No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
ماہا ویرا اپنی خواب گاہ میں ایک گلابی پھول کے اوپر گہری نیند میں تھی۔ جب وہ دبے قدموں اس خواب گاہ میں آیا۔ اینچینٹرس نے ماہا ویرا سمجھا بجھا کر اس روم میں خود لا کر سلایا تھا۔ کافی دیر اس کے پاس بیٹھی رہیں ۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہیں۔
گہری مسکراہٹ کنگ ویام کے لبوں کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ وہ خواب گاہ میں داخل ہوا تو مبہوت رہ گیا۔ اس کا لباس تبدیل کروایا گیا تھا اور اب وہ فیری ٹوپیا کے کوئین کے شاہی گلابی نگینے جڑے سفید لباس میں تھی جو پاؤں کا چھو رہا تھا۔ کنگ ویام نے اسے جگتا محسوس کیا تو فوراََ اس پرندے میں بدل گیا۔
ماہا ویرا کسمسائی تھی۔ شاید یہ اس کی نگاہوں کی تپش کا اعجاز تھا۔ کہ وہ سکون سے سو نہیں پا رہی تھی۔ تبھی پٹ سے آنکھیں کھلیں۔ وہ کچھ دیر لیٹی یونہی اس خواب گاہ کے خواب ناک سے ماحول کو دیکھتی رہی۔ اور اسی کے بارے میں سوچتی رہی جس کے بارے سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے اتنے برسوں کے بعد اپنے وعدہ کے مطابق اسے اس کی بہن سے ملوایا تھا۔ ماہا ویرا ایک جان لیوا انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی۔
کھڑکی کے باہر سے بیلیں اور پھول اندر آتے محسوس ہو رہے تھے۔ جن ہر رنگ برنگی تتلیاں اڑ رہیں تھیں۔
ماہا ویرا خواب گاہ کی کھڑکی کے حصے سھ باہر آئی تو سامنے ایک دلفریب نظارہ تھا۔ بہت بڑے بڑے سفید پھول کھلے ہوئے تھے۔ حد نگاہ پہاڑوں سے چشمِ پھوٹ کر بہہ رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرندے اور تتلیاں ہر سو اڑ رہے تھے۔
انھیں پرندوں میں اسے ایک مخصوص آواز سنائی دی۔
بیربل،،، ماہا ویرا محل کی بالکونی پر آگے بڑھی۔ ایک بڑا سے سفید پھول کی پتیاں بالکونی پر پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ پتی پر چڑھ کر پھول کے اوپر جا پہنچی۔
وہیں اس کا بیربل بیٹھا تھا۔ ماہا ویرا کچھ زیادہ ہی بدھو تھی شاید تبھی کبھی اندازہ ہی نہیں لگایا کہ یہ پرندہ پہلے ڈریگن لینڈ پھر فیری ٹوپیا میں ہر جگہاس کے پیچھے کیوں کیسے اور کیا کرنے آ جاتا تھا۔
ہیے بیربل،،، ہاؤ آر یو،، ماہا ویرا نے اسے ہاتھوں میں بھرا۔ اور حسبِ عادت جھک کر اس کے سر پر اپنے گداز لب رکھے۔ پرندے نے سکون سے آنکھیں موندیں۔
مگر اب کی بار ماہا ویرا اس پرندے سے آتی خوشبو سے بے تحاشا چونکی تھی۔ اس نے ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ اس پرندے کو دیکھا اور ہاتھ جھٹک کر اسے دور اڑا دیا۔ ابھی اسی وقت اس بات پر غور کیا کہ یہ پرندہ اس کے پیچھے ہر جگہ کیوں موجود ہوتا ہے اور اسے اس سوال کا جواب بھی مل گیا۔
وہ پرندے سے اپنی اصل شکل میں مسکراتے واپس آیا تھا۔
