Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 17) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

”ہاشم سرکار۔۔ حسین سرکار مل گۓ ہیں۔۔“

شہیر نے پھولی سانسوں کے درمیان اسکے آفس میں داخل ہو کر بتایا تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔۔ بے یقینی کے ساتھ خوشی اس قدر تھی کہ اسے فی الحال کچھ بھی سجھاٸ نہیں دے رہا تھا۔۔

”کس نے بتایا تمہیں بابا کا۔۔؟“

تیز تیز قدم اُٹھاتا وہ شہیر کے ساتھ چلتا سبزہ زار عبور کررہا تھا۔۔

”ابھی ابھی مراد کا فون آیا میرے پاس۔۔ حسین سرکار مل گۓ ہیں اور وہ انہیں ابھی اسپتال لے کر جارہے ہیں کیونکہ ان کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔“

تیزی سے چلتا ہاشم گویا ایک سیکنڈ کو پتھر کا ہوگیا۔۔ شہیر جو اس سے آگے نکل گیا تھا اس کے رکنے پر رک کر اسے دیکھا۔۔

”کیا ہوا ہے بابا کو۔۔؟“

”سرکار مجھے نہیں پتہ ہے اس بارے میں کچھ بھی۔۔ ابھی ہم شہر کے اسپتال جا کر دیکھیں گے تب ہی ساری صورتحال کا اندازہ ہوگا۔۔ “

تھوڑی دیر پہلے والی سکون کی کیفیت یکلخت ہی عنقا ہوگٸ تھی اور اب ایک جما دینے والا خوف ہاشم کے رگ و پے میں سرایت کررہا تھا۔۔ شہر کی جانب گاڑی کو تیزی سے دوڑاتا وہ جیسے بس حسین کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔ کیونکہ اس کی چھٹی حس بتا رہی تھی کہ کچھ غلط تھا۔۔ کہیں کچھ بہت بہت غلط تھا۔۔ پگڈنڈیوں پر پھیلا خوف کا آسیب اب کے آہستہ آہستہ شام کی سیاہی میں ڈھلنے لگا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

امل نے مغرب کی نماز کا وضو کیا اور پھر دوپٹہ سر پر درست کرتی گیسٹ روم میں جاۓ نماز بچھا کر سیدھی ہوٸ۔۔ بی جان، ارجمند تاٸ اور باقی سب لاٶنج ہی میں نماز پڑھ رہے تھے لیکن وہ اس وقت سب سے الگ ہو کر اکیلے میں نماز پڑھنا چاہتی تھی۔۔ ایک جانب ہو کر اللہ کو پکارنا چاہتی تھی۔۔ اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔

اس نے چہرے کے گرد زرد دوپٹے کو لپیٹا اور پھر نماز پڑھنے کھڑی ہوگٸ۔ فارغ ہونے کے بعد سلام پھیر کر وہ چند لمحے جاۓ نماز کو دیکھے گٸ۔۔ اس سے جلدی جلدی دعاٸیں مانگ کر نہیں اُٹھا جاتا تھا۔۔ سلام پھیر کر چند پل تو وہ جاۓ نماز پر بنے نقش و نگار کو خاموشی سے دیکھے جاتی تھی۔۔ اس سب میں بھی اپنا ہی ایک سکون تھا۔۔ خاموشی تھی۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے چہرہ اوپر کیا اور پھر دونوں کومل ہاتھوں کو فضا میں بلند کیا۔۔

اسی پل کسی نے گیسٹ روم کا درواز بجایا تھا۔۔ وہ جو دعا مانگنے ہی لگی تھی چونک کر آنکھیں کھولیں۔۔ نفیس دروازے میں ایستادہ اسے بہت محویت سے تک رہا تھا۔۔ چہرے کے زخم کافی حد تک مندمل ہوچکے تھے اور وہ پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا۔۔

”اس دن کے لیۓ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔“

اس نے گیسٹ روم میں آنے کی جسارت نہیں کی تھی۔۔ ولی کے پڑھاۓ گۓ سبق لوگوں کو اکثر یونہی یاد رہ جایا کرتے تھے۔۔ اسے بھی یاد تھے۔۔

”تمہیں مانگنی بھی چاہیۓ۔۔“

اس کا روکھا سا انداز پلٹ آیا۔۔ یہ فضول سا انسان اس کی دعا میں مخل ہوا تھا۔۔ اور جو دعاٶں میں مخل ہوں۔۔ ان سے اسے ویسے ہی چڑ تھی۔۔

