No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سنجنا اس کا ہاتھ تھام کر کلاس سے باہر لائی تھی۔ وہ کالج کے طویل کوریڈور سے گزر رہیں تھیں۔ ان دونوں کو لگا ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ تبھی پیچھے مڑ کر دیکھا تو عائش، آبدار اور جیک ان کے پیچھے خاموشی سے چلے آ رہے تھے۔
جیک کی نگاہیں سنجنا کی وجود کا احاطہ کر رہیں تھیں۔ جبکہ عائش اور آبدار کوفت بھری نگاہوں سے اس گاؤن میں لپٹی لڑکی کے پاؤں دیکھ رہے تھے۔ قریب ہونے کی وجہ سے وہ آواز جو ان کے کانوں کو چبھ رہی تھی۔ اب انھیں اس آواز سے سخت تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔
عائش اور آبدار جلدی سے وہاں سے نکل گئے۔
جبکہ جیک ہنوز ان کے پیچھے آ رہا تھا۔ سنجنا نے ایک مرتبہ پھر پیچھے مڑ کر دیکھا اور اس انگریز کے بچے کو ہمیشہ کی طرح خود کا پیچھا کرتے دیکھ وہ بری طرح جھجھلائی۔
مایا وش کا ہاتھ تھامکر گراؤنڈ تک آئی جب وہ تیزی سے ان کے سامنے آیا جو آج اس سے بات کرنے کی غرض سے ہی ان کے پیچھے آ رہا تھا۔
واٹ،،، سنجنا نے آئیبرو اچکائی۔ جیک نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔ وہ تو سپرنگ فیسٹ پر اس کی اور رنجنا کی ڈانس پرفارمنس دیکھ کر ہی اس سانولی سلونی لڑکی پر مر مٹا تھا مگر وہ ہی اسے گھاس ڈالنا پسند نہیں کرتی تھی۔
آئی لو یو سنجنا، ول یو میری می،، اس نے ڈئریکٹ مدعے کی بات کی۔
سنجنا کو پتنگے لگے۔ جبکہ مایا وش ہونق بنی وہان کھڑی تھی۔ سنجنا نے مایا وش کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا۔
دیکھو زرا اسے،، ہم انڈینز اور پاکستانیون نے ان گوروں کو ستر سال پہلے ہی اپنی زندگی سے نکال باہر کیا، مگر یہ پھر بھی ہماری زندگیوں میں گھسنے کی کوششوں سے باز نہیں آتے، زلیل،، کمینہ الو کا پٹھہ،،،
سنجنا نے برا سا منہ بنا کر خالص اردو میں مایا وش کو کہا یہ سمجھ کر کہ سامنے والا اس زبان سے نابلد تھا۔
جیک دانتوں تلے لب دبا کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے میں ہلکان ہوا شاید وہ یہ سمجھ رہی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مگر اس کی یہ گوہر افشانیاں اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔
یہ گورا تو تمھارا زندگی میں گھس کر ہی رہے گا سنجنا، جان،، اور تم کھو الو کے پاٹھے کی الو کی پاٹھی بھی بنا کر رہے گا،،،
وہ بڑی مشکل سے ایک ایک لفظ سوچ کر بولا۔ اس کے جواب پر سنجنا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ پھر گھڑوں پنی بھی پڑ گیا۔ تبھی وہ شرمندگی کے مارے سرخ پڑ گئی۔ جیک نے یہ نظارا بھی بڑی دلچسپی سے دیکھا۔
اس کی نگاہوں کی لپک تھی کہ سنجنا بری طرح جھنجھلائی اور کوئی بھی جواب دئیے بغیر مایاوش کا ہاتھ تھام کر اسے دوسری جانب لے گئی جہاں سے اسے کائلہ آتی دکھائی دی۔
کائلہ کو دیکھ کر مایا وش کے ہونٹوں سے وہ ہنسی غائب ہوئی جو ابھی کچھ دیر پہلے سنجنا کی بے وقوفی سے اس کے لبوں تک آئی تھی۔
ہائے میم،، سنجنا نے کائلہ کو مخاطب کیا۔ مجھے وہ میوزک سیکھنا ہے جو ابھی مجھے سنائی دے رہا تھا۔
ضرور اس کے لئے تو تمھیں ہمارے ساتھ آنا پڑے گا کیوں مایا وش،،، یہ کہتے اس کی آنکھوں میں عجیب سی خباثت تھی۔
ہان میں ضرور آؤں گی،، انجنا پرجوش ہوئی۔
مایا وش کا دل کیا اس کو کائلہ کے حوالے کرنے کی بجائے خود اس کے ہاتھوں سے اس کا گلا دبا دے۔
