No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اوشن کنگ نے اس کا بہت برا حال کیا تھا۔ مگر ابھی وہ اس چڑیل کی کالی طاقتوں کو تو کمزور کر سکتا تھا۔ مگر اسے پوری طرح ختم نہیں کر سکتا تھا۔ تبھی اس کے ٹکڑے ایک مرتبہ پھر اس خبیث چڑیل میں تبدیل ہوئے تھے۔
اپنی بچی کھچی طاقت استعمال کر کے وہ رومینیا کے اس قبرستان میں پہنچی تھی جس کے سامنے بنے پیلس میں اس کا بھائی دفن تھا۔ اب اسے یہیں رہنا تھا۔ اپنی طاقتیں استعمال کر کے اس لڑکے کا سچ پتا لگانا تھا۔ اور اگر سامر جاگ گیا اور مایا وش اسے نا ملی تو؟ تو وہ بلیک وچ کو اپنی جگہ اس کافن میں زندہ دفنا دے گا۔
اسی لئے وہ ہر صورت اب اس کا پتہ لگانے والی تھی۔ اور اپنی پوری کوشش کرنے والی تھی اس کا خاتمہ کر کے مایا وش کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے لئے اور اس کے لئے اسے اپنے آقا کو خوش کرنا بہت ضروری تھا۔ اب وہ اپنی طاقتیں بڑھا کر بلی کی تیاری کرنے والی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج جب انسانی دنیا میں آیا تو اسے انتظار تھا۔ گرینڈ فادر نے اسے طریقہ بتایا تھا کہ جب مایا وش کسی بھی آئینے کے سامنے آئے گی تو راج اس سے اس آئینے کے زریعے مخاطب ہو پائے گا۔ مگر مایا وش پر بلیک میجک ہونے کی وجہ سے مرر پر ریڈ کراس بن جائے گا جس سے وہ ایک دوسرے سے مل نہیں پائیں گے۔ ایک دوسرے تک رسائی ناممکن ہوگی۔ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں پائے گے شاید بس اس کی گڑیا سمجھ جائے گی جو وہ اسے سمجھانا چاہتا ہے۔ وہ انتظار میں تھا۔
کہ کب اس کی گڑیا کسی آئینے کے سامنے آئے اور وہ اسے دیکھ سکے۔ اس سے بات کر سکے۔ اسے تمام حقیقت بتا سکے۔ مگر وہ انتظار ہی کرتا رہا مگر وہ آئینے کے سامنے آئی ہی نہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آبدار نے اسے بازو سے پکڑ کر اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر اسے آئینے کے سامنے کھڑا کیا تھا۔
ادھر دیکھو کوئین،، میری آنکھوں میں دیکھو، تمھیں لگتا ہے کہ یہ کنگ کبھی آپ سے دستبردار ہو سکتا ہے،، جس کی روح آپ سے جڑی ہے، جس کا جسم جس کی زندگی اور حتی کے موت تک آپ سے جڑی ہے تو آپ اوچ بھی کیسے سکتیں ہیں کہ میں آپ سے الگ ہوں،، آپ کا درد آپ کی تکلیف آپ کا ڈر نہیں سمجھ سکتا،،
اس کی پشت پر کھڑے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے وہ اسے سینے میں بھینچے اس کے بالوں میں یہ جان لیوا سرگوشیاں کرنے میں مصروف تھا۔
تبھی وشہ نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا تھا۔ آئینے پر ریڈ کراس سا بن گیا تھا۔ اس میں ایک ہیولہ سا نظر آیا۔ مگر زیادہ واضح نہیں۔
ادھر راج بھی اپنی پرنسز کا ہیولہ سا دیکھ پا رہا تھا۔ اسے وضاحت سے نہیں دیکھ پایا۔ تبھی اس کی جلتی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ مگر وہ آبدار کو نہیں دیکھ پایا تھا۔
مائی لٹل پرنس،، راج کی پرسوز آواز آئینے میں سے گونجی۔ مایا وش آب کا حصار توڑ کر آئینے کے قریب آئی۔ آبدار نے بھی اپنے قدم آگے بڑھائے۔ مگر اسے ریڈ کراس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا۔
تبھی آئینے میں سے ایک روشنی کا گولہ سا نکلا تھا۔ جسے آبدار اور مایا وش بغور دیکھ رہے تھے۔ وہ گولا آ کر ان کے سروں پر ٹہرا تھا۔ وہ گولا ایک دھماکے سے پھوٹا۔ اس میں سے نکلی روشنی گلٹر کی طرح ان کے اوپر گری تھی۔
آبدار اور مایا وش نے اپنی آنکھیں بند کیں۔
مایا وش کی آنکھوں میں اس کی پیدائش سے لے کر اب تک کے تمام مناظر گھومے تھے۔ اسے اس کی حقیقت سچائی سب کچھ باور کروایا جا رہا تھا۔ اس کے رشتوں کی حقیقت اس کی بہن کا وجود سب اسے دکھ رہا تھا۔ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ آبدار کی نگاہوں کے سامنے بلیک وچ اور سامر کے بلیک میجک کا توڑ اور ان کی موت کے راز عیاں کیے جا رہے تھے۔ کیوں؟ کیسے؟ اور کس طرح وہ انھیں مات دے سکتا تھا۔
چند لمحوں بعد مایا وش نے آنسوؤں سے تر آنکھیں کھولیں تھیں۔ اور آئینے کی طرف لپکی تھی۔
بابا،،،، میرے بابا،،،، وہ آئینے میں سے اس کراس کو نوچ رہی تھی جب اسے ایک زور دار جھٹکا لگا اور کسی نادیده چیز نے اسے پرے پٹخا۔ آب نے وقت رہتے اسے کیچ کیا تھا۔ وہ پھر سے اس کے سینے سے آ لگی۔۔ اس کی اتنی ٹوٹی بکھری حالت پر آبدار بےچین سا ہوا۔
(ادھر راج اپنی گڑیا کی حالت دیکھ تڑپ رہا تھا۔ اسے غصہ تو اس بات کا تھا کہ پورے ڈریگن لینڈ کا کنگ ہونے کے باوجود وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اور اور اب بھی اسے فوری واپس جانا تھا۔ کیونکہ اس کا کام مکمل ہو چکا تھا۔وہ جانتا تھا مایا وش کا کنگ اسے اس صحر سے نجات دلانے میں اہنے سر دھڑ کی بازی لگا دے گا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا ناں کہ اپنی کوئین کو پانے کی چاہ کیا ہوتی ہے۔ وہ تو اس مرحلے سے گزر چکا تھا۔ اس سب خیال کے بعد اسے بیمار وشہ کا خیال آیا تھا تو وہ فورا وہاں سے غائب ہو گیا)
مرر کے سامنے جس پر بڑا سا ریڈ کراس دکھائی دیتا تھا۔ (جس کا مطلب تھا کہ اس بلیک مرر کا رستہ کم از کم مایا وش کے لئے بند ہے) اب مایا وش گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر روتی بکھرتی جا رہی تھی۔ وہ اموشن لیس اگریسو مونسٹر اب اپنی کوئین کے زرا سے آنسوؤں پر موم کی طرح پگھلتا اپنے لب بری طرح کاٹ رہا تھا رگیں تنی ہوئیں تھیں اور آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔
آبدار اس کے برابر زمین پر بیٹھ کر اس کا بکھرا وجود اپنی بانہوں میں سمیٹا اور اسے اپنے سینے میں اپنی پوری شدت سے بھینچا۔ مایا وش کا چہرہ اس کے دل کے مقام پر تھا اس دل کی دھک دھک میں بھی اسے اپنا نام سنائی دے رہا تھا۔ تب اس نے بری طرح اس کی کمر سے شرٹ مٹھیوں میں دبوچی۔ رونے میں مزید شدت آئی۔
آب،، آبدار،،، مجھے اپنے ماما بابا سے ملنا ہے،، پلیز مجھے ان کے پاس لے جائیں،، مجھے اس قید سے نجات دلا دیں ناں،،، مجھے ان کے پاس رہنا ہے،، پلیزز،، پلیز،، آب،، آپ لے جائیں گے ناں مجھے،، اتنے سال اتنے برس کالے سایوں کے ان اندھیرے میں اپنے ماما بابا کے بغیر گزار دئیے مگر اب میں ایک پل کی بھی تاخیر نہیں کرنا چاہتی مجھے اپنی بیمار ماں سے ملنا ہے،، میرے پیارے بابا،، میری چھوٹی سی معصوم بہن،، مجھے اسے ڈھونڈنا ہے،،
ہچکیوں کے ساتھ وہ اپنا درد بیان کر رہی تھی۔ آبدار نے اس کی کمر سہلائی۔
حوصلہ کریں کوئین،، آپ نے دیکھا نہیں، ہمیں آپ کو قید سے آزاد کروانے ، سامر اور بلیک وچ کو دردناک موت دینے کے لئے کیا کرنا ہے،، وہ بے تحاشا بلیک میجک اور بلیک پاورز کے مالک ہیں، ہمیں ان سے بھی زیادہ طاقتور ہونا پڑے گا،، اور وہ تب ہوگا جب ہم “سوارڈ آف وائٹ لائٹ” لے کر آئیں گے،،
“سوارڈ آف وائٹ لائٹ،، وہ کہاں سے ملے گا آب،، چلیں نا لے کر آتے ہیں،،
مایا وش اس کے بے حد قریب اب اس کی کالر سے شرٹ دبوچ کر جھنجھوڑتی بچوں کی طرح بولی تو وہ گہرا مسکرایا اور اس کی کمر کے گرد مضبوط بازوؤں کا حصار قائم کیا۔
میری جان وہ کہیں سے ملے گا نہیں ہمیں بنانا پڑے گا،،
کیسے آب،، مایا وش اس کی آنکھوں میں جھانکتی پوچھ بیٹھی۔
“چار چیزوں سے،،
1″سراب کی انگوٹھی (فیری ٹوپیا سے)
2″محبت کا ماپ ( ڈریگن لینڈ بلیک فوریسٹ سے)
3″امید کی پہلی کرن سے بنا سیپ کا موتی (اوشیانہ سے)
4″اوشیانہ کے تخت کے تاج کا نیلا ہیرا
یہ بہت طویل سفر ہوگا کوئین، بہت لمبا، جو کہ ہمیں ایک ساتھ ایک جان ہو کر طے کرنا ہے جلد سے جلد،، سامر کے جاگنے سے پہلے پہلے،، کیا آپ اس سفر کے لئے تیار ہیں،، چلیں گی ناں میرے ساتھ،،
آبدار کے بازوؤں کا گھیرا تنگ ترین ہو چکا تھا۔ نگاہیں بار بار بھٹک رہی تھیں۔۔ سرخ ناک اور سرخ لبوں کی کشش جان لیوا تھی۔ نگاہ بھیگی لرزتی پلکوں میں اٹک رہی تھی لبوں کے پیچ وخم میں الجھ رہی تھی۔ وہ اس کے بالوں کے بے حد قریب بول رہا تھا۔ گرم سانسوں کی سلگتی تپش سے مایا وش کا چہرہ سرخ ہو کر تپ اٹھا۔ سامنے والے کی نگاہیں اتنی گہری تھیں کہ مایا وش کا ماتھا پسینے سے تر ہوا۔ وہ اس کی بانہوں میں کسمسائی۔ مصیبت تو یہ تھی کہ آ بیل مجھے مار کے مترادف وہ خود اس کی پناہوں میں سمائی تھی۔
ا،، ایک،، شرط،،، پپ،، پر مم،، میں آپ کے ساتھ چلوں گی،، اپنا حلق تر کر کے بمشکل اس کی قربت میں مچلتی بول پائی۔
بولئیے کوئین،، مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے،، وہ جزب کے عالم میں آنکھیں موندے بولا یہ جانے بغیر کے وہ اس کا کلیجہ چیر کر اس میں سے اس کے دل کے ٹکڑے کرنے کو بولے گی۔
آ،،، آپ،، مم،، میرے قریب نن،، نہیں آئیں گے،، وہ اس کے بازوؤں سے نکلتی بولی۔ جبکہ آبدار حیرت وصدمے سے گنگ بس اسے دیکھے گیا۔ کئی لمحے قہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا تھا بے بسی سے ۔ مایا وش نے اپنے لب کچلتے نگاہیں جھکائیں تھیں۔
ٹھیک ہے وعدہ رہا کوئین،، آپ کی مرضی کے بغیر کبھی آپ کے قریب نہیں آؤں گا،، اب تو چلیں گیں ناں میرے ساتھ،،
آبدار نے کہتے اس کے سامنے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلائی۔
جبکہ وہ تو شدت جزبات سے اس کے سینے سے ہی لگ گئی۔
آبدار اس کی اس جان لیوا ادا اور جسم و جاں میں سنسنی سی بھر دینے والی قربت پر جھنجھلا گیا۔
یہ تو غلط بات ہے کوئین، مجھ سے پرامس کر کے اب آپ خود ہی،،
اس نے جبڑے بھینچے۔ وہ کنفیوز سی اپنے چہرے پر آتے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتی خود بھی پیچھے ہٹی۔