ماہا ویرا اپنی خواب گاہ کی جانب بھاگی۔ جب پتی سے اترتے ماہا ویرا کا پاؤں پھسلا تھا۔ وہ دھڑام سے چیخ مار کر گرتی جب دو مضبوط بانہوں نے اسے تھام لیا۔ اور وہ ان بازوؤں میں ہوا میں ہی جھول گئی۔
ماہا ویرا نے اپنی سختی سے بند کی آنکھیں کھولیں۔ تو وہ دوبارہ مسکراتے اسے بانہوں سے نرمی سے نیچے اتار رہا تھا۔ ماہا ویرا پھر اندر کی جانب تیزی سے بڑھی۔
کوئین،،، ماہا ویرا کو اپنے اندر سے آواز آئی۔ وہ ٹھٹھک کر رکی۔ جھٹکے سے پیچھے مڑی۔
خبردار مجھے پکارا آپ نے،، وہ انگلی دکھا کر غرائی۔
کوئین کم ٹو می،،، ماہا ویرا کے سامنے وہ خاموش کھڑا تھا۔ مگر ماہا ویرا کو پھر اسی کی آواز سنائی دی۔ جو اس کے دل و دماغ میں گونجی تھی۔
ویام قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا۔ ماہا ویرا نے آئیبرو اچکائی۔ مطلب پوچھنے کے لئے کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟
یہ میرے دل نے پکارا تھا آپ کو کوئین،، کنگ ویام کا سرسراتا لہجہ تھا۔ ماہا ویرا کو جھرجھری سی محسوس ہوئی۔
ماہا ویرا نے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی اس کے لب پھر آپس میں پیوست تھے جب ماہا ویرا کو پھر اپنے دل سے اس کے دل کی آواز آئی۔
یہ میری آواز تھی کوئین،، میں جو آپ کے قرب کے لئے کسی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا ہوں،،،،
جھوٹ ہے یہ سب بکواس ہے،، آپ محض ایک جادوگر ہیں،، بس جادو کرنا آتا ہے،، مجھے وہ برڈ بن کر بےوقوف بناتے رہے آپ،، ہاؤ ڈئیر یو،،؟
ماہا ویرا اپنے بےوقوف بنا دئیے جانے پر غصے میں تھی۔ تبھی مڑ کر اندر جانے لگی۔
جب ایک ہی جھٹکے میں کنگ ویام نے اسے اپنی جانب کھینچ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
وہ بھی اس لئے بنتا تھا کوئین کے مجھے بس آپ کے قریب رہنا تھا،، آپ کے پاس،، بہت قریب،، اتنا قریب،،،
کنگ ویام نے بھاری لہجے میں کہتے اپنے انگوٹھے سے اس کے لب رب کیے تھے۔ اور جتایا کہ وہ اس پرندے کو خود چوما کرتی تھی۔
اگر وہ اسے جادوگر بول رہی تھی تو کچھ غلط بھی تو نہیں تھا۔ کہ ہر مرتبہ اس کی دسترس میں آ کر ماہا ویرا دم سادھے خود کو ساکت کر جاتی تھی۔
لیو،، مم،، می،،، کمر پر بڑھتی گرفت سے گبھرا کر وہ لرز اٹھی تھی۔
ویام نے اس کے چہرے کا ایک ایک نقش چوما تھا۔ کندھے سے بال پیچھے ہٹائے۔ اور کندھے پہ اپنے سلگتے لب رکھے۔ ماہا ویرا کسمسائی۔
چھوڑیں مجھے،، وہ اپنی ہی کیفیت سے جھنجھلائی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اور چاہتا تھا کہ اس کا یہ حصار اس کے گرد قائم رہے۔ اس کے ٹوٹتے بکھرتے وجود کو وہ سمیٹ لے۔ وہ جو اس کے گداز لبوں کو نگاہوں میں فوکس کیے کچھ سوچ رہا ہے کر گزرے۔
کنگ ویام نے ماہا ویرا کے مچلنے کی پرواہ کیے بغیر اس کی سانسوں کو اپنی پاگل دسترس میں لیا تھا۔
