Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا بیڈ پر گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی تھی۔ پھر خیال آیا اب تک یہاں سے نکلنے کی کوشش کیوں نہیں کی اس نے۔ ان پہرے داروں اور خدمتگاروں کا تو حال وہ دیکھ ہی چکی تھی۔ اس کی ایک چیخ پہ جو ڈھیر ہو جاتے تھے۔

وہ چہرے سے آنسو صاف کرتی اٹھی۔ رات سے دن اور پھر دن سے دوبارہ رات ہو چکی تھی۔ اسے یہاں آئے چوبیس گھنٹے ہو چلے تھے۔ مگر اب تک اس نے ایک نوالہ حلق سے نیچے نہیں اتارا تھا۔

وہ اپنے کمرے میں بیٹھا سرخ آنکھیں لیے اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔ اپنی خدمتگاروں کا حال بھی، مگر یہ بات باعث تقویت تھی کہ اس کا یہ تڑپنا مچلنا اس کا باپ دیکھ رہا ہوگا۔ اسی لئے وہ اس کی عقل ٹھکانے لگانے اس روم میں نہیں گیا تھا۔ مگر اب وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ویام بھی بلیک ہڈ پہنے اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں سرخ رنگ کاڑھا تھا۔ جو اسے فیری گارڈین ایمی نے دی تھی اس کی چیخوں کا علاج بتا کر۔

ماہا ویرا دروازہ کھولتی چلی گئی تھی۔ باہر نکلی۔اوپر ایک اور کمرا تھا۔ اب کسی بھی طرح اس کمرے سے باہر نکلنا تھا۔ عجیب بھیانک سا ماحول تھا۔ وہ جلدی سے کھڑکی کھول کر باہر لان میں کودی۔ مگر باہر کود کر اپنے ہی منہ پر دونوں ہاتھ جما کر اپنی چیخوں کا گلا گھونٹنا پڑا تھا۔
کیونکہ وہ جو کوئی بھی انتہائی بھیانک مخلوق تھی کم از کم انسان نہیں تھی۔ عجیب سیاہ لباس میں وہ پیروں کے بغیر ادھر سے ادھر اڑتے پھر رہے تھے اور چہروں کی جگہ ڈھانچے تھے۔

وہ بہت بری طرح خوفزدہ ہوئی تھی۔ چھپتی چھپاتی لان کے گھنے درختوں سے گرین زون پہنچی جہاں بڑے بڑے گملے ایک خاص ترتیب سے رکھ کر ان کی رو بنائی گئیں تھیں۔ وہ ایک رو میں داخل ہو کر پودے کے پیچھے چھپی تھی۔ یوں محسوس بھی ہو رہا تھا کہ جیسے پیچھے کوئی ہے کوئی آہٹ بھی محسوس ہوئی تھی۔

اب مین گیٹ سامنے تھا۔اس طرف کافی اندھیرا تھا اور اس کی دانست میں جس سے وہ کسی کو دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
وہ اٹھی اور تیزی سے بھاگنے کو تھی۔ جب کسی کی وحشیانہ سی گرفت میں پھنسی۔ اس نے ماہا ویرا کو دونوں بازوؤں سے جکڑ کر درخت سے لگایا تھا۔ اور پھر اس کا گلہ دبوچا۔ ماہا ویرا نے سامنے دیکھا تو ایک مرتبہ پھر خوف سے جھرجھری سی آئی وہی سیاہ سرخ آنکھوں والا ہیولہ بلکل اس کے سامنے تھا۔ اور اس کی تیز سانسوں کی زیروبم سے ماہا ویر کا چہرہ جھلس رہا تھا۔

پرنسز کیوں وقت سے پہلے ہی مرنا چاہتی ہو،، کیوں نکلی اس کمرے سے،، کیوں بھاگیں،، وہ گردن پر دباؤ بڑھاتا بولا۔ ماہا ویرا بہت بری طرح تڑپی۔
اب وہ کچھ اور تو کر نہیں سکتی تھی۔ تبھی چیخنے کو منہ کھولا۔ مگر پرنس ویام نے اتنی ہی تیزی سے اس شیشی کا ڈھکن کھول کر وہ کاڑھا ماہا ویرا کے گلے میں انڈیلا تھا۔ اور اپنی گرفت سے اسے آزاد کر دیا۔ اب تماشا جو دیکھنے کی باری تھی۔