”مجھے وہ سب تمہیں نہیں کہنا چاہیۓ تھا۔۔ بعد میں مجھے بہت افسوس ہوا تھا اس سب پر امل۔۔“

سر جھکا کر کہا تو امل نے اسے دیکھا۔

”جو کہنا ہے صاف صاف کہو نفیس۔ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔۔“

بیزاریت سے اسے ٹوکا تو وہ یکدم مدعے پر آیا۔۔

”میں چاہتا ہوں کہ جو بھی غلط فہمی ہمارے درمیان پھیل گٸ ہے تم اسے اپنے دل سے نکال دو۔۔ ہمارا اب رشتہ ہوچکا ہے۔۔ میں تم سے کوٸ بدلہ نہیں لینا چاہتا نہ ہی میرا تمہیں مزید تنگ کرنے کا کوٸ ارادہ ہے۔۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم میری طرف سے اپنا دل صاف کرلو۔۔“

اس نے ایک پل کو زرد سے لباس میں بے داغ سے حسن والی لڑکی کو دیکھا تھا۔۔

”تمہیں کیا لگتا ہے کہ باتیں اتنی آسانی سے دلوں سے نکل جاتی ہیں۔؟! یہ میرا دل ہے نفیس۔۔۔ کوٸ اسٹور روم نہیں کہ جس میں جو سامان فالتو لگے اسے بڑے آرام سے اُٹھا کر باہر پھینک دیا جاۓ۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہاری حرکت کس قدر گھٹیا اور نیچ تھی۔۔!“

اس نے وہیں جاۓ نماز پر بیٹھے بیٹھے گردن اس کی جانب پھیر کر کہا تھا۔ ساتھ میں وہ اسے افسوس سے دیکھ بھی رہی تھی۔۔

”میں جانتا ہوں اسی لیۓ تو معافی مانگ رہا ہوں تم سے۔۔ مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیۓ تھا۔۔“

”ٹھیک ہے۔۔ لیکن میں اتنی جلدی معاف نہیں کرتی نفیس۔ تمہاری معافی اسی شرط پر ہوسکتی ہے کہ جب تم مستقبل کے کسی بھی روہے سے یہ ثابت نہ کرو کہ تم ایک نہایت گھٹیا اور بدتمیز انسان ہو۔۔“

نفیس نے بے یقینی سے ایک پل کو چہرہ اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔

”میں تمہیں پسند کرتا ہوں امل۔۔“

امل کی کنپٹیوں تک میں جلن مچ گٸ تھی۔۔ جس رشتے میں وہ اس کے ساتھ بندھ گٸ تھی کیا کوٸ راستہ تھا اس سے نکلنے کا؟

”پسند کرنے سے پہلے اگر تم عزت کرنا سیکھ جاتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا تمہارے لیۓ۔ جانتے ہو تم اور تمہارے جیسے بہت سے لڑکے اپنی محبتوں میں ناکام کیوں ہوجاتے ہیں۔۔“

وہ دعا کا ارادہ ترک کر کے جاۓ نماز سمیٹتی اٹھی تھی۔ پھر ایک پل کو اس کے سامنے رکی۔۔

”وہ اس لیۓ نفیس احمد کیونکہ وہ محبت کرنا تو سیکھ جاتے ہیں جو کہ آسان ہے مگر وہ کبھی بھی عزت کرنا نہیں سیکھتے جو کہ بہت مشکل ہے۔ لڑکیوں کو محبت نہ دو۔ انہیں عزت کے دو بول بھی بول دو گے ناں تو وہ کبھی تمہاری ناقدری نہیں کریں گی۔ لیکن اگر جہاں ذرا سا تم اپنی جنگلی فطرت پر اترے اور اسے بے عزتی سے اپنانا چاہا۔ تب تم۔۔ اور تم جیسا ہر لڑکا اس لڑکی کو کھو دیگا۔ عزت کرنا سیکھو۔ محبت عزت کے ساتھ بندھی بُوٹی ہے کہ جس کا ذاٸقہ عزت ہی کے ساتھ سے آتا ہے ، اور اگر صرف محبت کو لے کر تم اس کے دل پر حکمرانی کرنا چاہوگے تو بھول ہے یہ تمہاری۔ وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گی۔ جسم مل بھی جاۓ، مگر روح تک تمہاری رساٸ عمر بھر ناممکن ہی رہے گی۔۔“

