Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اینچینٹرس کرسٹل باؤل میں ایک خوبصورت نظارا دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اوشن کنگ اور ڈریگن پرنسز فیری ٹوپیا میں سراب کی انگوٹھی ڈھونڈنے کے لئے داخل ہوئے تھے۔

اینچینٹرس نے نرمی سے اپنی میجک سٹک گھمائی تو اس میں سے روشنی سی نکلی۔ اور روشنی کی چھوٹی چھوٹی تتلیاں بن گئیں۔
جی اینچینٹرس،، حکم فرمائیں،،، ان چھوٹی چھوٹی پریوں میں سے آواز آئی جن کے پر تتلیوں جیسے تھے۔

مہمان آئیں ہیں فیری ٹوپیا میں،، فیری گارڈین ایورا کو حکم دو کہ ان کا خیال رکھیں،، ان کی مدد کریں اور انھیں راستہ دکھائیں،،
اینچینٹرس نے کہا وہ سر جھکا کر فورا وہاں سے نکلے۔

فیری ٹوپیا میں خوش آمدید اوشن کنگ اور ڈریگن کوئین،،، وہ پھر ہلکی مسکان لیے کرسٹل باؤل کی جانب متوجہ ہوئیں۔ تبھی دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔
اینچینٹرس،،، کنگ ویام کی آواز پر اینچینٹرس نے اپنی میجک سٹک گھما کر کرسٹل باؤل میں سے وہ ہیولے غائب کر دئیے۔
جی کنگ ویام آئیے آئیے،، اندر آئیے،،، اس نے نرمی سے کہا۔
ویام اندر داخل ہوا۔ بے قراری انگ انگ سے چھلک رہی تھی۔
میں نے راج اور وشہ کے میرے پورے خاندان کے قاتل ہونے کے باوجود ان کی پرنسز کو آزاد کر دیا اینچینٹرس،، ویام نے لال انگارا آنکھیں لیے اینچینٹرس کو بتایا۔ بے بسی کی انتہا تھی۔ وہ جب سے زندگی میں آئی تھی ایک پل کا بھی سکون نہیں آیا تھا۔ اور اب جب چلی گئی تھی تب بھی وہ اپنے انتقام کو لے کر ایک ان دیکھی آگ میں جھلس چلا تھا۔

فکر مت کریں کنگ ویام،، جو بھی ہوگا بہتر ہوگا، اور اس نیکی کا بدلا آپ کو ضرور ملے گا،، میں جلد ہی دوبارہ جشن کا اہتمام کرتی ہوں آپ اپنے لئے کوئین جلد از جلد چن لیں،،
اینچینٹرس کی بات پر کنگ ویام کی نگاہوں کے سامنے ابھی کچھ دیر پہلے کا منظر اپنی پوری جزوئیات سمیت اس کی آنکھوں کے پردے پر لہرایا۔ وہ مزید بے چین ہوا اور وہاں سے نکل کر اڑا۔

اپنے محل میں وہ اپنی خواب گاہ میں آیا تھا۔ یہ ایک بہت ہی بڑا گلاب کا پھول تھا جس میں وہ آ کر لیٹا۔ اور اپنا ماتھا سہلانے لگا۔
بچپن سے انتقام کے علاوہ کچھ سوچا نہیں تھا۔ جب لینے کا وقت آیا تو جس کے زریعے سے انتقام لینا چاہا اسے تکلیف دے ہی نہیں پایا۔ اب جب اسے بھی آزاد کر دیا سوچا سکون مل جائے گا اور بے چین ہو گیا۔
کرے تو کیا کرے؟
کنگ ویام نے بےچینی سے کروٹ بدلی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آبدار اور مایا وش اس خوبصورت راہ گزر سے گزرتے جا رہے تھے۔ جہاں زمین پر پھولوں کی چادر سی بچھی ہوئی تھی۔ بڑے بڑے آسمان کو چھوتے درختوں سے بڑے بڑے پھول ہوا میں جھول رہے تھے۔ جن میں یقینا زندگی سانس لے رہی تھی۔ مطلب وہ یہاں کی مخلوق کے گھر تھے۔

