Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

گاڑی جھٹکے سے ایک فارم ہاؤس کے پورچ میں رکی تھی۔ عائش نے ایک مرتبہ آنکھیں زور سے بند کر کے اپنے غم وغصے پر قابو پانے کی کوشش کی تھی مگر بے سود
اسے جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہئے تھا۔ اس کی گاڑی میں اس وقت اس کی ماں کی قاتل کی بیٹی موجود تھی۔ جو اب بھی ان میں سے ایک کو پھانسنے اور ایک کو مارنے آئی تھی۔ وہ کیسے ناں غصے سے پاگل ہوتا۔

دھاڑ سے ڈور کھول کر باہر آکر اس نے پچھلا ڈور کھولا تھا۔ اسے بازو سے گھسیٹ کر باہر نکال کر اپنے کندھے پر ڈالا اور اندر کی جانب رخ کیا۔ اندر ایک روم میں آ کر اس بری طرح زمین پر پٹخا تھا۔ روزیلہ سسک پڑی۔ منہ میں اس نے سکارف ٹھونس رکھا تھا۔ اور ہاتھ پیچھے بیلٹ سے باندھ رکھے تھے۔ وہ کروٹ کے بل زمین پر لیٹی اپنی بدقسمتی پر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

عائش چئیر گھسیٹ کر اس کے پاس لایا تھا۔ اور بیٹھ کر اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھی۔ اور بغور اسے دیکھا۔ جو اب بے بسی سے تڑپتی رونے میں مصروف تھی۔

میں نے تمھیں کیا پوچھا تھا کیا کہا تھا “اگر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ تم یہاں کسی مقصد کے تحت آئیں تھیں تو وہ حشر کروں گا کہ نا پانی میں رہنے کہ قابل رہو گی نا زمین پر تو تم۔نے مجھے حقیقت کیوں نہیں بتائی تھی،،
عائش نے لائٹر سے سگریٹ سلگائی تھی۔ اور وہ سگریٹ اس کی آنکھ کے قریب لے کر گیا۔ وہ مچلتی نفی میں سر ہلانے لگی۔ عائش نے اس کے منہ سے سکارف باہر کھینچا تھا وہ بری طرح کھانسنے لگی۔ عائش نے سلگتی سگریٹ اس کے بازو پر رکھی تھی۔ وہ اذیت سے چیخ اٹھی۔ ہچکیوں کے دوران اس نے بولنے کی کوشش کی۔

مم،، میں،، نہیں،،، آنا،،، چاہتی،،،،،، تھی،،،، یہاں،، مگر اس،،،،، نے،،،

جھوٹ،، یو لائیر،، عائش نے درشتگی سے اس کی بات کاٹ کر اس کی گردن دبوچ کر اس کا سر زرا سا جھک کر اپنے گھٹنے پر رکھا تھا۔ گلے پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے اس کا معصوم اور حسین چہرہ لال سرخ پڑ گیا تھا۔
وہ اتنی نازک تھی کہ زرا سی کھینچا تانی کرنے پر اس کے جسم پر جا بجا عائش کے وحشی لمس اور گردن گلے پر انگلیوں کے نشان آ چکے تھے۔ اس کے آنسو نکل کر عائش کے ہاتھوں میں جزب ہو رہے تھے۔

عائش کی نگاہیں اس کی بھیگی پلکوں سے ہوتی ہوئی سرخ چھوٹی سی ناک اور دودھیا وجود پر ٹھہری جس پر اس کی پرتشدد کارروائیاں ایک ظلم کی داستان لکھ چکا تھا۔
اچانک عائش نے اسے جھٹکے سے خود سے دور بیڈ پر پٹخا تھا۔ جیسے وہ کوئی لیچ ہو جو اس کی رگ وجاں سے بری طرح چمٹ جائے گی۔

یہیں سڑ کر مرو گی روزیلہ جان،، تمھاری ماں بھی تڑپے گی اپنی بیٹی کے لئے ایسے ہی جیسے ہم پل پل تڑپے اپنی ماں کے لئے،، اس نے دانت پیس کر کہتے سگریٹ دور اچھالی۔ اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

وہ بے تحاشا روتی کاش اس ستمگر کو یہ بتا سکتی کہ اس کے ہونے نا ہونے سے اس کی ماں کو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے وال تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اس کے جانے کے بعد مایا وش تڑپ تڑپ کر روتی اٹھی تھی۔ آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی اور بغور اپنی آنکھیں دیکھیں۔

