Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 22) Last Episode (Last Part)
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 22) Last Episode (Last Part)
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
امل نے ٹھنڈی پڑتی ظہر میں نماز ادا کی اور خاموشی سے جاۓ نماز پر بنے پھول بوٹوں کو دیکھے گٸ۔ وہی جاۓ نماز پر نماز پڑھ کر بیٹھے رہنے کی عادت۔ اس کی شہد رنگ آنکھیں خاموشی کے زیرِ اثر لگتی تھیں اور وجود پر جما ٹھہراٶ جیسے اس نے سالوں کی طویل محنت سے حاصل کیا تھا۔ ہلکے گلابی سے رنگ کے قمیض شلوار میں ملبوس اس کا دمکتا سا روپ آج بھی اتنا ہی حسین تھا جتنا ڈیڑھ سال پہلے تھا۔ وہی کانچ سا وجود، من موہنی سی صورت اور سنہری پلکوں کی باڑ سے سجی آنکھیں۔۔
اس نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ اور پھر نہ چاہتے ہوۓ بھی سب سے آخر میں ولی کے لیۓ دعا کرتی جاۓ نماز سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوٸ۔ پچھلے ڈیڑھ سالوں میں اس کا جتنا وقت اپنے کمرے میں گزرا تھا، اتنا وقت تو شاید ہی اس نے کہیں گزارا ہو۔ اپنے ہلکے نم بالوں کو دوپٹے سے آزاد کرتے ہوۓ اس نے سوکھ کر ریشم ہوتے بالوں میں برش پھیرا۔ اگلے ہی لمحے اس کے کمرے کا دروازہ بجا تو وہ چونک کر پلٹی۔۔ سامیہ دروازہ کھولے کھڑی تھی۔۔
اسے ایسے دیکھ کر وہ خوشگوار سی حیرت سے پلٹی۔۔
”سامیہ۔۔! یوں ایسے اچانک۔۔! سب خیریت تو ہے ناں۔۔؟“
اسے اتنی حیرت نہیں ہوتی اگر جو وہ اس سے صرف دو دن پہلے ہی مل کر نہ گٸ ہوتی۔ سامیہ تیزی سے آگے بڑھی اور اسے گلے لگا لیا۔۔ امل ناسمجھی سے مسکراٸ۔۔
”مبارک ہو۔۔!“
اسے دونوں کندھوں سے تھام کر سامیہ نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا تو اس نے اب کے واضح ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
”کیا ہوا ہے سامیہ اور مبارکباد کس بات کی۔۔؟“
سامیہ نے اسے ایک بار پھر زور سے گلے لگایا اور اپنا پرس چادر وغیرہ آگے بڑھ کر اس کے بیڈ پر رکھا۔ وہ اب تک اسے ناسمجھی بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
”تم ولی سے کتنی محبت کرتی ہو امل۔۔؟“
اس نے ایک دم ایسا سوال کیا تو امل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
”یہ کس طرح کا سوال ہے سامی۔۔؟“
”تم بتاٶ ناں۔۔ کتنا چاہتی ہو اسے۔۔؟“
”میں نے کب کہا کہ میں اسے چاہتی ہوں۔۔؟ میں نفرت کرتی ہوں اس سے۔۔!“
اس نے کڑواس سے کہہ کر تیزی سے رخ پھیرا تو سامیہ شرارت سے لب دبا کر اس کی جانب بڑھی۔۔
”سچ میں؟ کتنی نفرت کرتی ہو اس سے۔۔۔؟“
اسکے پیچھے سے چہرہ ذرا نکال کر معصومیت سے پوچھا تو امل نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔
”بہت بہت نفرت کرتی ہوں میں اس سے۔۔ بہت زیادہ۔۔ بہت سے بھی زیادہ۔۔“
اس نے بالوں میں برش تیزی کے ساتھ چلا کر انہیں سمیٹ کر جوڑے میں لپیٹنے کے لیۓ سمیٹا تھا۔ چہرہ غصے سے سرخ ہو کر دہکنے لگا تھا۔۔ آنکھیں ضبط سے نم پڑنے لگی تھیں۔۔
”پھر بھی کتنی۔؟“
اب کے وہ اس کے سنگھار آٸینے پر ٹک کر بیٹھی اس کا غصہ غصہ چہرہ دیکھ رہی تھی۔ امل نے برش ٹیبل پر پٹخا۔۔
”میں اس سے حد درجہ نفرت کرتی ہوں۔ حد سے بھی زیادہ۔۔ ہر حد سے زیادہ۔۔۔“
”اچھا۔۔!“
سامیہ نے سمجھ کر گردن ہلاٸ۔۔ امل اب بالوں کو تیزی سے بل دیتی جوڑا بنا رہی تھی۔۔
”اور اگر میں یہ کہوں کہ ولی احمد مر جاۓ تو تم کیا کروگی۔۔؟“
انتہاٸ معصومیت سے سوال کیا تو امل کے چلتے ہاتھ یکدم ساکت ہوگۓ۔ تڑپ کر شہد رنگ آنکھیں اٹھاٸیں۔۔
”سامیہ۔۔!“
اسے جیسے اندر تک تکلیف ہوٸ تھی۔ لمحوں میں دل کٸ گہراٸیوں میں ڈوب کر ابھرا تھا۔ یہ خیال ہی جان لیوا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔! اور اس کے آگے تو سوچنا بھی اس نے خود پر حرام کررکھا تھا۔۔
یکدم اسے باہر سے شور کی آواز سناٸ دی تو اس نے سامیہ کو ناسجھی سے دیکھا۔ سامیہ مسکرا رہی تھی۔۔ جیسے سب جانتی ہو۔
”نیچے کیا کوٸ آیا ہوا ہے۔؟“
بالوں کو جوڑے میں لپیٹ کر اس نے اس سے ایک بار پھر پوچھا تو سامیہ نے کندھے اچکاۓ۔ اس پر ایک ”دفع ہوجاٶ“ والی نگاہ ڈال کر اس نے کمرے کا دروازہ کھولا اور دوپٹہ شانوں پر پھیلاتی باہر نکلی۔لیکن اگلے ہی لمحے جیسے ٹھنڈے سفید ماربل پر رکھے اس کے قدم برف ہوگۓ تھے۔
سفید شلوار قمیض میں ملبوس بلاشبہ وہ وہی تھا، وہی جو اپنے ارتکاز ہی سے لوگوں کی سانسیں مسخر کرلینے کا فن رکھتا تھا۔۔ ہاں وہ وہی تو تھا کہ جسے دیکھنے کے لیۓ اس نے ہر روز خاموش دعاٸیں مانگی تھیں۔۔ بس اسے ایک بار دیکھنے کے لیۓ۔۔ اور اب وہ لاٶنج میں کھڑا سردار بابا کے گلے لگ رہا تھا۔ ساتھ ہی بختیار بھی وہیل چیٸر پر بیٹھا اسے آسودگی سے دیکھتا اس کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا۔ بی جان۔۔ ہاں اس کی بی جان جو اپنے بستر سے لمحہ بھر کے لیۓ بھی اٹھ نہیں سکتی تھیں اب ملازمین کو تیزی سے ہدایات دیتی دوڑا رہی تھیں۔ ایک اس کے آجانے سے حویلی میں جیسے زندگی لوٹ آٸ تھی۔ یکایک۔۔ داخلی دروازے سے اسے قانتہ داخل ہوتی ہوٸ نظر آٸیں۔ اس نے حیرت سے ان کے سجے سنورے سے روپ کو دیکھا تھا۔ اب وہ لاٶنج میں بی جان سے گلے مل رہی تھیں۔۔ ساتھ ساتھ جھک کر ولی زین کو پیار بھی کررہا تھا۔ اس کے کانپتے قدم یکدم پیچھے کو ہٹے تھے۔ نگاہوں کے سامنے بار بار کچھ دھندلا جاتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شازیہ اور قانتہ اب بی جان کو بمشکل زینوں سے چڑھاکر اوپر لارہی تھیں۔ اس کی پتھراٸ ہوٸ نگاہوں کے سامنے جیسے سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ ہورہا تھا۔ وہ اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔ سامیہ سکون سے اس کا میک اپ کٹ نکالے سب سامان سنگھار میز پر سجا رہی تھی۔ وہ بے یقینی سے اس کے قریب چلتی آٸ۔۔
”یہ۔۔ یہ سب کیا ہورہا ہے سامی۔۔؟ ولی۔۔ ولی یہاں کیا کررہا ہے۔۔؟“
لیکن سامیہ کو کوٸ جواب دینے کا موقع ہی نہ ملا۔ قانتہ اور شازیہ بی جان کو لیۓ اس کے کمرے میں داخل ہورہی تھیں۔ اور وہ بے طرح چونک کر ان کی جانب پلٹی تھی۔ بی جان نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر روتے ہوۓ اسے ڈھیر ساری دعاٶں سے نوازا۔۔ وہ بت بنی بس انہیں دیکھے جارہی تھی۔
”تیرا نکاح ہے امل۔۔ ولی کے ساتھ۔۔“
ساٸیں ساٸیں ہوتے وجود کے ساتھ وہ ان کی خوشی سے لرزتی آواز کو سن رہی تھی۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اور کھلا سا دمکتا چہرہ دیکھ کر اس کے سارے لفظ جیسے لبوں پر ہی دم توڑ گۓ تھے۔ سارے دلاٸل جیسے اس سے گم ہوگۓ تھے۔۔ کھو گۓ تھے۔۔
بی جان شازیہ کے ساتھ واپس پلٹیں تو قانتہ نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد سے نوازتے ہوۓ سنگھار آٸینے کے سامنے بٹھایا۔ وہ خالی خالی سی بیٹھی رہ گٸ۔۔ سامیہ نے اس کے جوڑے میں بندھے بالوں کو کھولا تو سیاہ آبشار جیسے کمر پر بکھرتی چلی گٸ۔۔ وہ بلاشبہ اس سال کی سب سے خوبصورت دلہن بننے والی تھی۔ ولی کی دلہن۔ اس کی منکوحہ۔۔!