ہاں ضرور مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا،، کائلہ نے کہا اور مایا وش کا ہاتھ تھام کر اسے گھر لے گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ماہا ویرا کی کی گھٹی گھٹی چیخیں اس روم میں سنائی دے رہیں تھیں۔
پھر کمرے میں جیسے کسی پرندے کے پھڑ پھڑانے کی آواز سنائی دی تھی۔
اس سے پہلے وہ شیطان ویرا کے ساتھ کوئی اور گستاخی کرتا کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا تھا۔
وہ چاروں درندے بری طرح چونکے تھے۔
یہ کیا ہوا ،، وکی نے انگلش میں کوفت زدہ لہجے میں پوچھا۔
تو کیا ہوا ہمیں روشنی کی اتنی خاص ضرورت بھی نہیں،، ایک کی خباثت بھری آواز سنائی دی۔
یا،،، رائٹ،، وکی نے مکروہ قہقہہ لگایا۔
(مگر دو شعلہ اگلتی لال انگارا آنکھوں نے یہ منظر غصے سے پاگل ہوتے دیکھا تھا۔)
چلیں باس اپنا کام سٹارٹ کریں، ٹائم کیوں ویسٹ کر رہے ہیں،، ایک چمچے نے وکی کی توجہ اس کمسن کلی کی جانب ہوئی۔
وکی سیکنڈوں میں اپنے ہاتھوں میں دبوچی ہوئی ماہا ویرا پر پل پڑا۔ مگر ایک دھماکے سے اپنے بیچ خالی زمین پر گر کر بری طرح ماتھا پھوڑ بیٹھا تھا۔ کیونکہ وہ جیسے سوکھی ریت کی طرح ان کے ہاتھوں سے پھسل گئی تھی۔
ارے کہاں گئی یہ،، ان درندوں نے زمین ٹٹولی۔
ماہا ویرا حیرت و صدمے سے ایک بڑے ڈیسک کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا وہ ان درندوں کے شکنجے سے کیسے پھسل کر یہاں پہنچی تھی۔ مگر وہ بچ نکلی تھی۔ اور اب منہ پر دونوں ہاتھ جمائے خوف کے مارے اپنی چیخیں اور سسکیاں دبا رہی تھی۔
موبائلز کی ٹارچ جلاؤ بیوقوفو، وہ پھر چلایا۔ مگر دفعتاً ان چاروں کے حلق میں کانٹے اگے تھے۔ منہ کا سارا پانی خشک ہو گیا۔ پیاس کی شدت سے انھوں نے اپنے گلے دبوچے تھے۔
ی،،، یہ،،، کیا ہو رہا ہے،، وکی گھٹی گھٹی آواز میں چلایا۔ بمشکل ٹارچ جلا پائے تھے۔ گلے میں جیسے کانٹوں بھرا کیکر اگ آیا تھا۔
اس بچ نے پوائزن تو نہیں دیا ہمیں،، ان میں سے ایک انگلش میں چلایا۔
واٹر،، وہ گلے پکڑ کر دہرتے ہوتے کیڑوں کی طرح زمین پر رینگنے لگے اور ماہا ویرا کو یہ دہشت ناک منظر دیکھ خوف کے مارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ رینگتے تڑپتے روم سے باہر نکل گئے تھے۔
باہر نکلے تو پانی پانی کی صدا لگاتے ہر طرف دوڑے مگر انھیں پانی کہیں نہیں مل رہا تھا۔ نا آبشار کی طرح بہتے فائنٹین میں، نا کسی بوتل میں، نا کہیں اور۔
واٹر واٹر،،، جان حلق تک آ چکی تھی۔ سٹوڈنٹس انھیں ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھ ان کی جانب پانی لے کر بھاگے۔ بوتل ان کے منہ سے لگانے کی کوشش کی۔ مگر پانی انھیں نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ نا ان کے منہ کو لگانے سے ان کے حلق میں جا رہا تھا۔ وہ یقینا یونہی جلد ہی تڑپ تڑپ کر کتے کی موت مرنے والے تھے۔
اندر وہ اپنی حقیقت سے انجان گھٹنوں میں منہ دئیے سہمی بیٹھی تھر تھر کانپ رہی تھی۔
یہ پرنس ویام تھا جو ہر وقت اس پر نگاہ رکھ رہا تھا۔ اور یہ یقینا اس کی بے حد پر اسرار طاقتوں کا نتیجہ تھا کہ اس کی نظر رکھی گئی چیز پر کسی اور نے نظر ڈالی تھی اور اس نے انھیں زندہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
اب بھی وہ سہمی کونے سے لگی بیٹھی تھی جب وہ آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔
جیسے دو مہربان ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل ہوئے۔ وہ جو گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی تھی۔ اسے لگا پھر کوئی درندہ اس کے پاس چلا آیا ہے۔ تبھی وہ روتی بری طرح مچلی اور اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔
Relax,,,,,,, I’ll save you,,,, don’t be afraid.,,,,don’t move,,,,
ویام نے اس کی کمر کے پیچھے دونوں ہاتھ باندھ کر اسے جھنجھوڑا۔ ایک بھاری مختلف آواز سن کر ماہا ویرا چونکی۔ اندھیرے میں کچھ واضح نظر نہیں آیا ۔ ہاں مگر سیاہ لباس سیاہ ہڈی سے گھنی مونچھوں تلے سرخ ہونٹ نظر آئے۔جو شاید شدتِ ضبط سے سختی سے آپس میں بھنچے ہوئے تھے۔
وہ شدت سے آنسو بہاتی خاموش ہوئی تھی۔ جب خود کو ہوا میں جھولتے محسوس کیا۔ مطلب وہ اسے اپنے چٹانی بازوؤں میں بھر چکا تھا۔
پھر ماہا ویرا نے خود کو روشنی کی جانب جاتا محسوس کیا۔ مگر جیسے جیسے وہ روشنی کی جانب برھ رہے تھے ماہا ویرا کے زہن پر غنودگی چھا رہی تھی۔ وہ کچھ بول رہا تھا۔ بھاری سرگوشیاں ماہا ویرا کے آس پاس گونج رہیں تھیں وہ انھیں سننے کی کوشش کر رہی تھی مگر لمحہ بہ لمحہ اس کی آنکھیں بند ہوئیں جا رہیں تھیں۔
تم تو میرا شکار ہو، میرا نشانہ ہو پرنسز، کنگ ویام کا، تو تمھیں کوئی اور کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے، صرف میں تمھیں تکلیف دے سکتا ہوں، اور قسم ہے مجھے میرے خاندان کی میں تمھیں اور تمھارے ماں باپ کو وہ تکلیف دوں گا، کہ انھیں وہاں تکلیف ہو گی جہاں میں انھیں تکلیف دینا چاہتا ہوں،،
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🧡🧡❤️
صبح صبح وہ شرٹ لیس اپنے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا تھا جب آبدار اس کے روم میں داخل ہوا۔ عجیب صورتحال تھی دو دن سے وو ساری ساری رات سو نہیں پائے تھے۔ ہر وقت کانوں میں ایک عجیب سی آواز گونجتی رہتی۔
کمرے میں جا بجا سگریٹ کے ٹکڑے ،خاص مشروب کی بوتلیں ادھر ادھر بکھری ہوئیں تھیں۔
عائش،،، اس نے اسے آواز دی۔ وہ جاگ رہا تھا۔
ہممممم،،،،،،
یہ سب کیا ہے،،؟ آبدار نے سنجیدگی سے پوچھا۔
واٹ،، جان بوجھ کر پوچھا جبکہ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا آب کا اشارہ کمرے کی اور اس کی بکھری حالت پر تھا۔
تم اچھی طرح سمجھ چکے ہو، انجان مت بنو،، آبدار نے افسوس سے اسے دیکھا۔
لیو می الون پلیز آب،،
عائش تین دن بعد ہماری برتھ ڈے ہے، تم سمجھتے ہو ناں اس کا کیا مطلب ہے، تم لاکھ اپنی حقیقت سے نگاہیں چراؤ مگر یہ تو تم اچھی طرح جانتے ہو، ہماری حقیقت، ہمارا زندہ رہنے کا مقصد، ہمارا اصل،،
بھاڑ میں گئی ہماری حقیقت آب،، میں ایک نارمل انسان ہوں، مجھے نہیں بننا کوئی جانور، یا آدھا انسان آدھا جانور، مجھے اپنی ایک نارمل لائف چاہیے، میرا کوئی مقصد نہیں، اس پخ میں تم اکیلے پڑو، مجھے گھسیٹنے کی ضرورت نہیں، نا مجھے کوئی دلچسپی ہے، اور میں ایک بار نہیں ہزار بار یہ بات تمھیں بتا چکا ہوں، اور رہی برتھ ڈے کی بات تو ایک گرینڈ بال پارٹی ارینج کر چکا ہوں میں اور خوب انجوائے کرنے والا ہوں، تم نے جو کرنا ہے وہ کرو، مجھے ڈسٹرب مت کیا کرو آب،،
وہ دانت پیس کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا اپنی شرٹ اتار کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے آب دھواں دھواں ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے کمرے کو گھورتا چلا گیا۔
پھر کچھ سوچ کر وہ بھی روم سے باہر نکل آیا۔
وہ بڑے خراب موڈ کے ساتھ کالج آیا تھا۔ دو تین دن سے نیند پوری نہیں ہو پارہی تھی۔
وہ تو پہلے ہی بری طرح اکتایا بیٹھا تھا اوپر سے اپنے پیچھے سے آتی وہی پر اسرار زنجیروں کی آواز پر عائش کا حلق تک کڑوا ہوا۔
What the he’ll yar Do you hear this vulgar voice?
