Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

وہ منظر بہت بھیانک تھا جب فیری ٹوپیا کے ڈیپ فوریسٹ کے پار کالی پاتال کے ایک قبرستان کے بیچ و بیچ ایک بڑا سا آگ کا الاؤ دہک رہا تھا۔ اور اس کے سامنے وہ کھوپڑی نما بد شکل اور بد ہیئت پراسرار وجود بیٹھا اپنے منہ میں کچھ منتر پڑھ رہا تھا اس کے ہاتھ میں ایک انتہائی خوبصورت شکل کا پتلا تھا جو ہو بہو مایا وش کی شکل کا تھا۔

وہ سیاہ پاؤڈر کا ایک چھوٹا سا گول دائرہ کھینچے اس میں اس پتلے کو رکھے اس کے پہلو میں سویا سی چبھو رہا تھا اور پراسرار، دہشت ناک اور بھیانک سی آواز میں اسے بولتا جاتا تھا۔

میرے پاس چلی آؤ پرنسز،،، نہیں تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی،،، ماری جاؤ گی،،فنا ہو جاؤ گی،، میری غلام ہو پرنسز،، میرے پاس آنے کے علاؤہ تمھارے پاس کوئی چارہ نہیں،،،

وہ ہزار کوشش کے باوجود اوشن کنگ تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ ہر جنتر منتر پڑھ کر پھونک لیا مگر اس کے جادو کی رسائی اس طاقت تک ممکن نا ہو پائی ۔ جس نے سامر سے اس کی پرنسز کو باغی کر کے چھین لیا تھا۔

اس نے فیری ٹوپیا میں ہر طرف اپنا زہر پھیلا دیا تھا۔ جس سے کنگ ویام ، اینچینڑرس سمیت یہاں کی فیری گارڈینز اور لوگ سب بیمار پڑ گئے تھے۔ اپنے اصل کی جانب لوٹنے پر ہی معلوم پڑا کہ پرنسز کے لئے زمین پر اس کے اوشن کنگ کا جنم ہوا تھا جسے سن وہ ہر چیز تہس نہس کرنے کے در پہ تھا۔

پھر اسے سوارڈ آف لائٹ کا پتا چلا۔ اس نے اپنے چیلے اور غدار کنگ راج اور وشہ کو شکست فاش دینے کے لیے ہر سو پھیلا دئیے۔ اب وہ کسی بھی صورت میں مایا وش کو اپنا تابع بنانا چاہتا تھا تاکہ وہ سوارڈ مکمل نا بن پائے۔

اس کے پیچھے اتنا کچھ ہو گیا اور بلیک وچ کچھ نا کر پائی اس جرم کے پاداش میں سامر نے بلیک وچ کو بہت بھیانک سزا دی اور اب بھی اس کے گلے میں ایک پٹا سا بندھا ہوا تھا اور وہ سامر کے چیلوں کے ساتھ لائن میں سر جھکائے کھڑی تھی۔

وہ غدار فیری گارڈین چہرے پر تمسخرانہ سی مسکراہٹ لیے اب اس خبیث جن اور بلیک وچ کے سامنے فتح کے نشے میں چور کھڑی تھی۔ شروع دن سے ہر غداری کی مرتکب ہو کر فیری ٹوپیا کا تخت حاصل کرنے کا سہانا خواب اب پایہ تکمیل تک پہنچنے والا تھا۔

اسی نے ہی سامر اور بلیک وچ کو فیری ٹوپیا میں گھسنے میں مدد کی تھی اور اسی نے ہی یہاں کی ہوا اور پانی میں وہ زہر ملایا تھا۔

سامر منتر پھونک رہا تھا اور اس پتلے کو لمحہ بہ لمحہ آگ کے قریب کرتا جا رہا تھا۔ جب ایک جھماکا سا ہوا۔ جیسے پانی کی ایک بڑی سی لہر اٹھی تھی اور اس سامر کے چلے کی آگ کو چلے سمیت تہس نہس کر دیا۔ اور سب سے بڑی بات سامر کے ہاتھ سے مایا وش کا پتلا غائب ہو چکا تھا۔

