Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

وہ دو دن سے اس سے چھپتی پھر رہی تھی۔ جیک اچھی طرح نوٹ کر رہا تھا۔ اس دن کے بعد سے جب سے جیک نے اسے اپنایا تھا۔ وہ اس کنی کترا رہی تھی۔

اور جیک اچھی طرح سمجھ بھی رہا تھا۔ وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ جان بوجھ کر اسے اگنور کر رہی تھی۔

جیک اسے چھیڑ کر پچھتا رہا تھا۔
اب بھی دوپہر کے وقت وہ روم میں داخل ہوا تو شاور لے کر فیروزی ساڑھی میں باہر آئی تھی۔ اسے روم میں آتا دیکھ بوکھلا کر واش روم میں واپس بھاگ جانا چاہتی تھی جب جیک نے اسے جا لیا۔

اس کے اور واش روم کے بیچ جیک نے ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ مسدود کر دیا تھا۔

پیچھے ہٹو،،، وہ غصے سے بولی تھی۔ مگر جیک نے اس غصے بھری گرفت میں لیا تھا۔ اس کا جبڑا اپنے ہاتھ میں دبوچا۔

ڈونٹ یو ڈئیر رنجو،،، تم ایسے کیوں پریٹینڈ کر رہی ہو جیسے میں نے زبردستی کی تمھارے ساتھ،،
وہ دانت پیس کر بولا تھا۔

شاید ایسا ہی کچھ،، محبت تو تم مجھ سے کرتے نہیں تھے،، تو نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جیک بتاؤ مجھے،،،،
وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔ سسک رہی تھی۔ منفی سوچیں اسے اندر سے کھائے جا رہیں تھیں۔

جیک اس کی بات پر مسکرایا تھا۔
کس نے کہا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا،، مجھے ہر اس چیز سے ہر اس وجود سے اول روز سے محبت تھی جس سے سنجنا کو محبت تھی،، اور ان میں تم ٹاپ آف دی لسٹ تھیں رنجو بےبی،،، محبت کی تو اپنایا نا کرتا تو دیکھتا بھی نہیں تمھاری طرف،، آئی بات سمجھ میں،،،

گھمبیر لہجے میں کہتے جیک نے اس کے دائیں جانب سے بھیگے بال گردن سے ہٹا کر دل کے مقام پر اپنے لب رکھے تو رنجو اپنی جگہ سے پوری کی پوری ہل گئی۔

پیچھے ہٹو بے شرم انسان،،،
وہ اس کے اظہار سے پوری کی پوری سرخ ہوئی تھی۔ کچھ سکون آیا تو اپنی موجودہ سچویشن سے گھبرا کر اسے پیچھے دھکیلا۔ اور واش روم جانے لگی۔

جب جیک نے اسے اپنی محبت بھری گرفت میں سمیٹ لیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ اپنے بیڈ پر پرسکون سی سو رہی تھی جب اپنے سینے پر پہاڑ جتنا بوجھ سا محسوس ہوا۔ کسمسا کر آنکھ کھلی تو چہرے کے بہت قریب وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرا رہا تھا۔

ہائے ڈئیر وائفی،،، گڈ مارننگ،،،

عائش پلیز آرام کرنے دیں،،، اس نے برا سا منہ بنایا اور کروٹ بدلنے کی کوشش کی۔ جو اس نے اس کے اوپر مزید جھک کر ناکام بنا دی۔

مارننگ ہو چکی ہے،، روز،، اٹھ جاؤ نہیں تو میں بھی تمھارے ساتھ لیٹ جاؤں گا، اور اگر ایسا ہوا تو تھوڑا نقصان ہو جائے گا تمھارا،،،
وہ دانت نکال کر بولا تھا۔

روز کہ نیند بھک سے اڑی۔ جھنجھلا کر اسے ایک سائیڈ دھکیل کر اٹھ بیٹھی۔ وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔

روز ڈریسنگ تک گئی۔ اور اپنا ڈریس نکال کر واش روم جانے داخل ہوئی۔ جب بجلی کی سی تیزی سے عائش اٹھ کر واش روم داخل ہوا اور ڈور لاک کر لیا۔

