Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

روزیلہ عائش کو محل کا ایک ایک کونہ دکھا رہی تھی۔ بے تحاشا خوبصورت محل تھا جو سمندری سچے موتیوں سے مزین کیا گیا تھا۔

یہ شاہی مطب خانہ ہے،، روزیلہ اسے ہاتھ تھامے ایک جانب لے کر گئی جہان مختلف جل پریاں ایک پرانی بوڑھی سی جل پری کے آس پاس بیٹھیں تھیں اور وہ اپنے علم و تجربہ سے ان کا علاج کر رہی تھی۔

پھر اس کے بعد وہ شاہی دربار میں گئے تھے۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے اب اس جگہ کہ بارے میں اسے بتا رہے تھے۔ عائش کافی دیر سے کبھی اس کا حسین ترین چہرہ دیکھتا اور کبھی اپنے ہاتھ کو جو اس نے کافی دیر سے تھاما ہوا تھا۔ اس کے لمس میں ایک عجیب سا سکون تھا۔وہ جو سالہا سال سے بے چین تھا اپنی حقیقت سے منہ موڑنے رکھتا تھا۔ اسے پاتے ہی کتنی جلدی اپنی حقیقت کو قبول کیا تھا۔ بلکہ اس کے ملتے ہی اپنی حقیقت معلوم ہوتے ہی اس کی رگ و پے میں ایک سکون سا دوڑ گیا تھا۔

دنیا کی کئی حسین لڑکیوں سے پالا پڑا تھا۔ مگر جو سکون اور سرشاری اس کی قربت میں تھی وہ کہیں بھی نہیں مل سکی تھی۔

بہت ظلم کیا تھا عائش نے اس معصوم جان پر بہت تکلیف پہنچائی تھی اسے۔ مگر اب اسے انداز ہو چکا تھا کہ وہ جتنی معصوم دکھتی ہے اس سے کئی گناہ زیادہ معصوم اور ڈرپوک ہے۔ اس نے جو بھی کہانی سنائی تھی اس کا ایک ایک لفظ سچا تھا کہ اس کی آنکھوں میں اپنی ہی ماں کے لئے غم وغصہ اور نفرت سی لپکتی تھی ۔ اس کے ساتھ بیک وقت چہرے میں ہراساں سے خوف کے تاثرات ہوتے۔

آئیے میں آپ کو اب حرم خاص دکھاتی ہوں۔ وہ اسے لئے دربار کی بائیں جانب مڑی۔

یہ اوشن کنگ کے لئے بنایا گیا خاص حرم ہے جہاں کنگ کی ہی چنی گئی خاص خدمتگار جل پریاں ہوتی ہیں جو کنگ کی خدمت کرتی ہیں اور انہیں سکون پہنچاتی ہیں،، روزیلہ بول کر خود ہی لال سرخ ہوئی تھی۔ تبھی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
میں آپ کو اس لئے یہان لے کر آئی کہ یہاں سے محل کا وہ راستہ نکلتا ہے جس سے زندان قریب پڑتا ہے،،، روزیلہ نے کہا تو عائش اس کی سادگی اور معصومیت پر عش عش کر اٹھا۔

ہاں اور یہ بات تاشہ ڈائن کو تو معلوم ہی نہیں ہوگی کہ ادھر سے زندان قریب پڑتا ہے،، وہ یہ تو سوچے گی ہی نہیں کہ پورا محل چھوڑ کر ہم ادھر سے کیوں باہر نکلے،، عائش نے کہا تو روز شرمندہ سی ہوگئی اور سر جھکا لیا۔ عائش نے دانتوں تلے لب دبا کر اپنی ہنسی روکی۔

عائش روزیلہ کو ساتھ لیے اب محل کے سامنے سے باہر نکلا تھا۔ وہ اوشیانہ کے مختلف علاقے گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے۔ جب جلد ہی عائشکو احساس ہو گیا کہ کوئی ان کا تعاقب کر رہا ہے۔ سمندری گھاس کے پہاڑوں کی حسین وادی میں اترے تھے۔ اور عائش کو اب وہ تعاقب کرنے والی دکھائی بھی دے گئی تھی۔

عائش ادھر سے دائیں جانب یہ سیاہ کھائی پار کر کے زندا،، روزیلہ کی بولتی بند ہوئی تھی جب عائش نے بہت اچانک اسے بازوؤں سے تھام کر ایک بہت بڑے پتھر کی نرم گھاس کے درمیان پھولوں پر لٹایا تھا۔ اور خود اس کے بہت قریب دائیں کروٹ لیٹا۔

گھومنے کی باتیں تو ہوتی رہیں گی مائی سول،، پہلے کچھ پیار و محبت کی باتیں ہو جائیں ہممممم؟ دو انگلیوں کی پشت اس کے گداز بازو پر پھیر کر کندھوں تک گستاخی کی تھی۔
روزیلہ اس اچانک افتاد پر بوکھلائی تھی۔

عائش یہ کیا،، آپ کو کیا ہو ہو گیا ہے ہمیں تو زندا،،
عائش نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی تھی جب پھر اسے تھام کر گھمایا۔ وہ اوندھی ہوئی تھی۔ اس کی گردن سے لے کر نیچے کمر تک شرٹ ڈوری سے بندی ہوئی تھی۔ عائش نے بہت اچانک وہ ڈوری کھینچی تھی۔ روزیلہ کو لگا اس ظالم شخص نے وہ ڈوری نہیں اس کے جسم سے اس کی جان کھینچی ہے۔

عائش،، وہ دبی دبی آواز میں چلائی۔ مگر اب شرٹ کے بغیر کمر پر سفر کرتا ایک نرم وگداز لمس تھا جو روزیلہ کی جان ہلکان کر رہا تھا۔ وہ پوری کمر پر اپنی چھاپ چھوڑتا گردن تک آیا تھا۔

تمھاری ماں کی ایک زلیل چمچی ہمارا پیچھا کر رہی ہے اس لئے چپ چاپ جو ہو رہا ہے فی الحال اسے یونہی ہونے دو روز،،

بہت ہی زیادہ دھیمے لہجے میں سرگوشی کی گئی تھی کہ وہ بمشکل ہی سن پائی۔ اب کی بار عائش کے لہجے میں وہ درشتگی یا نفرت نہیں تھی۔ ہاں مگر ایک لپک تھی۔ مدہوش اور مسرور سا لہجہ تھا۔ روزیلہ کی یہ قربت اس کے دل و دماغ پر بجلی سی بن کر گری تھی۔ کہ وہ مکمل نہیں تو آدھے سے زیادہ اپنا ہوش کھو بیٹھا تھا۔اس وقت ایک سرور سا تھا جو رگ وپے میں دوڑ رہا تھا۔ روزیلہ کی بے تحاشا قریب اس کی جانب کروٹ لیے وہ پوری طرح اس پر جھکا ہوا تھا۔

(ہیما جو ان کا پیچھا کر رہی تھی پتھر کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ انھیں دیکھ نہیں پا رہی تھی مگر سن کر اچھی طرح تسلی کر لینا چاہتی تھی کہ کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔ اور اب عائش کی ان حرکتوں پر بری طرح بوکھلا رہی تھی۔ اس کا دل کیا ابھی کہ ابھی یہاں سے بھاگ جائے۔ مگر تاشہ کا حکم تھا اگر پوری طرح تسلی نا کرتی تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی)

عائش نے اب اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ بھی رکھا ہوا تھا۔
یو نو واٹ پرنسز،، میں تمھیں محل سے دور یہاں اس لئے لیے چلا آیا،، کہ ہمیں یہ کچھ حسین خوبصورت پل ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کا موقع مل سکے،، سب سے دور،، تنہائی،،، اور بس میں اور میری روز جان،،

اب اس کے ہاتھ نے روز کا پہلو سہلایا تو روز کے سچ میں اوسان خطا ہوئے تھے۔ وہ تو کب کی اس کی جسارتوں کی تاب نا لاتی آنکھیں زور سے میچے لیٹی تھی۔ عائش نے جب اس کے کان کی لو کو لبوں سے کاٹا تو روزیلہ کے مزید ہوش اڑے۔

عا،،،، عائش،،، پپ،،، پلیزززز،،،، وہ دبی آواز میں ملتجی سی بولی ۔ کہ شاید وہ اس کی جان چھوڑ دے۔ مگر اس کا اس پر الٹا ہی اثر ہوا تھا شاید تبھی عائش نے اس کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا تھا۔ عائش کا ہاتھ اس کے پہلو سے ہوتا ہوا اس کے پیٹ کو سہلانے لگا تھا۔ اور لب پچھلی گردن پر گستاخیاں کرنے میں مصروف تھے۔

جب برداشت کی حد ختم ہوئی تو روزیلہ جھٹکے سے اس کی جانب مڑی تھی۔
کندھوں سے تھام کر اسے خود سے دور کرنے کی بھر پور سعی کی۔
عائش،، پپ،، پیچھے ہٹیں،، کک کوئی آ جائے گا ادھر،، وہ اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے بیچ بولی تھی۔ عائش نے بغور اس کا ہونق چہرہ دیکھا۔ وہ کیوں اس کے چھونے سے یوں مچل رہی تھی۔ کیوں اس کے دل کہ دھڑکنیں یوں بری طرح منتشر ہو رہی تھین کہ وہ سہی طرح سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی۔

کیا پرنسز،، کچھ نہیں کر رہا سوائے دو محبت کرنے والی جانوں کو ایک کرنے کے،،
وہ اب اس کی گال پر اپنے لب رکھتا بولا تھا۔

لل،،، لیکن،،،اس سے آگے عائش نے اس کے ہونٹوں سے اس کے الفاظ چھین لیے تھے۔ مکمل اس پر حاوی ہوا اس کی سانسوں پر دسترس اختیار کی۔

(اور ادھر ہیما جو ڈھیٹ بنی پورا سینما سن رہی تھی اب تو دم دبا کر بھاگی تھی جیسے، وہ ایسے وہاں سے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں)

ہیما کا چلے جانا بھی وہ محسوس کر چکا تھا مگر جانے کیا تھا اس لمس میں اس چھوّن میں کہ وہ خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔ دل کر رہا تھا خود کو تاعمر یونہی سیراب کرتا رہے۔

روز اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتی مسلسل مچلتی اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش میں نیم جان سی ہو چکی تھی۔ تبھی وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔ اور گھاس پر لیٹ کر خود بھی گہرے گہرے سانس لیتا خود کو اس مدہوشی اور بے خودی سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔ عائش نے ایک نظر اسے دیکھا اس کی اپنی ہی کار گزاریان تھیں۔ کہ وہ یوں اس کے پاس بکھرے سے لباس میں لیٹی اپنی بند ہوتے ہوتے بچی ہوئی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

عائش نے بے اختیار نگاہیں چرائیں۔ اب جو گستاخی خود کی تھی اس کا مداوا بھی تو خود ہی کرنا تھا۔ تبھی ایک مرتبہ پھر اسے گھمایا تھا۔ وہ اس افتاد پر پھر بری طرح بوکھلائی اور اب کی بار تو شدید مزاحمت بھی کی۔

ریلیکس،، روز،، مزاحمت بند کرو،، کچھ نہیں کر رہا،، عائش نے قدرے غصے میں کہا تو وہ دم سادھ گئی۔ عائش نے وہ ڈوریاں باندھیں۔ کمر پر رینگتے اب اس کے ہاتھ تھے جو اپنا لمس چھوڑتے اس کی جان نڈھال کر رہے تھے۔ تبھی وہ اپنے نازک لب بری طرح کاٹ رہی تھی۔
عائش اپنا کام مکمل کر کے اس سے دور ہوا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔

محل واپس چلو روز ،، اسے ابھی ہم پر شک ہے،،تبھی تعاقب کروا رہی ہے،، میں نہیں چاہتا مما کو کوئی نقصان پہنچے،، ہمیں سوچ سمجھ کر اپنا ہر قدم اٹھانا ہوگا،،
وہ نارمل لہجے میں اس سے مخاطب ہوا تھا تاکہ وہ بھی نارمل ہو جائے ۔ مگر اب یہ ممکن کہان تھا۔ وہ بلکل خاموشی سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔

وہ دونوں محل کی جانب واپس گئے۔ مگر اب کی بار روز کی چلتی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

بڑی شان سے دلہن کی طرح سجی ایک ارتی اٹھی تھی۔
کلیجہ تو اس وقت منہ کو آیا جب جیک نے اپنی محبت کی ارتی کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا۔

کیسے ارمانوں کو خون بہا تھا۔ کیسے محبت ہاتھ سے سوکھی ریت کی طرح پھسل گئی تھی ۔ خوشی کے پل اتنے مختصر کیوں تھے۔ کیوں نصیب میں پہاڑ جتنا غم لکھ دیا گیا تھا۔ اس غم کے بوجھ تلے دب کر بس وہ ایک مر نہیں رہا تھا باقی سانس تو سینے میں الجھ ہی رہی تھی۔

وہ تڑپ تڑپ کر رویا تھا۔ رنجنا کو ہوش ہی نہیں تھا۔ وہ اٹھتی چیختی چلاتی دھاڑیں مار مار کر روتی اور پھر ہوش کھو بیٹھتی۔ جیک کی مما اور سسٹرز نے بڑی مشکل سے سنبھال رکھا تھا اس کو۔

ہندو مذہب کے مطابق سنجنا کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اب آنکھوں کے سامنے اگر تھا تو راکھ کا ڈھیر،، جس میں سے جیک نہیں کرلاتے دل اور سسکتی آہوں کے درمیان کچھ راکھ کا حصہ (استیاں)ایک کلش میں ڈال کر اس کا منہ ایک سرخ کپڑے سے باندھ دیا تھا۔ وہ گبرو جوان جھکے کندھوں سے غم سے نڈھال وہ کلش لیے اجڑ کر برباد ہوا واپس چلا آیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آج پانچ دن ہو چلے تھے۔ وہ سیاہ تاریک کمرے میں ماتم کا سیاہ لباس ساڑھی زیب تن کیے کمرے میں بند گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی سسک رہی تھی۔ گھٹنوں میں ایک جیتی جاگتی مسکراتی تصویر رکھی ہوئی تھی۔

اس نے تو اسے ماں کی کوکھ تک میں اکیلا نا چھوڑا تھا۔ وہ جو اس کی ہم زاد، ہم راز، ہمدرد اس کے ساتھ ہی ٹپک پڑی تھی۔ بچپن سے لے کر اب تک ایک دوسرے کی جان جی۔ ایک ساتھ ہنسی ایک ساتھ روئیں۔ جب پیدا ہو کر زندہ ایک ساتھ رہیں تھی تو سنجنا اکیلی مر کیسے سکتی تھی؟

نہیں،، نہیں،،،، کوئی غلطی ہوئی تھی یمراج سے،، اسے ہم دونوں کو اکھٹا لے کر جانا چاہئے تھا،،
رنجنا اپنے ہوش میں نہیں تھی شاید تبھی اول فول بکتی جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ پاگلوں کی طرح کمرے میں ادھر ادھر کوئی چیز تلاش کی۔

جیک جو اتنے دنوں کے بعد رنجنا کی صورتحال معلوم ہونے پر کہ اس نے پانچ دنوں سے کچھ کھایا نہیں ہے انتہائی دکھ و صدمے سے اس کے لئے کھانا لے کر روم میں داخل ہوا تھا۔ اسے اس طرح دیکھ حیران ہوا۔ مگر جب اس نے بھاگ کر فروٹ باسکٹ سے چھری اٹھا کر اپنی گردن پر رکھی تو سہی معنوں میں جیک کے ہوش اڑے تھے۔۔
رنجوووو،،،،، جیک دھاڑا اور سنجنا کی طرح اسے مخاطب کیا۔ ٹرے ٹیپل پر تقریباً پھینک کر وہ اس کی جانب لپکا تھا۔ پشت تک پہنچ کر اس کا چاقو تھاما ہاتھ پچھلی جانب مروڑا تھا۔
پاگل ہو گئی ہو رنجوو،،،، چھوڑے اسے،،،

نہیں نہیں مجھے مر جانے دیجئے،، نہیں رہ سکتی میں اس کے بغیر،،،، مجھے اس کے پاس جانا ہے،،، اس کا منہ توڑنا ہے،،،، اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر جانے کی،، وہ پینک ہوتی بری طرح چیخ چلا کر رو رہی تھی۔ بچوں کی طرح سر ادھر ادھر پٹخ رہی تھی۔

جیک نے شدید طیش میں اس کا رخ اپنی جانب گھما کر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا اسے ہوش دلانے کو ۔ وہ جو پہلے ہی غم سے نڈھال بھوک سے نیم جان سی تھی۔ لڑھک کر اوندھے منہ نیچے گری تھی۔ اور پھر بے تحاشا روئی۔
جیک کنپٹیاں سہلاتا وہیں صوفے پر بیٹھا تھا۔ اپنا غصہ کنٹرول کر کے خود بھی نیچے بیٹھ کر اسے اٹھا کر بٹھایا تھا۔ وہ اس کے کندھے سے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روئی تھی۔ جیک نے یہ غبار دھل جانے دیا۔

جب وہ رو رو کر پھر نیم جان ہوئی تو جیک نے اسے پانی پلایا۔ اب جیک نے اسے کھانے کے نوالے کھالئے تو اس نے چپ چاپ وہ کھانا کھا لیا۔ کہ رنجنا کا نقصان ہوا تھا مگر سامنے بیٹھے شخص جتنا تو نہیں۔
جس کے مقدر کی سیاہی نے بس ایک دن کے وصل کے بعد ہجر کی تاریک ترین طویل راتیں اس کے مقدر میں لکھ دی تھیں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آج کافی دن ہو چکے تھے ماہا ویرا کو ڈریگن لینڈ آئے۔ اس کی جان سکون میں تھی۔ سارا دن محل میں بے دھڑک گھومتی پھرتی۔ وشہ بھی بے حد خوش تھی۔
ماہا ویرا محل کے شاہی آداب سے نابلد تھی۔ اسے وہ سب سکھائے جا رہے تھے۔ اسے ابھی شاہی لباس کیری کرنے میں بھی پرابلم آ رہی تھی۔ مگر وہ آہستہ آہستہ سب سیکھ رہی تھی۔

ڈریگن لینڈ کس قدر خوبصورت تھا مگر ماہا ویرا کی ابھی محل سے باہر نکلنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی۔ مگر یہ ضرور سوچا تھا کہ جد راج ڈیڈ سے بول کر وہ باہر گھوم پھر کر آئے گی۔ ابھی وہ محل میں اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھی تھی۔ جب اسے مخصوص چڑیا کی چہچہار نما سیٹی سنائی دی۔

کوکو،،، بیربل،،، وہ خوش سے بیحال ہوئی اور ادھر ادھر دیکھا۔ اس پرندے کے جو دو نام رکھے تھے جوش میں دونوں ہی پکارے۔
آواز دوبارہ آئی۔ وہ دوبارہ بالکونی میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ وہ اسے آسمان میں اڑتا دکھائی دیا تھا۔ اس نے ہاتھ ہلایا۔ وہ آکر بالکونی کی دیوار پر بیٹھا۔

اور سفید شاہی لباس میں اسے غور سے دیکھنے لگا۔ ماہا ویرا بھاگ کر اس کے قریب گئی مگر وہ اڑ گیا۔ وہ جا کر نیچے محل سے باہر شاہی باغ کے ایک درخت پر بیٹھ گیا۔
ماہا ویرا نے اسے غصے سے گھورا۔ شاید وہ چاہتا تھا ماہا ویرا محل سے باہر اس باغ میں آئے۔

نو میں تو نہیں آ رہی ادھر تم ہی آ جاؤ ادھر،،
ماہا ویرا نے ہاتھ سے اسے اپنے پاس بلایا۔ وہ ایک مرتبہ پھر اڑ کر بالکونی میں آ کر دیوار پر بیٹھا۔
ماہا ویرا اس کے قریب گئی۔
ہیے،،، ناراض تو مجھے ہونا چاہئے اس دن تم نے مجھے ہرٹ کیا تھا،، اور اب اٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو،، وہ چھوٹی سی ناک چڑھا کر بولی۔ اور اسے ہاتھوں میں بھرا۔ حسبِ عادت اس نے جھک کر اس کے سر پر اپنے لب رکھے تھے۔

تبھی وہاں راج آیا تھا۔ اور یہ منظر دیکھ راج کے تلوؤں پر لگی اور سر پر بجھی تھی۔
ویرا،،،،،،،، وہ دھاڑا۔ ماہا ویرا اپنی جگہ سے دو قدم پیچھے اچھلی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ناراض ہوئی۔ بیربل اس کے ہاتھ میں سے اڑ کر دیوار پر جا بیٹھا اور راج کو بڑی دیدہ دلیری سے گھورنے لگا۔

کیا ڈیڈ،، ڈرا دیا آپ نے اپنی پرنسز کو،، ہوا کیا آخر،، راج بھاگ کر اس کے قریب آیا تو ماہا ویرا نے راج کے گلے میں بازو ڈالے اور لاڈ سے جھول گئی۔ بیربل خون رنگی آنکھوں سے یہ منظر دیکھنے لگا۔
یہ دیکھیں یہ میرا فرینڈ ہے بیربل،،
ماہا ویرا نے پیچھے مڑ کر اس پرندے کی جانب اشارہ کیا۔

رائٹ،، پرنسز،، تمھاری مما نے تمھارے لئے ڈریگن لینڈ کی خاص بیریز منگوائی ہیں،، جاؤ وہ تمھیں بلا رہی ہیں،، ان کی بات سنو جا کر،،
راج نے اس پرندے کو نظر انداز کرتے ماہا ویرا کا ماتھا چومتے کہا تھا۔
اوکے ڈیڈ،، وہ بھی راج کا گال چومتی کمرے سے باہر بھاگ گئی۔

اب دو کنگ ایک دوسرے کو شعلہ بار نگاہوں سے گھور رہے تھے۔ کنگ ویام اپنی اصل شکل میں واپس آیا تھا۔

اس سے جتنا دور رہو گے تمھارے لئے اتنا بہتر ہے کنگ ویام، تمھارے خاندان کی افسوسناک اموات میں تو میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے،، ہاں مگر اب تم مجھے پرنسز کے آس پاس یا ڈریگن لینڈ میں دکھے تو تمھیں زندہ جلا کر راکھ کا ڈھیر ضرور بنا دوں گا،،،
راج دانت پیس کر ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا۔

جب کہ وہ جو پہلے ہی جل بھن کر راکھ ہو رہا تھا میری طاقت سے دھاڑا تھا۔
وہ بیوی ہے میری،، اس کے ہاتھ میں وہ رنگ نہیں دیکھی تم نے راج،،
وہ دھواں دھواں چہرہ لیے بولا تھا۔ آج خود ہی بڑے دھڑلے سے بڑے حق سے اس تعلق کو قبول کیا تھا۔ اور اسی کے باپ کے سامنے اس بات کا رعب بھی جما رہا تھا۔

جانتا ہوں اچھی طرح،، اس رنگ کو بھی،، اور اس حقیقت کو بھی،، کچھ نہیں ہے وہ رنگ،، وہ صرف تمھارے فیری ٹوپیا کہ زہر کا توڑ ہے،، اس کے علاوہ میری نظر میں اس رنگ کی کوئی اوقات کوئی حیثیت نہیں،، سمجھے،،،

تو ٹھیک ہے بلاؤ اسے ابھی یہاں،، میں وہ رنگ اس کے ہاتھ سے اتار کر ابھی اس سے ہر تعلق ختم کروں گا، ہر رشتہ توڑوں گا، وہ رنگ میں شاہی خاندان کی وراثت اس کی کوئین اور اپنی بیوی کو پہنانے والا ہوں،، بلاؤ اسے،،
ویام دانت پیس کر ڈھٹائی سے بولا تھا جانتا جو تھا اگر راج یہ جانتا ہے کہ یہ تعلق اس رنگ سے ہے کیوں اور کیسے ہے تو یہ بھی تو جانتا ہو گا کہ وہ رنگ ابھی تک اس کے ہاتھ میں کیوں ہے۔

کنگ راج لاجواب ہوا تھا۔
کنگ ویام دفاع ہو جاؤ یہاں سے،، تمھارے لئے یہی بہتر ہے کہ بھول جاؤ اس رنگ اور اس رنگ کی پہننے والی کو،، سمجھے،،

کبھی نہیں،، جب تک وہ رنگ اس کے ہاتھ میں ہے تب تک وہ کنگ ویام کی ملکیت ہے،، میری بیوی،، بچے تو نہیں ہو راج تم،، جانتے ہی ہو فیری ٹوپیا کی اس رنگ کی طاقت کو،،، جو دلوں اور روحوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے، وہ کنگ ویام کی ملکیت اور بیوی ہو کر میری تابع اور اسیر ہے،، میں ایک مرتبہ اسے پکاروں تو وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی مجھ تک پہنچے گی،، اور خود کو اپنے جسم و جاں کو میرے سپرد کر دے گی،،، جانتے ہو ناں تم،،

ویام،،،،، شٹ اپ یو باسٹرڈ،،،،،،،،،،،
اس کی اس بیہودہ بات پر راج دھاڑا تھا۔ اس کے جسم و جاں سے شعلے سے لپکنے لگے تھے۔ مطلب وہ ڈریگن میں بدلنے والا تھا۔

ٹھنڈ رکھو راج،، میرا ابھی اسے اپنے پاس بلانے کا ویسے کوئی ارادہ نہیں،، مگر وہ بیوی تو میری ہی ہے ناں،، اب کیا کروں کھینچ تو پڑتی ہے ناں،، ہمممممممم،،،،،،،
وہ صاف اسے چڑا رہا تھا غصہ دلا رہا تھا۔ یا تکلیف دینا چاہتا تھا۔ یا خود کو سکون دینا چاہتا تھا۔
مگر سکون تو بس ادھر ہی تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے اس کے ہاتھوں میں جب اس نے اپنے گداز لب اس کے سر پر رکھے تھے۔ مگر یہ راج بیچ میں ٹپک پڑا تھا۔ جو اسے کسی صورت برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

راج نے قریب آ کر دہکتے ہاتھ سے اس کا گلا دبوچا تھا۔ تبھی وہاں اینچینٹرس کا ہیولہ ظاہر ہوا تھا۔

کنگ راج چھوڑ دیں انھیں،، پلیزززز،،، اینچینٹرس کا ملتجی لہجہ تھا۔ راج نے ایک جھٹکے سے اسے پرے پھینکا تھا۔ وہ بری طرح کھانسنے لگا۔ گردن کی ساری چمڑی جھلس چکی تھی۔

آئندہ یہ ڈریگن لینڈ میں نظر نہیں آئے اینچینٹرس،، نہیں تو میں آپ کی بھی نہیں سنوں گا،،
راج کہتا اندر کمرے میں جا کر اندر کی کھڑکی بند کر چکا تھا۔ جانتا تھا اس کی شکل اور آنکھوں میں ایک بغاوت اور لپک سی دیکھ اس کا غصہ مزید بڑھتا ہی جائے گا۔

کنگ ویام لوٹ آئیں،، اینچینٹرس نے اسے پکارا۔
نہیں مجھے وہ واپس چاہیے،، ہر حال میں ہر قیمت پر،، وہ گلے پر ہاتھ رکھتا دانت پیس کر بولا تھا۔ نیم جان سا اینچینٹرس کے سامنے قبول کر بیٹھا تھا کہ اسے وہ چاہیے ہے۔
اینچینٹرس نے ہی اپنی میجک سٹک گھمائی تھی۔ اور ویام وہاں سے غائب ہو گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️