ماہا ویرا کو لگا اس کے گلے میں جیسے تیزاب انڈیل گیا تھا۔ تبھی وہ بری طرح تڑپتی کھانستی گلا پکڑ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔ ماہا ویرا کو سانس نہیں آ رہی تھی۔ آنکھوں میں سے مسلسل پانی بہہ رہا تھا اور اب چہرہ نیلا پڑ چکا تھا۔

ویام اس کا نیلا چہرہ دیکھ کر اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
ہیے کیا ہو رہا ہے تمھیں،، وہ اس کی تشویشناک حالت سے روح تک کانپا تھا۔ اس کی دانست میں اس نے ماہا ویرا کو کچھ ایسا ہر گز نہیں پلایا تھا کہ وہ اس طرح دھیرے دھیرے مرتی۔ پرنس ویام نے وہ شیشی سونگھی اور چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔ وہ فیری ٹوپیا کا چاقتور ترین جادوئی زہر تھا۔

ایک خون کی قہہ کی تھی ماہا ویرا نے اور نیم جان ہو کر سر ایک جانب ڈھلک گیا۔ ویام نے اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھا تھا۔
محافظوں شاہی وید کو بلاؤ،،،،،، وہ دھاڑا۔ کنگ ویام کے غم وغصے کی انتہا نہیں رہی تھی۔ اسے اپنا دل سورج کی طرح گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔ اس انتقام کے چکر میں کیا وہ بھی ایک قاتل بن جائے گا یا اس کے ہاتھ ایک معصوم جان کے خون سے رنگے جائیں گے۔

ڈارک ہاؤس میں ایک ہلچل سی مچی اٹھی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

یہ اتوار سے اگلا دن تھا۔ مایا وش اپنے کمرے میں تیار ہوتی مسلسل اس نقاب پوش کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ “اس نے یوں کیوں کہا تھا کہ وہ میرے ہی وجود کا حصہ ہے۔”
اففففففف سوچ سوچ کر پاگل ہو جاؤ گی مایا وش،، وہ جھنجھلاتی آج پھر اپنا ڈزنی تھیم کا لباس اٹھاتی واش روم گئی۔ کیونکہ آج کالج میں سپرنگ فیسٹیول تھا۔ مختلف کالجز کے لوگوں نے ان کے کالج آ کر آپس میں ٹیلنٹ کا مقابلہ کرنا تھا۔ جس میں سنگنگ، ڈانسنگ شامل تھے۔

باتھ لیتے آئینے میں اس کی نگاہ اپنے گلے میں بڑی شان سے دمکتے اس عجیب و غریب قسم کے لاکٹ پر پڑی تھی۔ ایک انچ لمبے چوڑے لاکٹ کی شیپ انسانی شکل میں ایسی تھی کہ وہ دھڑ سے آدھا مرمیڈ اور آدھا ڈریگن تھا اور وہ آپس میں یوں جڑے تھے کہ ان کو الگ کرنا تقریباً ناممکن تھا۔
مایا وش نے اس عجیب سے لاکٹ کو اتارنے کی کوشش کی یہ جانے بغیر کہ جس نے وہ پہنایا ہے اب تو وہی اسے بس نکال سکتا ہے اس کی گردن سے باقی دنیا کی کوئی طاقت اسے اس کی گردن سے الگ نہیں کر سکتی ہے۔ مایا وش نے ہک کھولنے کی کوشش کی مگر بےسود وہ نا گردن سے نکل رہا تھا نا کسی صورت ہک کھل رہی تھی۔
افففففففففففففف بھاڑ میں جاؤ،،
وہ جھنجھلا کر کہتی لباس زیب تن کیے باہر آ گئی۔

باہر آئی تو ٹھٹھک کر رکی سامنے ہی کائلہ کھڑی اسے دیکھ خباثت سے مسکرا رہی تھی۔ مطلب اس کی پھر شامت تھی۔
مایا وش،، آج آخری مرتبہ بول رہی ہوں،، سنجنا کو اپنے ساتھ لانا ہے یا نہیں،،،اب سب کچھ جان ہی گئی ہو تو سنو کل والی بلی سے میری طاقتیں بحال ہوئی ہیں،، مگر آقا کو خوش کرنا باقی ہے،، آج اگر تم اسے ساتھ نا لائیں پھر بھی وہ خود یہاں چلی آئے گی مرنے کے لیے اسی لئے بہتر یہی ہے کہ تم ادے ساتھ لا کر میرا حکم بجا لاؤ،، اور مجھے خوش کر دو،،
کائلہ نے اپنا مکرہ پلان بتایا تھا۔