آٸینے کے سامنے ظالم شہزادی اپنے تمام تر حسن کے ساتھ جگمگاتی ہوٸ بیٹھی تھی۔ قانتہ، سامیہ اور اب تو شازیہ بھی اسے تیار کرنے میں مشغول ہوگٸ تھیں۔۔ سب جیسے لمحوں ہی میں بدل کر کیا سے کیا ہوگیا تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
یکے بعد دیگرے بہت سی گاڑیاں آگے پیچھے حویلی میں داخل ہوٸ تھیں۔ ان میں سے پہلی گاڑی جاسم، دوسری محسن اور سب سے آخری اصغر کی تھی جس میں حسن بھی اس کے ساتھ ہی تھے۔ اور مسلسل مزے سے ٹھنڈے انداز میں اسے جواب دیتے مزید غصہ دلا رہے تھے۔ آج اصغر کو دیر بھی انہی کی وجہ سے ہوٸ تھی جس پر پورے راستے کھولتا وہ ان سے بحث کرتا آیا تھا۔ ابھی بھی پورچ میں گاڑی رکی ہی تھی کہ زمان باہر نکلے۔ نکھرے نکھرے، خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ آگے بڑھ کر وہ مہمانوں سے بغل گیر ہورہے تھے۔ ان کی ہمراہی میں موجود ملازمین مردوں کو مردانے میں لے جارہے تھے۔ حسن شاہ سے گلے ملتے ہوۓ جیسے انہیں بہت پرانی سی دوستی یاد آگٸ تھی۔ ولی کے اسپتال میں ایڈمٹ ہونے کے وقت میں وہ ان سے مل چکے تھے اور تب سے ہی دونوں کی بہت دوستی ہوگٸ تھی۔ اسکا موڈ یکدم ہی بحال ہوا تھا۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ بھی زمان کی جانب بڑھا۔ اسے مسکرا کر گلے لگاتے وہ حسن کو لیۓ اندر بڑھے تو اس نے بھی مسکرا کر قدم ان کے پیچھے اٹھاۓ۔
داخلی دروازے سے مردانے کی جانب جاتے اس نے ان دونوں کو دیکھا اور جیسے ہی قدم اس طرف کو موڑے تو ایک بہت کیوٹ سا بچہ اس سے آ ٹکرایا تھا۔ اس کے پیچھے ہی کوٸ لڑکی بھی دوڑتی آرہی تھی۔۔
“زین۔۔ زی۔۔ اوہ۔۔ آٸ ایم سوری۔۔”
قانتہ نے یکدم کہا تو اس کی اٹھی نگاہ گویا ٹھہر کر رہ گٸ۔ وہ نفیس سا جُوڑا باندھے، بہت ہی خوبصورت سی لڑکی تھی۔ اور وہ بچہ۔۔ وہ بچہ بھی بالکل اسی جیسا لگ رہا تھا۔ اس نے چہرہ جھکا کر شرارت سے مسکراتے ہوۓ بچے کو دیکھا اور پھر اسے۔۔
“زین ادھر آٶ اور سوری کرو انکل سے۔۔”
اس نے بچے کو ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کیا اور پھر معذرت خواہانہ سا اسے دیکھا۔ اصغر بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
“ارے نہیں کوٸ بات نہیں۔ بچہ ہی تو ہے۔۔”
اس نے کہہ کر رخ موڑنا چاہا تو زین اگلے پل پھر سے اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا۔ اس نے چونک کر پھر سے چہرہ جھکایا۔ قانتہ بھی اسے پکڑنے کے لیۓ ایک بار پھر سے آگے بڑھی تھیں۔۔
“انکل۔۔ ماما کو کہہ کر جاٸیں کہ وہ مجھے آپ کے جانے کے بعد ڈانٹیں گی نہیں۔ ماما کہتی ہیں کہ کسی اسٹرینجر سے بات نہیں کرتے لیکن میں صرف آپ سے غلطی سے ٹکرایا تھا۔۔ پھر بھی ماما مجھے ڈانٹیں گی۔۔”
اصغر نے چونک کر ایک دفعہ پھر سے اس لڑکی کو دیکھا۔ کیا وہ اس بچے کی ماں تھی۔۔! اس نے مسکرا کر زین کے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔ اسی پل ولی مردانے سے نکلا تھا۔ انہیں یوں ساتھ کھڑا دیکھ کر اسی طرف آگیا۔۔
“اصغر۔۔”
اس نے اسے آواز دی تو وہ سب کچھ بھول کر اس کی جانب پلٹا اور اس سے بھرپور طریقے سے گلے ملتے اس نے اسے مبارکبادوں سے نوازا۔ قانتہ نے اصغر کی جانب دیکھا تھا اب کہ۔ اچھا تو یہ تھا ولی کا دوست۔۔ جس کا وہ اکثر ذکر کیا کرتا تھا۔۔
“بی جان کہاں ہیں قانتہ۔۔؟”
اور اب کے اس لڑکی کو چونک کر دیکھنے کی باری اصغر کی تھی۔ اچھا تو یہ تھیں قانتہ۔۔ ولی کے دوست کی بیوہ۔۔
“وہ۔۔ وہ کچن میں ہیں۔ بلاتی ہوں ابھی۔ اور زین تم بھی چلو۔۔”
وہ الجھ کر پلٹیں تو اصغر کی نگاہوں نے پیچھے تک ان کا تعقب کیا۔ ولی نے بھی اس کے محو سے ارتکاز کو محسوس کر کے اسی سمت دیکھا تھا اور پھر سمجھ کر ناسجھی سے اس کی جانب دیکھا۔۔
“وہ بیوہ ہیں اور سنگل مدر بھی۔”
اس نے جیسے اسے احساس دلایا تھا۔ اصغر اپنی محویت پر بری طرح چونک کر جاگا۔ پھر اسکی جانب دیکھا۔۔
“آج تمہارا دن ہے۔۔ اپنے بارے میں، میں پھر کبھی سوچ لونگا۔۔ چلو۔۔ اور ایک ذرا بات تو مجھے بتاٶ۔۔ یہ آخر کونسا طریقہ ہوتا ہے نکاح کرنے کا۔۔؟ سب کچھ بس کسی آفتاد کی طرح ہی کرنا تم۔ کبھی ڈھنگ طریقے سے کام کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں تمہیں۔۔”
وہ غصہ کرنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا لیکن ولی کا کھلا سا چہرہ دیکھ کر اسے کچھ بھی کہنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اس کا دوست خوش تھا۔۔ بہت خوش تھا۔ بہت سے بھی زیادہ۔۔ اس نے اسکی گدی پر ہلکا سا مارا تو ولی نے اسے حیرت سے دیکھا۔
“یہ اس لیۓ تھا کیونکہ تم ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت ہی زیادہ بکواس ہو۔”
اس کی بات پر اپنی گدی سہلاتا ولی ہنسا تھا۔۔
“یہ تم نے آنے میں دیر کیوں کردی۔۔؟”
وہ دونوں اب مردانے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اصغر نے جل کر حسن کی جانب دیکھا۔ وہ زمان سے باتیں کررہے تھے۔ ساتھ ہی محسن، جاسم اور نواز بہت طریقے سے بیٹھے ان دونوں کی بات سن رہے تھے۔ بڑوں کی باادب سی محفل یو نو۔۔
“یہ جو سر ہیں ناں تمہارے۔ ان کی وجہ سے لیٹ ہوا ہوں میں۔ جناب کی تیاریاں ہی ختم نہیں ہورہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ تمہارے نہیں اپنے نکاح کی تیاری کررہے ہوں۔”