مایا وش آبدار کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔۔

مایا وش کا ڈر کہیں جا سویا تھا۔ اب وہ حیرت سے وہ غیر ماروائی انتہائی حسین مناظر دیکھ رہی تھی۔
بہت طویل سفر تھا۔ انھیں میجک وڈو پار کر کے پنک فوریسٹ کے اختتام پر ونڈر ماؤنٹین پر جانا تھا جہاں سے انھیں سراب کی انگھوٹھی کا سراغ مل سکتا تھا۔۔

چلتے چلتے شام کے سائے بہت گہرے ہو چکے تھے۔ آبدار نے اس کا ہاتھ مستقل تھاما ہوا تھا۔
جب مایا وش دہری ہوئی۔
اففففففففف آبدار،،،، میں تھک گئی اب اور نہیں چل سکتی۔ وہ ایک آسمان سے باتیں کرتی بیل کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی۔ آبدار نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
بازوؤں میں اٹھا لوں،،؟ آبدار نے اس کے پاس بیٹھ کر کہا تھا۔
آپ نہیں تھکے؟ الٹا سوال۔
یہ سوال تب پوچھئیے گا کوئین جب آپ کو پیار کروں گا،، تب جواب کافی دلچسپ ہوگا،، وہ سرگوشی نما آواز میں بولا تو مایا وش گڑبڑا گئی اور بیل کے تنے سے ٹیک لگا لی۔
تبھی مایا وش کو ایک عجیب سی آواز آئی۔ گھبرا کر آنکھیں کھول کر دیکھا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ سامنے سے آسمان کو چھوتا پانی لہراتا بل کھاتا تیزی سے ان کی جانب آ رہا تھا۔

آب وہ دیکھیں،، آب ہم ڈوب جائیں گے،، مر جائیں گے کچھ کریں،، وہ پینک ہوئی آبدارکا گریبان جھنجھوڑ کر بولی۔

کچھ نہیں ہوگا مایا وش کچھ نہیں ہے یہ،، سراب ہے بس،، آنکھوں کا دھوکہ،، ہمیں ڈرانے کو،، ہمیں یہاں سے واپس بھیجنے کو،، اور اگر بلفرض یہ پانی ہے بھی تو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا،، ہم پانی میں سانس لے سکتے ہیں،، آبدار کے اطمینان میں رتی بھر فرق نہیں پڑا تھا۔ تبھی پانی کی شورش زدہ لہریں ان تک پہنچیں تھیں۔ مایا وش نے گھبرا کر آنکھیں بند کر کے آب کے سینے میں منہ دیا۔

کچھ لمحوں بعد جب کچھ نہیں ہوا تو مایا وش نے پہلے ایک آنکھ کھولی۔ آبدار اس کی یہ حرکت دیکھ کر ہنسا۔ آبدار کے ہنسنے پر اس نے پٹ سے دوسری آنکھ بھی کھول لی۔ اور آبدار کو ہنستے دیکھ اسے گھورا۔
یہ کیا تھا،،؟ مایا وش نے برا سا منہ بنایا۔
سراب،،، اور یہ بزدل کوئین،، آبدار نے بول کر دانتوں تلے لب دبایا۔ اور نرمی سے اس کی ناک کو چھوا۔

اوووو کس نے کہا میں بزدل ہوں،، ہر گز نہیں،، مایا وش آئبرو اچکا کر اٹھلائی۔۔
میں نے کہا آپ کے کنگ نے کہ آپ بزدل اورڈرپوک ہیں،، آبدار نے بھی سچ بول ہی دیا۔

