No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ازلان سلطان اپنی پرسنل بوٹ میں اسی ہٹ پر جا رہا تھا۔ جسے اب اس نے خرید کر مزید بڑا اور خوبصورت بنا دیا تھا۔ اور اسے نام دیا تھا ایلیا ہٹ کا۔۔ پانچ سال سے زندگی بہت بہت ہی حسین ہو گئی تھی جب سے وہ اس کی زندگی میں داخل آئی تھی۔ اور اسے کے چند ماہ بعد ہی الله تعالیٰ نے اسے دو جڑواں بیٹوں سے نوازا تھا۔ اب تو وہ پانچ سال کے ہونے والے تھے۔ ازلان سلطان نے اس بات کو نظر انداز ہی کیا تھا کہ اس کی فیملی زیادہ تر دنیا کی نظر میں آئے۔۔ اس نے انھیں زمانے سے اوجھل اسی island پہ رکھا تھا۔
وہ island سے بزنس کے سلسلے میں سنگا پور گیا تھا جب اسے ایلا کا ایمرجنسی میسج موصول ہوا تھا اس نے اسے بلایا تھا۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی سی لگ رہی تھی۔ اور ازلان مسلسل پریشان تھا اب تو ایلا سے دوبارہ رابطہ تک نہیں ہو پا رہا تھا۔
یہ رات بہت پراسرار تھی۔ وہ island lankayan کے قریب پہنچا تو دیکھا سمندر میں بے تحاشا طغیانی تھی۔ سمندری طوفان جیسے ہر چیز تہس نہس کرنے کہ در پہ تھا۔ اوپر سے آسمان سے بھی طوفان بارش کی صورت برس رہا تھا۔ ازلان بہت گھبرایا۔ بمشکل بوٹ کو قابو کر کے اسے بیچ تک لایا۔
تیز طوفانی بارش میں وہ بمشکل ہٹ تک پہنچا تھا۔ ہٹ تک پہنچا تو بے تحاشا گھبرایا۔ کیونکہ ایلا کی چند وفادار ساتھی جل پریاں ہٹ سے باہر پہرا دے رہی تھیں۔ اس کو سامنے سے آتا دیکھ راستہ دے دیا۔ وہ بھاگم بھاگ اندر آیا تھا مگر اندر کا دل سوز نظارا دیکھ ازلان سلطان کی جان لبوں پر آئی تھی۔
سامنے اس کی زندگی جینے کی وجہ زخموں سے چور بستر پر نیم جان لیٹی بمشکل سانس لے رہی تھی۔ اور پاس ہی جل پریوں کی گود میں اس کے شہزادے بری طرح رو رہے تھے۔
ازلان ایلا کی جانب لپکا ۔ اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اس وفا کے پیکر کے نرم لمس کے احساس سے وہ لرز اٹھی تھی۔
ایلا میری جان،، یہ کیا ہو گیا،؟
اس نے بمشکل اپنی آنکھیں نیم وا کر کے اس آدم زاد کو دیکھا جس نے اس سے وفا نبھا کر دکھائی تھی۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ سو اکھڑتی سانسوں کے بیچ بولتی چلی گئی۔
ازلان مم،،،، میرے پاس وقت نہیں،، اب میری آخری امید آپ ہی ہیں اس وقت،،،،،،،، اوشن کی سلطنت میں بغاوت ہوئی ہے،،،،،،،،،،، اور اس کی زمہ دار میری سگی بہن ہے،،،،،،،،، اس نے مجھے ایک انسان سے محبت کرنے کے جرم میں ،،،،،،،،میری رعایا کو میرے خلاف بھڑکا دیا،،،،،،،، مگر جب مجھے معلوم ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی ازلان،،،،،،، ہمارے پاس وقت نہیں،،،،،،، آپ کو یہاں سے جانا ہوگا،،،،،، مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں،،،،،، ابھی سب سے پہلے اوشن کے تخت کے اگلے جانشینوں کی حفاظت سب سے ضروری ہے،،،،،،،،،،، نہیں تو اوشن تباہ ہو جائے گا،،،،،،،،، وہ کچھ بھی باقی نہیں چھوڑے گی،،،،،، ازلان
اور تمھیں ایسے کیوں لگتا ہے ایلا کہ میں تمھیں یہیں چھوڑ کر بزدلوں کی طرح چلا جاؤں گا، ازلان نے اس کی بات بیچ میں ہی اچکی۔ “تمھاری حفاظت نہیں کروں گا، تمھارے لیے لڑوں گا نہیں، سوچ ہے تمھاری ، میں کہیں نہیں جا رہا ایلا،
ازلان بے بسی کی انتہا پہ کھڑا دھاڑا تھا۔
آپ سس،،، سمجھ نہیں رہے،،ازز،،،،،،، ازلان،،، میں کہیں نہیں جا سکتی،،،،،،،، مجھ پر جادو ہوا ہے،، گئی تو مر جاؤں گی،،،،،،،، میں اس کی قید میں ہوں،، پابند ہوں،، پر ہمارے پرنس نہیں،،،، اور آپ ایک انسان ہیں،،،،،،،، اس کی کالی جادوئی طاقتوں سے مقابلہ نہیں کر پائیں گے،،،،،، آپ کو میری اور ان کی قسم ازلان جائیے یہاں سے،،،،، آپ کو ہمارے شہزادوں کی خاطر یہ قدم اٹھانا ہوگا،، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں،،،، ازلان،،، آپ کو میری اور ہمارے شہزادوں کی قسم،،،،
ایلا تڑپتی سسکتی اس کے آگے ہاتھ جوڑ گئی تھی۔ ازلان کی آنکھوں سے آنسو گر کر ایلا کے حسین ترین مگر مرجھائے چہرے پر گر رہے تھے۔
آگے بڑھ کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا تھا۔ بے تحاشا تڑپ کر ماتھے پر لب رکھے۔ پھر اس کی نم پلکیں چومیں تھیں۔ پھر گالوں پر بوسے دئیے۔ دل تھا کہ کب بھرا تھا نا کبھی بھر سکتا تھا۔ اس جل پری کی محبت سے بھرا پڑا تھا ازلان سلطان کا جام،، کے اب کسی چیز کی زرا بھی گنجائش باقی نہیں تھی اس کی زندگی میں۔
میں تمھیں جیتے جی مجھے خود سے اس طرح دور کرنے پر کبھی معاف نہیں کروں گا ایلیا ازلان سلطان ،، کبھی نہیں،، ازلان کا دل کرلایا تھا روح تڑپی۔
ایلا زخمی سا مسکرائی تھی۔ “اور میرے جیتے جی آپ کبھی میری سانسوں سے الگ نہیں ہو سکتے ازلان،، آپ کی خوشبو میری رگ رگ میں سمائی ہے،،
بری طرح بے قرار ہوتے ازلان نے اس کے نرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور پیاسے دھڑکتے پھڑکتے دل کو راحت پہنچائی۔
ایلا بھی آخری مرتبہ اس محبت اور شدت بھرے جام کو اس نرم گرم لمس کو اپنی روح میں بسانا چاہتی تھی۔ تبھی اس کا کالر دبوچ کر اسے اور اپنی جانب کھینچا۔ وہ زخموں سے چور تھی۔ مگر اب جیسے سکون سا مل گیا تھا۔
ازلان پیچھے ہٹا تھا۔ لال انگارا آنکھوں میں وحشت ہی وحشت تھی۔ اگر اس کے اکیلے کی بات ہوتی تو وہ اس کی وفاداری اتنی تھی کہ ایلا کے ساتھ اپنی بھی جان دے دیتا مگر کاش وہ ایک باپ نا ہوتا جس کے شہزادے ہمک ہمک کر اس کے پاس آنے کو بے تاب تھے۔ اب اس ظالم جل پری نے اسے اپنی قسم کا پابند بھی تو کر دیا تھا۔ ازلان کے اشارہ کرنے پر جل پریوں نے ان دونوں کو اازلان کی گود میں بھرا۔
ازلان،، یہ عام انسانی،،،،،،، بچے نہیں ہیں،،،،، یاد رکھئے گا ان میں بے شمار،،،،،،،، پر اسرار طاقتیں ہوں گی،،،،،،، جنھیں آپ نے انسانوں سے چھپانا ہے،،،،،، بہت زیادہ چھپا کر رکھنا ہے آپ نے انھیں،،،،،، ان کی شادیاں ان لڑکیوں سے ہوں گی،،،،، جن کے جسم پر ڈریگن کے ٹیٹو ہوں گے،، آپ سمجھ،،،، رہے ہیں ناں،،،،،،،یہ لاکٹ اپنے گلے میں پہن کر رکھئے گا،،،،،، بارہ سال کے ہونے پر،،،،،،،، اس لاکٹ میں موجو،،،،،، سفوف انھیں گھول کر پلا دیجئے گا تو انھیں اپنی حقیقت،،،،، اپنے جینے کا مقصد خود بخود معلوم ہو جائے گا،،،،،،، ایلا نے بمشکل تڑپتے کہا تو ازلان نے اثبات میں سر ہلایا۔
باہر ایسے جیسے بھگدڑ سی مچی تھی۔ چیخ و پکار کی آواز سنائی دی۔
ازلان جائیں،،، ایلا نے چیخ کر کہا۔ ازلان نے درد و اذیت سے بے حال ہوتے ایک آخری درد بھری نگاہ اپنی زندگی پر ڈالی اور بچوں کو اٹھا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ ایک انجانی سی طاقت نے ان پر حملا کیا تھا مگر ایلا کے وفاداروں اور مختلف سمندری مخلوق نے اس حملے کا مقابلہ کیا تھا جیسے اپنے ہونے والے کنگ کی حفاظت کر رہے ہوں۔۔
ازلان بمشکل بوٹ تک پہنچا اور بوٹ میں داخل ہو گیا۔ ایک مرتبہ پھر ایک ان دیکھی طاقت نے بوٹ کو بڑی تیزی سے وہاں سے دور بہت دور دھکیلا تھا۔ ۔ازلان اپنے شہزادوں کو سینے میں بھینچ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا جو حیرت و تعجب سے اپنے بابا کو دیکھ رہے تھے کہ آخر وہ کیوں اتنی شدت سے رو رہے ہیں۔
پیچھے ایلا نے سرخ ڈورے لیے آنکھیں موند کر تکیے پر سر گرایا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج اور وشہ زمین پر آئے تھے۔ سب سے پہلے راج ایلا سے ہی ملنا چاہتا تھا۔ تبھی وہ سب سے پہلے ملائشیا اسی island پر اترے تھے۔
وشہ کی گود میں مایا وش پوری طرح پرسکون سی سو رہی تھی۔ راج وشہ کو لے کر آگے بڑھا مگر کچھ غیر معمولی محسوس ہونے پر ٹھٹھک کر رک گیا۔
راج کو محسوس ہوا تھا جیسے کوئی بری طاقتیں حملہ آور ہوئیں اور اس کی پاورز سے ٹکرائیں ہیں۔۔
وشہ تم یہیں رکو،، میں دیکھ کر آتا ہوں کے کیا گڑبڑ ہے آخر،،، راج نے کہا تو وشہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ راج ڈریگن بن کر آسمان پر اڑا تھا۔ فضا میں ڈریگن کی ایک دل دہلا دینے والی دھاڑ کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔ بری پاورز کو فی الوقت میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
راج زمین پر اترا اور وشہ کو لے کر آگے بڑھا۔ دربانوں نے ادب سے جھکتے کنگ راج اور کوئین وشہ کے لئے ہٹ کا دروازہ کھولا تھا۔ راج پریشانی سے اندر داخل ہوا تو ایلا کی یہ حالت دیکھ کر راج اور وشہ بے حد پریشان ہوئے تھے۔
ایلا،،، ایلا پلیز آنکھیں کھولو،، راج اور وشہ اس کے قریب بیٹھ کر اس کے اوپر جھکے۔ ایلا نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تھیں۔
ایلا تمھارا یہ حال کس نے کیا بتاؤ مجھے،، میں چھوڑوں گا نہیں اسے،، راج کی آنکھوں میں شدید طیش کے عالم میں آگ بھڑکی تھی۔
مگر ایلا تو جواب دینے کی بجائے گہرا مسکراتے وشہ کی گود میں اس سنہری بالوں ، سنہری آنکھوں سنہرے جسم والی اس پری کو دیکھے جا رہی تھی۔
ایلا نے اپنی جل پریوں کو اشارا کیا تھا تو انھوںنے نے اسے تکیے پر نیم دراز کیا۔ ایلا نے ہاتھ بڑھا کر وشہ کی گود سے سوتی ہوئی مایا وش کو نرمی سے اپنی گود میں بھرا تھا۔
خوش آمدید اوشن کوئین،،، ایلا نے نرمی سے کہا تو راج اور وشہ نے حیران ہو کر ایلا کو دیکھا جو اب مایا وشہ کو پیار کر رہی تھی۔ روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا تھا اور مایا وش کے سینے پر ڈریگن کا ٹیٹو بڑی آب و تاب سے چمکا۔
ایلا،،، یہ سب ،،؟ ہم تو تمھارے پرنس کے بارے میں بتانے آئے تھے کہ،،،،،
میں سب جانتی ہوں کنگ راج،،،،،، بتانے کی ضرورت نہیں،،،،،،، میرے دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے تھے،،،،،اور ان دونوں کا نصیب تمھاری دونوں بیٹیوں سے جڑا ہوگا،،،،،،،، اور اس وقت میری گود میں میرے دونوں بیٹوں میں سے،،،،، کسی ایک کی کوئین موجود ہے،،،،،، وہ دونوں ہی بے پناہ پر اسرار طاقتوں کے مالک ہوں گے،،،،،،، مگر اوشن کے تخت کا اگلا کنگ وہی بنے گا،،،،،،، جسے یہ کوئین اپنے لئے جیون ساتھی چنے گی،،،،،،، کیونکہ اس کا نصیب پہلے سے ہی ڈریگن لینڈ اور اوشن سے جڑا ہے،، یہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لئے بنائی گئی ہے،،،،، اس ایک کے دل کی دھڑکن،،،، اس کے دل کی دھڑکن سے جڑی ہے،،،،، ان کی روحیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں،،،، حتی کے ان کی زندگی موت ایک دوسرے سے جڑے ہیں،،،،، اگر ایک کو کھروچ بھی پہنچی تو تکلیف دوسرا اٹھائے گا،، یہ اس حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے،،،
ایلا نے بہت دھیمے لہجے میں انھیں سچائی بتائی تھی۔
مگر ایلا وہ ہے کہاں؟ راج نے بے چینی سے پوچھا تو ایلا نے کرب کی انتہا سے آنکھیں زور سے بند کیں اور راج اور وشہ کو خود پر بیتنے والی کہانی بتا دی۔
وہ اپنے بابا کے ساتھ چلے گئے،،،،،،، اگر یہاں ہوتے تو ابھی پتہ چل جاتا کہ ان میں سے ہماری پیاری سی کوئین کا کنگ کون بنے گا،،،،،،، مایا وش کے قریب جانے سے ان دونوں کے ہی سینوں پر ٹیٹو شائن کریں گے،،،،،،، مگر مایا وش کا خود کا ٹیٹو صرف اس کے کنگ کے قریب آنے سے شائن کرے گا،،،،، یہ اشارا ہے اس بات کا کہ مایا وش کا نصیب اوشن کے تخت سے جڑا ہے،، جیسے کہ ابھی میرے چھونے سے مایا وش کا ٹیٹو شائن کیا کیونکہ اب بھی اوشن کی کوئین میں ہی ہوں،،
مگر کوئین ایلا ہم تو ان دونوں کی ڈریگن لینڈ کی رسموں کے مطابق شادی کروانے کی نیت سے یہاں آئے تھے تاکہ ان کی پاورز ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور انھیں کوئی نقصان نا پہنچا پائے مگر اب،،، وشہ نے پریشانی سے کہا تو ایلا مسکرا دی۔
جیسا کہ میں نے ابھی بتایا،،،،،،،، یہ دونوں ویسے ہی ایک دوسرے سے روحوں سے جڑے ہیں،،،،،،، اگر ایک مشرق اور دوسرا مغرب میں بھی ہوگا تب بھی یہ ایسے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں گے کہ ایک دوسرے کے پاس کھنچے چلے آئیں گے،،
ایلا ہمارے ساتھ چلو تم ٹھیک نہیں ،، وہ مار ڈالے گی تمھیں،، پلیز،، راج نے التجا کی۔
نہیں جا سکتی،، اور نا ہی میری بہن تاشہ مجھے مار سکتی ہے نا میرا کچھ بگاڑ سکتی ہے،،، وہ صرف مجھے قید کر سکتی ہے،،،، تو کر لے مجھے پرواہ نہیں،،،،
مگر ایلا پھر تم نے ازلان سے اپنی موت کا جھوٹ کیوں بولا،،، راج اس سے غصہ ہوا تو ایک مرتبہ پھر ایلا نے تکلیف سے دہرے ہوتے پہلو بدلا۔
تاکہ انھیں صبر آ جائے،، اگر میں یہ کہتی کہ میں زندہ رہوں گی تو وہ کبھی نا کبھی مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے،،،،،،، مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرتے،،،،،،،،، تب میں انھیں روک نا پاتی،،،،،، اور میں ان کی اور اپنے بچوں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی،،،،،،،، ۔
ایلا نے کہا تو وشہ کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔
باہر ایک مرتبہ پھر ایک طوفان سا اٹھا تھا۔
راج میں کہیں نہیں جا پاؤں گی،،،،تاشہ بہت طاقتور ہے اس وقت ،،تمھیں تو نہیں مگر تمھارے ہوتے ہوئے ہی اس ننھی سی کوئین کو ضرور نقصان پہنچا سکتی ہے،،،،،، تمھیں اب ضرور جانا ہوگا،،،،،، اوشن کوئین کی حفاظت کرنا ہوگی،،،،،، جب تک میرا بیٹا اس تک نا پہنچے،،،،،، پھر تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کر لے گا راج جاو یہاں سے،،،،،، ایلا نے کہا تو راج اور وشہ نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
وشہ نے نرمی سے ایلا کی گود میں سے مایا وش کو اٹھایا۔ ایلا نے ایک حسرت بھری نگاہ سے اس ننھے سے وجود کو دیکھا۔
راج اور وشہ پرنسز کو وہاں سے لیے نکلتے چلے گئے تھے۔۔
ایلا کے وجود کے گرد زنجیریں جکڑی گئین تھیں اور اسے قیدی بنا کر سمندر کے زندان میں کھینچ لیا گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