ایسا کبھی نہیں ہو گا کائلہ وہ میری دوست ہے، اور اب میں کسی معصوم کی جان سے نہیں کھیلنے دوں گی تمھیں اور تمھارے اس شیطان آقا کو،،
جانے کہاں سے آئی تھی اس میں اتنی ہمت کہ وہ پھنکاری تھی۔ مگر کائلہ کو اس کی اتنی ہمت پسند نہیں آئی تھی۔ تبھی آنکھوں میں مکروہ ترین شیطانی عزائم لیے اس نے اپنے ہاتھوں کے درمیان پھر سے وہی آگ کا گولہ بنایا تھا۔ مایا وش سہمی اور دو تین قدم پیچھے لیے۔
کائلہ نے وہ گولہ مایا وش کے چہرے کی جانب اچھالا تھا۔ مایا وش نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کے سامنے کراس بنایا تب ہوا میں روشنی کا جھماکا سا ہوا اس کا ٹیٹو روشن ہوا اور مایا وش کے دائیں ہاتھ ایک طلسماتی تلوار آئی۔

وہ گولہ اس تلوار سے ٹکرا کر واپس آ کر کائلہ کو ہی بجا تھا جب وہ تکلیف سے چنگھاڑی۔
مایا وش نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں وہ تلوار دیکھی۔ اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا تو وہ غائب ہو گئی پھر سے سامنے کیا تو وہ ہاتھ میں آ گئی۔ مایا وش تیار تو تھی ہی جلدی سے تڑپتی کائلہ کو نظر انداز کرتی سیاہ اپر کے اوپر سیاہ نقاب میں وہ گھر سے باہر نکلی۔ جہاں ہمیشہ کی طرح گاڑی تیار کھڑی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش گاڑی سے اتر کر تیزی سے کالج میں داخل ہوئی تھی۔ تمام راستے وہ اپنی تلوار سے پریکٹس کرتی آئی تھی۔ وہ اس کی مرضی سے اس کے ہتھ میں آ جاتی اور اس کی مرضی سے غائب ہو جاتی۔ اسے خود میں پاورز آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اب زمین پہ چلتی چیونٹی کی بھی بات سن پا رہی تھی۔

فضا میں اڑتے پرندوں کی چہچہاہٹ میں چھپی باتیں بھی سمجھ پا رہی تھی۔ یہ سب کیسے ہوا اسے نہیں معلوم تھا۔
وہ تیزی سے کوریڈور سے گزر کر سنجنا تک پہنچ جانا چاہتی تھی جانتی ھو تھی کہ وہ اور رنجنا اپنا ثقافتی ڈانس کتھک پیش کرنے والی تھیں۔ اور اس وقت میک اپ روم میں ہوں گی۔ کہ سامنے سے آتے کسی شخص سے ٹکرائی۔
عائش جو کہ اپنی دھن میں مگن باہر جیک کی تلاش میں آ رہا تھا۔ اس نقاب والی لڑکی سے ٹکرایا تو سلیولیس ٹی شرٹ میں اس کا ٹیٹو جگمگایا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ مگر پھر۔

یو سٹوپڈ گرل،، تم نے ابھی تک یہ اپنے پیروں میں بندھی چین نہیں اتاریں،، اتارتی ہو یا اٹھا کر کالج سے باہر پھینکوں،،،،،

وہ اپنے ساتھ ہونے والے ان عجیب واقعات سے بری طرح جھنجھلا رہا جو لوٹ پھیر کر اسے اس کی اصلیت کی یاد دلاتے تھے تبھی اب کھڑا مایا وش کو بری طرح گھور رہا تھا اور وہاں کھڑے ایک شخص کا دل کیا وہ اگر اس کا بھائی نا ہوتا تو ابھی اس کی یہ آنکھیں نکال باہر کرتا۔

سنو تمھیں میری یہ چینز دکھائی دیتی ہیں اور سنائی بھی دیتی ہیں تو تم میری ہیلپ کر سکتے ہو،، میں کسی کی قید میں ہوں تم اس سے مجھے آزاد کرانے کے لئے میری ہیلپ کرو گے،؟ مایا وش جو اب اس سب سے تنگ آ چکی تھی تبھی اسے پوچھ بیٹھی تھی مگر سامنے بھی عائش تھا۔
ٹھیک ہے پر اس سے مجھے کیا ملے گا،؟ وہ آئبرو اچکا کر بولا۔
کیا چاہیے تمھیں،،؟ مایا وش پوچھ بیٹھی۔
تم میرے ساتھ ایک رات کے لئے ڈیٹ پر چلو گی پھر،، عائش کا اطمینان قابل دید تھا۔

مایا وش کا ہاتھ گھوما تھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ عائش کے چہرے پر رسید ہو گیا۔ وہ ڈھیٹ بنا اطمینان سے وہیں کھڑا رہا جانتا جو تھا اس کی اس بکواس سے وہ کبھی اس کی شکل تک نہیں دیکھے گی ہیلپ مانگنا تو دور کی بات ہے۔ کیونکہ اسے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا اس ہیلپ ویلپ میں جبکہ وہ پیر پٹختی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔

قریب کھڑا آبدار عائش کی اس بات سے سر تا پا جھلسا تھا۔ اسے تو کچھ بولنا فضول تھا کہ وہ تھا ہی ایسا اور کسی بات کا اثر زرا کم ہی لیتا تھا۔ مگر اب اپنی کوئین کا دماغ ٹھکانے لگانا از حد ضروری تھا کہ وہ کیوں اپنے کنگ کو چھوڑ کر دوسروں سے ہیلپ مانگتی پھر رہی تھی۔ فنکشن کب کا سٹارٹ ہو چکا تھا۔
مایا وش سنجنا کی تلاش میں لابی کی جانب گئی۔

آڈیٹوریم میں سنجنا اور رنجنا اپسرا اور کریڈل فیوزن میوزک پر شاندار ڈانس پرفامینس دینے والی تھیں۔
میوزک سٹارٹ ہوا۔ اتنا پاورفل میوزک سسٹم تھا کہ پورے کالج میں میوزک گونج رہا تھا۔

وہ گھبرائی ہوئی سی آڈیٹوریم کی لابی میں آئی تھی۔ اسے ہر حال میں سنجنا کو بچانا تھا۔
ڈزنی تھیم کے مطابق سیاہ پاؤں تک باربی فراک، سیاہ اپر، سیاہ نقاب کے اوپر سیاہ باریک جالی،، وہ تقریباً بھاگتی لابی سے گزر رہی تھی جب بے تحاشا ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔ اس کی پاورز سے مخالف پاورز ٹکرائی تھیں۔ اب تو اسے محسوس بھی ہو چلا تھا۔
سامنے نگاہ اٹھی تو وہ زندگی میں آج تیسری مرتبہ اتنا خوفزدہ ہوئی تھی۔

پچھلی مرتبہ کی طرح سیاہ لباس میں سیاہ نقاب لگائے وہ پراسرار طاقتوں والا پراسرار نیلی آنکھوں والا نقاب پوش کمر پر ہاتھ باندھے اسے بغور دیکھنے میں مصروف تھے۔ جیسے کہنا چاہتا تھا۔

I can see you from behind
U can hear me in your mind
Run so fast as you can go
Time will catch you before you know

مایا وش نے اپنے قدم بے اختیار پیچھے لیے تھے۔ مگر اسے اپنے کانوں میں ایک بھاری سرگرشی سننے کو ملی تھی۔
I will catch you,,,,,,,,,,,

وہ پیچھے مڑ کر اندھا دھند لابی میں بھاگی تھی۔

سامنے ہی وہ خود کو اوشن کنگ کہنے والا نقاب کے پیچھے مسکراتا پانی میں تحلیل ہوا تھا۔ اور وہ پانی سمندروں کی لہروں کی طرح لابی سے طوفان بن کر گزرا تھا۔