وہ اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹے اس کی کمر کے گرد حصار مزید تنگ کرتا گیا۔
ماہا ویرا نے سختی سے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں۔ اس نے دونوں مٹھیوں سے اس کے کندھے بھینچ رکھے تھے۔ اوف خوچ کو اس شدت بھری گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی۔ مگر وہ اس جامِ محبت سے سیراب نہیں ہو پا رہا تھا شاید۔ تبھی لمحے طوالت اختیار کرنے لگے۔
ماہا ویرا ہلکان ہو چکی تھی۔ تبھی اپنی پوری طاقت لگا کر اس سے جھٹکے سے الگ ہوئی۔ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھے اندر بھاگ کر کھڑکی بند کر لی۔
ویام پھر مسکرایا۔ وہ جانتا تھا وہ اس سے اس کی محبت سے بھاگ رہی ہے۔ وہ جانتا تھا وہ اس کا دل جیت کر اسے عنقریب پا لے گا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ سفید پتلیوں والا مردہ خبیث جن کئی لاشوں سے خون پی کر اب غصے سے ادھر ادھر چکرا رہا تھا۔
مجھے کوئین چاہیے،،، وہ دھاڑا اور سرد نگاہوں سے بلیک وچ کی جانب دیکھا۔ جو ایک کونے میں کھڑی اس شیطان کے ڈر سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔
کہاں گئی وہ،،،،،، وہ دھاڑا تھا۔ اور اس کی دھاڑ سے درودیوار حل چکے تھے۔
وہ کوئی پراسرار طاقتوں کا مالک تھا میرے
آقا،، وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا،،،
یہ سن کر سامر کے کھوپڑی نما منہ سے شعلے سے نکلے تھے۔ اس نے بلیک وچ کو ایک ہی جھٹکے میں آگ لگائی تھی۔
بلیک وچ کی مکروہ چیخیں اس قبرستان میں ہسٹوریکل پیلس میں گونج گئیں تھیں۔ جب اس کی ہڈیاں بھی جلنے لگیں اور موت قریب آن پہنچی تو سامر نے ہاتھ کا اشارا کیا۔ وہ آگ بجھ گئی۔
یہ سزا تھی،، اس کو قید نا رکھ پانے کی،، اب دفع ہو جاؤ میرے سارے غلام اور اسے ڈھونڈ کر میرے پاس لاؤ،، اسے بے بس کرنے کا انتظام تو میں کر ہی لوں گا،،ایسا عمل کروں گا کہ وہ یا تو مرے گی یا میرے پاس آئے گی،،،،،،،، ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا،،،،،
اس مردہ شیطان کے مکرہ قہقہے اس پیلس میں گونج اٹھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بہت خواب ناک سا ماحول تھا۔ سمندر کی لہروں کا شور۔ سمندر کی ٹھنڈی شور مچاتی چھیڑ خانی کرتی ہوا۔ خوبصورتی سے سجا ہوا ہٹ۔ ملگجے اندھیرے میں ہٹ کے اندر چمکتے سمندری موتی۔ اور اس کے پہلو میں موجود اس کی سر تا پا پور پور اس کے لیے سجی اس کی کوئین۔ جو شاید تخلیق کے مرحلے سے گزرتے وقت ہی اس کے نام لکھ دی گئی تھی۔
آب نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا۔ مایا وش کی پشت کی جانب دیکھا۔ اور اس کی جانب کروٹ لی۔ آبدار نے اپنا بازو اس کی کمر کے گرد لپیٹا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر اپنی ٹانگ رکھی۔
