Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رومینیا کا یہ ایک ہسٹورک پیلس تھا جس کے ٹھیک سامنے ایک بڑا چرچ تھا اور جس کے چاروں اطراف حدِ نگاہ کرسچن سیموٹری تھا۔
شام کے گہرے سائے چاروں اطراف پھیلے تو قبروں پر لگی سلیبوں اور شام کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی تاریکی نے فضا میں ایک دہشت سی طاری کر رکھی تھی۔ قبروں پر لگے پودوں اور درختوں کی سرسراہٹ اور سناٹے کو چیرتی جھینگروں کی آوازیں عجیب لرزا اور ہیبت سی طاری کر رہی تھی۔ ایسے میں اس پیلس کے اندر سیاہ کوے پھڑپھڑاتے پھر رہے تھے۔ ہر طرف اندھیرا اور ہیبت سی طاری تھی۔

ایسے میں ایک ٹورسٹ لڑکی جو چرچ کا وزٹ کرنے آئی تھی۔ اپنا چھوٹا سا بیگ کندھے پر ڈالے چرچ میں گھوم پھر کر باہر نکلی۔ اپنی کار تک پہنچی تو عجیب سے احساس سے قدم وہیں جم سے گئے۔
ایک پیانو کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اور دھن اتنی خوبصورت تھی کہ کانوں میں جیسے رس سا گھلتا محسوس ہوا۔ اس لڑکی نے ادھر ادھر دیکھا۔ دھن کی آواز چرچ کے سامنے قبرستان سے پرے اس پیلس سے آ رہی تھی جس کی چھت پر کوے اڑ رہے تھے۔
وہ واپس مڑی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ وہاں خود جانا چاہتی تھی۔ کیونکہ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور اسے واپس اپنے ہوٹل پہنچنا تھا۔ مگر ایک ان دیکھی طاقت نے اسے اس پیلس کی جانب کھینچا اور قدم خود بخود دھن کا پیچھا کرنے لگے۔
Heyyy,,,,Is there anybody in the house?
اس نے چلا کر پوچھا۔ پھر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اپنے پیچھے جھاڑیوں میں کوئی سرسراہٹ سی محسوس ہوئی تو اس نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ مگر کوئی بھی تو نہیں تھا۔ میوزک کی آواز تیز ترین ہو گئی تھی۔
بھیانک چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ پیلس کا دروازہ کھلتا چلا گیا اس کے لئے جیسے دروازہ کسی نے کھولا تھا۔ ایک ڈر تھا ایک جھجھک مگر وہ اس قدر مجبور تھی کہ ایک ٹرانس کے عالم میں اندر داخل ہو گئی۔

چونکی تو تب جب اسی بھیانک چرچراہٹ کے ساتھ اس کے پیچھے دروازہ ٹھک سے اچانک بند ہوا تھا۔ اور کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا تھا۔ لڑکی کی دلدوز چیخیں اس بھیانک خالی کمرے میں گونجی تھیں۔ تبھی پھر سے کمرے میں ہلکی سی سرخ روشنی پھیلی تھی۔ لڑکی نے پیچھے مڑ کر طاہر بھاگنا چاہا مگر یہ دیکھ کر اد کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے کہ پیچھے تو دروازہ کوئی تھا ہی نہیں بس کمرے میں چار دیواری ہی تھی۔ لڑکی کا پعرا جسم خوف و دہشت سے پسینے میں نہا چکا تھا۔ چھت پر کسی عجیب الخلقت چیز کی غرغراہٹ سی سنائی دی تو اس نے ڈرتے کانپتے سر اوپر اٹھا کر دیکھا۔ چھت پر ایک کالی سی گھٹڑی سی چپکی ہوئی تھی جس میں سے دو بھیانک اور سر آنکھیں اس ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں۔
لڑکی کی دہشت سے بھر پور چیخیں ایک مرتبہ پھر اس کمرے میں گونجی تھیں اور وہ بیہوش ہو کر زمین بوس ہوتی چلی گئی۔ کسی ان دیکھی چیز نے اسے گھسیٹ کر اسی پیلس کے ایک ہال نما کمرے میں پہنچایا تھا۔

