Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

روزیلہ دو دن سے خوف کے مارے اپنے کمرے میں بند تھی۔ اس سے خوفزدہ ہو کر۔ کہ اب تو وہ اس کی حقیقت پوری طرح جان چکا تھا بلکہ دیکھ بھی چکا تھا تو جھٹلانا تو ناممکن ہی تھا۔ اس دن جب وہ ہوش میں آئی تو خود کو اپنے کمرے میں اپنی ٹانگوں سمیت اپنے بیڈ پر پایا جبکہ اس کا لاکٹ بھی اس کے ہاتھ میں موجود تھا۔ مطلب وہ اسے موتی کھلا کر پانی سے نکال کر اس کے کمرے تک چھوڑ کر گیا تھا۔
اور اس کا یہ بھی مطلب تھا کہ اس نے دوسروں سے اس کی حقیقت بھی چھپا لی تھی۔ مگر کیوں؟ وہ چاہتا تو اس کا راز افشا کر کے اسے اس گھر سے نکلوا سکتا تھا مگر،،؟

سوچ سوچ کر وہ پریشان ہو چکی تھی۔ سگی ماں نے یہ کونسی مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔ مگر اب کمرے میں سکون بھی نہیں آ رہا تھا تبھی وہ جھجھکتی پچھلی جانب سے کمرے سے باہر نکلی تھی۔ پورے پیلس میں ہو کا عالم تھا۔ مگر اس سناٹے میں سمندر کی لہروں کی شورش زدہ تیز آوازیں گونج رہیں تھیں۔ اس کا دل مچلا۔

یونہی ننگے پیر وہ گھوم کر پچھلے لان سے اگلے لان تک آئی تھی۔ اور اب رخ باہر کی جانب تھا۔ وہ مین گیٹ کراس کرتی باہر نکلی تو بہت خوبصورت دلکش نظارا اس کا منتظر تھا۔ سرد ہوائیں سمندر کے پانی سے اٹھکھیلیاں کرتی شور مچا رہی تھی۔آسمان پر بادل چھائے تھے۔ وہ مسکراتی آگے بڑھی۔ سمندر کی گیلی ریت اب پاؤں کو چھو رہی تھی۔ سمندر کی لہریں بھی پیروں سے ٹکرانے لگیں۔ سمندر کا پانی جسم کو ٹچ ہوا تو ایک سکون سا محسوس ہوا۔

وہ تھوڑی آگے بڑھی۔ جہاں ایک بڑے پتھر سے نیچے سمندر کی گہرائی تھی۔ اور زمین پر لیٹ گئی یوں کے جب بھی سمندر کی لہر اٹھتی پانی چہرے کو بھگو کر واپس چلا جاتا۔ ہاتھ پانی میں نرمی سے سموتھلی لہراتی رہی۔ وہ سکون سے ایک لمبی سی سانس بھرتی آنکھیں موند گئی۔
کچھ ہی دیر بعد قدموں کی آہٹ قریب تر آئی اور وہ آ کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا۔ وہ پانی سے کھیلنے میں مگن اتنی مدہوش تھی کہ کسی کے آنے کی خبر ہی نا ہوئی۔ جب ہوئی تب بہت دیر ہو چکی تھی۔

روزیلہ بے تحاشا گھبرائی تھی تبھی اس گھبراہٹ میں اس نے پانی والی گہرائی میں چھلانگ لگا دی تھی۔ جبکہ عائش کو اس کی بے وقوفی پر بہت ہنسی آئی۔ عائش نے اس کے پیچھے پانی میں چھلانگ لگائی تھی۔
عائش سمندر میں ڈوب کر آج اپنی مرضی سے پہلی مرتبہ جل پری زاد میں تبدیل ہوا تھا۔ اور یہ کافی عجیب تھا۔
اب جبکہ روزیلہ انسانی روپ میں تھی تو اس سے زیادہ تیزی سے نہیں تیر سکتی تھی۔ ہاں مگر عائش میں اتنی پاورز خرور تھیں کہ وہ جل پری بھی ہوتی اس وقت تو اس سے زیادہ تیز نہیں ہو سکتی تھی۔