اس نے جاۓ نماز ایک صوفے پر ڈالا اور دوپٹے کی تہیں چہرے کے گرد سے کھولتی باہر کی جانب بڑھ گٸ۔۔ دروازے کے وسط میں ایستادہ نفیس نے گہرا سانس لے کر چہرہ جھکایا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیڑھ گھنٹے کی ڈراٸیو پر اسپتال موجود تھا۔ لیکن یہ ڈیڑھ گھنٹہ زندگی کا سب سے طویل وقت ثابت ہورہا تھا ہاشم کے لیۓ۔ اس کا دل ڈوب ڈوب کر ابھرنے لگا تھا۔ ولی سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔۔ وہ کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔ اور اگر جو اس نے کچھ کیا تو۔۔

اس کے دانت جم گۓ تھے۔۔ کنپٹی کو جاتی رگ غصے سے پھڑکنے لگی تھی۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ڈراٸیو کو بمشکل ایک گھنٹے میں پار کر کے وہ اسپتال پہنچا تھا۔ گاڑی کا دروازہ تیزی کے ساتھ بند کرتا اندر کی جانب بھاگا۔۔ شہیر اس کی رفتار سے ملنے کی کوشش کررہا تھا مگر ہاشم پر تو گویا کوٸ طاقت سی وارد ہورہی تھی۔۔ اس کے قدموں میں بجلی سی بھرگٸ تھی۔۔ شہیر کو ساتھ لیۓ بغیر وہ تیز تیز آگے بھاگ رہا تھا۔۔ بڑے سے چمکتے ٹاٸلز کے ہال میں ِِرسیپشن کے پاس ہی اسے مراد اور اس کے آدمی مل گۓ تھے۔۔ اب کے مراد اس کے آگے آگے اس کی رہنماٸ کرتا کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔ نہ جانے کیوں اس کے تیز قدموں کی رفتار دھیمی پڑتی جارہی تھی۔۔ جیسے جیسے حسین کا کمرہ قریب آتا جارہا تھا اس کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔ اتنے سالوں سے لوگوں کے والدین کو ناحق مارتے اسے کبھی ان کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہوا تھا ۔۔ لیکن یہ اذیت۔۔ یہ اذیت بہت زیادہ تھی۔۔ مراد کمرے کے باہر پہنچ کر ایک پل کو ہچکچا کر ٹھہر گیا۔۔ اس کی ہچکچاہٹ ہاشم نے بخوبی محسوس کرلی تھی اور اس نے اسے پیچھے ہٹاتے کمرے کا دروازہ وا کیا اور پھر خود بھی ایک پل کو پتھر کا ہوگیا۔۔ ایک ڈاکٹر حسین کے بستر کے ساتھ کھڑا جھک کر ان کی بند آنکھوں کو ایک ایک کر کے کھولتا ٹارچ مار کر دیکھ رہا تھا۔ ایک طرف نرس بھی ڈرپ میں انجیکشن لگا رہی تھی۔۔ وہ جلدی سے آگے بڑھا۔۔

اس کا باپ ٹھیک تھا۔۔ ہاں وہ ٹھیک تھا ۔۔

لیکن ایک منٹ۔۔ اس کی آنکھوں نے حسین کے قدموں پر ڈلی سفید چادر سے اس کے چہرے کی جانب سفر کیا اور پھر۔۔ پھر اس پر گویا سارا آسمان گر پڑا تھا۔۔ حسین کے چہرے کے زاویے بگڑ کر ایک ہی انداز پر رک چکے تھے۔

”انہیں۔۔ کیا ہوا ہے۔۔؟؟“

اسے پتہ تھا مگر پھر بھی اس نے پھنسی پنھسی سی آواز میں ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔

”آپ مریض کے کیا لگتے ہیں۔۔؟“

”بیٹا ہوں ان کا۔۔“

”سوری۔۔ یہ زندہ تو ہیں۔۔ مگر ان کے جسم کا بہت سا حصہ پیرالاٸز ہوچکا ہے۔ ہاتھ، پیر اور جسم کے کسی حصے کو بھی حرکت نہیں دے سکتے یہ۔۔ ہاں صرف آنکھوں کو گھما کر دیکھ سکتے ہیں وہ بھی بس ایک ہی جانب۔۔۔“

