No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
رومینیا کے اس ہسٹوریکل پیلس میں آج غیر معمولی دہشت اور وحشتناک سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ کالے سیاہ بادلوں نے آسمان کو ڈھانپا ہوا تھا۔۔۔۔**
گہری رات کا وقت تھا۔**
اس ہسٹوریکل پیلس کے اوپر آدھی رات کے وقت بھی سیاہ گدھ اڑ ارہے تھے۔ جیسے بہت سارا مردار ہاتھ لگنے والا ہو۔ جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو۔
اور چھت کے آس پاس کوے عجیب طرح سے کائیں کائیں کرنے میں مصروف تھے۔ تمام قبرستان میں کوے اڑ رہے تھے۔**
اس ہسٹوریکل پیلس کے اندر ہر جانب خون کے چھینٹے اور گوشت کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔ اسی کے بیسمنٹ میں ایک بڑا سا آگ کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ اور اس آگ کے پاس وہ بھدی ترین شکل والی چڑیل بیٹھی منہ میں کوئی ناپاک جنتر منتر پڑھ رہی تھی۔ ****
مکروہ اور ڈارؤنی ترین شکل والے شیطان کے چیلے اس کے آس پاس مکرہ قہقہے لگاتے چکر کاٹ رہے تھے۔ وہ سب ایک آنکھ والے اور سرخ پتلیوں والے شیطان تھے جو وہاں پڑی کافی ساری لاشوں کو اپنی خوراک بنا چکے تھے۔ اور اس جگہ کی درویوار پر خون یوں بکھرا ہوا تھا جیسے وہاں اونٹ کے اونٹ زبح کیے گئے تھے۔ **
اچانک بہت زور دار دھماکے ہونے شروع ہوئے تھے۔ ماحول پر دہشت سی طاری ہو گئی۔ وہ سب چیلے خباثت بھرے قہقہے لگانے لگے۔ زمین زلزلوں کی ضد میں آئی اور اس چڑیل کے سامنے اس الاؤ میں سے زمجن پھٹنے لگی۔ سرکنے لگی۔ زمین سے سیاہ بدبودار گندے خون کے فوارے سے ابلنے لگے۔ **
وہ زمین آہستہ آہستہ پھٹنے لگی اور اس میں سھ ایک کافن نمودار ہونے لگا۔ بلیک وچ جو اپنے بھیانک ڈھانچے نما چہرے سے وہ منتر پڑھ رہے تھی اس کے ان منترون میں شدت پیدا ہونے لگی۔ وہ کافن سارا اوپر چلا آیا۔ اس کافن سے موذی جانور اور کیڑے مکوڑے چپکے ہوئے تھے۔ **
تبھی دھاڑ کی آواز سے اس کافن کا ڈھکن سرکا تھا۔ اندر ایک ہڈیوں نما مردہ جو کیڑوں مکوڑوں سے لدا ہوا تھا اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں۔ اس شیطان نما بھیانک شکل والے مردہ کی آنکھوں سفید اور پتلیاں مردوں کی طرح ساکت تھیں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔ **
تمام شیطان کے چیلے اپنے آقا کے اٹھ جانے کے خوف و دہشت سے زمین پر گر گئے تھے۔
بلیک وچ نے ایک نظر اس سامر شیچان پر ڈالی۔ خود کی اتنی ڈراؤنی اور بھدی شکل ہونے کے باجود سامنے طیٹھا وہ نیم مردہ اس قدر ڈراؤنا، کیڑوں سے لدا اور مکروہ تھا کہ ایک مرتبہ تو وہ خود بھی خوف کھا گئی تھی۔ **
سامر کی ساکت پتلیوں نے بلیک وچ کو غصے سے گھورا۔
آقا،،،، وہ خود بھی سر زمین پر ٹکائے اس کے گندے کیڑے پڑے پیروں میں گر گئی تھی۔ **
وہ مردہ کفن پھاڑ کر کافن دے باہر نکل آیا تھا۔ یعنی ایک شیطان جاگ چکا تھا جانے کیا کیا تباہی لانے۔ کس کس کو موت دینے۔ کس کس کو موت کے گھاٹ اتارنے۔۔**
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ماہا ویرا بیڈ پر نیم دراز تھی۔ اسے پہرہ دار پریوں نے جان بوجھ کر بیہوش کر دیا تھا۔