عائش نے جلد ہی اسے بالوں سے پکڑ کر ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے زیرِ پانی ایک پتھر سے لگایا تھا۔ وہ عائش کا یہ روپ دیکھ کر بھی خوفزدہ ہوئی تھی۔
پہلی اور آخری بار پوچھوں گا، بتاؤ کون ہو تم؟ اور یہاں کیوں اور کس مقصد کے تحت آئی ہو،، عائش نے درشتگی سے پوچھا تھا۔ مگر آنکھیں اس کی لرزتی خوف سے بند پلکوں کی لرزش میں الجھ گئیں تھیں۔
وہ میں،، غلطی سے ادھر آ گئی اور وہ انسان مم،، میرے پیچھے پڑ گئے،، میں بھاگی تت،،، تو آپ لوگوں سے ٹکرا گئی،، میں اپنے گھر سے بب،، بہت دور نکل آئی اور گم ہو گئی،، کک،، کوئی مقصد نہیں میرا،،، آ،،،، آپ یقین کریں،،،
وہ اٹک اٹک کر بولی تھی۔ سچویشن ایسی تھی کہ وہ عائش کے کشادہ سینے سے لگی تھی۔ اسی لئے اب نگاہیں جھکا کر بات کر رہی تھی۔ عائش اس کے پورے شہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھا۔

اور اپنا یہ روپ کیوں بدلتی ہو،، اس کا کیا خاص مقصد ہے،، اور ہمیں ہی کیوں ملیں،، عائش اب بھی مطمین نہیں ہو پا رہا تھا۔
یہ لاکٹ،،،،،، میری ماسی نے مجھے،،،،،،،، حفاظت کے لئے دیا تھا،، اب انسانوں کے درمیان ایک جل پری بن کر گھوموں،، اسی لئے روپ بدلتی ہوں،، اور میں اتفاق سے ادھر آئی،، مم،، مجھے نہیں پتا آپ کون ہیں،،
روزیلہ کا جھوٹ بولتے ہوئے دل ڈگمگایا ۔ مگر جی کڑا کر کے زبان نہیں پھسلنے دی۔

میری ایک بات کان کھول کر سنو لڑکی،، عائش نے اسے وارن کرنا ضروری سمجھا “اگر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ تم یہاں کسی مقصد کے تحت آئیں تھیں تو وہ حشر کروں گا کہ نا پانی میں رہنے کہ قابل رہو گی نا زمین پر سمجھیں،،؟ عائش نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے تھے۔

عائش چونکا تھا۔ کیونکہ اس کی توجہ اپنے چاروں اطراف گھومی تو دیکھا پتھروں سے ہزاروں کی تعداد میں (lobsters) لوبسٹرز رینگ کر ان کے آس پاس پہنچ چکے تھے۔ روز انھیں دیکھ کر سہمی تھی اور لاشعوری طور پر عائش سے لگی تھی۔ کیونکہ وہ تعداد اور جسامت میں بڑے بڑے تھے۔ اور اب اپنے کلاز اور اینٹیناز پھیلا پھیلا کر انھیں دیکھا رہے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ اشتعال میں ہیں اور حملہ آور ہونے والے ہیں۔ شاید یہ علاقہ ان کا تھا جن میں وہ دونوں گھس آئے تھے اور انھیں یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔

ی،،، یہ حملہ کرنے والے ہیں عائش،،،،، روز، روہانسی ہوئی تھی۔ ڈرپوک اور نازک دل جل پری پہلے کب ان جھمیلوں اور مصیبتوں میں پڑی تھی. جبکہ سامنے کھڑے اس شخص کی ساری توجہ خود کے سینے سے لگی اس ڈرپوک جل پری کی جانب تھی جس کے سرخ نازک لبوں سے ابھی ابھی اس کا نام ادا ہوا تھا اور اطمینان قابلِ دید تھا۔