جہاں ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں چار کافن کے بیچ و بیچ آگ کا الاؤ دہکائے وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
پاس ہی وہی جواں سالہ لڑکی رسیوں سے جکڑی ہوئی لیٹی تھی اس کے منہ میں کاغذ ٹھونس کر اس کا منہ بند کیا گیا تھا۔ جو کمرے کا ماحول تھا لڑکی کو اپنی موت بلکل سامنے نظر آ رہی تھی۔ جو جو آج اس کے ساتھ ہو چکا تھا اور اب جو وہ بھیانک کریہہ شکل کے سائے اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ بری طرح کسی آسیبی چکر میں پھنس چکی ہے۔

چھوٹی سی مایا وش پاس ہی ایک کاٹ میں لیٹی ہوئی تھی۔ رو رو کر نڈھال اب وہ پر سکون سو رہی تھی۔

مکرو چہروں پر ایک خباثت بھری فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
تو آخر کار،، کتنے عرصے کے بعد ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو ہی گئے،، بلیک وچ نے اپنے بھدے سے ڈراؤنے جلے ہوئے چہرے پر فاتحانہ کمینی سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔
اس کا چہرہ جو جل کر مسخ شدہ سا تھا۔ چہرے سے جگہ جگہ ہڈیاں نظر آتی تھیں۔ اور جلے ہوئے اس کے چہرے میں کیڑے ادھر سے ادھر سفر کر رہے تھے۔

ہاں ہم کامیاب ہوئے شیطان لوسیفر کی مہربانی سے،، آگے بھی ہم اسے اسی طرح خوش کرتے رہیں گے جیسے اب ہم نے اسے کیا،، سامر نے سکون سے کہا اور ایک گندی اور غلیظ نگاہ کاٹ میں لیٹی اس چھوٹی سی بے تحاشا حسین شہزادی کی جانب دیکھا۔
اور اگر اس کنگ راج نے ہمیں ڈھونڈ لیا تو،، بلیک وچ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
کبھی نہیں،، ہو ہی نہیں سکتا،، یہ اس کا ڈریگن لینڈ نہیں ہے، جہاں اس کی طاقتیں کام کریں گی،، یہ ان بے وقوف انسانوں کی دنیا ہے جو کتنی آسانی سے ہم جیسے شیطانوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں،، سامر نے حقارت سے کہا۔

اس راج کی طاقت ہم نے ویسے بھی آدھی کر دی ہے اب اس کی کوئین اپنی بیٹی کے غم میں ادھ مری ہو جائے گی،، تو اس ڈریگن کنگ کی طاقت خود بخود جاتی رہے گی،، ہر چیز چھین لی ہم نے اس کی،، فیری ٹوپیا تباہ کر کے وہاں کے لوگوں کو اس کا دشمن بنا دیا ہے،، صرف فیری ٹوپیا کا تخت نشین ہی اسے اس کی بیٹی کا پتہ بتا سکتا تھا مگر وہ بھی کوئی نہیں چھوڑا ہم نے، کوئی اس کا ساتھ نہیں دے گا، ان کے تو فرشتوں کو بھی نہیں معلوم ہو پائے گا انھیں کہ یہ سب کرنے میں ہمارا ساتھ کس نے دیا، فیری ٹوپیا کا کوئی بہت قریبی کوئی اپنا، ہاہاہاہاہاہاہا
بلیک وچ اپنے مکروفریب اور اپنے غلیظ عزائم کی تکمیل پر شیطانی قہقہے لگاتی رہی۔

اب آگے کیا کرنا ہے سامر،، بلیک وچ نے پوچھا۔

سنو بلیک آگے جو بھی کرنا اب تمھیں کرنا ہے، لوسیفر کو اماوس کی سیاہ رات کو بارہ بجے پیدا ہونے والی لڑکیوں کی بلی دے دے کر یونہی خوش رکھنا ہے،، اور اٹھارہ سال کی ہونے سے پہلے میں اس پرنسز کو ہاتھ نہیں لگا سکتا، تو میں خود کو جادو کے زریعے ان سترہ سالوں میں ایک قبر میں دفن کر لوں گا، مگر جب اٹھوں گا تو یہ میری ہوگی،صرف میری ،میرا وجود مرفہ ہوگا مگر میری طاقتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہوگا، پھر ڈریگن لینڈ پر میرا قبضہ ہوگا، تمھیں اسے اسی دنیا میں یہیں انسانوں کے بیچ پالنا ہے، اس کا خیال رکھنا ہے میرے لئے، راج سے بدلا لینے کے لئے جو چاہے اس کے ساتھ کرنا جو چاہے تکلیف دینا، مگر اسے کوئی پہچان نا پائے، اس تک کوئی پہنچ نا پائے، اسے تڑپانا مگر یہ زندہ رہنی چاہئے، ہر قیمت پر، میرے لئے، ان بےوقوف انسانوں کے بیچ رہنا، انسان بن کر، تاکہ آسانی سے بَلی دی جا سکے، سمجھ رہی ہو ناں،،
سامر کاٹ کی جانب دیکھتا کسی درندے کی طرح رال ٹپکاتا بولا تھا۔ بلیک وچ نے پراسراریت سے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا۔

سنو بلیک وچ اگر میرے کہے کے مطابق کوئی ایک بھی کام نہیں ہوا تو اٹھتے ساتھ ہی اپنی شادی پر تمھارے خون کا شربت شیطانوں کو پیش کروں گا،،
سامر نے بھیانک سرخ آنکھیں لیے کہا۔
ایسا ہی ہوگا میرے آقا، میرے بھائی جیسے تم نے حکم دیا،، وہ سر جھکا کر تابعداری سے بولی تو سامر خوش ہو گیا۔ کھڑے ہو کر ایک کیڑوں سے بھرے پڑے کافن میں لیٹا اور وہ کافن زمین میں دھنستا چلا گیا۔

وہ لڑکی اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی اور بن جل کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ بلیک وچ اٹھی اور اس لڑکی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی۔
افسوس لڑکی پر بلی دینے سے پہلے مجھے تمھاری یہ چمڑی بہت اچھی لگ رہی ہے زرا اسے تو مجھے دے دو،، بلیک وچ نے اپنا پھدا منہ اس کے قریب کیا۔ لڑکی کی آنکھیں خوف کے مارے باہر ابلنے کو تیار تھیں۔ جب بلیک وچ نے سانس، اپنے اندر کھینچا اور لڑکی کی چہرے کی سکن اتر کر بلیک وچ کے چہرے پر لگنے لگی۔

وہ مکروہ قہقہے لگانے لگی تھی۔ جس سے کاٹ میں پڑی مایا وش کی آنکھ کھل گئی اور وہ پھر رونے لگی۔ بلیک وچ کو اپنے کام میں یہ مداخلت پسند نہیں آئی تھی تبھی وشہ کی جانب سرخ آنکھوں سے گھورا۔ اور پل بھر میں رات کے بارہ بجے لڑکی کا سر دھڑ سے الگ کر دیا۔
بلی دی جا چکی تھی۔

اب وہ مایا وش کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ جانے کونسا ظلم ڈھانے والی تھی ننھی جان پر۔
کاٹ سے اسے گھسیٹ کر گود میں بھرا اور اس کی سنہری آنکھوں اور بالوں کو نفرت سے دیکھا۔

سب سے پہلے تو تمھاری یہ آنکھوں کا رنگ اور بالوں کا رنگ بدلے گا پرنسز،، کیونکہ یہ کسی کی یاد دلاتا ہے مجھے،،اور مجھے غصہ آتا ہے، اور ویسے بھی تمھاری پہچان بھی تو چھپانی ہے،،
یہ بول کر اس نے کچھ منتر پڑھ کر مایا وشہ پر پھونکنے شروع کیے۔
ننھی سی جان کو اس قدر تکلیف ہوئی تھی کہ وہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔ جادو سے سنہری بال سیاہ ہو رہے تھے اور آنکھوں کا رنگ نیلا پڑ رہا تھا۔ مگر اب مایا وش کے آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون بہہ رہا تھا۔
پھر اس نے مایا وش کو تکلیف دینے کے دہکتے الاؤ کے قریب تر کر دیا۔ وہ اذیت سے تڑپتے چیخی۔ بلیک وچ مکروہ سی ہنسی ہنس دی۔ مگر پھر اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی کہ دہکتے الاؤ پر جیسے کسی نے بالٹی بھر پانی ڈالا ہو اور مایا وش کے آگ سے سینک پہنچتے وجود میں ٹھنڈک دوڑی ہو۔

بلیک وچ غصے سے پاگل ہوئی تھی۔ مایا وش کو کاٹ میں پھینک کر اس نے ہر حربہ آزما لیا تھا۔ مگر اس چیز کا کوئی سرا ہاتھ نا لگ پایا کہ یہ سب کیسے ہوا تھا۔ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے بال نوچنے کو ہوئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آدھی رات کا وقت تھا ازلان سلطان سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا اپنے بزنس کی کچھ فائلز دیکھ رہا تھا۔ ایلا کی دلسوز یادوں سے چھٹکارے کا اب یہی طریقہ تھا کہ وہ خود کو بہت مصروف کر لے تو بہتر تھا۔ اب اس وقت نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی سو خود کو آفس کے کام میں الجھا لیا۔

مگر ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب اسے اپنے ساتھ والے اپنے شہزادوں کے کمرے سے دلخراش چیخوں کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ تیزی سے ان کے روم کی جانب بھاگا تھا۔ اندر آیا تو اس کے دونوں شہزادوں میں سے ایک بری طرح بستر پر لیٹا تڑپ رہا تھا اور چیخ رہا تھا۔
وہ بھاگ کر بیڈ تک آیا۔ اور اس کے اوپر جھکا۔
پرنس،، میرے شہزادے کیا ہوا بچہ ڈیڈ کو بتاؤ،،، اس نے اسے بلانے کی کوشش کی۔
مگر وہ تو بری طرح تڑپتا رہا جیسے اسے جانے کتنی اذیت دی جا رہی تھی۔ تب ازلان نے اسے کھینچ کر سینے میں بھینچا۔

ہاں اسے یاد آیا ایلا نے بتایا تھا جو اوشن کا اگلا کنگ ہوگا وہ اپنی کوئین سے دل، جسم اور روح سے جڑا ہوگا۔ جب جب اس کی کوئین کو تکلیف ہوگی وہ بھی تڑپے گا۔

افففففف میں سمجھ گیا میری جان کے اوشن کے اگلے کنگ تم ہو، جانتا ہوں مائی پرنس،، کہ تمھاری پرنسز تکلیف میں ہوگی،، ازلان نے بولتے اس کا جسم دیکھا جو نیلا سا پڑ رہا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسوؤں کی بجائے خون ٹپک رہا تھا۔

ازلان سلطان اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر تڑپا تھا مگر گھبرایا یا ڈرا نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا اسے دنیاوی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ مگر وہ اس وقت تکلیف میں تھا تڑپ رہا تھا اور ازلان بے بسی سے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرے دیکھتا رہا۔
جب اس کے ننھے سے پرنس کا جسم گرم ہو کر دہکنے لگا۔ ازلان کا اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ دوسرا پرنس بھی جاگ کر رونے لگا تھا۔ تب اس نے اپنے بازوؤں میں موجود اپنے بیٹے کو اٹھایا اور واش روم میں جا کر اس باتھ ٹب کے پانی میں ڈبو دیا۔
یہ وہ واش روم تھا جو اس نے بہت سیکرٹلی اپنے دونوں جل پری زاد شہزادوں کے لئے بنوایا تھا جس میں تقریب دس فٹ لمبا اور پانچ فٹ چوڑا باتھ ٹب تھا۔ جو تقریباً تین فٹ گہرا بھی تھا جہاں اس کے دونوں پرنس دنیا سے چھپ کر پانی میں وقت گزارا کرتے تھے۔