سوری،،، اس نے دانتوں تلے لب دبا کر کہا۔ آبدار نے نگاہیں چرائیں۔
چلیں،،، آبدار نے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ اسے لئے پنک محل سے نکل کر ایک جانب تیرا۔ اپنے مخصوص زرائع سے اپنے بابا ازلان کو بھی ساری بات سمجھا چکا تھا وہ۔ ایک مرتبہ رائل پیلس جانا ضروری تھا لہزا اب وہ رائل پیلس کے پول میں سے ہی باہر نکلنے والے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
روز ازلان کو تمام حقیقت بتا چکی تھی۔ وہ پتھر سے بنے اپنی جگہ پر جامد ہو چکے تھے۔
ایلا نے یہ کیا ظلم دھایا تھا ان پر،، وہ ان کے ساتھ ایسا کیسے کر گئی تھی کہ ان کی جان بچانے کو اتنا بڑا جھوٹ بول گئی۔ نا صرف جھوٹ بولا بلکہ ان کو خود سے دور بھی کر دیا۔
وہ پتھرائے سے تھے۔
اور روز مسلسل بولے جا رہی تھی۔
انھوں نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا تھا۔
چپ کرو میری بچی،،، یہ لڑکا تو ہے ہی بلکل پاگل،، اس سب میں بھلا تمھارا کیا قصور ہے،، ازلان نے اس کی پیٹھ تھپتھپائیں تھی۔
یہ آنسو پونچھ ڈالو بچی ،، ابھی تو ایک بہت بڑی جنگ لڑنی ہے تم نے اپنی ماں کے خلاف،، ہمارے لئے،، اپنی ماسی کے لئے،،، اور خاص کر اوشیانہ کے لوگوں کے لئے،،، تم ابھی سے ہمت نہیں ہار سکتیں،، ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے تمھیں ہمارے لئے،،
ازلان نے کہا تو روزیلہنے اپنے آنسو پونچھے۔
بتائیے بابا،، مجھے کیا کرنا ہوگا ماسی کے لئے،،
اپنی جان دے سکتی ہو،، ازلان نے دلچسپی سے پوچھا۔ روزیلہ چونکی۔ مگر فوراَ
جی دے سکتی ہوں،، روزیلہ نے دل کی گہرائیوں سے سچ بولا۔ جو ازلان نے اس کی آنکھوں میں سے دیکھ لیا۔
تو ٹھیک ہے پھر اس طریقے سے ایک قسم کی جان ہی دینی ہے تم نے کیونکہ میرے پاگل غصیل بیٹے سے شادی کرنی ہوگی تمھیں چند دنوں کے لئے روز،،،تو تم تیار ہو،،
ازلان نے روزیلہ کے سر پر بم پھوڑا۔ وہ پھٹی پھٹی سہمی نگاہوں سے انھیں دیکھے گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
یہ کیا بول رہے ہیں آپ ڈیڈ،،، ایسے کیسے ہو سکتا ہے،، یہ کیسے ممکن ہے،، اس کی ماں مجرم ہے ہماری آپ ایسا کیسے بول سکتے ہیں اور سچ بات تو یہ ہے وہ جو مرضی بولے مجھے رتی برابر بھروسہ نہیں اس پر ،،،، عائش دانت پیس کر بولا تھا۔
عائش،، مجھے اپنی ماں سے ملوا دو یار،، ازلان نے کچھ ایسے ملتجی اور کربناک لہجے میں کہا تھا کہ عائش کی تمام مزاحمت وہیں دم توڑ گئی تھی۔
وہ جز بز سا خونخوار نگاہوں سے دروازے سے لگی روز کے سائے کو گھورنے لگا جو اس کی تمام گوہر افشانیاں سن رہی تھی۔
چند لمحوں تک وہاں خاموشی چھائی۔ اپنے باپ کی تڑپ،، بے چینی، اداسی ،ویران آنکھیں دیکھی نہیں جا رہی تھیں اس سے۔ وہ خود بھی تو برسوں ممتا کے لئے تڑپے تھے۔
رائٹ تو کیا پلین ہے آپ کے پاس ڈیڈ،،
عائش نے اقرار کیا تھا۔ روزیلہ کے گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔ کن اکھیوں سے چھپ کر اسے دیکھ رہی تھی جو ہمیشہ غصیل شارک کی طرح کاٹنے کو دوڑتا تھا۔
تم روز کو وہ لاکٹ پہناؤ گے،، میں سینٹوسا بیچ پر رہوں گا،، روز تمھیں لے کر تاشہ کے پاس جائے گی اور کہے گی کہ تم اوشن کنگ ہو،، اور اس نے تم سے شادی کر لی ہے اور تمھیں اوشیانہ لے جائے گی،، روز تاشہ کو یہ بھی بتائے گی کہ دوسرا پرنس مر چکا ہے،، یقینا وہ اس بات کی تصدیق کروائے گی،، مگر آب یہاں نہیں ہوگا،، میں اس سے کنیکٹیڈ ہوں،، اس نے مجھے پیغام دیا کہ اسے اپنی کوئین کے ساتھ ایک لمبے سفر پر جانا ہے،، تو آب یہاں نہیں ہوگا تو اسے یہ سب سچ لگے گا،، جب تک ایلا اس کے قبضے میں ہے ہمیں یہ ڈرامہ کرنا پڑے گا،، جیسے ہی ایلا آزاد ہوگی،، تب تم روز کے گلے سے وہ لاکٹ اتار کر اسے آزاد کر دینا،، کیونکہ تمھاری شادی ڈریگن پرنسز سے ہونا طے ہو چکی ہے عائش،،
ازلان نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وہ غور سے سنتا رہا۔
تم لوگ جلد از جلد ایلا کو رہا کروانے کی کوشش کر کے اسے سینٹوسا بیچ پر میرے پاس لاؤ گے،، پھر تاشہ سے لڑنا آسان ہوگا،، کیونکہ اس کے پاس ہماری کوئی کمزوری نہیں ہوگی،، اگر آب یہاں ہوتا تو وہ یہ کام بہت بہت آسانی سے کر سکتا تھا مگر اب میں اسے کچھ نہیں بتاؤں گا،،، تاکہ وہ جس مقصد سے جس سفر پر روانہ ہورہا ہے وہاں سے کامیاب ہو کر لوٹے،، وہ اب تک تاشہ اور تمھاری ماں کے بارے میں بھی اس لئے نہیں جان پایا کہ ابھی وہ نوعمر کنگ ہے،، ویسے بھی اس کی کوئین کے بغیر اس کی طاقت ادھوری ہے،،، تاشہ نے ایک حصار بنایا ہے جس سے آگے وہ کچھ دیکھ کچھ سن نہیں پاتا،،
ازلان سانس لینے کو رکا۔
عائش میں اور انتظار نہیں کرنا چاہتا یار،، مجھ میں اور پیشنس نہیں ہیں،،
ازلان نے اسے ایک جگہ پر جمے ہوئے کھڑے دیکھتے کہا۔ عائش نے اثبات میں سر ہلایا۔
روز میری بچی،، ادھر آؤ،،
ازلان نے پکارا تو وہ باہر آئی۔ تمھیں کسی بھی کسی کی کوئی بات پر اعتراض تو نہیں،، یا کوئی مسئلہ،، ازلان نے پوچھا مگر اس نے فوراََ نفی میں سر ہلایا۔ عائش نےایک نظر اسے دیکھ زمین کو گھورا۔
ابھی اپنی کچھ دیر پہلے والی بے اختیاری پر جی بھر کر طیش آیا۔
ازلان نے روز کو عائش کے سامنے کھڑا کیا۔ اس نے اپنے گلے سے ایک لاکٹ نکالا۔ عائش نے اپنے ہاتھ اس کی جانب بڑھائے۔ وہ اسے لاکٹ پہنا رہا تھا۔ اس کی نگاہیں جھکیں ہوئیں تھیں اور ان میں واضح لرزش تھی۔۔ جب عائش کی انگلیاں اس کی پچھلی گردن سے مس ہوئیں تو وہ پوری کی پوری کانپی تھی۔
عائش نے اسے لاکٹ پہنایا ۔ ایک روشنی کا جھماکا ہوا تھا۔ دونوں کے سینوں پر جل پری زاد کے ٹیٹو جگمائے تھے۔
ازلان فون پر بات کرتا باہر نکلا تھا۔ انھیں ایک بوٹ چاہیے تھے۔ سینٹوسا بیچ پر جانے کے لئے۔
ادھر وہ لرزتی کانپتی اس کے سامنے کھڑی تھی۔ عائش نے اس کا جبڑا ہاتھ میں دبوچا تھا۔ اور اپنے چہرے کہ روبرو کر کے پھنکارا۔
مجھ سے تین فٹ کے فاصلے پر رہنا ہمیشہ،، نہیں تو ادھیڑ کر رکھ دوں گا ،، وہ بول کر اسے جھٹکے سے پیچھے کر کے وہاں سے نکلا تھا۔
روز کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔
اونہہہہہہہہ،، خونی شارک کہیں کے آپ کے منہ لگنا ہی کون چاہتا ہے،، روزیلہ بڑبڑائی۔ مگر کاش وہ کبھی یہ بولنے کی جرات اس کے سامنے کر پائے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
