Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آدھی رات کا وقت تھا۔ تاریک رات کی پراسراریت اپنے سینے میں کئی راز دفن کیے آہستہ آہستہ قطرہ قطرہ موم کی طرح پگھل رہی تھی۔ ایسے میں سنگاپور کے سمندر کے لہریں عجیب سے انداز میں شورش پیدا کر رہی تھیں۔ آدھی رات کے سناٹے میں ایک کار کی آواز نے ان سمندر کی لہروں کے شور کے ساتھ مل کر عجیب تال میل پیدا کیا تھا۔

جیک نے ہوا میں جھولتی کار بمشکل اپنے کاٹیج کے سامنے پارک کی تھی۔ آج اس نے اتنی پی تھی کہ مکمل اپنے ہوش کھو کر اس کی یاد کو دل و دماغ کے کونے کھدروں سے نکال باہر پھینکنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی ظالم یاد تھی۔ جو اسے ہوش بھی نہیں کھونے دے رہی تھی۔ وہ اس مدہوشی میں بھی اس کی رگ و پہ میں سرایت کیے ہوئے تھی۔
کئی پل نشے میں دھت ڈرائیونگ سیٹ کی ٹیک سے سر ٹکا کر آنکھوں سے آبشار کی طرح بہتے آنسو اس نے اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی تھی۔

جھٹکے سے کار کا ڈور ان لاک کرتا ڈگمگاتے قدموں سے باہر نکلا تھا۔ دھاڑ سے ڈور لاک کرتا اس نے ہاتھ میں تھامی بوتل ایک مرتبہ پھر لبوں سے لگائی تھی۔ آسمان کی جانب منہ اٹھاتے بوتل سے وہ مشروب پیتے سامنے پڑا گملا دیکھ نہیں پایا تھا بری طرح لڑکھڑایا تھا۔

رنجووو، کو پیاس کا احساس ہوا تھا تو وہ سلیو لیس نائٹی کے اوپر بلیک نائٹ گاؤن پہنے روم سے باہر کچن کی جانب آئی تھی۔ کچن میں وہ پانی پی رہی تھی جب اسے جیک کی گاڑی کی آواز سنائی دی تھی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہ وہ رات کے تین بجے کہاں سے اور کیا کر کے آ رہا ہے اس نے بیرونی کھڑکی سے باہر جھانکا تو حیرت و صدمے سے آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔

ملگجا سا حلیہ تھا۔ سلوٹ زدہ شرٹ اور میلی سی پینٹ،، جیسے وہ گرتا پڑتا گھر پہنچا تھا۔ بکھرے بال،، لال انگارا مخمور روئی آنکھیں،، کئی دن کی بڑھی شیو،، وہ تو مکمل برباد ہو چکا تھا جیسے۔ ابھی تو وصل کی بہار کا چہرہ ہی دیکھا تھا۔ کہ منہ زور ہجر کا طوفان سب کچھ اجاڑ کر تباہ برباد کر کے ہجر کی خزاں اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔

شیشہ ہو یا دل ہو آخر ٹوٹ جاتا
لب تک آتے آتے ہاتھوں سے جام چھوٹ جاتا ہے

رنجو نے دیکھا وہ شراب پیتے گملے سے ٹکرانے والا تھا ناصرف گملے سے ٹکراتا بلکہ نوکیلی ریلنگ پر گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ۔ وہ تیزی سے بھاگ کر باہر نکلی تھی۔ اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر ریلنگ پر گرتا رنجنا نے اسے سنبھالا تھا۔

جیک،،، ہوش کرو،، یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپنا،، وہ چلائی اور اس کا ایک بازو اٹھا کر اپنی پچھلی گردن کے گرد لپیٹا اپنے ایک ہاتھ سے اسے سہارا دیا اور بمشکل اس چھ فٹ گبرو جوان کو لے کر اندر بڑھی۔
سنجنا،،،،،، سنجوووووو،،،،،،،،،

وہ اس کا چہرہ بغور دیکھ رہا تھا۔ اور جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ وہ اسے نشے میں شاید سنجنا سمجھ رہا تھا۔ رنجنا کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔
وہ بمشکل اسے لاؤنج میں لائی تھی اسے صوفے پر بٹھایا۔ تو وہ گرنے کے انداز میں صوفے کی پشت پر گرا تھا۔