نہیں ہوں،، مایا وش نے دلیری سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
رائیلی؟
یس،،، میں خود کو سٹرونگ اور بریو ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں،، وہ پھر اترائی۔
بتائیں مجھے میں کیا کروں،،؟

ہمممممم،،، آبدار نے سوچنے کی بھر پور ایکٹنگ کی،،
مجھے ادھر کس کریں،، وہ اپنے لبوں پر انگلی رکھتا بولا تھا۔ مایا وش جو تن کر بیٹھی تھی بری طرح گڑبڑائی۔ بریو کوئین کی بولتی بند۔۔ آبدار اس کی پتلی ہوئی حالت دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ میجک مڈو میں ہنسی کی ایک جلترنگ سی بجی تھی۔ شام کے گہرے سائے پھیلے تھے۔ بیل فلاورز میں سے ہلکی ہلکی روشنی چھن کر کے باہر آنے لگی۔

آبدار یہ کیا بات ہوئی،، آپ نے جان بوجھ کر وہ بات کی جو میں نہیں کر سکتی،، بہت برے ہیں آپ،، بہت برے،، وہ جھلاتی،، تلملاتی اس کے سینے پر مکے برسا رہی تھی۔ اور وہ غور سے اسے ہنستے دیکھے گیا۔ پنک اور پیرٹ کمبنیشن فراک میں کھلے بال شاہی لباس اس کے منہ زور جزبات میں ایک طوفان سا برپا کر کے ان میں ایک چوفان برپا کر رہی تھی۔

اب بزدل ہیں تو ہیں اس میں برا منانے والے کونسی بات ہے کوئین،، وہ اس کی کلائیاں جکڑ کر کمر اے باندھتا اسے اپنے سینے سے لگا کر بولا تھا۔ مایا وش کی زبان کو بریک لگی تھی۔ تبھی پتوں اور پھولوں میں سرسراہٹ سی پیدا ہوئی۔

وہ چونکے آبدار چوکنا ہوا تھا۔ مایا وش حسبِ معمول خوفزدہ ۔
تبھی ان کے سامنے اندھیرے میں سے ایک چھڑی سی لہرائی تھی۔ جبکہ چھڑی والا وجود اندھیرے میں ہی ہوا میں لہرا رہا تھا۔

کون ہو تم لوگ،، جلدی بتاؤ،، نہیں تو بہت بری سزا دوں گی،، آنے والی نسوانی آواز میں بہت غصیلے لہجے میں بولی تھی۔

ہم مسافر ہیں،، اور کسی کو بھی کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے،، آبدار نے نرمی سے کہا۔

نہیں تم لوگ یہاں کہ نہیں ہو،، اور مجھے تم لوگوں کے ٹیٹو کی پاورز کی آواز سنائی دی،، تم لوگ ان پاورز سے یہاں کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہو تو بتاؤ کون ہو،، وہ پھر دھاڑی تھیں۔ اور اب اندھیرے سے ان کے سامنے آئیں۔بلاشبہ وہ ایک بہت خوبصورت پری تھی۔

اس سے پہلے آبدار کوئی جواب دیتا وہاں کچھ تتلیاں اڑ کر آئیں تھیں۔ اور اس پری کے ہاتھ میں ایک کرول تھمایا۔ اس پری نے وہ کرول کھول کر پڑھا تو اس پہ اینچینٹرس کا پیغام تھا۔ تبھی اس کے ماتھے سے سلوٹیں غائب ہو کر اس کے چہرے پر ایک میٹھی سی مسکان ابھری تھی۔