وہ پھنکارا۔
کونسی آواز،، ڈینئل حیران ہوا۔ تب عائش نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی مخصوص حلیے میں پیروں تک بلیک گاؤن، بلیک سکارف کے نقاب میں آہستگی سے چلتی آ رہی تھی۔ گاؤن نے پیروں تک کو کور کر رکھا تھا۔ مگر عائش کو یقین تھا کہ وہ آواز اس کے پیروں سے آتی۔ عائش کی نگاہوں کے تعاقب میں ڈینئل، جیک اور ارحم نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور معنی خیز سا ہنسے۔
یہ بلڈی ایشین سٹوپڈ گرلز پہنتی ہیں،، اس جیولری کو کیا بولتے ہیں،، ہاں پازیب
I mean Anklets,,
ارحم نے تفصیل بتائی۔
نو،، یہ وہ وائس نہیں ہے، ہر گز نہیں، وہ تو بہت سوئیٹ سی ہوتی ہے، فرسٹ ایئر کی آمنہ کے فیٹ میں پہنی سنی ہے میں نے ایک مرتبہ، یہ chains کی آواز ہے جیسے ایشین پولیس اپنے مجرموں کو ہاتھوں پیروں میں پہناتی ہے جیسے shackles (بیڑیاں) کی آواز ہو،،
واٹ،، آر یو سیریس عائش،، پاگل بنا رہے ہو ہمیں،، یو تھنک وی آر فول، ہمیں نہیں آتی کوئی بھی آواز،، ڈینئل نے مسکراتے کہا۔ اور ارحم اور جیک نے بھی اس کی تائید کی کہ واقعی یہ آواز انھیں نہیں سنائی دیتی تھی۔
اس سٹوپڈ لڑکی کو تو میں،، وہ جھنجھلایا دانت پیستا بینچ سے اٹھا اور جا کر مایا وش کے سر پر پہنچ گیا۔
ہیے واٹ دا ہیل،، یہ کیا ولگر سی چیز پہنتی ہو تم، جس کی انتہائی چیپ اور گھٹیا آواز ہے، جو رات تک میری کانوں میں بجتی رہتی ہے، اتارو اسے فورا، نہیں تو اٹھا کر کالج سے باہر پھینک دوں گا، سمجھیں،، وہ دھاڑا۔
جبکہ سامنے والی نے حیرت، سرخوشی، صدمے اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت سے اپنی نیلی آنکھوں سے سر تا پا فورتھ ائیر کے بیحد بگڑے امیر زادے عائش کو دیکھا ۔ کانوں میں کچھ سنائی دیا۔ مگر جلد ہی ہمیشہ کی طرح اپنی حالت پر قابو پا لیا۔ اور بلکل نارمل ہو کر اس کی بات کا جواب دیا۔
مگر میں نے تو کچھ نہیں پہنا،، بے حد میٹھی سریلی آواز کالے نقاب کے پیچھے سے عائش کو سنائی دی.