رنجنا یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ تبھی تیزی سے مڑی تھی۔ جب اتنی ہی تیزی سے جیک نے اس کی کلائی دبوچی تھی۔
جیک لیو می،،، وہ غرائی۔ جب جیک اتنی ہی تیزی سے اٹھا تھا۔ اور اس کی کلائی یونہی تھامے اسے اپنے کمرے میں لا کر ڈور لاک کیا اور اسے صوفے پر پھینکنے کے انداز میں بٹھایا۔

سنجنا نے غم وغصے سے اسے گھورا۔
جیک،،، وہ دھاڑی تھی مگر۔
شششششششششششششش،،،،، وہ زرا سا جھک کر اس کے لبوں پر انگلی رکھ گیا تھا۔ اس کے قدموں میں زمین پر بیٹھ کر اس کی گود میں سر رکھا تھا۔

اششششششش،،،،،، چپ کرو،،،،،، جانتا ہوں تم،،،،، میری سنجنا نہیں ہو،،،،،،،،،،،، چڑھی ہے،،،،،،، مگر اتنی بھی نہیں کہ،،،،،،،،،، اس کی یاد ،،،،،،،،،،دل سے بھلا دے،،،،،،،مگر میں مر ،،،،،،، جاؤں گا،،،،،،،، رنجو،،،،،، پلیز،،،،،،، ہیلپ می،،،،،،،، میں تمھیں دیکھ،،،،،،، لیتا ہوں،،،،،، شش،،،، شاید،،،،،، سکون،،،،،، آ جائے،،،،،،، تت،،، تمہیں کوئی پرابلم،،،، تو نہیں،،،،،

وہ اسکے گھٹنے میں پہ ہاتھ رکھ کر سر اٹھا کر اب اسے دیکھ رہا تھا۔ رنجو کا دل کیا دھاڑیں مار مار کر روئے۔
مگر اس کی یہ خواہش جیک نے ضرور پوری کر دی تھی وہ پھر اس کی گود میں سر رکھ کر بچوں کی طرح رویا تھا۔ رنجو نے اپنے لرزتے کپکپاتے ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھے۔

کیا بے بسی تھی۔ کیا غم تھا جس سے جیک کا دل پھٹ رہا تھا اور یہ غم وہ بھی تو محسوس کر رہی تھی تبھی وہ بھی بری طرح رو دی تھی۔
وہ رو رو کر اس کی گود میں ہی سر رکھ کر سو گیا تھا۔
رنجو نے بے بسی سے اسے دیکھا اب وہ اٹھ بھی نہیں سکتی تھی اٹھتی تو اس کی نیند ٹوٹ جاتی تبھی وہ صوفے سے سر ٹکایا اور آنکھیں موند لیں۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ہیو نے انھیں ڈیپ فوریسٹ اتارا تھا۔
ایورا نے کہا تھا اس سے آگے کا راستہ ہمیں پیدل طے کرنا ہوگا،، آبدار نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
پنک یونی کارن ہیو ایک چھوٹے سے گلابی پھول میں بدل کر وہی ایک درخت سے الٹا لٹک چکا تھا۔ مطلب واپسی پر وہ انھیں یہیں ملنے والا تھا۔

وہ پیدل سفر پر روانہ ہوئے۔ ڈیپ فوریسٹ آسمان کو چھوتے درختوں سے بنا تھا اور زمین پر بھی بیلیں بکھری پڑی تھیں۔ مٹکے مٹکے جتنے پھل ان درختوں اور بیلوں پر لگے ہوئے تھے۔ وہ دونوں ہاتھ تھامے اسے دیکھتے پار کرنے لگے۔

مگر پھر جنگل کے بیچوں بیچ انھیں ایک عجیب و غریب قسم کا نظارا دیکھنے کو ملا۔درخت کے ایک تنے میں بڑا سا ہول تھا۔ ایک کرسی ایک ٹیبل جس پر لیپ ٹاپ پڑا تھا۔ تنے میں ہول کا پورا کا پورا منظر کسی دنیاوی انسانی آفس کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کرسی پر ایک انتہائی خوبصورت لڑکی شاندار سا لیڈی پینٹ کوٹ پہنے چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے آہستہ آہستہ چائے کی چسکیاں لیتی لیپ ٹاپ پر جھکی ہوئی تھی۔

