Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 19) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

شادی کی تیاریاں دونوں حویلیوں میں خاموشی سے بڑھنے لگی تھیں۔ زمان کی طرف تو کسی قسم کے شادیانے اور ڈھول دھمال کا شاٸبہ تک نہ تھا لیکن بالکل دوسری جانب واقع حویلی میں اب کے ڈھولکی رکھی جانے لگی تھی۔ روز رات کو ان کی طرف سے شور ہنگاموں کی آوازیں سناٸ دیتیں تو اس جانب کو موجود لوگ کچھ اور اداس ہوجایا کرتے۔ یہ زندگی کا بہت عجیب سا رنگ تھا کہ جس میں غم اور خوشی کے درمیان معلق رہنے کی اذیت ہر شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔

امل نے ایسی ہی ایک رات میں کمرے کی ریلنگ کی جانب کھلتے دروازے کو وا کیا اور خاموشی سے سوندھی چلتی ہوا کو محسوس کرتی وہیں آ کھڑی ہوٸ۔ دور دور تک سبزہ زار پر بتیاں روشن تھیں اور ان روشنیوں میں نیچے کام کرتے ملازم دکھاٸ دے رہے تھے۔ سبزہ زار کی نۓ سرے سے کٹاٸ کی جارہی تھی اور اس کی تراش خراش کر کے اسے سجایا جانے لگا تھا۔۔

کیونکہ اب سب ہی جانتے تھے کہ اس کی شادی دور نہیں۔ ایک مہینہ تھا بس درمیان میں۔۔ اور اس ایک مہینے میں کرنے کو بہت سے کام تھے لیکن۔۔ کسی بھی کام کو چھونے تک کا دل نہیں کرتا تھا۔ دل جیسے ساری دنیا سے بیزار تھا۔۔ خفا تھا۔۔

اس نے سیاہ بالوں کو سمیٹ کر ایک جانب کندھے پر ڈالا اور پھر سینے پر ہاتھ باندھے دور آسمان کو دیکھے گٸ۔ اس کی ہر پل شرارت سے چکمتیں شہد رنگ آنکھیں اب اداسی کے گہرے ڈوروں سے جکڑی ہوٸ محسوس ہورہی تھیں۔۔ سارے وجود میں گویا کسی نے خاموشی کھنڈ دی تھی۔

”سب ٹھیک ہوجاۓ گا امل۔۔ جلد سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔“

خود کو تسلی دی۔ اسے خود کو تسلی دینی ہی تھی۔۔

”سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔“

اس نے گہرا سانس لے کر مسکرانے کی کوشش کی۔ اپنی ذات کو ایک چھوٹی سی خوشی تو وہ بھی دے سکتی تھی۔ اس سے محبت نہ کرنے کے ہر حربے میں ناکام ہونے کے بعد اس نے قبول کر ہی لیا تھا کہ دل کے فیصلوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوا کرتا۔۔ دلوں پر تو صرف اللہ کا اختیار ہوتا ہے۔ اس نے کتنی کوششیں کی تھیں اس سے نفرت کرنے کی۔۔ کتنی ہی دفعہ خود کے قدموں کو اس تک جاتے راستوں سے پھیرا تھا لیکن آخرکار۔۔ کسی خواب سے جاگنے کے بعد وہ اسی کے سامنے کھڑی ہوا کرتی تھی۔ اس سے بچنا چاہتی تھی لیکن بچ نہیں پاتی تھی۔۔

نہ چاہتے ہوۓ بھی آنکھوں میں پانی سا چمکنے لگا۔۔ اس کی نسواری آنکھوں کی جگمگاہٹ۔۔ سنجیدہ سے چہرے پر کبھی کبھار معصوم بچوں کی سی حیرت۔۔ اس کی کسی بات پر بے ساختہ امڈتی مسکراہٹ کو روکتا۔۔ دور سے ابرو اچکا کر پوچھتا۔۔ ”کیا ہوا۔۔؟“ ۔۔ خاموشی سے اسے دیکھ کر زیرِ لب مسکراتا۔۔ اس کے جھکے سر کو نرمی سے دیکھنے کی عادت۔۔!

کیا کوٸ تھا اس جیسا۔۔؟ کیا اس بھری دنیا میں کوٸ اس کے لیۓ ولی جیسا ہوسکتا تھا۔۔؟ وہ جو غصے میں آکر لوگوں کا منہ توڑ دیا کرتا تھا اس کے ساتھ سختی سے بات کرنا مشکل ہوتا تھا اس کے لیۓ۔۔ کیا کبھی نفیس ایسا ہوسکتا تھا۔۔؟ کیا کبھی نفیس اس کے ساتھ اتنی احتیاط کے ساتھ چل سکتا تھا۔۔ ولی تو اس کو نگاہ بھر کر دیکھتا تک نہ تھا کہ وہ جانتا تھا ۔۔ اس سے سہارنا مشکل ہوگا۔۔ نظروں پر اس قدر کڑے پہرے صرف ایک ولی ہی بٹھا سکتا تھا۔۔ اتنے بے اختیار اور منہ زور سے جذبے کو اس نے لگامیں ڈال کر رکھا تھا۔۔ اس بھری دنیا میں ولی احمد جیسا کوٸ تھا ہی کب۔۔؟؟