اس کی آخری سرگوشی پر ولی نے اپنی ہنسی بمشکل روکی تھی۔ اصغر کبھی نہیں سدھر سکتا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد مولوی صاحب مردانے میں داخل ہوۓ تو ساری خوش گپیاں سمٹ گٸیں۔ نکاح کے لیۓ ولی کو بٹھایا گیا۔ اس کے سارے اپنے اس کے آس پاس تھے۔ اصغر، حسن، جاسم، نواز جو کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا وہ بھی ساتھ ہی کھڑا تھا، محسن، سردار بابا۔۔ ہاں اس کے سارے اپنے اس کے ساتھ تھے۔ آج اسے کسی نے کوٸ طعنہ نہیں دیا تھا، آج اس کو کسی نے ناجا ٸز اولاد ہونے کی وجہ سے عذاب کا شکار نہیں کیا تھا، آج اس سے کوٸ اس کے باپ کا نام پوچھ کر اسے ذلت کا نشانہ نہیں بنا رہا تھا، آج واقعی اس کا دن تھا۔۔ وہ دن جو بہت طویل اور کٹھن انتظار کے بعد اس پر وارد ہوا تھا۔۔
نکاح نامے پر ساٸین کرتے ہوۓ اس کے کانوں میں بہت سی آوازوں کی بازگشت سناٸ دیتی تھی۔۔
“مرو گے تم۔۔ ایک دن کتے کی موت مرو گے۔۔”
آہستگی سے نکاح نامے کے ورق الٹے جارہے تھے۔۔
“میں بھی اس بات کو یقینی بناٶنگا ولی احمد کہ تم بھی کسی جنازے کے بغیر مرو۔”
اس نے سنجیدگی سے نکاح نامے پر ساٸین کرتے ہوۓ ان آوازوں کو آج جھٹکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ہاں اس نے بالکل بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔
“تم ولی۔۔ تم حرام زادے ہو۔۔”
اس کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ مگر وہ بنا تاثر کے ساٸین کرتا جارہا تھا۔۔
“تمہیں زندہ نہیں رہنا تھا ولی۔۔ تمہیں تو مرنا تھا۔۔”
مولوی صاحب نے اس کا نکاح نامہ لپیٹا تو اس نے قلم آہستہ سے ٹیبل پر رکھ دیا۔ نسواری آنکھوں والا لڑکا اب کہ آنکھیں بند کر کے سب کے ساتھ دعا مانگ رہا تھا۔ زین بھی ان سب کی دیکھا دیکھی ہاتھ اٹھاۓ دعا مانگنے لگا تھا۔ آخر کار دعا ختم ہونے کے بعد سب سے پہلے حسن ولی کی جانب بڑھے تھے۔ مبارک سلامت کا شور اٹھا۔۔ ساری حویلی جیسے چہکنے لگی تھی۔ ڈیڑھ سال پہلے جس دن وہ یہاں سے گیا تھا اسی دن اس حویلی پر ویرانیوں کے ڈیرے پڑ گۓ تھے اور آج۔۔ ڈیڑھ سال بعد جب وہ اس حویلی میں داخل ہوا تو نہیں جانتا تھا کہ اس کا نکاح امل سے ہوجاۓ گا۔۔ اس کا نکاح۔۔ ہاں امل سے ہوجاۓ گا۔۔ اتنی آسانی سے۔۔ کسی بھی ذلت اور ذات پات کے جھگڑے کے بغیر۔ اصغر سے گلے ملنے کے بعد اس نے رخ سردار بابا کی جانب کیا۔۔ وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھتے مسکرا رہے تھے۔
“میں ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ میری امل کا رشتہ تم سے ہوجاۓ لیکن پرانی روایات کی بیڑیوں نے مجھے جکڑ رکھا تھا ولی۔ اگر جو آج تم خود سے اس کا ہاتھ نہ مانگتے تو شاید میں خود اس کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھما دیتا کیونکہ میں جانتا ہوں۔۔ کہ اگر امل کی کوٸ حفاظت کرسکتا ہے۔۔ اگر اسے کوٸ سنبھال سکتا ہے، عزت اور ذمہ داری کے ساتھ تو وہ تم ہو ولی۔۔ وہ تم ہو۔۔ وہ انسان تمہارے علاوہ اور کوٸ نہیں ہوسکتا ہے”
اس کے گلے سے لگے وہ خوشی سے کانپتی آواز میں کہہ رہے تھے اور ولی دم بخود سا ان کے سارے انکشافات سن رہا تھا۔۔ زندگی کبھی اس پر اتنی بھی مہربان ہوسکتی تھی اس نے سوچا نہیں تھا۔ ہاں اس نے یہ سب واقعی کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔
دوسری جانب امل پر سرخ سا ستاروں سے سجا دوپٹہ ڈالا گیا تو جیسے اس کی تو ساری دنیا ہی محبت کے سرخ سے رنگ میں ڈوب گٸ۔ اس کا لباس موقع کی مناسبت سے آف واٸٹ تھا۔ اسے زیادہ تیار تو نہیں کیا گیا تھا مگر کانوں میں لٹکتے بھاری آویزیں اور بالوں پر ٹکا ایک عدد جھومر اس کے موم سے چہرے کو بے حد دمکا رکھا تھا۔ اس نے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں کے ساتھ نکاح نامے پر ساٸین کیۓ اور پھر۔۔ ہاں۔۔ اور پھر امل زمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ ولی احمد کے نکاح میں چلی گٸ۔ وہ آج پوری طرح سے اس کی ہوگٸ تھی۔۔ بی جان نے جھک کر اسے گلے لگایا اور پھر روتے ہوۓ اسے زندگی بھر کی دعاٸیں دینے لگیں۔۔ ان کی ہر دعا پر کمرے میں موجود ہر لڑکی نے آمین کہا تھا۔ کہ اب بس۔۔ تلخیوں کے دن ختم۔۔ اب خوشیوں کے دن شروع ہونے تھے۔۔
سرِ شام ہی ولی نے زمان سے رخصتی کا مطالبہ کیا تو بنا کسی پس و پیش کے امل کی رخصتی کی اجازت اسے دے دی گٸ۔ امل کو پوری سفید چادر سے ڈھکا گیا تھا۔ اس چادر سے نیچے اس کا سفید پیروں کو چھوتا فراک لچک رہا تھا۔ بی جان نے اسے گلے لگایا، پھر وہ جھک کر بھاجی سے پیار لینے لگی۔ نثار بھی ساتھ ہی کھڑا تھا اسے گلے لگا کر تھپک کر دروازے تک لایا۔۔ سب اس کے ساتھ ساتھ ہی قدم اٹھاتے آگے بڑھ رہے تھے۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سامیہ سے ملی، شازیہ اور امینہ سے بھی گلے لگ کر ملتے وہ رونے لگی تھی۔ ان سب نے بہت کچھ ایک ساتھ دیکھا تھا۔ سب سے آخر میں دروازے پر زمان کھڑے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ رہ نہیں پاٸ۔ بے اختیار رو پڑی۔ زمان نے اس کا سر تھپکا اور پھر اسے ساتھ ہی لگاتے مزید آگے تک لاۓ۔ باہر قانتہ زین کو پکڑے کھڑی تھیں۔ انہیں ولی کے ساتھ ہی جانا تھا۔ کیونکہ ان کا اور ولی کا اپارٹمنٹ ایک ہی بلڈنگ میں تھا۔ اس نے ایک آخری بار زمان کو دیکھا اور پھر قانتہ کی ہمراہی میں اگلی سیٹ پر جابیٹھی۔۔ ولی کے ساتھ والی سیٹ پر۔ ولی اب بی جان اور سردار بابا سے سر پر پیار لے رہا تھا۔ پھر وہ اس کار کی جانب چلا آیا۔۔
