No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج ڈریگن لینڈ سے فیری ٹوپیا آیا تھا۔ کیونکہ کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اسے بس فیری گارڈینز کی ملکہ اینچینٹرس سے امید تھی کہ وہ اپنے جادوئی لاکٹ کے ڈائمنڈ میں ہی دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ آخر اس کی پرنسز ہے کہاں۔
اگر وہ ڈریگن لینڈ میں کہی ہوتی تو راج زرا بھی دیر نہیں لگاتا اسے ڈھونڈنے میں ۔ مگر وہ تو زمین پر گم ہوئی تھی۔ کئی دنوں کی ہر کوشش ناکام ہوئی تھی اس کی۔ اپنی گڑیا کو کہاں کہاں نا ڈھونڈا تھا اس نے۔
وشہ کی حالت دن بہ دن بہت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ پیدائش کا وقت قریب تھا۔ وہ کمزور ہوئی تھی تو ڈریگن کنگ کی بھی پاورز آدھی ہو چکی تھی۔ تبھی وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا نا زمین پر جا کر ان کالی طاقتوں کا پتہ لگا کر انھیں ڈھونڈ پا رہا تھا۔
وہ فیری ٹوپیا میں داخل ہوا مگر جنت نظیر فیری ٹوپیا کی یہ حالت دیکھ جہاں ہر طرف اتنی تباہی و بربادی تھی حیران و پریشان رہ گیا۔
وہ محل کے اندر اترا۔ مگر چاروں جانب سے اس پر حملہ ہو گیا۔ تیز روشنی کے جھماکے سے تھے جو آ کر اس پر گر رہے تھے۔ مگر اس نے اپنی چاروں طرف ایک حفاظتی حصار کھینچ لیا تھا۔
تبھی اس نے غور کیا ایک چھوٹا سا انتہائی خوبصورت پر زاد کنگ کے تخت پر بیٹھا اس انتہائی غصے و نفرت سے گھور رہا تھا۔ اور یہ سب اسی کے اشارہ کرنے پر ہو رہا تھا۔
(کتنا نادان تھا ناں اس کا ننھا سا دماغ کہ یہ بھی نہیں سمجھتا تھا کہ کنگ راج انھیں اب بھی چیونٹیوں کی طرح مسل سکتا ہے مگر اس ننھے سے دماغ میں سامنے والے کے لئے اس قدر نفرت اور غم وغصہ تھا کہ اس نے اس پر حملے کا حکم دیا)
یہ کیا ہو رہا ہے، کیوں حملہ کر رہے ہو مجھ پر، کنگ اور کوئین کدھر ہیں؟ کنگ راج چلایا
کیا لینے آئے ہو کنگ راج یہاں؟ سب کچھ تباہ و برباد کر کے، فیری ٹوپیا کے کنگ اور کوئین اور ان کے پورے خاندان کو قتل کر کے، اب کیا ہمارے اس کنگ کو بھی مار کر یہاں حکومت کرنا چاہتے ہو تم اور تمھاری وہ کوئین وشہ،،
فیری گارڈینز میں سے ایک غدار دھاڑی۔ اس کی بات پر راج اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔ تخت پر بیٹھے پرنس ویام کی آنکھوں میں یہ سب ایک مرتبہ دوبارہ سن کر اور یاد کر کے شعلے سے بھڑکے۔
مگر میں نے ایسا کچھ،،،
کچھ نہیں سننا ہم نے جاو یہاں سے،، وہ پھر دھاڑی۔
مجھے اینچینٹرس سے ملنا ہے،، راج نے اپنا مدعا بیان کیا۔
اور تمھیں ایسا کیون لگتا ہے کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد اب ہم تمھاری کوئی بھی مدد کریں گے،، وہ بے ساختہ ہی بول گئی۔
اور یہ تمھیں کیسے پتہ کہ میں یہان کسی بھی قسم کی کوئی مدد لینے آیا ہوں،، راج نے مشکوک نگاہوں سے اس فیری گارڈین کو گھورا تو وہ بری طرح گڑبڑائی۔