”میں آج آپ کو آخری بار یاد کررہی ہوں ولی۔ کیونکہ آج کے بعد میں آپ کو کبھی یاد نہیں کرونگی۔ آج کے بعد میں آپ سے کبھی کوٸ بات نہیں کرونگی ۔۔ آج کے بعد میں۔۔ “

ایک آنسو پھسلا۔۔

”میں آپ کے لیۓ کبھی نہیں روٶنگی۔ اب میں آپ کو یاد کر کے صرف مسکرایا کرونگی۔ میں آپ کو یاد کر کے صرف مسکرانا چاہتی ہوں ولی۔ میں آپ کو ایک اچھی یاد کے طور پر اپنے دل کے خانوں میں ہمیشہ کے لیۓ محفوظ کرنا چاہتی ہوں۔۔ اور میں ایسا ضرور کرونگی۔۔ اب بس بہت ہوگیا رونا دھونا۔۔“

اس نے ایک عزم کے ساتھ مسکرا کر آنسو صاف کیۓ۔

”آپ دیکھیۓ گا میں اپنی زندگی میں خوش رہنے کی بھرپور کوشش کرونگی۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرونگی ولی۔ آپ نے کہا تھا کہ میں اچھی بچی ہوں۔۔ میں بہت اچھی بن کر رہونگی اب۔ بہت رو لیا سب نے۔۔ اب بس۔ اب میں نہیں روٶنگی۔۔“

آنسو تیزی کے ساتھ گالوں پر پھسلتے جارہے تھے۔ کچھ چیزیں ہمیشہ انسان کے اختیار سے باہر ہی ہوتی ہیں۔

”میں اب کبھی نہیں روٶنگی۔۔“

ریلنگ کے ساتھ کھڑی لڑکی چہرے جھکاۓ رورہی تھی۔ اور روتے روتے شاید وہ کچھ کہہ بھی رہی تھی۔۔ اسے صرف ولی سن سکتا تھا۔۔ وہ نہ بھی کچھ بولتی تب بھی وہ اسے سن لیا کرتا تھا۔۔ شاید اب بھی وہ کہیں اسے سن رہا ہو۔۔ شاید اب بھی۔۔

ہوا سے اس کے بال ایک جانب کو اڑ رہے تھے اور گردن میں لڑھکتے آنسو اسی شدت کے ساتھ اسے بھگوتے اس پر چڑھی اداسی کو سمیٹ رہے تھے۔ ایک آنسو ہی تو تھے اس دنیا کی سب سے شفاف حقیقت۔۔ باقی سب تو دھول تھا۔۔ گرد سے اٹا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اگلا ڈیڑھ ہفتہ اسی خاموشی سے کٹ گیا۔ اس نے اپنی روٹین بدل لی تھی۔ اب وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا کرتی تھی۔ سب کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھی۔۔ دل نہیں بھی چاہ رہا ہوتا تو وہ بولا کرتی تھی۔ ہاں اب وہ بہت بولنے لگی تھی۔۔ بہت باتیں کرنے لگی تھی۔۔ بی جان اس کی جانب سے مطمٸن ہوگٸیں اور آغا جان جو اس کی خاموشی کی گہری چھاپ سے اب اکثر پریشان رہنے لگے تھے سکون میں آگۓ۔ وہ ٹھیک ہوگٸ تھی۔۔ سب کو لگتا تھا کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہوگٸ تھی۔۔ ہاں اس نے سب کو یہی یقین دلایا تھا۔۔ اس نے سب کو یہی دھوکا دیا تھا۔۔ لیکن اگر اس عرصے میں ولی اس کے آس پاس ہوتا تو وہ اسے کبھی بھی دھوکا نہیں دے سکتی تھی۔۔ جو آنکھوں میں جھانک کر روح تک کی بازگشت کو محسوس کر جاۓ۔۔ ایسے کسی انسان سے بچنا ذرا مشکل ہی تھا۔۔

ناشتے سے فراغت کے بعد وہ شازیہ اور بی جان کے ساتھ مارکیٹ چلی آٸ۔ کچھ ضروری شاپنگ کرنی تھی۔ واپسی پر آتے ہوۓ شازیہ نے اس کے لیۓ پارلر سے اپاٸنمنٹ بھی لے لیا تھا۔ اس نے بلا چوں چراں ہامی بھر لی۔ اسے اب کسی بات پر اعتراض نہیں ہوتا تھا۔۔ لیکن شازیہ کے رویے سے وہ بہت حیران ہوٸ تھی۔۔ وہ اب طنز بہت کم کرتی تھی۔۔ شاید باپ کی حالت کا اثر تھا کہ اب نہ وہ زیادہ اپنے کمرے سے نکلتی اور نہ ہی امینہ۔۔ اس نے بھی انہیں انہی کے حال پر چھوڑ دیا۔۔ اسے اب کسی بات سے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔ سب اس کے لیۓ اب ایک برابر ہوگیا تھا۔۔

