Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ویرا کالج کے لئے بلکل تیار سیڑھیوں سے نیچے اتری تھی۔ گھٹنوں تک ریڈ شارٹ فراک پہنے نیچے جینز کی ٹائٹس اور گلے میں ریڈ سکارف۔
ہائے ڈیڈ،، وہ جمی کو وش کرتی جلدی جلدی بریک فاسٹ کرنے لگی۔
یہ کیا طریقہ ہے پرنسز، تسلی سے کھانا کھاؤ،، جمی نے اسے ڈانٹا۔ مگر وہ آنکھ ونک کرتی آدھا سلائس اٹھا کر اپنا بیگ اٹھا کر باہر بھاگ گئی۔ جمی بھی مسکرا دیا۔

وہ نیویارک کالج کے گیٹ کے سامنے گاڑی سے اتری تو حسبِ معمول ہر نگاہ اس کے غیر معمولی حسین چہرے پر اٹھی تھی۔
کالج اینٹر ہوتے ہی اس کا موڈ بری طرح خراب ہوا تھا جب وہ ڈھیٹ بنا ہمیشہ کی طرح اس کے سامنے دیوار بنا کھڑا ہو گیا۔

جانے کس ڈھیٹ مٹی کا بنا تھا۔ وکی شیرگل کہ دو سال سے بڑی مستقل مزاجی سے (اس کے اس قدر بے تحاشا حسن براؤن آنکھیں براؤن سلکی بال دیو مالائی حسن سے متاثر) ہاتھ منہ دھو کر اس کے پیچھے پڑا تھا بلکہ ایک مرتبہ ماہا ویرا سے تھپڑ بھی کھا چکا تھا۔
“کیسی ہو، اتنے دنوں بعد کالج کیوں آئی، نیو کلاسز تو کب کی سٹارٹ ہوئیں،،
تم سے مطلب وکی شیرگل، مائنڈ یور اون بزنس،، ہٹو راستے سے صبح صبح موڈ خراب مت کرو میرا،، ماہا ویرا کا لہجہ ہتک آمیز تھا۔ مگر سامنے والے کو اثر زرا کم ہی ہوتا تھا۔
تمھیں جی بھر کر دیکھ تو لوں بےبی،، وہ ایک قدم اور آگے بڑھا تو ماہا ویرا کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے مگر وہ اپنے ہاتھ ناپاک نہیں کرنا چاہتی تھی۔ تبھی اس کے پہلو سے نکل کر اندر کی طرف بڑھی جب وکی نے اتنی ہی تیزی سے پھر سے اس کی کلائی تھامی تھی۔ اور اتنی ہی سرعت سے ماہا ویرا کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر اٹھا تھا۔
چٹاخ،،،،،،،،،،، ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج پورے گراؤنڈ میں سب کو سنائی دی تھی۔ وکی کا چہرہ غم وغصے سے سرخ ہوا تھا۔ ماہا ویرا نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
آئندہ چھونے کی جرآت کرنے سے پہلے اس تھپڑ کو یاد رکھنا،، وہ پھنکاری اور سر جھٹک کر تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
وہ جو انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔ سٹوڈنٹس کی دبی دبی ہنسی دیکھ غصے سے پاگل ہوتا پاکٹ سے فون نکالتا ایک جانب گیا تھا۔

ہاں آج آجانا،، بڑا لحاظ کیا، میں تو اسے گرل فرینڈ بنانا چاہتا تھا مگر اب ادھڑی ہوئی حالت میں جب اسے گٹر میں پھینکوں گا، تب پتا چلے گا کہ واقعی چھونے کی جرأت کرنے سے پہلے میں نے صرف اور صرف ان دو تھپڑوں کو ہی یاد رکھا تھا،، آجاؤ جلدی سے،، آڈیٹوریم میں،، میں کسی طرح بہانے سے اسے وہاں لے آؤں گا،، گڈ بائے،،
وہ دنیا جہان کی خباثت اپنی سرخ آنکھوں میں سجائے اب اپنی سیکرٹ پاکٹ سے نشہ آور انجیکشن نکال کر اپنے بازو میں انجیکٹ کرنے لگا۔

مایا وشہ رینا کے ساتھ کلاس لے کر باہر نکلی تھی جب سامنے سے کیتھی آتی دکھائی دی۔
ہائے ماہا،، تمھیں پروفیسر واٹسن نے آڈیٹوریم کے پاس والے روم میں بلایا ہے،،
لیکن کیوں،، ویرا نے اچنبھے سے پوچھا۔
یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم،، اس نے کندھے اچکائے اور بول کر وہاں سے چلتی بنی۔ اور وہ جو پروفیسر واٹسن کی چہیتی سٹوڈنٹ تھی۔ چپ چاپ مگر الجھی ہوئی آڈیٹوریم کی جانب بڑھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

روزیلہ اداسی سے ماں کے ساتھ سینٹوسا بیچ تک آئی تھی۔
اب تم جانتی ہو آگے تمھیں کیا کرنا ہے پرنسز، اپنا مقصد یاد رکھنا، اور اسے پورا بھی کرنا، اگر کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا تمھاری پیاری سی ماسی جان سے جائے گی،
تاشہ نے خباثت سے ہنستے کہا۔
روزیلہ نے آس بھری نگاہوں سے ماں کو دیکھا کہ شاید اسے رحم آ جائے مگر وہ اسے نظر انداز کرتی مزید بولی۔
میرے جادوئی محافظ تمھارے دنیاوی ماں باپ بن کر تمھارے ساتھ رہیں گے،، تم اس لاکٹ میں سے ہر روز ایک موتی نکال کر کھاؤ گی انسان جیسا بننے کے لئے اور اپنی پونچھ چھپا کر انسانی پیروں کے لئے،، اگر ایک دن بھی موتی نہیں لیا تو جل پری بن جاؤ گی،، سانس نہیں لے پاؤ گی انسانی دنیا میں،، اسی لئے یہ کھانا لازمی ہے، یہ جادوئی موتی ہیں،، سمجھ رہی ہو ناں،،
تاشہ نے چھبتے لہجے میں کہا تو اس نے سرخ اور نم آنکھوں سے ماں کو دیکھا۔
ماں مجھے خود سے الگ مت کریں، میں نہیں جانا چاہتی انسانی دنیا میں، مجھے ڈر لگتا ہے،، روزیلہ اداسی سے بولی۔

پاگل مت بنو روز، ایسے کیوں نہیں کہتیں مجھے اپنی اس ماسی کے ساتھ رہنا ہے، تاشہ سے اپنی ماں سے غداری کرو گی تو یہی سزا ہے تمھاری، اور خبردار ڈرنے کی بات کی تو ، تاشہ کی بیٹی ڈرپوک نہیں ہو سکتی،،
تاشہ نے اسے بری طرح جھڑکا۔
وہ سسک پڑی۔ مگر تاشہ نے زبردستی اسے موتی کھلا کر اپنے خدمت گاروں کے ساتھ روانہ کر دیا۔

وہ ڈری سہمی ان کے ساتھ بیچ پر بنے ایک کاٹیج میں آئی تھی۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اب اسے ایک انسانی زندگی جینی تھی۔ انسانوں کے بیچ رہنا تھا۔ انسان بن کر، حتی کے کالج بھی جانا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش خاموشی سے کائلہ کے پیچھے کھڑی تھی۔ اور وہ پرنسپل سے بات کر رہی تھی۔ پرنسپل سے بات کر چکے تو وہ اسے لئے باہر نکلی۔ وہ طویل ترین گراؤنڈ کراس کر کے کلاسز کی جانب جا رہی تھیں۔

جب ایک جانب سے نکل کر ایک پرکشش سی لڑکی ان کے سامنے آئی۔ اور انھیں بغور دیکھنے لگی۔ مایا وش پریشان ہوئی اور ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے۔ وہ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ کائلہ نے فاتحانہ مسکراہٹ لیے اس سانولی سی لڑکی کو دیکھا جو ایشین لگتی تھی۔
کائلہ نے مایا وش کو مخصوص اشارہ کیا وہ دہل کر رہ گئی۔ کائلہ اپنی میوزک کلاس میں چلی گئی تو مایا وش پیچھے مڑی اور اس لڑکی کو پریشانی سے گھورا۔

کیا بات ہے؟ ہمارے پیچھے کیوں آ رہی تھی،؟ گاؤن میں نقاب کے پیچھے سے ایک سریلی سی آواز سنائی دی تو سنجنا کا سکتہ ٹوٹا۔ اس نے حیرت سے ارد گرد دیکھا وہ تو گراؤنڈ سے گزر کر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا رہی تھی تو یہاں کیسے۔
وہ،، مم،، مجھے میوزک کی آواز سنائی دی، ویسا میوزک میں نے کبھی نہیں سنا، وہ جو تمھارے ساتھ اولڈ لیڈی تھیں، وہ میوزک ان کے قریب سے سنائی دے رہا تھا، وہ اتنا اچھا تھا کہ میں سنتی سنتی تم لوگوں کے پیچھے چلی آئی،،
وہ گڑبڑا کر بولی۔ مگر اس کی بات سے مایا وش کہ حسین ترین آنکھوں میں ایسے عجیب سے تاثرات تھے کہ سنجنا کو دنیا بھول گئی اور وہ مبہوت سی اس کی آنکھوں میں ڈوب کر ابھری۔
ہائے آئم سنجنا فرام انڈیا، اور تم، اتنا پردہ کرتی ہو یقینا مسلم ہوگی یا پھر پاکستان سے،، ہے ناں،، سنجنا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

ہاں،،، میرا نام مایا وش ہے،، مایا وش نے اپنا مخملی ہاتھ آگے بڑھایا جسے سنجنا نے تھاما تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی روئی کے گال کو تھام لی ہو۔ اس نے حیرت سے اس کا ہاتھ دیکھا۔

میں سیکنڈ ائیر کی سٹوڈنٹ ہوں، اور تم،،؟ سنجنا مزید اس کے قریب آئی۔
میں بھی،، شاید اسے مختصر بات کرنا سکھایا گیا تھا۔
اوہہہہ،،،، ویری گڈ،، پھر کیا تم میری دوست بنو گی،، بلکہ میں پوچھ ہی کیوں رہی ہو، آج سے ہم دونوں فرینڈز، آؤ تمھیں کلاس میں لے کر جاؤں،،،
وہ اس کا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔ اس کا ہاتھ تھامے کلاس کی جانب گئی۔ بہت زیادہ باتونی اور ہنس مکھ لڑکی۔ مایا وش اسے مسکرا کر دیکھتی رہی۔

وہ کلاس کے اندر داخل ہوئیں۔ کلاس کم مچھلی بازار زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ ہر کوئی اپنا پنا گروپ بنائے باتوں میں مصروف تھا۔ ایک گروپ کے ارد گرد زیادہ چمگھٹا تھا۔ جس میں عائش اور آبدار کھڑے تھے۔ ان کے گرد جیک ڈینیل اور ارحم تھے۔ باقی سب سات سے اٹھ لڑکیاں تھیں جو ان کے کافی کلوز کھڑی تھیں۔
عائش اور آبدار کے تو باپ کا راج تھا۔ کالج کا یہ ٹاپر کلاس میں کم اور اپنے فرینڈز کے ساتھ زیادہ نظر آتے تھے۔ جس کلاس میں دل کرتا بیٹھ جاتے۔ اب بھی تبھی اس کلاس میں موجود تھے۔

سنجنا اور مایا وش کلاس میں داخل ہوئیں تو وہ دونوں ایک عجیب سی آواز آنے سے دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ دونوں نے کوفت بھری نگاہوں سے اس گاؤن میں لپٹی لڑکی کی جانب دیکھا تھا کیونکہ اس کے پیروں ہاتھوں میں سے جو آواز آ رہی تھی وہ ان کے کانوں کو کافی زیادہ چبھ رہی تھی۔ اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا۔ ایسے احساسات پہلی مرتبہ ہوئے تھے۔

مایا وش اور سنجنا آ کر سیٹ پر بیٹھی گئیں۔
یہ لیڈی تمھارے ساتھ کون تھیں؟ سنجنا کے سوالات کا مرحلہ پھر سے شروع ہوا۔
میری مدر،، مایا وش نے اداسی سے نظریں چرا کر کہا۔
وہ ادھر کیوں آئیں تھیں؟ سنجنا کو حیرت تھی۔
وہ یہاں میوزک ٹیچر ہیں،، مایا وش نے بےتاث لہجے میں بتایا۔
وہ میوزک کی آواز،،،
اسے بھول جاؤ سنجنا اب اگر کوئی آواز آئے تو اپنے کان بند کر لینا،، مایا وش نے دانت پیس کر کہا۔