ہر کوئی اینچینٹرس کے پاس مدد لینے ہی آتا ہے،، وقت رہتے وہ سنبھل گئی۔
دیکھو ویام بیٹا، ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا، وہ کوئی بہروپ،،،،،،،،،
خبردار ہمارے کنگ کی جانب ایک قدم بھی مزید بڑھایا۔ وی فیری گارڈین اپنا ترشول لیے کنگ راج اور ویام کے بیچ آئی تھی۔ راج کی آنکھوں سے شعلے نکلتے دیکھ اپنا سوکھا گلا تھوک نگل کر تر کیا مگر اس وقت ویام کے سامنے اپنی وفا داری کا ڈھکوسلہ دکھانا لازمی تھا۔
جاؤ یہان سے کنگ راج،، مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی،، ویام نے بھی نفرت سے کہا۔
کچھ سوچ کر راج نے اپنے قدم پیچھے لیے اور فیری ٹوپیا سے نکلتا چلا گیا۔ وہ فیری ٹوپیا کے اس پار سفید پہاڑ کے دامن میں اترا تھا۔ جہاں آسمان کو چھوتی اس بیل کے نیچے وہ سفید چوغا پہنے فیری ٹوپیا کا سب سے بوڑھا پری زاد آسن لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ وہ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کے پر بھی جھڑ چکے تھے۔
کنگ راج اس کے پاس آیا۔
کنگ راج نے جھک کر اس کی تعظیم کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بند آنکھوں کے باوجود وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
بابا،، کنگ راج نے اسے پکارا۔
کس چیز سے پریشان ہو کنگ راج،، بابا نے دھیمے سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو بے حد پریشان تھا۔
بابا میری چھوٹی سی پرنسز وہ کہیں کھو،،،
اس کی فکر چھوڑ دو کنگ راج،، اس کے لئے اس کا اپنا کنگ ہے جو اسے ڈھونڈ لے گا، وقت لگے گا ، بلکہ برسوں لگیں گے، وہ اب نہیں ملے گی تمھیں، تم صبر کرو، وہ اسے ہی ملے گی، وہ اسے تم تک لے کر آئے گا، پرنسز اس کے وجود کا ایک حصہ ہے، اس کی فکر کرنے کو اس کا اپنا کنگ ہے، تم اپنی کوئین کی فکر کرو، اس کا خیال رکھو، وہ بیمار ہے کمزور ہے، ڈریگن لینڈ پر توجہ دو، اس سے پہلے وہ تمھارے ہاتھ سے نکل جائے، جو ایک اور پرنسز آنے والی ہے بس اس پر توجہ دو، اس کی حفاظت کرنا، اس کے سر پر بھی مصیبتوں کے سائے لہرائیں گے، اسے بھی کوئی تم سے چرانے کی چھیننے کی کوشش کرے گا،، ہو سکے تو اسے ڈریگن لینڈ مت رکھنا ،انسانی دنیا میں بھیج دینا،، وہاں وہ شاید محفوظ رہے،، تم۔سمجھ رہے ہو ناں میں کیا کہہ رہے ہوں۔
وہ کسی غیر مرئی نقطے کی جانب گھورتے ایک سانس میں بولے تھے۔
راج کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی یہ سن کر کے اس کی پرنسز اب اسے نہیں ملے گی مگر ایک اور پرنسز کی آمد پر اس کے دل کوکچھ تو سکون محسوس ہوا تھا اب طس اسے بے حال ہوتی وشہ کو سنبھالنا تھا۔
بابا،، راج نے ایک مرتبہ پھر پکارا۔
جاو یہاں سے راج، جتنا دیکھا بتا دیا، مزید کچھ نہیں ہے میرے پاس تمھیں بتانے کو، بلکہ فورا اپنی کوئین کے پاس پہنچو، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں وقت قریب ہے، اور ایک اور ننھی سی پرنسز کے لئے پیشگی مبارکباد،