اگلی شام کی چاۓ اس نے سبزہ زار پر لگواٸ اور پھر بی جان اور آغا جان کو لیۓ پرسکون سی شام میں آ بیٹھی۔۔ وہ دونوں باتیں کررہے تھے اور امل ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی نوک جھونک سن رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا اور دور کیاریوںں سے آتی تازہ پھولوں کی رسیلی سی خوشبو نے ساری شام گویا معطر کردی تھی۔ اس نے ایک پل کو چہرہ پیچھے کو موڑ کر دیکھا۔۔ ایک پل کے لیۓ سارے منظر بدل گۓ تھے۔ دور پتھریلی روش پر چلتے اونچے لمبے سے ولی کی شال نظر آٸ تھی اسے۔۔ وہ یک ٹک ادھر دیکھے گٸ۔۔ گردن کے گرد لپٹی شال کو درست کرتا کسی بات پر ناگواری سے سرنفی میں ہلاتا وہ آج بھی کہیں آس پاس ہی تو تھا۔۔ آغا جان کے بلانے پر وہ یکدم چونکی تھی۔۔ پھر رخ پھیر کر انہیں دیکھا۔۔

”کہاں گم ہو بچے۔۔؟“

اس نے مسکرا کر جلدی سے سر ہلایا تھا۔۔ ہلکے شربتی رنگ کی پلین لمبی قمیض کے نیچے سفید چوڑی دار پجامہ پہنے وہ اس سبزہ زار کا سب سے خوبصورت پھول لگ رہی تھی۔۔ خوبصورت، کومل لیکن اداس۔۔!

”ولی کب تک آۓ گا اسپتال سے زمان۔۔؟“

بی جان نے چاۓ کا کپ رکھتے ہوۓ ان سے پوچھا تو آسودہ سے سردار بابا نے ایک مطمٸن سی سانس خارج کی تھی۔۔

”بس تین چار دنوں میں ڈسچارج ہوجاۓ گا وہ۔۔ خدا کا شکر ہے کہ اس کے زخم جلد مندمل ہوگۓ۔ پتہ ہے۔۔ اس کے ڈاکٹر سے میں نے بات کی تھی۔ وہ خود بھی حیران تھا کہ کوٸ انسان اتنی تیزی کے ساتھ کیسے ریکور کرسکتا ہے۔ لیکن ولی کی قوتِ مدافعت بہت مضبوط ہے۔ اسی لیۓ وہ اتنی جلدی گھر واپس آرہا ہے۔۔“

”یا اللہ تیرا شکر۔۔“

بی جان بے ساختہ کہہ کر چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔ ان کی تو ساری مرادیں بر آٸ تھیں۔۔ امل نے بھی سکون کا سانس خارج کیا۔ وہ ٹھیک تھا۔۔ جلد واپس آنے والا تھا۔۔ اس احساس سے زیادہ اس کے لیۓ کچھ بھی قیمتی نہیں تھا۔۔

”میں سوچ رہا ہوں کہ جب وہ واپس آۓ گا تو گھر میں گاٶں والوں کی دعوت کریں گے۔ انہیں کھانا کھلاٸیں گے۔۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوٸ نہیں ہوسکتا۔۔“

”زمان میں بھی آپ کو یہی کہنے والی تھی۔ بس اب وہ آجاۓ تو ہم بھی اپنے ارمان نکال سکیں اس پر۔ اور اب آپ ذرا آنے دیں اسے۔ کسی اچھی سی لڑکی کو دیکھ کر شادی کردونگی اس کی۔ بہت ہوگیا بس۔ اب نہ کہہ کر تو دکھاۓ مجھے یہ جھلّا۔۔“

زمان یکدم ہنس پڑے تھے۔ وہ نہیں ہنس سکی۔

”بھٸ آپ کا لاڈلا ہے۔ جو کرنا ہے کریں اس کے ساتھ۔ میں تو اس معاملے میں آپ کا پورا پورا ساتھ دونگا۔ اب واقعی اس کی شادی ہوجانی چاہیۓ۔۔ کیوں امل۔۔؟“

انہوں نے ایک دم ہی اس سے پوچھا تو اس کے ہاتھ میں پکڑی چاۓ چھلک پڑی۔ گرم مایہ سے اس کی انگلیاں سلگنے لگی تھیں۔ مگر کچھ اور بھی تھا جو اس کے اندر سلگ رہا تھا۔۔ جس کی سوزش اس جسمانی سوزش سے زیادہ تھی۔۔