روز نے آئیبرو اچکائی۔
لیٹس ہیو آ فن روز بےبی،،، چلو آج اکھٹے نہائیں میری جل پری،،، یہ بول کر عائش نے اسے اٹھا کر باتھ ٹب میں پھینکا تھا۔

عائش،،، یہ،، ،،

واٹ مجھے بلایا؟ لو میں دوڑا چلا آیا میری جل پری،،، وہ بھی کپڑوں سمیت باتھ ٹب میں گھسا تھا۔

روز کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔ کس خبطی پاگل سے واسطہ پڑا تھا۔
عائش تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واش روم اور میرے کمرے سے باہر تشریف لے جائیں،،

وہ جھنجھلا کر بولی اور پانی میں کو ہاتھوں کے تھپیڑوں سے پیٹ کر سارا غصہ پانی پر نکالا۔

مطلب واش روم اور روم سے باہر جاؤں مگر اس بات ٹب میں تمھیں بھرپور کمپنی دوں رائٹ،،،
عائش نے اسے کھینچ کر اپنے سینے پر گرایا۔

عائش،،، وہ چلائی۔
آج اس کی حرکتیں روز کی جان نکالے دے رہی تھیں۔ مگر وہ مسلسل اسے زچ کر رہا تھا۔

یس اس اوشن پرنس کی جان،،، عائش نے اسے ٹائٹلی ہگ کیا۔ اور پھر گستاخیاں شروع کر دیں۔ گردن سے گیلے بال ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھے۔ اور یہ سفر جاری کر دیا۔

عائش،،، پلیز،،،،،، کوئی آ جائے گا،، اس نے عائش کے سینے پر مکے برسائے۔

آ جانے دو،،، عائش لاپروائی سے بولا تھا۔ مگر اس کی یہ لاپروائی سیکنڈز میں اڑنچھو ہوئی تھی۔

روز،،،، روزیلہ بیٹا،،،،،، ایلا کی آواز پر روز کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ عائش بھی خفت زدہ سا ہوا تھا۔ دونوں کی سچویشن ہی کچھ اس طرح کی تھی۔

یس مم،، مما،،،، روز گھگھیا گئی۔

بیٹا کہاں ہو آپ،، جلدی باہر آؤ،،، سب کب سے بریک فاسٹ پر انتظار کر رہے ہیں، اور اس نکمے کو تمھیں بلانے بھیجا تھا جانے کہاں نکل گیا،، ابھی آؤ باہر،،

یس مما،، وہ جلدی سے اس کے سینے پر زور سے مکا مار کر باتھ ٹب سے باہر نکلنے لگی جب عائش نے ضد میں ایک مرتبہ پھر اسے اپنے اوپر گرایا تھا۔

چھپاک کی آواز پر ایلا چونکی۔ کیا بات ہے روز،،، تم ٹھیک تو ہے،، میں مدد کروں،، ایلا گھبرائی۔

نن،، نہیں مما،، میں بس آئی،، روز نے غصے میں اس کے سینے پر پوری طاقت سے اپنے دانت گاڑھے تھے کہ وہ بلبلا کر رہ گیا۔ روز کو موقع ملا وہ باتھ ٹب سے باہر فورا نکلی۔ مگر گیلے اور پھسلن زدہ فرش پر بے احتیاطی کر بیٹھی۔

اس دھکم پیل میں عائش کو تو کچھ نا ہوا روز کا پاؤں بری طرح باتھ ٹب سے ٹکرایا تھا۔ ٹخنے کی ہڈی پہ بری طرح چوٹ لگی۔

ایہہہہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،،،، تکلیف سے دوہری ہوتے منہ سے چیخ نکلی۔ ادھر عائش بوکھلا کر باہر آیا اور روز کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔۔
اور ادھر ایلا کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

روز نے تو چہرےپف ہاتھ رکھ کر زور سگ آنکھیں بند کر لیں۔ عائش بھی خجل سا سرخ چہرہ لیے کھڑا نگاہیں جھکا گیا۔