سامر غضب ناک ہوا تھا اور غصے سے غرانے لگا۔

اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے آقا،،، اب اس پرنسز مایا وش کو یہاں بلانے کا کوئی فائدہ نہیں،،
فیری گارڈین ایما نے خباثت سے کہا۔

کیا مطلب ہے تمھارا،،جلدی بتاؤ،،
وہ حلق کے بل چلایا تھا۔

مطلب یہ کہ اینچینٹرس کے مطابق وہ پوری طرح اس اوشن کنگ کی ہو چکی ہے،، آپ کے کسی کام کی نہیں اب،،، یعنی کہ وہ پوری طرح اس اوشن کنگ کی کوئین بن چکی ہے،،، تبھی تو آپ کا کوئی چلہ کوئی کالا جادو اسے مکمل بے بس نہیں کر پا رہا،،، اور تو اور اب اس کا پتلا بھی غائب ہو گیا،، اس پر اختیار کھو چکے آپ آقا،،

ایما نے ڈرتے ڈرتے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تو غصے سے بپھرے سانڈ کی طرح اپنے ہی ان چیلوں کو موت کے گھاٹ اتارنے لگا جو مایا وش کو ڈھونڈ کر لینے گئے تھے اور ناکام واپس لوٹ آئے تھے۔

پریشان کیوں ہے آقا،،، ابھی کھیل ختم کہاں ہوا ہے،،، ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے،،،،ایما نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔

کیا مطلب جلدی بتاؤ مجھے،،، وہ پھر بے ہنگم سا چنگھاڑا۔

مطلب یہ کہ راج کی چھوٹی پرنسز ماہا ویرا،،، وہ ہوبہو اپنی ماں اور بہن جیسی خوبصورت،، نازک ،،ان چھوئی،، اسی فیری ٹوپیا میں موجود ہے،، جسے کنگ ویام اپنی کوئین بنانا چاہتا ہے،،، مگر وہ اب آپ کی ہوگی،، آپ اپنے چیلوں کو ہر طرف پھیلا دین،،، خاص کر اوشیانہ میں تاکہ وہ اوشن کنگ وہ سوارڈ مکمل نا کر پائے،، تاخیر کو آگاہ کر دیں جو شروع دن سے ہمارا ساتھ دے رہی ہے،،،،،،، اور اس پرنسز کو میں آپ کے لیے تحفہ کے طور پر پیش کروں گی،،مجھے فیری ٹوپیا کا تخت دلانے کے بدلے میں،،، اپنے چیلوں کو حکم دیں کہ ہو سکے تو کنگ راج کے خاندان کو ختم کرنے کی کوشش کریں،،، تب ہی پورا ہو پائے گا ہمارا ہر خواب اور اس پرنسز کو میں آپ کے قدموں میں ڈال کر اپنے آقا کو خوش کر دوں گی،،،،

وہ انتہائی مکاری اور چاپلوسی سے بولتی چلی گئی جب کہ یہ سب سن کر سامر کے کھوپڑی نما چہرے پر ایک مکروہ سی مسکراہٹ لہرانے لگی۔

ٹھیک ہے،،مجھے وہ پرنسز لا کر دو ابھی کہ ابھی،،،
جاؤ،،، مجھے میری دلہن کا کر دو،،،
وہ چیخا اور زور زور سے قہقہے لگانے لگا۔

تم اب کی بار ہم سے نہیں جیت پاؤ گے کنگ راج،، تمھارا سارا خاندان ختم کر دو گا،،،
ہاہاہہاہاہہاہہاہاہاہاہاہاہہاہاہاہاہاہہاہاہاہاہہا،،،،،،،

