Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش نے سہم کر ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی اسے اپنے بے حد قریب محسوس ہوا تھا۔ تبھی اسے سنجنا کی آواز سنائی دی۔

مایا،،،،، وش،،،،،، وش،،،،، وئیر آر یو،،،
سن،،،،،، سنجنا،،،میں ادھر ہوں،،،، مایا وش نے زور دار آواز میں اسے پکارا۔ ویٹریس نے سنجنا کو بتا دیا تھا کہ اس کی دوست کے کپڑوں پر ڈرنک گر گئی ہے اور وہ واش کرنے کہاں گئی ہے؟ رستہ بھی بتایا۔ تبھی وہ اس کے پیچھے یہاں تک چلی آئی تھی۔
وش،، یہ کیا پاگل،،، بھیگ کیوں رہی ہو،، سنجنا نے اسے شاور کے نیچے جمے دیکھ اپنی جانب کھینچا۔ وہ بری طرح سہمی سی اس سے لپٹی تھی۔
سن،،، جنا،،، یہاں،،، کک،، کوئی،،، تھا،،، کوئی،،، ہے مم،، میں نے ابھی،،، ابھی دیکھا تھا،، محسوس کیا تھا،،

جبکہ وہاں کھڑے ایک شخص کو یہ نظارا ناگوار سا گزرا تھا کہ ایک تو وہ اپنی کوئین کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا اوپر سے اس کی کوئین اس کے علاوہ اب تو مخالف سمت سے آتی ہوا کے نا گلے لگے یہ تو جیتی جاگتی انسان تھی۔

ریلیکس مایا وش،، کوئی بھی تو نہیں ہے یہاں،، وہاں کھڑا آبدار مایا وش کے نام پر بری طرح چونکا تھا۔
افففف اس کی ہونے والی کوئین کا نام مایا وش ہی تو تھا جسے وہ ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ وہ تو یہ تب ہی دیکھ چکا تھا جب اسے اپنی حقیقت معلوم ہوئی تھی کہ اس کی کوئین کا نام مایا وش ہوگا۔ وہ کتنی بڑی لاپرواہی کر چکا تھا اگر اسے اس میں کشش محسوس ہو ہی رہی تھی تو سب سے پہلے اسے کالج سے اس کا نام پتا کرنا چاہئے تھا۔
آبدار اب پھر مایا وش کی پشت کے بہت قریب آ کر کھڑا ہوا تھا۔ مایا وش کو پھر پچھلی گردن پر سانسوں کی تپش محسوس ہوئی تو وہ مزید سنجنا کے قریب ہوئی۔
نہیں مجھے فیل ہوا کوئی ہے،، ا،،،،، اب بھی ہو رہا ہے،،، مایا وش کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں۔
جبکہ کوئی گہرا مسکرایا تھا۔ سر تا پا ایک مرتبہ پھر اس نازک بھیگی جان کو بغور ملاحظہ کیا۔
چہرہ دیکھے بغیر بھی وہ بے تحاشا پیاری لگ رہی تھی۔ اس کا وجود ، روح سے اس کنگ کا تھا۔ دل میں کھینچ ہڑ رہی تھی۔ جو گستاخ ہوا جا رہا تھا یوں اکسا رہا تھا جیسے ابھی اسے بانہوں میں بھر لے۔

پیروں میں وہ چین اب بھی یونہی بندھی تھی۔ لیکن اب وہ اطمینان سے کھڑا تھا۔ جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے۔ اور اس کی کوئین کو تکلیف پہنچانے والے کو ایسی موت دینی ہے جسے اس کی سات نسلیں یاد رکھیں گی اگر اس کی نسل بچی تو۔

چلو چلتے ہیں یہاں سے،، ریلیکس ہو جاؤ مایا وش،، سنجنا اسے وہاں سے لے کر نکلی اور باہر لان میں پول کے قریب چلی آئی۔ اسے بٹھایا ۔ پانی پلایا۔ مایا وش کچھ ریلیکس ہوئی۔ جانے کیسے مگر بھیگے کپڑے بھی بہت تیزی سے سوکھ چکے تھے۔۔