اور ایلا جو پہلے ہونق سی ہوئی۔ پھر ان کی شکلیں دیکھ قہقہے لگا کر ہنس پڑی۔
بلکل گدھا ہے میرا بیٹا،،، وہ خفت کے مارے فورا وہاں سے نکلی تھیں۔

عائش مسکرایا۔ اوف لا کر نرمی سے اسے صوفے پر بٹھایا۔گھٹنوں کے بل جھکا اور اس کا پاؤں اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھا۔

آنکھیں کھول لو روز،، مما چلیں گئیں ہیں،، عائش نے اطمینان سے کہا۔

عائش میں خون پی جاؤں گی آپ،،،؟ وہ جھلا کر بولی تھی۔

مجھے لگ ہی رہا تھا،، کک میری نازک مرمیڈ خونی شارک بن چکی ہے،، ابھی ایک سیمپل اپنے سینے پر دیکھ چکا ہوں،،
عائش نے اسے مزید چھیڑا۔ اور چوٹ سہلانے لگا۔

آیہہہہہہہہہہ،،، اسے درد ہوا۔
ویسے اگر خون پینا ہے تو آج رات کو فرصت سے پی لینا،، تم میرا خون پینا میں تمہیں کھاؤں گا واؤ،،،،
عائش نے چٹخارا بھرا۔ وہ اس کا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔۔
وہ اب بری طرح جھنجلا رہی تھی۔ مگر پھر بھی درد سے مچل رہی تھی۔

اووووووو،،، گوڈ میری وائف کا ٹخنہ تو ٹوٹ ہی چکا ہے،، بس اب عقل سلامت رہے،، عائش نے آسمان کی جانب دیکھ کر دہائی دی۔

روز نھ ناسمجھی سھ اسے دیکھا۔ مگر جب اپنی پاورز استعمال کرتے اسے اس بات کا مطلب سمجھ آیا تو وہ چیخ اٹھی۔

عائش یو مین،،، میری عقل گٹوں میں ہے،،، اس نے عائش کا گریبان جھنجھوڑ ڈالا۔ عائش مسکرایا۔ اور ایک ہے جھٹکے میں اس کا پاؤں سیدھا کر دیا۔

روز چیخ مار کر عائش سے لپٹ گئی۔ مگر اب پاؤں کا درد کم ہوا تھا۔ روز کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔ اور اتنے وقت میں پہلی مرتبہ عائش سنجیدہ ہوا تھا۔

روز،، ڈونٹ یو ڈئیر،،، پلیززززز،،،، عائش نے وہ قیمتی موتی اپنے لبوں سے چنے۔ پھر بہت بے اختیار ہو کر اس کج سانسوں کو اپ ج سانسوں مجھے الجھایا تھا۔۔

روز نھ احتجاج کیا۔ دروازہ کھلا تھا اور پھف کوئی آ جاتا۔ مگر وہبتو مدہوش سا خود کو سیراب کرنے میں مصروف تھا۔
پھر خود ہی شرافت سے پیچھے ہٹا۔
چینج کر کے جلدی سے باہر آ جاؤ روز،،، وہ اس کے ہوش ربا روپ و رنگ سے نگاہیں چراتا باہر نکل گیا تھا۔

روز آہستگی سے مسکراتی ڈریسنگ کی جانب بڑھی۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا اپنی خواب گاہ میں اکتائی ہوئی سی بیٹھی تھی جب کچھ محافظ پریاں اسے کے پاس آئیں۔

آج آپ کو دربار میں کنگ کے ساتھ رعایا کو اپنا دیدار کروانا ہے پرنسز،،، اپنے لوگوں سے ملاقات کرنی ہے،، وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں،،، کنگ نے آپ کو بلاوا بھیجا ہے،،
ایک خادمہ نے جھک کر بتایا۔

لیکن مجھے کہیں نہیں جانا،،، بتا دو اپنے کنگ کو،، کہ وہ میرے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کر سکتا،،، میں کہیں نہیں جا رہی،،

وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بول کر اپنی مسہری پر اوندھے منہ گری تھی۔ مطلب اب اسے کوئی بات نہیں کرنی تھی۔
خادمائیں جا چکیں اور کنگ ویام کو اس کا جواب دے دیا۔

ویام اس کی خواب گاہ تک آیا تھا۔ دستک دے کر اندر داخل ہو گیا۔ وہ مخملیں مسہری پر اوندھے منہ لیٹی تھی۔ چہرہ بازوؤں میں چھپا رکھا تھا۔

کوئین،،، ویام نے پکارا۔

جب بول دیا میں نے کہ مجھے کہیں نہیں جانا تو اب آپ کیا زبردستی کریں گے میرے ساتھ،،
وہ تلملائی۔

نہیں،، آپ کی مرضی،، عوام کے سامنے نہیں جانا مت جائیں،، اور بائی دا وے زبردستی اسے نہیں کہتے،،، ویام نے بیڈ کے کنارے ٹکتے کہا۔

تو کسے کہتے ہیں،، وہ جھنجھلائی۔ مگر اپنے ہی سوال پر اپنے دانتوں تلے اپنی پھسلتی زبان دبوچ لی۔ وہ سر تا پا سرخ پڑ گئی تھی ۔

اسے کہتے ہیں جو وہ وکی شیرگل اور اس کے ساتھی کالج میں کرنا چاہتے تھے آپ کے ساتھ،، وہ تنی رگوں سے بولا تھا۔ وہ وقت وہ پل یاد کر کے کنگ ویام کو لگا وہ جھلس جائے گا۔

مگر ماہا ویرا اپنی جگہ دم سادھ گئی تھی۔ تو کیا اس وقت بھی اس نے ویرا کو ان درندوں کے چنگل سے بچایا تھا۔

وہ جھٹکے سے اٹھی۔ وہ آپ تھے،،، وہ پوچھ بیٹھی۔

جی ،، ایک لفظی جواب آیا۔

ماہا ویرا مزید بے چین ہوئی۔ پلیز آپ جانے دیجئے مجھے اپنے مما بابا کے پاس،،
وہ تھکے ہارے لہجے میں بولی تھی۔

چھوڑئیے سب،، آئیے میرے ساتھ،،، کنگ ویام نے اٹھ کر اس کا بازو کھینچا تھا۔ وہ اس کی جرأت پر حیران ہوئی۔ اس کی حیران نگاہوں میں کنگ ویام نے دیکھا۔

دربار میں نہیں،، ایک جگہ گھمانے لے جا رہا ہوں،، آپ اکتا رہیں ہیں ناں اس لئے،،،
وہ سکون سے بولا۔ اور اسے لئے باہر نکلا۔ اتنے سے وقت میں وہ اس کے اندر تک جھانک چکا تھا۔

پھر ماہا ویرا چپ چاپ اس کے ساتھ آتی چلی گئی۔ وہ اسے باہر لایا اور ایک پھول پر کھڑے ہونے کا اشارہ کیا۔ وہ کھڑی ہوئی۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے اڑا تھا۔ ویام کے جادو سے وہ پھول بھی اسے ساتھ لیے اڑا۔

وہ ایک حدِ نگاہ میدان تھا۔ بہت اوپر دور سے تو ماہا ویرا کو لگا جیسے وہ میدان ہی پرپل کلر کا ہے مگر نیچے اتر کر پتہ چلا کے اس میدان کا ہر درخت گھاس پودا، پھول پھل پرپل کلر کا ہے۔ وہ قدرت کے اس شہکار پر مبہوت ہی رہ گئی۔

یہ کتنا میجکل ہے،،، وہ اس نظارے میں کھوئی بے اختیار بولی۔ کنگ ویام مسکرایا تھا۔ اور اس لئے اس میدان کی ایک طویل ترین راہ گزر پر اترا۔