ڈاکٹر نے اپنے پروفیشنل سے انداز میں بریفنگ دی اور پھر اپنا بے داغ سا سفید کوٹ درست کرتا باہر کی جانب بڑھنے لگا مگر اس کی آواز پر رک گیا۔۔

”انہیں فالج کیسے ہوا۔۔؟“

”کسی شدید صدمے کی وجہ سے ہوا ہے انہیں فالج۔۔اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔۔“

”کیا یہ ٹھیک ہوجاٸنگے۔۔؟“

اس کی مرجھاٸ ہوٸ آنکھیں حسین کے زرد پڑتے چہرے پر جمی تھیں۔۔ اس کا اپنا وجود بھی زرد پڑتا جارہا تھا۔

”نہیں۔۔ ایسے مریضوں کے صحت یاب ہونے کے چانسس بہت کم ہوتے ہیں۔۔“

ہاشم نے آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔ تکلیف کا ایک ریلہ گزرا تھا اس کے سر سے لیکر پیر تک۔۔ اچھا تو ایسا ہوتا ہے ظلم ہوا جانا۔۔ ایسا ہوتا مظلوم ہونا۔۔ اتنا بے بس۔۔ اتنا تکلیف دہ۔۔

اسے بے جان مجسمے کی طرح چھوڑ کر ڈاکٹر باہر کی جانب بڑھا اور پھر دروازہ بند کر کے ٹاٸلز سے چمکتی راہداری میں آگے ہی آگے بڑھنے لگا۔۔ ایک پل کو ٹھہر کر سفید کوٹ کی جیب سے موباٸل نکالا اور پھر چند نمبر ڈاٸل کرتا پھر سے آگے بڑھنے لگا۔۔

”وہ پہنچ گیا ہے یہاں تک ولی۔۔ اگر اس نےکسی سے تحقیق کروالی تو اسے پتہ چل جاۓ گا کہ اس کے باپ کو فالج کیوں ہوا ہے۔۔“

ولی جو ڈیرے پر موجود فاٸلوں میں سر دیۓ بیٹھا تھا۔ سنجیدگی سے پیچھے کو ہو کر بیٹھا۔۔

” ہاشم کبھی تحقیق نہیں کرواۓ گا۔۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس سب کے پیچھے میں ہوں ۔۔ اور جلد یا بدیر وہ میرے پاس ضرور آۓ گا۔۔ تمہاری مدد کا بہت بہت شکریہ جاسم۔۔“

”کوٸ بات نہیں۔۔ بس اپنا خیال رکھنا ولی۔۔“

”ہوں۔۔ رکھتا ہوں اب فون۔۔“

جاسم نے گہرا سانس لیا اور پھر فون سفید کوٹ کی جیب میں ڈالتا آگے بڑھ گیا۔۔

پیچھے ہاشم اب تک جما ہوا تھا۔۔ پھر اس نے آہستہ سے حسین کے ساتھ بیٹھ کر اس کے بے جان جسم کو ہاتھ لگایا۔۔ وہ جسم کسی مردہ وجود کی طرح یخ ہورہا تھا۔۔ بے جان۔۔ ٹھنڈا۔۔

ایک دم فون کی گھنٹی بجی تو اس نے بنا نمبر دیکھے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔

”ماں جی بابا مل گۓ ہیں مجھے ۔۔ ابھی آرہے ہیں ہم گھر۔۔“

آگے شاید نگار کی بہت بے یقین سی خوشگوار اسے سناٸ دی تھی مگر اس نے کوٸ بھی اثر لیۓ بغیر فون رکھا اور اور ویسے ہی حسین کے بے جان وجود کو دیکھے گیا۔۔ شکستہ حال ہاشم آج اپنی بے بسی کی انتہاٶں پر تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کے کسی پہر حسین احمد کی حویلی میں ایبمبولینس داخل ہوٸ تھی۔ گھر والے جو چلتے پھرتے حسین کی توقع کررہے تھے ایسے فالج زدہ وجود کو دیکھ کر گنگ کے گنگ رہ گۓ۔۔ ایک پل کو تو کوٸ کچھ بھی نہ بولا۔۔ یوں لگتا تھا سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ سب سے پہلے زمان آگے بڑھے پھر حسن اور پھر سب جیسے تیسے کر کے اسے اندر کمرے میں لٹانے میں کامیاب ہو ہی گۓ تھے۔۔ نگار بیگم ہاشم کو زور زور سے ہلا کر استفسار کررہی تھیں کہ کیا ہوا ہے۔۔ یہ سب کیسے ہوا۔۔۔ یہ سب کس نے کیا ہے۔۔