مایا وش کو لابی ختم ہوتے ہی سامنے فورتھ ائیر کا کلاس روم نظر آیا۔ وہ اندر گھس کر لاک لگا چکی تھی۔ اور دروازے سے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔ کیونکہ دروازے کے نیچے سے ڈھیر سارا پانی اندر داخل ہو رہا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی اس نقاب پوش میں بدل گیا۔
اب جب سامنے والے نے اپنی پاورز اسے شو کروا دیں تھیں تو مایا وش کو بھی کوئی جھجھک نہیں تھی۔ اس نے اپنا بایاں ہاتھ نیچے کر کے ہوا میں لہرایا تو تیز روشنی کے بعد اس کے ہاتھ میں اس کی تلوار آئی تھی۔ سامنے والا گہرا مسکرایا۔
ہے یو،، کیا چاہیے،، مایا وش غرائی تھی۔
اونلی یو، مائی اوشن کوئین،، اطمینان بھرا جواب آیا۔
واٹ،، وہ پھر چلائی۔
وہ بعد میں، فی الحال دو وشز لے کر حاضر ہوا ہے یہ اوشن مرمیڈ کنگ،، ایک تو اپنی کوئین کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں دوسرا آپ کو چھو کر فیل کرنا چاہتا ہوں،، پھر انتہائی سکون سے بولا گیا۔

بےموت مارے جاؤ گے،، وہ لفظ چبا کر بولی تھی۔ تلوار ہوا میں ماہرانہ انداز میں لہرا کر اس چیلنج کیا۔
یہ موت آپ کے ہاتھوں سے آپ کی بانہوں میں آئی تو ہزار بار مرنے کو تیار ہے یہ کنگ،، اب اس نے بھی اپنا ہاتھ ہوا میں کوئی چیز پکڑنے کو آگے بڑھایا تو ایک تلوار اس کے ہاتھ میں آئی۔
کم آن، کوئین، قریب آؤ،، اسے ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایا۔ مایا وش غصے سے پاگل ہوئی تھی۔ تبھی تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔

مایا وش کا پہلا وار اس نے اپنی تلوار پر روکا تھا۔ بجلی کی سی تیزی سے اس کی دوسری کلائی تھام کر اسے دو مرتبہ گول گول گھمایا تھا۔ تلوار اس کے اپر میں پھنسا کر ایک جھٹکے سے کھینچا تھا۔ اپر کے بائیں بازو سے چھیتھڑے ہوا میں اڑے تھے۔ مایا وش صدمے سے پاگل ہوئی۔ اور اپنے برہنہ بازو کو دیکھا۔
جب کے وہ یہ کارنامہ سرانجام دے کر نقاب کے پیچھے پھر مسکرایا تھا۔ میوزک کی آواز اب بھی آ رہی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے ان جادوئی دھنوں پر وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈانس کے مووز کروا رہا تھا۔
جب وہ قریب آئی تھی تو اس نے گہری سانس کھینچ کر وہ دلفریب خوشبو اپنی دھڑکنوں میں بسائی جو دنیا کے گلابوں عطروں کو مات دے رہی تھی۔
یو،،، وہ پھر مڑ کر پلٹ وار کرنا چاہتی تھی۔ جب سامنے والے نے تیزی سے اس کی تلوار والی کلائی تھام لی۔ اسی کی تلوار اسی کے بائیں بازو میں پھنسا کر ایک جھٹکے سے کھنچا وہ گھوم کر دور ہٹی مگر اب پورا اپر فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر چکا تھا۔
مایا وش پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے بازو دیکھے گئ۔ اب پھر شدید غصے میں اس نے وار کیا تھا۔ دو تین وار اس نے تلوار پر روکے پھر مایا وش کی تلوار والی کلائی پکڑ کر اس کی پیٹھ جھٹکے سے اپنے سینے سے لگائی۔ اب کی بار تلوار سے وہ بیچ میں موجود کالی جالی دور اچھالی تھی۔ اور جالی کے ساتھ اس کے سنہری بال کھل کر اوشن کنگ کے چہرے پر گرے۔
اب بس مایا وش کے چہرے پر نقاب باقی تھا۔ اپر کے نیچے سلیولیس ڈریس تھا بازو کی کالی ڈوریاں کندھوں پر بندھی ہوئیں تھیں۔
مایا وش بری طرح پھڑپھڑائی۔ مگر اسے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی چیز اس کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ زرا سا سر جھکا کر دیکھا تو جیسے آکٹوپس کے tentacles اس کے گرد لپٹے ہوئے تھے۔ اسے پھر اس شخص سے خوف محسوس ہوا ۔ جو آنکھیں نیم وا کیے مدہوشی کے عالم میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے ملائم بازوؤں کی نرماہیٹں محسوس کر رہا تھا۔ اور ایسی گستاخی کوئی پہلی مرتبہ اس کے ساتھ کر رہا تھا۔ مایا وش کا سنہرا جسم اس کی بانہوں میں سونے کی طرح دمک رہا تھا۔
کیا ہیں آپ،، آسمان سے اتری کوئی اپسرا،
اگر چاندنی ہیں تو وہ چاندنی جو اپنے پورے جوبن پر ہے،، اگر گلاب کا پھول تو پورا کھلا نہیں ہے یہ مگر اس کی خوشبو اس کنگ کو پاگل کر دینے والی ہے،، صدیاں گزر گئیں آپ کے انتظار میں، اب ملی ہیں تو سوچیں کوئین، اس کنگ کی محبت کی آغاز ہی انتہاؤں کو چھونے والا ہوگا،،
یہ جان لیوا سرگوشیاں مایا وش کی جان نکالے دے رہیں تھیں۔
وہ بری طرح مچلی کیونکہ بازوؤں سے ڈوریاں وہ کندھوں سے نیچے سرکا رہا تھا۔
کوئین،، یو نو واٹ یہ کنگ خود پر سے کنٹرول کھو رہا ہے، اور آپ کی قسم یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے،،
اس قدر بھاری بوجھل لہجہ تھا کہ مایا وشہ کی جان لبوں پر آئی تھی۔
کک،، کون، ہو تم دور رہو مجھ سے، دردناک موت مارے جاؤ گے نہیں تو،، وہ چلائی
اس نے مایا وشہ کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا تھا۔
آپ شاید نہیں جانتی کوئین، آپ کو اس کنگ کے لئے بنایا گیا ہے،، تو بہتر یہی ہے اس عائش کو خود سے کوسوں دور ہی رکھئیے گا،، نہیں تو وہ میرے ہاتھوں ضرور مارا جائے گا،، سامنے والے نے سرسراتے لہجے میں کہا تو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کی پراسرار نیلی آنکھوں میں دیکھے گئی۔

ایک ان دیکھی طاقت نے مایا وشہ کو وہیں جیسے پتھر کا بنا دیا تھا۔ اس کا کمر سے نیچے کا دھڑ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا اور ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کا نقاب کھول کر ہٹا دیا۔
وہ کافی دیر اس کے چہرے کا ایک ایک نقش حفظ کرتا رہا تھا۔ اگر دنیا پر حسن کی کوئی مورت تھی تو وہ ابھی اس کے سامنے اس کی کوئین کی شکل میں کھڑی تھی۔ وہ قریب تر آیا مایا وشہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور رکھنے کی سعی کی۔

مگر اوشن کنگ نے اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں اس کا چہرہ بھرا تھا مایا وش نے اس کے بازو جکڑے ۔ تب مایا وش کی کلائیوں کے گرد کوئی نرم سی چیز لپٹی اور بازو پیچھے اس کی پشت پر باندھ دئیے گئے۔ وہ بری طرح کسمسائی۔ مگر کنگ کے ایک اشارے پر روم میں اندھیرا چھایا تھا۔ جو ہونے جا رہا تھا مایا وشہ نے بہت زور سے آنکھیں بند کیں تھیں۔ اگر اس کی آنکھیں کھلیں ہوتیں تو وہ دیکھ پاتی ان دونوں کے سینوں پر موجود ٹیٹوز کی روشنی پورے کمرے میں پھیل چکی ہے۔ وہ لاکٹ بھی جگمگا رہا تھا۔

اس ملگجے اندھیرے میں اوشن کنگ کا نقاب بھی سرکا تھا۔ تب مدہوش ہوتے اس نے اپنے ہونٹ اس حسن کی مورت کے ہونٹوں پر رکھے تھے۔ اور ان کی نرماہٹیں اپنی روح میں بسانے لگا۔
وہ جو بھی کر رہا تھا بڑے حق سے کر رہا تھا۔ جیسے صدیوں سے مایا وش صرف اور صرف اس کی ہو۔ اور یہی تو حقیقت تھی۔ جس سے اس کی کوئین انجان تھی۔

وہ اسے یہی تو باور کروانے آیا تھا۔ اس کی شدتیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ مایا وشہ کو لگا وہ آج اس کی سانسیں چھین لے گا اس سے۔
اور اس کی نازک جان کوئین اس کی اتنی سی بھی شدت برداشت نہیں کر پائی تھی۔ اپنے ہوش کھو کر اس کے دائیں کندھے پر ڈھلک گئی۔
اس نے نرمی سے اسے آزادی بخشی تھی۔ اور بہت گہرا مسکرایا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️