اس راہ گزر پر بھی پرپل کلر کا گھاس تھا۔اور سڑک کے دونوں اطراف کے درخت سروں کے بہت اوپر جا کر جیسے آپس میں گلے ملے ہوئے تھے۔

کنگ ویام نے ماہا ویرا کا ہاتھ تھام رکھا تھا پھر وہ اسے لئے اس راہ گزر سے گزرنے لگا۔ وہ جیسے جیسے گھاس پر قدم رکھ رہے تھے۔ درختوں پودوں پرپل جھاڑیوں میں سے پرپل ہی تتلیاں اڑ کر ان کے آس پاس اڑ رہی تھی۔

ماہا ویرا انھیں چھونے کی کوشش کرنے لگی۔ تھوڑی آگے آنے پر اب بہت ساری پرپل کوئل برڈز چہچانے لگی تھیں۔

یہ بہت خوبصورت ہے،،، وہ خوش ہوئی تھی۔
آئیے میرے ساتھ،، طویل ترین اور سیدھی راہ گزر سے گزرتے اچانک ویام نے اسے تھام کر اس میدان کے ایک جانب لے گیا۔ وہ بڑے بڑے درخت تھے۔ اور ان درختوں کے بیچ ایک سب سے بڑا درخت جس کی ہرپل سٹرا بیری جیسی پرپل بیریز زمین تک لٹکیں ہوئیں تھیں۔

ویام اسی درخت کے قریب آیا تھا۔ بیری شاخ سے توڑنے کی بجائے ایک شاخ ہاتھ میں تھام کر ڈائریکٹ منہ سے بیری منہ میں ڈال کر چبا لی۔

اسے ایسے کھانا ہے کوئین،،،، ویام نے اسے سمجھایا۔ مایا وش نے اسے کاپی کرتے بلکل ویسے ہی بیری کھائی۔ بیری منہ میں گھلتے ہی پہلے اسے چاکلیٹ، پھر ماش میلو اور پھر کاٹن کینڈی کا ذائقہ منہ میں باری باری گھلتا محسوس ہوا۔

اور اگر انھیں توڑ کر کھایا جائے تو،،، ماہا ویرا نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔

ٹرائی کر لیں توڑ کر کوئین،،، ویام نے اطمینان سے کہا۔

ماہا ویرا نے بیری توڑ کر ہاتھ میں تھام لی۔ ویام نے فورا خود کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیا۔ ماہا ویرا حیران ہوئی۔ مگر اگلے ہی پل ایک چھوٹا سا دھماکا ہوا تھا۔
بیری نے اپنے آپ کو کسی چھوٹے سے بم کی طرح پھوڑ لیا۔ ماہا ویرا ہلکی سی چیخ مار کر اپنی جگہ سے اچھلی۔۔ پرپل بیری نے اپنے پرپل بیل بوٹے ماہا ویرا کے چہرے اور کپڑوں پر بنا کر انھیں گندا کر دیا تھا۔

ویام نے اپنے پر پیچھے ہٹائے۔ اور اس کی شکل دیکھ کر دانتوں تلے لب دبا کر اپنی ہنسی کنٹرول کی۔

یہ کیا بدتمیزی تھی،،آپ پہلے بھی تو بتا سکتے تھے ناں مجھے کہ ایسا ہوتا ہے،، وہ دانت پیس کر بولی اور اپنا چہرا اپنے بازوؤں سے صاف کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

یہ بیریز بہت شرارتی ہیں،، ان کو ان کی جگہ سے الگ کرو تو یہ اپنے آپ کو غصے سے پھوڑ لیتی ہیں،، میں نے تو طریقہ بتایا تھا لھانکا ے اب آپ نے ہی پوچھا کہ ایسے کیوں،، تو میں نے کہا ٹرائی کر لیں،، ویام نے اسے چھیڑا

ماہا ویرا نے ایک بیری توڑ کر ویام کے اوپر اچھالی تھی۔ اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا بیری اپنے آپ کو ویام کے منہ پر پھوڑ چکی تھی۔ اب ویام کی شکل دیکھ کر ویرا قہقہے لگا کر ہنسی تھی۔

ویام نے دو تین بیریز توڑ کر ویرا پر اچھالیں۔ تو وہ بوکھل کر بھاگنے لگی۔ مگر بے سود
پرپل کلر کے نقش و نگار اس کے لباس پر اور چہرے پر بن چکے تھے۔

یو،،،،،،، ماہا ویرا نے پوری ایک شاخ نوچی تھی۔ ویام نے اپنے پر اپنے آگے کر لیے ۔ مگر ماہا ویرا نے وہ بیریز اس کے سر پر پھینکیں تھیں۔ پروں کے اندر چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوئے تھے۔ اب جو ویام کی شکل باہر نکلی ۔

ماہا ویرا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئی تھی۔
کوئین میں چھوڑوں گا نہیں آپ کو،، وہ دانت پیستا ایک ڈالی سے مٹھی بھر بہریز توڑتا اس کی جانب لپکا۔

ماہا ویرا بوکھلا کر بھاگی۔ مگر بے سود۔ وہ اس کے پاس پہنچ کر اس کے گریبان میں وہ بیریز پھینک چکا تھا۔

آیہہہہہہہہہہ،،،،،، چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوئے اور ماہا ویرا کے لباس سے پرپل سا مادہ باہر نکلا۔ صدمے سے اس کا منہ پورا کا پورا کھل گیا۔

اب وہ میدان ، میدان جنگ بن چکا تھا۔ دونوں طرف سے گولہ باری کی جارہی تھی۔ دونوں بھاگتے چھپتے چھپاتے ایک دوسرے کے اوپر وہ پرپل پٹخے پھینک رہے تھے۔ دونوں کے قہقہے اس گراونڈ میں دور دور گونج رہے تھے۔

کچھ دیر بعد ہی وہ تھک کر ایک پھول پر گرے۔ دونوں کی حالت ایسی تھی جیسے چھوٹے بچے مٹی کیچڑ میں لت پت ہو جاتے ہیں۔

وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر بری طرح ہنسنے لگے۔۔ خاص کر ماہا ویرا جو ہنسے چلی جا رہی تھی۔ ویام نے اسے گھورا۔

زیادہ مت ہنسیں کوئین،، آپ کا اس بھی زیادہ فنی شکل بنی ہوئی ہے،، ویام نے چھڑی گھمائی۔ اور ماہا ویرا کے بلکل سامنے اس کی آئینہ میں شبیہہ بن گئی۔۔

ہوووووووو،، شششٹٹٹ،،ماہا ویرا ایک دم اٹھ کر بیٹھی تھی۔ اپنی پرپل شکل کو صدمے سے تھاما۔
اب کیا ہوگا،،، دونوں گال رب کیں۔۔

ویام اپنی جگہ سے اٹھا۔ اور بہت اچانک اسے بازوؤں میں بھرا۔
ی،، یہ کیا کر رہے ہیں آپ ،،،چھوڑیں مجھے،،، ماہا ویرا مچلی۔

مگر وہ اسے لیے اڑا تھا۔ وہ پرپل میدان پار کر کے ایک بہت بڑا پہاڑ تھا سامنے جس کے دامن میں ایک جھرنا بہہ رہا تھا۔

ویام اسے لئے اس آبشار کے نیچے پانی میں کھڑا ہوا تھا۔ ٹھنڈا ٹھار پانی تھا ۔ ماہا ویرا کپکپا اٹھی۔ اور ویام کے کندھوں پر بے اختیار ہاتھ رکھے۔ وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔

لمحہ بہ لمحہ ان پر سے رنگ اترتا چلا جا رہا تھا۔ ویام نے اسے دیکھا جس کے چہرے اور گردن پر پانی کی بوندیں اٹھکیلیاں کرتی ویام کو غصّہ دلا رہیں تھیں۔ وہ اس بات سے ہی برا مان رہا تھا کہ وہ بوندیں بھی کیوں اس کی کوئین کو چھو رہی تھیں۔۔