اس بوڑھے پری زاد نے کہا تو راج لمحوں میں ڈریگن بنا وہاں سے اڑا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج ڈریگن محل کی وسیع و عریض چھت پر اترا تھا۔ تیز قدموں سے وہ نیچے کی جانب بھاگا۔
محل میں غیر معمولی ایک ہلچل اور پریشانی سی تھی۔
کنگ،، کوئین کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے،، ایک خادمہ نے بھاگ کر آ کر بتایا۔
شاہی وید کو بلایا،، راج نے اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔
شاہی دائیہ ان کے پاس ہیں، خادمہ نے بتایا۔ راج کے قدم اپنی خواب کے باہر آ کر تھمے تھے۔ اندر سے وشہ کی دلدوز چیخیں سنائی دے رہی تھین۔ ایک مرتبہ پھر راج نے بے بسی کی انتہا سے اپنی آنکھیں زور سے بند کیں۔ کیونکہ وہ اب اپنی کوئین کے لئے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ تکلیف اسے اکیلے برداشت کرنی تھی۔
مگر تبھی ایک خادمہ بھاگ کر آ کر راج کے پاس رکی تھی۔ تعظیما جھکی۔
کنگ، کوئین کسی سی بھی سنبھل نہیں رہیں ہیں، شاہی دائیہ سے بھی نہیں، وہ اپنی چیخوں کے دوران آپ کو پکار رہیں، شاہی دائیہ نے ان کی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر آپ کو اندر بلایا ہے،،
خادمہ نے پریشانی سے کہا۔
مگر،، راج نے کچھ پل کے لئے سوچا مگر اپنا سر جھٹک کر خواب گاہ کی جانب تیزی سے گیا۔
اندر داخل ہوا تو کنیزوں اور شاہی دائیہ نے جھک کر اپنے کنگ کی تعظیم کی۔
راج سب کو نظر انداز کرتا پریشان حال وشہ کے سرہانے پہنچا جس کا وجود ایک بڑی سی چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔
وشہ کے کمزور انسوؤں سے تر سرخ چہرے پر جیسے برسوں کی تھکن تھی۔ اور وہ اپنا سر تکیے سے پٹخ پٹخ کر شدید تکلیف میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
وش،،، میری جان،، وشہ،، راج نے اسے پکارا۔ وشہ نے اپنی نیم وا سی آنکھوں سے اپنے کنگ کو دیکھا۔
رر،،،، راج،، آپ،،،، مم،، میری،، بب،، بچی،، کو لینے،، ؟ لے آ،،، آئے،،،؟ آہہہہہہہہہہ
وش سنبھالو اپنے آپ کو،، راج نے بے بسی کے احساس سے بری طرح اپنے لب کچلے۔ وہ اتنی تکلیف میں بھی اپنی بچی کا غم کلیجے سے لگائے بیٹھی تھی اور بھول نہیں رہی تھی۔
یہ تو وہ کنگ ہی جانتا تھا اتنے ماہ اس نے کیسے کیسے اسے دلاسے دے کر، جھوٹی تسلیاں دے کر یہ وقت گزارا تھا۔وہ کبھی بےہوش ہو جاتی۔ کبھی شدید غصے میں چیخنے چلانے لگتی۔ رو رو کر آنکھیں بھی اب تو دکھنے لگی تھی۔
راج،،، بب،،، بتائیں،، مم،، مجھے،،، آ،،،،، اپ لے آئے اسے،،،؟ وہ نقاہت زدہ سی اب اس کا گریبان پکڑ چکی تھی۔
وش،، میری جان،، میں وعدہ کرتا ہوں،، تمھارے اس تکلیف سے نکلنے کے بعد میں تمھاری گود میں تمھاری پرنسز لا کر دوں گا، میری جان سنبھالو خود کو، مت دو خود کو اور مجھے اتنی تکلیف، راج نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
وشہ روئے گئی۔ اور تکلیف میں اضافہ ہوتا گیا۔ راج نے شاہی وید کا بھیجا ہوا ایک خاص امرت اسے پلایا۔ اس کا ماتھا پسینے سے تر تھا۔
کئی گھنٹوں کے درد ناک تکلیف و عذاب کے بعد ایک دلخراش چیخ کے بعد ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر اس کا سر راج کے سینے کی جانب لڑھکا تھا۔
وش،، میری جان،، راج نے اس خود میں بھینچا۔ مگر پھر باریک سی ننھی سی رونے کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ڈریگن لینڈ میں ایک مرتبہ پھر خوشیوں کی بہار اتری تھی۔ وہ لوگ جو پرنسز مایا وش کے کھونے پر بہت دکھی تھے اب اپنی نئی پرنس کی آمد پر جشن منا رہے تھے۔ راج اپنی دوسری بے تحاشا خوبصورت گڑیا کو اٹھائے لوگوں کے بیچ لایا تھا۔
تاکہ وہ اسے دیکھیں اور مطمئن ہو جائیں۔
اور واقعی لوگ پرنسز کو دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔
ایسے میں چھوٹے چھوٹے بچے آ کر پرنسز کے پاس پھول رکھ رہے تھے۔ پھر راج نے ایک عجیب نظارا دیکھا ۔ ایک سر پر ہڈ لیے بچہ کافی دیر سے جو دور کھڑا پرنسز کو بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ قریب آیا تھا۔ اور پرنسز کے پاس پڑے پھولوں کے ڈھیر پر ببول کا کانٹا رکھا تھا۔
راج غور کرتا۔ مگر اسے خادمہ نے مخاطب کیا تھا۔ وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
پرنس ویام نے ہڈ کے پیچھے سے ایک خونخوار نگاہ اس پریوں سے بھی زیادہ خوبصورت پرنسز، پر ڈالی۔ اور بھیڑ میں غائب ہو گیا۔ وہ جس مقصد کے تحت یہاں آیا تھا وہ پورا ہو چکا تھا۔
راج نے پہچھے مڑ کر دیکھا وہ بچہ پھولوں کے ڈھیر پر ایک کانٹے کی جھاڑی رکھ کر جا چکا تھا۔
اسے خادمہ کے زریعے وشہ کا پیغام ملا تھا تو وہ اٹھ کر اندر کی جانب بڑھا۔
اندر وشہ نڈھال سی آرام کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ہی اس کی آنکھ کھلی تھی۔ اس کے اشارا کرنے پر کنیز نے اسے اٹھا کر تکیے کے سہارے نیم دراز کیا تھا۔
اسے یاد آیا۔ زہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔ راج نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی طبیعت سنھبلتے وہ اس کی گود میں اس کی پرنسز دے گا۔ اور راج کبھی اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔
کک،،، کنیز،،، کنگ راج کو بب،،، بلائیں،، وہ نیم جان سی بولی اور آنکھیں موند لیں۔
تبھی خادمہ کے بلانے پر راج اپنی گود میں چھوٹی پرنسز کو بھرے اندر داخل ہوا تھا۔
رر،،، راج،، آپ نے وعدہ کیا تھا کک،، کہ،، آپ میری پرنسز،، کک،، کہاں ہے مم،، میری پرنسز،، وشہ بے چین ہوئی تو راج نے نرمی سی جھک کر اپنی ننھی شہزادی کو اس کی گود میں بھرا۔
وشہ یہ دیکھو تمھاری پرنسز ماہا ویرا،، مایا وش کی چھوٹی بہن ، دیکھو میں نے وعدہ کے مطابق تمھاری گود میں تمھاری پرنسز کو تھمایا،،
راج نے اس کی گود میں سکون سے سوئی پرنسز کو تھمایا۔
مگر راج،، وشہ نے پوچھنا چاہا مگر پھر وہ اچانک اپنی ننھی گڑیا کے معصوم چہرے میں کھو سی گئی تھی۔
وشہ دیکھو اسے، اب یہی ہماری پرنسز ہے، میں تمھیں سب سمجھاتا ہوں میری جان،،
راج اس کے بہت قریب چلا آیا اور فیری ٹوپیا میں ہونے والے تمام واقعات اس کے گوش و گزارکر دئیے۔ سب سے بوڑھے پری زاد نے جو اسے بتایا تھا وہ بھی۔
یہ سن کر وشہ ایک مرتبہ پھر رونے لگی۔ چاہے وہ جتنا مرضی تڑپتی مگر اب تو اسے صبر کرنا ہی تھا۔ مگر اس کی گود میں جو ننھی پری تھی اس کے اٹھ کے رونے سے وہ وہ جلد ہی اس کی جانب متوجہ ہو گئی تھی۔
راج نے یہ دیکھ کر سکون کا ایک لمبا سانس خارج کیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ازلان سلطان نے دونوں کو سنگاپور کے مشہور مینٹسوری میں داخل کروایا تھا۔ وہ ضرورت سے زیادہ زہین ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور پرکشش تھے۔
تبھی وہاں کا ہر بچہ ان کے قریب آنا چاہتا تھا ان سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔ مگر ازلان نے انھیں کسی سے بھی دوستی پالنے کے لئے سختی سے منع کیا تھا۔ تبھی وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ دونوں کی آنکھیں اوشن بلو تھیں۔ اب بھی وہ بریک کے بعد باہر صحن میں کھیل رہے تھے۔
جب پول پہ کھڑا گارڈ کسی کام کے سلسلے میں اندر کہیں گیا۔ تبھی ایک بچہ بال پکڑتے پکڑتے پانی میں گرا تھا ۔ کوئی بڑا یا ٹیچر موجود نہیں تھا۔
پانی زیادہ گہرا نہیں تھا ہاں مگر اس بچے کے ڈوب کر مرنے کے لئے کافی تھا۔
بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر کھڑی پرنسپل نے یہ دہشت ناک نظارا دیکھا اور دل تھام لیا۔
وہ بچہ ڈوب رہا تھا اور چلائے جا رہا تھا۔ عائش اور آبدار سکون سے چلتے پول کے قریب آئے تھے۔ ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا کہ جیسے ایک دوسرے سے پوچھنا چاہتے ہوں۔
کیا یہ ہمیں کرنا چاہئے۔ آبدار نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں دیکھتے ہی دیکھتے کسی ماہر تیراک کی طرح ہاتھ فضا میں بلند کیے پانی میں کود گئے۔
تب تک گارڈ، ٹیچر اور پرنسپل پول کے پاس پہنچ چکے تھے۔ مگر رائیل خاندان کے چشم و چراغوں کو اس طرح پانی میں گرتے دیکھ وہ سب مرنے والے ہو گئے۔ تبھی پول کی جانب بھاگے تھے۔
مگر یہ کیا؟ پول کے قریب جاتے ہی سب کو حیرت سے غش پڑنے والا ہو گیا۔ عائش اور آبدار اسے بازؤؤں سے پکڑ کر تیرتے کنارے کی طرف لا رہے تھے۔
یہ سب کے لئے ناقابلِ یقین اور بے حد حیرتکی بات تھی۔ اتنے چھوٹے بچوں کا اتنے کانفیڈینس سے پانی میں کودنا پھر سمجھداروں کی طرح اس بچے کو بچانا اور پھر سہی سلامت کنارے تک لانا۔