”جی بابا کیوں نہیں۔۔“

مسکرا کر کہا اور پھر وہاں سے اٹھ گٸ۔ آہستہ آہستہ سبزہ زار عبور کرتی داخلی دروازے کی جانب بڑھی تو دیکھا لاٶنج میں نوراں فون کریڈل سے اس طرف رکھ کر اسے ہی بلانے آرہی تھی۔۔

”وہ بی بی۔۔ سامیہ جی کا فون آیا ہے آپ کے لیۓ۔۔“

”ٹھیک ہے تم جاٶ میں دیکھتی ہوں۔۔“

اس نے مسکرا کر گہرا سانس لیا اور فون کی جانب بڑھ آٸ۔۔ اگلے آدھے گھنٹے میں وہ بی جان کے سامنے کھڑی تھی۔۔

”میں کل سامیہ کے گھر جانا چاہتی ہوں بی جان۔۔“

”سامیہ۔۔ ارے تو اسے یہاں بلوا لو ناں۔۔“

بی جان اپنے کمرے میں جاۓ نماز پر بیٹھیں تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں۔۔

”بی جان میں خود جانا چاہتی ہوں۔ اس کا گھر بھی دیکھ لونگی اور تھوڑا چینج بھی ہوجاۓ گا۔۔ کوٸ مسٸلہ تو نہیں ناں۔۔ چلی جاٶں میں۔۔؟“

”اچھا اچھا۔۔ چلی جانا۔۔ لیکن اکیلے نہیں۔۔ نوراں کو ساتھ لیتی جانا اپنے۔ یوں اکیلے جاٶ گی تو آغا جان غصہ ہونگے۔۔“

”اوکے۔۔“

اس نے کندھے اچکا دیۓ۔ اسے نوراں سے کوٸ مسٸلہ نہیں تھا۔ کمرے میں واپس آ کر وہ خود کو پھر سے بہت بوجھل محسوس کرنے لگی تھی۔ پھر سر جھٹک کر وارڈروب کی جانب چلی آٸ۔ کل اسے بہت فریش لگنا ہے۔۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں ہونا چاہیۓ کہ وہ کس سے گزر رہی ہے۔۔ وہ کسی کے بھی سامنے اب کے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ ایک فیصلہ اگر کر ہی لیا تھا تو اسے آخر تک نبھانا چاہیۓ تھا۔۔

اس نے وارڈروب کا پٹ کھولا اور پھر اپنا پسندیدہ فراک نکال لاٸ۔۔ وہ سادہ سا آف واٸٹ رنگ کا فراک تھا۔ ایسا رنگ جو اس پر بہت کھلتا تھا۔۔ بہت جچتا تھا۔۔

اس نے ایک پل کو اسے دیکھا اور پھر اسے بیڈ پر پھیلا کر سنگھار آٸینے کے سامنے آکھڑی ہوٸ۔ چٹیا میں گوندھے بالوں کو اب وہ کھول کر سوچتی نگاہوں سے خود کے عکس کو دیکھ رہی تھی۔۔ عکس جو آٸینے میں دکھتا تھا۔۔ ایک سا۔۔ مگر ایک جانب سے الٹا۔۔

۔۔۔۔۔۔

اصغر نے اسکے ساتھ ہی ناشتہ کیا اور پھر کسی ضروری کام کا کہہ کر وہ باہر کی جانب بڑھ گیا۔ رات ہی اسے بتایا گیا تھا کہ وہ تین چار دن بعد ڈسچارج کردیا جاۓ گا لیکن اس سے پہلے اسے ہاسپٹل میں ہی رہنا تھا۔ اس نے سخت کبیدہ خاطر ہو کر سر بیڈ کی پشت سے ٹکایا اور خاموشی سے اسپتال کی چھت کو یکھے گیا۔۔

امل بھی ناشتے سے فارغ ہو کر تیار ہونے چلی گٸ تھی۔ آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے سے باہر نکلی تو گھڑی ساڑھے نو بجا رہی تھی۔ اس نے سیاہ چادر خود کے گرد لپیٹی اور کچن میں بی جان کو خدا حافظ کرنے چلی آٸ۔۔ پھر نوراں کو ساتھ لیۓ سبزہ زار پار کر کے گاڑی میں آبیٹھی۔ صبح کی دھلی دھلاٸ سی دھوپ میں وہ دمک رہی تھی۔ آف واٸٹ رنگ کا لباس پہنے اس کا روپ کسی اپسرا کا عکس لگتا تھا۔۔

کچھ دیر بعد ڈراٸیور نے گاڑی آگے بڑھادی تو وہ گزرے لمحوں کے سحر میں کھوٸ پیچھے کو بھاگتے سرسوں کے کھیتوں کو دیکھے گٸ۔۔ ہر چیز پر اس کا نشان ثبت تھا۔۔ یاد نہ بھی کرنا چاہتی تب بھی وہ تھا کہ ہر جگہ سے اپنے ہونے کا احساس دلایا کرتا تھا۔۔

اس نے گہرا سانس لے کر چہرہ اندر کی جانب موڑا تھا۔

ہاشم نے اپنے آفس میں قدم رکھا۔۔ آج قریباً پچیس دن بعد وہ اس آفس میں داخل ہورہا تھا کیونکہ اس کے زخموں نے اسے یہاں تک آنے کی مہلت ہی نہیں دی تھی۔ اب بھی اس کے چہرے پر مندمل زخموں کے نشانات موجود تھے مگر وہ خود پہلے سے کافی بہتر محسوس کررہا تھا۔۔ آفس اپنی درست حالت پر واپس آچکا تھا۔۔ وہ چلتا ہوا ٹیبل کے پیچھے لگی کرسی پر آ بیٹھا اور پھر ہاتھ میں پکڑے فون کو کان سے لگایا۔۔

”جوگی۔۔ تمہارا انعام انتظار کررہا ہے تمہارا۔۔ اب اس کام میں دیر نہیں ہونی چاہیۓ۔۔“

”جی سرکار۔۔ جو حکم آپ کا۔۔“

اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ فون کان سے ہٹا کر سامنے ٹیبل پر رکھا اور گھڑی کی ٹک ٹک کو خاموشی سے سنے گیا۔۔ کسی کی آہوں کا۔۔ بدنامی اور بے عزتی کا سیلاب تھا ان گزرتی ساعتوں کے پرے۔۔

کچے راستوں پر دوڑتی ان کی گاڑی کو یکدم غیر معمولی سا بریک لگا تو امل جھٹکے سے آگے ہوٸ۔۔ ایک نظر ڈراٸیور پر ڈالی۔ اسے اس کے ناقابلِ فہم تاثرات سمجھ نہیں آۓ۔۔

”کیا ہوا۔۔؟ گاڑی کیوں روک دی۔۔؟“

اسےاس ڈراٸیور کا نام یاد نہیں تھا کیونکہ وہ اس کے ساتھ بہت کم آیا جایا کرتی تھی۔ اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ فرید کا کچھ لگتا تھا۔۔

”ایک کام ہے بی بی جی مجھے آپ سے۔۔“

اس نے مشینی سی آواز میں کہا تو امل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔

”کیسا کام۔۔؟“

اور ایک دم اس کے گردن موڑ کر دیکھنے پر وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ اس کی آنکھیں بے حد سرخ تھیں اور چہرہ ہر جذبے سے عاری۔۔ اس کا دل عجیب خوفزدہ ہو کر دھڑکا تھا۔۔

”ک۔۔ کیسا کام ہے تمہیں۔۔“

اس نے سیٹ کو مٹھی میں بھینچا۔۔ کچھ غلط ہورہا تھا۔۔ نوراں بھی اتنی ہی بوکھلاٸ ہوٸ بیٹھی تھی۔۔ وہ آگے سے اتر کر آیا۔۔ پیچھے کا نوراں کی طرف والا دروازہ کھولا اور اسے کیھنچ کر باہر کی جانب پھینک دیا۔ امل پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”یہ۔۔ یہ تم کیا کررہے ہو۔۔؟ کس کے آدمی ہو تم۔۔ “

اس کی پھٹی پھٹی نگاہوں کے سامنے گاٶں کا سنسان پڑا راستہ گھومنے لگا تھا۔۔ لیکن وہ نہیں سن رہا تھا۔ گھوم کر اس کی جانب آیا تو وہ بے اختیار پیچھے کو ہٹی۔۔ اس نے اپنا سر اندر کو جھکایا اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا۔ وہ ہذیانی انداز میں خود کو چھڑانے لگی تھی۔۔ نوراں سڑک پر ہی پڑی رہی۔۔ اس کے گھٹنے اور ہاتھ پر شدید چوٹیں آٸ تھیں۔ اس سے اٹھنا محال تھا لیکن پھر بھی وہ چلا چلا کر رورہی تھی۔۔ کوٸ تو آجاۓ بی بی کی مدد کو۔

کرخت سے آدمی نے اس کے دونوں ہاتھوں کو رسی میں جکڑا لیکن اس کی مستقل چیخوں اور مذاہمت سے رسی بار بار کھل رہی تھی۔ یکدم طیش میں آ کر اس نے بھاری ہاتھ کا تھپڑ امل کے منہ پر رکھ کر مارا تو اس کا چہرہ پل بھر کو گھوم کر رہ گیا۔ کومل رخسار اس قدر بے دردی پر سرخ پڑ گیا تھا۔۔