اسکے ساتھ ہی اس کے مہمان بھی نکلے تھے۔ اسکی گاڑی کے پیچھے اصغر، جاسم اور محسن تینوں کی گاڑیاں رواں تھیں۔ داخلی دروازے پر کھڑے زمان اور بی جان اپنی بہتی آنکھیں صاف کررہے تھے۔ شازیہ اور امینہ بھی آخر تک ان جاتی گاڑیوں کو ہاتھ ہلا کر رخصت کررہی تھیں۔ اترتی شام میں آج کہیں کسی دکھ کسی مایوسی کا احساس نہیں تھا۔ آج کی شام تو بس محبتوں کے بہت سے پیغامات لیتی ان پر وارد ہوٸ تھی۔ آج کی شام ہاں۔۔ حویلی کے مکینوں کی سب سے زیادہ حسین شام تھی۔ خوشیوں اور چاہتوں سے بھری۔۔
ساتھ بیٹھی چادر میں لپٹی لڑکی سمٹ کر کھڑکی سے لگی بیٹھی تھی۔ ولی نے مسکرا کر اس کے سمٹے سے نازک وجود کو دیکھا اور پھر سامنے دیکھنے لگا۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے ناراض تھی۔۔ بے تحاشہ اور بے حساب۔۔ لیکن اب ایک گہری اور طویل رات کا اختتام ہوا چاہتا تھا۔ اسی لیۓ اسے کسی بھی قسم کا خدشہ نہیں تھا کیونکہ ہر خدشہ اس کے ساتھ کے ساتھ ہی دم توڑ گیا تھا ۔۔ اور اگر کچھ رہ گیا تھا تو وہ اس کا ساتھ اور اس کی پھوار سی محبت۔۔
جسے محسوس کرنے کے لیۓ اس کا دل برسوں مچلتا رہا تھا۔
گاٶں سے نکلتیں بہت سی گاڑیاں اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ میں قدم رکھتے ہی امل نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تھا۔ وہ بلاشبہ خوبصورتی اور ڈھنگ سے سجا بہت پیارا سا اپارٹمنٹ تھا۔۔ دو بیڈ رومز ایک گیسٹ روم، ٹی وی لاٶنج اور چھوٹے سے کچن پر مشتمل۔۔ اس کی چھوٹی سی دنیا۔۔ اس کا چھوٹا سا گھر۔۔
قانتہ اس کے ساتھ اندر تک آٸ تھیں۔ اس نے چادر اتار کر صوفے پر ڈالی۔۔ قانتہ بس اسے خدا حافظ کرتیں پلٹنے ہی لگی تھیں کہ اس نے بے ساختہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں روک لیا۔ وہ چونک کر رکی تھیں۔۔
“فکر مت کرو۔۔ میرا اپارٹمنٹ اس سے نیچے والے فلور پر ہے۔ کوٸ بھی پریشانی ہو کوٸ بھی مسٸلہ ہو میں نیچے ہی ہوں مجھے فون کرلینا۔۔ ہوں۔۔ اور ہاں امل۔۔ جو ہوا اسے بھول جاٶ کیونکہ بری ساعتیں بھول جانے ہی میں انسان کے لیۓ عافیت رکھی ہوتی ہے۔۔”
اس کا مومی سا چہرہ تھپکا اور پھر اسے مسکرا کر گلے لگایا۔۔ اس کی آنکھیں خواہ مخواہ ہی بھیگ گٸ تھیں۔ پھر ولی دروازے میں زین کو لیۓ نمودار ہوا تو اس نے جلدی سے دوپٹہ اوڑھ کر شانوں پر پھیلایا۔۔ وہی بہت دنوں بعد اسے دیکھنے کے بعد نروس ہونے والی عادت۔۔
قانتہ سے چند ایک باتیں کرنے کے بعد وہ انہیں ان کے اپارٹمنٹ تک چھوڑنے گیا تو وہ بھی بیڈ روم میں چلی آٸ۔۔ ایک ہی دن میں اس پر اتنا سب کچھ گزر گیا تھا کہ کسی چیز پر یقین ہی نہیں آتا تھا۔۔ لگتا تھا کہ وہ ابھی آنکھیں کھولے گی اور یہ خواب چھن چھن کرتا ٹوٹ کر بکھر جاۓ گا۔
اس نے سنگھار آٸینے کے سامنے کھڑے ہو کر کانوں سے بھاری جھمکے اتارے اور ابھی اس نے بالوں میں اٹکے جھومر کو چھوا ہی تھا کہ ولی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی۔ وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ بند کرتا شاید اسی طرف آرہا تھا۔ اس نے بے طرح دھڑکتے دل کو نظر انداز کیا اور جی کڑا کر اپنا جھومر جیسے ہی اتارنے لگی ولی نے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔
اس نے اسے اچھی طرح سے نظر انداز کیا تھا۔ وہ نہ جانے کیوں امڈتی مسکراہٹ دبا گیا۔۔ گال میں پڑتا گڑھا لمحے بھر کو ابھرا تھا۔۔
“امل بی بی کھانا کھا لیں آ کر۔۔”
واٹ۔۔! تو کیا اب وہ شادی کے بعد بھی اسے امل بی بی کہے گا۔ اسے سخت اعتراض تھا اس طرزِ تخاطب پر مگر پھر بھی اسے نظر انداز کرتی وہ آرام سے پلٹی اور جھومر اتارے بغیر دروازے تک آٸ۔ وہ اب تک دروازے میں ایستادہ تھا۔
“اب آپ ہٹیں گے تو ہی میں جا سکونگی۔۔”
اسے دیکھے بغیر کہا۔۔
“اوہ۔”
ولی جیسے چونک کر راستے سے ہٹا تھا۔ وہ آگے بڑھی اور کچن کی جانب چلی آٸ۔ کچن میں گول میز پر پیک ہوا کھانا رکھا تھا۔ اس نے آستینیں چڑھاٸیں اور پھر کچن میں مگن ہو کر پلیٹیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر ٹیبل پر رکھیں۔ سنک سے ہاتھ دھوۓ اور پھر پلیٹوں میں کھانا نکالنے لگی۔ گاٶں سے جب نکلے تھے تو مغرب کی نماز ہوچکی تھی مگر شہر شہر پہنچتے پہنچتے اب عشاء کی اذانیں سناٸ دینے لگی تھیں۔ ولی منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوتا کچن میں آیا تو ایک پل کو اسے اپنے کچن میں کام کرتا دیکھ کر ٹھہر سا گیا۔ وہ اپنے جھومر سے بے نیاز کھانا نکال کر ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔ شاید اسے یہ بھول گیا تھا کہ اس کے بالوں پر کوٸ جھومر بھی لگا ہے۔ اس نے اسے اس طرح کھڑا دیکھا تو چونک کر رک گٸ۔ چہرے کو حتی الامکان نارمل رکھا۔
”کھانا کھالیں آ کر۔۔“
اس نے جیسے اس کی محویت کو توڑا تھا۔ ولی نے گہرا سانس لیا اور پھر گول ٹیبل کی جانب چلا آیا۔ ایک نظر پھر سے اسے دیکھا۔ہاف بندھے بالوں میں اس کا دمکتا چہرہ ہمیشہ کی طرح لگ رہا تھا۔ پاکیزہ، معصوم اور ذرا غصہ غصہ۔۔
ایک دو نوالوں کے بعد ہی وہ ٹیبل سے اٹھنے لگی تو ولی اسے روکے بغیر نہ رہ سکا۔۔
”اتنا سا کھانا۔۔؟“
”میں اتنا ہی کھاتی ہوں۔۔“
شہد رنگ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ ولی ان نگاہوں سے پگھلنے لگا تھا۔
”تھوڑا تو اور کھا لیں۔۔“
”مجھے بھوک نہیں۔۔“
اکھڑ سا کہا اور اٹھ گٸ۔ ولی نے بے اختیار ہی گہرا سانس لیا تھا۔ اس کی عادتوں کو بھلا وہ کیسے بھول سکتا تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اس نے برتن سمیٹے اور سنک میں جمع کیۓ۔ وہ ایسے کام کررہی تھی جیسے ہمیشہ ہی اس کچن میں کام کرتی رہی ہو۔ ولی بیڈ روم کی جانب بڑھا اور پھر واپس پلٹا تو اس کا لباس تبدیل تھا۔ اس نے جینز پر سیاہ سوٸیٹر پہن رکھا تھا جس کے وی گلے سے سفید بٹن شرٹ کے کالر جھلک رہے تھے۔ ایک نظر اسے کچن میں کام کرتے دیکھا اور پھر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ عشاء کی نماز کا وقت ہورہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ واپس پلٹا تو دیکھا وہ ابھی تک کچن کا سامان سمیٹ رہی تھی۔ آخری پلیٹ دھو کر جھٹکتے امل کو اپنے پیچھے اس کی چاپ سناٸ دی تھی۔ لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اب کہ وہ فریج کے دروازے سے لگا ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے پلٹنا چاہا لیکن نہیں پلٹ سکی۔ نل سے ٹپکتے آخری قطروں کو دیکھے گٸ۔
”کیسی ہیں آپ۔۔؟“
اس کی مدھم سی آواز اسے سناٸ دی تھی۔ اب کہ شاید وہ اس کے ساتھ سلیب سے لگ کر آکھڑا ہوا تھا۔ ایسے کہ امل کا چہرہ سنک کی جانب تھا اور ولی کا اس کے مخالف۔۔
”میں ٹھیک رہوں یا نہیں اس سے آپ کو کیا فرق پڑتا تھا ولی۔۔“
اس نے سر نہیں اٹھایا۔۔ چہرہ جھکاۓ بے حد کمزور آواز میں کہا تھا۔ ولی چند پل کچھ نہ بولا۔
”آپ رونا چاہتی ہیں۔؟“
نہ جانے اسے کیسے پتہ چل گیا تھا کہ اس کے حلق میں بہت سے آنسو اٹکنے لگے تھے۔ ساری ہٹ دھرمی سارا طیش اور اس سے سارے شکوے جیسے کہیں دور جا سوۓ تھے۔ ابھی تو بس یہ یاد تھا کہ وہ تھا۔ ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے ملبوس سے اٹھتی مہک امل کے گرد حصار کھینچ رہی تھی۔۔
”نہیں۔ کس نے کہا کہ مجھے رونا ہے۔۔ میں کیوں رونے لگی۔۔؟ مجھے کس بات کا دکھ ہے۔۔!“
اس نے کہا لیکن آواز آنسوٶں سے لرز رہی تھی۔ ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔ ولی ہاتھ باندھ کر گردن موڑے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
”آپ کے جتنے بھی دکھ ہیں آپ مجھ سے کہہ سکتی ہیں۔ ہر غم، ہر شکوہ اور ہر دل میں چبھا کانچ آپ میرے سامنے نکال سکتی ہیں امل۔ میں سن رہا ہوں۔۔“
اس سے برداشت کرنا مشکل ہونے لگا تھا۔ آنسو روکنے کی کوشش میں جیسے اس کی چلتی سانسوں میں بونچھال سا وارد ہوا تھا۔ وہ اس سے ناراض تھی۔۔ بہت زیادہ۔۔ لیکن اب وہ اس کے سامنے کمزور پڑنے لگی تھی۔
”میں آپ سے نفرت۔۔“
لیکن اس کے لفظ پورے نہیں ہوۓ۔ ولی نے آگے بڑھ کر ایک ہاتھ سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔ بالکل خاموشی سی۔۔ اسے کسی بھی قسم کا کوٸ بھی جملہ کہے بغیر۔۔ اسے کسی بھی قسم کا موقع دیۓ بغیر۔۔
”اب بتاٸیں مجھے، کہ کتنی نفرت ہے آپ کو مجھ سے۔۔“
اس نے اب کے دوسرا ہاتھ بھی اس کے گرد باندھ دیا تھا۔ وہ اس کے حصار میں بغیر کس پس و پیش کے سمٹ گٸ تھی۔ کیا اس کے پاس کوٸ جواز باقی رہ گیا تھا اس سے نفرت کرنے کا۔۔؟ ولی کی بہت مدھم سی سانسیں سناٸ دے رہی تھیں اسے اور اسکی دھڑکن۔۔ ہاں اس کی دھڑکن بے ترتیب تھی۔۔
”میں سن رہا ہوں۔ آپ نے اور نہیں بتایا کہ مجھ سے کتنی نفرت کرتی ہیں آپ۔۔؟“
اس کے لہجے میں شرارت کا کوٸ شاٸبہ نہیں تھا۔ اس کی نرم سی آواز سنجیدہ تھی۔ امل کے آنسو اس کے سوٸیٹر میں جذب ہونے لگے۔ ان بازوٶں میں کتنا سکون تھا۔ اسے اپنا ہر دکھ بھولنے لگا تھا۔۔
”بہت نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔۔“
اس میں سمٹتے ہوۓ وہ جیسے سرگوشی کررہی تھی۔ ولی پہلی دفعہ مبھم سا مسکرایا تھا۔
”لیکن میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔“
”میں آپ سے اس سے بھی زیادہ نفرت کرتی ہوں ولی۔۔“
”اور میں آپ سے اس سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں۔ آپ کی ہر نفرت سے زیادہ۔ آپ کے ہر شکوے اور ہر گِلے سے زیادہ۔ “
امل آہستہ سے اس سے الگ ہوٸ تھی۔ اس نے نرمی سے بازو کھول دیۓ۔ اس کے جھکے سر کو اپناٸیت سے دیکھا اور پھر انگشتِ شہادت اس کی ٹھوڑی تلے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کو اٹھایا۔۔ امل کے لب بے ساختہ کپکپاۓ تھے۔۔
”ویسے تو اتنی تیز تیز باتیں کرتی ہیں آپ۔ مجھے لگا تھا کہ آج کی رات تو خیر سے مجھے گھر میں سونا نصیب ہی نہیں ہوگا لیکن آپ تو کچھ کہہ ہی نہیں رہی ہیں۔ اور وہ کیا کرتی ہیں آپ۔ ڈانٹنا۔۔ ہاں ڈانٹیں ناں۔۔ آج تو ڈانٹ بھی نہیں رہی ہیں۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔!“
اس نے اسکی بھیگی آنکھوں کو شرارت سے دیکھ کر کہا تھا۔۔ امل نے بے اختیار ہی اسے بھیگی پرشکوہ نگاہوں سے دیکھا تو ولی احمد ساکت رہ گیا۔ کیا اس کی آنکھوں سے زیادہ خوبصورت بھی اس دنیا میں کچھ تھا۔ بھیگی شہد رنگ آنکھوں پر آج ولی کی دنیا جیسے ختم ہوگٸ تھی۔۔
”ایسے مت دیکھیں پلیز۔۔“
اس نے بے ساختہ کہا تو امل ہنس پڑی۔ اب دھوپ چھاٶں کے امتزاج نے اسے دم بخود کردیا تھا۔
”میں اب بھی ناراض ہوں آپ سے، اگر کچھ بول نہیں رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری ناراضگی ختم ہوچکی ہے۔ میں آج بھی آپ سے آپ کی زیادتیوں پر نالاں ہوں۔ آج بھی آپ کے دیۓ گۓ زخموں کو اپنی روح پر میں اتنی ہی وضاحت سے محسوس کرتی ہوں ولی۔ آج بھی۔۔ ہاں آج بھی آپ کے کہے گۓ لفظوں سے بچ کر میں کوٸ راہِ فرار نہ اختیار کرسکی۔ آپ مجھے اس بدکردار آدمی کے حوالے کر کے یہاں چلے آۓ۔ کیا آپ نے ایک دفعہ بھی سوچا کہ میں اس کے ساتھ کیسے رہونگی۔۔ میں اس کے ساتھ کیسے گزارا کرونگی۔! نہیں۔۔ آپ اپنے ہی فلسفے پر قاٸم رہتے ہوۓ آخر تک مجھے یہی تسلی کرواتے رہے کہ میں اس کے ساتھ خوش رہونگی ولی لیکن آپ۔۔ آپ اندر ہی اندر جانتے تھے کہ میں اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتی تھی۔ کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی تھی۔ میرے دل کے ہر خانے میں آپ کا نام پورے اختیار سے جگمگا رہا تھا اور میں۔۔ ولی میں اس نام کو مٹانے میں ہلکان ہونے لگی تھی۔۔“
اسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ ایک ایک لفظ کہتے جیسے دل سے خون رس رہا تھا۔ وہ آج، ابھی۔۔ اپنے دل میں چبھا ہر کانٹا نکالنا چاہتی تھی۔ ہر وہ پیوست کانٹا جس نے اسے آتی جاتی سانسوں کے ساتھ تکلیف دی تھی۔
ولی نے آہستہ سے اس کے گرتے آنسو اپنے پوروں پر سمیٹے، تو وہ اس کے سکون آور سے لمس پر آنکھیں بند کر گٸ۔ ماضی کے سارے زخم جیسے مندمل ہوتے جارہے تھے۔۔
”کہتی رہیں میں سن رہا ہوں۔۔“
مدھم سا کہا تو امل پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ابھی وہ اس سے بہت لڑنا چاہتی تھی۔ اپنے اوپر وارد ہوٸ ہر زیادتی کا بدلہ وہ اس سے لینا چاہتی تھی لیکن عجیب بات تو یہ تھی کہ اس کے لمس پر اسے صرف رونا آۓ جارہا تھا۔
”آپ نے بہت برا کیا تھا ولی میرے ساتھ۔ آج بھی میرا دل یہ سوچ کر کانپ جاتا ہے کہ اگر میں اس نفیس کے ساتھ زندگی گزارتی تو میرا کیا بنتا۔۔ میں تو کہیں کی نہ رہتی ولی۔ وہ تو مجھے ذلت کے اس عذاب سے گزارتا کہ جس کا سوچ کر ہی انسان کی روح فنا ہونے لگتی ہے۔ جب اس دن آپ اتنی ہمت نہیں کرپاۓ تو پھر آج آپ کو کیا پڑی تھی مجھ سے نکاح کرنے کی۔۔؟ آج کیسے آپ نے اتنی جرأت سے سر اٹھا کر میرا ہاتھ مانگ لیا۔۔؟ آج آپ میں اتنی ہمت کہاں سے آگٸ تھی ولی۔۔؟“
روتے ہوۓ وہ اس سے جیسے اپنے سارے بدلے لے رہی تھی۔ وہ اس سے اپنے ہر آنسو کا بدلا لینا چاہتی تھی۔۔
”اللہ نے مجھے آپ کے پیچھے خوار کرنا تھا ناں اسی لیۓ ڈیڑھ سال کی مسلسل اذیت کے بعد آج آپ میرے سامنے ہیں۔ میری نگاہوں کے سامنے۔۔ پوری طرح سے میری ہو کر۔ مجھے نہیں لگتا کہ زندگی میں اس سے بھی زیادہ کبھی کوٸ لمحہ میرے لیۓ آسودہ ہوپاۓ گا۔۔“
اس کی آنکھیں بھی گلابی پڑنے لگی تھیں۔ امل نے کسی غیر ارادی سی کیفیت کے زیرِ اثر ہاتھ اٹھایا اور اس کے چہرے کو پہلی بار۔۔ زندگی میں پہلی بار چھوا۔ ولی اس کے اس طرح سے چھونے پر ساکت ہوا تھا۔۔
”ڈیڑھ سال سے مسلسل صرف آپ اذیت میں نہیں تھے ولی۔ میرا بھی ہر دن، ہر ساعت اور ہر لمحہ عذاب بن کر گزرا ہے مجھ پر۔ جانتے بھی ہیں انتظار کی گھڑیاں کتنی طویل اور تھکا دینے والی ہوتی ہیں۔۔! میں نے ہر اس گزرتی گھڑی میں آپ کو یاد کیا ہے ولی۔۔ اتنا یاد کیا ہے کہ میں تو خود کو بھی بھولنے لگی تھی۔۔“
ولی نے اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔ اس کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھ پر اپنا نرم گرم سا ہاتھ رکھا تو وہ جیسے چونکی۔۔ اسکی نسواری آنکھوں کو دیکھا۔ بے اختیار اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر پیچھے ہوٸ ہی تھی کہ ولی نے اسے دوبارہ سے اپنی جانب کھینچا۔ کسی لچکتی ڈال کی طرح وہ اس تک کھنچی چلی آٸ تھی۔ قریب۔۔ بے حد قریب۔۔
”کہتی رہیں، میں سن رہا ہوں۔۔“
اس کے بہت قریب سرگوشی کی تھی اس نے۔۔ امل کے رخسار دہک اٹھے۔ اس کی اتنی قربت پر لگتا تھا جان نکل جاۓ گی۔ اپنے اتنے قریب کر کے وہ کہہ رہا تھا کہ وہ کہتی رہے۔۔! وہ کیا کہتی۔۔ اس کے تو جیسے سارے الفاظ ہی سمٹ کر گم ہوگۓ تھے۔
”میں وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر آپ تک کوٸ دکھ، کوٸ پریشانی اور کوٸ زخم نہیں آنے دونگا امل۔ میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے۔۔“
بے اختیار ایک بار پھر سے اسے خود میں سمیٹ کر اس نے مدھم سا کہا تو امل نے آنکھیں موند کر سکون سے اپنا سر اس کے سینے پر ٹکا دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے برسوں کی ریاضت کا صلہ، اللہ نے ایک ہی دن میں دے دیا ہو۔
یکایک ولی کا فون بجا تو وہ چونک کر اس سے الگ ہوا۔ کتنے لمحے اسی بے خودی کی نذر ہوۓ تھے انہیں پتہ نہیں چلا۔۔ امل نے بھی اس کے جیب سے فون نکالنے پر بھیگی آنکھیں صاف کیں اور مسکراتی ہوٸ پیچھے ہوٸ۔ اصغر کا نمبر دیکھ کر ولی نے مسکراتے ہوۓ فون اٹھایا تھا۔۔
”ہاں اصغر کہو۔۔؟“
ایک ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں میں اٹکے جھومر کو چھوا تو امل بے طرح چونکی۔۔ یا اللہ یہ جھومر اب تک بالوں میں لگا تھا۔
”اچھا۔۔ اچھا چلو ٹھیک ہے میں آتا ہوں کچھ دیر میں۔۔ ہاں ہاں۔۔ سہی۔۔“
فون کان سے ہٹا کر اس نے امل کو دیکھا۔ سفید لباس میں ملبوس وہ کوٸ اپسرا لگ رہی تھی۔ آنسوٶں سے دھلے دھلاۓ چہرے والی اپسرا۔۔
”اصغر کا فون تھا۔ مجھے بلا رہا ہے۔۔ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں شاید کوٸ کام ہے اسے۔ اور یہ جھومر مت ہٹاٶ۔ ایسے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔“
وہ جو بالوں پر لگے ٹیڑے میڑھے سے جھومر کو ہٹا رہی تھی یکدم رک گٸ۔۔
”جی نہیں۔۔ مجھے نماز پڑھنی ہے عشاء کی تو مجھے یہ ہٹانا ہی پڑے گا۔ خود کو محترم پڑھ کر آچکے ہیں میری نماز کا وقت نکال دیا۔۔“
ایک خفا نگاہ اس پر ڈالی اور جھومر بالوں سے ہٹاتی اس کے ساتھ سے نکل گٸ۔ ولی مسکراتا ہوا باہر کی جانب بڑھا تھا۔ اس نے سنگھار میز کے سامنے کھڑے ہو کر خود کا عکس دیکھا تو دنگ رہ گٸ۔ چند لمحوں ہی میں اس کا رنگ کھل گیا تھا۔ آنکھیں چمک رہی تھیں اور دل ہر بوجھ سے آزاد ہوچلا تھا۔ صرف ایک انسان کے ساتھ سے دنیا کتنی حسین ہوجاتی ہے اس کا احساس امل کو آج ہوا تھا۔ اس لمحے ہوا تھا۔۔ اس نے مسکرا کر جھومر سامنے رکھا اور پھر واش روم کی جانب بڑھ گٸ۔ ابھی اسے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر شکر گزاری کے نفل بھی پڑھنے تھے۔۔
چھوٹے سے اپارٹمنٹ سے یکدم ہی خوشبو آنے لگی تھی۔۔ پاکیزگی اور چاہت کی خوشبو۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔
زمانی نے اپنی نماز سے سلام پھیر کر زمان کو دیکھا جو اپنی راکنگ چیٸر پر جھولتے سکون سے مسکرا رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے انہیں برسوں بعد قرار آیا ہو۔ وہ بھی مسکرا کر دعا کرتیں جاۓ نماز سے اٹھیں اور پھر ان کے ساتھ رکھے صوفے پر آبیٹھیں۔ زمان نے یکدم ہی آنکھیں کھولی تھیں۔ پھر انہیں دیکھ کر مسکراۓ۔۔
”آج لگتا ہے جیسے دل سے ہر زخم مٹ گیا ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر زخم کے بدلے میں اللہ نے ولی کو مرہم بنا کر بھیجا ہو۔ میں بہت خوش قسمت ہوں زمانی کے مجھے ولی جیسا بیٹا ملا ہے۔ میں بہت شکر گزار ہوں پروردگار کا۔۔“
زمانی نے بھی آسودگی سے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔ ان کے اپنے دل میں بھی جیسے ٹھنڈ پڑ گٸ تھی۔ یکایک ان کے کمرے کا دروازہ بجا تو دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا۔ بختیار کی وہیل چیٸر گھسیٹتی شازیہ اسے اندر لارہی تھی۔ اس کے پیچھے ہی نثار اور امینہ بھی تھے۔
آج سب کے چہرے ہی کھلے کھلے سے لگتے تھے۔ دل خوش تھے اور ارواح مطمٸن۔۔ ان کی بہن، اس گھر کی بیٹی بغیر کسی جھمیلے کے عزت کے ساتھ اپنے گھر رخصت ہوگٸ تھی۔ اس سے زیادہ بھلا اب کیا خوشی رہ گٸ تھی ان کے لیۓ۔۔
”آج میں بہت خوش ہوں بابا۔۔ بہت زیادہ۔۔“
کہتے کہتے بختیار کی آنکھیں بھیگیں تو سب ہی امل کے جانے پر اداس ہوگۓ۔
”میں بھی بہت خوش ہوں۔ اللہ نے ہماری ذات پر بہت بڑا احسان کیا ہے ولی کو ہماری زندگیوں کا حصہ بنا کر۔۔“
”بے شک۔۔“
نثار نے کہہ کر یکدم سر جھکایا تھا۔ ان کے درمیان کے کھچاٶ اور مستقل ماضی کی چپقلش جیسے پچھلے حادثے کے بعد سے ختم ہوگٸ تھی۔ اگر کچھ رہ گیا تھا تو وہ ایک دوسرے کو سمجھنا اور ایک دوسرے کی عزت کرنا۔۔ انہیں سمجھ آگیا تھا کہ انسان کی عزت صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ میں ہے۔ اپنے نیک اعمال اور عمدہ اخلاق میں ہے۔ انہیں یہ سمجھ آگیا تھا مگر بہت کچھ کھونے کے بعد۔۔ ہاں کھوۓ بغیر بھی بھلا کبھی کوٸ انسان سنبھلا ہے۔
دوسری جانب امل نے اپنی نماز سے سلام پھیر کر دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تھے۔ سفید دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹے، شہد رنگ آنکھیں بند کیۓ وہ دعا مانگ رہی تھی۔ یکدم اسے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز آٸ۔ پھر کوٸ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہورہا تھا۔ اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔۔ محو ہو کر دعا مانگے گٸ۔ یکایک اس نے محسوس کیا کہ کوٸ اس کے ساتھ آ بیٹھا ہے۔۔ اور پھر اس کی گود میں اپنا سر رکھے وہ اب اسے ہی دیکھ رہا ہے۔ اس کی بند پلکیں لرزنے لگیں۔۔ ہونٹ مسکراہٹ روکنے میں ناکام ہونے لگے تھے۔
”ہشش۔۔ میرے لیۓ بھی دعا مانگیۓ گا۔۔“
اس نے جل کر دعا کے لیۓ اٹھے ہاتھ ایک جانب کو کیۓ اور چہرہ جھکا کر اسے دیکھا جو نسواری آنکھوں میں ڈھیروں عقیدت لیۓ اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ ساتھ اس نے ایک جانب سے لب دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ بھی روک رکھی تھی۔
”آپ میری دعا میں مخل ہورہے ہیں اور جو۔۔ امل کی دعا میں مخل ہوں وہ انہیں بالکل بھی پسند نہیں کرتی۔۔“
اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر کے دعا پر توجہ دینی چاہی لیکن افف۔۔ وہ گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔
”میں کب مخل ہوا ہوں۔ صرف دعا کی درخواست کی ہے۔“
کتنی معصومیت سے کہہ رہا تھا۔ امل نے دعا ادھوری چھوڑ کر ہاتھ چہرے پر پھیرے اور جیسے ہی نگاہیں جھکاٸیں نظریں اس کی نظروں سے جا الجھیں۔۔
”بہت برے ہیں آپ۔۔“
”سو تو ہے۔“
”مجھے وہ نفیس زیادہ اچھا لگتا تھا۔۔“
بے اختیار اس نے نگاہیں اس پر اٹھاٸ تھیں۔ امل نے بمشکل مسکراہٹ روکی۔۔
”مجھے پتہ ہے۔۔ آپ ہمیشہ سے مجھے پسند کرتی تھیں۔ بلکہ ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے مجھ سے کسی بات کا اظہار بھی کیا۔۔ کیا تھا بھلا وہ۔۔؟“
”کس نے کہا میں آپ کو پسند کرتی ہوں۔۔؟“
اس نے دوپٹے کی تہہ کھولی تو سیاہ لٹ پھسل کر چہرے پر آگری۔ ولی نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر اس کی لٹ کان کے پیچھے اڑسی تھی۔ اس کی نگاہیں بے ساختہ جھکیں لیکن۔۔ افف۔۔ ولی کا چہرہ سامنے آیا۔ اس نے جلدی سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا۔ ولی بے ساختہ کھل کر مسکرایا۔۔
”آہاں۔۔ ٹھیک ہے مجھے پسند نہیں کرتیں آپ لیکن مجھ سے شرما ضرور رہی ہیں۔“
”جو بھی کہیں۔۔ میں اب ہاتھ نہیں ہٹاٶنگی۔۔ آپ کی نظریں بہت گستاخ ہیں۔۔“
ولی ہنسا تھا۔
”میں نے سمجھایا ہوا ہے انہیں۔۔ اب کوٸ گستاخی نہیں کریں گی۔۔“
اس کا ہاتھ اس نے نگاہوں سے ہٹا کر بے ساختہ ہونٹوں سے لگایا تو امل کانوں کی لوٶں تک سرخ پڑ گٸ۔ وہ اپنی آنکھوں میں سارے جہان کی عزت سمیٹے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”جانتی ہیں۔۔ میں آپ کو اپنا ہر زخم دکھانا چاہتا تھا۔ آپ سے اپنے دل کے ہر گھاٶ کو بانٹنا چاہتا تھا۔ آپ کو اپنے ہر راز میں شریک کرنا چاہتا تھا۔ اپنا ہر دکھ آپ کی گود میں سر رکھ کر رونا چاہتا تھا میں۔۔ لیکن آج۔۔ یوں آپ کو دیکھتے ہوۓ مجھے لگ رہا ہے جیسے مجھے تو کبھی کوٸ زخم لگا ہی نہیں تھا۔۔ جیسے یہ زندگی تو آج ہی شروع ہوٸ ہے۔۔ آپ کے ساتھ سے پہلے تو میں زندہ ہی نہیں تھا۔۔ بس جی رہا تھا۔۔“
امل اداسی سے مسکرا کر اس کا ایمان افروز چہرہ دیکھ رہی تھی۔ بلاشبہ۔ اسے بہترین سے نوازا گیا تھا۔
”میں آپ کا ہر زخم، ہر دکھ، ہر محرومی اور ہر خواہش پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرونگی ولی۔ میں بھی آپ کو کبھی تنہا نہیں کرونگی۔ میں دنیا اور آخرت۔۔ دونوں میں اللہ سے آپ کا ساتھ طلب کرونگی۔ کیونکہ آپ ۔۔ آپ کا ساتھ میری زندگی کی متاع ہے۔ میری اندھیر زندگی کا تارہ ہے۔۔ جس کی روشنی میں مجھے اپنی زندگی گزار کر آخرت کی گھڑیوں تک آپ کا انتظار کرنا ہے۔۔“
ولی اس کی باتوں پر مسکرا رہا تھا۔ پھر اس کا پکڑا ہاتھ اپنے دل پر رکھا۔
”آپ بہت خوبصورت ہیں۔ کبھی کبھی میں مبہوت ہوجایا کرتا ہوں آپ کی خوبصورتی سے۔۔“
”جانتی ہوں۔۔“
کمال بے نیازی سے کہہ کر دیکھا تھا اسے۔ وہ ہنس پڑا۔۔
”لیکن میری ساری سعادت مندی کا ساتھ آپ کو تب ہی میسر آسکتا ہے جب آپ میری ایک بات مانیں گے۔۔“
”کہیں۔۔“
امل کا ہاتھ اب تک اس کے ہاتھ تلے دبا تھا۔
”مجھے بی بی کہنا چھوڑ دیں۔۔“
”یہ تو مشکل ہے۔۔“
اس نے صاف جواب دیا۔۔ امل نے خفگی سے دیکھا تھا اسے۔۔
”پتہ ہے ناں مجھے کیسا غصہ آتا ہے۔۔؟“
”جانتا ہوں۔۔ کیونکہ آپ کے عتاب کا شکار اکثر میں ہی ہوتا تھا۔ لیکن مسٸلہ تو سارا یہی ہے کہ مجھے آپ غصے میں اور بھی اچھی لگتی ہیں۔۔“
”میں کب اچھی نہیں لگتی۔۔؟“
آنکھیں گھما کر کہا تو ولی کا دل کیا اسے بنا پلکیں جھپکاۓ دیکھتا ہی رہے۔۔
”آپ پھر سے وہی کررہے ہیں۔۔؟“
اس نے اپنا ہاتھ ایک بار پھر اس کی آنکھوں پر رکھا تو ولی کا قہقہ بے ساختہ گونجا۔۔
”کیا کررہا ہوں۔۔؟“
اس نے اب کے اس کا ہاتھ نہیں ہٹایا تھا۔۔
”گستاخی۔۔۔“
اس نے جھک کر ہلکے سے کہا اور پھر یکدم اٹھ گٸ۔ ولی کا سر بے ساختہ زمین سے ٹکرایا تھا۔۔
”اب یہ زیادتی ہے۔۔“
اس نے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے کہا تو وہ اسے منہ چڑا کر باہر بھاگ گٸ۔ وہ بھی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگا تھا۔
آنے والی ساعتیں اپنے اندر روشنی کے بہت سے جگنو سمیٹے ہوۓ تھیں۔ اور ان کی دھمک۔۔ ان آنے والے لمحات کی معطر گھڑیاں ولی اور امل بخوبی محسوس کرسکتے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ان سے دور گاٶں کی پہاڑی پر پڑی ایک لاوارث لاش اب تک روکھی ہوا کے ساتھ مٹی بن کر اڑ رہی تھی۔ اس لاش کی تعافن زدہ سی نحوست کے باعث پہاڑی پر اگی گھاس جل کر راکھ ہوچکی تھی۔ دوسری جانب، اپنے کمرے کی تاریکی میں بستر پر دراز حسین کا لاغر وجود اب آہستہ آہستہ گلنے سڑنے لگا تھا۔ اعمال کے باعث اس کی روح تو خاکستر ہو ہی چکی تھی لیکن اب اس کا جسم بھی ان اعمال کے اثرات کے اثر سے گویا سڑنے لگا تھا۔
ان سب کا انجام، گردن ترچھی کیۓ کاغذات پر لکھتے میں یہی سوچ رہی تھی کہ جسے پلٹ آنا ہو وہ پلٹ آتا ہے اور اعمال کا ٹلنا۔۔ اعمال کے نتاٸج کا ٹل جانا تو بہت ہی غیر یقینی سی بات ہے۔ کیونکہ اعمال۔۔ ایک نہ ایک دن ضرور پلٹ آتے ہیں۔۔ مزید بھیانک اور تاریک ہو کر۔ جیسے حسین اور ہاشم کے اعمال ان پر پلٹ آۓ تھے۔۔ مزید تاریک اور بھیانک ہو کر۔ اور جیسے ولی اور امل پر ان کے اعمال پلٹ آۓ تھے۔۔ مزید خوبصورت اور پاکیزہ ہو کر۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
