Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

راج نے ڈریگن ماہا ویرا کو لا کر محل کے شاہی گارڈن میں اتارا تھا۔ وہ اب بھی بری طرح مچلتی آگ اگل رہی تھی۔ اور بری طرح چیخ چلا رہی تھی۔ راج انسانی شکل میں واپس آیا۔

اور وہاں گڑھے ایک بہت بڑے کیل سے چین اٹھا کر ماہا ویرا کے پیر پر باندھی دی۔ وہ پھڑپھڑا کر اڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔

جب وشہ اندر سے بھاگی باہر آئی۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ راج،، کھولیں پرنسز کو،،، وشہ اپنی بچی کو ایسے مچلتے دیکھ تڑپی۔

ابھی اس پر اس کنگ ویام کی پکار اور اس رنگ کی پاور کا اثر ہے وشہ،، جب وہ اتر جائے گا تو کھول دوں گا،،
راج نے سنجیدگی سے کہا۔

وشہ اسے دیکھے گئی۔ مگر وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اندر لے آیا۔ راج سنجیدہ تھا مگر آنکھیں لال انگارا ہو چکیں تھیں۔ تبھی وہ وشہ کو لئے ایک مخصوص آئینے کے پاس گیا تھا۔

گرینڈ فادر،،، راج نے پکارا۔ مرر میں ایک ہیولہ نمودار ہوا۔
گرینڈ فادر مجھے ایلا اور ازلان کا پتہ چاہیے،، مجھے جلد از جلد اس کے بیٹے تک پہنچنا ہے اور ماہا ویرا کو اس کے حوالے کرنا ہے،، راج نے سنجیدگی سے کہا۔

ازلان ادھر ہی ہے جہاں آخری بار تم ایلا سے ملے تھے،، اس کا بیٹا بھی وہیں ملے گا تمھیں کنگ راج،،، گرینڈ فادر اتنا بول کر مسکرائے تھے۔ راج الجھا۔

آپ مسکرا کیوں رہے ہیں گرینڈ فادر، راج نے پوچھ ہی لیا۔
کچھ نہیں راج پرنسز کا خیال رکھو بس،، وہ بول کر مرر میں سے غائب ہو گئے۔
چلو وشہ زمین پر جانے کی تیاری کرو،، ہمیں اسی بیچ پر جانا ہے جہاں ہماری ایلا سے ملاقات ہوئی تھی۔

ایک بات پوچھوں آپ سے راج،،، وشہ نے پرسوچ اور پریشان سے راج کو مخاطب کیا۔
ہمممممم،،، راج ابھی بھی ازلان کے بیٹے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

اگر اس کنگ ویام کی جگہ آپ ہوتے تو،،، وشہ نے کہا تو راج نے چونک کر وشہ کی جانب دیکھا۔ راج کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔

کوئین آپ کو لگتا ہے کہ وہ پرنسز سے محبت کرتا ہے ایسا کچھ نہیں وہ صرف ہماری پرنسز کو اپنے بدلے اور انتقام کی بھینٹ چڑھا دینا چاہتا ہے،، اور اس کا موازنہ آپ مجھ سے کر رہی ہیں،، سٹرینج،، راج کو شاید دکھ ہوا تھا۔ تبھی اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔

ہو سکتا ہے راج وہ سچا ہو،، وشہ کا دل نہیں مان رہا تھا کہ ایک پری زاد محض انتقام کے لئے اس حد تک جائے کہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک ڈریگن کنگ سے الجھ بیٹھے۔

اگر ایسا ہے بھی تو یہ ممکن نہیں،، ماہا ویرا کی قسمت ایلا کے بیٹے سے جڑی ہے کیا آپ بھول گئیں کوئین،، راج کے لہجے میں آج پہلی مرتبہ کچھ سختی سی تھی۔ وشہ اپنے لب کاٹ کر رہ گئی۔

آپ جائیں خواب گاہ میں میں ویرا کو لے کر آتا ہوں،، ہم زمین پر جا رہے ہیں،،،
راج نے وشہ کو بول کر باہر کی جانب کا رخ کیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

صبح مایا وش کی آنکھ کھلی تو آبدار جاگ رہا تھا۔ اور اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
آیییہہہہہہہہہ،،، مایا وش چلا کر اٹھی تو آبدار بری طرح چونکا۔
کیا ہوا کوئین،، آپ ٹھیک تو ہیں ناں،، آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں لگی،، کہیں درد ہے کیا،،، آب نے اسے پکڑ کر گھمایا اور چہرہ اور اس کا وجود ٹٹولا۔
مگر مایا وش نے اس کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔

آب،، ہم کامیاب ہو گئے،، ہم جیت گئے،، ہم نے سراب کی رنگ پا لی،، اور رات کو تو ہم نے یہ سلیبریٹ بھی نہیں کیا،،، ییےےےے،،،،،

وہ خوشی سے اچھل رہی تھی۔ تالیان بجا رہی تھی۔ آبدار نے اسے دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا جس نے ابھی چلا کر اس کی جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

آبدار نے غصے سے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں کے بے حد قریب کیے تھے کہ اس کی سانسوں کی حدت مایا وش کو اپنے حلق میں اترتی محسوس ہوئی۔ مایا وش نے شدت سے اس کے کندھے تھامے تھے جو جانے انجانے اس کے غضب کو آواز دے دیتی تھی۔

سلیبریٹ کرنے کے تو پھر اور بھی کئی طریقے ہیں کوئین،، کہتی ہیں تو آزما کر ٹرائی کر کے دیکھتے ہیں،،
آبدار نے بول کر اس کے لبوں پر میٹھی سے گستاخی کی تھی۔
آب پلیززززززز،،،، وہ روہانسی ہوئی۔ اور آب کی غصیلی لپکتی نگاہوں میں دیکھ کر ان کے معنی و مطالب سمجھ کر نگاہیں جھکا لیں۔

یو نو واٹ کوئین،، مجھے اس قطرہ قطرہ تل تل کر کے اذیت سے دوچار کرنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک ہی مرتبہ اپنے اس غلام کی جان لے لیں،، نہیں تو اب میری برداشت کی ہر حد پار ہو چکی ہے اور صبر کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہو چکا ہے ،،، اور اگر وہ چھلک گیا تو بڑی تباہی لائے گا،، جانتی ہیں ناں آپ،،

آب اسے اپنے کشادہ سینے میں بری طرح بھینچے اپنا حالِ دل سنا رہا تھا۔ جس سے وہ نگاہیں چرا رہی تھی۔ ہر مرتبہ بچ نکلتی تھی۔ اس کے منہ زور جزبوں کے طوفان کے آگے اپنی قسم کا بند باندھ رکھا تھا۔

آب،،، آپ مجھے ڈرا رہے ہیں،، اور ہرٹ بھی کر رہے ہیں،، وہ زبردستی اپنی لہجے میں یاسیت طاری کرتی بولی۔ مطلب اپنے کنگ کی کمزور نس کو دبایا۔
آب نے نرمی سے اسے چھوڑا۔ مگر مایا وش اب شدت سے اس کے گلے لگی تھی۔

آبدار نے پھر اسے غصے سے گھورا اور اپنے لب بری طرح کچلے۔
اب یہ کیا ہے کوئین،، وہ جھنجھلایا۔

آپ کا انعام ہے،، ہمیں رنگ مل گئی ناں اس لئے،، وہ اس کے کندھے پر گال ٹکائے اپنی فنگر سے اس کے شولڈر پر رنگ بنانے لگی۔ آبدار کو گدگدی سی ہوئی۔

دور ہٹیں مجھ سے کوئین،،، وہ جھنجھلایا۔
یہ تو میرا ڈائیلاگ تھا،، مایا وش کو جانے کیا سوجھی اس کے کندھے پر دانتوں سے کاٹ کھایا۔
آوچ،،،،،، مایا وش کو اپنے ہی کندھے پر درد محسوس ہوا تو ان کے اس کنیکشن کے ڈس ایڈوانٹیج پر وہ بری طرح جھنجھلائی۔

اتنے وقت میں آبدار کے لبوں کو اب گہری مسکان نے چھوا تھا۔
کوئین اتنی ہی گستاخیاں کریں جتنی خود میں برداشت کرنے کی ہمت ہو،،،
آبدار کے سرسراتے لہجے نے مایا وش کے چہرے پر لہو چھلکایا تھا۔
وہ جلدی سے اس سے الگ ہوئی۔ آب پھر مسکرایا۔
اتنے میں ہیو ان تک اڑ کر آیا تھا۔ جو یقیناً ایورا نے بھیجا تھا۔

چونکہ یہ وادی سراب کے اثر سے آزاد ہو چکی تھی تبھی ہیو ان تک پہنچ چکا تھا۔
وہ ہیو پر سوار ہوئے اور وہ دوبارہ ونڈرنگ ووڈ کی جانب اڑا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا انسانی شکل میں واپس آ چکی تھی ۔ مگر اب بھی بہت بری طرح مچل رہی تھی۔ جب راج اس تک پہنچا۔ راج نے اسے زنجیر سے آزاد کیا اور زبردستی اس کے روم تک لایا۔

راج ڈیڈ مجھے اپنے کنگ ویام کے پاس جانا ہے،، ان کے ساتھ جانا ہے،، چھوڑ دیں مجھے جانے دیں ناں،، مجھے جانا ہے،، وہ مجھے پکار رہے ہوں گے،، ڈیڈ،،،،،،،،،،

شٹ اپ پرنسز،،،،، راج دھاڑا تھا۔ ماہا ویرا وہیں سہم کر خاموش ہوئی تھی۔ وہ خاموش ہوئی تو جیسے ہوش میں بھی آئی۔

ڈیڈ،، وہ راج کے سینے سے لگی اور بلک بلک کر رو دی۔
مائی لٹل پرنسز،، راج نے بہت محبت سے اس کی پیٹھ تھپتھپائیں۔

بٹ ڈیڈ ،،مم،،،، مجھے معلوم ہے،، وہ،،، مم،، میرے کنگ ہیں،، مجھے ان کے پاس جانا ہے،،،
راج کے ماتھے پر پھر بیشمار بل آئے۔ ہاتھ کی دو انگلیوں سے اپنا ماتھا سہلایا۔
ماہا ویرا کو اپنے سینے سے نکالا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما۔

سنو میری بچی،،اچھا میری بات غور سے سنو اور میری بات کا جواب دو تم جانتی ہو آج جو تمھیں ملا وہ کون ہے،؟ راج نے پوچھا۔ ماہا ویرا نے نفی میں سر ہلایا۔

وہ تمھارا کڈنیپر ہے،، راج نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتایا۔ ماہا ویرا نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے ڈیڈ کو دیکھا۔
یس مائی ڈاٹر،، مائی لٹل پرنسز، وہ وہی بہروپیا ہے، وہی کڈنیپر،، جس نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے تمھیں کڈنیپ کیا،، تمھیں اتنا ڈرایا،، اتنا ٹارچر کیا کہ اب ڈر تمھارے دل و دماغ میں بیٹھ چکا ہے،، مجھے تکلیف دینے کو تمھیں زہر تک دے دیا،، جانتی ہو ناں جب تمھارے گلے میں وہ درد ہوا تھا اور تم بے ہوش ہو گئیں تھیں،،

راج اسے حقیقت بتا رہا تھا اور وہ بے یقینی سے پوری آنکھیں کھولے سن رہی تھی۔ ہاں اس کے ہونٹوں اور مونچھوں سے لگا ہی تھا کہ اس نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔

وہ اب بھی صرف اپنے مقصد کے حصول کے لئے، مجھے تکلیف پہنچانے کے لئے ، ڈریگن لینڈ کو ڈسٹروئے کرنے لئے یہ سب کر رہا ہے،، اور جانتی ہو میری بچی اس نے تم پر جادو کیا،، اور یہ سب اس رنگ کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھ میں، مگر مصیبت یہ ہے کہ یہ اتر نہیں سکتی،، وہ کوئی کنگ ونگ نہیں ہے تمھارا،، تمھاری شادی اوشن پرنس سے ہونے والی ہے،، ہم اسی مقصد سے زمین پر جانے والے ہیں،، تم تیار ہو ناں پرنسز،، سمجھ گئی نان میری بات،،
راج نے اسے سمجھایا اور اپنی پیاری سی بیٹی کا ماتھا چوما۔

ڈیڈ،،، آئم سوری،، ڈیڈ،،، مجھے ڈر لگ رہا ہے،، وہ پھر سے مجھ پر جادو کرے گا،، مجھے اپنے پاس بلا لے گا،، میں بے بس ہو جاؤں گی،، میں نہیں جانا چاہتی اس مونسٹر کے پاس،،
وہ بلک بلک کر روئی اور اس شخص کے بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو گئے جس سے وہ راتوں کو خوابوں میں بھی ڈر جایا کرتی تھی۔

اب ایسا کچھ نہیں ہو گا پرنسز،، وہ پہلی مرتبہ اینچینٹرس اور دوسری مرتبہ اپنے لوگوں کی وجہ سے بچ نکلا،، اب یہ تھرڈ اور لاسٹ بار ہوگا اگر سامنے آیا تو مرے گا میرے ہاتھوں سے،، اب اگر اس نے میری پرنسز کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں اسے ایسی موت دوں گا کہ موت بھی پناہ مانگے گی مجھ سے،،
راج کا سرسراتا لہجہ تھا۔

تم تیار ہو جاؤ فریش ہو جاؤ،، ہم جا رہے ہیں یہاں سے،، تمھاری شادی ہوگی اوشن پرنس سے جلد از جلد ،، پھر وہ بہروپیا چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پائے گا،، سمجھ رہی ہو ناں میری بات،،
راج نے ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کروائی۔

راج روم سے باہر نکلا۔

ماہا ویرا بھاگتی ہوئی شاہی پنگھٹ پر گئی تھی۔ کپڑوں سمیت ہی تالاب میں گھس گئی۔ اور رو رو کر اپنا آپ رگڑ رگڑ کر ہلکان ہو گئی۔
ایسے کیسے ممکن تھا اپنے سب سے برے سب سے بھیانک نائٹ مئیر کے پاس وہ خود چل کر چلی گئی اور اسے اپنا آپ بھی سونپ دیا۔

وہ رو رو کر ہلکان ہو گئی تھی۔ مگر جلد ہی سنبھل کر لباس تبدیل کیا اور اپنے ڈیڈ اور مما کے پاس چلی گئی۔
وہ تینوں مرر کے پاس پہنچے تھے۔ مرر میں داخل ہوئے تو سیدھا ملائشیا کے لینکیان آئی لینڈ پر نکلے تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

عائش اور روز کافی دنوں سے تاشہ کے چمچوں کو چکما دینے کی کوشش کر رہے تھے اور ایلا کی بھی تلاش جاری تھی۔ مگر تاشہ بہت مکار تھی اس نے عائش اور روز کا تعاقب جاری رکھوایا۔ تبھی عائش اور روز دوبارہ ازلان سے بھی نہیں مل پائے تھے۔ جو بیچ پر روز ان کا انتظار کرتے تھے کہ وہ شاید ایلا کی نوید ان تک لے کر آئیں۔مگر ہر روز ان کا انتظار بے سود چلا جاتا۔

عائش نے پھر اپنی ہر مشکوک سرگرمی ترک کر دی۔ اب ان کا تعاقب بھی کیا جاتا تو بے سود۔ پھر تاشہ نے مطمین ہو کر ان پر سے نظریں ہٹا لیں۔
مگر ایسا صرف عائش کو لگا۔

اب بھی گہری تاریک رات کے سائے اوشیانہ پر پر پھیلائے ہوئے تھے جب عائش نے روز کو جگایا۔ جو اس وقت کا انتظار کرتے کرتے بیچاری اونگھنے لگی تھی۔
روز اٹھو،، چلو وقت ہو گیا،، عائش نے اس کا کندھا ہلایا۔
روز ہڑبڑا کر اٹھی،، عائش نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور دونوں راز داری سے باہر نکلے۔

عائش اس کی جانب بغور دیکھے گیا۔ ان دنوں جب وہ پل پل اس کے ساتھ رہا اسے مختلف طریقوں سے زچ کرنا پریشان کرنا اس کا محبوب مشغلہ رہا تھا۔ مگر وہ اتنی معصوم تھی کہ سمجھ ہی نا پاتی وہ اسے پریشان کر رہا ہے۔
اب تو اس کی عادت ہو گئی تھی۔ وہ اپنی اپنی سی لگنے لگی تھی۔ وہ اس پر رعب جماتا تھا۔ اب شاید ہی اس کے بغیر گزارا ممکن تھا۔

کافی طویل خفیہ راہداریوں سے گزر کر وہ محل سے باہر نکلے تھے۔ آج اوشیانہ میں موسم کافی خراب تھا۔ طوفانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ جو کسی بہت بڑے طوفان کی آمد کا پیش خیمہ تھی۔

وہ سبز مولڈ کی وادی سے گزر کر اس میدان تک پہنچے جہاں بڑے میدان میں وہ باکس جیلی فشز اپنی الیکٹیریکل ٹینٹیکلز بچھائے زندان کا پہرہ دے رہی تھیں۔

عائش اور روزیلہ محتاط انداز میں آگے بڑھے۔ وہ ایک ایک کر کے سٹیپ بائی سٹیپ وہ ٹینٹکلز پار کر رہے تھے۔ کہ تبھی روزیلہ کا پاؤں ایک ٹینٹکلز سے ما ہو گیا۔ شاک کا ایک جھٹکا سا تھا جو روزیلہ کے تن بدن میں دوڑ گیا تھا۔

عائش نے جھٹکے سے اسے کھینچ کر اپنے سینے میں بھینچا۔ روزیلہ نے بہت سختی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔ اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔ مگر زرا سی آواز کی ارتعاش سے وہ باکس جیلی فش بولا جاتیں اور ان دونوں کا شاک سے قیمہ بن جاتا۔

عائش نے بہت زور سے اسے سینے میں دبوچ رکھا تھا۔ روزیلہ نے اپنا سرخ چہرہ اس کے سینہ سے نکالا اور اثبات میں سر ہلا کر اوکے کا اشارہ دیا مگر سچ تو یہ تھا اسے ایسا لگ رہا تھا وہ بے جان ہو چکی ہے۔ عائش نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ اور وہ پھر آگے بڑھے۔

بہت مشکل سے جیلی فشز کا وہ میدان پار کر کے وہ زندان کے منہ تک پہنچے تھے۔
ایلا ماسی،، روزیلہ کی آواز سن کر ایلا تڑپ کر اندر اندھیرے سے روشنی کی جانب آئی۔
روز،، مگر روز کے پیچھے ایک مضبوط و توانا جل پری زاد کے سینے پر وہ شاہی ٹیٹو دیکھ کر ایلا کی آنکھوں سے روانی سے آنسو بہے تھے۔

عائش،،، میرے بیٹے،، ایلا آگے بڑھی۔ مگر زندان کی جادوئی سلاخیں ماں بیٹے کے بیچ حائل ہو گئیں۔ مگر عائش کے پاس بھی شاہی خاندان کی تمام پاورز موجود تھیں۔ تبھی اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔ ہاتھ سے نکلنے والی ریز سے زندان کی سلاخیں غائب ہو گئیں۔ اور ایلا باہر آ کر اپنے بیٹے کے سینے سے لگی۔

مما،، عائش نے بے چین ہو کر پکارا۔
میرے بیٹے،، ایلا نے تیزی سے بیٹے کا منہ چوما تھا۔ اور قریب کھڑی روز کو بھی سینے میں بھینچا۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ ایل کے دائیں طرف عائش اور بائیں طرف روز اس کے سینے سے لگی تھی دونوں نے ایلا کی کمر کے گرد بازو لپیٹ رکھے تھے۔ مگر عائش نے روز کے ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر ہلکا سا دبایا تھا۔ یہ شاید اس کے شکریہ کہنے کا انداز تھا۔

چلیں مما،، بابا انتظار کر رہے ہیں آپ کا،، جب تک اس تاشہ کا کام تمام نہیں ہو جاتا آپ کو بابا کے پاس زمین پر رہنا ہے،، بلکہ ہم سب کو،، اور یہ کام آب جلد ہی پورا کرے گا،،
عائش نے کہتے ایلا کے گلے میں وہ جادوئی موتیوں والا لاکٹ پہنایا۔ روز کے پاس تو تھا ہی وہ۔ وہ زنداں سے نکل کر اب پھر جیلی فشز کے گراؤنڈ سے بچتے بچتے باہر نکلے تھے۔

ابھی وہ سہی طرح سے باہر نہیں نکلے تھے کہ تاشہ کی چیخ وپکار اس پوری مولڈ وادی میں گونجی تھی۔

اے غداروں تمھیں کیا لگا، تم اپنی سازشوں میں کامیاب ہو جاؤ گے،، تاشہ اس زندان میں ہی تم تینوں کو دفنا دے گی،، مگر اوشیانہ کا تخت نہیں چھوڑے گی،،

باکس جیلی فشز میں بھگدڑ مچ چکی تھی اور وہ تیزی سے ادھر ادھر تیرنے لگی۔ طوفانی لہروں کا ایک طوفان سا اٹھا تھا اور ان تینوں پر حمل ہوا۔

وہ تینوں تیزی سے سمندر کی اوپری طے کی جانب تیرے تھے۔ جب تاشہ غصے سے پاگل مکروہ قہقہے لگاتی ان کے پیچھے آئی۔

وہ اپنے ترشول سے ان پر وار کرنے لگی تھی۔ جو وہ تیزی سے ادھر ادھر تیر کر اس وار سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔

مما آپ جائیں ہم اسے روکتے ہیں،، عائش نے ایلا سے کہتے تاشہ پر پلٹ وار کیا تھا۔ جس سے وہ بچ نکلی۔
لیکن عائش،، ایلا نا کہنا چاہا۔ وہ کمزور ہونے کی وجہ سے تاشہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔
آپ کو بابا کی قسم جائیں،، عائش نے کہتے پھر تاشہ پر وار کیا۔

ایلا اوپر کی جانب تیری اور جلدی سمندر کے ساحل تک پہنچ گئی۔

وہ دیکھو تمھاری بےوقوف ماں، پھر تم تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے،، تاشہ مکروہ قہقہہ لگاتے چلائی۔
نیچے عائش تاشہ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ مگر اس کی بات پر عائش کی زرا سی توجہ اس پر سے ہٹی تھی۔ تاشہ نے عائش پر ایک بھرپور وار کیا تھا۔ روز جو کہ ماں کی مکاری سمجھ گئی تھی تیزی سے عائش کے سامنے آئی تھی۔

ایک آگ کا گولہ سا تھا جو روزیلہ کے پیٹ کو چاک کرتا اسے زخمی کر گیا تھا۔
روز،،،، عائش دھاڑا اور بے جان ہوتی روز کو اپنے بازو میں بھرا۔ وہ جان لیوا حملہ جو اپنی ہی بیٹی پر کر بیٹھی تھی تاشہ پتھرائی سی نگاہوں سے روزیلہ کا خون پانی میں شامل ہوتے دیکھ رہی تھی۔

تبھی عائش نے بھی ایک بھرپور وار اس پر کیا تھا کہ وہ بے ہوش ہو کر نیچے گری۔

روز ،،،میری جان،،، عائش اسے لئے مولڈ ماؤنٹین کی ٹاپ پر اترا تھا اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر دیوانہ وار اس کا چہرہ تھپتھپایا۔

عائش،، جائیں،،،، یہاں،،،،،،، سے،، وہ لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ بولی۔
تم بے وقوف تو ہو ہی لگتا ہے پاگل بھی ہو چکی ہو،، تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے روز کہ میں تمھیں یہاں چھوڑ کر جانے والا ہوں،، عائش دھاڑا تھا۔

وہ میری ،،،،،، ماں ہے،،،،مجھے،،،،،، بچا لے گی،،،،،،، میں اسے،،،، روکنے کی،،،،،، ک،،،،،، کوشش،،،، کرتی ہوں،،، آپ جائیں،، روزیلہ اکھڑتے سانسوں کے درمیان بولی۔ عائش نے کچھ کہنا چاہا جب روز نے اس کے نیم وا لبوں پر بمشکل اپنا ہاتھ رکھا۔

آپ کو ماسی،،،،،، کی قسم،،،،،،،،،،،،، جائیں یہاں سے،،، روزیلہ نے بات ہی ختم کی۔ بے حد درد سہتے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔ عائش نے بےبسی سے اسے دیکھا۔
زندگی میں پہلی بار ایسا موقع ایسا پل آیا تھا کہ اپنی قیمتی متاع حیات کو کھو کر اپنی سانسیں اسے گھٹتی بند ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔

روز کی سانس اکھڑ رہی تھی۔ ہاں،،، اسی دن کی طرح جب وہ خود اسے مرنے کے لئے بے آب وساگر تڑپتا چھوڑ کر گیا تھا۔
ہاں یہ کہانی وہیں سے تو شروع ہوئی تھی۔ جب اس نے اپنی سانسیں زندگی بنا کر اسے کے سینے میں اتاریں تھیں۔ عائش کو اسی لمحے اسی پل تو یہ شدت سے محسوس ہوا تھا کہ وہ زندگی میں اس کے لئے کیا مقام پا گئی ہے۔ وہ لمس کا جادو اور اس کی قربت کی نرم گرم حدت۔
وہ کیسے بھول سکتا تھا۔

اب بھی بہت بے چین ہو کر اس کے کپکپاتے لبوں پر نرمی سے اپنے ہونٹ رکھ کر اس کے سینے میں اپنا سانس اتارا تھا۔
روز سانس لو ڈیم اٹ،، اس کی تھمتی سانسوں کو دیکھ وہ بری طرح تڑپا تھا۔

جج،، جائیں،،، آنکھیں بند کرنے سے پہلے اس نے عائش کو کہا تھا کیونکہ تاشہ شاید ہوش میں آ چکی تھی اور اس کے پہرے دار بھی اسی جانب آ رہے تھے۔ تاشہ بری طرح چیخ چلا رہی تھی۔
عائش نے لال انگارا آنکھوں سے اس کا سر نرمی سے چوٹی پر رکھا۔ جو کہ ایک جانب ڈھلک گیا۔ عائش اسے دیکھتے اوپر کی جانب تیرا۔

تاشہ روز تک پہنچ چکی تھی۔ عائش وہاں سے جا چکا تھا۔ اپنی پہلی شکست اور ایلا کے ہاتھوں سے نکل جانے پر بیٹی کے مردہ وجود کو دیکھ وہ پھر غصے سے چیخی چلائی۔ اور دھاڑیں مار مار کر روئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️