Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ماہا ویرا شاور لے کر باہر نکلی تو وشہ باہر ہی بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ ہاتھوں میں بے تحاشا خوبصورت لونگ ٹیل ٹی پنک ویڈنگ ڈریس تھا۔۔

پورے رائل پیلس کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ اور اب بس دلہا دلہن کی تیاری باقی تھی۔

ماہا ویرا جلدی سے تیار ہو جاؤ،، وقت نہیں ہے،، ابھی بہت سی تیاری باقی ہے،،
مایا وش نے عجلت میں کہا اور ماہا ویرا کو ڈریس پہننے میں اس کی مدد کی۔

مما ڈیڈ کدھر ہیں،، ماہا ویرا نے اداسی سے پوچھا۔

”وہ ضروری کام سے گئیے ہیں اور تمھارے ڈیڈ ہی بول کر گئے ہیں پرنسز کہ میں وقت پر پہنچوں یا نہیں پہنچوں یہ شادی نہیں رکنی چاہیے،، اسی لئے تیار ہو جاؤ بس جلدی سے اور کچھ بھی برا مت سوچو پرنسز،، وشہ نے اس کا منہ چوما۔

تبھی وشہ کو ایلا کا پیغام آیا کہ وہ اسے بلا رہی ہے وہ ماہا ویرا کو جلدی تیار ہونے کا بول کر باہر نکل گئی۔

ماہا ویرا بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ جس سے شادی ہونے والی تھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی اور جس سے شادی ہو چکی تھی اس کے بارے میں جاننا نہیں چاہتی تھی۔ کاش وہ اس کی زندگی میں آیا ہی نا ہوتا۔ یا اس کا وہ پیار سے پکارنا حقیقت نا ہوتا یا وہ اس کا کڈنیپر نا ہوتا۔ اس کا خوف اس کا ڈر ماہا ویرا کی رگوں میں بہتا تھا۔ مگر ایک قسم کی اسے اس شادی سے الجھن بھی ہو رہی تھی۔ بلکہ اس اب یہ ویڈنگ ڈریس پہن کر شدت سے احساس ہوا کہ وہ یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔

“کوئین آپ دل سے، جسم سے،، اس روح سے صرف اور صرف اس کنگ کی ہیں،، اپنے کنگ اپنے شوہر کے غصے کو ہوا مت دیجئے،، میرے پاس آئیں،،،
ایک غصے سے بھڑکتی آواز ماہا ویرا کو سنائی دی۔ وہ بے تحاشا چونکی اور اپنے کانوں پر اپنے پورے زور سھ ہاتھ رکھ لیے۔

ڈیڈ،، وئیر آر یو،،
ماہا ویرا نے ان آوازوں سے ڈر کر زور سے چلا کر راج کو پکارا۔ ایک مرتبہ پھر رنگ میں سے ایل روشمی کا جھماکا سا نکلا۔ وہ روشنی ماہا ویرا کے جسم سے ٹکرائی تو وہ ایک مرتبہ پھر مرنے والی ہو چکی تھی۔

اس نے اپنے بازو سہلائے۔ اور بیڈ پر بیٹھ گئی اپنے بال مٹھیوں میں زور سے جکڑے۔ سینے میں سانس الجھنے لگا۔ ماہا ویرا کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تو جھٹکے سے اٹھ کر بالکونی کا بیرونی دروازہ کھول کر بالکونی میں چلی آئی۔ اور گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔

عائش اپنے بیڈ پر اوندھا لیٹا تھا۔ اس نھ اب تک یہ مانا ہہ نہیں تھا کہ وہ مر چکی ہے۔اسے بھولنا ناممکن تھا۔ وہ کب لہو بن کر اس کی رگوں میں دوڑنے لگی اسے تو پتہ ہی نا چلا تھا۔ مگر ازلان اور ایلا کی وجہ سے خاموش تھا۔ وہ بھی ایک اوشن پرنس تھا اور جانے اسے کیوں لگتا تھا کہ یہ شادی نہیں ہوگی۔

مگر اب جب کے کچھ دیر بعد ہی وہ اس اجنبی لڑکی کو نیکلس پہنانے والا تھا۔ اب شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ اس شادی سے پہلے ہی منع کیوں نا کر دیا۔
مجھے اس ماہا ویرا سے بات کرنی چاہیے،، عائش نے دماغ میں سوچا اور جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔

اب وہ اپنے روم سے نکل کر ماہا ویرا کے روم تک آیا تھا۔ ناک کر کے اندر داخل ہوا روم خالی تھا۔ مگر ٹیرس کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ گلا کھنکار کر ٹیرس پر چلا آیا۔

سامنے ہی وہ دلہن کے لباس میں طویل ترین ٹیرس کے بیچ کھڑی گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔

رات دس بجے کا وقت تھا۔ زمین پر موسم کا قہر ٹوٹ رہا تھا۔ موسم کے تیور بہت خطرناک تھے۔ آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ تیز ہوائوں کے تھپیڑے تھے جو جسم پر پڑ رہے تھے اور آسمانی بجلی قہف بن بن کر زمین پر اتر رہی تھی۔

آہٹ پر بہت زیادہ ڈر کر ماہا ویرا جھٹکے سے پیچھے مڑی تھی۔

“ماہا ویرا مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے” عائش نے غلاف توقع نرمی سے کہا۔ وہ جب یہاں آیا تو بہت غصے میں تھا ۔ مگف اب اپنے سامنے ایک چھوٹی سی معصوم گڑیا کو دیکھ کر اس کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا۔ اس سب میں بھلا اس کا کیا قصور تھا۔ تبھی عائش نے نرمی اختیار کی تھی۔

“جی کہیے میں سن رہی ہوں” ماہا ویرا نے گھبرا کر کہا تو عائش مزید دو چار قدم آگے بڑھا اور اس کے پاس دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا۔

ابھی وہ کچھ بولتا کہ ماہا ویرا نے ایک سسکی سی بھر کر اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھا۔

“کیا ہوا”از ایوری تھنگ اوکے ؟ عائش نے وہ دو قدم کا فاصلہ بھی سمیٹ لیا۔

“میری آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے،،”ماہا ویرا نے آنکھ مسلی۔

کم آن،، ہاتھ ہٹھاؤ میں دیکھتا ہوں،، عائش نے اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹایا۔ اور اپنے ہاتھوں کے انگھوٹوں کی مدد سے اس کی آنکھ کھول کر دیکھی۔
تنکا تھا جو عائش نے اپنی پاکٹ سے رومال نکال کر اس سے نکلال دیا تھا۔ اور اب وہ اس کی آنکھ کو راحت پہنچانے کے لئے اس میں پھونک مار رہا تھا۔

یہ وہی لمحہ تھا جب ویام زمین پر اس ٹیرس پر ٹھیک ماہا ویرا کے پیچھے اس سے پانچ قدم کے فاصلے پر اترا تھا۔ اور سامنے اسے لگا کہ عائش ماہا ویرا کو چھو رہا ہے۔ ویام غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔

پروں کی مخصوص پھڑپھڑاہٹ سن کر ماہا ویرا کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔ وہ عائش کے کشادہ سینے سے لگی۔ عائش بھی حیران ہوا۔ مگر اس کے پیچھے کھڑے ایک پنکھوں والے شخص کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل آئے تھے۔

دور ہٹو میری بیوی سے،،، کنگ ویام دھاڑا تھا۔ اور اس کی اس دھاڑ کے ساتھ ہی آسمانی بجلی کے کوندے جیسے ٹیرس پر لپکنے لگے تھے۔

نہیں ہٹا تو کیا کرو گے،، عائش نے اطمینان سے کہا۔ اب گھر آئی ہوئی اپنی مہمان کی حفاظت بھی تو کرنی تھی۔ ویسے بھی سب نے اور راج انکل نے یہ زمہ داری اسے ہی تو سونپ رکھی تھی۔

ویام غصے سے پاگل ہوتا ان دونوں کی جانب لپکا تھا۔ عائش نے ماہا ویرا کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔

ہٹ جاؤ سامنے سے،، بجلی لپک لپک کر ان کے آس پاس گر رہی تھی۔ ویام کی آنکھوں میں بھی شعلے سے لپک رہے تھے۔

جائیے یہاں سے،،، مم،،، میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی،، ماہا ویرا بھی ہمت کر کے چلائی تھی اور عائش کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچی۔ وہ اپنا سر پٹخ رہی تھی مگر مصیبت تو یہ تھی کہ ابھی وہ چھوٹی تھی تو اسے خود سے ڈریگن بھی نہیں بننا آتا تھا۔

ویام نے آسمانی بجلی اپنی میجک سٹک پر کیچ کر عائش کی جانب اچھالی تھی۔ اور یہ حملہ بہت اچانک ہوا تھا۔ ماہا ویرا کی دلخراش چیخ گونجی تھی۔ عائش جھٹکے سے اچھل کر دور گرا تھا۔

Shhhhhiiiiitttttttttt
عائش نے غصے سے زمین پر ہاتھ مارا تھا۔ اور بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔

ماہا ویرا جو اس سے خوفزدہ ہو کر اندر کی جانب لپکی تھی۔ اس کی کلائی ویام کی وحشت زدہ گرفت میں پھنسی تھی۔
مایا وش بری طرح چلائی تھی۔

اتنی دیر میں عائش ویام کے گریبان تک آ پہنچا تھا۔ عائش کی کمر سے نکلنے والے ٹینٹیکلز ویام کے گرد لپٹے اور اسے آسمانی بجلی کے نیچے اچھالا تھا۔ اب ویام کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا۔

ان دونوں کے بازوؤں سے خون بہنے لگا تھا۔ اور ماہا ویرا اس دہشت ناک نظر سے خوف سے نیلی پڑ چکی تھی۔
سٹاپ اٹ،، رک جاؤ آپ لوگ،، وہ چلا رہی تھی۔مگر اس کی سن کون رہا تھا۔ عائش ویام کی جانب لپکا۔ مگر ویام کی سٹک سے نکلنے والی بجلی عائش کو دور پٹخ چکی تھی۔ عائش اب کچھ زیادہ ہی زخمی ہو چکا تھا۔ ماہا ویرا بھاگ کر اس کے قریب آ کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی تھی۔

عائش،،، ماہا ویرا نے اسے شرٹ سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ یہ خون خرابہ اس کی وجہ سے ہو رہا تھا تبھی وہ پھوٹ پھوٹ کو رو رہی تھی۔

ویام تیزی سے ماہا ویرا تک آیا تھا۔ اسے بازو سے کھینچ کر کچھ پلوں میں ہی بالکونی سے نیچے پھینکا تھا۔ ماہا ویرا کے منہ سے ایک دلخراش چیخ برآمد ہوئی تھی۔

نیچے سب نے یہ منظر دیکھا۔ ماہا ویرا کو کنگ ویام کی کچھ پہرے دار پریوں نے ایک جال میں کیچ کیا تھا۔ اور لے کر ایک جانب اڑ گئیں۔ ۔ کچھ غیر معمولی تو لگ ہی رہا تھا۔ اب سب اوپر کی جانب بھاگے تھے۔

وشہ کی جان لبوں پر آئی تھی۔ کہ ماہا ویرا دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔

اوپر ویام نے عائش کے سینے پر اپنا پاؤں رکھ کر اس، زور سے کچلا کے عائش بری طرح کھانسنے لگا تھا۔

تمھیں میری کوئین کو چھونے کی گستاخی نہیں کرنی چاہیے تھی،،،

عائش تیزی سے اٹھا تھا اور ویام کا گلا دبوچا۔ ویام اس کی پتھریلی گرفت میں بری طرح پھڑپھڑایا۔

وہ تمھاری کوئین کب سے ہو گئی،، شادی تو میں بھی نہیں کرنا چاہتا اس سے،،کیونکہ میں بھی کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور یہی بتانے آیا تھا اسے ،، اگر تو تم اس معصوم کو اپنی سو کالڈ انتقام کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہو تو آئی سوئیر یہاں سے زندہ واپس نہیں جا پاؤ گے آج،،،،،
عائش نے دانت پیس کر اس کے گلے پر گرفت بڑھائی۔ جانے کیوں ویام کو یہ سن کر سکون آیا کہ وہ ماہا ویرا سے شادی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

نو بکواس ہے یہ سب جھوٹ ہے،، اگر انتقام لینے کا موقع ملا تو اس راج کو موت کی نیند سلاؤں گا،، مگر اپنی کوئین کو اب مزید زرا سی بھی آنچ نہیں آنے دوں گا،، سمجھے،،،، محبت ہے وہ کنگ ویام کی،، زندگی،، کنگ ویام کے جینے کی وجہ،، یہ بات میں نے اس راج کو کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی،، مگر وہ پاگل ڈریگن کچھ سمجھنے کو تیار نہیں،، اب بول دینا اسے کہ اس کی بیٹی اپنے اصل جگہ پہنچ گئی ہے،، فیری ٹوپیا کی کوئین بن کر،،،
ویام نے اس کا ہاتھ دور جھٹکا تھا۔

میں یہ کیسے مان لوں،،، کہ یہ انتقام نہیں،، تم سچ میں اسے محبت کرتے ہو،،، عائش نے اسے گھورا۔
دونوں زخموں سے چور لہولہان ہو چکے تھے۔ اور اب بری طرح ہانپ رہے تھے۔

اچھا،، بلاؤں اسے واپس،،؟ ایک مرتبہ اور چھو کے دکھاؤ اسے،، تمھارا بازو ہی دھڑ سے الگ نا کیا تو بات کرنا،،، ویام ابھی کچھ دیر پہلے کہ مناظر سوچ کر پھر دھاڑا تھا۔

عائش نے زخموں سے چور دیوار سے ٹیک لگائی۔ اس پری زاد کی آنکھوں میں جنونیت،، وحشت،، اور ماہا ویرا کے لئے جو پاگل پن تھا۔ اس نے عائش کو متاثر کیا تھا۔ عائش نے اپنی پاکٹ سے سگرٹ نکال کر لبوں میں دبا کر سلگائی۔

اب کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو، اس کا خیال رکھنا ،، ناؤ گیٹ لاسٹ فرام ہیئر،، یا انتظار کر رہے ہو کہ کوئین وشہ یہاں آئیں اور تمھارا قیمہ بنا دیں پاگل بے وقوف کنگ،،،

عائش نے اس پر خفیف سا طنز کیا۔ ویام نے اسے غور سے دیکھا۔

“کچھ دنوں کے بعد ان وائیٹ کروں گا آ کر دیکھ لینا بیشک ،، کہ میں نے تمھاری بہن کا اچھے سے خیال رکھا ہے کہ نہیں،، زرا سی بھی شکایت ہوئی تو جو سزا دو گے منظور ہوگی،،

ویام نے ناک چڑھا کر طنزیہ لہجے میں کہتے حساب بے باک کیا۔ عائش ویرا کو اس کی بہن کہنے پر کھل کر مسکرایا تھا۔

ویام لڑکھڑاتے اسی جانب اڑ گیا جدھر وہ پریاں ماہا ویرا کو لے کر اڑیں تھیں۔
زخموں کی وجہ سے اسے اڑنے میں تکلیف ہو رہی تھی۔

عائش نے ایک سرد سی آہ بھری۔ اب اسے سب کو فیس کرنا تھا۔ حیرت کی بات تھی جو محنت کا جنون اسے اس کنگ کی نگاہوں میں دکھتا تھا آخر کنگ راج کو کیوں نا دکھا یا وہ دیکھ کر انجان بن رہا تھا۔ جو بھی تھا یہ معاملہ یوں نمٹ جائے گا سوچا نا تھا۔ سب اوپر آئے تھے۔ اوف عائش کو لہولہان دیکھ کر حق دق رہ گئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