مگر ہاشم بت بن کر کھڑا رہا۔ اسکے پاس گھر والوں کو دینے کے لیۓ کوٸ جواب نہیں تھا۔۔ پھر اس کی بے تاثر نظروں نے امل تک سفر کیا تو آنکھوں میں ایک پل کو شعلے سے لپکے۔۔ امل نے اس کے ایسے دیکھنے پر گھبرا کر اپنا سراپا پھیر لیا تھا۔۔

”میں ابھی اکیلا رہنا چاہتا ہوں اپنے کمرے میں۔۔ مجھے کوٸ بھی آکر تنگ نہ کرے۔۔ “

نہ جانے اس نے کس کو کہا تھا۔۔ لیکن جب وہ کمرے سے باہر کی جانب بڑھنے لگا تو زمان نے اسے بے ساختہ روکا۔۔

” پولیس میں رپورٹ کرواٸ تم نے ہاشم۔۔؟“

”جی کرواٸ ہے۔۔ “

”پھر کچھ پتہ چلا کہ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔؟ کیا کوٸ خبر ملی۔۔؟“

”یہ ان کے بس کا کام نہیں ہے ویسے بھی میں خود ڈھونڈ لونگا جس کسی نے بھی یہ سب بابا کے ساتھ کیا ہے۔۔“

”کیا تمہیں اندازہ ہے کہ یہ سب کس نے کیا ہوگا۔۔؟“

”نہیں۔۔ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ ہے۔ ہوسکتا زمینی مسٸلے کی دشمنی نکالی ہو کسی نے۔۔ ابھی بنا تحقیق کے کچھ کہہ نہیں سکتے۔۔“

وہ ان کے سارے سوالوں کے جواب تحمل سے دے رہا تھا۔۔ پھر جب زمان خاموش ہوگۓ تو اس نے بھی قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا دیۓ۔ کمرے میں آ کر اس نے موباٸل پر شہیر کا نمبر ڈاٸل کیا اور پھر دور جاتی گھنٹی کو سنے گیا۔

”ولی کہاں ہے اس وقت۔۔؟“

اور اس کی آواز میں ایسی سرسراہٹ تھی کہ جس سے انسانی ریڑھ سنسنا اُٹھتی۔۔ سیاہ رات میں ایک بار پھر سے گھٹن پھیلنے لگی تھی۔۔ اور شاید وہ کوٸ بُو بھی تھی جو فضا میں تحلیل ہو کر نتھنوں میں گھس رہی تھی۔۔ کیا میں تمہیں بتاٶں کہ وہ کس چیز کی بُو تھی۔۔

وہ بُو کافور کی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے آخری پہر وہ لوگ گھر آۓ تھے۔ بختیار اور نثار تو دن بھر کے تھکے ہونے کے باعث اپنے کمروں میں سونے چلے گۓ تھے مگر امل۔۔ ہاں اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔ ہاشم کی نفرت سے بھرپور سیاہ آنکھیں اسے کسی طور چین نہیں لینے دے رہی تھیں۔۔

آخر کیا وجہ تھی کہ ہاشم اسے ایسے دیکھ رہا تھا۔۔؟

ایک بار پھر سے اسے یاد آیا تو اس نے جھرجھری لی۔۔ عجیب سی لہریں اس کے جسم میں گردش کرنے لگی تھیں۔۔ بی جان اور زمان اپنے کمرے کی جانب بڑھے تو اس نے بھی اپنے قدم زینوں کی جانب پھیر لیۓ۔۔ ایک قدم ابھی ٹھنڈے زینے پر رکھا ہی تھا کہ بے اختیار پلٹ کر ولی کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا۔۔

کیا وہ اپنے کمرے میں تھا۔۔؟

اس کے قدم خود بخود اس کے کمرے کی جانب مڑ گۓ۔۔ دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے ہلکا سا دروازہ بجایا مگر جواب ندراد۔۔ وہ ایک پل کو ٹھہر گٸ۔۔ پھر آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔ مگر صاف ستھرا سا کمرہ انتہاٸ خاموش لگ رہا تھا۔۔

رات کے اس وقت کہاں ہے وہ۔۔؟

اس نے اچھنبے سے دیوار پر ٹک ٹک کرتی گھڑی کو دیکھا۔۔ اور پھر یکدم پریشان ہوتے دل کے ساتھ باہر کی جانب بڑھ آٸ۔ رات کے اس وقت کہاں تھا وہ۔!