سنجنا میں ٹھیک ہوں تم اندر جا سکتی ہو،، اندر سے تیز ترین میوزک کی آواز سنائی دی تو مایا وش نے نارمل انداز میں اسے کہا۔ حالانکہ اسے اب بھی یہی لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ پھر دل میں خیال آیا کیا پتہ وہ کائلہ کے چیلے ہیں۔ مسلسل اپنے وجود کی نگاہوں کی جھلسا سینے والی تپش میں محسوس کر رہی تھی۔۔
نہیں میں اندر نہیں جاؤں گی اندر وہ گورا ہے کمینہ،، اس نے دانت پیس کر کہا۔ کل والی حرکت پھر یاد آ گئی۔
ابھی بھی اس کی محبت میں کوئی شک نظر آتا ہے تمھیں سنجنا افسوس کی بات ہے، کل اس نے اپنی جان پہ کھیل کر تمھاری جان بچائی،، مایا وش نے دھیمے لہجے میں اسے سمجھایا۔
نہیں،، وہ بات نہیں،، اب تو میں بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی وہ مجھ سے کرتا ہے،، وہ مسکرا کر بولی۔۔
تو،، مایا وش نے آئیبرو اچکائی۔ کسی نے یہ نظارا اپنے دل میں اتارا۔
تو،،،،،،،، تمھیں نہیں پتہ کل اس نے میرے ساتھ کیا کیا؟ سنجنا نے جھنجھلا کر کہا۔ اسی کی وجہ سے تو وہ اس سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ اس سے چھپتی پھر رہی تھی۔
کیا کیا؟ مایا وش پوچھ بیٹھی۔

He kissed me,,,,,,,,,
سنجنا نے اطمینان سے کہا مایا وش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
واٹ،،،،،،،،؟ شادی کے بغیر ہی،، سوال برجستہ تھا سنجنا قہقہہ گا کر ہنس پڑی۔ مایا وش نے اس کی کمر میں ایک مکہ رسید کیا۔
آؤچ،،،، ہم میں یہ سب کچھ چلتا ہے،، کیوٹی پائی،، وہ ایک آنکھ ونک کرتی مسٹنڈیوں کی طرح بولی تو مایا وش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
شعم تو نہیں آتی،، مایا وش سرخ ہوئی۔

اووو، یو بلشنگ،، تم تو جتنے پردوں میں رہتی ہو ایسا لگتا ہے شادی کے بعد بھی بیچارے اپنے دولہے کو یہ گاؤن تک نہیں چھونے دو گی مایا وش،، سنجنا نے بات کرتے چٹخارا بھرا۔ کوئی پاس کھڑا ان کی یہ باتیں خوب
انجوائے کر رہا تھا۔ جبکہ مایا وش نے اسے زور دار دھپ رسید کی۔
تمھاری یہ مار بھی یوں لگی مایا وش جیسے سجنا نے پھل ماریا،،،، وہ اپنا بازو سہلاتی بولی۔ اچھا چلو چلتے ہیں تمھارے گھر چلتے ہیں میں نے تھمارا گھر دیکھنا ہے مایا وش، خاص کر میں نے تمھیں دیکھنا ہے،، وہ مسکرا کر بولی۔ مگر مایا وش کو یوں لگا جیسے جلتے توے پر ہاتھ آ گیا ہو۔

سنجنا کو کھینچ کر اپنے روبرو کھڑا کیا تھا۔ میری بات غور سے سنو سنجنا،، کچھ بھی ہو جائے، کوئی کچھ بھی بولے تم میرے ساتھ ہمارے گھر نہیں آؤ گی،، سمجھیں،، اس نے غرا کر کہا تھا۔ آج اسے کسی کا ڈر نہیں تھا ۔ کائلہ کے چیلوں کا بھی نہیں تبھی اسے دھڑلے سے بے خوف ہو کر کہا تھا۔
قریب کھڑا آب اس کی باتیں بغور سن رہا تھا اور آبزرور بھی کر رہا تھا۔
کیوں مایا وش،، آخر،،
کیونکہ میں بول رہی ہوں اس لئے،،
نہیں میں تمھاری دوست ہوں مجھے تم سچائی بتاؤ گی،، سنجنا کا لہجہ ضدی تھا۔

وہ کائلہ وہ اچھی عورت نہیں ہے، تم اگر ہمارے گھر آئیں تو وہ تمھیں مار ڈالے گی،، میں اس کی قید میں ہوں،، اس سے زیادہ میں تمھیں کچھ نہیں بتا پاوں گی،، مایا وش کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔
اور یقیناََ اگر تم مجھے ساتھ نا لے کر گئیں تو وہ تمھیں سزا دے گی،، تمھارے جسم پر نشان ہوتے ہیں، میں نے ابھی واش روم میں دیکھا،، ہے ناں مایا وش،،

ہاں،، چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ چاہے مجھے کتنی بھی تکلیف پہنچائے،، مگر میں تمھیں ساتھ لے کر نہیں جاؤں گی،، مایا وش نے کہا۔

آبدار جو اب پول میں پانی میں تحلیل ہوا کھڑا تھا۔ بہت طیش و غیض وغضب کے عالم میں مایا وش کی جانب دیکھا۔ کتنی آسانی سے وہ بول گئی تھی کہ اسے کوئی جتنی مرضی تکلیف پہنچائے۔ یہ جانے بغیر کہ اس کی تکلیف سے کسی اور کو کتنی تکلیف ہوتی تھی۔

انھیں رنجنا بلانے آئی تھی۔ پارٹی اپنے اختتامی مراحل میں پہنچ چکی تھی۔ آب اور عائش نے کچھ دیر بعد کیک کاٹا تھا۔ دوپہر سے شام ڈھل چکی تھی پھر شاندار دعوت خاص کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔
پارٹی اختتام پزیر ہوئی تو مہمان رخصت ہونے لگے۔ جیک رنجنا اور مایا وش بھی سب سے مل کر رخصت ہوئے۔۔ مایا وش نے سنجنا کو جیک اور رنجنا کے ساتھ رخصت کر دیا تھا خود کیب کروا لی تھی۔۔
یہ جانے بغیر کے وہ لہروں کا بے تاج بادشاہ اب اس کے پیچھے ہے اس کے لئے پاگل اب وہ ایک پل کے لئے بھی اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

کچھ دنوں سے ماہا ویرا کے ساتھ بہت عجیب وغریب واقعات پیش آ رہے تھے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا کوئی اس کے پیچھے ہے اس کا تعاقب کر رہا ہے۔

کبھ آئینے میں اپنے عکس کا لباس کوئی اور نظر آتا۔ کبھی پروں کے پھڑپھڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ کبھی کوئی سایہ نظر آتا۔ اب وہ ڈری ڈری سہمی سہمی رہنے لگی تھی۔ اس نے خود پر بیتنے والی یہ صورتحال کسی کو نا بتائی تھی جانتی جو تھی سب اس کو لے کر کتنے حساس ہیں اسے بلکل روم میں قید کر کے رکھ دیں گے۔

یہ بھی انھیں عام راتوں میں ایک رات تھی جب وہ کسی بھیانک خواب کے زیرِ اثر پیاس کی شدت سے نیند سے بیدار ہوئی تھی۔

ویرا پسینے میں نہائی بیڈ سے اتر کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ آئینے میں وہ اپنے عکس کی بجائے آج بھی ہمیشہ کی طرح ایک عجیب و غریب نظارا دیکھ رہی تھی۔
How is it possible,,?

آئینے میں اس کے جسم پر اپنا میرون نائٹ گاؤن ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ ہمیشہ کی طرح وہی ہرے رنگ کا شاہی لباس تھا۔ مگر آج ایک عجیب بات تھی۔ آئینے میں اس کے پاؤں، ہاتھ اور کمر پر زنجیریں لپٹی ہوئیں تھیں۔ اس نے گھبرا کر سر جھکا کر جلدی سے اپنے پاؤں دیکھے۔ ادھر تو کچھ نہیں تھا۔ پھر آئینے میں دیکھا ہنوز زنجیریں برقرار تھیں۔ وہ جھٹپٹائی اور اپنے پاؤں اور ہاتھ جھٹکے۔ مگر بے سود۔
تبھی اس کی آنکھیں حیرت و خوف کی انتہا سے پھیل گئیں تھیں۔ کیونکہ آئینے میں اس کو اپنے پیچھے ایک ہیولا سا چلتا قریب آتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ پھر مرر میں دیکھا۔ وہ ہیولا کافی قریب چلا آیا۔
No,,,, stay away from me,,
ماہا ویرا چلائی۔ اور وہاں سے بھاگ کر جمی ڈیڈ کے پاس جانے کا سوچا اور کوشش کی۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی حل نہیں پا رہی تھی۔ تبھی وہ سایہ مرر میں اس کی پشت کے ٹھیک پیچھے آن ٹھہرا تھا۔ سر تھا پا سیاہ لباس میں ہڈی کے پیچھے دو انتہائی غصیلی سرخ لال انگارا آنکھیں اس بری طرح گھور رہی تھیں۔

ماہا ویرا خوف سے سفید پڑ چکی تھی۔ کیونکہ اس بار حقیقت میں بھی اسے اپنی پچھلی گردن کسی کی پرحدت سانسوں سے سلگاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا کوئی بھی تو نہیں تھا۔ مگر وہ سانسوں کی غصیلی سی زیرو بم ضرور اپنے کان کے بےحد قریب سنائی دے رہی تھی۔ اور کان جھلستا محسوس ہو رہا تھا۔۔

تبھی مرر میں اس سائے نے اس کی کمر کے گرد گھیرا بہت تنگ کیا تھا۔ اور ماہا ویرا کو لگا حقیقت میں بھی اس کے پیٹ کے گرد ایک آگ سی لپٹ چکی ہے۔

No,,,, Stay away from me,, Don’t touch me,,,Enough is enough now,,,, I’ll kill you basterd,,,
,وہ بری طرح مچلتی اس سائے کی گرفت میں پھڑپھڑائی غصے کی شدید لہر تن بدن میں دوڑی تو بری طرح چلائی تھی(اور ویرا کو پتہ بھی نہیں چلا کہ اس کی کالی آنکھیں غصے کی انتہا سے سبز غصیلی آنکھوں میں بدل کر اب ان میں سے سبز شعلے سے نکل رہے ہیں۔
کیونکہ وہ تنگ آ چکی تھی اس سب سے۔ اپنے ساتھ ہونے والے ان پراسرار واقعات سے۔ یہ سایہ کیوں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا آخر۔
ایک بھاری استہزیہ سا قہقہہ سنائی دیا تھا۔

نہیں بلکل نہیں،، تم کیا سمجھتی ہو ڈریگن پرنسز، بھیس بدل کر یہاں اس دنیا میں رہو گی تو تمھیں تمھارا سب سے بڑا دشمن پہچان نہیں پائے گا، ہو نہیں سکتا ایسے،، میں تو تمھیں وہاں لے جا کر ماروں گا، جہان کوئی سوچ بھی نہیں پائے گا،،
پرنس ویام نفرت سے دھاڑا تھا۔ پرنس کے ہاتھوں سے ایک بجلی کا کوندا سا تھا جو اس نے ماہا ویرا کے وجود میں منتقل کیا تھا جس سے ماہا ویرا کو اس قدر اذیت ہوئی تھی کہ اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔
اس نے ماہا ویرا کے وجود پر اپنا گھیرا اور تنگ کیا تھا کہ اب ویرا کو لگ رہا تھا وہ سانس بھی نہیں لے پائے گی مر جائے گی۔

“کون ڈریگن پرنسز،
Who the he’ll you talking about that,,,,

وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلائی تھی۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔ جن سے اس سائے کو ایک مرتبہ پھر تکلیف ہوئی تھی۔ مگر اس نے بری طرح سر جھٹکا کہ اپنے انتقام سے بڑھ کر اس کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

ٹھیک بول رہا ہوں ڈریگن پرنسز،، بڑے حساب نکلتے ہیں کنگ راج اور کوئین وشہ کی جانب،، جو میں اب تمھارے زریعے برابر کروں گا، تمھیں ان سے چھین کے،، تمھیں تڑپا تڑپا کر مار کر، پھر انھیں پتہ چلے گا کہ جب اپنے آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر مرتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے،،
وہ سایا اسے جھنجھوڑ رہا تھا، اور اس جکڑ میں اتنی اذیت تھی کہ وہ ماہا ویرا واقعی بہت تڑپ رہی تھی۔