جھوٹ بول رہی ہو،، عائش نے اسے گھورا۔
نو،، مایا وش نے اطمینان سے کہا۔
گاؤن اٹھا کر اپنے پاؤں دکھاؤ،، عائش نے سنجیدگی سے کہا۔ تب تک جیک، ڈینئل اور ارحم بھی عائش کے قریب پہنچ چکے تھے۔
رائٹ اگر میں نے کچھ نہیں پہنا ہوا ہو تو تم مجھ سے سوری بولو گے،، مایا وش نے اطمینان سے کہا۔
will be seen,,,, You show us,,,,
مایا وش نے آہستگی سے گاؤن اوپر کیا۔
دودھیا سرخ و سفید پیر عائش کو بہت بڑی بڑی زنجیروں سے جکڑے دکھائی دئیے تو اسے بے حد حیرت ہوئی۔ وہ چاروں اسے کے پاؤں دیکھ کر ہی اپنی جگہ پر جم چکے تھے۔
یہ،،،، ،رائٹ،،،، ،،یہ دیکو،، میں نے کہا تھا اس سٹوپڈ گرل کے پیر چین سے بندھے ہیں، میں نے کہا تھا ناں،، عائش چیخا۔ مگر ارحم، ڈینئل اور جیک نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کے دماغی توازن پر شک گزرا ہو۔
عائش، صبح صبح ہی چڑھا لی کیا؟ ارحم نے دھیمی آواز میں اسے ڈانٹا۔
کچھ نہیں پہنا اس نے پیروں میں،، جیک اور ڈینئل نے بیک زبان ہو کر دھیمی آواز میں بولا۔
واٹ،،؟ عائش کو صدمہ لگا ایک نگاہ پھر اس پر اسرار لڑکی کی جانب دیکھا جو اب گاؤن سکون سے نیچے کر چکی تھی۔ مگر اس کی نیلی سمندر آنکھوں میں ہزار بھید اور درد و تکلیف اور ایک خوف سا چھپا تھا۔
عائش بہت جلد سمجھ چکا تھا کہ وہ آواز بھی صرف اسے سنائی دے رہی ہے اور وہ زنجیر میں جکڑے بندھے پیر بھی بس اسے دکھائی دئیے تھے۔
اب وہ بلکل خاموش تھا۔
مایا وش خاموشی سے اس کے پہلو سے ہو کر نکلی۔ پاس سے گزرتے اس کی نگاہوں میں ایک التجا سی دیکھی تھی عائش نے۔ اسے نئے سرے سے حیرت ہوئی۔
مایا وش اس سے دور جاتی رہی۔ اور اسے وہ بےہودہ آواز سنائی دیتی رہی۔ اس نے غصے سے اس پاگل لڑکی کی پشت کو گھورا۔ اسی وقت مایا وش نے پلٹ کر عائش کو دیکھا۔
عائش یہ دیکھ کر مزید حیران ہوا تھا کیونکہ اس پر اسرار لڑکی کی نیلی آنکھیں اب مکمل سیاہ پڑ چکی تھیں۔
صد شکر کے آج کائلہ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ بلی نا دینے کی وجہ سے اس کی طاقتیں کمزور پڑ چکیں تھیں۔ یہ باتیں اس نے نہیں سنیں تھین۔ کیا وہ کوئی مسیحا تھا جو اسے اس قید سے نجات دے سکتا تھا۔ وہ چینز جو آج تک کسی کو بھی نہیں دکھائی دی تھیں آج وہ اس لڑکے نے دیکھی تھیں۔ کیوں آخر کیوں؟
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️❤️❤️
ماہا ویرا کی آنکھ کھلی تو خود کو اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر پایا۔ جبکہ جمی اور سیرا اس کے ارد گرد پریشان سے بیٹھے تھے۔
ڈیڈ،، وہ ایک چیخ سی مار کر جمی سے لپٹی۔
سیرا اور جمی تو پہلے ہی پریشان تھے اس کی ایسی حالت دیکھ سیرا رونے لگی۔
جب رو رو کر اس کی ہچکی بندھ گئی تو سیرا نے زبردستی اسے پانی پلایا۔
ڈیڈ میں ادھر کیسے پہنچی،،
وہ ایک لڑکا تھا، ہم شکل نہیں دیکھ پائے، اس نے ماسک لگایا ہوا تھا، خود کو تمھارا اچھا دوست بتا رہا تھا،، اس نے کہا کہ تم کسی بڑی مصیبت میں پھنس گئی تھیں، وہ تمھیں بچا کر سیولی گھر لایا تھا، کیا ہوا تھا، مجھے ڈیٹیلز سے بتاؤ پرنسز تاکہ ہم پولیس کمپلین کر سکیں،،
جمی نے اس کی کمر تھتھپا کر اسے تسلی دی اور تفصیلات پوچھیں۔