اسے پانی میں ڈبونے سے راحت سی ملی تھی جو اس کے چہرے سے صاف چھلک رہی تھی یا شاید اسے پانی میں ڈبونے سے کسی اور کو راحت ملی تھی۔
وہ کافی دیر زیرِ آب لیٹا سکون محسوس کرتا رہا۔ ازلان اسے پانی میں ہی چھوڑ کر اپنے روم میں چلا آیا کیونکہ وہ جانتا تھا اب وہ پرسکون سا ہو کر پانی میں ہی سو جائے گا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سمندر کی تہہ میں ایک الگ ہی جہان آباد تھا جسے اوشیانہ کہتے تھے اس کے تخت پر بیٹھی تاشہ شیطانی سی ہنسی ہنستی ایلا کے وفاداروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر خوش ہو رہی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک جل پری اپنی گود میں ایک ننھی سی جان کو اٹھائے اس تک لائی۔
تاشہ کا غصے اور غیض وغضب سے برا حال ہو گیا۔۔
ہٹاؤ ان باغیوں کا یہاں سے،، اسے بھلا کہاں گوارا تھا اس کا یہ شیطانی روپ اس کی چھوٹی سی پرنسز روزیلہ دیکھے۔ تبھی اس نے خونخوار نگاہوں سے اس جل پری کو دیکھا جو اسے بغیر بتائے روزیلہ کو باہر لے آئی تھی۔ یہ دیکھ اس غلام جل پری کی جان حلق میں اٹکی تھی کہ اب اس معمولی سی گستاخی کے لئے یقینا اسے دردناک سزا ملنے والی تھی۔

میری پیاری پرنسز، لہروں کی رانی اور اوشیانہ کی اگلی کوئین،، اس نے اپنی خوبصورت ترین پرل کی طرح دمکتی پرنسز کو گود میں بھرا۔
کوئین یہ رو رہی تھی اور ایلا سے ملنے کی ضد کر رہی تھی تبھی،،

دفع ہو جاو یہاں سے،، تاشہ ایلا کا نام سن کر دھاڑی تھی۔ وہ جل پری وہاں سے غائب ہوئی تھی مگر وہ اپنی ایلکٹرک فشز کو اسے سزا دینے کا خباثت بھرا اشارہ کر چکی تھی۔

مما یہ سب کیا ہو رہا تھا،، وہ ننھی سی جان لوگوں کی چیخ و پکار سن کر پریشان ہوئی تھی۔

“کچھ نہیں میری جان،، میری پرنسز،، یہ بہت برے لوگ تھے جنھیں میں ان کی برائی کی سزا دے رہی تھی،، تاشہ نے اسے بازوؤں میں بھرتے کہا۔
“مما مجھے ماسی سے ملنا ہے مجھے ایلا کے پاس جانا ہے پلیز مجھے اپنے پرنس برادرز کے ساتھ کھیلنا ہے،، وہ ضدی لہجے میں بولی۔ وہ جب سے یہاں سے گئے تھے وہ انھیں بہت زیادہ مس کر رہی تھی۔ جبکہ یہ سن کر تاشہ کے جسم و جاں میں غصے کی ایک لہر دوڑی تھی۔

ایلا بہت بری ہے پرنسز،، اس نے اوشیانہ کو تباہ کر دیا، وہ یہاں سے چلی گئی ہے، اب نہیں آئے گی،، تم بھول جاؤ اسے،، ہم برے لوگوں کو یاد نہیں رکھیں گے،، اور وہ دونوں پرنس برادر نہیں ہیں ان میں سے ایک روزیلہ کوئین کا کنگ بنے گا،، سمجھیں،، یاد رکھنا ہمیشہ،،

تاشہ نے اس کے گھنے نیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا۔ اس نے حیرت سے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔ وہ ماسی جس نے کبھی کسی سے اونچے لہجے میں میں بات تک نہیں کی تھی وہ کسی پہ ظلم کیسے کر سکتی تھی۔ اس کے ننھے سے دماغ نے ماں کی بات قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

تبھی اب وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی۔ وہ اتنی سی بھی ماں کا جھوٹ سمجھ چکی تھی۔ ننھے زہن میں گرہ لگ چکی تھی۔
میں ماسی کو ڈھونڈوں گی، ان سے ضرور ملوں گی اور سب پتا کرون گی،،
زہن میں معصومیت سے سوچتے اگلا لائحہ عمل ترتیب دیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️