ربش،،، یہ حملہ کریں گے،،؟ جو میرے دوستوں کی مرغوب غذا ہیں،، وہ اطمینان سے بولا تھا۔
ادھر شاید ان لوبسٹرز کو بھی اس کی بات پسند نہیں آئی تھی تبھی ہزاروں کی تعداد میں وہ ان دونوں پر پل پڑے تھے۔ روز ایک چیخ کے ساتھ بہت بری طرح اس کے سینے سے چپکی تھی منہ اس کی گردن میں دیا۔ عائش جانے کیوں پر مسکرایا تھا۔ اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کر سختی سے اسے خود میں بھینچا تھا۔

A very cowardly mermaid,,,,,,,,,
اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ مگر اس پر اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ ہنوز خوف سے لرز رہی تھی۔ عائش کا اطمینان تو اس لئے برقرار تھا کہ وہ ان تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ ایک حصار سا تھا جس سے وہ ٹکرا ٹکرا کر دور اچھل رہے تھے۔ عائش نے ہاتھ کے ایک جھٹکے سے اشارا کیا تھا۔ وہ لوبسٹرز سمندر سے نکل کر ساحل سمندر سے دور اچھل کر گرے تھے۔ اب انھیں پرنس سے گستاخی کی سزا کے طور پر انسانوں کی خوراک بننا تھا صرف۔

عائش اسے سطح پر لے کر آیا تھا۔ پل بھر میں روپ بدلا۔ اور اسے بازوؤں میں اٹھائے پانی سے باہر نکل آیا۔ روز نے ہنوز اس کے سینے میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے منہ چھپایا ہوا تھا۔

لگتا ہے تمھیں یہ پرنس کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا ہے تبھی لیچ کی طرح چپکی ہوئی ہو مجھ سے، کہو تو اپنے بیڈ روم لے جاتا ہوں تمھیں،،
وہ اس کی قربت سے جھنجھلایا تھا تبھی چڑ کر بولا۔ ادھر روز شرمنگی کے مارے سرخ پڑی جھٹکے سے اس الگ ہو کر اس کے بازوؤں سے اتری تھی اور تیز قدم اٹھاتی گھر کی راہ لی۔
افففف، یہ ایلا ماسی تو اتنی اچھی ہیں ان کا یہ بدتمیز بیٹا کس پر گیا،، وہ دل ہی دل میں بڑبڑاتی گیٹ سے ہو کر اپنے کمرے میں غائب ہوئی تھی۔
پیچھے اس کی نگاہوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔
تمھیں میرے اتنے قریب نہیں آنا چاہئے تھا مرمیڈ گرل،، اب اس بات کا بدلہ بھی لوں گا تم سے وہ بھی سود سمیت،،
وہ دانت کچکچاتا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ویام اپنے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا لہو چھلکاتی نگاہوں سے ایمی کو دیکھ رہا تھا۔
جبکہ دل ہی دل میں تو روح تک فنا ہو چکی تھی۔ مگر زرا ہمت کر کے وہ خود کو مطمئن ظاہر کر رہی تھی۔۔

ہمت کیسے ہوئی آپ کی یہ کرنے کی، کیا میں نے یہ بولا تھا کہ اسے زہر دینا ہے، بتائیے،، بولا تھا میں نے ایک مرتبہ بھی،،؟
ویام کی دھاڑ بلیک ہاؤس میں گونجی تو ایمی ایک قدم پیچھے کی جانب اچھلی تھی۔

مجھے لگا آپ یہی چاہتے ہیں تبھی اسے یہاں لائے، دشمن کی بیٹی کو مارنے کے لئے، تو جب مقصد ہی یہی تھا اسے یہاں لانے کا تو میں نے اسی لئے،،، وہ منمنائی۔

