Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

نیویارک میں ہی یہ ایک قدرے غیر گنجان آباد علاقہ تھا جس میں آس پاس گھنے درختوں کے بیچ بیچ وہ ایک پراسرار سا ڈارک ہاؤس تھا۔ جس میں اس وقت کافی سناٹے کا عالم تھا۔
بس ایک کمرے میں بیڈ پر نڈھال سا اوندھے منہ لیٹا کنگ ویام اپنی سرخ انگارا آنکھوں سے تکلیف برداشت کرنے کی تگ ودو میں ہلکان ہو رہا تھا۔ ایک مرتبہ پھر راج اور اس سے جڑا وہ ایک وجود اس کے لئے شدید تکلیف کا باعث ہی بنا تھا۔

وہ اسے لئے براؤن سٹون پیلس چلا تو گیا تھا مگر راج نے کچھ ایسا جادوئی حصار کھینچا تھا کہ اگر راج اور وشہ کے علاوہ کوئی غیر ماورائی وجود یا مخلوق اس حصار میں داخل ہوتی تو وہ جل کر بھسم ہو سکتی تھی۔ وہ تو اس کی بانہوں میں ماہا ویرا تھی تبھی اسے اتنا نقصان نہیں پہنچا تھا۔ پر اگر وہ اور زیادہ وہاں رکتا تو اس کے وجود سمیت اس کے سارے پر جل جاتے۔ تبھی وہ تیزی سے وہاں سے نکل آیا تھا۔

مگر اب شدید تکلیف میں وہ تڑپ رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا جسم جھلس رہا ہے۔ پہرے دار اور خدمت گار پریاں اس کے آس پاس موجود تھیں۔ اور اب اس کے زخموں پر جادوئی لیپ لگایا جا رہا تھا۔ تبھی وہاں ایک روشنی کا جھماکا ہوا اور فیری گارڈین ایمی آئی۔ جھک کر اپنے کنگ کی تعظیم کی۔

“تو ایک مرتبہ پھر راج اور اس کے خاندان نے ہمارے کنگ کو اتنی تکلیف پہنچائی،، ایمی کا لہجہ نفرت انگیز تھا۔
مجھے اس مسئلے کا کوئی حل چاہیے،، لیپ کا باؤل اٹھا کر دیوار پر مار دیا گیا تھا۔ ویام نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔

میں اسی جادو کا توڑ لے کر ہی حاضر ہوئی ہوں اپنے کنگ کے پاس،، ایمی کی نے ایک پراسرار مسکراہٹ لیے کہا۔ جیسے وہ کسی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہو۔
وہ کیا؟ مجھے جاننا ہے،، جلدی بتاؤ،، کنگ ویام تکلیف کے باوجود فورا سیدھا ہوا۔

وہ یہ کہ اگر پرنسز خود اپنے ہاتھوں سے آپ کو تھام کر اس پیلس کے اندر لے جائے تو اس جادو کا اثر ٹوٹ جائے گا اور آپ پر یہ جادو اثر انداز نہیں ہوگا،،
ایمی نے کہا۔
اونہہہہہہہہ،،، کنگ ویام نے ایک طویل ہنکارا بھرا اور کچھ سوچ کر آنکھیں چمک اٹھیں۔ تبھی ایک پل میں چہرے پر کرختگی اور نفرت چھائی تھی۔

خدمتگارو،،،،، اس بلیک ہاؤس کو ایک سیاہ، تاریک، بھیانک اور دردناک عذاب خانہ بنا دو،، کیونکہ بہت جلد اس میں ایک مجرم اپنے ماں باپ کا کیا بھگتنے آ رہی ہے،،
وہ بول کر اپنی تکلیف درد کی بھی پرواہ کیے بغیر اٹھا۔ اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش کافی انہماک سے اپنی نوٹ بک پر جھکی تھی۔ اس کا ماتھا پسینے سے تر تھا۔ وقتاً فوقتاً کھڑی میں بیٹھے اس خبیبث کوے کو بھی دیکھ لیتی۔ چور کی دھاڑی میں تنکے کے مترادف کہ کہیں وہ خبیث مخلوق جو کہ کوے کی شکل اختیار کیے بیٹھی تھی دیکھ نا لے کہ وہ اس وقت کیا لکھ رہی ہے اج اماوس کی سیاہ رات تھی۔ اور سنجنا کو موت کا بلاوا دیا جانا تھا۔ مگر وہ اسے ہر قیمت پر بچانا چاہتی تھی تبھی جیک کے لئے ایک ضروری نوٹ لکھ رہی تھی۔ کیونکہ اس کی آنکھوں میں اسے سچائی دکھائی دی تھی۔

جب اپنے پیچھے ایک عجیب سی آہٹ محسوس ہوئی۔ بہت عجیب۔ اس نے بہت تیزی سے التا سیدھا کر کے اپنا نقاب پہنا تھا۔
اوشن کنگ جو بہت خاموشی سے اندر داخل ہوا تھا اب یہ دیکھ کر بھی حیران ہوا تھا کہ اگر وہ کوئی معمولی انسان ہے تو اسے اس کی موجودگی کی کیسے خبر ہو گئی۔
ایک ہوا کا جھونکا اپنے پیچھے محسوس ہوا۔
مایا وش جھٹکے سے پلٹی۔ وہ ایک نیلی آنکھوں والا لڑکا تھا جو منہ پر رومال باندھے کھڑا اسے عجیب سی نظروں سے تقریباً گھور رہا تھا۔

ہو آر یو،، آخر کون ہو تم،، تمھارے پاؤن چین سے کیوں بندھے ہیں،، کنگ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب تر ہوا۔ مایا وش نے بے اختیار ہی اپنے قدم پیچھے لیے۔
دد،، دور رہو مجھ سے،، کوئی چین نہیں میرے پیروں میں تت،،، تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،، جاؤ یہاں سے،،
مایا وش نے حتی الامکان اپنا لہجہ مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ مگر گھبراہٹ اتنی تھی کہ لہجہ لڑکھڑا ہی گیا۔ آج تک کبھی ایسی صورت حال پیش جو نہیں آئی تھی۔ کہ وہ چینز جو صرف اسے دکھائی دیتی ہیں کوئی اور انھیں دیکھتا اور اس سے باز پرس بھی کرتا ان کے بارے میں۔

نو ،،،،،یہ آواز چبھتی ہے کانوں کو،، ڈسٹرب کرتی ہے،، اور آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا،، وہ بات کرتے کرتے اس سے ایک قدم کے فاصلے تک آن پہنچا تھا۔ کھڑکی میں بیٹھا وہ کوا اب کائیں کائیں کرنے لگا تھا۔ اوشن کنگ نے ناگواریت سے اس کوے کو گھورا۔ جبکہ مایا وش کی خوف کے مارے جان لبوں پر آ رہی تھی کیونکہ اگر اس کے سامنے کوئی عام انسان تھا تو وہ یقینا دردناک موت مرنے والا تھا۔ کیونکہ کائلہ کا یہ چیلا اسے باہر نکلتے ہی مایا وش سے بات کرنے کی پاداش میں پراسرار موت مارنے والا تھا۔

اوشن کنگ مایا وش کے سامنے آیا تھا ایسے کہ اب مایا وش اس کوے کو نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ تبھی کنگ نے اپنی کمر پر بندھے ہاتھوں سے کچھ اشارہ کیا تھا۔ پھر سٹاف روم کا کھڑکی کے پاس سے فرش، پانی کی طرح لہرانے لگا تھا۔ اور اس پانی میں سے ایک تیز دھار دانتوں والی غصیلی شارک جھٹکے سے نمودار ہوئی تھی۔ کوے کا سر دانتوں میں دبوچا اور واپس زمین میں چلی گئی۔
کوے کا دھڑ بے جان ہو کر سٹاف روم سے کھڑکی کے باہر جا گرا تھا۔

اس کی کائیں کائیں اوشن کنگ کو ناگوار گزر رہی تھیں تو اس ہمیشہ کے لئے خاموش کروا دیا گیا تھا۔
مایا وش اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ پیچھے ہوئی کاروائی کا تو پتہ ہی نا چلا۔

کون ہو تم بتاؤ مجھے،، کنگ نے رعب دار آواز میں پوچھا۔
کوئی نہیں جانے دو مجھے،، مایا وش اس کوے کی جانب دیکھنا چاہتی تھی۔ مگر دیکھ نا پائی۔
بہت آچانک کنگ نے اس کا گاؤن تھام کر اوپر اٹھایا تھا۔ دودھیا گلابی پاؤں سیاہ چین سے بندھے تھے۔
یہ کیا ہے،،؟ اوشن کنگ نے جھنجھلا کر پوچھا۔
تم سے مطلب،، مایا وش تڑخ کر بولی اور جھٹکے سے اپنا گاؤن چھڑوایا۔
وہ بغور اسے دیکھتا اس کے قریب تر چلا آیا تھا۔ جبکہ مایا وش دیوار سے لگ چکی تھی۔
ایک عجیب سی کشش تھی جو وہ یوں اس کے قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔ بلکل الگ احساسات تھے۔ عجیب سی بے چینی۔ بے کلی۔

چہرہ دکھاؤ اپنا،، بھاری آواز کی سرگوشی نے مایا وش کے چودہ طبق روشن کیے تھے۔
اور وہ کیوں،، مایا وش نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پا لیا تھا تبھی اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ان آنکھوں کو صدیوں سے جانتی تھی۔

ویسے ہی میرا دل چاہ رہا ہے تمھارا چہرہ دیکھنے کو،، اوشن کنگ نے لاپروائی سے کہا۔
اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ محض تمھارے کہنے پر میں تمھیں اپنا چہرہ دکھا دوں گی،، مایا وش نے کہا تھا اور سامنے والا بھی نقاب کے پیچھے گہرا مسکرایا تھا۔

نہیں دکھاؤ گی،،؟ کنگ نے پوچھا۔ جیسے سالہا سال بعد یہ میٹھی اور سریلی آواز سن کر برسوں سے جو درد اور تکلیفیں برداشت کرتا آ رہا تھا اس کا مداوا کیا جا رہا تھا۔

نہیں،، مایا وش نے غصے سے کہا۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں کے درمیان بل پڑے تھے جو سامنے والے کو مزا دے گئے تھے۔
زبردستی دیکھ لوں گا،، اوشن کنگ نے اس کے سکارف کو تھاما اور جھٹکے سے اسے مزید قریب کیا۔ اب وہ اتنے قریب تھے کہ گویا ناک سے ناک جڑنے میں ایک انچ کا فاصلہ ہو۔ جبکہ مایا وش اس کی اس دیدہ دلیری پر پٹھی پھٹی آنکھوں سے اسے حیرت سے دیکھے گئی۔

دھڑکنیں جیسے جامد ہو کر سینوں میں تھم سی گئییں تھیں۔

مایا وش نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ ایک سپارک سا تھا جو اوشن کنگ کے تن بدن میں دوڑ گیا تھا۔ مایا وش نے جھٹکے سے اپنا سکارف چھڑایا اور اپنا سامان اٹھا کر وہاں سے بھاگ آئی۔ بار نکلی تو سر کٹا مرا ہوا کوا دیکھ اس کا پورا جسم لرز گیا تھا۔ اسی لئے کائلہ کے ہاتھوں اپنا حشر سوچ کر وہ اپنی فل رفتار سے وہاں سے بھاگی۔

ادھر اوشن کنگ نے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ مگر پھر پر پھڑپھڑانے کی آواز سن کر دوسری ونڈو کی جانب دیکھا۔
وہ بھی ایک کوا تھا مگر پہلے کوے کا حشر دیکھ کر اس نے یقینا کائیں کائیں کر کے اوشن کنگ کو ڈسٹرب کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔
Smart Crow,,,,,

مجھے اس لڑکی کے بارے میں اور جاننا ہوگا۔ یہ معمولی انسان نہیں، جس کے چھونے سے اوشن کنگ جھٹکا کھا جائے وہ معمولی انسان ہو ہی نہیں سکتی۔ کیسے پتا لگاؤں؟ کیسے پتا لگاؤں؟
ہممممم،، رائٹ۔ برتھ ڈے پارٹی پر۔

وہ کہتا پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہاں سے نکلا۔ یہ جانے بغیر کے اس مصیبتوں میں گھری چھوٹی سی جان کے لئے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر چکا ہے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ اندھا دھند سب کچھ چھوڑ چھاڑ کالج کے بیرونی گیٹ کی جانب بھاگی تھی۔ جب بری طرح کسی سے ٹکرائی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو وہ رنجنا تھی۔
مایا وش جان بوجھ کر اس سے پھر بری طرح لپٹی۔ اور اپنے اور اس کے درمیان ہاتھ لا کر وہ نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
رنجنا کوئی سوال مت پوچھنا، کچھ بھی نہیں یہ نوٹ جیک کیلس کو دے دینا،، جو سنجنا سے محبت کرتا ہے، اور آج ساری رات جاگ کر سنجنا کا خیال رکھنا، اگر ایز آ سسٹر اس کی زندگی پیاری ہے تو،،،
مایا وش نے جلدی جلدی اس کے کان میں کہا اس سے الگ ہو گئی اور آ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
رنجنا ششدر کھڑی اس کی دھول اڑاتی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی گاڑی دیکھتی رہی۔ مگر وہ سمجھدار تھی اتنی حیرت میں بھی اس نے وہ نوٹ مٹھی میں یوں دبوچا تھا کہ کسی کو دکھائی نہیں دیا تھا۔

مایا وش کے جانے کے بعد اس نے وہ نوٹ لا کر جیک کو دیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا آف وائٹ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی انہماک سے سٹڈی میں مصروف تھی۔ آج سیرا کی طبیعت بہت ناساز تھی۔ تبھی وہ میڈیسن لے کر جلد ہی سو گئی تھیں۔
تمام سرونٹس اپنے اپنے کوارٹرز میں تھے۔ اور جمی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں شہر سے باہر تھا۔

وہ اکیلی اپنے روم میں تھی۔ رگوں میں خون جما دینے والی سردی تھی۔ اماوس کی سیاہ ترین رات تھی۔ اوپر سے موسم بھی کافی طوفانی قسم کا ہو چکا تھا۔ وہ ایک جان لیوا انگڑائی لے کر اپنی جگہ سے اٹھی۔
وہ حسبِ عادت سونے سے پہلے کھڑکی تک آئی تھی۔ وہاں سے ہٹنے لگی جب ایک عجیب نظارا دیکھا۔ سفید کبوتروں کا ایک غول سا تھا جو حدِ نظر وائٹ پیلس کے پول کے حدود سے پرے پرے اڑ رہا تھا۔ ماہا ویرا نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ کبوتر کسی کا اور پرندے کا پیچھا کر رہے ہیں۔ وہ حیرے زدہ سی سردی کی پرواہ کیے بغیر جلدی سے اپنا رین کورٹ پہن کر باہر بالکونی تک آ گئی۔

تب اس نے دیکھا کے وہ سفید کبوتر ایک انتہائی خوبصورت ست رنگی پرندے کا پیچھا کر رہے ہیں ۔ اور جیسے اس کے قریب جاتء ہیں چونچ مار کر اسے زخمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہا ویرا نے حیرت سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔ وہ کھڑی ان کی یہ لکن چھپائی دیکھتی رہی۔

تب بہت اچانک وہ سفید کبوتر اس پرندے پر پل پڑے تھے۔ فضا میں پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز اتنی شدید تھی کہ ماہا ویرا نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

Hey,,,, stay away from it,,,,,,,
وہ چلائی۔ اور الٹے پیروں مڑکر اپنے روم سے نکل کر نیچے کی جانب بھاگی۔
وہ اس پرندے کے موہ میں اتنی بد حواس ہو چکی تھی کہ جمی اور راج کی ساری نصیحتیں ساری تاکید بالائے طاق رکھ کر اندھا دھند باہر کی جانب بھاگ رہی تھی۔
اگر زرا سے حواس قائم ہوتے تو یہ ضرور سوچتی کہ آدھی رات کے وقت اتنی طوفان میں وہ پرندے آخر آئے کہاں سے؟

وہ تیزی سے بھاگ کر پول کی حدود کراس کر گئی تھی۔ مطلب وہ جادوئی حفاظتی حصار کراس کر گئی تھی۔ ان سفید کبوتروں کے حملے سے وہ پرندہ زخمی ہو کر زمین پر گر چکا تھا۔ ابھی وہ سفید کبوتر اس پر حملہ کر رہے تھے۔

اشششش،،، اششش سٹے اوے،،،، وہ چلائی۔ کبوتر پھڑپھڑاتے وہاں سے دور ہوتے چلے گئے۔ وہ اس ست رنگی پرندے پر جھکی۔
طوفانی بارش تھم چکی تھی۔ ہلکی پھلکی بوندا باندی کاری تھی مگر یخ بستہ شدت بھری ہواؤں کے تھپیڑوں نے ماہا ویرا کی بیک بون میں سرسراہٹ سی پیدا کر دی تھی۔ تبھی اس نے اس پرندے کو اٹھایا اور پھر تیز قدموں سے اندر کی جانب بڑھی۔

وہ سفید کبوتر پریوں اور پری زاد میں بدلے تھے۔ ایک فاتحانہ سی مسکراہٹ لیے اپنے کنگ کو دیکھا جو اس لڑکی کے ہاتھوں میں تھا۔ اور پھر ڈارک ہاؤس کی جانب اڑ گئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آدھی سیاہ رات کے وقت رنجنا راکنگ چئیرپر جھولتی سوتی ہوئی سنجناکو بغور دیکھ رہی تھی۔ مایا وش کی بات ٹھہر ٹھہرکر یاد آ رہی تھی۔ ایک دل کیا اس کی بات نظر انداز کر دے۔ بھلا کیا ہو سکتا تھا سنجنا کو۔ مگر پچھلے کچھ دنوں سے سنجنا کی حرکتیں بہت غیر معمولی سی ہو گئیں تھیں۔ بیٹھے بٹھائے کسی میوزک کی آوازیں سنائی دینے لگ جاتیں۔ کبھی کہتی دروازے پر کوئی اسے آوازیں دے رہا ہے۔ اور کل تو وہ جن کے مزہب میں انڈا تک نہیں کھایا جاتا تھا بازار سے لا کر کچا گوشت تک کھا چکی تھی۔

اور اب وہ اس کی حفاظت کر رہی تھی۔ مایا وش کا نوٹ جیک کو دے دیا تھا۔تو اسے یہ بھی تسلی تھی کہ وہ باہر سنجنا کی حفاظت کے لئے موجود ہے۔

باہر جیک اپنی کار میں بیٹھا وہ نوٹ بار بار پڑھ رہا تھا۔

ڈئیر جمی،
اگر سنجنا سے محبت کرتے ہو، اگر اس کی زندگی پیاری ہے، اگر اسے اپنی لائف میں پانا چاہتے ہو تو آج رات اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ہی رکھنا، ایک پل کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دینا، اگر وہ کہیں جانے کی کوشش بھی کرے تو اسے اس کے گھر روک لینا،، نہیں تو وہ ماری جائے گی، پھر ساری زندگی بیٹھ کر افسوس کرنا کہ تم اپنی محبت کی حفاظت نہیں کر سکے،،
مایا وش۔
ایک مرتبہ پھر وہ نوٹ پڑھ کر مائیکروسکوپ سے کھڑکی کے زریعے اندر جھانکا تھا۔ وہ چونکا تھا۔ کیونکہ سنجنا سوتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ جمی یہ دیکھ کار سے نکل کر اندر کی جانب بڑھا تھا۔

اندر وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔اس کی پتلیاں ساکت سی تھیں۔اسے میوزک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔اسے آوازیں دی جارہی تھیں۔اسے جانا تھا۔ مگر رنجنا کو سامنے بیٹھا دیکھ اس نے کچھ سوچا۔

رنجنا،، مجھے ڈر لگ رہا ہے، پلیز میرے ساتھ واش روم میں آ جاؤ،، سنجنا نے کہا تو رنجنا چپ چاپ اس کے ساتھ ہو لی۔
ووہ واش روم آئیں۔ سنجنا نے پیچھے مڑ کر اس کے چہرے پر پھونک ماری۔ وہ انہی قدموں سے لوٹ کر آ کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ اور سنجنا واش روم کے پچھلے دروازے سے باہر نکلتی چلی گئی۔

جمی جو کہ اندر آ رہا تھا یہ دیکھ کر اطمینان ہو گیا کہ سنجنا واپس بیڈ پر آ لیٹی ہے۔ تبھی واپس کار میں آن بیٹھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

کالج سے بہت دور سمندر کنارے ایک لائٹ ہاؤس کے قریب یہ ایک چھوٹا سا کاٹیج تھا جس کے ایک کمرے میں مایاوش بے چینی سے ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی۔

کائلہ کا ایک چیلہ مارا گیا تھا۔ اور تو اور اس نے کسی سے بات کی تھی۔ صدشکر کہ اماوس کی رات تھی اور وہ بہت کمزور پڑی ہوئی تھی۔اسی لئے مایا وش بچ نکلی تھی۔
مگر آج جو وہ کرنا چاھتی تھی۔ مایا وش دعا ہی مانگ رہی تھی کہ کاش سنجنا ادھر کا رخ نا کرے۔

مایا وش،،، بات سنو،، اسے کائلہ کی آواز سنائی دی تو دل وجاں میں خوف و بے بسی کی ایک سنسنی سی دوڑی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️