آپ لوگوں کا سواگت ہے فیری ٹوپیا میں،، میں فیری گارڈین ایورا ہوں،، آئیے میرے ساتھ آئیے آپ لوگ لمبے سفر سے تھک گئے ہوں گے،، آ کر آرام کیجئے،،
اس پری نے اس قدر مہربان لہجے میں بول کر مایا وش کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔ کہ وہ جو آبدار کے پیچھے تقریبا چھپی ہوئی تھی۔ سامنے آ کر ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھمایا۔
آئیے میرے ساتھ۔
اس نے اپنی میجک سٹک گھمائی تھی۔ ایک بیل فلاور آ کر ان کے قدموں میں رکا تھا وہ ان پر سوار ہوئے۔ ایورا انھیں لیے اوپر اڑی تھی۔
کافی سارا اڑ کر وہ ایک بہت ہی بڑا مٹکے نما فلاور تھا۔

جب ایورا اس کے سامنے آئی تو دروازہ خود با خود ہی کھل گیا۔ وہ اندر داخل ہوئے۔ اندر ایک الگ ہی جہان آباد تھا۔ اتنی خوبصورتی، اتنی کہیں نہیں مل سکتی تھی۔

آئیے،، بھوک لگی ہوگی،، کھانا کھائیے،، ایورا نے انھیں ایک میز کے ساتھ لگی نرم گداز کرسیوں پر بٹھایا تھا۔ میجک سٹک گھامئی تھی کہ انواع و اقسام کے کھانے ان کے سامنے پیش ہو چکے تھے۔ انھوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔

ہمیں آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے،، آبدار نے بات کرنے میں پہل کی تھی۔
ابھی آپ لوگ تھک گئے ہوں گے آرام کیجئے،، صبح بات کریں گے،، آپ کی کوئین تھکی ہوئی لگ رہی ہیں انھیں آرام کی ضرورت ہے،، وہ نرمی سے بولی تھی۔

آبدار نے دھیمے سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ انھین لیے ایک خوبصورت سی راہداری میں سے گزر کر ایک بند پھول کے سامنے لائیں تھیں۔ پھول کی پتی کو اشارا کیا وہ سامنے سے ہٹ گئی۔
مایا وش الجھی ہوئی سی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی اور اپنے لب بری طرح کچل رہی تھی۔

ایورا اور آبدار نے اسے پیچھے مڑ کر ایسی نگاہوں سے دیکھا کہ اسے قدم آگے بڑھانے ہی پڑھیں۔ تب وہ دونوں اندر داخل ہو گئے تھے۔
یہ فیری ٹوپیا ہے کوئین یہاں ہر جنگ محبت سے جیتی جاتی ہے،، ایورا نے مسکرا کر کہا تھا اور واپس چلیں گئیں۔

وہ اندر آئے تو پھول اپنے آپ بند ہو گیا اور ان کے لئے جگہ بہت تنگ پڑ گئی۔ اب بس اندر ان کے لیٹنے کی جگہ تھی۔
آب یہ کیا،، میرا خیال یہ جگہ صرف ایک فرد کے لئے ہے،، مایا وش سخت گھبرائی تھی۔
نو ، میری بزدل کوئین ،،یہ پھول ایک کنگ اور کوئین کے لئے ہے،، آبدار کہتے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے پھول کی مخملی سی سطح پر گرا تھا۔

آب مجھے بزدل بولنا بند کریں،، وہ تلملا کر بولی تھی۔
سو تو آپ ہیں کوئین،، نہیں تو اپنی بیٹ پوری کرتیں،، وہ بچوں کی طرح اس کی گداز گال کھینچ کر صاف اسے چڑانے والے لہجے میں بولا تھا۔
جو مایا وش کو پتنگے لگا گیا تھا۔ تبھی وہ اوپر اٹھی تھی۔ فورا ایک ہاتھ آب کی آنکھوں اور دوسرا اس کے لبوں پر رکھ کر اپنے ہاتھ کو چوما تھا اور اتنی ہی تیزی سے پیچھے ہٹی تھی۔

اب خبردار،، مجھے بزدل کہا،، وہ آبدار کو شہادت کی انگلی سے وارن کر کے بولی تھی۔ آبدار کا دل کیا اس کی بہادری پر عش عش کر اٹھے۔ تبھی اپنا پیٹ پکڑ کر قہقہے لگانے لگا تھا۔
مایا وش اپنی بے وقفی پر سرخ پڑ گئی۔