دھڑکتے دل کے ساتھ زینوں پر چڑھتی وہ اب کے مسلسل اسی کے بارے میں سوچے جارہی تھی۔

دوسری جانب زمان اپنے کمرے میں راکنگ چیٸر پر جھولتے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوۓ تھے۔ بی جان نے انہیں گرم دودھ کے ساتھ دواٸیاں لا کر دیں تو انہوں نے گہرا سانس لے کر دواٸیاں تھام لیں۔۔

زمانی ان کے سامنے رکھے صوفے پر جا بیٹھی تھیں۔۔ یہ تو طے تھا کہ آج کی رات کسی کو بھی نیند نہیں آنی تھی۔۔

”کیا سوچ رہے ہیں زمان۔۔؟“

ان کے ایسے پوچھنے پر انہوں نے نظریں کھڑکی سے باہر نظر آتے تاریک آسمان کی جانب پھیریں۔

”سوچ رہا ہوں زمانی کہ قدرت کے چکر بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ انسان کیا سوچ رہا ہوتا ہے اور قدرت کیا سوچ رہی ہوتی ہے۔ ہماری منصوبہ بندی اور قدرت کی منصوبی بندی میں کس قدر فرق ہوتا ہے ناں زمانی۔ جن مظالم کو کرتے بھاجی نے کبھی اپنے زوال تک کا نہ سوچا۔۔ آج وہ زوال بنا بتاۓ ان پر وارد ہوگیا اور ہم میں سے کوٸ کچھ بھی نہ کرسکا۔ ہم جیسے بااثر لوگ بھی کچھ نہیں کرسکے زمانی۔۔ قدرت جو طے کرتی ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔۔ بس سوچ رہا ہوں کہ کس بھیانک ظلم کا بدلہ تھا جو یوں پلٹ آیا۔۔ اتنی تکلیف اور اذیت کے ساتھ۔۔“

وہ بولتے بولتے تھکنے لگے تو یکدم خاموش سے ہوگۓ۔۔ زمانی نے بے اختیار گہرا سانس لیا تھا۔۔

”انسان بھول جاتا ہے زمان، اللہ نہیں بھولتا۔۔“

اب کے زمان نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

”بے شک وہ نہیں بھولتا۔۔ کبھی نہیں بھولتا۔۔ جانتی ہو ہمارے بابا ہمیں ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ ظلم سے خود کو ہمیشہ بچا کر رکھنا۔ کیونکہ باقی تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں مگر کسی انسان کی ذات پر کیۓ بے جا ظلم بڑی تباہیاں کیۓ بغیر نہیں ٹلتے۔ آج دیکھو ہم کتنی بڑی تباہی سے دوچار ہوگۓ زمانی۔۔ سب پلٹ آیا۔۔ کچھ بھی نہ بچا۔۔ لوگ پتہ نہیں خود کو خدا کیوں بنالیتے ہیں۔! حالانکہ خدا تو بس ایک ہی ہے۔۔ اس ساری چلتی کاٸنات کا بادشاہ۔۔ اللہ۔۔ کیوں نہ جانے یہ اس کے مقابلے پر آتے ایک پل کو نہیں سوچتے کہ انسان اور اللہ کا کوٸ مقابلہ نہیں۔۔ جو بھی اس کے مقابلے پر آیا تباہ ہوگیا۔۔ اور جس نے اس کے آگے گردن جھکا دی۔۔ وہ سُرخرو ہوگیا۔۔ آج میرا بوجھ تلے دبا دل چاہ رہا ہے کہ میں دنیا کو چیخ چیخ کر بتاٶں کہ خدارا کسی پر ظلم نہیں کریں۔۔ کیونکہ یہ کسی اور پر نہیں اپنی ذات پر کیا گیا ظلم ہے۔۔ اور ظلم۔۔“