آبدار اس کی پتلی ہوئی قابلِ رحم حالت پر گہرا مسکرایا۔ شیٹ مٹھی میں دبوچے وہ سختی سے آنکھیں بند کر کے لیٹی گہرے گہرے سانس بھر کر خود کو اپنے پاگل کنگ کو جھیلنے کے لئے تیار کر رہی تھی۔
Coward Queen,,,,,,,
آبدار نے اس کے کان میں بھاری گھمبیر سرگوشی کرتے اس کے کان کو اپنے لبوں سے کاٹا۔
آب،،،، مایا وش نے سسکی سی بھر کے اسے پکارا۔
یس مائی لارڈ،،،، آبدار گہرا مسکرایا۔
آپ مم،،،، میری جان لینے پر تلے ہیں اور بب ،،، بزدل بھی مجھے ہی بول رہے ہیں،،، مایا وش کو صدمہ ہی تو لگا۔
کوئین،، مجھے بھی یہی لگتا ہے آج کے شاید میری شدتیں آپ کی جان لے لیں،، پہلو سہلاتے اس کی پچھلی گردن اور کمر پر اپنی شدتیں بکھیرتے وہ گویا ہوا تو مایا وش کی جان لبوں پر آ گئی۔ یوں بھی وہ جیسے جیسے نزدیکیاں بڑھا رہا تھا۔ ان کے درمیان حائل تمام پردے سرکتے جا رہے تھے۔
مایا وش اب جھٹکے سے مڑ کر اس کے سینے میں گھسی تھی۔
آب،، آپ ڈرا رہے ہیں مجھے،، وہ روہانسی ہوئی۔
نہیں تو،، الرٹ کر رہا تھا،، ویسے آپ جیسی نازک جان بزدل کوئین کا ڈرنا بھی بنتا ہے کہ مقابل ایک اوشن کنگ ایگریسو مونسٹر ہے،،،
آبدار نے بول کر دانتوں تلے لب دبایا۔ جبکہ اس کی بات پر مایا وش نے اس کے سینے پر اپنے ناخن کبھو ڈالے تھے۔ وہ گہرا مسکرایا۔
آبدار نے مایا وش کے بال نرمی سے مٹھی میں بھرے تھے۔ اس کا سر اپنے سینے سے نکال کر گردن پر جا بجا بیوٹی بون پر، اپنے ہونٹوں سے محبت کی ایک نئی داستان لکھنے لگا۔
اس کی بے باکیوں اور جسارتوں پر کبھی مایا وش کا سانس سینے میں اٹک رہا تھا۔ کبھی وہ گہرے گہرے سانس بھرتی خود کو کچھ ہو جانے سے بچانا چاہتی تھی۔
وہ بلکل بے اختیار اور ہوش سے بیگانہ ہو کر اب محبت کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا۔ جب مایا وش کو لگا کہ وہ اگلا سانس تک نہیں لے پائے گی۔ تبھی اسے تڑپ کر پکارا تھا۔
آب،،،، وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
یس یو میجسٹی،،،، آب نے اس کے سرخ ٹماٹر بے حال چہرے پر پھونک ماری۔
آب مجھے ڈر لگ رہا ہے،،،، وہ روہانسی ہوئی۔ اور پھر اس کے سینے میں چھپی۔
کیوں،،، آب نے نرمی سے پوچھا اور اس کی کمر سہلائی۔
اب تو مایا وش اس کے سینے میں منہ دئیے رو ہی پڑی۔ آب نے نرمی سے اس کے گرد حصار مضبوط کیا۔ اور نرمی سے اسے سہلاتے پرسکون کرنے لگا۔
جب کافی دیر تک آب نے دوبارہ کوئی پیش قدمی نا کی تو مایا وش نے سکون سے آنکھیں موند لیں۔ مگر جب وہ مکمل طور پر پرسکون ہو گئی تو آب پھر سے پوری طرح اس پر قابض ہوتا اس کی سانسوں کو اپنے سانسوں میں الجھائے اس کی نازک سی جان نکالنے میں کوئی کسر نا چھوڑی تھی تھی۔
مایا وش کی روح فنا ہوئی۔ مگر نیم جان سی خود کو اس کے سپرد کر دیا جو جانے کب سے اس وصل کی شب کے لئے پل پل دن گن کر گزارتا آیا تھا کہ جانتی جو تھی آج چاہے اس کی شدتیں اس کی جان نڈھال کر دیں مگر گریز کر گز ممکن نہیں۔
گہری رات کی تاریکی میں پورے چاند کی چاندنی چھن کر کے ہٹ کے اندر آتی ان کے اس ملن کی گواہ بنی تھی۔
جبکہ ہٹ میں فسوں خیز خاموشی تھی۔
سمندر کے پانی میں جیسے ہیرے بچھا دئیے گئے تھے۔ پانی سے تیز روشنی نکل کر باہر تک بکھر رہی تھی۔ آگ و ساگر کی سپر پاورز کا ملاپ ممکن ہو پایا تھا۔ تو سمندروں میں طغیانی کیوں نا آتی۔
ماحول میں ایک عجیب سا سرور چھایا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عائش روز کی جانب اپنے قدم بڑھا رہا تھا۔ جو اس کے تیور دیکھ کر بری طرح گھبرائی تھی۔
وہ ابھی بھی مکمل صحت یاب نہیں ہوئی تھی۔ ماں کے اس دن کے وار سے ابھی تک نیم جان سی تھی۔
جلدی سے اٹھ کر بیٹھی اور خود میں سمٹی۔
کک کیا بات ہے عائش،،، آپ ناراض ہیں کیا مم،، مجھ سے،،،، اب مم میں نے کیا کیا،،،،،، ؟
وہ روہانسی ہوئی۔
مگر عائش اس کے سر پر آن پہنچا تھا۔ اسے ایک ٹانگ سے کھینچ کر بیڈ پر لٹا کر اس پر حاوی ہوا۔
روز نے اس کے سینے پر بازو رکھ کر اسے دور ہٹانے کی کوشش کی۔ مگر اس نے اس کی کلائیاں جکڑ کر بیڈ سے لگا دیں۔
ایک مرتبہ عائش پھر وہ لمحہ یاد کر کے وحشت زدہ سا ہوا تھا یہ تو اس کی محبت کا پختہ یقین تھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ مگر روز نے اس کا وار خود پر جھیل کر بلکل اچھا نہیں کیا تھا۔
صرف ایک سوال،، اور اس سوال کا ایک جواب چاہیے روز مجھے تم سے،، میرے سامنے کیوں آ گئیں تھیں تم،،؟
اپنی وحشت زدہ لال انگارا آنکھیں اس کی ہرنی جیسی سہمی آنکھوں میں گاڑھے اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپٹائے وہ اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کیے پوچھ رہا تھا۔
روز نے اپنا حلق تر کیا۔
مگر نگاہیں جھکا لیں۔ اب وہ کیا کہتی۔ وہ اظہارِ محبت بھی چاہتا تھا تو ایسے وحشی پن سے۔ ایسے عجیب انداز سے۔
تمہیں پتا ہے روز،، اس پل کے بعد سے مجھے ایک پل بھی سکون نہیں آیا،، نا میں سو پایا،، پل پل تڑپتے سسکتے گزارا یہ سوچ کر کے میں نے تمھیں کھو دیا،،
وہ دانت پیس کر بولا تھا۔ اب تو روز کے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے جگمگانے لگے تھے۔
مگر بہت ہمت کر کے پلکوں کی گریں جھالریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔
کیوں،،،، ہمت کرتے لرزتے لبوں سے پوچھ ہی لیا۔
ھ بتانے لگا ہوں،،، عائش نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔ اور اس کے عمل میں اس قدر شدت تھی۔ کہ روز نے شیٹ مٹھیوں میں جکڑی۔ وہ اس کے سینے میں اس کی سانس الجھا چکا تھا۔ روز نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے دور ہٹانا چاہا۔ مگر ایک نازک ترین جل پری ایک اوشن پرنس کی چٹانی گرفت سے اس کی مرضی کے بغیر نہیں نکل سکتی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ خود ہی آہستگی سے پیچھے ہٹ کر اس کی گردن میں منہ دے گیا۔ روز گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
عا،،،،،،، عائش،،،،،، اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے بیچ آنکھیں زور سے بند کر کے اس کی بے باکیاں سہتے اسگ پکارا۔
آئی لو یو،،،، ڈیم اٹ،،،،،،،، مدہوشی بھرے لہجے میں کان میں سرگوشی کرتے اس کی کون کی لو کو اپنے ہونٹوں میں دبایا۔ روز کا دل جیسے کانوں میں دھڑک اٹھا تھا۔
آ،،،، آپ،، تت،، تو مجھ سے نفرت کرتے تھے،،،، روز نے اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کرتے شکوہ کیا تھا۔
اب محبت بھی تو اس سے دوگنی شدت سے کرتا ہوں،، عائش نے کہتے اس کے نچلے ہونٹ پر ہلکے سے دانت گاڑھے تھے۔
روز نے سسکی سی بھری۔
عائش نے اس کے کندھے سے شرٹ نیچے کھسکائی۔
عائش،،،،،، روز نے تڑپ کر اس کا ہاتھ تھاما۔
آج ان منہ زور جزبوں کے طوفان کو روک نہیں پاؤ گی روز،،،
بول کر اس کہ بیوٹی بون پر اپنے لب رکھے۔ عائش نے مزید پیش قدمی کی۔ اور اس کی بڑھتی بے باکیون سے روز کے سینے میں اس کی سانس الجھ گئی ۔
عائش نے دیکھا۔ وہ سانس نہیں لے رہی ہے۔ دم سادھ گئی ہے۔ عائش کے کندھوں کو اتنی زور سے مٹھیوں میں تھاما ہوا تھا کہ اس کے ناخن عائش کو اپنے کندھوں میں گڑھتے محسوس ہوئے۔ وہ اتنی دیر کے بعد اب گہرا مسکرایا تھا۔
سانس لو روز بےبی،،، نہیں تو تمھارا سانس انہیل کرنا میرا محبوب مشغلہ ہے،، عائش نے پھر اس کے ہونٹوں کے پاس سرگوشی کی۔ عائش کی سلگتی سانسوں سے اس کے چہرے کو جھلسا رہیں تھیں۔
روز نے نفی میں سر ہلایا۔ جیسے کہنا چاہتی ہو کہ وہ سانس نہیں لے پا رہی ہے۔ تبھی عائش نے ایک پھر اس کی سینے میں اپنی سانسیں اتاریں تھیں۔
روز کا رنگ پیلا پڑنے لگا۔ تو عائش اس سے الگ ہو کر بیڈ پر چت لیٹا تھا۔
جانے دو روز بےبی،،، مجھ سے دور جانے کی،، میرا وار خود پر سہنے کی اتنی سزا ہی کافی ہے تمھارے لئے،، جانتا ہوں بیمار ہو ،،، جھیل نہیں پاؤ گی اس اوشن پرنس کو،،،
عائش نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر اسے اپنے سینے پر گرایا تھا۔
روز نے عائش کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ من پسند شخص سے چاہے جانے کا احساس دنیا کا خوبصورت ترین احساس ہوتا ہے۔
عائش اس کی پناہوں میں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اسے لئے رائیل پیلس چلا آیا تھا جہاں ایلا اسے زندہ سلامت دیکھ بہت زیادہ خوش ہوئی تھی۔
ازلان نے عائش کی جانب دیکھ آئبرو اچکائی۔
تو عائش نے انھیں سب بتایا کہ کیسے آبدار اسے تاشہ کے چنگل سے بچا کر لایا اور عائش کے سپرد کر گیا۔
ایلا اور ازلان بے تحاشا خوش ہوئے تھے۔ عائش نے انھیں بتا دیا تھا کہ وہ روز کے ساتھ ہی رشتہ قائم و دائم رکھ کر اسی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