وہ اسے اذیت دے رہا تھا۔ اور اب تو اس نے اپنا آپ ظاہر بھی کر دیا تھا۔ اپنی پراسرار طاقتوں کے زریعے پرنس ویام جان بوجھ کر انتہائی بھیانک اور ڈراؤنی شکل میں ظاہر ہوا تھا اس کے سامنے کہ ماہا ویرا کی دہشت و خوف سے پورا وجود لرز اٹھا۔
تبھی ماہا ویرا کے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ جمی ڈیڈ نے اسے مبہم سا سمجھایا تھا کہ اگر کبھی تمھارے ساتھ غیر معمولی صورت حال پیدا ہو جائے تو تمھیں اپنا پورا زور لگا کر چلانا ہے۔

مایا ویرا بغیر سوچے سمجھے اپنا پورا زور لگا کر چلائی تھی۔ اس کی چیخ سے فضا میں آنکھیں چندھیا دینے والا سبز روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا تھا۔ پرنس ویام ایک جھٹکے سے اچھل کر دور جا کر گرا تھا۔
ماہا ویرا اندھا دھند روم کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی تھی۔

ڈیڈ،،، جمی ڈیڈ،، سیو می،، ہیلپ می،، وہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔ مگر بدقسمتی سے آج ہی جمی بزنس کی میٹنگ کے سلسلے میں اپنے آفس میں ہی تھا۔ اور سیرا آج اپنی بہن کی جانب گئی تھی۔
وہ تیزی سے بھاگتی سیڑھیاں اتری تھی۔ اور پیچھے مڑ کر بھی دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کے پیچھے ہی تھا۔
اس براؤن سٹون پیلس سے باہر نکلنا تھا۔ وہ لاونج کا ڈور کھول کر باہر بھاگی تھی۔ باہر ٹھنڈی یخ بستہ ہوائیں اس کے نرم گرم وجود سے ٹکرائیں تو جسم میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔ مگر ابھی تو بس اسے اپنی جان بچانی تھی۔ ننگے پاؤں وہ براؤن سٹون پیلس کے طویل و عریض ڈرائیو وے پر بھاگ رہی تھی۔
پرنس ویام اس کے پیچھے غصے سے پاگل ، ہوا کا جھونکا بنا چلا آ رہا تھا۔
ماہا ویرا جب سوئمنگ پول کے قریب سے گزری تو اچانک پاؤں لڑکھڑایا تھا۔ اور ایک جھماکے سے پول میں جا گری۔ پرنس ویام پول کے پاس ٹھٹھک کر رکا تھا۔ اور ہلکی برف جمے پانی میں اس کا وجود تیزی سے نیلے پڑتا دیکھ رہا تھا۔

نہیں ،،،،، وہ دھاڑا ۔ اگر ڈریگن پرنسز کو کچھ ہو جاتا تو اس کے جینے کا کیا مقصد بچتا۔ اس کے انتقام کا کیا بنتا۔ پرنس ویام ہوا میں تحلیل ہوا تھا۔ اور ایک ان دیکھی طاقت ماہا ویرا کو پانی سے نکالتی چلی گئی۔ پول سے باہر لا کر پرنس ویام نے اس فرش پر لٹایا اور اس کے نیلے پڑتے ہونٹ دیکھے۔
اگر ڈریگن پرنسز کو کنگ راج اور کوئین وشہ سے چرانے کا کوئی وقت تھا تو یہی تھا۔ جس میں وہ لوگ بلیک مرر میں سے اسے یقینا نیم مردہ حالت میں دیکھ رہے ہوں گے۔ پھر یہ سوچ کر بے تحاشا تڑپیں گے کہ ان کی لاڈلی پرنسز زندہ بھی ہے کہ مر گئی۔۔

یہ سوچ سوچتے ہی وہ بلیک مررز میں خود کو ظاہر کرواتا اسے بازوؤں میں اٹھا کر اڑا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے اوجھل ہو گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️