وہ دونوں باتیں کر رہیں تھیں۔ مگر وہان موجود دو لوگوں کی آنکھیں تھیں جو اس کا سر تا پا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔ ایک عجیب سی کشش تھی اس سیاہ گھٹڑی میں جو پہلے کبھی کسی بھی دنیاوی وجود میں محسوس ہی نا ہوئی تھی۔ وہ بغور اس کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں دیکھ رہے تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ویرا حیران پریشان سی آڈیٹوریم تک آئی تھی۔ سہمی ہرنی جیسی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ کیونکہ اس سائیڈ کافی ویرانی تھی۔ کوئی بھی اسے نظر نا آیا۔ وہ آڈیٹوریم کے ساتھ والی کلاس کے ڈور تک آئی۔ اسے عجیب سا محسوس ہوا بھلا پروفیسر اسے یہان کیون بلائیں گے۔

تبھی وہ الٹے پیروں واپس مڑی تھی۔ مگر بے سود اتنی ہی سرعت سے اس شیطان صفت آدمی نے اندر سے نکل کر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ جما کر اسے اس کلاس میں کھینچ کر بہت بری طرح زمین پر پٹخا تھا۔ اس کا سر ڈائس سے لگا خون کی ہلکی سی لکیر ماتھے سے گال تک آئی۔ وہ سسک پڑی اور آنکھوں کے سامنے تارے ناچ گئے۔ مگر اپنے قریب آتی کافی سارے قدموں کی دھمک سے وہ جلد الرٹ ہو کر سیدھی ہوئی تھی۔

سامنے وکی شیرگل کو خباثت سے ہنستے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے خود کے قریب آتے دیکھا۔
جبکہ تین ہٹے کٹے قد آور حبشی بھی اس کے چاروں طرف کھڑے دلچسپی سے منہ سے رال ٹپکاتے اس مثلِ حور نازک سی گڑیا کو دیکھ رہے تھے جسے آج وہ روندنے کا گندا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے۔

ہاؤ ڈئیر یو باسٹرڈ،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہاں تک لا کر ایسے چوٹ پہنچانے کی،، ویرا چلائی تھی۔
تمھیں تمھاری بریوری کا انعام دینے لگا ہوں بےبی، اور یہ بتانے لگا ہوں کہ تمھارے تھپڑ مجھے کتنی اچھی طرح یاد ہیں،، ویسے بھولیں گے تو اب تمھیں بھی نہیں ساری زندگی، اگر زندہ بچیں تو، ویسے مجھے نہیں لگتا ہمیں جھیل پاؤ گی،، وہ شرٹ اتار کر ڈائس پر اچھالتا مزید اس کے قریب آیا۔

ماہا ویرا کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ وکی اس پر جھکنے لگا۔
دور رہو مجھ سے خبیث انسان،، ماہا ویرا نے اپنے بیگ اپنی فل طاقت سے وکی کے منہ پر دے مارا تھا اور اٹھ کر بھاگنے لگی۔ مگر اتنی ہی تیزی سے ایک حبشی کالے آدمی نے اس کے بال مٹھیوں میں جکڑ کر اسے پھر سے زمین پر پٹخا تھا ساتھ گلے سے سکارف کھینچتا چلا گیا۔
ڈیڈ،،،، مما،،،،، ہیلپ می،،،،
ایک دلخراش چیخ ماہا ویرا کے منہ سے نکلی اور وہ چلاتی چلی گئی۔

ارے حرام خوروں منہ بند کرو اس کا، کوئی آ جائے گا نہیں تو،، وہ انگلش میں پھنکارا۔ تو وہ اس پر جھپٹتے ہوئے دو حبشیوں نے اس کے بازو دبوچے۔ ایک نے منہ بند کیا۔ تب وکی پھر اس کے قریب آیا۔ زمین پر بیٹھ کر اس اس کی شرٹ کندھے سے دبوچی۔ وہ اپنی پوری طاقت لگا کر بھی تڑپتی ان درندوں کی قید سے ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔
وکی اس کے کندھے سے شرٹ کھسکانے لگا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