جو جیسا دکھتا ہے ویسا ہوتا نہیں،،،، آبدار اور مایا وش آہستگی سے بیک زبان ہو کر بولے تھے اور اسے نظر انداز کرتے آگے بڑھ گئے اور وہ لڑکی یوں ظاہر کر رہی تھی جیسے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

آب اور مایا وش بہت زیادہ چلے۔
مگر آب کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کب سے جہاں سے چلتے تھے وہیں پر آ کر ٹھہر جاتے تھے۔
اب تو مایا وش بھی نوٹ کر رہی تھی کہ وہ جہاں کا بھی رخ کرتے تھے۔ لوٹ پھیر کر ادھر اس ہی آ کر رکتے تھے جہاں آفس میں بیٹھی لڑکی کی چائے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

مطلب وہ ڈیپ فوریسٹ کی وہ شرارتی پری تھی جس سے جان چھڑانے کے بعد ہی وہ آگے بڑھ سکتے تھے جو کب سے شرارت میں انھیں الجھا رہی تھی۔ مگر خود سے کچھ نہیں بولی۔
مایا وش نے آب کو اس کی جانب آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی جانب اشارہ کیا۔

وہ دونوں ہاتھ تھامے اس کی ٹیبل تک پہنچے تھے۔
“ہمیں بھی چائے پلا دیں،، مایا وش نے اسے مخاطب کیا تھا۔

ہمممم،،، پہلے میرا ایک سوال،، جس کا جواب مجھے آج تک کسی نے نہیں دیا،، جو بھی مسافر یہاں تک آیا افسوس غلط جواب کی وجہ سے اسے واپس ہی جانا پڑا،، وہ چئیر سے ٹیک لگاتے انھیں اب طائرانہ نگاہوں سے جانچ رہی تھی۔ جانتی جو تھی اس کا سوال کافی بچکانہ قسم کا ہے مگر یہ بھی جانتی تھی کہ جواب دینے والا ہمیشہ دائیں بائیں کی تکرار میں الجھا رہتا تھا۔

پوچھیں،، مایا وش نے عجلت میں کہا مگر وہ مسکرا دی۔

ایک سوال صحیح جواب دینے کا ایک چانس،، اور اس کا جواب صرف تم سو گی ڈریگن پرنسز یہ اوشن کنگ نہیں،، اس نے پھر کہا۔

اوکے منظور پوچھیں؟ مایا وش کو جلدی تھی اور وہ ان کا وقت ضائع کر رہی تھی۔

Where is the side of handle of a cup?
اس نے فضا میں چائے کا کپ لہرایا تھا اور کبھی دائیں ہاتھ میں کپ لے کر اس میں سے چسکیاں لے رہی تھی کبھی بائیں۔

آبدار اور مایا وش نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
مطلب نو لیفٹ نو رائٹ،، اگر ہم رائٹ کا بولیں گے تو یہ بولے گی کہ ہم کپ لیفٹ ہینڈ میں بھی تو پکڑ ہی سکتے ہیں،، مایا وش نے آب کے چہرے کے قریب سرگوشی کی۔
جسے سن وہ گہرا مسکرائی تھی۔ آبدار اس تمام کاروائی میں خاموش ہی تھا۔

او کم آن ڈریگن پرنسز،، اتنا کیا سوچ رہی ہو،، تم سے کم از کم اتنی توقع نہیں تھی کہ تم اتنی دیر میں جواب دو گی جلدی بولو،،،
وہ مایا وش کو الجھا رہی تھی تاکہ وہ جلد بازی میں غلط جواب دے دے۔ مگر سامنے بھی ڈریگن پرنسز تھی۔ جس کے اطمینان میں رتی بھر بھی فرق نہیں پڑا تھا۔

مگر دماغ میں تانے بانے بن رہی تھی۔ نو لیفٹ نو رائٹ،، تو آخر کونسی سائیڈ ہے کپ کے ہینڈل کی۔ وہ بغور اس کے ہاتھ میں اس بڑے سے کپ کو دیکھتی سوچ رہی تھی۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچ کر مایا وش آگے بڑھی۔ اور اس کے ساتھ سے وہ کپ لے لیا۔

جو توقع کے عین مطابق بلکل خالی تھا۔ مایا وش نے کپ کے اندر انگلی گھمائی۔
Inside,,,,
دل میں کہا۔ اور اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔

میرا جواب ہے،،،، outside” بہت سٹوپڈ سوال تھا ویسے آپ کا،، کوئی بھی جواب دے سکتا ہے جس کا،، مایا وش نے کہتے کپ ٹیبل پر رکھا۔
ایک جھماکا سا ہوا تھا۔ وہاں سے ہر چیز غائب ہوئی تھی۔

مایا وش نے آبدار کا ہاتھ تھاما۔ یقینا وہ اب راستہ نہیں بھٹکیں گے۔ ڈیپ فوریسٹ کے بعد پنک فوریسٹ کے آثار نظر آئے تھے۔ آج دو ہفتے ہو چلے تھے انھیں سفر کرتے مگر وہ پہلی چیز نہیں تلاش کر پائے تھے۔ تبھی ان کے قدموں میں اب تیزی تھی۔ پنک فوریسٹ کا اپنا ہی ایک الگ نظارا تھا۔ وہ کہنے کو پنک فوریسٹ تھا۔

مگر انسانی کھیتوں کی طرح حدِ نگاہ زمین سے کچھ اوپر پنک پھولوں کی ایک چادر سی بچھی ہوئی تھی۔ اور اس حدِ نگاہ میدان کو پار کر کے وہ ونڈر ماؤنٹین نظر آ رہا تھا۔ جہاں انھیں ان کی منزل مل سکتی تھی۔

آب ہم پہنچ گئے،، دیکھیں ہم پہنچ گئے،، مایا وش کی آنکھیں نم تھیں اور چہرہ کھلا ہوا تھا۔ تبھی اس کا گریبان جھنجھوڑا تھا۔
چلیں آب،، اس ماؤنٹین تک پہنچتے ہیں،، مایا وش نے اس ک بازو پکڑ کر اسے آگے کھینچا۔

مجھے کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے میری جان،،،کیونکہ جو جیسا دکھتا ہے ویسا ہوتا نہیں،، آبدار نے سنجیدگی سے اس خاموش پنک میدان کو دیکھا۔
کچھ گڑبڑ نہیں ہے آب،، دیکھیں یہ میدان کس قدر خوبصورت ہے بس ہمیں اس پار کرنا ہے،، مایا وش نے کہا اور ایک قدم آگے ان پھولوں کے بیچ رکھا۔

تبھی خاموش میدان میں ایک دل دہلا دینے والی چیخ وپکار گونجی تھی۔ میدان میں ایک بھونچال اور زلزلہ سے پیدا ہو گیا تھا۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں انسانی انگوٹھے جتنی پریاں اس میدان کے پھولوں میں سے نکل کر شور اور چیخ وپکار مچانے لگی۔ مایا وش نے گھبرا کر اپنا قدم واپس لیا تھا۔ اور آب کے سینے میں دبکی۔

ایک جس کے سر پر کراؤن سا تھا (شاید وہ ان کی سردار تھی) ان کے سامنے بہت غصے اور اشتعال سے سامنے آئی تھی۔

اےےےےے،،، دیکھ کر ،، یہاں ہمارے گھر ہیں،، اور تم ایسے نہیں گھس سکتی یہاں،، ہاں مگر فیری ٹوپیا کی ہر چیز میں محبت کی موسیقی ہے اور پھول محوِ رقص ہیں،،

وہ غصے سے بول کر پھر پھولوں کے اندر گھس گئی تھی۔ بلکہ وہ سب ہی ان پھولوں میں گم ہو گئیں تھیں۔ اور فضا میں ایک مرتبہ پھر خاموشی چھا گئی۔

اب یہ کیا ہے آب،،؟ مایا وش نے جھنجھلا کر کہا تھا۔ آبدار پرسوچ سا ان پھولوں کو دیکھنے لگا۔
مایا وش نے ایک مرتبہ پھر اپنا پاؤں پھولوں میں رکھا تو وہی عمل پھر دہرایا گیا.

اےےےےے،،، دیکھ کر،، یہاں ہمارے گھر ہیں،، اور تم ایسے نہیں گھس سکتی یہاں،، ہاں مگر فیری ٹوپیا کی ہر چیز میں محبت کی موسیقی ہے اور پھول محوِ رقص ہیں،،،
وہ ایک مرتبہ پھر بول کر وہاں سے غائب ہوئیں تھیں۔

اب یہ کیا نئی مصیبت ہے آب،،، مایا وش جھنجھلائی تھی۔
ہم اس پنک گراؤنڈ میں ایسے نہیں گھس سکتے کوئین،، آبدار نے مایا وش کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے لگایا تھا۔
تو پھر کیسے،، اس نے چھوٹی سی ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔

میری جان نے سنا نہیں ابھی تو مرتبہ وہ بول کر گئی کہ ایسے نہیں گھس سکتے مگر فیری ٹوپیا کی ہر چیز میں محبت کی موسیقی مطلب میوزک ہے اور ہر فلاور محوِ رقص مطلب ڈانس کر رہا ہے،،

تو،،؟ مایا وش ناسمجھی سے پوچھ بیٹھی۔
تو یہ کہ ہمیں رومینٹک ڈانس کرنا ہے کوئین،،

واٹ،،،،،،،،،،،،،،،،،،

آبدار نے معنی خیزی سے کہتے اپنی کوئین کی ہونق شکل دیکھ کر دانتوں تلے لب دبایا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اینچینٹرس کے جادوئی لیپ سے اس کا گلا بلکل ٹھیک ہو چکا تھا۔ اور اب وہ محل میں اپنی خواب گاہ کی کھڑکی سے باہر کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتا جانے کن سوچوں میں گم تھا۔

تبھی اینچینٹرس اندر داخل ہوئیں تھیں۔ وہ بے چین سا ہوا ابھی تو اینچینٹرس نے کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے مگر اب جب پوچھنے والی تھیں تو جو اس کے دل وجاں سے جواب آتا تھا وہ ویام اپنے لبوں سے ادا کرنے سے قاصر تھا۔

اب کیا بولتا کہ اس بنا پنکھوں والی پری اور دشمن کی پرنسز کی طلب رگوں میں خون بن کر دوڑتی نہیں ابال اٹھاتی ہے۔ وبال بن چکی ہے۔ جاں کا عذاب تبھی فیری ٹوپیا کے کسی کونے میں سجون نہیں آتا تھا۔

ویام نے ان کی جانب دیکھ کر پھر باہر دیکھا۔ اینچینٹرس آگے بڑھی اور اپنے سوالوں کا جواب طلب کرنے کو اسے پکارا۔
کنگ ویام،،،

اینچینٹرس میں آپ کے کسی سوال کا جواب فی الحال نہیں دینا چاہتا،، اس نے سنجیدگی سے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا۔

میں جشن کی تیاری کروانا چاہتی تھی،، اگر مسئلہ اس رنگ کا ہے تو وہ آپ واپس لے آئیں اس پرنسز سے،، اینچینٹرس نے سکون سے کہا تھا جبکہ ویام کو حیرت ہوئی تھی۔
اور آپ نے ہی تو کہا تھا کہ وہ رنگ اس کے ہاتھ سے نکلی تو وہ مر جائے گی،، ویام نے بےچینی سے پوچھا۔

تو مر جانے دیجئے کنگ ویام ویسے بھی قاتل دشمن کی بیٹی ہی تو ہے،، ویسے بھی کیا پتہ اس کی موت ایسے ہی ہونا طے پائی ہو،،
اینچینٹرس نے لاپروائی سے کہا۔

اینچینٹرس جائیے آپ یہاں سے،، وہ درشتگی سے بولا تھا اور پہلی بار پہلی بار اس کا لہجہ اینچینٹرس کے لئے اتنا گستاخانہ تھا۔
مگر اینچینٹرس دوسری جانب رخ کر کے گہرا مسکرائیں تھیں۔ مگر وہاں سے گئی نہیں تو وہ خود انتہائی اشتعال میں اپنے پر پھڑپھڑاتا وہاں سے اڑا تھا۔

کدھر جا رہیں ہیں کنگ ویام،، اینچینٹرس اس کے پیچھے کھڑکی تک آئی تھی۔
ڈریگن لینڈ،، بڑے سکون سے بتایا تھا۔
کیوں،،؟ اینچینٹرس پوچھ بیٹھی حالانکہ جواب جانتی تھی۔

اب جبکہ رنگ اس کے ہاتھ میں ہے اور نکل بھی نہیں سکتی تو فیری ٹوپیا کی کوئین تو اسے ہی بننا پڑے گا ناں،، پھر چاہے وہ چاہے یا نا چاہے،، ویام ہوا میں پنکھ پھیلا کر انھیں حرکت دیتا ایک جگہ کھڑا دانت پیس کر بولا تھا۔

کنگ راج کے غصے کو ہوا مت دیں کنگ ویام،، اینچینٹرس نے اسے باز رکھنا چاہا۔

بھاڑ میں جائے کنگ راج اور اس کا غصہ،، مجھے میری کوئین چاہیے ہر قیمت پر اینچینٹرس،،

کنگ ویام،، دونوں ڈریگن پرنسز کا نصیب ان کی قسمت پہلے سے ہی اوشن کے شہزادوں سے جڑی ہیں،، وہ اوشن پرنسز کی ہے،، اور میں کرسٹل باؤل میں دیکھ چکی ہوں وہ جلد ملنے والے ہیں ایک دوسرے سے،، مطلب جلد ان کی شادی ہونے والی ہے،،

اینچینٹرس،، شادی پر شادی نہیں ہوا کرتی،، وہ یہ سب سن کر غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔ دماغ کی رگیں پھول چکیں تھیں۔ اور آنکھوں سے شعلے لپکنے لگے تھے۔

کنگ ویام یہ قسمت ہے اس کی،، آپ قسمت سے نہیں لڑ سکتے،، اوشن پرنس کے اسے شادی کا لاکٹ پہناتے ہی فیری ٹوپیا رنگ اپنی حثیت اور پاورز کھو دے گی،، پھر وہ بس اس زہر کا توڑ ہوگی اس سے زیادہ اور کچھ نہیں،،
اینچینٹرس نے سنجیدگی سے کہا تھا مگر کنگ ویام کا دل کیا پوری فیری ٹوپیا کو آگ لگا دے۔

اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے اینچینٹرس کہ میں ایسا ہونے دوں گا،، اس کے اور اس کی قسمت کے بیچ کنگ ویام کھڑا ہے،، اگر یہ اسے پانے کی جنگ، لڑائی اور ضد ہے تو ایسا ہی سہی،، میں تو فیری ٹوپیا کی کوئین کی پرچھائیں پر کسی کا سایہ نا پڑنے دوں،، یہ لوگ کن خوش فہمیوں میں جی رہے ہیں،،

وہ چیخ رہا تھا چلا رہا تھا۔ جانے کیا ہوا تھا ایسا کہ وہ یوں جیتا جاگتا آگ کا گولہ بن چکا تھا۔ نا اپنے لہجے پر قابو تھا نا غم وغصے پر کنٹرول۔ تبھی وہ پیچھے مڑ کر اور کچھ بھی سنے بغیر ڈریگن لینڈ کی جانب اڑا تھا۔
اینچینٹرس بہت زیادہ پریشان ہوئیں تھیں۔
جانے کیا قہر نازل ہونے والا تھا۔
جانے کیا قیامت آنے والی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

صبح جیک کی آنکھ کھلی تھی۔ مندی مندی آنکھوں سے خود کو فرش پر بیٹھے دیکھا تھا۔ جب کچھ دیر تک مکمل حواس لوٹے تو سر اٹھا کر دیکھا۔ حیرت سے آنکھیں پھیل چکیں تھیں۔

وہ بلیک نائیٹ ڈریس میں صوفے کی پشت پر ایک جانب لڑھکی ہوئی گہری نیند میں تھی۔ جیک نے کنپٹیاں سہلائیں۔ اور رات کی تمام کاروائیاں یاد آتی چلیں گئیں۔
افففففففففففففف،،، شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا۔ دل بیٹھنے لگا۔

رنجووووو،، جیک نے اس کا کندھا ہلایا۔ جلد ہی وہ گہری نیند سے جاگی۔ پھر جیک کے کمرے میں اپنی موجودگی پر جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی تھی۔ جیک نے اپنا سر پکڑا۔
آئم رئیلی سوری رنجووو،، آئم ڑئیلی رئیلی سوری میں تمھیں بتا نہیں سکتا میں کتنا شرمندہ ہوں،، آئی سوئیر،، میں نشے میں تھا اور

اٹس اوکے،، رنجو نے کہا تو اس کی چلتی زبان کو بریک لگی۔ وہ جانتی تھی وہ کتنی تکلیف میں تھا۔ اور سب سے بڑی بات اس محبت کے مارے شخص نے تو اتنے نشے میں دھت ہونے کے باوجود اپنے ڈگمگاتے قدم رات بہکنے سے پوری طرح روک لیے تھے۔

وہ فورا جیک کے کمرے سے نکلی تھی۔ سامنے ہی جیک کی ماں بہنوں نے اسے حیرت سے اس حلیے میں جیک کے کمرے سے نکلتے دیکھا۔ رنجنا کا خواہ مخواہ ہی دل کیا ڈوب مرے۔ تبھی اپنے روم میں بند ہو کر لاک لگایا تھا۔

رنجوووو،، وہ اپنے کمرے سے نکلا۔ سامنے اپنی ماں بہنوں کو دیکھا جو اب اسے حیرت اور معنی خیزی سے دیکھ رہیں تھیں کہ ان کے نزدیک یہ بہت معمولی سی تو بات تھی۔
واٹ،،، کچھ نہیں ہوا ہے یہاں،، وہ خواہ مخواہ انگلش میں پھنکارا۔

اس نے رنجنا کے دروازے پر دستک دی تھی۔ مگر اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔
جب کھولا تو وہ فریش سی بیڈ پر اپنے لگیج میں سامان پیک کر رہی تھی۔ شاید نہا کر نکلی تھی۔ اور اب بلو رنگ ساڑھی میں اپنا سامان الماری سے نکال رہی تھی۔ جیک چہرے پر خطرناک قسم کی سنجیدگی طاری کیے اندر اس کے سر پر پہنچا تھا۔
کہاں جا رہی ہو،،؟
انڈیا،،، ایک لفظی جواب تھا جیک کو حیرت ہوئی۔

ان رشتے داروں کے پاس جو تم دونوں بہنوں کی پراپرٹی ہڑپنے کے چکروں میں تم دونوں پر مرڈر اٹیک تک کروا چکے ہیں اور تمھارے چچا کا وہ جواری بیٹا تم دونوں پہ ریپ اٹیمپ بھی کر چکا ہے،،
جیک کا لہجہ بہت کڑوا تھا۔ مگر رنجنا برداشت کر گئی۔

جی،،، اب بھی ایک لفظی جوا تھا۔
کیوں،، جیک نے پوچھنا ضروری سمجھا۔

آپ کو اس تکلیف سے نکالنے کے لئے میرا یہاں سے جانا بہت ضروری ہے،، جب تک میں یہان رہوں گی یہ شکل دیکھ آپ کبھی اسے بھول نہیں پائیں گے،، میرا چہرہ آپ کو اس کی یاد دلاتا رہے گا،، تبھی آپ کو اس تکلیف سے نکالنا چاہتی ہوں،، وہ سکون سے بولی ۔ سامان پیک کر چکی۔ اور بیگ گھسیٹتی باہر آئی۔

مگر جیک اس تک آیا تھا ۔ اس کے ہاتھ سے لگیج چھینا۔
چلو تمھیں ائیر پورٹ چھوڑ کر آؤں،،، جیک نے جتنے غصے میں اسے دانت پیس کر کہا تھا۔ رنجنا کو جھرجھری سی آئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️