کس نے کہا،، میں نے کہا تھا آپ سے کہ اسے مارنا ہے،، ویام ایک مرتبہ پھر چلایا تھا۔
تو پھر آپ اسے یہاں کیوں لائے،، ایمی نے پوچھا تو ویام اس کے روبرو آ کر کھڑا ہوا تھا اور اس تیور سے آ کر کھڑا ہوا تھا کہ ایمی کے گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔

یہ میں کم از کم آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتا اور اب آپ یہاں سے اپنی شکل گم کریں، اور مجھے اس دنیا میں نظر نہیں آئیں گی آپ،، سنا آپ نے،، ویام نے حکم صادر کیا تھا تبھی وہ وہاں سے غائب ہوئی تھی۔ یہ رات بہت بھاری تھی ویام پر۔ اور اس سے اگلی رات بھی۔
دو دن سے اس کا شاہی طبیبہ سے علاج جاری تھا۔ مگر شاہی طبیبہ کچھ خاطر خواہ خبر نہیں دے رہیں تھیں۔

اب بھی باہر کوریڈور میں وہ ادھر سے ادھر بےچینی سے چکر لگا رہا تھا۔
پہرے داروں، اینچنٹرس کیوں نہیں پہنچی ہیں ابھی تک،، وہ جانے کیوں ہر بات پر چلا رہا تھا۔ تبھی بلیک ہائوس پر روشنیوں کی بہار اتری تھی۔ روشنی کے جھماکے سے ہوئے۔ اور اینچنٹرس زمین پر ظہور پذیر ہوئیں۔
کیا ہوا میرے آقا،، آپ پریشان ہیں،، وہ جانتی تو تھی مگر ویام سے سننا چاہتیں تھیں۔ افسوس سے اپنے کنگ کو دیکھا جو انتقام کی راہ پر چلتا اب خود اذیتی کا شکار بھی ہو رہا تھا۔ اس نے ایک کمرے کی جانب اشارہ کیا۔ اینچینٹرس اس کمرے میں داخل ہوئیں۔ جہاں شاہی وید ایک نازک سے وجود کے اوپر جھکیں ہوئیں تھیں۔ انھیں دیکھ کر ان کی تعظیم میں جھکیں۔

وہ ایک ننھی سی بنا پنکھوں والی پری لگتی تھی۔ جو کہ اب سرخ شاہی لباس مطلب پیروں تک فراک میں ویام کے بستر میں دبیز جالیوں کے اندر بے سدھ لیٹی ہوئی تھی۔ رنگ نیلا سا پڑ چکا تھا۔ اینچنٹرس آگے بڑھی اور اس کی نبض چیک کی جو بہت دھیمی تھی۔ اس کا پھول سا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ مگر تب بھی وہ اس قدر معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی کہ ایک مرتبہ تو اینچنٹرس بھی مبہوت رہ گئی جو خود فیری گارڈینز کی ملکہ تھی۔

کیا صورتحال ہے وید،،؟
بہت خطرناک،، بچنے کی کوئی امید نہیں نظر آتی،، اینچنٹرس،،سوائے ایک طریقے کے جس کی کنگ ویام کبھی اجازت نہیں دیں گے،،، شاہی وید نے مایوسی سے کہا۔
وہ کیا بتائیے میں کنگ ویام کو بتا دوں گی، اس چھوٹی معصوم سی بنا پنکھوں والی پری کو اس حالت میں پہنچانے والے آخر کنگ ویام ہی تو ہیں ،اگر بچانا چاہیں گے تو بچا لیں گے نہیں تو ایک قاتل تو ضرور بن جائیں گے،،
اینچنٹرس جانتیں تھیں وہ سن رہا تھا تبھی یہ سب بولا تھا۔ یہ سن کر ویام نے اپنے جبڑے بھینچے۔

پھر شاہی وید نے جو بتایا کہ طلسمی حکمت کی کتاب میں اس زہر کا علاج کیا ہے؟ تو ایک مرتبہ تو کنگ ویام نے بھی بے یقینی سے اینچنٹرس کی جانب دیکھا تھا جیسے کہنا چاہتا ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟؟

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش بیہوش اس کے بازوؤں میں تھی۔ وہ اسے فرش پر لیے بیٹھا تھا۔
کوئین،،،،،، وش،،،،، اس کا چہرہ تھپتھپایا۔ ہاتھ سے اشارا کیا تو پانی کے ٹھنڈے چھینٹے مایا وش کے چہرے پر پڑے ۔ وہ کسمسائی۔
کوئین،،،،، اس نے ایک مرتبہ پھر پکارا جو پورا کا پورا اس پر جھکا ہوا تھا۔ مایا وش کی آنکھ کھلی تو اپنے اوپر جھکے اس حسین ترین مردانا وجاہت کے شہکار شخص کو دیکھا جو اب بنا رومال کے اس بانہوں میں بھرے بیٹھا تھا۔ وہ کئی لمحے غائب دماغی سے اسے دیکھے گئی۔ ہوش میں تو تب آئی جب وہ اس کی جانب دیکھتا گہرا مسکرایا۔

میں بھی آپ کے حسن میں اسی طرح کھو سا گیا تھا کوئین، جب آپ کا چہرہ پہلی مرتبہ دیکھا،، اس نے مایا وش کے اسے یوں دیکھنے پر اسے چھیڑا تھا۔
مایا وش ہوش کی دنیا میں لوٹتی جھٹکے سے اس کے حصار سے نکل کر دور ہوئی تھی۔ اور حیرت سے گنگ اسے دیکھا جو گھٹنوں کے بل زمین پر پہلی مرتبہ صرف اپنی کوئین کی تعظیم میں نیچے بیٹھا تھا۔

آپ،،،، تت،، تو فورتھ ائیر کے آبدار ہیں ناں،، پر،،، کون ہیں آپ،، اور آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسا کرنے کی،،؟
توڑ توڑکر لفظ ادا کرتی وہ اب اسے پہچان چکی تھی۔ اور اس کے منہ سے اپنا نام سن کر کنگ کو بہت اچھا محسوس ہوا تھا۔

میں آپ کا کنگ ہو مایاوش اور آپ میری کوئین،، آپ قید میں ہیں، میں جانتا ہوں،، اور اس قید سے صرف اور صرف میں آپ کو نجات دلاؤں گا اور سنجنا کی بھی فکر مت کریں کچھ نہیں ہوگا اسے،،،
نو،،،،،،، نہیں،،، مجھے کسی پر بھروسہ نہیں،، اور آپ پر تو بلکل بھی نہیں،، ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کائلہ نے بھیجا ہو،، مجھے آزمانے کو اور ،،آپ کوئی بہروپیے ہوں میری ہیلپ صرف عائش کرسکتے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے دوستوں کے سامنے قبول کیا تھا کہ انھیں میرے پیروں میں چین بندھی نظر آتی ہے، آپ تو پہلے کبھی سامنے تک نہیں آئے،، سمجھے آپ،،
مایا وش کے کہنے کی دیر تھی جب وہ ہوا میں پل بھر کو غائب ہو کر اس کے بلکل روبرو کھڑا تھا۔
ایک ہاتھ گردن کے گرد بالوں میں لپیٹا تھا بڑے جارحانہ تیور تھے۔ مایا وش پھر خوفزدہ ہوئی۔ جبکہ آبدار نے اپنے دائیں ہاتھ کا انگھوٹا اس کے نازک سرخ لبوں پر مسلا تھا۔

بھائی ہے وہ میرا،،، مگر آپ ان لبوں سے کسی غیر کا نام لینے کی گستاخی مت کریں کوئین،، نہیں تو سزا دوں گا آپ کو،، یہ کنگ تو آپ کی محبت میں اس قدر ڈوب کر پاگل ہو چکا ہے کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کو چننے کی بھی مہلت نہیں دی ہے میری محبت نے آپ کو،، اور یہ لاکٹ پہنا دیا میں نے آپ کو،،
آبدار نے اس کے گلے میں پہنے لاکٹ میں انگلی پھنسا کر اس اپنی جانب جھکایا تھا۔ اس کی سلگتی سانسوں کی تپش سے مایا وش کا چہرہ جل رہا تھا۔ اب تو وہ بڑے حق سے اس کا چہرا بھی دیکھ چکا تھا اور اب بھی مسلسل ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہا تھا۔

اس لاکٹ کا آپ کے گلے میں ہونے کا کیا مطلب ہے جانتی ہیں آپ،، کہ اب آپ میری بیوی ہیں،، اس کنگ کی کوئین ہیں،، میرے وجود کا کھویا ہوا حصہ،، آپ کے ملنے سے پہلے میری ہر تکلیف کی وجہ اور اب میرے جینے کی وجہ ،،،، آبدار کے شوشوں پر مایا وش نے خوف و حیرت سے پھیلی آنکھوں سے اس عجیب آدمی کو دیکھا تھا جو ہر طرح سے اس پر بڑے رعب سے حق جما رہا تھا۔ آج ان کی بمشکل تیسری ملاقات تھی۔ آج ہی اس نے اس کا چہرہ دیکھا تھا اور آج ہی وہ بول رہا تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے مطلب تمام عمر کی ساتھی۔

جھوٹ ہے یہ سب،، چھوڑیں مجھے،، وشہ پھر اس کی گرفت سے مچل کر نکلی تھی۔ اور اپنا نقاب اٹھا کر وہاں سے نکلی۔
کوئین،،،،،،، مایا وش بات سنیں،، وہ پکارتا رہا مگر مایا وش ٹھہری نہیں تھی۔ وہ بھی باہر نکلا تھا۔

امممممممم،، ہونہہ،،،، اپنے طریقے سے منانا پڑے گا آپ کو کوئین،،
وہ دل میں اس مخاطب ہوتا باہر نکلا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش سنجنا سے بات کر کے اس سے اس کا سکارف لے کر گھر چلی آئی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ آبدار کے کہے کے مطابق بلکل نارمل تھی کوئی غیر معمولی بات نہیں لگی تبھی وہ مطمئن ہو کر واپس چلی آئی۔ اب اس شخص کا سامنا کرنا بہت مشکل امر تھا۔

ہٹ میں پہنچی تو کائلہ زخمی ناگن بنی راکنگ چئیر پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے کسی اور کے سکارف میں آتا دیکھ وہ بھنا کر اس کے پاس آئی تھی۔ مایا وش اسے اگنور کر کے اپنے کمرے میں جانے والی تھی جب وہ اس کی راہ میں دوبارہ حائل ہوئی۔ اور بغور اس کے بدلے بدلے سے تیور دیکھے مایا وش اس کی خوفناک بھیانک نگاہوں سے خائف ہوئی۔

یہ کیا حلیہ بنایا ہے تم نے،، وہ تلوار تمھارے پاس کہاں سے آئی،، تمھارا اپر اور سکارف کدھر ہے،، کس کو دکھایا تم نے اپنا چہرہ،، وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی تھی اور وہ کسی اور کا سکارف اور نقاب اس پر سے نوچ کر دور پھینکا۔

مایا وش نے سختی سے اپنی آنکھیں اور لب بھینچے تھے۔
کسی نے نہیں دیکھا میرا چہرا،،وہ میک اپ روم میں اپر غلطی سے پھٹ گیا،، وہ تلوار میرے پاس کیسے آئی مجھے نہیں معلوم،،
مایا وش نے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتایا تھا۔

اچھا،،، میرا خیال ہے یہ نئی نئی جوانی کا خمار ہے،،مگر یہ تمھاری خماری میرا بھائی سامر ایک ہی رات میں نکال دے گا، اب تم بچی تو رہی نہیں ہو، تبھی اتنی ہواؤں میں اڑ،،،،،،،،،،،،،،،،
کائلہ کی بات کرتے زہر اگلتے اگلتے نگاہ مایا وش کے گلے پر پڑی تھی۔ اور حیرت، صدمے اور الجھن کی انتہا سے اس کی زبان کو ادھر ہی بریک لگ گئی۔۔ خونخوار نگاہوں سے مایا وش کی جانب دیکھا اور اس کے بہت قریب ہوئی تھی۔

ایک ہی بار پوچھوں کی مایا وش یہ لاکٹ تمھارے گلے میں کیسے آیا،،
کائلہ نے جس طرح پھنکار کر پوچھا تھا مایا وش کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔
نہیں جانتی،، مایا وش نے اب کی بار سچ بولا۔

میں نے کہا بتاؤ مجھے،، وہ چلائی۔
آپ نے تو کہا تھا ایک بار پوچھوں گی،، مایا وش نے سکون سے کہا تھا۔
مایا وش میں تمھیں جان سے مار ڈالونگی،، کائلہ نے دانت کچکچائے۔
کوشش کر کے دیکھ لیں،، مایا وش کا اطمینان قابل دید تھا کائلہ تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تھا۔ اس کے ناخن چار چار انچ لمبے ہو گئے وہ ان سے مایا وش پر حملہ کرنا چاہتی تھی. مگر مایا وش کا ہاتھ تیزی سے گھوما تھا۔
اور اس کی تلوار سے کائلہ کے ناخن ہاتھوں سے الگ ہو کر زمین پر پڑے تھے۔ کائلہ تڑپتی پیچھے ہٹی تھی۔ مایا وش جلدی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔

دروازہ لاک کر کے لمبے لمبے سانس بھرنے لگی۔ اتنی ہمت دکھا تو رہی تھی۔ مگر جانتی تھی ابھی بھی قید میں ہے۔ اور اگر وہ بھر پور کالی طاقتیں لئے شیطان جاگ اٹھا تو،
تو کیا ہوگا؟

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ازلان ہلکی ناک کے ساتھ آبدار کے روم میں داخل ہوا تھا۔ جہان وہ سر شار سا بیڈ پر لیٹا تھا۔ ازلان قریب آ کر بیٹھا تو آبدار نے مسکرا کر ان کی گود میں سر رکھا۔
آج اوشن کنگ بہت خوش نظر آ رہے ہیں خیریت نہیں ہے،، ازلان نے اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

وہ مجھے مل گئی ڈیڈ،، اور یو نو واٹ میں نے اسے وہ لاکٹ بھی پہنا دیا،، آبدار نے آنکھیں موندے ایک جزب کے عالم میں ازلان کو ایسے بتایا تھا جیسے ابھی بھی آب وہ قیمتی پل محسوس کر رہا ہو۔
او رئیلی آب،،، یو نو واٹ،، آئی ایم سو ہیپی فار یو،، ازلان نے اسے سینے میں بھینچا تو وہ اور گہرا مسکرایا۔
اور میری بہو مجھے نہیں دکھائی تم نے،، ازلان نے شکوہ کیا۔
اب دیکھ لیں ڈیڈ،،، وہ مسکرایا۔ اس نے بیڈ پر ایک چھوٹے سے حصے میں انگلی پھیری۔ شیٹ پانی کی طرح لہرانے لگی۔ تب اس میں ایک ریفلیکشن سا بنا تھا۔ جس میں وہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی انہماک سے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔

واؤ،، ماشا ءاللہ ،،، اللہ تعالیٰ نظر بد سے بچائے،، میرے بچوں کو،،
ازلان نے دعا دی۔
ڈیڈ وہ قید میں ہے،، وہ کوئی وچ ہے،، مجھے نہیں معلوم وہ کون ہے اور کیا چاہتی ہے،، مگر اس نے کوئین کو قید کر رکھا ہے،، پھر آبدار اپنے ڈیڈ کو سب بتاتا چلا گیا۔

تو اب اسے آزاد کرواؤ آب،، اور جلد اسے یہاں لے کر آؤ،،
ڈیڈ اس رات جب آپ ہمیں مما سے لے کر آئے تھے اس رات کیا ہوا تھا مجھے ڈیٹلز بتائیں،،

وہ تاشہ تھی،، تمھاری ماسی،، وہ سب اس نے کیا،،ایک سازش کے تحت بغاوت کر کے تمھاری ماں کو قید کر کے مار ڈالا،،
اور پھر ازلان بھی آبدار کو ساری حقیقت بتاتا چلا گیا. عائش جو کہ روم میں آ رہا تھا اس نے بھی ان کی سب باتیں سنیں تھیں۔۔ مایا وش کے بارے میں بھی۔ تاشہ کے بارے میں بھی ۔ وہ بھی اندر چلا آیا۔

آب،، وہ جو ہمارے گھر میں ہے روز،، وہ ایک مرمیڈ ہے،، اور تم ہی بتا سکتے ہو وہ کون ہے،، مجھے جلدی بتاؤ، اگر اس کا تعلق ہماری ماں کی قاتل اس تاشہ سے ہے تو آئی سوئیر میں اسے دردناک موت دوں گا،،
عائش کی آنکھوں میں خون اترا۔ عائش کی بات پر ازلان چونکے تھے جب کی آب خاموش رہا کہ وہ تو پہلے دن سے جان گیا تھا کہ روز کوئی عام انسان نہیں ہے۔ انسانی پیروں کے باوجود وہ تو اس کا جل پری والا روپ دیکھ چکا تھا۔ عائش، نے ازلان کو ساری بات بتائی۔

ازلان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں آب کو اشارا کیا تھا۔ کہ حقیقت جو بھی ہے اسے نا بتائے۔ کہ عائش بہت بے حس اور ظالم تھا ۔ ازلان کی نگاہوں کے سامنے روز کا معصوم چہرہ لہرایا جس میں بہت زیادہ ایلا کی مشابہت تھی۔ تبھی وہ ہمیشہ اسے دیکھ کر الجھے تھے کہ اس کی شکل آخر کس سے ملتی ہے۔

آب بتاؤ مجھے،، عائش نے دانت پیس کر کہا تھا۔
نہیں اس کا تاشہ سے کوئی لنک نہیں،،
آب نے جھوٹ بولا۔
عائش خاموش ہو گیا۔ جبکہ آبدار اٹھ کر کھڑا ہوا تھا اور اپنی ہُڈی پہنی۔
کدھر،،، ازلان نے چھیڑنے کے انداز میں پوچھا تھا۔

کوئین کی یاد ستا رہی ہے اس کنگ کو ڈیڈ،، مشورہ دیجئے کیا کرنا چاہئے اس کنگ کو،، وہ اپنے جوتوں کے لیسز باندھتا شرارت سے مسکرایا۔ عائش بھی مسکرایا۔
مجھ سے لے لو مشورہ آب،، اٹھا لاؤ کوئین کو ، ادھر لے آؤ اپنے پاس،، عائش نے آنکھیں گھوماتے اپنے جیسا مشورہ دیا۔
اب میری بہو سے ملنے جا ہی رہے ہو تو ہم سے مشورہ کیوں مانگ رہے ہو،، کنگ،، جاؤ اپنی مرضی کرو،،
ازلان نے کہا تو تینوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔ آبدار وہاں سے گہرا مسکراتا نکلا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️