آہستہ آہستہ ماہا ویرا کو ہوش آیا تھا۔ پہلے تو کافی دیر لیٹی وہ غائب دماغی کے عالم میں چھت کو گھورتی رہی۔ مگر جب سب یاد آتا رہا وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ **
ملگجے سے اندھیرے میں بھی وہ پہچان چکی تھی کہ وہ اسی گھر میں تھی ۔ اسی کمرے میں جہاں اسے اس بے حس پری زاد نے قید کر کے رکھا تھا۔ اور ایک مرتبہ پھر وہ اسی عقوبت خانے میں آ پہنچی تھی۔ **
ماہا ویرا نے سہم کر ادھر ادھر دیکھا۔ جسم پر ابھی بھی وہی ویڈنگ ڈریس تھا جو آج اس نے پہنا تھا۔ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے کا شغل فرمانے لگی تھی۔ جب
مائی کوئین،،، پلیز،، ڈونٹ کرائی،،، آپ بلکل سیو ہیں،، اپنے کنگ کے پاس ہیں،،،، آپ کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں،، اب آپ کو زرا سی بھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی یہاں،،،، اور
شٹ اپ،،،، آئی سیڈ جسٹ شٹ اپ،،،،
ماہا ویرا کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلائی تھی۔ کیونکہ بھاری لہجے کی وہ گھمبیر سفاک اور ظلم سرگوشیاں اسے پھر سنائی دینے لگیں تھیں۔ **
ابھی اس کمرے میں آ کر گھبرا رہی ہیں آپ،، ابھی تو آپ کو میری پناہوں میں آنا ہے،،، اپنے کنگ کی بانہوں میں،،، وہ جو گہری رات کی تاریکی میں جگنوؤں کی چمک ،پھوٹتے چشمے کی تازگی بھری جھنکار، پھولوں پتوں کو گواہ بنا کر ہمارے ملن نے ادھوری داستان چھوڑی تھی اسے بھی تو مکمل کرنا ہے ناں میری جان،،،
یہ سرگوشیاں نہیں تھیں۔ کوئی ظالم سفاک قاتل ہاتھ تھے جو ماہا ویرا کے جسم سے اس کی جان کی تار کھینچ رہے تھے۔ وہ ایک مرتبہ پھر ٹوٹ کر بیڈ پر گری اور بکھری۔ اور بہت ہی زیادہ سختی سے اپنے کان بند کرنے کی کوشش کی۔ **
ایسے تو مت تڑپیں کوئین،،، نا اس کنگ کو تڑپائیں،، کم ٹو می،،، پلیززز،،،، آپ کی یہ دوری اس کنگ کی بھی جان کسی عذاب ناک درد میں جھونک دیتی ہے،،
ماہا ویرا جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی تھی۔ جانے کہاں سے آئی تھی اس میں اتنی ہمت کے وہ بے تحاشا روتی دھاڑ سے دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔
وہ جانتی تھی اسے کس طرح جانا ہے۔ **
طویل کوریڈور پار کر کے وہ ایک مخصوص کمرے کے سامنے تھی۔ چھپاک سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ جو کھڑکی پر کھڑا باہر دیکھ رہا تھا اس کی آہٹ پاکر مسکرا کر پیچھا پلٹا۔ آج پہلی مرتبہ وہ اس کے سامنے ہڈی کے بغیر تھا۔ **
ماہا ویرا آگے بڑھی تھی۔ اور درد سے ٹوٹے جسم کی پرواہ کیے بغیر ایک زناٹے دار تھپڑ تھا جو اس نے کنگ ویام کے چہرے پر رسید کیا تھا۔ **
مجھے پانے کےلئے آپ پھر سے وہی اوچھا ہتھکنڈا آزمانا چاہتے ہیں،، جادو کر رہے ہیں آپ مجھ پر،، تو کان کھول کر سن لیں،، ایک ڈریگن پرنسز کو ہرانا اور اس پر اپنا جادو چلانا اتنا آسان نہیں،،، سمجھے آپ،،،
دگرگوں حالت،،، آنسوؤں سے تر چہرہ،، سرخ آنکھیں اور چھوٹی سی ناک،،ویڈنگ نیٹ کا وہ پنک ڈریس،، جس میں اس کا گلابی جسم دمک رہا تھا۔ وہ ہمت کرتی اس کا گریبان جھنجھوڑ گئی تھی۔
پہلے تو کنگ ویام اس کی اتنی جرات پر ششدر رہ گیا۔ پھر جانے کیا سوچ کر اور گہری نظر سے اسے دیکھ وہ گہرا مسکرایا تھا۔ ****
ویام نے اس کی کمر میں اپنا ہاتھ ڈال کر اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ کٹی ڈال کی طرح اس کے سینے سے آ لگی ۔ ویام نے اس کے بالوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا۔ **
رونگ،،،، یہ ہار جیت کا جادو نہیں کوئین،، میری محبت کا جادو ہے،، جو سر چڑھ کر بولتا ہے،، تبھی تو آپ بھی اس کنگ کی قربت کے لئے مچلتی خود ہی یہاں میرے پاس چلیں آئیں،، ایسا ہی ہے ناں،،،
ویام نے اپنے ہونٹوں سے اپنی بانہوں میں موجود اس بنا پنکھوں والی چھوٹی سی پری کے چہرے کا ایک ایک نقش چھوا تھا۔ **
ماہا ویرا نے سختی سے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں۔
میں آپ سے نفرت کرتی ہوں،،، آپ نے میرے پیرنٹس کو تکلیف پہنچانے کو وہ سب کیا،،، مجھے کڈنیپ کیا،، ڈرایا دھمکایا،،، مجھے زہر دیا،،، اور اس کا توڑ کرنے کو زبردستی بنا اپنی مرضی کے مجھ سے شادی کی،، اب بھی صرف آپ وہی کرنا چاہتے ہیں،، بس میرے ڈیڈ کو تکلیف دینا چاہتے ہیں،، یہ سب ڈھونگ ہے آپ کا،، دور ہٹیں مجھ سے،،
ماہا ویرا نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے خود سے دور دھتکار دیا تھا۔ ویام نے خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھا۔ جو سب کچھ بھول کر بس صرف ادے پانا چاہتا تھا مگر وہ جانے انجانے اسے سب یاد کروا چکی تھی۔ اور ایک فیری ٹوپیا کنگ کے غصے وغضب کو ہوا دے چکی تھی۔ **
ویام ایک ہی جست میں اس تک پہنچا تھا۔ اسے اپنے کندھے پر گرایا اور لا کر بیڈ پر پٹخا۔ ماہا ویرا کی آنکھوں کے سامنے دنیا گھوم گئی تھی۔ اس نے اتنی ہی تیزی سے اٹھنا چاہا۔ مگر اپنے ہی لباس کی نیٹ میں الجھ کر رہ گئی۔ کنگ ویام نے بڑی آسانی سے اس پر دسترس حاصل کی تھی۔ وہ پورا کا پورا اس پر حاوی ہوا تھا۔ ****
ماہا ویرا بہت بری طرح مچلی مگر خود کو اس کی وحشی گرفت سے آزاد نا کرواسکی۔ آخر وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہ جو اس کی سانسوں جتنا قریب تھا۔ بغور ماہا ویرا کو دیکھے گیا۔ پھر کنگ ویام نے نرمی سے اسے آزاد کر دیا تھا۔ ****
ماہا ویرا اٹھ کر بیٹھی اور اٹھ کر پیچھے سرکتی چلی گئی۔ ****
میرا پہلے یہی مقصد تھا،، جیسے کہ آپ نے بولا، پھر میں آپ کو یہاں لایا،،، اور میرا ہر مقصد بدل گیا،،میں بدل گیا،، اگر مجھے آپ کو تکلیف پہنچانا مقصود ہوتا،، یا آپ کے پیرنٹس کو تو سب سے پہلے میں آپ کو جان سے مار ڈالتا،، مگر مجھ سے وہ نا ہو سکا،، پھر میں آپ کی معصومیت روند دینا چاہتا تھا،، مگر میں وہ بھی نہیں کر سکا،، کیوں،،،؟ اس سوال کا جواب شاید آپ کے پاس ہو کوئین،،
ویام نے اپنے بال مٹھیووں میں جکڑ رکھے تھے۔ اسے ابھی معلوم ہوا کہ اب وہ ساری حقیقت جانتی ہے۔ تو اس کا بھروسہ کیسے جیتے۔ کیسے اس اپنا یقین دلائے۔ کیسے اس کی محبت جیتے ۔ کیسے اسے جیتے۔ کیسے ایک خوشحال شاہی خاندان کا آغاز کرے۔ ویام کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا ابھی۔ ****
ماہا ویرا دم سادھے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ ابھی ابھی جو اس نے کہا تھا کیا وہ سچ تھا۔ یقین کرنا مشکل تھا۔ مگر دل ہمک ہمک کر طول رہا تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے تبھی تو اسے سہی سلامت آزاد کر دیا تھا۔ ****
کنگ ویام بیڈ سے کھڑا ہوا۔ اور ماہا ویرا کی جانب آیا وہ بدک کر ایک دم پیچھے ہٹی۔
میرے ساتھ ،، میں آپ کو آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینا چاہتا ہوں،، کیا آپ مکھ پر بھروسہ کریں گی،،، کنگ ویام نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ مگر ماہا ویرا دم سادھے بیٹھی ٹس سے مس نا ہوئی۔ ****
کوئین میں نے کہا میرے ساتھ آئیے،،، اب کی بار کنگ ویام نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے کھینچ کر بیڈ سے نیچے اتارا تھا۔ ****
کنگ ویام نے ایک جھٹکے سے اپنے پر پھیلائے تھے۔ ان پروں کی پھڑپھڑاہٹ میں ایک خاص پیغام تھا۔ وہ سب پریاں اور پری زاد اپنے کنگ کی ہمراہی میں فیری ٹوپیا کی جانب اڑے تھے۔ ****
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مایا وش اس وقت اپنی خواب گاہ میں تھی اور بہت ہی زیادہ کمزوری محسوس کر رہی تھی۔ حالانکہ اینچینٹرس نے اور خدمتگار پریوں نے کوئی کسر نا چھوڑی تھی اس کی دیکھ بھال میں۔ ****
اینچیبٹرس اس کی خواب گاہ میں تشریف لائی تو سب پریوں نے جھک کر اس کی تعظیم کی۔ مایا وش نقاہت زدہ سی اٹھ کر بیٹھی۔ ****
مبارک ہو ڈریگن پرنسز،،، اوشن کنگ کامیاب لوٹیں ہیں،، اینچینٹرس نے مایا وش کو اس کی زندگی کی سب سے اچھی خبر سنائی۔****
وہ تو جب سے جلی تھی رو رو کر ادھ موئی ہو چلی تھی یہ سوچ کر کے آبدار تکلیف میں تھا۔ تبھی محل میں غیر معمولی سی ہلچل پیدا ہوئی تھی۔ محل میں پریوں نے شادمانی کے گیت گائے تھے۔ وہ مسکراتا سمندر کا بے تاج بادشاہ اپنی ملکہ کے لئے محبت کا ماپ لے کر کامیاب واپس لوٹا تھا۔ ****
وہ ایورا کے پاس آیا تھا۔ مگر ایورا سے پتہ چلا کہ مایاوش ان کے کنگ کی اور فیری گارڈین کی ملکہ اینچینٹرس کی خاص مہمان ہے۔ تو اس نے پہلے اپنی آمد کی اطلاع بھیجی اور پھر وہ ایورا کے ہمراہ یہاں چلا آیا۔ ****
مایا وش پھرتی سے بستر سے نیچی اتری تھی۔ آبدار کو دیکھ کر اس کی جانب لپکی۔ مگر بھول گئی کہ وہ ابھی کمزور ہے۔ تبھی لڑکھڑائی تھی جب دو مہربان بانہوں نے اس نرمی سے تھاما تھا۔ ****
آب،،،، وہ اس کے سینے سے لگی۔ آبدار کئی لمحے آنکھیں موندے وہ ہل محسوس کرتا رہا جب وہ اس کے بے حد قریب تھی۔ آخر اینچینٹرس نے اسے گلا کھنکھار کر ہوش دلانا پڑا۔ ****
وہ اینچینٹرس کے سامنے تعظیما جھکا۔
مبارک ہو اوشن پرنس،، اینچینٹرس نے مسکرا کر کہا تو آبدار نے سر تسلیم خم کر کے وہ مبارک قبول کی۔ مگر ہنوز مایا وش کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔****
تبھی وہاں کنگ ویام اور محافظ پریوں اور فیری ٹوپیا کی کوئین کی آمد کی پکار پڑنے لگی۔ فیری ٹوپیا کے لوگ جوق در جوق یہ نظارا دیکھنے کو ہزاروں کی تعداد میں محل کی جانب اڑ آئے تھے۔ ****
مایا وش محل میں کنفیوز سی داخل ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ اس کو اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے والا تھا۔ وہ بھروسہ کر کے یہاں تک چلی آئی تھی۔ اور اب ہونقوں کی طرح ان خوبصورت نازک لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو اس کے آگے پیچھے بچھے جا رہے تھے مگر وہ خوفزدہ ہو کر ویام میں گھسی جا رہی تھی۔ ****
(یہاں محفل میں موجود ایک وجود اپنی برسوں کی ریاضت، مکاری، دھوکے بازی، اور عیاری کو یوں رائیگان جاتا دیکھ جلن، حسد اور غم وغصے سے پاگل ہوا تھا) ****
وہ لوگ اندر آئے۔ ماہا ویرا نے ایک عجیب منظر دیکھا تھا۔ اس کی ایک کاربن کاپی ٹھیک اس کے سامنے کھڑی تھی۔ مگر قدرے مختلف حلیے میں ۔ ****
مایا وش جو کنگ ویام کی آمد کو دیکھ رہی تھی اچانک نظر سامنے پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔ وہ چند سال پیچھے چلی گئی تھی۔ اپنا ہی عکس سامنے دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔****
مایا وش آب کے پہلو سے نکلی اور چند قدم آگے بڑھی۔ ماہا ویرا نے ویام کا پہلو چھوڑا اور حیرت زدہ سی چند قدم آگے بڑھی۔ ****
باقی سب دم سادھ کر یہ منظر دیکھنے لگے۔ ****
مایا وش جلدی سے قدم اٹھاتی اپنے عکس تک پہنچی تھی۔ ماہا ویرا حیرت سے اسے دیکھے گئی۔ راج ڈیڈ نے سب بتا تو دیا تھا ۔ مایا وش کے بارے میں ۔ اس کی بہن ۔ اس کی پیاری کھوئی بہن۔ ادھر مایا وش نے حیرت سے اس کے گال چھوئے تھے۔ ڈیڈ نے دکھایا تو تھا سب۔ اس کی وہ چھوٹی سی گڑیا بلکل اس کے سامنے تھی۔****
پھر وہ اچانک ایک دوسرے میں سمائیں تھیں۔
آپی،،،،،،
گڑیا،،،،، مایا وش روئے گئی۔ اور اس کا منہ چومے گئی۔ کتنا پیارا احساس تھا۔ برسوں کے بعد اپنھ اصل سے اپنے خاندان سے یوں ملنا۔ ****
وہاں موجود ہر نرم دل وجود کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ سب نے زور دار کلیپنگ کی تھی ۔****
اینچینٹرس جو نم آنکھیں لئے مسکرا کر انھیں دیکھ رہیں تھیں بہت اچانک یک دم ان کے لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو کر چہرہ فکر و پریشانی سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔****
(جبکہ وہاں موجود اسی وجود کے چہرے پر ایک خباثت بھری مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔)
اینچینٹرس نے چپکے سے آبدار کو اشارہ کیا۔ آبدار جلدی سے اینچینٹرس کے پاس آیا۔ *** *
اوشن کنگ،،، وہ شیطان جن وہ سامر جادوگر وقت سے پہلے جاگ چکا ہے،،،،، آپ پرنسز کو لے کر یہاں سے جائیے وہاں جہاں سے اس سب کی شروعات ہوئی،،، اور اب سب سے پہلے اپنے اوشن کے تخت کا کراؤن حاصل کریں،، آپ سمجھ رہے ہیں ناں میں کیا کہنا چاہتی ہوں،،،
اینچینٹرس کے چہرے پر ہوائیاں اڑیں ہوئیں تھیں۔ آب نے اثبات میں سر ہلایا۔ ****
اینچینٹرس نے کنگ ویام کی جانب اشارہ کیا۔ اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ ****
آب اور ویام آگے بڑھے تھے۔ ویام نے ماہا ویرا کو کندھوں سے تھام کر پیچھے ہٹایا۔ آب نے مایا وش کو تھاما۔
وہ دونوں ہی تڑپ گئیں تھیں۔ آب مایا وش کو اپنی جانب کھینچنے لگا۔ ****
آب مجھے گڑیا کے پاس رہنا ہے ابھی،،، مایا وش نے ویرا کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
چھوڑیں مجھے،،، آپی،،،،، ویرا مایا وش کی جانب ہمک ہمک کر آنا چاہتی تھی۔ مگر افسوس جدائی کا وقت پھر سے سر پر آن پہنچا تھا۔ ****
آب مایا وش کو لیے اینچینٹرس کے پیچھے پیچھے آیا۔ اینچینٹرس انھیں لیے ایک خاص کمرے میں آئی۔ اینچینٹرس نے اپنی میجک سٹک سے ایک آئینے کی جانب اشارہ کیا۔ تو اس میں بلیک کلر کا ہول ہو گیا۔ آب ایک الوداعی نگاہ اینچینٹرس کی جانب دیکھ کر مایا وش کو تقریباََ کھینچتا اس ہول کی جانب گیا۔****
آب گڑیا،،،،، مایا وش رو دی۔ مگر آب اسے کندھوں سے تھامےاس بلیک ہول میں گھس گیا۔ ****
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج بہت خوش تھا۔ اس کی ملاقات اوشن کنگ سے ہو چکی تھی۔ وہ وشہ کے پاس واپس لوٹا تھا۔
مگر رائیل پیلس میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ اندر داخل ہوا تو سب متفکر سے لاؤنج میں موجود تھے۔ ****
راج پرجوش سا اندر داخل ہوا۔ اور ایلا ازلان اور مایا وش کو تمام احوال بیان کیا۔ کہ وہ بیری لانا محض ایک امتحان تھا۔ جو اس نے اپنے ہی داماد سے لیا تھا۔ ****
وشہ زادی ہو گئی،، پرنسز کدھر ہے،، راج نے آخر وہ سوال پوچھ ڈالا جو کہ وشہ کو کھائے جا رہا تھا۔
راج،،، وشہ اس کے بازو سے لگ کر رو دی۔ وہ پری زاد ہھر آیا اور ماہا ویرا کو لے گیا،،، وشہ نے نم آنکھیں لیے کہا۔ ****
کیا،،،،؟ میں اس سر پھرے کنگ کو جلا کر بھسم کر دوں گا،، اس کی اتنی جرات،، پہلے تو ہم نے کچھ نہیں کیا،، مگر اب میں فیری ٹوپیا کی اینٹ سے اینٹ ضرور بجا دوں گا کوئین،،،
راج دھاڑا تھا۔
وشہ نے اس کا بازو دبوچا۔ رک جائیں راج،،، یہ پیغام اینچینٹرس نے بھیجا،،،
وشہ نے ایک کرول راج کی جانب بڑھایا۔ راج نے وہ کرول تھام کر جلدی سے اس کھولا۔ ****
کنگ راج،، چھوٹی پرنسز آج سے میری زمہ داری ہوئی،، اسے ہلکی سی بھی کھروچ آئی تو میں زمہ داری اٹھاؤں گی،، مگر اتنا جان لیں کہ وہ یہاں کی کوئین بن کر ہمارے کنگ اور لوگوں کی پلکوں پر بیٹھنے والی ہیں،، اور دلوں پر راج کرنے والی ہیں،،، بس آپ ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچئیے گا،، کہ محبت تقدیریں بدل دیا کرتی ہیں،،،،
پیغام تھا یا ایک اشارہ، کہ ماہا ویرا کی تقدیر بدل چکی ہے۔ اب اس کا نصیب ایک پری زاد کنگ سے جڑ چکا ہے۔ ایک عظم۔ ایک خواہش۔ ****
جانے کی ہونے والا تھا۔ کیا نہیں ۔
اس پیغام کی وجہ سے کنگ راج کچھ پرسکون ہوا تھا۔ اور اسے سکون میں دیکھ کر ازلان اور ایلا نے بھی سکون کا سانس لیا۔ ****
مگر عائش کی جانب سے وہ پریشان تھے۔ وہ زخمی تھا۔ مگر جسمانی زخموں سے زیادہ اسے اس کے دل کے زخموں نے تڑپا رکھا تھا۔ جس کا علاج صرف آبدار کی واپسی پر ممکن تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جیک اور رنجنا گہری نیند میں تھے۔ جب رنجو کی کسی عجیب سے احساس کے تحت آنکھ کھلی۔
وہ کنفیوز سی تھی۔ تبھی اپنے اور جیک کے درمیان تکیے لگا کر سوئی تھی۔ وہ اس کی کئیر کرنے لگا تھا۔
رنجو کی ادھ کھلی آنکھیں پوریں کھلیں تھیں جب کھڑکی کے پاس اس نے سنجنا کو کھڑے دیکھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