بہت اچانک ویام نے اسے اپنے قریب کھینچا تھا۔ اس کی گردن پر ٹھہرنے والی بوندوں کو اپنے ہونٹوں سے چننے لگا۔

ماہا ویرا جی جان سے لرز گئی تھی۔ بری طرح کسمسائی۔ مگر اس کی گرفت جان لیوا تھی۔ ویام اب اس کے چہرے سے وہ بوندیں چن کر اپنی پیاسی روح سیراب کر رہا تھا۔ اور ماہا ویرا اپنا سانس تک لینا بھول گئی تھی۔ دونوں پر مسلسل پانی گر کر انھیں بھگو رہا تھا۔

چھوڑیں مجھے،،،،،، اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے بیچ وہ اتنا ہی بول پائی تھی۔ مگر یہ ماحول ،وقت ، موسم ،تنہائی سب نے مل کر جو ویام کے دل پر ستم ڈھایا تھا اس سے وہ مکمل طور پر بے بس اور بے اختیار ہو چکا تھا۔

تبھی اس کے ہاتھوں نے کندھوں سے کمر تک کا سفر طے کرتے اسے خود میں بھینچا تھا۔

چھوڑیں مجھے،،،،، ماہا ویرا نے ایک مرتبہ پھر بھر پور احتجاج کیا۔ اور بری طرح تڑپی۔ مگر ویام نے اپنی پیش قدمی جاری رکھتے اب اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا تھا۔ ماہا ویرا کے سانسوں کی خوشبو نے ویام کو بےخود اور مدہوش سا بنایا تھا۔

خود پر اختیار ہی کب تھا دل تھا کے بے قابو ہوا چاہتا تھا۔ ویام نے اس کے کندھے سے بھیگی شرٹ نیچے کھسکائی تھی۔ اور ماہا ویرا کی ادھر ہی بس ہو چکی تھی۔ اپنی پوری طاقت لگا کر وہ اس کی پناہوں سے نکلی تھی۔

اپنے ہونٹوں پر ہتھیلی کی پشت رکھتی وہ آنسو بہاتی پانی سے باہر نکلی تھی۔

کوئین میری بات سنیں،،، ویام نے آج پہلی مرتبہ غصے سے پاگل ہوتے اسے پکارا تھا۔ وہ ہر بار کیوں کرتی تھی اس کے ساتھ ایسا۔ کیوں خود سے دور کر دیتی تھی اسے۔!؟ آخر قصور کیا تھا اس کا؟! وہ اس کے پیچھے لپکا تھا بلکہ تیزی سے اس کے سامنے آیا۔

آئی ہیٹ یو،،، مر جائیں آپ یا کاش میں ڈریگن بن پاتی تو سب سے پہلے آپ کو جلا کر بھسم کرتی،،، وہ پیچھے مڑ کر چلائی تھی۔ اپنی ہی کیفیات نہیں سمجھ پا رہی تھی۔

آپ کے عشق اور دوری میں تو میں ویسے ہی مر ہی رہا ہوں کوئین،، مگر اب تو یہی خواہش ہے کہ آپ کی یہ خواہش جلد پوری ہو جائے،،، میں نہیں رہوں،، اور نا رہے یہ فیری ٹوپیا،،کچھ بھی نا رہے،،
وہ بھی رندھی آواز میں چلایا تھا۔

ایک ہوا کا جھونکا گزرا تھا۔ جس میں سبز رنگ کی آمیزش سی تھی۔ کنگ ویام نے اس جھونکے میں سانس لیا تھا۔ اور اپنا سینا پکڑ کر ادھر گرتا چلا گیا۔ ماہا ویرا نے حیرت سے یہ نظارا دیکھا تھا۔

اس کے اوسان تو تب خطا ہوئے جب وہ بری طرح کھانسنے لگا۔ تڑپنے لگا۔

ماہا ویرا گھٹنوں کے بل اس پر جھکی تھی۔ گیلے بال ویام کے اوپر بکھر گئے۔ اس کا سر اٹھا کر ماہا ویرا نے اپنی گود میں رکھا۔

کیا ہو رہا ہے آپ کو،، مجھ سے بات کریں،،ویام ،،،،،ماہا ویرا نے پریشانی سے اسے پکارا تھا۔
میں سانس نہیں لے پا رہا،،، اڑ نہیں پا رہا،، مدد بلائیں،،، ویام نے گھٹے گھٹے انداز میں کہا۔

کک کیسے،، کیسے ،،کوئی ہے،،، مدد کرو،،، وہ زور سے چلائی تھی۔ مگر جھاڑیوں میں سے کچھ محافظ پریاں اور پری زاد نکل کر سامنے آئیں تو ان کا حال بھی ویام سے الگ نہیں تھا۔

ویام نے اس کے ہاتھ میں اپنی میجک سٹک تھمائی۔ اس کا ،،،،،،حکم دیں،،،،،،، کہ آپ ہم،،،،،،،، سب سمیت،،،،،، محل جانا،،،،،،،،، چاہتی ہیں،،،
ویام بول نہیں پا رہا تھا۔
ماہا ویرا رونے لگی تھی۔ اس نے ایسا تو کچھ نہیں چاہا تھا۔ کیا وہ بدعا اتنی جلدی لگی تو جو اس نے دل سے دی بھی نہیں تھی۔
اس نے میجک سٹک کو حکم دیتے اسے گھمایا تھا۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️

آبدار کی آنکھ کھلی تو تقریباً دوپہر تک کا وقت ہو چکا تھا۔ مسکراتے اپنے سر سے وہ کرواؤن اٹھا کر اپنے ہاتھ میں تھاما۔ جس کے بلو کرسٹل کی روشنی پورے ہٹ میں پھیلی ہوئی تھی۔

اس نے ایک نظر اپنے پہلو میں اپنی کوئین کو دیکھا۔ جو ٹوٹی بکھری حالت میں اس کے پہلو سے لگی گہری نیند میں تھی۔

وہ اٹھ کر بیٹھا۔ اور مایا وش کے بالوں میں نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرا۔
وش،،،، کوئین،،، اٹھ جائیں،،، اس نے مایا وش کو پکارا۔ مگر وہ کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتی پھر سے اس کے پہلو سے لپٹ گئی تھی۔ کمفرٹر سر تک تان لیا۔

آبدار اس کے کان کے پاس جھکا اور گھمبیر آواز میں سرگوشی کی۔ ویسے آپس کی بات ہے کوئین،، آپ ان ڈریس ہیں،،
آبدار کے کہنے کی دیر تھی جب مایا وش کی نیند بھک سے اڑی تھی۔ وہ سلک کے وائٹ کمفرٹر سمیت کھسکتی اس سے دور ہوتی چلی گئی اور کروٹ بدل کر خود کو اچھی طرح کمفرٹر میں لپیٹ لیا۔

آبدار قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔

آ،،،،،آبدار،،،،،،،ہٹ سے بب،،،باہر جائیں،،، وہ گھگھیا گئی۔

کیوں،، ایسا کیا ہو گیا ہے کوئین جو آپ اتنا شرما رہی ہیں ،، وہ مزید پھیل کر بیٹھ گیا۔

آب ،،، پلیزززززززززززز،،، آپ کو میری قسم،،،

چلو جی بات ہی ختم۔ وہ آہستگی سے کمفرٹر کے اوپر سے ہی اس کی ناک چوم کر نرمی سے بیڈ سے اٹھا تھا۔ اور باہر نکل آیا۔

مسکراہٹ ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی۔ آج پانی کا رنگ کچھ مختلف ہی تھا۔ اس نے پانی میں چھلانگ لگائی۔

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی جب مایا وش کی دلخراش چیخیں ہٹ سے باہر تک گونجیں تھیں۔

آب تیزی سے ہٹ کے اندر آیا۔ جہاں وہ بھیگے وجود کے ساتھ سرخ لباس میں لہولہان فرش پر گری تڑپ رہی تھی۔ آپ کے سر پر جیسے آسمان گرا تھا۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️