کی تو منطق ہی میری سمجھ سے باہر ہے شاہ سر۔ اگر ولی سر کو پتہ چل گیا تو جانتے ہیں ناں کیا ہوگا۔ آپ کو ڈر نہیں لگتا۔۔“

”میں نے وہ کیا جو ایک وفادار ملازم کو کرنا چاہیۓ بس اور کچھ نہیں۔۔ تم اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور یہ بتاٶ جو کام تمہیں ولی سر نے کہا تھا وہ کیا۔۔؟“

اس نے فاٸلز کی ورق گردانی کرتے ہاتھوں کو روک کر پوچھا تو محسن نے خاکی لفافہ اسکی جانب بڑھایا۔۔

”وہ لوگ اچھے خاصے خطرناک لوگ ہیں شاہ سر۔۔ آپ ولی سر کو آگاہ ضرور کر دیجٸیے گا۔۔ میں اب چلونگا۔۔“ وہ آفس سے باہر کی جانب بڑھا تو شاہ نواز نے گہرا سانس لے کر خاکی لفافہ کھولا اور اندر رکھے پرچوں کو پڑھتے اسکی پیشانی کی بلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ کیا حال بنا رکھا ہے ولی۔۔؟“

اصغر اسکا واحد دوست تھا۔ اس بھری دُنیا میں اسکا واحد رشتہ۔ جس نے اسے اسکی خامیوں، اسکی بد نامیوں اور اسکی ذلّت کے ساتھ قبول کیا تھا۔ ابھی بھی وہ بکھری حالت میں اسکے پاس آیا تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح اسکی ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔

”کچھ نہیں۔۔“

اس نے آستینیں چڑھا کر صوفے میں دھنستے کہا تو اصغر سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ اسکی زندگی سے بخوبی واقف تھا۔۔

”کسی سے لڑ کر آۓ ہو کیا۔۔؟ زبردست۔۔ بس ایک بات بتادو زندہ تو بچ گیا ناں وہ۔۔؟“

”مرا ہی تو نہیں ہے وہ۔۔“

اصغر نے اسکے جواب پر محتاط سا اسے دیکھا اور پھر سنبھل کر ہاتھ آگے بڑھایا پھر اسکی ناک پر آٸ خراش کو چُھوا تو ولی بے ساختہ پیچھے ہوا۔ ناگواری سے اصغر کو دیکھا۔ اصغر نے اسکے ناگواری سے دیکھنے پر دانت نکالے تھے۔۔

”معلوم ہے کہ تم جوان اور مضبوط ہو مگر اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جسے بھی چاہوگے ماروگے، اس دنیا میں قانون اور پیسے کی راج دھانی ہے، مارنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیا کرو کہ آگے والا تم سے ان دونوں چیزوں میں بڑا تو نہیں ہے۔۔ اور اگر وہ بڑا ہے تو۔۔“

ولی نے اسے ماتھے پر بل ڈال کر دیکھا تو اسکی پھسلتی زبان سنبھلی۔۔

ّ”تو۔۔ تو بھی سالے کو اتنا ہی مارنا چاہیۓ۔۔“

تھوک نگل کر بات مکمل کی تو ولی نے آنکھیں موند کر سر صوفے کی پُشت سے ٹِکایا، اسکے سر کے پچھلے حصّے میں بے تحاشہ درد ہورہا تھا، ڈار ناب لگنے کی وجہ سے اسکا پورا ہاتھ درد کی شدّت سے پھٹ رہا تھا اور پھٹے ہونٹ سے خون نکل کر وہیں جم گیا تھا۔۔

”جس نے بھی مارا ہے بچ کر تو وہ بھی نہیں گیا ہوگا یقیناً“

اصغر نے اُٹھ کر سامنے رکھی لمبی سی درازوں والی ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس اٹھایا پھر اسکے برابر میں رکھا تو اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔

”کیا۔۔ اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟ خود صاف کرو اپنے زخم۔۔ ماں نہیں ہوں میں تمہاری۔۔“

”بکو مت۔۔“

وہ بمشکل سیدھا ہوکر بیٹھا پھر آستین اوپر کرکے کہنی پر لگا زخم دیکھنے لگا۔ خون اسکے ہاتھ پر جم گیا تھا۔ اس نے ہاتھ چلایا تو بند میں درد کی ٹیسیں اُٹھنے لگیں۔۔

”چچ چچ۔۔ مطلب کوٸ بھی کام سیدھا مت کرنا تم۔ ہر وقت انڈرٹیکر کی طرح بس آنکھیں چڑھاۓ رکھنا اور لوگوں کو مارنا پیٹنا۔۔ ویل ڈن۔۔ کسی کا نہیں تو اس پری کا ہی خیال کر لو۔ تم جیسے جِن کے ساتھ اسکا گزارہ بہت مشکل ہو جاۓ گا۔۔“

اوپن کچن میں کھڑا وہ چاۓ کا پانی رکھتا مسلسل اسے جلی کٹی سُنا رہا تھا۔ مگر ماتھے پر آۓ زخم کو ہاتھ سے چُھوتا ولی، امل کے ذکر پر بے اختیار رُکا تھا۔ اسکی گردن میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوٸ۔۔

اسکی زندگی کی واحد آسانی کسی اور کے باغ کا پھول بننے جارہی تھی۔ اسکے پاس جینے کا جواز پہلے بھی نہیں تھا مگر اب اسے موت زیادہ سہل لگنے لگی تھی۔

پہلی بار اسکا دل دُکھنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ تکلیف تو وہ زخم دیا کرتے تھے جو نظر نہیں آتے تھے۔۔

”او ہیلو۔۔ زخم صاف کرو اپنے۔۔ اکّھا غُنڈے لگ رہے ہو۔۔ اور ایک بات بتاٶ۔۔ کب جانا ہے رشتہ لے کر تمہارا امل کے لیۓ۔۔؟ جلدی بتا دینا مجھے تیاری بھی کرنی ہے۔۔“

اس نے چاۓ اسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے کہا تو ولی دانت پر دانت جماتا اُٹھ کھڑا ہوا۔۔

”کبھی بھی نہیں۔۔“

”اٸیں۔۔ کیوں۔۔؟“

”کیونکہ وہ اب میری کبھی نہیں ہو گی۔۔“

”کیا مطلب۔۔؟“

اب کے اصغر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ قمیض کا گریبان ذرا سرکاۓ گردن پر آۓ زخم کے جمے خون کو صاف کررہا تھا۔ اور اسکی آنکھوں میں گلابی سی نمی تیرنے لگی تھی۔۔ یہ لفظ کہنا بھی تکلیف دیتا تھا کہ وہ اسکی کبھی نہیں ہوسکتی۔۔

اصغر نے اسکی خاموشی میں چُھپے بہت سے مفاہیم سمجھ کر گہرا سانس لیا اور اُداسی سے اپنے دوست کو دیکھے گیا جو آنسو چُھپانے کی کوشش میں اپنا سر پورا جُھکاۓ گردن کے زخم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *