Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

راج جب مایا وش کو دیکھ کر اسے رستہ دکھا کر ڈریگن لینڈ لوٹا تھا تو مایا وش کو بہت بیمار پایا۔ تب وہ بے حد پریشان ہوا تھا۔ شاید وہ ومجھ چکی تھی کہ اب مایا وش کی طرح اس نے ماہا ویرا کو بھی کھو دیا۔ تبھی اس نے خود کو ہلکان کرتے بیمار کر لیا تھا۔

مگر جب راج نے اسے مایا وش کے بارے میں تمام تر تفصیلات سے آگاہ کر دیا تو وہ کچھ سنبھلی تھی۔ جب اپنی بچی سے ملنے کی امید کا سرا ہاتھ میں آیا تو اس نے اپنے آپ کو اپنی بچی کے لئے سنبھالا۔

راج دربار سے فارغ ہو کر محل کی اندرونی جانب آیا تو سامنے سے وشہ آتی دکھائی دی۔ آج وہ کافی عرصے کے بعد اپنی خواب گاہ سے باہر نللی تھی۔
راج نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما۔
کیسی طبیعت ہے وشہ،، راج نے نرمی سے پوچھا۔
بہتر،، وہ مسکرا کر بولی۔

تبھی ایک دربان اجازت لے کر تیزی سے راج تک آیا تھا۔ ادب سے جھکا اور اس کے ہاتھ میں ایک کرول تھمایا۔
یہ پیغام فیری گارڈینز کی ملکہ اینچینٹرس نے بھیجا ہے آپ کے لئے کنگ،، دربان بولا تو راج نے اس کے ہاتھ سے کرول تھام کر کھعل کر پڑھا۔ اور جوں جوں پڑھتا گیا پہلے تو راج کی آنکھوں میں شعلے سے بھڑکے مگر پھر کرول کے اختتام پر وہ پرسکون ہوا تھا۔

اس کرول میں اینچینٹرس نے کنگ ویام کے غصے بدلے اور انتقام کی ساری داستان لکھ بھیجی تھی۔ اور پھر اختتام پر یہ بھی کہ ماہا ویرا کو سہی سلامت آزاد کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر ملتے ہی راج نے وشہ کو گود میں بھر کر گول گول گھمایا تھا۔ ۔
ارے ارے یہ کیا،، راج آپ پاگل ہو گئے ہیں،، وشہ نے کہا تو راج نے اسے پکڑ کر مزید گھمایا۔
تم سنو گی کوئین تو تم بھی خوشی سے پاگل ہو جاؤ گی،،ہماری پرنسز ماہا ویرا ہمیں مل گئی ہے اور اب جلد مایا وش بھی ہمارے پاس ہوگی،، راج نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں لے کر کہا۔

وشہ کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا تھا۔
راج پلیز،، خدارا مجھے میری بچی کے پاس لے جائیں،، وہ سر خوشی میں راج کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اب تو راج نے بھی مزید انتظار نہیں کیا تھا وہ وشہ کو لئے بلیک مرر کی جانب بڑھا۔

ماہا ویرا کی آنکھ اپنے کمرے میں کھلی تھی۔ جمی اور سیرا اس کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ تب وہ جمی اور سیرا کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
کچھ ہی دیر میں وہاں راج اور وشہ چلے آئے تو ایک مرتبہ پھر وہ راوی چناب بہانے لگی تھی۔

راج نے بڑی مشکل سے اسے بہلایا۔ مگر اب وقت آن پہنچا تھا کہ اسے اس کی حقیقت کا علم ہو جائے ۔ اب وہ اسے یہاں اس گھر میں اور انسانی دنیا میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اب وہ اسے اپنے ساتھ ڈریگن لینڈ لے جانا چاہتا تھا۔ تبھی وشہ کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارا کیا۔ وشہ جو اپنی پرنسز کو دیکھ کر ہی جی اٹھی تھی۔ اب وہ بھی یہی چاہتی تھی سو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔

راج جمی اور سیرا کو بہانے سے روم سے باہر لے کر نکلا۔ تب وشہ نے ماہا ویرا کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے۔
انھیں تھامو،،، وشہ نے کہا تو ماہا ویرا نے فورا ان کے ہاتھ تھام لیے۔ کہ بڑوں سے بحث کرنا تو اسے آتا ہی نہیں تھا۔

اپنی آنکھیں بند کرو ماہا ویرا،، ماہا ویرا نے اپنی آنکھیں بند کیں۔
ان بند آنکھوں کے پیچھے آگاہی کے در وا ہوئے تھے۔ اسے اس کی حقیقت اس کی اصلیت سب باور کروا دی گئی تھی۔ چند پلوں، چند لمحوں میں وہ اپنی اصلیت جان گئی تھی۔ جب ماہا ویرا نے آنکھیں کھولیں تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ اسکی دنیا بدل گئی تھی۔ اس کی پہچان سب کچھ۔

مما،،، وہ وشہ کے سینے سے ایک مرتبہ پھر لپٹی تھی۔
راج نے جمی اور سیرا کو تمام حقیقت تو پہلے ہی بتا دی تھی۔ مگر اب وہ اپنی پرنسز کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ بھلا انھیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا کہ تھی تو وہ انھیں کی امانت ان کے پاس۔ مگر راج نے انھیں اب کہا تھا کہ وہ جب چاہیں ماہا ویرا سے مل سکتے ہیں۔

وہ تینوں اندر داخل ہوئے تو ماہا ویرا تیزی سے اٹھی تھی اور اپنے پاپا راج کے گلے سے لگی۔
ڈیڈ،، مجھے ادھر ڈر لگتا ہے،، مجھے آپ کے اور وشہ مما کے ساتھ جانا ہے،،
وہ بڑی جلدی سمجھ چکی تھی کہ وہ صرف اپنے راج ڈیڈ کے ساتھ ہی سیو رہے گی۔ جانے کیوں مگر اسے اب بھی لگتا تھا کہ وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ضرور دوبارہ لوٹ کر آئے گا۔ اس کا خوف ماہا ویرا کی رگ رگ میں خون منجمد کر دیا کرتا تھا۔

راج نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور راج اور وشہ اسے لئے وہاں سے رخصت ہوئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🧡💚💜💜💜💜💜

وہ تاشہ کے بلکل سامنے کھڑے تھے۔

ماں مجھے انھیں اوشیانہ کی سیر کروانی ہے،، روزیلہ اب کی بار خود کو مضبوط کیے ہوئے تھی کہ کمر پر سرسراتی عائش کی انگلیاں اسے بہت کچھ باور کروا رہی تھیں۔

اتنی جلدی بھی کیا ہے پرنسز،،، پہلے آرام تو کر لو،، کل سیر کروا دینا،،
تاشہ نے بھی اپنا لہجہ ضرورت سے زیادہ میٹھا کیا۔ ایک تو پہلے ہی عائش کا دل کرتا تھا اس کا گلا دبا دے اور اوپر سے اس کی یہ مکاریاں۔

ہمیں آرام کی ضرورت نہیں ماں،، عائش اوشیانہ کی سیر کرنا چاہتے ہیں،، اور میں بھی،، بلکہ یہ سیر کرنے سے ہم بلکل تازہ دم ہو جائیں گے،، روزیلہ نے کہا۔ مگر عائش کی کمر پر رقص کرتی انگلیوں سے اس کے گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔

ٹھیک ہے جاؤ،، پہرے داروں کو ساتھ لے جاؤ،، تاشہ نے ہی ہار مانی۔ مگر اگلا آپشن بھی دیا۔

ارے ساسو ماں کیا ظلم ڈھا رہی ہیں ابھی ابھی تو شادی ہوئی ہے،، بلکہ محبت کی شادی تو نئے نویلے جوڑے کو کچھ تنہائی چاہئے ہوگی، کچھ خاص وقت جو صرف وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکیں،،آپ سمجھ رہی ہیں ناں میری بات،، عائش کی ایک ایک بات پر روز نے بری طرح اپنے لب کاٹے تھے۔ جبکہ اس کی جانب دیکھ کر عائش بہت محظوظ ہوا تھا۔

ٹھیک ہے،، ٹھیک ہے جاؤ تم لوگ،، تاشہ نے اپنی جان چھڑائی۔ وہ محل سے باہر نکلے تو تاشہ اپنے خاص نگران ہیما کو دیکھ کر دھاڑی تھی۔

پیچھا کرو ان کا،، مجھے اس ایلا کے بیٹے پر زرا بھروسہ نہیں،، اس کی آنکھوں میں اپنے لئے عجیب سی نفرت محسوس کی ہے میں نے،، اگر یہ زرا سا بھی ایلا کی جانب گئے تو ختم کر دینا اس ایلا کے بیٹے کو،،
تاشہ حک۔ سناتی وہاں سے اپنی خواب گاہ میں گئی تھی۔جبکہ ہیما عائش اور روزیلہ کا پیچھے کرنے لگی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آگ کے ایک بہت بڑے الاؤ کے سامنے وہ اپنی تمام طاقتیں صرف کر کے وہ چلہ کاٹ رہی تھی۔ وہ اتنا کاری وار کرنے والی تھی کہ اس کا کاٹا پانی بھی نہیں مانگنے والا تھا۔
اور پھر کچھ ہی دیر بعد رومینیا کے اس ہسٹورک قبرستان میں اس کے مکرہ قہقہے گونج اٹھے۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی۔ اپنے دشمنوں کو اس کی جانب سے دی جانے والی یہ پہلی شکست تھی۔ اور بہت بڑی شکست تھی وہ جانتی تھی اس کے دشمنوں کی اس وار سے کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔۔ اور اسے بہت بڑا مزا آیا تھا۔اپنے شیطان آقا کو خوش کر کے کامیابی سے یہ بلی دے کے۔
اس بلی کے بعد اچانک اس کی طاقتوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا گیا تھا۔
تبھی اس کے مکروہ قہقہے وہاں آس پاس گونج رہے تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🧡🧡🧡🧡🧡❤️❤️❤️❤️

آبدار کے وارننگ دے کر جانے کے بعد جیک نے دیر نہیں لگائی تھی اسے اپنا بنا کر اپنی نگاہوں کے سامنے رکھنے میں۔ تبھی آج ہی وہ رجسٹرار آفس جا کر سنجنا سے شادی کر کے اسے اپنے گھر ہی لے آیا تھا۔

یہ بہت خوبصورت کاٹیج نما گھر تھا۔ وہ ابھی ابھی رجسٹرار آفس سے گھر آئے تھے۔ جیک سنجنا کے ساتھ رنجنا کو بھی ضد کر کے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ اس نے اتنی ضد کی کے اس کو ان کی بات ماننی ہی پڑی۔ انڈیا میں سنجنا اور رنجنا کا کوئی سگا رشتہ تو تھا نہیں تبھی انھوںنے جیک کو ہی اپنا سب کچھ مان لیا تھا۔

کاٹیج کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ وہ لاونج میں داخل ہوئے۔
میں تو بہت زیادہ تھک گئی ہوں بھئی آرام۔کروں گی،، رنجنا نے کہا تو جیک مسکراتا اسے اس کے روم تک چھوڑ کر آیا۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔

واپس آیا تو وہ کنفیوز سی وہیں کھڑی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ جو براؤن ہاف بلاؤز ساڑھی میں بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔ ایسا روپ ایا تھا کہ گندمی سنہرا رنگ بھی سونے کی طرح دمک رہا تھا۔

وہ اس کی پتلی ہوئی حالت دیکھ کر مسکراتا اس کے پاس چلا آیا۔
واٹ ہیپنڈ،، کنفیوز؟ جیک نے پوچھا تو اس نے گائے کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔
می ٹو،، جیک نے جان بوجھ کر مسکین شکل بنا کر ایسے بے چارے طریقے سے کہا سنجنا بھی ہنس دی۔

تبھی اس نے آگے بڑھ کر بڑی دیدہ دلیری سے اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔ سنجنا نے مسکراتے مگر نگاہیں جھکائے اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کیے۔ وہ اسے لئے روم میں آیا۔ پیچھے مڑ کر ڈور لاک کیا۔
اسے نرمی سے نیچے اتارا۔
تو کیا کہتی ہو وائفی،، بخش دیا جائے یا پکڑ لیا جائے،، انگلش میں بولا تھا لہجہ بے تحاشا معنی خیز تھا۔ سنجنا کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھی۔ تبھی وہ دامن بچا کر ڈریسنگ کی جانب بھاگنے لگی کہ اس کی ساڑھی کا پلو جیک کے ہاتھ میں آیا تھا۔

جیک،،،، وہ کندھے پر ہاتھ رکھتی لرز گئی تھی۔ ابھی تو وہ دو فٹ کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ مگر اس کی نگاہیں ہی جسم سے جان کھینچنے کو کافی تھیں۔
یس مائی سول،، وہ پلو کو ہاتھ پر لپیٹتا قریب چلا آیا تھا آ کر اس کی پشت سے اس کو کندھوں سے تھاما۔

جیک پپ،،، پلیز،،، نو،، جب پچھلی گردن سے کھلے بال ہٹا کر اس کے نرم دہکتے لبوں کا لمس اپنی پچھلی گردن پر محسوس ہوا تو وہ جی جان سے لرز اٹھی۔ اور زور سے آنکھیں بند کر لیں۔ جیک نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔ اور بن بادلوں کے برسات کی طرح اس پر برس ہی پڑا۔ کتنا خوبصورت احساس تھا کہ جسے چاہا وہ اب اس کے پاس اس کی دسترس میں تھی۔
دونوں ایک دوسرے میں گم ہوتے چلے گئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

صبح سب سے پہلے چڑیوں کی چہچہار کی آوازوں پر مایا وش کی آنکھ کھلی تھی۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ آبدار کے سینے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔ آب کا حسین ترین چہرہ دیکھا تو لبوں پر خودبخود دھیمی سی مسکان احاطہ کرنے لگی۔
اور رات کی اس کی تمام کارگزاریاں یاد آئیں تو اس پر ٹوٹ کر پیار بھی آیا۔

صرف اس کی خاطر وہ کیا کچھ کر رہا تھا اور کتنا کچھ برداشت کر رہا تھا۔ کتنا سہہ رہا تھا۔ یہ تو وہی جانتی تھی جس کہ لئے اس کے انگ انگ سے بےقراریاں صاف چھلکتی تھیں۔ وہ اسی کے سینے پر مٹھی پر ٹھوڑی رکھ کر بغور اسی کے تیکھے مغرور نقوش کو دیکھتی رہی جو مایا وش کے علاوہ باقی کسی بھی ہر چیز کے لئے جیتا جاگتا ایک قہر ثابت ہو سکتا تھا۔

مایا وش خود اس سے کس قدر محبت کرتی تھی یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا۔ نا جان سکتا تھا۔ جانتا بھی کیسے؟ محبت کے اظہار کے لئے یا تو الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے یا کسی عمل کی۔ پر مایا وش نے تو دونوں ہی نہیں کیے تھے۔
مگر اب وہ بے اختیار ہی اوپر ہو کر جھکی اور آہستگی سے پہلے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔ پھر آنکھیں بند کر کیں اپنی تمام تر ہمت مجتمع کر کے دائیں گال پر اپنے لب رکھے۔

ابھی وہ بائیں جانب جھک کر اس کی گال پر اپنے لب رکھتی کہ بہت اچانک آبدار نے اپنے چہرے کا رخ موڑ کر اس کا نشانہ تبدیل کر دیا تھا۔ اب مایا وش کے نرم گداز ہونٹوں نے آبدار کے ہونٹوں کو چھوا تھا۔ اس کو مسکراتی آنکھیں کھول دیکھ اور اپنی کار گزاری پر مایا وش کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔

وہ جلدی سے پیچھے ہٹنے لگی۔ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ آبدار ایک بازو اس کی کمر کے گرد اور دوسرا اس کے بالوں میں پھنسا چکا تھا۔
کچھ ہی لمحوں میں وہ اسے نڈھال کر چکا تو مایا وش نے اس کے کندھے پر مکے برسائے۔ آبدار نے نرمی سے اس کے لبوں کو آزاد کیا تو وہ اسی کے سینے پر گر کر لمبے لمبے سانس بھرنے لگی۔

میں بات ہی نہیں کروں گی آپ سے،،، ایک مرتبہ پھر اس کے فولادی سینے پر مکے برسائے۔ وہ مسکرایا۔
شروع کس نے کیا کوئین،، آب نے سرشاری سے کہا۔
میں نے تو بہت نرمی سے چھوا تھا،، آپ نے تو جان نکال لی،، اور آپ تو سو رہے تھے ناں،، اس نے آئیبرو اچکا کر کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔
میری کل کائنات میری بانہوں میں ہے کوئین میں کیسے سو سکتا ہوں، اس کی حفاظت نہیں کروں گا،، جزبوں سے چور لہجہ تھا۔ مطلب وہ اس کے چکر میں ساری رات نہیں سو پایا تھا۔ مایا وش نے اس کی جزبے لٹاتی نگاہوں سے اپنی نگاہیں چرائیں اور دونوں اٹھ بیٹھے۔

ایورا کی پہرے دار انھیں ایک ٹھنڈے چشمے کے پاس لے کر گئے تھے۔ جہاں وہ فریش ہوئے اور ایورا نے انھیں تبدیل کرنے کو لباس بھی دئیے تھے۔
خاص مہمانوں کے لئے کھانے کا شاندار سا اہتمام کیا گیا تھا۔ انھوں نے کھانا کھایا تب ایورا انھیں لیے بیل سے نیچے آئی۔

سامنے ہی ایک گلابی رنگ پروں والا بہت بڑا یونی کورن کھڑا تھا۔
یہ تمھیں تمھاری منزل کے قریب لے جائے گا،، اوشن کنگ،،، ایورا نے آبدار کو ایسے مخاطب کیا تو وہ دونوں چونکے مگر جلد ہی سنبھل گئے۔

میجک مڈو کے بعد کا تمام راستہ بہت عجیب ہے جنہیں آپ لوگ چل کر پار نہیں کر سکیں گے اسی لئے یہ ہیو آپ کی مدد کرے گا،، ایک بات آپ دونوں ہمیشہ یاد رکھنا جو جیسا دکھتا ہے ویسا ہوتا نہیں،، ڈیپ فوریسٹ پار کرنے سے پہلے آپ کو وہاں کی ایک شرارتی پری کا سامنا کرنا پڑے گا،، وہ مختلف طریقوں سے مسافروں کو پریشان کرتی ہے،، کسی بھی روپ میں سامنے آ سکتی ہے، حتی کے انسانی روپ میں بھی پریشان کرتی ہے، اس کی پہیلی بوجھے بغیر اسے مطمین کرے بغیر آپ لوگ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے،،

ایورا انھیں بہت نرم، میٹھے اور دھمیے لہجے میں ان کے سفر کا تمام احوال سنا رہی تھی۔
آبدار اور مایا وش بہت غور سے سنتے رہے۔ ایورا نے مایا وش کا ہاتھ تھاما اور اسے ہیو تک لائی۔
آبدار کو اشارہ کیا وہ ہیو کی پیٹھ پر سوار ہوا۔ ہاتھ بڑا کر مایا وش کو اپنے آگے بٹھایا۔

اپنا خیال رکھئیے گا ڈریگن پرنسز اور یاد رکھئیے گا،، ایورا نے کہنا چاہا۔

جو جیسا دکھتا ہے اکثر ویسا نہیں ہوتا،، مایا وش نے ایورا کو جواب دے کر مطمئن کیا۔ ایورا مسکرا دی۔ تب ہیو اڑا تھا۔
ایورا نے انھیں نگاہوں سے اوجھل ہونے تک دیکھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سنجنا بکھری ہوئی سی اس کے بازوؤں میں تھی جب کسی عجیب سے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھلی۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے دروازے میں رنجنا زخمی حالت میں کھڑی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

سنجنا،، میری ہیلپ کرو پلیز،، میں بہت تکلیف میں ہوں،، یہ دیکھو اس نے میرے ساتھ کیا کیا،، میری ہیلپ کرو،،
وہ زاروقطار روتی بول رہی تھی۔ سنجنا جلدی سے اٹھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا جیک گہری نیند میں ابھی ابھی سویا تھا۔ سنجنا نے سوچا پہلے صورتحال معلوم کر لے کہ آخر ہوا کیا؟

سنجنا بیڈ سے اٹھی۔ اور رنجنا کی جانب لپکی۔ مگر وہ تب تک دروازہ کھول کر وہاں سے جا چکی تھی۔ سنجنا دروازے تک گئی اسے جھٹکے سے کھولنا چاہا تو وہ ہنوز اندر سے ہی لاکڈ تھا۔ اسے اتنی بھی عقل نہیں آئی کہ اگر دروازہ اندر سے ہی لاک ہے تو رنجنا اندر کیسے آئی۔ اور ابھی باہر کیسے گئی۔
مگر وہ تو اندھا دھند باہر بھاگ گئی تھی۔

سنجنا کی دلخراش چیخ سن کر بیک وقت جیک اور ادھر اپنے کمرے میں رنجنا کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ دونوں تیزی سے اپنے اپنے بیڈ سے اترے۔ اور باہر کی جانب بھاگے۔ دونوں اپنے اپنے روم سے باہر نکلے تو ایک دوسرے کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

سنجنا تمھارے روم میں ہے،، جیک دھاڑا۔
نن،، نہیں،،، کدھر ہے وہ،، رنجنا گھبرائی۔ مگر لاؤنج کی جانب سے آنے والی سنجنا کی چیخوں سے انھیں ان کے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ وہ دونوں لاؤنج کی جانب بھاگے۔

مگر لاؤنج تک پہنچ کر وہ لاونج کے اندر نہیں جا سکتے تھے۔ کیونکہ لاؤنج کا دروازہ ہی نہیں تھا۔ وہ لاؤنج کے ارد گرد ہر طرف بھاگے۔
سنجنا،، جیک چلایا۔
سنجنا کہاں ہو تم،، وہ بیرونی جانب کی کھڑی تک آئے تھے۔

اندر جھانکا تو دونوں کے چہرے خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑے تھے۔ اندر ملگجے اندھیرے میں سنجنا لاؤنج کے بیچ و بیچ زمین پر گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی بیٹھی تھی۔ اور کوئی غیبی وجود بری طرح اس کی گردن مروڑ رہا تھا۔

اے چھوڑو اسے،، میں زندہ نہیں چھوڑوں گی تمھیں،، چھوڑو مہری بہن کو میں نے کہا چھوڑ دو اسے،، رنجنا بے بسی سے چلائی۔ جیک کا بھی یہی حال تھا۔
تبھی رنجنا کی نظر لاونج میں لگے آئینے پر پڑی۔
جیجو،،، مرر میں دیکھو،، رنجنا چلائی۔ جیک نے دیکھا وہاں مرر میں سنجنا کے پیچھے ایک انتہائی بھیانک سیاہ پتلیوں والا خوفناک شکل کا سایہ اس کی گردن دبوچے کھڑا تھا۔ سنجنا تکلیف سے نیم مردہ سی بری طرح چیخ رہی تھی۔

جیجو،، کسی طرح اندر جاؤ،، یہ شیشے توڑو،،
جیک بھاگ کر اندر سے ایک بھاری سلاخ لے کر آیا۔ اور شیشہ توڑنے کی کوشش کرنے لگا جس میں وپ کامیاب بھی ہو گیا۔ جیک اندر کودا۔ اس کے پیچھے رنجنا۔

سایہ ان کی جانب متوجہ ہوا ۔ مگر اسے اپنا کام مکمل کرنا تھا۔ تبھی ہاتھ میں خنجر سے وہ سنجنا کا گلا کاٹنے والا تھا۔
جیجو یہ آئینہ توڑ دو جس میں یہ سایہ نظر آ رہا ہے،،رنجنا چلائی۔
جیک نے وہ سلاخ آئینے کی جانب اچھالی اور اتنے ہی وقت میں اس سائے نے سنجنا کی گردن ہر خنجر پھیر دیا۔

آئینہ چکنا چور ہوا تو سنجنا لڑھک کر ایک جانب گر گئی۔ مطلب وہ سایہ جا چکا تھا۔
رنجنا اور جیک سنجنا کی جانب لپکے۔ اسے پکڑ کر سیدھا کیا۔ ایک خون کا فوارہ سا تھا جو اس کی گردن سے بہہ رہا تھا۔ جیک نے اسے سیدھا کیا وہ بےجان سی لڑھک کر اس کے بازوؤں میں گر گئی۔

نو،،، نو،،،، نو،،،،، سنجنا آنکھیں کھولو،،، بات کرو مجھ سے،،، وہ دیوانہ وار ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھے دوسرے سے اس کی نبض ٹٹول رہا تھا جو کہ تھم چکی تھی۔
رنجنا دم سادھے ساکت آنکھوں سے بہن کا مردہ وجود دیکھے گئی۔ یوں تو وہ بہت سٹرونگ تھی مگر اس منظر نے اس کی روح فنا کی تھی۔ تبھی وہ بھی ہوش کھو کر دھڑام سے زمین بوس ہوئی تھی۔

سنجنا،،،،،،،،،،،،،،، وہ بار بار چلا کر اسے دیوانہ وار پکار رہا تھا۔ مگر دیر ہوچکی۔ وہ تو طویل تر رختِ سفر باندھتی اپنے آخری سفر کو نکل چکی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️