آبدار ہنسنا بند کریں مجھ پر،، وہ روہانسی ہوئی تھی۔ جب کہ ہنس ہنس کر آبدار کی آنکھیں بھی نم ہو چکیں تھیں۔

واؤ،،، واٹ آ بریوری،، آبدار نے تالی بجا کر اب ایک ڈریگن پرنسز کے غصے کو ہوا دی تھی۔ وہ کب سے اسے زچ کر رہا تھا۔ اور اب مایا وش کی بس ہو چکی تھی۔
تبھی مایا وش دانت کچکچا کر آگے بڑھی اور اسے گریبان سے جکڑا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے دانتوں سے کاٹ کھایا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے وہ پل محسوس کیا اور وہ میٹھا سا درد برداشت کرنے لگا۔ مگر وہ اسے کاٹی کر کے پیچھے ہٹ چکی تھی۔

اب آیا مزا آپ کو میری بریوری چیک کر کے،، وہ خوش ہوتی معنی خیز سی بولی تھی۔ اور اب جیسی نگاہوں سے آبدار نے اسے دیکھا تھا۔ مایا وش کے چہرے نے لہو چھلکایا۔

آبدار کے لب پر ایک ننھی سی خون کی بوند ابھری۔ جسے دیکھ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرے چھپا گئی۔
بریوری اسے نہیں بولتے،،،،،،، اسے بولتے ہیں ڈئیر کوئین،، وہ اس کے چہرے سے اس کے ہاتھ پیچھے کر کروٹ بدل کر اس پر حاوی ہوا تھا۔ اور اب خود اسے کی سانسوں کو اپنی دسترس میں لیا تھا۔ مایا وش کی جان ہوا ہوئی تھی۔ اب پتا چلا کس سے الجھ بیٹھی تھی۔ وہ جو پل پل اس کے قریب آنے کو دل وجاں سے مچل رہا تھا تڑپ رہا تھا۔

جانے کتنے برسوں سے وہ اس پل اس لمحے کے لئے تڑپا تھا۔ اب جب وہ پل میسر تھے تو وہ انھیں بھرپور انداز میں جینا چاہتا تھا۔ اس کیا معلوم کہ وہ مایا وش کے آس پاس ہونے سے کس قدر مسرور اور سرشار تھا۔ نہیں تو اب تک تو اس کا اشتعال اس کا غصہ نجانے کتنی زندگیاں نگل چکا ہوتا۔

ہونٹوں پر بڑھتی گستاخیوں کے ساتھ اس کی کمر سہلاتے ہاتھ نے مایا وش کو بے جان سا کر دیا تھا۔ وہ جو مکمل مدہوش اور بے خود سا تھا مایا وش نے کسی طرح اس کو کندھوں سے جھنجھوڑ کر ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔ جس میں اس کے کندھوں پر مایا وش کے ناخنوں سے سکریچ پڑے تھے۔
وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔ اور اس کے لہو رنگ بھیگے لبوں کو دیکھا۔ وہ نڈھال سی لمبے لمبے سانس بھر کر اپنا سانس ہموار کر رہی تھی۔
آبدار اسے مکمل آزادی دے کر سیدھا ہو کر لیٹا تھا۔

سو جائیں کوئین،، نہیں تو میں اپنا پرامس توڑ بیٹھوں گا،، آبدار نے کچھ ایسے لہجے میں کہا تھا کہ مایا وش فورا دوسری جانب کروٹ بدل گئی۔ مگر پھر بھی وہ اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کے پہلو سے ٹکرا رہی تھی۔

ویسے یہ اوشن کنگ غلط تھا،، آپ بزدل نہیں بہت بڑی والی ظالم ہیں،، اس کے لہجے کا شکوہ مایا وش محسوس کرتی بھی انجان بن کر لیٹی رہی کہ فی الوقت اپنے کنگ کی یہ خواہش پوری کرنے کی وہ خود میں ہمت نہیں پاتی تھی۔ تبھی جلدی سے آنکھیں موند لیں۔
کچھ ہی دیر بعد مایا وش جو بہت زیادہ تھکاوٹ کی شکار تھی گہری نیند سو گئی تھی۔ آبدار نے اس نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اپنے سینے پر گرایا تھا۔
بزدل کوئین،، وہ جھنجھلایا سا بڑبڑایا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

عائش اپنے شاندار سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اس کے پیچھے روزیلہ اندر داخل ہوئی تھی۔
تم سچ میں اتنی بےوقوف ہو کہ ایکٹنگ کرتی ہو،، عائش دانت پیس کر بولا تھا۔

جیییی؟ روز نا سمجھی سے بولی تو عائش کو مزید پتنگے لگے۔
کچھ نہیں،، اپنی ماں سے بولو کے تم مجھے یہ سارا محل اور اوشیانہ کی سیر کروانا چاہتی ہو،، ہم بہانے سے یہاں سے نکلیں گے اور ممی کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گے،، اور اب اگر تمھاری زبان کسی کے سامنے لڑکھڑائی تو گدی سے کھینچ لوں گا سمجھیں،،
عائش دانت پیس کر غرایا تھا۔ روزیلہ کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔

جج،، جی،، خوف کے مارے اسی کے سامنے پھر زبان لڑکھرائی تو وہ طیش کے مارے اس کی جانب بڑھا۔ اور بری طرح اس کے بازو اپنی وحشی گرفت میں لیے۔
ابھی میں نے کیا بولا،،، ہاں،،،

وہ مم،، میں،،، دد،، دیکھیں،،

ارے کیا دیکھوں میری جان،، اب تم اپنے کنگ کے ساتھ یوں ظلم کرو گی،، کیوں گھبرا رہی ہو میرے قریب آنے سے،، میرے چھونے سے میری جان کچھ نہیں ہوگا،، مجھے قریب آنے دو، اتنے کہ سانسوں کو بھی الگ الگ آنے جانے کی زحمت نا ہو،، وہ بھی ایک ہو جائیں،، وہ بہکے سے لہجے میں بولتا اسے اپنے بازوؤں کے تنگ گھیرے میں لے چکا تھا۔

اور اس کے اس بدلتے پینترے کو دیکھ روزیلہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور منہ کھل گیا۔ اس کی یہ ہونق شکل دیکھ کر عائش کا دل کیا اس کو ایک جڑ دے۔

منہ بند کرو روز،، کھڑکی میں کوئی ہے،، یقینا ہماری جاسوسی کرنے آیا ہے،، وہ اس کے سینے میں بھینچے اس کے بالوں میں منہ دئیے سرگوشی میں بولا تھا جب کہ اس کی یہ جسارتیں روز کی جان نکالنے کو کافی تھیں۔

کنگ،، رت ابھی باقی ہے،، آپ صبر نہیں کر سکتے،، ابھی میں آپ کو اوشیانہ کی سیر کروانا چاہتی ہوں،،
روز نے بڑی ہی مشکل سے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نگاہیں جھکا کر کہا تھا۔ عائش نے بغور اس کا معصوم چہرہ دیکھا۔ اور فورا نگاہ پھیری۔ اب اسے واضح کھڑکی میں کھڑا کوئی دکھ رہا تھا۔

ٹھیک ہے چلو،، اب تمھاری بات مانی جائے گی اور رات کو تمھیں میری ماننی پڑے گی،، پرامس،،
جی،،،، روزیلہ کا دم اٹکنے لگا تھا اس کے حصار میں وہ دونوں ہاتھ تھامے ک۔رے سے باہر نکلے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️