ایما وہ مکروہ قہقہے سنتی مسکراتی وہاں سے نکلی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آبدار تڑپ کر آگے بڑھا تھا۔ تڑپتی مایا وش کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔ اور اس کے پہلو پہ ہاتھ رکھا جہاں سے بھل بھل کرتا خون بہہ رہا تھا۔

کوئین،، آبدار چلایا۔ کہ اس کائنات کی کوئی ایسی چیز نا تھی جو اوشن کنگ کو تڑپاتی۔ مگر اب جو صورت حال اس کی نگاہوں کے سامنے تھی آبدار کو اپنی روح ہواؤں میں تحلیل ہوتی محسوس ہوئی۔

اور آج حیرت انگیز طور پر اپنی کوئین کی اتنی تکلیف پر اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ شاید یہ سامر کے کالے جادو کا اثر تھا۔ کہ اس نے کوئی خاص ایسا عمل کیا تھا جو صرف اور صرف مایا وش پر ہی اثر انداز ہو رہا تھا۔ یا ایسا ہی کچھ۔

مگر یہ آبدار کی غلط فہمی ہی تھی کہ کچھ گیلا گیلا محسوس ہونے پر اس نے سر جھکا کر دیکھا تو اپنی شرٹ خون میں بھیگتی سی محسوس ہوئی۔ مگر شاید کراؤن مل جانے کے بعد وہ ایسے بے پناہ طاقتور ہو چکا تھا کہ اسے وہ درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

کوئین کیا ہوا آپ کو،،،؟ وہ اسکا چہرہ تھتھپا کر بے چینی سے بولا۔

آب،،وہ بب بلا رہا ہے مم مجھے،،، وہ بول رہا کہ اگر میں اس کے پپ پاس نا گئی ،،،،تت تو ،،،تو وہ مجھے مم مار دے گا،،،،،

وہ درد سے بے حال اس کے بازو پر سر پھٹختی بار بار سسکیاں لے رہی تھی۔ آبدار نے غصے سے پاگل ہوتے بری طرح اپنے لب بھینچے۔

آبدار نے جلدی سے اپنا کرواؤں اس کے سر پر رکھا،،،
کچھ ہی پل میں اس کے تڑپنے میں کمی ہوئی۔ مگر کچھ ہی دیر میں وہ پھر مچلنے لگی۔

ایہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،،، آب،،،مم میں جل رہی ہوں،،،، وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی۔

شاید وقت آن پہنچا تھا کہ اوشیانہ کی کوئین کو اس کے تخت پر بٹھایا جائے۔ تبھی آبدار نے اسے بانہوں میں بھرا اور آخری حربے کے طور پر اسے لئے پانی میں اتر گیا۔

مایا وش پرسکون سی ہو کر اس کے سینے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔

اوشن کے کنگ کا کراؤن اس کی کوئین کے سر پر سجا ہوا تھا۔ اس کے بلو کرسٹل کی روشنی پانی میں ہر سمت جگمگا رہی تھی۔

سمندر کا ہر زی روح انھیں جھک کر تعظیم پیش کر رہا تھا۔
مگر آب کی تمام تر توجہ اس وقت اپنی کوئین کی جانب تھی۔ اب وہ بے تحاشا پراسرار طاقتوں کا مالک تھا تبھی پانی میں اترنے کے بعد اس کی مرضی کے بغیر اس کی کوئین کو کوئی مخالف سمت سے آنے والی لہر تک نا چھو سکتی تھی۔

تبھی اب مایا وش پرسکون ہو چکی تھی۔

آبدار اسے لئے اوشیانہ داخل ہوا۔ وہاں کے لوگوں، گارڈینز ہر چھوٹے بڑے زی روح ان کی تعظیم کے لیے جھکی تھی۔

ڈھیر ساری جل پریاں اپنی کنگ کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں۔ مگر وہ مایا وش کو لئے عظیم الشان محل میں داخل ہوا۔ وہ اسے لئے اپنی خواب گاہ میں آیا تھا۔

تمام جل پریاں ڈر جھکائے اس کے حکم کی تعمیل کے لیے آگے آئیں۔ مگر
ہمیں اکیلا چھوڑ دیا جائے،، اس نے نرمی سے کہا اور مایا وش کی جانب متوجہ ہوا۔

آبدار نے اسے شاندار مخملی مسہری پر لٹایا۔ مایا وش ہنوز اس کے سینے سے لگی آنکھیں موندے ہوئے تھی۔

کوئین،،،،،، آبدار نے بے چین ہو کر اسے پکارا۔

میں ٹھیک ہوں آب،،،،، نقاہت بھری تھکی تھکی دھیمی سی آواز سنائی دی۔ تو آب نے سکون کا سانس لیا۔
اور یونہی اس کو سینے سے لگائے نیم دراز بیٹھا رہا۔

دھیمے دھیمے مایا وش نے اب آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک شاندار قسم کے شاہی کمرے میں پایا،،، مگر وہ جان گئی تھی کہ وہ پانی کے اندر تھی۔

بچپن کی مسٹری اب جا کر حل ہوئی تھی کہ آخر وہ پانی میں کیوں نہیں ڈوبتی تھی۔ یا وہ پانی میں کیوں سانس لے پاتی تھی۔

وہ دھیرے سے کسمسائی۔ اور آب کے سینے سے سر اٹھانا چاہا۔ مگر وہ اس کی کمر پہ دباؤ بڑھا کر اسے ایسا کرنے سے روک گیا۔

آب میں ٹھیک ہوں،،،، وہ نرمی سے بولی۔

مگر اب میں ٹھیک نہیں ہوں کوئین،،، لیٹی رہیں ،، محسوس کرنے دیں اس کنگ کو کہ آپ بلکل ٹھیک ہیں،، یہ نا ہو آپ کو پھر سے اس کنگ کو جھیلنا پر جائے،،،،
وہ آنکھیں موندے دھیمے سے بولا تھا۔

مایا وش کے گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔ کہ واقعی وہ رات اپنے ہر عمل سے ثابت کر چکا تھا کہ اسے برداشت کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ مگر وہ پھر بھی سیدھی ہوئی اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔

آب،، میں ٹھیک ہوں،، ہمیں سوارڈ کی آخری چیز ڈھونڈنی چاہیے،،، نہیں تو وہ جانے کیا قہر ڈھائے گا،، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے آب،، کہیں وہ ہمارے کسی اپنے کو کوئی نقصان نا پہنچا دے،، اس سے پہلے ہمیں اسے ختم،،،،،،،،،،،،،،،

وہ نرمی سے دھیرے دھیرے بولتی اپنے خدشات بیان کر رہی تھی جب آب نے اس کے ہونٹوں سے اس کا ہر لفظ ہر خدشہ چن لیا تھا۔

مایا وش اس کی شدت پر بوکھلائی تھی۔ اور اس کے کندھے جھنجھوڑ کر اسے ہوش دلانے کی کوشش کی جو مدہوش سا پھر اس پر ہر طرح سے حاوی ہوتا جا رہا تھا۔

آب،،،،،،، اس کے لبوں کو آزادی ملی تو مایا وش نے گھبرا کر اسے پکارا۔

آپ نے مجھے ڈرا دیا تھا کوئین،، ایک بس آپ کے کھونے کا ڈر ہے جو اس کنگ کی رگوں سے اس کا خون تک نچوڑ لیتا ہے،، میں کیا کروں کہ یہ خوف میری رگ رگ سے باہر نکل جائے،،،،،

وہ بے جان سا اس کی گردن میں منہ دئیے کسی بادل کی طرح اس پر چھایا ہر طرح سے اس پر برسنے کو تیار تھا۔

آب،،،،، وہ گبھرائی۔

اشششششششششش،،،، خاموش رہیے کوئین،،،
آب نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی۔ اس دوران پہلی مرتبہ آب نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔

اور آب کی لال انگارا آنکھوں میں موجود اس قدر وحشت، بے چینی و بے قراری دیکھ مایا وش بھی ان آنکھوں میں ڈوبنے لگی۔ تبھی زرا سا اوپر اٹھ کر آہستگی سے ان وحشت بھری جلتی آنکھوں پر اپنے نرم گداز ہونٹوں سے ٹھنڈک پہنچا کر اس کی بے چینی کا مداوا کرنے کی چھوٹی سی کوشش کی۔

جب مایا وش کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اس سے ہر طرح سے جیتنے لگا ہے تو نرمی اور خاموشی سے اپنے آپ کو اس کی شدت بھری پناہوں کے حوالے کر دیا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ بے چین سی کھڑی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔

فیری ٹوپیا میں ہر سمت ہر کوئی بیمار تھا۔ پھول مرجھا گئے تھے۔ سبزہ زاروں پر دبیز زیریلی سی سیاہی چھا گئی تھی۔ کوئی بھی اڑ نہیں پا رہا تھا۔۔۔

اینچینٹرس بھی بیمار تھی مگر اتنی نہیں اب بھی وہ سب کچھ بھول بھال کنگ ویام کی خدمت پر معمور تھیں۔ کافی ساری خادمائیں کمرے میں موجود ویام۔کی دیکھ بھال کر رہیں تھیں۔

جب کہ وہ ایک کونے پر کھڑی سرد و سپاٹ چہرہ لیے یہ سب کاروائیاں ملاحظہ کرتی کسی گہری سوچ میں تھی۔ یہ بیماری ہر اس جاندار چیز کے لیے تھی جس کے پر تھے ۔ تو ماہا ویرا پر اس زہر کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اتنی بیماری میں بھی وہ مسلسل اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔ اور اپنے اوپر پڑتی اس کی گہری نگاہوں کی تمازت ماہا ویرا اچھی طرح محسوس کر سکتی تھی۔

پھر آخر اس کی خاموشی ٹوٹی ۔ اور بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی۔
وہ آہستگی سے چلتی اینچینٹرس کے پاس آئی تھی۔

اینچینٹرس،،،مجھے ڈریگن لینڈ جانا ہے،،ابھی کہ ابھی ،، اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ویام نے حیرت صدمے سے اسے دیکھا۔اسے تو لگا تھا کہ وہ اپنی محبت اس کی رگوں میں انڈیلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ مگر اس کی بے رخی نے ویام کے جسم سے اس کی روح کھینچ لی تھی جیسے ۔اینچینٹرس بھی غیر یقینی صورتحال میں اسے سنجیدگی سے دیکھے گئی۔

کوئین اس وقت کنگ کو آپ کی اشد ضرورت ہے،،، اینچینٹرس نے آہستگی سے کہا۔

مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں،، نا کسی چیز سے کوئی فرق پڑ رہا ہے،،،،، تو بہتر یہی ہے ناں اینچینٹرس کے مجھے میرے مما بابا کے پاس جانے دیا جائے،،،
وہ سرد سے لہجے میں بول کر ان سب کی رہی سہی امیدیں بھی بری طرح اپنے پاؤں تلے روند گئی تو ویام نے سختی سے آنکھیں بھینچیں۔

اینچینٹرس میرا حکم ہے،، کہ انھیں ابھی کہ ابھی ڈریگن لینڈ بھیج دیا جائے،،،
ویام نے اذیت کی انتہا لیے اپنے جبڑے بھینچ کر کہا تھا۔

اینچینٹرس نے خاموشی سے اسے اشارا کیا اور اس کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ بھی جھٹکے سے وہاں سے تیزی سے چلتی باہر نکلی تھی کہ پیچھے مڑ کر دیکھنا تک گوارا نا کیا کوئی ہے جو آنکھوں میں دنیا جہان کی حسرت لیے آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ جاتے جاتے اس کی یہ امید بھی بری طرح توڑتی چلی گئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

شام کا وقت تھا وہ دونوں بیچ پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ عائش نے اس کا بہت خیال رکھا تھا تبھی اب وہ کافی حد تک دوبارا صحت یاب ہو چکی تھی۔

اب کیا محسوس کرتی ہو روز،،،،،
اس نے اس کے ساتھ ہمقدم ہوتے پوچھ بھی لیا۔ وائٹ شارٹ شرٹ پہنے وائٹ ہی سکرٹ کے ساتھ وہ اسے سر تا پا گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

بلکل ٹھیک،، اب میں بلکل ٹھیک ہوں،،،
روز نے سکون سے کہا۔

مطلب اب ہم اپنے پینڈنگ چھوڑے کام مکمل کر سکتے ہیں رائٹر،،،،،
عائش نے معنی خیزی سے پوچھا۔ تو اس کی بات سمجھ کر روز سر تا پیر سرخ پڑ گئ۔

اونہووں، اس کے علاؤہ تو اور کوئی کام نہیں نا میرے اوشن پرنس کو،،،،
روز نے چھوٹی سی ناک چڑھا کر اسے چھیڑنے والے انداز میں کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔ مگر عائش نے اسے اپنی شدت بھری گرفت میں لیا تھا۔

اب لپسٹک ریمور کے نام سے بدنام ہوں تو اپنے خطاب کا کچھ تو حق ادا کرنے دو ناں روز بےبی،،،،
وہ اس کے چہرے کے بے حد قریب سرگوشیاں کرنے میں مصروف تھا۔ ان سلگتی سانسوں کی حدت سے روز کا چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا۔ وہ بری طرح گھبرائی تھی۔ اس کی جان لیوا قربت تو شروع دن سے اس کی سانس اس کے سینے میں اٹکا دیا کرتی تھی۔

اور آپ مجھے آج سچ سچ بتائیں گے کہ آپ نے آخر کتنی لپ اسٹکس ریموو کی ہیں ،،
وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کے لیے اس کو غصے کے پیرہن میں اوڑھ کر اس کا گریبان پکڑ کر غرائی۔

عائش مسکرایا تھا۔ وہ ماضی تھا روز بےبی،،،اب کی بات کرو،، اب تو ان ہونٹوں کے لیے پہلا اور آخری تختہ مشق تمھارا ہی وجود ہے،، اب کیا کرو گی،، کہاں جاؤ گی،، کتنا سہو گی،،، کیا کیا برداشت کرو گی،،،

وہ اسے زچ کرتا مسلسل چھڑے جا رہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہیں تھیں جو وہ بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

تبھی عائش جی جان سے ہلا تھا۔
آہہہہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،،
بہت اچانک پیٹھ پر وار کیا گیا تھا۔ عائش بری طرح لڑکھڑایا۔
عائش،،، روز چلائی۔ اور اسے سینے سے لگایا۔ روز نے دیکھا اس کے پیچھے بڑے بڑے دیو ہیکل آکٹوپس موجود تھے اور ان میں سے ایک پر اس کی ماں تاشہ سوار تھی۔ اور اس کی ماں تاشہ کا ترشول عائش کی کمر میں پیوست تھا۔

روز یہ مناظر دیکھ غم وغصے سے پاگل ہوئی تھی۔ عائش،،،،،،،،، وہ چیختی تڑپتی اس کا نام پکارے گئی۔

اٹھاؤ دونوں کو اور چلو یہاں سے،،،
تاشہ چلائی تھی۔ اور اس کے حکم پر ان آکٹوپس کے ٹینٹکلز نے ان دونوں کو جکڑ کر اپنی قید میں لیا تھا۔

روز مسلسل چیختی چلاتی رہی مگر وہ آکٹوپس ان دونوں کے لیے پانی میں اترے تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ بلیک ہول بہت بڑا تھا جسے وہ مسلسل کھڑی گھور رہی تھی۔ اینچینٹرس اس کا راستہ بناکر نم آنکھیں لیے اسے شاہی گارڈن میں اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھی۔ اور اب وہ سرد وسپاٹ چہرہ لیے وہاں کھڑی تھی۔