تب ماہا ویرا نے رو رو کر انھیں ساری حقیقت بتا دی جسے سن کر جمی کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اگر یہ بات راج اور وشہ کو معلوم ہو جاتی تو راج تو پورے کالج کو زندہ جلا دیتا۔ جمی نے پولیس اسٹیشن کال کر کے کمپلین کر دی۔
اٹس اوکے پرنسز،، پریشان مت ہو ا، اب تم سیو ہو گھر پر ہو، اور اب وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا، بہت جلد قانون کے شکنجے میں ہوگا،،
جمی نے اسے کافی دیر تسلی دی۔ تب اچانک جمی کو کچھ یاد آیا۔
اوکے بابا کی جان، میری بات غور سے سنو،، اب اگر خدا نے کرے کبھی تم کسی ایسی صورت حال میں پھنس جاؤ تو اپنی پوری طاقت لگا کر چلانا،،
جمی نے اسے سمجھایا۔
بٹ وائی ڈیڈ،، ویرا حیران ہوئی۔
کیونکہ یہ میں کہہ رہا ہوں اس لئے،، جمی نے اس کی چھوٹی سی ناک دبائی۔
پرنسز وہ تمھارا فرینڈ کون تھا، میں تو تمھاری پریشانی میں اسے تھینکس بھی نہیں بول پایا، وہ شاید جلدی میں تھا تبھی روکنے کے باوجود چلا گیا،،
آئی ڈونٹ نو ڈیڈ،،، میرا تو کوئی فرینڈ نہیں سیم کے علاوہ،، وہ بھی اب اس اجنبی کے بارے میں سوچ کر الجھ رہی تھی۔ کافی سوچا مگر بات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائی۔ اس نے زہن پر بھی کافی دباؤ دیا مگر یاد نہیں آیا کہ غنودگی میں جانے سے پہلے وہ اس سے کیا بات کر رہا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ کائلہ کی غیر موجودگی میں بھی اس کی پابند تھی۔ جانتی تھی۔
کلاس میں جانے سے گھبرا رہی تھی۔ تبھی سامنے سے سنجنا آتی دکھائی دی۔ وہ بھاگ کر اس سے لپٹ گئی۔
شکر ہے سجنا، تم آ گئیں میں بہت گھبرا رہی تھی،، مایا وش نے کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
سوری میں سنجنا نہیں ہوں،، اس نے مزے سے کہا۔ مایا وش حیرت زدہ سی ہو کر اس سے الگ ہوئی۔
مم،،مگر،، اس کی نقاب میں معصومیت سے آنکھیں پھیل گئیں۔
میں اس کی ٹوئنز سسٹر رنجنا ہوں،، اس نے اس کی کنفیوژن دور کی۔
سنجنا کدھر ہے،،؟ مایا وش نے بے چینی سے پوچھا۔ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ آئی نہیں ،، رنجنا نے بتایا۔۔ اسے اس کی فرینڈ نے اشارہ کیا۔ تو وہ مسکرا کر اسے بائے اور سوری بولتی ہوئی یہ جا وہ جا۔ پیچھے مایا وش اداسی سے وہان سے کلاس میں گئی۔
وہ جانتی تھی کہ کائلہ کے شیطانی چیلے اس کے آس پاس موجود رہتے ہیں ۔ اس نے بولا تھا کہ وہ اگر کوئی فری پیریڈ ہو تو جا کر سٹاف روم میں اس کی جگہ بیٹھ جائے۔
یہ پیریڈ فری تھا۔ اسے سٹاف روم میں بیٹھے کافی دیر ہو چکی تھی۔ یہاں چونکے کوئی نہیں تھا اس نے اپنا حجاب ریموو کر دیا تھا۔ وہ بڑے انہماک سے اپنے نوٹس پر جھکی ہوئی تھی۔
وہ دبے قدموں سٹاف روم تک آیا تھا۔ دل میں کھینچ پڑ رہی تھی۔ عجیب سی کشش جو اسے کچی ڈور سے باندھے اسے یہاں لے آئی تھی اس آنکھوں سے اشارہ کیا تھا جب سٹاف روم کی کھڑکی کا ایک پٹ خودبخود بغیر آواز کیے کھلتا چلا گیا۔
وہ اس کی جانب پشت کیے بیٹھی تھی۔ سیاہ بال سیاہ رات کی طرح پوری کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔ بس چاندی کی طرح دمکتے ہاتھوں کی ہر موومنٹ اس کے جسم و جاں میں ایک ہلچل سی پیدا ہو رہی تھی۔
وہ پانی میں تحلیل ہوا اور ڈور کے نیچے سے اندر گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