نوراں جیسے تیسے کر کے گھوم کر اس جانب آٸ اور اس آدمی کو پیچھے کی جانب کھینچا لیکن اس نے اسے زور دار دھکا دیا تو وہ دور جا گری۔ اس کے ہاتھ پر خراش آٸ تھی اور پاٶں مڑ گیا تھا۔ وہ درد کے باعث سڑک پر لوٹنے لگی تھی۔ امل نے اسے پرے دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ طاقت ور آدمی تھا۔۔ اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ اس کے نازک ہاتھوں کو رسی سے جکڑ کے اس نے جیب سے کچھ نکالا اور پھر ایک لمحے کی بھی دیر کیۓ بغیر اس کے منہ پر سفید رومال رکھ کر دبایا۔۔ امل کے نتھنوں سے عجیب سی بُو ٹکراٸ تھی۔۔ اور پھر جیسے جیسے وہ بُو اس کے دماغی خلیوں میں اترنے لگی اس کی آنکھیں بند ہوگٸیں۔ وہ بے ہوش ہوٸ تو اس نے اسکے منہ پر ڈکٹ ٹیپ لگایا ۔۔۔ وہ جھول کر سیٹ پر گر گٸ تھی۔ اس نے پیچھے کو ہو کر دروازہ بند کیا اور پھر نوراں کو پیر سے پرے دھکیل کر فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھا۔۔

”نہیں۔۔ نہیں خدا کے لیۓ۔۔ بی بی کو چھوڑ دے۔۔ خدا کے لیۓ۔۔ رحم کرو۔۔ بی بی جی کو چھوڑ دو۔“

وہ روتے روتے بمشکل اٹھ کر بیٹھی ۔۔ اٹھنے لگی تھی کہ وہ کار تیزی سے آگے بھگا لے گیا۔۔

”بی بی۔۔ بی بی جی۔۔“

وہ چلاتے ہوۓ لڑکھڑا کر کار کے پیچھے بھاگی لیکن پھر یکدم ہی گر پڑی۔۔ اس کے پیر میں بے تحاشہ درد ہورہا تھا لیکن وہ گاڑی نہیں رک رہی تھی۔ کچے انجان، اجنبی راستوں پر گاڑی آگے ہی آگے دوڑتی جارہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

شام چار بجے تک جب امل کی واپسی نہ ہوٸ تو بی جان نے پریشانی سے دروازے کی آگے ٹہلنا شروع کردیا۔ وہ تو ویسے بھی دیر ہونے پر بہت پریشان ہوجایا کرتی تھیں۔ اور یہاں تو امل نے انہیں فون کر کے بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ بخیریت پہنچ گٸ ہے۔ کچھ تھا جو بی جان کو بہت زیادہ بے چین کررہا تھا۔ یکدم لاٶنج میں رکھے فون کی گھنٹی بجی تو انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر فون اٹھایا۔۔ اور آگے سے جو سامیہ نے کہا اس پر بی جان کے ہاتھ سے فون یکدم چھوٹ کر گرا تھا۔۔

زمان جو اسی وقت زینوں سے اتررہے تھے زمانی کے ہاتھ سے چھوٹتا فون دیکھ کر چونکے۔۔

”کیا ہوا ہے زمانی۔۔؟“

بی جان نے اپنا سفید چہرہ اور کانپتا وجود ان کی جانب پھیرا تو وہ گھبرا کر نیچے اترے۔۔ انہیں دونوں کندھوں سے تھام کر ٹھیک سے کھڑا کیا۔۔

”کیا ہوا ہے زمانی۔۔؟ کس کا فون تھا۔۔؟“

”زز۔۔ زمان۔۔ سامیہ کا فون تھا۔۔ وہ کہہ رہی تھی کہ امل اس کے گھر نہیں پہنچی۔۔ وہ دوپہر سے اس کا انتظار کررہی ہے۔۔“

ان کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے اور دل بے حد تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔ ایک جما دینے والا خوف تھا جس نے زمان کو پل بھر کے لیۓ شل سا کردیا۔۔

”کیا۔۔؟!!“

انہوں نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا لیکن شاید لاٸن ڈسکنکٹ ہوگٸ تھی۔ جلدی سے موباٸل نکال کر انہوں نے ڈراٸیور کو فون کیا لیکن اس کا فون بند تھا۔ اب تو ان کے اپنے ہاتھ پیر بھی کانپنے لگے تھے۔ یکدم وہ باہر کی جانب بڑھے تو زمانی نے دھڑا دھڑ بختیار کے کمرے کا دروازہ بجایا۔۔ نثار تو امینہ کے ساتھ شہر گیا ہوا تھا اور شازیہ صبح ہی سے نگار کے پاس تھی۔۔ اس وقت گھر میں چند ملازمین کے علاوہ صرف بختیار ہی تھا۔۔

ان کے ایسے دروازہ بجانے پر وہ گھبرا کر باہر نکلا تو بی جان کے کانپتے وجود کو بے اختیار سنبھالا۔۔

”کیا ہوا ہے بی جان ۔۔؟ کیا ہوگیا ہے۔۔؟“

”بختیار امل۔۔ امل سامیہ کے گھر نہیں پہنچی۔۔ وہ دوپہر سے غاٸب ہے بختیار۔۔ میری امل ٹھیک نہیں ہے۔۔“