اس کے آئی بالز مزید سیاہ ہو کر بڑے ہوتے جا رہے تھے۔ جس کا مطلب تھا کے اس کے وجود کا سامر کے قبضے میں ہونے کا۔ جس کا مطلب تھا وہ عنقریب جاگنے والا ہے۔ تب تک اس کی آنکھیں سیاہ پڑتی پڑتی سکلیرا کا تمام حصہ سیاہ ہو جائے گا۔
اور جس دن یہ ہوا وہ دن سامر کے جاگنے کا دن ہوگا۔ اور اس کی ایک پکار پر مایا وش اس کے پاس چلی جائے گی۔ کہیں بھی، کسی بھی حالت میں کسی کے بھی پاس ہوئی اس کو جانا پڑے گا۔ وہ تب تک مکمل طور پر اس کے بس میں ہو جائے گی۔

تب تب ان کے رشتے کا کیا ہوگا؟ مایا وش آبدار کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوچ کر چیخ چیخ کر روئی تھی۔ وہ تو مکمل اس شیطان کے بس میں ہو جائے گی۔ تو ان کے دلوں میں نوخیز کونپل کی طرح پھوٹتی اس منہ زور محبت کا کیا ہوگا؟ کیا گزرے کی آبدار کے دل پر، اور اگر آبدار کو اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ ہو گیا تو؟
تو کیا وہ سہہ پائے گی،،؟
جو اب اپنی دوستوں کے لئے اتنی حساس ہو چکی ہے، وہ اپنی محبت کو اپنی آنکھوں کے سامنے کچھ ہوتے دیکھ پائے گی۔
کبھی بھی نہیں،،
مر کر بھی نہیں،،

میرا تو پہلے ہی آگے پیچھے کوئی نہیں۔ میں اس سب سے لڑتے اگر مر بھی گئی تو کون پوچھے گا؟
مگر وہ،، نہیں،، کبھی نہیں،، اس سب میں میں اسے آنچ بھی نہیں آنے دوں گی۔
آج جب اس کے منہ سے اس کے مرنے کی بات سنی تھی تو وہ ڈر گئی تھی۔ روح تک کانپ اٹھی تھی۔ تو اسے ابھی اسی وقت سے خود سے دور کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

اس سے پہلے وہ مزید قدم اس کی جانب بڑھاتا۔ مایا وش کو اپنے قدم پیچھے لینے تھے۔ اسی لئے اس دن بھی ادے بھیج دیا اور اس سے اگلے دن مایا وش کالج ہی نہیں گئی۔ وہ اس کے ہٹ میں آیا تھا مگر اسے نا پا کر دوبارہ واپس چلا گیا۔ وہ جان بوجھ کر کائلہ کے کمرے میں چھپ گئی تھی۔ پھر اس سے اگلا دن بھی یونہی گزرا۔

وہ نہیں جانتی تھی وہ کتنی بڑی بےوقوفی کرتے ہوئے ایسا کر کے ایک اوشن کنگ کے غصے طیش و اشتعال کو ہوا دے رہی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ تو مایا وش کے ملنے پر اس کا غصہ و قہر کم ہوا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی اس کا غصہ، قہر، عذاب اگر نازل ہو گیا تو اس دنیا کو لہروں کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

فیری ٹوپیا کے سٹی ہال میں جشن کا سا سماں تھا۔ آج اینچینٹرس کے حکم پر فیری ٹوپیا کی رسموں کے مطابق اس جشن میں آئی گئی پریوں میں سے کنگ ویام نے اپنے لئے دلہن اور فیری ٹوپیا کے لئے کوئین کا انتخاب کرنا تھا۔ تبھی رنگ و خوشبو کا ایک سیلاب سا تھا جو ہال میں سمٹ آیا تھا۔

فیری ٹاؤن، میبجک وڈو، پنک فوریسٹ غرض فیری ٹوپیا کے ہر علاقے سے پریاں آ کر یہاں موجود تھیں۔ اور ادھر ادھر لہراتی، بل کھاتی، اتراتی پھر رہی تھیں۔

اور جس کے لیے یہ اہتمام ہوا تھا وہ دنیا جہاں کی بیزاریت چہرے پر سجائے تخت پر بیٹھا تھا۔ اس وقت پورے پرستان کی کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو کنگ ویام کو اپنی جانب راغب کر سکتی۔ جانے کیوں؟
سمجھ سے بالا تر تھا یہ سب کہ وہ کیوں بیزار سی شکل بنا کر بیٹھا تھا۔ کیوں اس کا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ کیوں اتنے حسین چہروں میں سے اب تک کوئی چہرہ اسے اپنی جانب مائل نا کر سکا تھا۔ کیوں وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں موجود نا تھا۔

کیوں دھیان کا سرا ایک بنا پروں والی نازک سی جان میں اٹکا ہوا تھا۔ اس کی معصومیت، اس کا بھولا پن، سہمی ہرنی سی آنکھیں نازک گداز وجود وہ بے اختیار نازک حسن اس کی تمام تر توجہ فیری ٹوپیا سے ہٹ کر زمین پر ایک چھوٹے سے گھر میں تھی۔ آج دو دن ہو چکے تھے اسے یہاں آئے۔ اور اس کی خود کی خواہش پر ہی تو یہ رسم طے پا رہی تھی۔ شاید وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس قدر حسین چہروں میں اسے کوئی تو ایسی مل جائے جو اس کے دل و دماغ سے وہ سوچیں نکال باہر کرے۔

پریاں شاہی سٹائل میں بہت سموتھلی موو کرتی رقص میں مصروف تھیں۔ جب وہ جھنجھلا کر تخت سے اٹھا۔
آپ لوگ یہاں تشریف لائے، اس کے لیے شکریہ، مگر میری طبیعت مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی، اس لیے یہ رسم پھر کبھی ادا کی جائے گی، دعوت طعام کا شاندار اہتمام کیا گیا ہے، آپ لوگ دعوت سے سیر ہو کر یہاں سے روانہ ہو سکتے ہیں،،،

وہ بول کر اٹھ کر پہلے اپنی خواب گاہ میں آیا تھا۔ جب یہاں بھی سکون نا آیا تو جھنجھلا کر فیری ٹاؤن اینچینٹرس کے گھر گیا تھا۔
ایک بڑے سے گلاب کے پھول میں اینچینٹرس کا گھر تھا. وہ دروازے تک آیا تو پتی خود ہی پیچھے ہٹ گئی۔وہ داتک دے کر اندر داخل ہو گیا۔

سامنے ہی اینچینٹرس ایک پتی پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔
کنگ ویام، ، وہ اٹھ کر جھکی۔ آئیے کوئی خاص بات جو غریب خانے پر تشریف لائے آپ،،
اینچینٹرس مسکرائی۔

اینچینٹرس یہ کس مصیبت میں پھنسا دیا ہے آپ نے مجھے،، وہ جھنجھلائی آواز میں بولا تھا۔
کس مصیبت کی بات کر رہے ہیں کنگ ویام،، اینچینٹرس کو معلوم تھا وہ کیا بات کر رہا ہے مگر انجان بن گئیں۔

اینچینٹرس کی نگاہوں کے سامنے اس دن کا سارا منظر گھوم گیا۔ جب شاہی وید نے ماہا ویرا کا یہ علاج بتایا تھا۔ کہ کنگ ویام کو پرستان کی رسموں کے مطابق اس لڑکی سے شادی کرنی پڑے گی۔ ان رسموں کے بعد جب کنگ ویام اس کے ہاتھ میں شاہی خاندان کی انگوٹھی پہنائے گا تب اس انگوٹھی کے کوہ نور کرسٹل میں ہی اتنی طاقت ہوگی کہ وہ اس لڑکی کے جسم سے فیری ٹوپیا کا طاقت ور ترین زہر چوس سکے۔
( شاید ایمی نے اسے یہ زہر دیا ہی اس لیے تھا کہ اس کا توڑ صرف فیری ٹوپیا کے کنگ کے پاس تھا، اس کے توڑ کا جو طریقہ تھا اسے کنگ ویام کبھی بھی کرنے کا سوچے گا بھی نہیں)

مگر حیرت انگیز طور پر کنگ ویام نے جب اسے اپنے ہاتھوں سے زہر دیا اور اپنے ہاتھ خون سے رنگے نظر آئے تو کنگ ویام وہ سب کچھ کر گزرا جو اس کی زندگی کے لیے اشد ضروری تھا۔ اور اب وہ دنیا جہان کی اکتاہٹ لیے اینچینٹرس کے سر پر سوار تھا۔

اینچینٹرس آپ نے اور اس شاہی وید نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے آپ نے کیوں کروائی وہ شادی،، اب میں ،، وہ جھنجھلا کر بولا تھا۔

“وہ محض اس بنا پنکھوں والی پری کی جان بچانے کے لیے کیا گیا ایک عمل تھا،، تو بھول جائیں اسے اور اس عمل کو،، اور،،،،
کیسے بھول جاؤں اینچینٹرس،، شادی ہوئی ہے،، پوری رسموں کے ساتھ کوئی مزاق نہیں ہوا،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔ بھلا جانی دشمن کی بیٹی سے شادی کرنے کی کیا تک بنتی تھی۔

آپ کیوں اس کو زہن پر سوار کر رہے ہیں کنگ ویام،، آپ سکون سے اپنے لیے بیوی اور فیری ٹوپیا کے لیے کوئین منتخب کریں، آپ کیوں سوچ رہے ہیں اس کے بارے میں،،
بات دراصل یہ ہے اینچینٹرس کہ اس لڑکی نے میرا سکون برباد کر دیا ہے،، میں کچھ بھی سوچ نہیں پا رہا،، اب تب ہی اپنے لیے بیوی منتخب کروں گا جب اسے موت کے گھاٹ اتار دوں گا،،
وہ دانت کچکچاتا وہاں سے نکلا تھا۔ جبکہ اینچینٹرس گہرا مسکرا کر سکون سے اپنے سابقہ کام میں مشغول ہو گئی۔

وہ اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔ اس نے مجھ پر جادو کر دیا ہے،، یا کچھ اور،، شاید اپنی آزادی کے لیے،،،، تبھی میرا دل و دماغ کچھ سوچ اور کچھ بھی نہیں ہی پا رہا ہے،، میں چھوڑوں گا نہیں تمھیں،، بنا پنکھوں والی چمگادڑ،،
وہ غصے سے تن فن کرتا فیری ٹوپیا سے زمین کی طرف اڑا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آبدار نے کتنی کوشش کی تھی مایا وش سے بات کرنے کی۔ یہ ناراضگی کے بعد کا پہلا دن تھا جب وہ سارا دن بھیڑ بھاڑ میں رہی۔ مطلب جان بوجھ کر آبدار کو موقع نہیں دیا تھا اپنے قریب آنے کا یا مخاطب کرنے کا ۔
کالج کے آف ٹائم میں وہ اس کے پیچھے لپکا تھا۔

مایا وش،،،،،،، وش،،،،،، کوئین،،،،،
وہ پکارتا رہا مگر وہ ان سنی کرتی وہاں سے نکل گئی۔ رات کو وہ اس کے کمرے میں آیا تھا وہ وہاں نہیں تھی۔ آبدار کا قہر سوا نیزے تک پہنچ چکا تھا۔ پھر جب اگلے دن کالج میں وہی تماشہ ہوا۔ اس نے مایا وش کو مخاطب کرنے کی کوشش کی مگر اس نے نہیں سنی۔ آبدار نے ڈائس کو ایک کک رسید کی تھی وہاں سے نکلتے تمام سٹوڈنٹس چونکے تھے جبکہ مایا وش کو جھرجھری سی آئی تھی۔ وہ وہاں سے جو تیور لیے نکلا تھا مایا وش کو کسی انہونی کے ہونے کا ڈر ستانے لگا۔

کچھ ہی دیر میں اس کو لاحق خدشے سچ بھی ہونے لگے۔ ایک طوفان اٹھا تھا سمندر کی جانب سے جو سب کچھ تہس نہس کرنے کے در پہ تھا۔ فضا میں پانی کا بھونچال سا تھا جو برپا ہوا تھا۔ ہر طرف تباہج و بربادی ہونے لگی لوگوں کی چیخ وپکار ہر سو پھیلنے لگی۔
سٹوڈنٹس زلزلہ سا محسوس ہونے پر ڈر کے مارے چیخ سے رہے تھے۔ مایا وش یہ سب دیکھ کر کچھ سوچ کر باہر آئی تھی۔

یہ سب یقیناً اس کے بےپناہ غصے و اشتعال کا نتیجہ تھا۔
وہ اپنی گاڑی کی جانب گئی تو کائلہ نے اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے آئی۔
مگر تب تک مایا وش اس کے چیلے کی گردن پر اپنی تلوار رکھ کر گاڑی لے کر نکل چکی تھی۔ مایا وش کو معلوم تھا کہ وہ کہاں ہو سکتا تھا تبھی گاڑی کا رخ اس طوفان کی جانب کروایا تھا۔

منزل پر پہنچ کر مایا وش گاڑی سے بمشکل اتر پائی تھی۔ طوفانی بارش میں حدِ نگاہ بہت مختصر فاصلے کا تھا۔ ہواؤں سے اس کا وجود پیچھے کی جانب دھکیلا جا رہا۔ ہاتھ کا چھجا بنا کر آنکھوں پر رکھتے اس نے لرزتے وجود اور کانپتے نیلے ہونٹوں سے بیچ پر دیکھا۔ منہ زور سیاہ بادل ناراض سے سمندر پر جھکے ہوئے تھے۔ تبھی دن میں بھی گہری شام کا سماء تھا اور سمندر کی لہریں جیسے بے تحاشا اشتعال انگیزی سے سمندری حدود سے باہر نکل نکل کر اپنا سر پٹخ رہی تھی۔

مایا وش قدم آگے بڑھا رہی تھی مگر ہوائیں اور تیز ترین بارش کی بوچھاڑ اسے جیسے پیچھے دھکیل رہی تھی۔ تھوڑی آگے آئی تو حسبِ توقع وہ ان لہروں کا بے تاج بادشاہ ہاتھ فضا میں پھیلائے آسمان کی طرف منہ اٹھائے کھڑا تھا۔ اور اس وقت غصیلے اوشن کنگ سے نکلنے والی ریز بادلوں اور سمندر کی لہروں میں تباہ کن طغیانی سی برپا کر کہ روئے زمین پر پانی کا ایک بھونچال پیدا کر رہیں تھیں۔ جسے عام انسان سونامی کا نام دے رہے تھے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ غم وغصے سے پاگل ہوئے اوشن کنگ کا طیش اشتعال تھا جو زمین پر قہر بن کر نازل ہو رہا تھا۔

مایا وش نے اپنا نقاب اتار کر دور اچھالا اور اس سے کچھ فاصلے پہ اس کی پشت پر آن رکی تھی۔
سٹاپ اٹ،، جسٹ سٹاپ اٹ ،، بند کریں یہ سب میں نے کہا،، رک جائیں آبدار،،
وہ حلق کے بل چلائی تھی۔ آبدار نے سنا تھا۔ مگر وہ اپنے اوپر اور اپنے غصے پر کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔ اب تک تو اس کی کوئین نے اس کا بہت لونگ کئیرنگ اور پولائٹ سا روپ دیکھا تھا۔ وہ پیچھے مڑا تھا۔ مایا وش کی روح تک کانپی تھی۔ اس کے غصے کی حالت میں اس بدلے روپ کو دیکھ۔

پیچھے مایا وش کی گاڑی کے ساتھ ایک اور گاڑی آ کر رکی تھی۔ اس میں سے کائلہ اور اس کے چیلے باہر نکلے تھے۔
کائلہ مایا وش کی جانب لپکی تھی۔ اور اسے آ کر بالوں سے گھسیٹا تھا۔
مایا وش تمھاری ہمت کی تو داد دینی پڑے گی جو یہ نقاب اتار پھینکا تم نے اور گھر جانے کی بجائے کسی کے پیچھے یہاں تک چلی آئیں،، گھر چلو زرا میں تمھارے ہوش ٹھکانے لگاؤں،،
وہ چلاتی بول رہی تھی اب تک اس اوشن کنگ کو نہیں دیکھ پائی تھی۔ اتنے طوفان میں اس نے کچھ بھی اور دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔ اگر دیکھ لیتی تو اتنی جرات نہیں کرتی۔

وہ اپنی کوئین کی وجہ سے مکمل اگریسو تو پہلے ہی تھا اب یہ منظر دیکھ کر ہاتھ فضا میں لہراتا تیزی سے آگے بڑھا تھا۔ کیا خوب موقع ملا تھا اپنا تمام غم وغصہ کسی پر نکالنے کا۔ اور آج کائلہ کا یقینا آخری دن تھا جو وہ یوں اوشن کنگ سے الجھی تھی۔
آبدار کے ہاتھ میں اس کی تلوار آئی تھی۔ کائلہ اسے بالوں سے گھسیٹ رہی تھی۔ اور وہ سائے بھی اسے دبوچے ہوئے تھے۔

آبدار نے سب سے پہلے آ کر کائلہ کے ہاتھ پہ وار کیا تھا۔ اس کا بازو تن سے جدا ہوا تھا۔ مایا وش کی دلدوز چیخ فضا میں بلند ہوئی تھی۔ مگر آبدار رکا نہیں تھا۔ ان سیاہ نقاب پوشوں کے خون آلود ٹکڑے اور چیتھڑے آس پاس پانی میں گر کر بہہ رہے تھے۔ یہ بھیانک اور دہشتناک مناظر دیکھ مایا وش کا خوف کی انتہا سے برا حال تھا اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے اپنی چیخیں دباتی وہ لٹھے کی طرح سفید پڑتی کار سے جا لگی تھی۔

کون ہو تم اور،،،
کائلہ کو مزید بولنے کا وقت نہیں ملا تھا۔ جب آبدار نے اپنی تلوار اس کی آنکھ میں گھسائی تھی اور وہ دماغ کے آر پار ہوئی تھی۔ اب آبدار کائلہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں مصروف تھا اور مایا وش چہرے پر ہاتھ رکے کونے میں دبکی چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ پورا ایریا خون میں نہا گیا تھا۔ خون اب پانی میں جا بجا بہہ رہا تھا۔جب ٹجڑے کرنے کو مزید کچھ نہیں ملا تو وہ رکا تھا۔ اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔

تلوار غائب کرتا وہی جارحانہ تیور لیے مایا وش کی جانب بڑھا تھا۔ مایا وش نے خود کو فضا میں جھولتے محسوس کیا تو چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔ مگر خود کو اس غصیلے کنگ کی بانہوں میں پا کر اس کے جسم سے جان نکلی تھی جیسے۔
آبدار نیچے اتاریں مجھے،، وہ لرزتا وجود سے خوف سے تھر تھر کانپتی بولی۔ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کو دھکیلا۔
مگر وہ خاموش تھا۔ اور اسی خاموشی سے اسے لئے سمندر کی جانب بڑھا تھا۔
نو،،آبدار ،،،،،نہیں،، بب،،، بلکل،،، نہیں،،،
اس کے ارادے بھانپ کر اس کی روح فنا ہوئی تھی۔ مگر وہ کچھ بھی سنے بغیر اسے لئے سمندر میں کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا۔

مایا وش نے لمبا سا سانس کھینچ کر آکسیجن اپنے منہ میں بھر لی اور اسے سہمی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ اسے لئے ایک گہرائی میں اترا تھا یہ ایک محل نما سا گھر تھا۔ اور اس گھر کی خوش قسمتی تھی کہ آج اوشن کنگ نے اسے رونق بخشی تھی۔
پنک کلر کا محل دیکھنے لائق تھا جو جا بجا سچے موتیوں سے سجا تھا۔

جس میں داخل ہو کر وہ وہ اکک کمرے میں داخل ہوا تھا اور نرمی سے اس کے بیڈ پر مایا وش کو اتارا۔ کہاں گیا غصہ،، کہاں گیا قہر،، اس کی کوئین اپنے پیروں پر چل کر اس تک آئی تھی وہ زرا اچھے سے ویلکم تو کر لیتا۔ اور زرا کوئین کے ہوش تو ٹھکانے لگا دیتا۔

آبدار نے دیکھا وہ اب بھی اپنی گال آکسیجن سے پھلائے ہوئے ہے۔ آبدار نے نرمی سے اس کے گالوں پر مکے بجا دئیے۔ وہ نا سمجھ اب تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ وہ پانی میں سانس لے پا رہی ہے۔
وہ جو اس کے جارحانہ تیوروں سے بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اب بیڈ پر پیچھے کی جانب کھسکی۔ مگر آبدار نے اس کے پاؤں سے کھینچ کر اس بیڈ پر گرایا تھا اور اس پر حاوی ہوتا مکمل اس پر جھکا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️