راج ڈریگن لینڈ پہنچا تو اسے اطلاع مل چکی تھی کہ ایک اجنبی کو ڈارک فوریسٹ جاتے دیکھا گیا ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ اجنبی بھی شاید اسی بیری کی تلاش میں ڈارک فوریسٹ کی جانب نکلا ہے۔ اور پھر یہ بھی پریشانی تھی کہ وہ اجنبی جانے کون تھا جو ڈریگن لینڈ گھس آیا تھا۔ تبھی راج فوراً سے پہلے ڈریگن بنا ڈارک فوریسٹ کی جانب اڑا تھا۔

آب ڈریگن لینڈ پہنچ چکا تھا۔ اس نے پہلے ڈریگن لینڈ کا میجک وڈو پار کیا تھا اور اب اسے دور سے سیاہ رنگ کے پہاڑوں سے کے بیچ وادی میں وہ ڈارک فوریسٹ نظر آ گیا۔

وہ ایک سیاہ جنگل تھا۔ جس میں معمول کے اندھیرے سے زیادہ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اسی لئے ہی تو اسے ڈارک فوریسٹ کہتے تھے۔

آبدار کئی گھنٹوں سے چل رہا تھا۔ مگر نا تھکا نا اپنے حوصلے پست ہونے دئیے۔ اور اب اس جنگل کے بیچوں بیچ طویل سادے سیاہ میدان میں وہ ایک بہت ہی بڑا آسمان کو چھوتا بڑا برگد کا درخت تھا۔ جس پر لٹکی وہ سرخ کلر کی بیری دور سے ہی نظر آ رہی تھی۔

آب نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور آدھا میدان پار کر لیا۔ ابھی وہ مزید قدم آگے بڑھاتا کہ اسے ایک ڈریگن کی زور دار دھاڑ سنائی دی تھی۔آب کے قدم ٹھٹھک کر رکے۔

تبھی ایک زور دار دھماکے کے ساتھ ایک دیو ہیکل ڈریگن زمین پر اترا تھا اور آبدار اور اس درخت کے بیچ حائل ہو گیا۔ ڈریگن بہت غصیلہ تھا۔ مگر آب کا اطمینان بھی قابلِ دید تھا۔ آبدار کو ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ وہ ڈریگن اس کی جانب رخ کر کے زور سے دھاڑا۔

مگر آب پھر بھی وہیں جما کھڑا رہا۔ تب وہ ڈریگن اپنا سر پٹختا انسانی روپ میں اسے کے سامنے ظہور پذیر ہوا تھا۔

جو کوئی بھی ہو،، اگر اپنی سلامتی چاہتے ہو تو یہاں سے چلے جاؤ لڑکے،،، یہاں ڈریگن لینڈ میں گھس پیٹھ کرنے والے کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے،،
راج اس اجنبی کو ڈریگن لینڈ میں اتنے اطمینان سے کھڑے دیکھ دھاڑا تھا۔

مجھے میری کوئین کے لئے وہ بیری چاہیے ہر قیمت پر ،،،

بھول جاؤ لڑکے،، کیونکہ مجھے وہ میری بیٹی کے لئے چاہیے،، راج نے غصے سے کہا تھا۔ اور پھر لمحوں میں ڈریگن بن کر اڑا اور آگ اگل کر درخت کے چاروں اطراف آگ بھڑکا دی۔ پھر اتر کر اس کے سامنے انسانی شکل میں آیا۔

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،، وہ میری کوئین کی زندگی کے لئے بہت ضروری ہے،، آبدار نے اب بھی سکون سے کہا تھا۔

تو چلو لے کے دکھاؤ،، راج نے کہتے بھڑکتی آگ کو دیکھ کر اس پر خفیف سا طنز کیا۔

چلیں دیکھتے ہیں کہ آج ایک شوہر اپنی بیوی کے لئے اسے لے کر جاتا ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹی کے لئے،، کس کی محبت زیادہ ہے،، کس کی بہت کا پلڑا بھاری ہے،، کس کی محبت کی پیمائش سرخرو ہوتی ہے،،،
یہ کہتے آب نے ہاتھ کا اشارہ ہی کیا تھا کہ ایک حد نگاہ پانی کی لہر اٹھی اور اس ساری بھڑکتی آگ کو بجھا گئی۔

محبت کا ماپ نہیں ہوا کرتا لڑکے،، مگر اب آزمانے آ ہی گئے ہو تو آزما لو،،، غصے سے کہتے راج ڈریگن بنا تھا اور آب کی جانب رخ کر کے بے تحاشا آگ اگلی۔ یہ حملہ بہت اچانک تھا۔

آب سنبھل نہیں پایا تھا اور اس کے جسم کا کچھ حصہ بری طرح آگ کی لپیٹ میں آکر جھلسا تھا۔ آبدار کی دلدوز، چیخ ڈارک فوریسٹ میں گونجی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ادھر مایا وش جو کہ محل کے باغ میں چشمے کے پاس اداس سی بیٹھی تھی۔ وہ ایک ڈریگن پرنسز تھی سیکنڈوں میں ڈریگن بن کر آگ اگل کر وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتی تھی۔ مگر وہ ایک نرم دل شہزادی تھی جو کسی کی جان نہیں لینا چاہتی تھی۔

مایا وش کو کچھ ہی دیر میں یوں لگا جیسے آج وہ مر ہی جائے گی۔ اس کی دلخراش چیخیں فیری ٹوپیا کے سارے محل میں گونج اٹھیں تھیں۔ جسم یوں جھلس رہا تھا جیسے مسلسل اسے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا گیا تھا۔

اس کی پہرے دار پریوں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اور اس کی جانب بوکھلا کر لپکیں۔

نیلم ،،،،اینچینٹرس کو بلاؤ ابھی،،، ایک پہرے دار پری نے دوسری کی جانب دیکھ کر کہا۔

میں جل رہی ہوں،،، میرا جسم جھلس رہا ہے،،، مایا وش کی دردناک چیخیں تھیں جن سےوہ پریاں بری طرح گھبرا رہی تھیں۔ بھلا ایسے کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک ڈریگن پرنسز کو آگ جھلساتی۔ مسگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ مایا وش کا اوشن کنگ تھا جو جلا تھا تو اس کی آنچ مایا وش تک کیوں نہیں پہنچتی۔

تبھی وہاں اینچینٹرس چلی آئیں تھیں۔
پرنسز کو چشمے میں پھینک دو،،، اینچینٹرس چلائیں تھیں۔ پہرے دار پریوں نے تڑپتی مایا وش کو اٹھا کر چشمے میں ہھینکا تھا۔

کچھ پل لگے تھے۔ مگر اسے سکون آیا تھا۔ اب وہ پانی کے اندر رنگ برنگے پتھروں کی سطح پر آنکھیں موندے لیٹی سکون محسوس کر رہی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آبدار زمین پر نڈھال ہو کر گرا تھا۔ راج اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔ راج طنزیہ مسکرایا۔ مگر اس کی مسکراہٹ چند پلوں میں دور ہوئی تھی جب یوں ہوا کہ پانی کی ایک بہت بڑی لہر آب پر گری اور اسے سکون آ گیا۔

راج ڈریگن بن کر بیری لینے کے لئے اڑا۔ اور آگ اگل کر پھر درخت کے چاروں اطراف آگ بھڑکا دی تاکہ آب اس بیری تک نا پہنچ پائے۔

مگر آب آگ کی پرواہ کیے بغیر پانی کی لہروں کو ساتھ لیے آ گے بڑھتا رہا۔ بھڑکتی آگ میں وہ جھلسا بھی
مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔

راج بیری کے قریب تر تھا۔ مگر پانی کی ایک بہت بڑی لہر نے اسے دور پٹخا تھا۔

آب پانی پہ کھڑا تھا۔ پانی اوپر کی جانب اٹھا۔ ا ر آب کو بیری تک پہنچا دیا۔

ادھر راج دوبار اٹھ کر بیری تک پہنچا تھا۔ دونوں نے ایک ہی وقت میں بیری کو ہاتھ میں تھام لیا تھا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ راج اور آب دونوں کے ہاتھ میں بیری کا آدھا حصہ تھا۔

چھوڑ دو اسے،، یہ میری کوئین کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے،، اگر یہ نا ملی تو وہ مجھ سے دور ہو جائے گی،،
آبدار غصے سے دھاڑا تھا۔ راج نے اس نوجوان کو دیکھا جو اپنی کوئین کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا۔ ری طرح جھلسنے کے باوجود اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔

گرینڈ فادر نے یہ بیری ماہا ویرا کے لئے لانے کو بولا تھا مگر یہ ہر گز نہیں کہا تھا کہ یہ بیری ماہا ویرا کی زندگی کے لئے بہت ضروری ہے یا اس کیے بغیر ماہا ویرا مر جائے گی۔ جبکہ اس سے زیادہ اس بیری کی ضرورت اس نوجوان کو تھی۔

راج نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا تھا۔ اور وہ دونوں زمین پر آئے۔
مجھے تمھاری بہادری اور اپنی کوئین کے لئے تمھاری محبت یہ چیز بہت پسند آئی لڑکے یہ تم اپنی کوئین کے لئے لے جا سکتے ہو،،،
راج نے نرمی سے کہا۔ آب کی تنی رگیں ڈھیلی پڑیں تھیں۔ اور اب وہ کنفیوز ہو چکا تھا۔

مگر یہ آپ کو اپنی بیٹی کے لئے چاہیے تھی،، آب نے جھجھکتے کہا۔

مگر وہ میری بیٹی کی زندگی کے لئے ضروری نہیں، تمھاری کوئین کی زندگی کے لئے ضروری ہے،، میں یوں سمجھ لوں گا کہ یہ میں نے اپنی بیٹی کی زندگی کی لئے ہی تحفہ بھجوایا ہے،،

راج کچھ دیر کے لئے خاموش ہوا۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔
اگر یہ میری بیٹی کی زندگی کے لئے ضروری ہوتی تو اسے اس کے باپ سے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی تھی،،، باپ کا رشتہ اپنی بچی سے خون کا رشتہ ہوتا ہے جو کوئی مٹا نہیں سکتا،،کوئی بدل نہیں سکتا،، باپ کی محبت کا ماپ نہیں ہوتا،، مگر آج مجھے لگا اگر تمھاری جگہ میں ہوتا تو اپنی کوئین کے لئے میری محبت کی بھی کوئی پیمائش نہیں ہو سکتی تھی،، اور یہ تم نے ابھی کچھ دیر پہلے اپنی کوئین کے لئے اپنی جان پر کھیل کر ثابت کر دیا ،،ویل ڈن بوائے،،
راج بول کر مسکرایا۔

آب نے سکون کی سانس لی۔ اور بیری کی جانب دیکھا۔ وہ ایک ہارٹ شیپ کی عجیب و غریب سی بیری تھی۔

کیا وہ دل کی شکل تھی۔ دل جو کہ سائن ہے محبت کا۔ تو کیا یہ ہی بیری محبت کا ماپ تھی ۔ کیا وہ اپنی کوئین سے محبت کی پیمائش کے پیمانے میں کھرا اتر چکا تھا۔

آبدا گے گہرا مسکرایا تھا۔

ویسے تمھاری کوئین کی زندگی کو کونسا خطرہ لاحق ہے نوجوان،،

معاف کیجئے گا ابھی میرے پاس وقت نہیں،، اس سب سے فارغ ہو کر اپنی کوئین کے ساتھ میں سب سے پہلے یہیں آنے والا ہوں، ہاں ابھی یہ جان لیں کے مجھے اپنی کوئین کے لئے سوارڈ آف لائیٹ بنانی ہے،،
چلتا ہوں،،،

یہ بول کر آب جلدی سے وہاں سے نکلا تھا۔ راج کو حیران و ششدر چھوڑ کر۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️