بختیار نے بے یقینی سے انہیں دیکھا اور پھر ماٶف ہوتے ذہن کے ساتھ انہیں لا کر صوفے پر بٹھایا۔ بی جان کی حالت بہت خراب ہورہی تھی۔۔

کچھ سمجھ نہ آنے پر وہ بھی باہر کی جانب دوڑا تھا۔۔ سفید حویلی کے در و دیوار تک میں خوف کی سنسناہٹ محسوس کی جاسکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

نواز آج ایک بار پھر اسپتال کے کاریڈور میں تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ لیکن اس بار اس کے چہرے پر خوف سے ہواٸیاں اڑ رہی تھیں اور سانس بے طرح پھولا ہوا تھا۔ اس نے دھاڑ سے اس کے روم کا دروازہ کھولا تو وہ جو بیڈ پر بیٹھا ہوا اپنا موباٸل چارجر سے اٹیچ کررہا تھا، یکدم چونک کر سر اٹھایا۔۔

دروازے میں ہانپتے کانپتے نواز کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

”کیا ہوا ہے نواز۔۔؟“

اس نے وہیں سے بیٹھے بیٹھے پوچھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سوٸیاں اب تک لگی تھیں۔۔ نواز دروازہ بند کرتا اندر آیا اور پھر ہذیانی سے پھولے سانس کو بحال کرنے لگا۔۔ اسے ولی کو بتانا ہی تھا۔ کیونکہ ایک ولی ہی تھا جو امل کو ڈھونڈ سکتا تھا۔۔ ہاں ایک وہی تو یہ کام کرسکتا تھا۔۔

”میں کچھ پوچھ رہا ہوں نواز۔۔ “

اس نے بلند آواز سے ڈانٹا تو وہ بے اختیار اس کے قریب آیا۔ اس نے موباٸل ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور اب کہ پوری طرح اس کی جانب گھوما۔۔

”امل بی بی۔۔ اغواء ہوگٸ ہیں ولی سر۔۔“

کمرے میں ایک پل کو سناٹا چھا گیا تھا۔ ولی کے لب بے یقینی سے وا تھے اور ایک سیکنڈ کو اس کا وجود شل سا ہوگیا تھا۔ ساٸیں ساٸیں چہرہ لیۓ وہ اگلے چند لمحوں کے لیۓ نواز کو دیکھے گیا اور پھر ایک دم ہاتھ سے سوٸیاں نوچتا اٹھا۔ نواز نے تحیر سے اسے دیکھا تھا۔۔

”آپ۔۔ آپ کہاں جارہے ہیں۔۔؟“

”دروازے پر کھڑے رہو۔ کسی کو اندر آنے نہیں دینا۔ میں چینج کر کے آتا ہوں اور ہاں اپنی گاڑی کی چابی دو مجھے تم۔۔“

اس نے صوفے پر رکھے شاپنگ بیگز میں سے ایک جھپٹا اور یکدم واش روم کی جانب بھاگا۔ اسپتال کا گاٶن بدل کر اس نے اصغر کے لاۓ کپڑوں میں سے ایک جینز، سیاہ ٹی شرٹ پر سیاہ ہی جیکٹ پہنی اور باہر نکلا۔۔ موباٸل چارجر سے کھینچا اور جیسے ہی باہر کی جانب بڑھنے لگا ایک پل کو رک گیا۔۔

نواز بھی اس کے ساتھ ہی باہر نکلنے لگا تھا اسے رکتا دیکھ کر خود بھی رک گیا۔۔

”اپنا مفلر دو مجھے نواز۔۔“

نواز کے گلے میں ہمیشہ ایک خاص قسم کا سیاہ مفلر ہوا کرتا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنی گردن سے مفلر اتار کر اسے دیا۔۔

”باہر نکل کر کھڑے ہوجاٶ۔۔ دیکھو کوٸ اس طرف نہ آنے پاۓ اور ہاں میں جیسے ہی باہر نکلوں فوراً میرے ساتھ تم بھی نکلنا۔“

اس نے مفلر کو چہرے کے گرد لپیٹا ایسے کہ آنکھوں کے نیچے سے اس نے اپنا سارا چہرہ ڈھک لیا تھا۔ کمزوری کے باعث بے ساختہ اسے چکر آۓ تھے۔ سر کے پچھلے حصے میں ذہنی دباٶ کے باعث اٹھتا ایک خوفناک درد اور کندھے کے زخم میں بے تحاشہ اٹھتی درد کی ٹیسیں۔۔ سارا ہاسپٹل اس کے سر پر گول گول گھومنے لگا تھا۔ اس نے پرواہ کیۓ بغیر قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔ بھاگنے سے اس کے پیٹ پر آۓ زخم میں شدید کھنچاٶ ہونے لگا تھا۔ تکلیف سی تکلیف تھی۔۔ اذیت سی اذیت تھی۔

نواز بھی اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا تھا۔ دفعتاً اس کے ساتھ سے اصغر گزرا تھا۔ ولی نے اسے نہیں دیکھا لیکن اس نے ولی کو دیکھ لیا تھا اور اس مفلر میں بھی وہ اس کی آنکھوں کو پہچان گیا تھا۔ اسے ایسے دوڑتے ہوۓ دیکھ کر اسے جھٹکا لگا اور جتنی دیر میں وہ اسے آواز دیتا مڑا وہ اسپتال کا کاریڈور پارکر چکا تھا۔ اس نے بھی اس کے پیچھے اپنے قدم پھیرے۔۔

وہ اور نواز گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی زن سے آگے لے گۓ تو اصغر بھی اپنی کار کی جانب آیا اور اسی تیزی کے ساتھ گاڑی ان کے پیچھے دوڑاٸ۔۔

”آپ نے یکدم ظفر کو کیوں انکار کردیا ہاشم سرکار۔۔؟ سردار پور والا ڈیرہ تو راجا نے بالکل تیار رکھا ہوا تھا۔۔“

شہیر کی بات سن کر نیم تاریکی میں آفس کی کرسی پر جھولتا ہاشم مسکرایا تھا۔۔

”گیم چینج شہیر۔۔ پہلے میں ولی کو صرف اذیت دینا چاہتا تھا لیکن اب۔۔“

اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر شہیر کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی تھی۔۔

”اب میں اسے اس لڑکی کی لاش دکھا کر پاگل کرنا چاہتا ہوں۔ میں اسے ذہنی مریض بنانا چاہتا ہوں شہیر۔ اور تم دیکھنا۔۔ ایک دن وہ انتقام انتقام کھیلتا کسی پاگل خانے کے تاریک سیل میں ہوگا۔۔“

”گاڑی تیز چلاٶ نواز۔۔“

وہ اس پر دھاڑا تو نواز کے پاٶں کا دباٶ ایکسلریٹر پر بڑھ گیا۔ ولی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کیسے ڈھونڈے گا۔۔؟ پولیس۔۔ اسے پولیس کی مدد چاہیۓ تھے لیکن اگر اس سب میں پولیس انوالو ہوجاتی تو امل کی بدنامی یقینی تھی۔۔ نہیں۔۔ وہ اسے لوگوں کے ظالم سوالوں کے حوالے نہیں کرسکتا تھا۔۔ اسے کچھ اور سوچنا تھا۔۔ جلد از جلد کچھ سوچنا تھا۔۔ کندھے میں تکلیف برداشت سے باہر ہونے لگی تھی۔ اس کے ہونٹ تکلیف سے سفید پڑنے لگے۔ سر چکرانے لگا مگر ابھی اسے خود کو گرنے نہیں دینا تھا۔۔ دھندلی ہوتی بصارت اور سر کے اندر اٹھتے درد سے اس کا ذہن ماٶف ہوا جارہا تھا۔۔

ان کی کار کے عین پیچھے اپنی گاڑی دوڑاتا اصغر یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ولی۔۔۔ اور وہ بھی اتنی جلدی میں کہاں جارہا ہے۔۔ اس نے بھی ان کی رفتار کے ساتھ خود کی رفتار بڑھا دی تھی۔۔

سڑک پر تیزی سے دوڑتی دو گاڑیاں آگے پیچھے تھیں۔ حویلی میں موت کا سا سناٹا تھا۔ زمان اور بختیار کو کچھ سجھاٸ نہ دیتا تھا کہ کیا۔۔ کیا جانا چاہیۓ اور کیا نہیں۔۔ لیکن انہوں سب نوکروں کو سرونٹ کوارٹر بھیج دیا تھا اور زمانی سے کہا تھا کہ کسی سے اس بارے میں تذکرہ نہ کریں۔ وہ پہلے اپنی سی کوششیں کرکے اسے ڈھونڈیں گے اور اگر وہ نہ ملی تو۔۔ ہاں پھر انہیں پولیس میں رپورٹ کروانی ہی ہوگی۔۔

یکدم زمان کا فون بجا۔ انہوں فون کان سے لگایا تو دوسری جانب ولی کی آواز سن کر بے ساختہ اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔

”سردار بابا پولیس میں رپورٹ مت کرواٸیے گا اور گھر کے ملازمین کو بھی اپنے اپنے گھروں کو بھیج دیں۔ میں لا رہا ہوں امل بی بی کو۔۔ کچھ نہیں ہوگا وہ مل جاٸیں گی ہمیں۔۔“

”لیکن ولی تم۔۔“

کال کٹ گٸ۔۔ ولی بہت جلدی میں تھا۔۔ ولی کا نام سن کر بی جان اور بختیار بھی اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ سردار بابا نے انہیں دیکھا اور پھر صبر کا دامن تھام کر چکر کاٹنے لگے۔۔ انہیں ولی پر بھروسہ کرنا ہی تھا۔۔ کیونکہ وہ جانتے تھے۔۔ کہ اگر کوٸ امل کو لاسکتا تھا تو وہ ولی ہی تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *