No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج پھر ڈریگن لینڈ پر سوگواریت سی چھائی تھی کیونکہ کوئین وشہ آج پھر سوگوار سی اداس ہی تھی۔ کیای بدقسمت ملکہ تھی وہ کہ اتنی طاقتور ہونے کے باوجود ایک پوری سلطنت کی رانی ہونے کے باوجود اپنی اولاد کی حفاظت نہیں کر پائی تھی۔ مایا وش کو تو کھو چکی تھی ۔
یہ بات اس کے لئے کای شدید صدمے سے کم نہیں تھی کہ وہ ماہا ویرا کو بھی اپنے پاس ڈریگن لینڈ رکھ سکتی تھی۔ سر تو بہت پٹخا وہ روئی چلائی بھی مگر پھر ایک ماں کو اپنی اولاد کی سلامتی کے لئے یہ قربانی دینی ہی پڑی ۔ وشہ کو ماہا ویرا کو خود سے دور زمین پر سیرا کی گود میں دینا پڑا۔ ماریہ اور اس کے ڈیڈ ظفر کا تو انتقال ہو گیا تھا۔ مگر سیرا اور جمی نے ماہا ویرا کو بہت حفاظت سے پالا تھا۔۔
سیرا جو کہ مایا وش کی گمشدگی کے بعد خود بھی گم صم ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی اولاد نا ہونے کی وجہ سے اس بات کا بہت گہرا صدمہ لیا تھا کہ اس کی وجہ سے مایا وش گم ہو گئی۔ تب ڈاکٹرز نے جمی کو بےبی ایڈاپٹ کرنے کو بولا تھا تب وشہ اور راج نے اس کی گود میں ناہا ویرا کو بھر دیا۔
راج خواب گاہ میں آیا اور کھڑکی میں کھڑی اس سوچوں میں ڈوبا دیکھ اس کے گرد اپنے بازو حمائل کیے۔
کیا ہوا وشہ،، اس کی اداسی کا سبب معلوم ہونے کے باوجود وہ پوچھ بیٹھا۔
راج ہماری بچیاں،، وہ اس کے سینے میں منہ دے کر سسک پڑی۔
چلو ویرا سے مل کر آئیں،، راج نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے نرمی سے کہا۔
وہ تو خود اپنی بچیوں کے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپتا تھا۔ مگر کبھی وشہ کے سامنے ظاہر نا ہونے دیا کہ پھر تو وشہ بلکل ہی ٹوٹ جاتی۔
راج کیا سچ،، وہ اتنے سے میں ہی خوش ہو گئی۔
ہاں،، گرینڈ فادر نے مرر سے بولا کہ انھیں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تو ویرا کو دیکھ کر آئیں ہم لوگ، تو چلیں،، راج نے مسکرا کر کہا تو وشہ خوشی میں یہ پوچھنا تو بھول ہی گئی کہ گرینڈ فادر کو کیوں ایسا فیل ہو رہا ہے۔
وہ دونوں وہاں سے نکلے۔
سیرا اور جمی کو یونہی بتایا گیا تھا کہ وہ لوگ واشنگٹن میں ہی ہیں۔ اور ماہا ویرا کو حقیقت بتا دی گئی تھی کہ اس کے اصل ماں باپ راج اور وشہ ہیں۔ اور کسی خاص وجہ سے وہ جمی ڈیڈ کے پاس ہے۔
ماہا ویرا کبھی ان گہرائیوں میں ابھی اتری ہی نہیں تھی کہ وہ کیوں جمی کے پاس تھی اپنی لاابالی نیچر کی وجہ سے اس نے کبھی جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔ہاں اپنے اصل ماں باپ سے بھی دنیا میں سب سے بڑھ کر محبت کرتی تھی بلکہ وہ اس کی نظر میں عظیم ترین ماں باپ تھے جو خود اکیلے رہ رہے تھے مگر سیرا کی بیماری کی وجہ سے اس کی گود بھر گئے تھے.
صبح ماہا ویرا کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس کی نگاہ آتش دان کے سامنے رکھے کاٹ پر پڑی تھی۔ پرندہ غائب تھا۔ وہ اداس ہوئی۔
دیٹس ناٹ فئیر کوکو،، میرے اٹھنے کا ویٹ ہی نہیں کیا اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے،،، اس نے برا سا منہ بنایا رات سوتے سوتے سوچتے اس کا نام تک سوچ چکی تھی۔ مگر وہ اب سرے سے غائب ہی تھا تو اسے افسوس ہوا تھا۔ وہ برا سا منہ بنا کر واش روم گھسی نہا کر باتھ ٹاول میں باہر آئی تھی۔ باہر آئی تو فون چنگھاڑ اٹھا۔ وہ بے توجہی سے ٹیبل پر پڑے فون کی جانب آئی تو ٹھٹھک کر رکی۔ ابھی ابھی اس نے آئینے میں خود کو کسی اور لباس میں دیکھا تھا۔
مگر اب تو وہ ٹاول میں ہی تھی۔
افففف کیا مصیبت ہے یار،،، اس نے سر جھٹکا اور جا کر فون اٹھایا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کے اندھیرے میں مایا وش اپنے کمرے میں دبکی بیٹھی تھی. صبح پارٹی کا دن تھا۔ کائلہ نے اس کے لئے لباس منتخب کر کے اس کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔ اسے ہدایت تھی کل وقت رہتے تیار ہو جائے اور واپسی پر اپنے ساتھ سنجنا کو لازمی لے کر آئے۔ اب چونکہ اماوس کی رات گزر چکی تھی اور اس کی طاقتیں بھی کمزور پڑ چکیں تھیں۔ لہزا وہ جادو کے زریعے سنجنا کو نہیں بلا سکتی تھی اس کی مصیبت کا ایک ہی حل تھا کہ سنجنا خود چل کر اس کے پاس آئے اور اپنی بلی اسے دے دے۔
کائلہ نے ایک مخصوص چلہ بھی کاٹا تھا مگر نا تو وہ سٹاف روم میں مایا وش کو ملنے والے لڑکے کا پتہ لگا پا رہی تھی۔ اور نا ہی اس کے چیلے کو مارنے والے تک پہنچ پا رہی تھی۔ جب بھی آگ کے آلاؤ کے سامنے بیٹھ کر چلہ کرتی۔ چلہ مکمل ہوتے ہوتے اس شخص کے چہرے تک پہنچتے پہنچتے الاؤ پر جیسے کوئی بالٹی بھر پانی ہی گرا دیتا۔ اور سارے چلے کا بیڑا غرق ہو جاتا۔
سامر کے جاگنے اور اس مایا وش کے اٹھارا سال کے ہونے میں بس تین ماہ باقی تھے۔ اسے بس تین ماہ اسے پہلے کی طرح قابو میں رکھنا تھا ۔ چھپا کر۔
وہ جیت کے اتنے قریب آ کر اب ہار نہیں سکتی تھی۔ جب سامر اس مایا وش کو پا لیتا اور ڈریگن لینڈ سمیت فیری ٹوپیا اور اوشیانہ پر بھی اس کی راجدھانی قائم ہو سکتی تھی۔
اب بس ایک ہی طریقہ تھا اس لڑکے کے ، سنجنا کو بچانے والے کے اور اس کے چیلے کے قاتل کے بارے میں جاننے کا اور وہ تھا مایا وش کو ٹارچر کر کے اس سے سچ اگلوانے کا۔
وہ اس کے روم میں آئی تھی۔ آ کر اس کے سر پر سوار ہوئی تھی۔
کون تھا وہ لڑکا مایا وش،،؟ کافی سرد لہجہ تھا مایا وش سمجھ چکی تھی کہ اب وہ اسے ضرور کوئی تکلیف پہنچائے گی۔
مجھے نہیں معلوم،،، مایا وش نے بھی سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔
وہ کیا بول رہا تھا یہ تو معلوم ہے ناں،، وہ کافی چبھتے لہجے میں پوچھا گیا۔
ہ،،ہاں، وہ بول رہا تھا مجھے تمھارے پاؤں اور ہاتھ بہت اچھے لگتے ہیں،، اور،،،
میرے سائے کو کس نے مارا،، وہ غضب ناک ہو کر چلائی۔
مجھے نہیں معلوم،، مایا وش کا لہجہ بھی تیز ہوا۔
ٹھیک ہے میں خود ہی پتہ کر لوں گی،، اب تم کل سنجنا جو ساتھ لا رہی ہو، نہیں لائی تو بہت بری سزا دوں گی،، کائلہ نے دانت پیس کر کہا۔
تو پھر آج ہی دے دیں سزا،، کیونکہ میں نہیں لانے والی اپنے ساتھ سنجنا کو،، مایا وش نے سپاٹ لہجے میں مگر آہستگی سے کہا تھا۔
کیا؟ کیا کہا تم نے مایا وش،،،،،؟ کائلہ نے قریب آ کر اس کا نازک جبڑا اپنے ہاتھ میں دبوچا تھا۔
وہی جو آپ نے سنا،، مایا وش نے ایک سسکی بھری تھی۔ اور اپنا چہرہ چھڑانے کی کوشش کی جانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آ رہی تھی کہ وہ یوں بلیک وچ سے زبان لڑا بیٹھی تھی۔
اس خبیث چڑیل نے مایا وش کے کپڑے اور جسم نوچنا شروع کیا تھا۔ مایا وش کی چیخیں فضا میں بلند ہوئیں۔
چھوڑو مجھے،، جانے دو کائلہ، اب تو مجھے لگنے لگا ہے ماں نہیں ہو تم میری،، آئی ہیٹ یو،، مار کھانے کے دوران بھی وہ خاموش نہیں ہوئی تھی تب کائلہ کو مزید طیش دلا گئی تھی۔ اس نے فضا میں ہاتھ بلند کیا تھا ایک سلگتی لوہے کی سلاخ تھی جس پر ایس لکھا ہوا تھا وہ سلگتی سلاخ کائلہ نے مایا وش کی برہنہ کمر پر رکھی تھی۔
مایا وش کی چیخیں دور دور تک سنائی دی تھیں۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جہاں رات کی گہرائیوں اور تاریکیاں چہار سو پھیلی تھیں وہیں یہ ایک آڈیٹوریم نما جگہ تھی جہاں دن کا سماں بندھتا محسوس ہو رہا تھا کیونکہ پبلک بھیڑ بکریوں کی صورت وہاں پہنچ رہی تھی۔ اور چیخ چلا کر اپنی اکسائٹمنٹ بڑھا رہی تھی۔ آج معمول سے بہت زیادہ رش تھا پورے آڈیٹوریم میں پیر رکھنے کی جگہ تک نہیں تھی۔آج پھر وہ بھی تو آنے والا تھا۔ جسے تاریکیوں کی یہ دنیا اگریسیو مونسٹر کے نام سے جانتی تھی۔۔۔۔
آڈیٹوریم کے بیچ و بیچ گہرائی میں وہ ایک ریسلنگ رِنگ تھا۔ اور پورا سنگا پور جانتا تھا وہ دنیا بھر کا ڈیڈلی رِنگ تھا۔ جس کے لاک لگے پنجرے سے ایک بندہ زندہ اور ایک مردہ ہی باہر نکل پاتا تھا۔ یہاں دنیا بھر کر کریمنل اپنی طاقت آزمانے اور لوگوں پر جیت کر اپنی دھاک بٹھانے آتے تھے۔
مگر وہ کون تھا اور یہاں کیوں آتا تھا۔ اتنا اگریسو کیوں تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ بس جب جب وہ آتا کئی کریمنلز کو درد ناک موت کی نیند سلا کر جاتا تھا۔
مگر دنیا کیا جانے،،
وہ جو اپنی اصلی زندگی میں اتنا پولائٹ اور نرم دل تھا بچپن سے لے کر اب تک اپنے غم وغصے کو کیسے نکالتا تھا۔ کریمنلز اور برے لوگوں کو دردناک عذاب دے کر۔
اپنوں کے لئے، اپنے لوگوں کے لئے وہ بہت مہربان تھا۔ بہت نرم دل۔
مگر وہ جو اس کا اصل تھا۔ اس کی حقیقت وہ تو ایک انتہائی اگریسیو پرسنیلٹی تھی۔ وہ اصل میں کیا تھا آج اس رنگ میں پتا چل ہی جانا تھا۔
لوگ شور مچا رہے تھے۔ ارائیول دیو ہیکل ریسلر پہنچ چکا تھا۔ جس کا وزن قریبا نوے کلو گرام تھا۔ اور وہ آتے ساتھ ہی اپنی طاقت کے مظاہرے کر رہا تھا۔ آتش بازی کی جا رہی تھی اور وہ شیخی بگھار رہا تھا۔
پھر روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا تھا۔ اور وہ آیا تھا۔ پبلک اگریسیو مونسٹر چلا چلا کر پاگل ہو چکی تھی۔ بلیک پینٹ کے اوپر بلیک سلیو لیس ٹی شرٹ جس سے اس کے طاقتور بازوؤں کے بڑے بڑے ڈولے اپنی چھب دکھلا رہے تھے۔ چہرہ سیاہ رومال سے ڈھکا تھا جس میں سے اس کی سرخ اوشن بلیو غصیلی آئیز صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
وہ نارمل انداز میں چلتا رنگ تک آیا تھا۔ رنگ میں داخل ہوا اور ڈور لاک کر دیا گیا۔
کوئی بھی موقع دئیے بغیر وہ سانڈ نما ریسلر پل پڑا تھا اس پر۔ مگر وہ بہت تیزی سے اپنا بچاؤ کر گیا۔ پھر جلد ہی اس پہلوان کی ہڈیاں چٹخنے کی آوازیں پوری عوام نے سنیں تھیں۔ وہ چنگھاڑتا رہا مگر اسے زرا سا بھی رحم نہیں آ رہا تھا۔ تبھی اس کی گردن کی ہڈی بھی چٹخا ڈالی۔
پھر چار درندے اور آئے اور وہ بھی ابدی نیند سلا دئیے گئے۔ اب وہ پانچویں سے بھڑ رہا تھا۔
پانچواں بے تحاشا طاقتور ریسلر تھا۔ جیسے ٹکر کا مقابلہ تھا۔ وہ جو اگریسیو مونسٹر تھا کچھ ہی دیر میں لڑتے لڑتے اسے یوں محسوس جیسے کمر پر درد کی لہریں سی اٹھیں تھیں۔ اس نے زور سے آنکھیں بھینچیں تھیں ار یہ وہی لمحہ تھا جب مخالف نے لوہے کی سلاخ اٹھا کر اس کے سر پر ماری تھی۔ وہ گھٹنوں کو بل جھکتا چلا گیا۔ غم و غصے سے پھر ایک مرتبہ پاگل ہوا۔ کوئی پھر سے اس کے وجود کے حصے کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔ کمر پر جلن اتنی شدید تھی کہ ناقابلِ برداشت، مخالف مسلسل اس کی پیٹھ پر لوہے کی سلاخ برسا رہا تھا۔
اور وہ مخالف بے وقوف سمجھ رہا تھا یہ اس کی مار کا نتیجہ تھا۔ اسے کیا معلوم اس کی مار کا تو اثر ہی نہیں ہو رہا تھا اس پر کہ اس وقت اس پر ٹرٹل سکن تھی۔ بس یہ جلن تھی جو اس کی جان جلا رہی تھی۔ تبھی رنگ میں پانی والا مرحلہ شروع ہوا تھا۔ اور ہر طرف شاور آن کر دئیے گئے تھے۔ اس کی کمر پر پانی پڑا تھا۔
مخالف نے اسے سلاخ مارنے کا فضا میں ہاتھ بلند کیا جب تیزی سے اس نے وہ سلاخ ہاتھ میں تھامی تھی۔ اب اسے اس بات کا غصہ کسی پہ نکلنا تھا کہ کوئی کیوں اُسے تکلیف پہنچاتا ہے۔ برائی اچھائی پر کیوں سبقت اختیار کیے ہوئے تھی۔ اور کیوں وہ اس سے دور ہے اسے مل کیوں نہیں جاتی تاکہ وہ اس کی حفاظت کر سکے۔ اس نے مخالف سے وہی سلاخ چھین کر ایگریسویلی اسی کی آنکھ میں گھسا دی تھی۔
پھر وہ سلاخ لمحہ بہ لمحہ اس کے جسم میں کئی جگہ گھسی تھی۔ وہ مر بھی چکا تھا۔ وہ پھر بھی اسے مار رہا تھا۔ پانی میں خون شامل ہو ہو کر بہہ رہا تھا۔ لوگوں پر لرزا طاری ہو چکا تھا۔ کئی وہاں سے بھاگ چکے تھے۔ کئی کو وومٹنگ شروع ہو چکی تھی اور کئی بیہوش ہو چکے تھے۔
تبھی پانی میں ایک عکس نمایاں ہوا تھا۔ جو ہاتھ باندھے اس کے سامنے آیا۔
آپ کو یہاں سے چلنا چاہئے اب،، وہ سر جھکا کر بولا اس مونسٹر نے سلاخ ایک طرف جھٹکے سے پھینکی اور وہان سے نکلتا چلا گیا۔
وہ اس طرح وہاں سے نکل کر اپنی گاڑی تک آیا تھا کہ کوئی اس کا تعاقب نہیں کر سکتا تھا۔ گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی اور وہ اپنی کنپٹیاں مسل کر اسے نارمل، پولائیٹ اور نرم دل آبدار میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جھٹکے سے گاڑی رائیل پیلس کے ڈرائیو وے پر رکی تھی۔
اس وقت اس سے کسی کو بات نہیں کرنی چاہئے تھی نہیں تو وہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا اسی لئے وہ تاریکی میں تیزی سے ہر جگہ کراس کرتا اپنے روم میں چلا آیا تھا۔
لاؤنج میں کھڑے ازلان نے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی تو بے بسی کی حالت میں اپنے لب کاٹے وہ جانتے تھے ان کا بیٹا اپنی کوئین کے لئے تڑپتا پھر رہا ہے۔ وہ جانتے تھے اس لڑکی کا ملنا اس کے لئے کتنا ضروری تھا۔۔ وہ کچھ سوچ کر اس کے پیچھے گئے۔
آبدار آ کر اوندھے منہ اپنے بیڈ پر گرا۔ تبھی وہاں ازلان چلے آئے۔
آب،،، انھوںنے نے پکارا۔
پلیز ڈیڈ لیو می الون،،، وہ بے بسی سے اپنے لب کاٹتا بولا۔
ازلان نے کمر سے اس کی شرٹ خون میں بھری دیکھی تو آ کر شرٹ اوپر کھسکائی۔ کمر کا کچھ گول گول حصہ پوری طرح جھلسا ہوا تھا جس میں سے خون رس رہا تھا۔
مجھے جانے کیوں لگتا ہے آب وہ تمھیں جلد مل جائے گی،، ازلان نے اسے دلاسہ دیتے اس کے زخم پر وہ مرحم لگایا جو اس دنیا کا نہیں تھا۔
رئیلی ڈیڈ،، اور پھر میں اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا ایک ہی مرتبہ دبا دوں گا،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔
ازلان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ “اور مجھے لگا تم بولو گے پھر میں اسی وقت اسے یہ لاکٹ پہنا کر اسے اپنی کوئین بنا کر سینے سے لگا لوں گا،، ازلان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس کے سامنے ایک لاکٹ لہرایا۔
یہ کیا ہے ڈیڈ،، اب اس نے بغور اس لاکٹ کو دیکھا تھا۔
یہ تمھاری ماں نے مجھے دئیے تھے،، یہ اوشیانہ کے تخت نشینوں کے روئیل لاکٹ ہیں، جیسے ہم انسانوں میں کچھ انسانی رسمیں ہوتی ہیں شادی کی ویسے تم لوگوں میں اپنی دلہن کو یہ جادوئی طاقتوں کا مالک لاکٹ پہنا دیتے ہیں تو وہ پوری طرح ایک شادی شدہ جوڑا بن جاتا ہے،، سمجھ گئے ناں میری بات، یہ میں نے ایک عائش کو بھی دیا ہے،، تم بھی رکھ لو وہ ملے تو فوراً اسے پہنا دینا وہ تمھاری بیوی بن جائے گی پوری طرح،،
ازلان نے مسکرا کر کہا۔
وہ ملے بھی تو ڈیڈ،، کئی سال پہلے مجھے اشارہ دیا گیا تھا کہ وہ مجھے یہیں ملے گی، اسی دنیا میں، تو اب تک کیون نہیں ملی،، وہ بری طرح جھنجھلایا۔ اب پھر اس کے تیور جارحانہ ہوتے جا رہے تھے۔ وہ اپنے اس اگریسیو موڈ کو دنیا سے چھپا کر رکھتا تھا نہیں تو ایک اوشن کنگ میں اتنی طاقت تو تھی کہ وہ یہ دنیا تہس نہس کر دیتا۔
کیا تمھیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ تمھارے آس پاس ہے آب،، ازلان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے ریلیکس رکھنے کی کوشش کی۔
آبدار کی نگاہوں کے سامنے ایک نقاب پوش چہرہ لہرایا۔ کچھ تو تھا جو عجیب تھا اس لڑکی میں، جو اسے اپنی طرف کھینچتا تھا،، اس کے چھونے پر لگنے والا سپارک اسے اب تک ہاد تھا۔ اس کے ساتھ پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات،، اور جب بھی وہ میوزک ٹیچر کائلہ اس کے آس پاس ہوتی تھی تب بھی اسے عجیب محسوس ہوتا تھا۔
یس ڈیڈ، ایک لڑکی،، وہ کالج میں ہے اور جب سے کالج آئی ہے،،،،،،،،
پھر آبدار ازلان کو اس کے آنے سے لے کر اب تک کے واقعات بتاتا رہا۔
تمھیں نہیں لگتا آب تمھیں اس لڑکی کے بارے میں اور جاننا چاہیے،،
یس ڈیڈ،، ہوپ سو وہ کل یہاں آئے،، وہ کچھ سوچ کر آنکھیں موند گیا۔ ازلان اس کی پیٹھ تھپتھپا کر چلے آئے انھیں اب جانے کیوں یقین تھا کہ ان کے بیٹے کی مشکل جلد آسان ہونے والی ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مایا وش ناچاہتے ہوئے بھی تیار ہو کر آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اسے لینے سنجنا لوگ آ چکے تھے۔ گاڑی کے ہارن پر وہ ہوش میں آئی اور کائلہ کی نگاہوں کی تنبیہہ نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔ سنجنا اور رنجنا نے اسے دیکھ کر وش کیا۔ وہ گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی روئیل پیلس کی جانب رواں دواں ہوئی۔
بہت ہی شاہانہ اور بڑی پارٹی کے ارینجمنٹس کیے گئے تھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی اور ہی دنیا میں چلے آئے ہوں۔ عائش اور آبدار بلکل تیار بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہے تھے۔ دونوں ہی بلیک ڈنر سوٹ میں تھے۔ اور پوری پارٹی کا مرکز گناہ وہی بنے ہوئے تھے۔ عائش کو کسی کا انتظار تھا۔ آج اسے سبق جو سکھانا تھا۔
انتظار کی سولی ر تو آبدار بھی لٹکا ہوا تھا۔
سنجنا کی گاڑی رائیل پیلس کے وسیع وعریض پورچ میں رکی تھی۔ مایا وش جھجھکتی گاڑی سے نیچے اتری تھی۔ وہ اندر کی جانب بڑھیں۔ مگر مایا وش رک گئی۔
سنو سنجنا میں ادھر ہی ٹھیک ہوں تم لوگ جاؤ اندر،،
مگر،، سنجنا نے مڑ کر اسے گھورا رنجنا تو اپنی فرینڈ کو دیکھ کر اس کے ساتھ جا چکی تھی۔
تمھیں میری قسم،، مایا وش نے اسے چپ کروا دیا۔ وہ اندر آئی۔
اندر جشن کا سماں تھا۔ کپلز میں ڈانس مقابلہ بھی ہو رہا تھا ۔ ہر کوئی اپنا ٹیلنٹ دکھا رہا تھا۔۔۔
مگر کچھ ہی دیر بعد اسے مایا وش کا خیال ستانے لگا۔ تبھی ایک مرتبہ پھر سب چھوڑ چھاڑ کر باہر آ کر اس کے سر پر سوار ہو گئی۔
مایا وش، یار چلو تو سہی، ادھر بور ہو رہی ہو اندر دیکھو، کتنا مزا آ رہا ہے، گرینڈ بال پارٹی کے اب مین سیگمنٹ چل رہے ہیں، رنجنا بھی پرفام کرنے والی ہے چلو پلیز،،،
سنجنا نے اس کی اکتاہٹ اور اداسی کو کوئی اور رنگ دیا۔
سنجنا پلیز،، مجھے نہیں جانا کہیں بھی،، میں ادھر ہی ٹھیک ہوں،، مایا وش سلطان رائل پیلس کے پول کے پاس بیٹھی گلاس وال کے باہر وسیع و عریض سمندر کو دیکھ رہی تھی۔ آج موسم بھی عجیب سا تھا جیسے خود سے ہی بغاوت پر اتر آیا ہو۔ آسمان سرمئی بادلوں سے دلہن کے زیورات کی طرح سجا ہوا اترا رہا تھا۔ سرد ہوائیں سینٹوسا بیچ پر بنے ناریل کے درختوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی تھی۔ پارٹی کی مین ارینجمنٹس تو اندر لاؤنج میں کی گئیں تھیں۔ مگر چند منچلے اور کچھ کپلز باہر پول کے آس پاس اپنا اپنا گروپ بنائے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
مایا وش سخت کنفیوز اور عجیب محسوس کر رہی تھی۔ تبھی باہر آ کر پول کے قریب بیٹھ گئی۔
مگر اب سنجنا آ کر اس کے سر پر سوار ہو چکی تھی۔ ایسے میں اسے ناچار اٹھنا ہی پڑا۔
سنجنا نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہ دھیمے قدموں سے چلتی اندر داخل ہوئیں۔ اندر آتے ہی ویٹرس ان کے سامنے آئی اور انھیں کولڈ ڈرنک سرو کی۔
دونوں نے بے حد نازک و نفیس اپنا اپنا گلاس اٹھا لیا۔
آبدار جو بلیک تھری پیس میں بار کے پاس سٹول پر بیٹھا گھونٹ گھونٹ انرجی ڈرنک پی رہا تھا۔کچھ بہت غیر معمولی، بے سکونی، اور دل کی کانوں میں بجتی دھمک پر بے اختیار نگاہ لاؤنج کے بڑے گلاس ڈور تک اٹھی اور پلٹنا بھول گئی۔ وہ مکمل چھپی ہوئی نقاب میں جانے کون تھی۔ مگر اسے لگا جیسے وہ صدیوں سے اسے جانتا ہے یا جس کا منتظر تھا یہ وہی ہے۔
یا اوشن کنگ جس کا منتظر تھا وہ اب خود چل کر اس کے پاس آن پہنچی تھی۔ اسی کا تو انتظار تھا اسے۔ جو اب پورا ہوا تھا۔
رائل بلو باربی فراک میں جالی دار اپر کمر تک آ رہا تھا۔ اپر کے نیچے چہرہ نیلے نقاب میں چھپا تھا۔ کمر تک جھولتے سیاہ بال آبشار کی طرح پوری کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔ جالی دار اپر کے نیچے اس کے کندھوں سے ڈوریاں بندھے دودھیا بازو چاندی کی طرح دمک رہے تھے۔ اس کی نگاہ ہٹ نہیں رہی تھی۔ اور یہ پہلی مرتبہ اس کے ساتھ ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ کسی سے ٹکرائی تھی۔ اس کے ہاتھ میں موجود نازک گلاس چھناکے سے ٹوٹ کر ہاتھ ہی میں چکنا چور ہو گیا۔ اس کے دائیں ہاتھ سے تیزی سے خون بہا۔ اور ادھر اوشن کنگ نے حیرانی سے اپنا لہولہان دایاں ہاتھ دیکھا۔
ادھر مایا وش کنفیوز سی تھی۔ مسلسل خود پر اٹھتی محسوس ہوتی نگاہوں سے خائف وہ ہجوم سے ہٹ کر ایک جانب جانے لگی۔ جب بہت اچانک ہی وہ ایک ویٹرس سے ٹکرائی۔ گلاس چھناکے سے ٹوٹا
او سوری میم، پلیز آئم سوری،، ویٹرس اس کے ہاتھ سے بہتا خون اور اس کا خراب ڈریس دیکھ کر گھبرائی۔
اٹس اوکے کوئی بات نہیں میں واش کر لیتی ہوں، میں ٹھیک ہوں،، ایک نرم خوبصورت اور مہربان سی آواز سنائی دی تو ویٹرس بھی طمانیت سے مسکرائی۔
چلیں میم، میں آپ کو واش روم لے جاؤں،، ویٹرس اس کے ساتھ اندرونی جانب آئی۔
وہ تیزی سے اپنا زخمی ہاتھ لیے اٹھا تھا۔اور ان دونوں کا تعاقب کیا۔
ویٹرس طویل راہداری سے گزر کر اسے ایک بڑے روم کے ڈور تک لائی۔ ویٹرس مایا وش کے پیچھے کھڑی تھی کہ تبھی پیچھے سے اوشن کنگ نے اس کا دماغ ہیپنوٹائز کر کے اپنے بس میں کیا تھا۔
Go from here,,,, Leave us alone,,,
ویٹرس کو اپنے کان میں سرگوشی سنائی دی۔
Which commands my master,,,,,,,
ویٹرس نے اپنے دماغ میں جواب دیا اور انہی پیروں واپس لوٹ گئی۔
سنو،، تم ساتھ چلو کیونکہ،،،، مایا وش جو کہ اتنے شاندار کمرے کو دیکھ کر اس کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی تبھی پیچھے مڑی ہی تھی کہ اپنے پیچھے کسی کو نا پا کر پہلے تو بڑی بڑی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں پھر وہ خوفزدہ ہوئی۔ مگر دس قدم کے فاصلے پر واش روم تو تھا ہی جی کڑا کر کے آگے بڑھی۔ ابھی دو قدم لئے تھے جب اپنے پیچھے کسی کی آہٹ سنائی دی۔ وہ چونک کر جھٹکے سے پلٹی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ مگر ایسا لگتا تھا کوئی ہے۔
کوئی ہے جو سانس لے رہا ہے یا وہاں موجود ہے۔ وہ سر جھٹک کر پھر واش روم کی جانب بڑھی۔ آبدار جو اسے بغور دیکھ رہا تھا اس کے پیچھے دو قدم کے فاصلے پر چلا۔ وہ واش روم کا ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی۔
وہ بھی اندر آیا۔ اب وہ سنک میں پہلے اپنا خون آلود نازک ہاتھ واش کر رہی تھی۔
تبھی اوشن کنگ نے کچھ آزمانے کو اپنے بائیں بازو پر پوری شدت سے چٹکی کاٹی تھی۔
آہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،، مایا وش بازو پکڑ کر دوہری ہوئی۔ بڑی جلد نیلا نشان اس کے دودھیا بازو پر آیا تھا۔ جب کہ وہاں موجود وہ اب زیرِ لب گہرا مسکرایا۔ طمانیت بھرا گہرا سانس لیا تو وہ اپنی تکلیف بھول کر ہرنی کی طرح خوفزدہ آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ بے حد قریب سے آتی سانسوں کی زیرو بم سے پریشان ہوئی۔
اور اوشن کنگ کے دماغ میں جانے کیا شرارت آئی کہ اتنی ہی شدت سے اپنے ہی پہلو میں پھر سے چٹکی کاٹی۔
آہہہہہہہہہہہہ،، مایا وش پیٹ پکڑ کر دوہری ہوئی۔ منہ سے سسکی سی نکلی۔
اب جب اتنے برسوں بعد وہ سامنے آ ہی گئی تھی تو آج وہ حساب لیتے ہوئے خود سے تکلیف اس تک پہنچا رہا تھا۔
مایا وش جب دہر ہوئی تو لڑکھڑا کر شاور کے نل سے ٹکرائی۔ اور شاور آن ہو گیا۔
او،، نو،،،، وہ بری طرح گھبرائی۔ ٹھنڈا ٹھار پانی اوپر گرا تو سبکی آ گئی۔ تبھی وہ خوف سے سرد پڑی تھی جب گرتے پانی کے شاور میں اسے پانی سے بنا انسانی ہیولہ نظر آیا۔ اس کے اوسان خطا ہوئے۔
اوشن کنگ اپنی کوئین کے موہ میں پاگل اب آگے بڑھا تھا۔ اسی پانی سے بنے ہاتھوں نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں بازو تھامے تھے۔ مایا وش کے منہ سے زور دار چیخ برآمد ہوئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