وہ ایک پل کو خاموش ہوۓ تھے۔۔

”ظلم پلٹ کر ضرور آیا کرتا ہے۔۔“

ان کا دکھ زمانی کو مزید دکھ میں مبتلا کررہا تھا۔ سیاہ رات میں زمان کے خاموش ہوتے ہی ایک بار پھر سے خاموشی پھیل گٸ تھی۔۔

اوپر اپنے کمرے میں بیٹھی امل ہاتھ کی ہتھیلی پر ایک عجیب قسم کا گہرا جامنی سا داغ تھا جو بڑھتا جارہا تھا۔۔ وہ اس داغ کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتی تھی۔۔ کیونکہ یہ داغ۔۔ یہ داغ اکثر کسی اپنے کی موت سے چند لمحات پہلے اس کی ہتھیلی پر ابھرا کرتا تھا اور جیسے ہی وہ بندہ مرتا اس کا داغ غاٸب ہوجاتا۔۔ اسکی ہتھیلی پر ایک سکے جتنا جامنی سا داغ پھیلا ہوا تھا اور وہ آنکھیں خوف سے پھیلاۓ اس داغ کو دیکھ رہی تھی۔۔ کیا کوٸ مرنے والا تھا۔۔ ! اور جیسے ہی اسے یہ خیال آیا۔۔ اس کی رگوں میں دوڑتا لہو جمنے لگا۔۔ !!

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے آفس کا دروازہ بند کیا اور پھر کندھے پر ڈلی شال کو ہاتھ سے درست کرتا باہر کی جانب بڑھا۔ سبزہ زار پر روشن بتیوں میں اس کا سفید بے داغ سا لباس ایک پل کو نظر آیا تھا۔ کندھے پر ڈلی کتھٸ شال ایک جانب سے لٹک کر جھول رہی تھی اور دوسرا حصہ کندھے پر ڈلا تھا۔۔ اس نے جیسے ہی قدم آگے بڑھاۓ تو ٹھٹھک کر رک گیا۔۔

ہاشم اس کے عین سامنے کھڑا تھا۔۔ بالکل سامنے۔۔

ہوا سے اس کے ماتھے پر گرے بال اڑ رہے تھے اور ہاشم کے کندھوں پر گرتے بال۔۔

”کیا ایک دفعہ بھی وہ سب کرتے تمہیں رحم نہیں آیا ولی۔۔ وہ باپ تھا تمہارا۔۔!!“

اس سے فاصلے پر کھڑا لڑکا زخمی سا مسکرایا تھا۔۔

”نہیں ہاشم ۔۔ مجھے اس پر بالکل بھی رحم نہیں آیا۔۔ جیسے اسے مجھ پر کٸ سال پہلے رحم نہیں آیا تھا۔۔“

”وہ باپ تھا تمہارا۔۔!!“

ہاشم دھاڑا۔۔

اب کے اس کے چہرے پر جمی مسکراہٹ غاٸب ہوگٸ تھی۔۔ جما دینے والے تاثرات نے اسکے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا۔۔

”میں اسے اپنا باپ نہیں مانتا۔ کیونکہ باپ ایسا ہرگز بھی نہیں ہوتا۔۔ اس نے باپ ہونے کا کوٸ حق کبھی ادا نہیں کیا ہاشم۔۔ وہ صرف تمہارا باپ ہے۔۔ صرف تمہارا۔۔!“

ہاشم چند پل اسے دیکھتا رہا پھر پیچھے بندھے ہاتھوں کو سامنے کیا تو ولی کو سبزہ زار پر روشن بتیوں میں چمکتی ریوالور نظر آٸ۔ اس نے اسی سکون سے اس کا چہرہ دیکھا۔۔

”تو آج وہی بیٹا اپنے باپ کا بدلہ لینے آیا ہے ولی تم سے۔۔“

”کیا ماردوگے جان سے۔۔؟“

اس نے آرام سے پوچھا تھا ۔۔ ہاشم نے اس پر تنا ہاتھ مزید تانا اور خون آشام نظروں سے اسے دیکھا۔۔

”بالکل۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں اس سے کسی کم پر راضی ہونگا۔۔؟“

اسکی کنپٹی پر جمی پسینے کی بوندیں بہہ کر اس کی گردن میں لڑھکی تھیں۔۔ دیکھتے دیکھتے اس کا سارا جسم پسینے میں نہا سا گیا مگر ولی ویسے ہی کھڑا رہا۔۔ اس نے کسی قسم کے بچاٶ کی کوشش نہیں کی تھی۔۔