بیٹا یہ سب تم نے کیسے کیا،، پرنسپل نے جھک کر عائش اور آبدار سے پوچھا۔ مگر وہ خاموش رہے۔
پرنسپل نے فوراً ازلان سلطان سے رابطہ کیا تھا۔ اور پھر ان کو ایک مرتبہ پھر اس بات پر ڈانٹ پڑی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے پانی میں کیوں کودے۔
وقت پر لگا کر اڑ گیا۔ بارہ سال کے ہونے پر ازلان نے اپنے گکے میں پہنے لاکٹ سے وہ سفوف نکال کر ان کو کھلا دیا تھا۔ وہ دونوں ہی اچھی طرح اپنی حقیقت، اپنا اصل اپنی زندگی کا جینے کا مقصد سمجھ چکے تھے۔ اب وہ جانتے تھے وہ کون ہیں اور انھیں دنیا سے کیوں چھپنا چاہیے۔ بارہ سال کے بعد اب وہ اپنی مرضی سے جب چاہے انسان اور جب چاہے ایک جل پری زاد میں بدل جاتے تھے۔ مگر ان میں سے جو اوشن کنگ تھا اس کے پاس مزید بےشمار پراسرار پاورز، تھیں۔جو کسی عام انسان کی سوچ سے بالا تر تھیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دس سال بعد،،
وہ ویسٹ افریکہ کا ایک عجیب سا علاقہ تھا۔ جس کے ایک کشادہ بند تاریک گھر میں وہ ایک چھوٹے سے تخت پر بیٹھی وہ اس بے تحاشا خوبصورت ملکوتی حسن کی ملکہ دس سالہ چھوٹی سی بچی کے سیاہ کمر سے جھولتے بالوں میں برش کر رہی تھی۔
یہ بات یاد رکھنا مایا وش، آج تو تم نے میرے اجازت کے بغیر اس گھر سے باہر قدم نکالا، آئندہ اگر یہ حرکت کی تو میں تمھیں ہمیشہ کی طرح سزا دوں گی، اور تمھیں پتہ ہے میں کتنی درد ناک سزا دیتی ہوں،، کائلہ (عرف بلیک وچ) نے اپنے مخصوص پراسرار لہجے میں اس سے کہا۔
کیا آپ واقعی میری سگی ماں ہیں ماں،، مایا وش کے اچانک سوال پر وہ بری طرح چونکی۔ کیونکہ اس سے پہلے کبھی مایا وش نے یہ سوال اس سے نہیں پوچھا تھا۔
میں ہی تمھاری ماں ہوں،، تمھاری سب کچھ سنا تم نے، تمھارا دنیا پر اور کوئی نہیں ہے میرے سوا،، اور یہ سوال تم نے کیوں پوچھا۔
کیونکہ کوئی ماں اپنے بچے کو اتنی دردناک سزا نہیں دیتی،، مایا وش نے معصومیت سےمگر سنجیدگی سے کہا۔
وہ اس لئے کہ میں تمھیں اس بری دنیا سے بچا سکوں، یہ دنیا بہت بری ہے، بہت، اسی لئے میں تمھیں اس کے مکروفریب سے بچا کر رکھنا چاہتی ہوں،،
مگر ماں ہم باہر کیوں نہیں جاتے، ہر چھ ماہ بعد اپنا گھر کیوں بدلتے ہیں، مجھے سکول کیوں بدلنا پڑتا ہے، میں کسی سے بات کیوں نہیں کر سکتی، سب بہت اچھے ہوتے ہیں، آپ مجھے جس لڑکی سے کہتی ہیں دوستی کرنے کو میں کر لیتی ہوں،، مگر جب وہ ہمارے گھر آتی ہے تو کدھر چلی جاتی ہے،
اس خبیث چڑیل نے مایا وش پر پوری طرح اپنا تسلط قائم کر رکھا تھا۔ ہر چھ ماہ بعد ایک لڑکی کو پھانس کر اس کی بلی دیتی اور وہاں سے مایا وش کو لے کر فرار ہو جاتی۔ایک نئی جگہ نئے شکار کی تلاش میں۔ اور یوں جگہ بدلنے سے کوئی بھی مایا وش تک بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔
مایا وش کے دماغ کو پوری طرح گمراہ کر دیا تھا۔ مگر اب وہ جب سے سوجھ بوجھ آنے لگی تھی وہ اس سے سوال پوچھنے لگی تھی جو کہ اسے زہر لگتے۔ اسے تو مایا وش بھی زہر لگتی تھی تبھی آئے دن اسے نئے طریقے سے ٹارچر کرتی تھی۔ اب بھی وہ غصےسے پاگل ہوئی تھی۔ جب فضا میں ہاتھ لہرایا۔ اس کے ناخن کسی خنجر کی طرح تیز ہوئے تھے۔
تمھاری جرات کیسے ہوئی مایا وش میرے سامنے اتنی بکواس کرنے کی، اتنی زبان چلانے کی مجھ سے سوال کرنے کی،،،، یہ بول کر اس نے اپنی پوری طاقت سے ان خنجر نما ناخنوں سے اس کی کمر نوچی تھی۔ مایا وش کی دلدوز چیخ فضا میں بلند ہوئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا اپنی سٹڈی میں بزی تھا جو اب پندرہ برس کا ہو چکا تھا۔
تبھی بہت اچانک اسے اپنی پیٹھ پر خنجر سے چلتے جتنا درد محسوس ہوا تو وہ لرزتا وجود لیے بری طرح آنکھیں بھینچے وہ درد برداشت کرتا بیڈ تک آیا۔ بیڈ پر اوندھے منہ گر کر شیٹ مٹھیوں میں جکڑ کر مزید تڑپا۔
اففففففففففف،،،، ششششٹ،،،
دوسرا پرنس روم میں داخل ہوا تو حسبِ معمول اسے یوں تڑپتے دیکھ اپنی جگہ پر ساکت ہوا۔
ہیے واٹس اپ برو،، کیا ہو رہا ہے یہ تمھیں،، وہ اس کی کمر پر جھکا جہاں شرٹ پر ہلکے ہلکے خون کے دھبے تھے۔
کچھ نہیں، دراز میں پڑی آئنٹمنٹ اٹھا کر ان زخموں پر لگا دو پلیز،، اس نے التجا کی۔
اوکے باس،، وہ دراز تک گیا۔ اور آئٹمنٹ لا کر اس کے اوپر جھکا۔ اتنے میں وہ شرٹ اتار چکا تھا۔
اس نے اس کی کسی تیز، دھار آلے سے نوچی گئی کمر پر آئٹمنٹ لگانا شروع کیا۔ وہ آنکھیں موندے لب سختی سے بھینچے پڑا درد برداشت کرتا رہا۔ تب وہ آئٹمنٹ لگا چکا تو پیچھے ہٹا۔
ڈیڈ کو بلاؤں؟
نو،،
تم ٹھیک تو ہو،،
یس آئم فائن، تم جہاں جارہے تھے ادھر جاؤ، میں آرام کروں گا،، اینڈ تھینکس ڈیوڈ،،
اس نے آنکھیں موندے ہی اسے کہا۔
اوکے، وہ بول کر چلا گیا۔
اب وہ اوشن کنگ اٹھا تھا اور کمرے کی ہر چیز تہس نہس کی تھی۔آئینے کے سامنے آ کر اپنی سرخ ڈوروں والی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ چیرے پر غیض وغضب اور اشتعال انگیز تاثرات تھے۔
ہو آر یو،، اینڈ وئیر آر یو، یہ کیسا کنکشن ہے ہمارے بیچ، دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں جو اس اوشن کنگ کو تکلیف پہنچا سکے، مگر ہر بار یہ تکلیف تمھارے وجود سے ہو کر مجھ تک آتی ہے، ششششششششٹ،،،،
اس نے شیشے پر مکا مار کر شیشہ چکنا چور کیا تھا۔
اور پھر اس اوشن کنگ کو یہ بات زیادہ تکلیف دیتی ہے کہ جو میں برداشت کر رہا ہوں کیا وہ تکلیف تمھیں بھی برداشت کرنی پڑ رہی ہے، اوشن کوئین کو، کس کی اتنی جرات کہ اس کنگ کی کوئین کو اتنی تکلیف پہنچائے۔
نوووووووووووووو،،،،،،،، وہ دھاڑا۔
دل میں غم وغصے کا طوفان سا اٹھا۔ واش روم گیا اور شاور کھول کر اپنے لیے بنائے گئے مخصوص باتھ ٹب میں آنکھیں موندے لیٹ گیا۔
کچھ ہی دیر میں اس کی پونچھ پانی میں تیرتی نظر آئی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