ماہا ویرا نے اپنا قدم آگے بڑھایا جب اسے وہیں رکنا پڑا۔
پرنسز ،،رکو،،،
اس کے پیچھے ایلا ہاتھ باندھے اطمینان سے کھڑی تھی جو سب کے سامنے بیمار ہونے کی کامیاب اداکاری کر رہی تھی۔

ماہا ویرا پیچھے مڑی اور حیرت ظاہر کیے بغیر آئبرو اچکا کر اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

اس کنگ ویام نے تم پر اتنے ظلم کے پہاڑ ڈھائے،، اتنا کچھ کیا تمھارے ساتھ،، تمھارے ماں باپ بے قصور تھے اس نے پھر بھی انھیں تکلیف پہنچانے کو کیا کچھ نہیں کیا،،، تمھیں زہر دیا،، تمھارے جسم سے اور جزبات سے کھیلا،،، اتنا کچھ ہونے کے بعد زندہ چھوڑ جاؤ گی اسے،،اپنا بدلہ نہیں لو گی،،،
ایلا نے سکون سے کہا تھا۔

اور تمھیں کس نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گی،،، نہیں چھوڑوں گی میں اسے،، اپنے ہر پل ہر لمحہ کی اذیت کا بدلا لوں گی ،،،، یہ بدلا اسے اپنی جان دے کر چکانا ہے،،،،
ماہا ویرا نفرت سے صفائی تھی۔

تو ٹھیک ہے تم ڈریگن لینڈ مت جاؤ،،، میں تمھیں ایک ایسے شخص کے پاس لے جاؤں گی،،، جو تمھارا بدلا لینے اور اس کنگ ویام کا سر قلم کرنے میں تمھاری مدد کرے گا،،،

ابھی نہیں،،،ابھی مجھے ڈریگن لینڈ ہی جانا ہے،،، مگر میں کچھ ہی دیر میں لوٹ آؤں گی،، پوری تیاری کے ساتھ،،اپنے بابا سے ڈریگن بننے کا منتر سیکھ کر آؤں گی،، فیری ٹوپیا کو اور اس کے تمام لوگوں کو اور خاص کر اس کنگ کو جلا کر خاکستر کرنے کے لیے،، اپنے بابا سے مل آؤں ،،،پھر میں تمھارے ساتھ اس شخص کے پاس جاؤں گی ،، اور پھر ہوگی فیری ٹوپیا کی بربادی کی شروعات،،،
ماہا ویرا نے سرسراتے لہجے میں کہا تھا۔

ایما خاموش ہو گئی۔اگر اپنی بات پر زور دیتے اصرار کرتی تو ماہا ویرا کو شک نا ہو جاتا تبھی خاموش رہی۔

مگر تم کون ہو،، کیا چاہتی ہو،، میری مدد کیوں کر رہی ہو ،، اس شخص کو کیسے جانتی ہو کون ہے وہ ،،اود میں تم پر کیسے بھروسہ کروں؟
ماہا ویرا نے سنجیدگی سے پوچھا تو ایما گڑبڑا گئی وہ چھوٹی سی لڑکی اتنی بھی بے وقوف نہیں تھی جتنا وہ اسے سمجھ رہی تھی۔

میں تمھارے تمام سوالات کا جواب تب دوں گی جب تم ڈریگن لینڈ سے واپس لوٹ کر آؤ گی،،، اور تمھیں مکمل بھروسہ دلا کر ہی اگلا قدم اٹھاؤں گی،، وعدہ کرتی ہوں،،
ایما نے خباثت سے کہا۔

ماہا ویرا نے سر ہلایا اور بلیک ہول میں داخل ہو گئی۔ ماہا ویرا کے ہول میں داخل ہوتے ہی وہ غائب ہو گیا۔
پیچھے ایما اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچتے سوچ تمسخرانہ سی مسکرائی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️