کٸ سالوں بعد بھی وہ دونوں آج بھی اسی داٸرے میں قید تھے۔۔ اسی موت اور زندگی کے داٸرے میں۔۔ اور آج کسی ایک کو مرجانا تھا۔۔ ہاں یہ چکر اسی طرح ختم ہونا تھا۔۔ یہ اسی طرح ختم ہوسکتا تھا۔۔

”میں نفرت کرتا ہوں تم سے ولی احمد۔۔ بہت نفرت کرتا ہوں میں تم سے۔۔“

اس نے ٹریگر دبایا تو ایک گولی ہوا میں تیرتی آٸ اور ولی کے کندھے میں پیوست ہوگٸ۔۔ خون کے چھینٹے دور تک اڑے تھے۔۔ اس کا وجود جھٹکا کھا کر پیچھے کو لڑھکا۔۔

کہانی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی۔۔ مسجد کے باہر پھینکا گیا بچہ آج مرنے والا تھا۔۔ کیا کسی کی زندگی اور موت کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا۔۔ جتنا ولی کی زندگی اور موت کے درمیان تھا۔۔ !

ایک اور گولی فضا میں تیرتی اس تک آٸ مگر تکلیف کے باعث گھٹنوں کے بل بیٹھنے کی وجہ سے وہ گولی اسے چھو کر گزر گٸ۔۔ لیکن شاید ابھی ہاشم کا انتقام پورا نہیں ہوا تھا۔۔

اس نے ایک اور گولی چلاٸ اور وہ گولی ولی کے پیٹ کو چیرتی اندر جا گھسی۔۔ رگوں میں گویا جلن کا سا احساس برپا تھا۔۔ ایک نہ ختم ہونے والی جلن کا احساس۔۔ ابھی وہ تیسری گولی اس کے دل پر مارنے کا ارادہ رکھتا تھا کہ کسی کی گاڑی ڈیرے کے باہر رکی تو وہ سر پٹ باہر کی جانب دوڑا۔۔ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور کانپتے وجود کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی بھگا لے گیا۔۔

ولی زمین پر گرا درد سے کراہ رہا تھا۔۔ خون ابل ابل کر اس کے سفید لباس کو داغدار کرگیا تھا۔۔

اچھا تو یہ انجام تھا اس کی کہانی کا۔۔

ٹھیک ہوا اس کے ساتھ۔۔

یہی تو وہ انجام تھا جو اس نے سوچ رکھا تھا۔۔

تکلیف سے اس کی آنکھیں بند بند ہونے لگیں۔۔

امل نے کھڑکی کا پٹ وا کیا مگر رات کی گھٹن کم نہیں ہوٸ۔۔ اس کے ہاتھ پر پھیلا جامنی سا نشان اب کے سمٹنے لگا تھا۔۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نشان یکدم غاٸب ہوا تو ولی کی آنکھیں مکمل طور پر بند ہوگٸیں۔۔

کہانی ختم ہوگٸ تھی۔۔

مگر پھر اس نے محسوس کیا کہ کوٸ اسے اُٹھا کر کندھے پر لاد رہا ہے۔۔ کوٸ تھا جو اسے لے کر دوڑ رہا تھا۔۔ اسکی بند بند آنکھوں نے اس شخص کو دیکھنے کی کوشش مگر اسے اسکا چہرہ سمجھ نہیں آیا۔۔

پھر اس نے اسٹریچر ٹھنڈے فرش پر گھسیٹے جانے کی آواز سنی، اسپتال کی ٹھنڈی راہداری میں کسی کے تیز قدموں کی آواز۔ ڈاکٹرز اس کے آس پاس کھڑے بھنبھناہٹ میں بات کررہے تھے۔ پھر سفید چادر جھٹک کر چہرے پر ڈالنے کی آواز۔۔ پھر کسی کے مردہ وجود پر سے تمام روشنیاں بند کردینے کی آواز۔۔ پھر سرد سے مردہ خانے میں مردوں کے درمیان اسٹریچر لا کر رکھنے کی آواز۔۔

”اور اگر آپ کو ولی کبھی نہ ملے۔ تو سمجھ لیجٸے گا کہ وہ کسی سرد مردہ خانے میں ہوگا۔۔“

۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *