Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا ویرا اٹھ کر بیٹھی تھی۔ اپنے پاس اس پرندے کا ہونا اس خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گیا تھا۔
وہ جلدی سے اٹھی۔ اور پرندے کو اپنے ہاتھوں میں بھرا۔۔

ہیے فرینڈ،،، مسنگ یو سو مچ،،، اس نے اس کا چہرا اپنی گال سے مس کر کے رگڑا۔ آج وہ بلکل بھی مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔ نا پھڑپھڑا رہا تھا بس خاموشی سے اس کی ایک ایک کاروائی دیکھے جا رہا تھا۔
چلو میں تمھیں کوئی نیم دیتی ہوں تو آج سے تمھارا نام بیربل،، یہ کہتے اس نے پھر سے اس پرندے کا منہ چوما۔ مگر اب کی بار اس نے سکون سے آنکھیں موندیں تھیں۔

یو نو واٹ بیربل،، میں یہاں قید میں ہوں،، اور بہت اکیلی ہوں،، میں سیرا مما،، جمی ڈیڈ،، وشہ مما اور راج ڈیڈ کو بہت مس کرتی ہوں،، ادھر تو کسی سے بات بھی نہیں کرتی،، بہت اکیلی ہوں،، وہ بیڈ سے اٹھی تھی۔ اور اسے ہاتھوں میں تھامے کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی۔ اس کی بڑی بڑی سنہری آنکھوں میں اس وقت دنیا جہان کی یاسیت اور افسردگی تھی۔
کنگ ویام جو اس وقت پرندہ بنا اس کے ہاتھ میں تھا بغور اس کے چہرے کی اداسی دیکھی۔

تمھیں پتہ ہے ادھر ایک مونسٹر رہتا ہے،، اب وہ سرگوشی نما آواز میں اس کو اپنے چہرے کے قریب کر کے معصومیت سے بولی تھی۔
وہ مونسٹر بے حد ڈراؤنا ہے، بہت بھیانک بہت کروئیل اور بہت برا،،، اسی نے مجھے یہاں قید کر کہ رکھا ہے،،
ماہا ویرا نے اس کی انفارمیشن میں اضافہ کیا تھا اور اس کروئیل مونسٹر کے نام پر برا سا منہ بھی بنایا۔

اس مونسٹر نے مجھے بہت پین دیا ادھر،،، ماہا ویرا نے اپنی شہادت کی انگلی اپنے گلے پر رکھی تھی۔ وہ بغور اس کی ایک ایک بات سن اور تمام حرکات دیکھ رہا تھا۔
مجھے بہت پین ہوا،، تمھیں پتہ ہے میں بہت روئی بھی تھی،، جمی ڈیڈ نے کبھی مجھے رونے نہیں دیا،، اور ادھر میں اتنا روئی،، آئی ہیٹ ہم،،، اس نے پھر برا سا منہ بنایا۔ اتنے دنوں بعد کوئی ایسا ہاتھ لگا تھا جو اسے پسند تھا تبھی جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف تھی۔

ایک کنفیوزنگ بھی ہے بیربل،، اس کڈنیپر کروئیل مونسٹر نے ابھی تک بتایا ہی نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے،، نا مما اور ڈیڈ کا نمبر لیا نا انھیں پیسوں کے لئے فون کیا،،
اب بھی وہ سرگوشی نما آواز میں باتیں کر رہی تھی اور ساتھ ادھر ادھر بھی دیکھ رہی تھی کہ کہیں وہ کروئیل مونسٹر سن ہی نا لے۔

اور ایک اور بات یاد آئی وہ مجھے ڈریگن پرنسز بولتا ہے،، میں تو بس اپنے جمی اور راج ڈیڈ کی پرنسز ہوں،،
اس نے معصومیت سے کہا مگر بیربل جی کو یہ بات سخت ناگوار گزری تھی تبھی سزا کے طور اس کے ہاتھ پہ چونچ بھی مار دی۔
آؤچ،،، ماہا نے تڑپ کر اسے ونڈو میں اڑایا تھا۔ وہ کھڑکی میں جا بیٹھا۔

تت،،، تم نے بھی مجھے پین دیا،، میں کیسے بھول گئی،، کوئی بھی یہاں میرا اپنا نہیں ہے،، جو میرا اپنا ہوگا وہ مجھے ہارم نہیں پہنچائے گا،، آئی ہیٹ یو،، وہ کہتی جا کر بیڈ پر اوندھے منہ گر کر بیڈ میں منہ دئیے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
بیربل اڑ کر وہاں سے غائب ہوا تھا۔

کچھ دیر بعد ہی دو پہرے دار فیریز دروازہ ہلکا سا ناک کر کے اندر داخل ہوئیں تھیں۔ وہ سہم کر اپنی جگہ پہ سمٹ سی گئی۔
کوئین کھانا کھا لیں،، اور دوا لے لیں،، اٹھیں شاباش،، ایک نے کسی کے کہنے پر اس پیار سے پچکارتے سیدھا کیا اور اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر کھانا کھلانے لگی۔ جسے وہ چپ چاپ کھانے لگی۔ کیونکہ اس سے مزے کا کھانا شاید ہی اس نے کبھی کھایا ہوگا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رائیل پیلس میں اس وقت ازلان، عائش، روز، سنجنا ،رنجنا اور جیک موجو تھے۔
مایا وش نے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔آج پہلی مرتبہ وہ مایا وش کا چہرا اور وجود دیکھ رہے تھے اور اس کے غیر معمولی، غیر مرئی حسن سے حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہے تھے۔ سنجنا اور رنجنا تو مسلسل کبھی اسے کبھی وہاں کھڑی روز کو دیکھ رہیں تھیں کہ آخر یہ تھی کیا چیزیں جو پریوں کی کہانیوں کی طرح اس قدر حسین و نازک تھیں کہ نظر نہیں ٹھہر رہی تھی۔

مایا کا برسوں بعد اپنی حقیقت سے پردہ اٹھا تھا اور اب اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔ آبدار اس کے سامنے بیٹھا اس کے آنسو نظر انداز کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔
ازلان سرشار سا ایک جانب بیٹھاا تھا۔ مایا وش کو دیکھ کر بے حد خوش تھا۔ اس کے بیٹے کی ہر تکلیف دور ہو جانی تھی اب۔ مایا وش مل گئی تھی تو اب چھوٹی ڈریگن پرنسز نے بھی مل جانا تھا جس سے عائش کی زندگی جڑی تھی۔ اور پھر جب ایلا بھی مل جاتی تو خوشیوں نے رائیل پیلس پر ڈیرے جما لینے تھے۔

آخر بتاتی کیوں نہیں یو مایا وش کیا ہوا ہے،؟ کدھر جا رہی ہو،،؟ رو کیوں رہی ہے،،؟ سنجنا کے کہنے کی دیر تھی مایا وش ایک مرتبہ پھر اس سے لپٹ کر روئی تھی۔ آبدار نے ناگواری سے یہ منظر دیکھا اور نگاہ پھیر لی۔ جب رو رو کر مایا وش کی ہچکی بندھ گئی تھی آبدار ہی بولا۔

ایک لمبے سفر پر جا رہے ہیں دعا کرنا کامیاب لوٹیں،، اور جیک اور رنجنا تم سنجنا کا خیال رکھنا،، بہت بہت سارا،، اس کے سر سے ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے،، میری بات سمجھ رہے ہو ناں،، اب ہمیں اجازت دو،،
آبدار نے اٹھ کر بڑے حق سے مایا وش کا بازو تھام کر اسے خود سے لگایا تھا۔

سنجنا نے حیرت سے دیکھا۔
حیران مت ہو،، تمھاری دوست میری بیوی ہے اب،، اس دنیا میں سب سے زیادہ اس پر میرا حق ہے،،، وہ جتانا نہیں بھولا۔ سنجنا نے کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر وہ اسے بیچ میں ہی ٹوک گیا۔
مجھے تم سے زیادہ فکر ہے اس کی تو خیال رکھوں گا،، وہ کہتے مایا وش کو اپنے روم میں لے جانے لگا۔

مگر مایا وش نے ایک مرتبہ ہاتھ چھڑایا اور سنجنا، رنجنا سے گلے مل کر روئی۔ روز نے بھی اسے گلے سے لگا کر گڈ لک بولا۔ ازلان نے بھی اسے گلے سے لگایا اور عائش نے کان پکڑ کر سوری بولا۔ تو وہ اتنی ٹینشن میں بھی بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی۔
مسکان بیگم ، اور حماد سلطان تو پہلے ہی مایا وش سے مل چکے تھے۔

آبدار پھر ایک مرتبہ اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا اسے اپنے کمرے کی جانب لے گیا تھا۔ مایا وش بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی رہی۔

وہ اسے لئے کمرے میں آیا۔ کمرے کا دروازہ لاک کیا اور مایا وش کا ہاتھ تھامے مرر کے سامنے آیا۔
منہ میں کچھ منتر بولے
بلیک مرر، فیری ٹوپیا کا راستہ بنا دیجئیے،، مرر میں سے آنکھوں کو چندھیا دیتے والی روشنی نکلی اور ایک راستہ سا بن گیا۔ راستہ کیا تھا پھولوں اور تتلیوں کی انتہائی خوبصورت راہ گزر سی تھی۔

کوئین ریڈی فار دی رائیڈ،،، آبدار نے پوچھا۔ مگر سچ بات تو یہ تھی کہ مایا وش خوفزدہ تھی۔ تبھی آبدار کے ہاتھ پر دباؤ بڑھایا۔ آبدار نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی تھی۔ اور قدم آگے بڑھایا۔ وہ مرر میں نرمی سے داخل ہو گئے۔ ابھی دو تین قدم انھوں نے اندر رکھے تھے۔ جب مرر اپنی اصلی حالت میں واپس آتا چلا گیا۔ کچھ ہی دیر میں کمرا یوں تھا جیسے وہاں کوئی آیاہی نہیں تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

روز نے پہرے داروں کے ہاتھ تاشہ کو پیغام بھیج دیا تھا۔ ازلان نے انھیں رخصت کیا تو وہ عائش کے ساتھ سمندر میں اتری۔
ازلان اپنی پرسنل بوٹ میں ملیشیاء کے لئے نکلا۔ بعد میں پتا چلا کہ اگر وہ ایلا کو ادھر سے آزاد کروا لیتے ہیں تو سینٹوسا بیچ پر نہیں لنکیانہ بیچ پر زیادہ سیو رہے گی ایلا۔ تبھی اب وہ ملیشیاء کے لئے نکلا تھا۔

روزیلہ عائش کو لئے اوشیانہ میں داخل ہوئی تھی۔ جہاں ایک الگ ہی جہان آباد تھا۔ بہت دور سے ہی وہ فیروزی پنک کلر کا محل صاف دکھائی دے رہا تھا۔
عائش جانتا تھا کہ تاشہ بہت مکار اور چالاک ہے اس کے سامنے انھیں کامیاب ایکٹنگ کرنی پڑے گی،، تبھی وہ مطمین بھی ہو پائے گی،،
پرنسز،،،
کچھ جل پریاں روزیلہ کے اعزاز میں ان کے قریب آ کر سر تسلیم خم کر رہیں تھیں۔ مگر بغور اس خوبصورت ترین مگر نک چڑھے جل پری زاد کو بھی دیکھ رہی تھی جو پرنسز کے ساتھ تھا۔ مگر اس کے سینے پر موجود وہ شاہی خاندان کا اوشن کنگ والا ٹیٹو دیکھ کر چونک گئیں اور اس کی تعظیم کو بھی جھکیں۔

تاشہ ان کے اعزاز میں خود محل سے باہر تک آئی تھی۔
میری بچی،، تاشہ نے روزیلہ کو اپنے سینے میں بھینچا۔
یہ عائش ہیں ماں،، اوشن کنگ،، مم،،، میں ان سے مم،،،، محبت کرتی ہوں،، اور یہ مجھ سے،، ہ،،، ہم نے شادی بب،،، بھی کر لی،، یہ دیکھیں،،
روزیلہ نے اپنے لاکٹ کے درشن کرائے۔ اب جج،، جب ہم نے شادی کر ہی لی تو مم،،،، میں ان کو ان کی اصلی جگہ لے آئی،،
روزیلہ کی بار بار لڑکھڑاتی ہوئی زبان پر تاشہ نے مشکوک اور خونخوار نگاہوں سے گھورا ۔ عائش نے دانت کچکچا کر اس ڈرپوک بزدل جل پری کو دیکھا۔ جو بیچ چوراہے ان کی جھوٹی شادی کا بھانڈا پھوڑنے والی تھی۔ تبھی

تبھی عائش نے اسے کمر سے تھام کر اپنے سینے میں بھینچا تھا۔ روز نے بوکھلا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے۔
او کم آن،، مائی کوئین،، اب تو شرمانا بند کرو،، میں جانتا ہوں بہت معصوم ہو تم،،محبت کا اظہار بھی پہلے مجھے کرنا پڑا، مگر اب تو شادی ہو چکی ہے یار،، اب تو یہ شرمانا بند کرو،، شرمانا چھوڑو گی تو مدر ان لا نانی بن پائیں گی ناں،،
عائش نے بہت پیار سے اس کے دہکتے گال سہلائے۔
مگر دوسرے ہاتھ سے چپکے سے اس کے پہلو میں زور دار چٹکی بھی کاٹ دی۔ جس سے وہ بلبلا اٹھی۔ مگر یہ ہڑبڑاہٹ تاشہ سے چھپانے کو اسی ظالم کے سینے میں منہ دے لیا۔

اب کہیں جا کر تاشہ کے چہرے پر شیطانی سی ہنسی آئی تھی۔
میرا خیال تم دونوں کو آرام کرنا چاہیے،، تاشہ نے کہا۔ وہ انھیں لئے شاندار محل میں داخل ہوئی۔

وہ اندر آئے۔ عائش کی نگاہیں تمام چیزوں کو احاطہ کیے جائزہ لے رہیں تھیں۔ وہ روزیلہ کو لئے محل کے سب سے شاندار کمرے میں داخل ہوا تھا۔

تاشہ انھیں جاتا دیکھ رہی تھی۔
واؤ کوئین،، آپ اپنے مقصد کے بہت بہت قریب ہیں،،
تاشہ کی ایک چیلی ہیما خباثت سے بولی تھی۔
مگر اتنی جلدی،، یہ بےوقوف روز اتنا بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتی،، کچھ تو گڑبڑ ہے،، نظر رکھو ان پر،،
تاشہ بولتی اپنا ترشول لیے اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ آج پھر اینچینٹرس کے پاس اس کے گھر میں بیٹھا اپنے لب بری طرح کاٹ رہا تھا۔
اینچینٹرس اپنے کام میں مصروف کبھی کبھی اسے گہری نگاہ سے دیکھ لیا کرتی تھی۔

کنگ ویام جشن کا اہتمام کروایا جائے؟ کیا اب آپ تیار ہیں اس کے لئے،، کیا اب آپ کی طبیعت ٹھیک ہے،، کوئین کا انتخاب جلد کر لیں ،،فیری ٹوپیا کے لوگ انتظار میں ہیں،، اپنی کوئین کو دیکھنے کے لئے،،؟
اینچینٹرس نے پوچھا تو وہ جو اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا یک دم چونکا۔ یہ شاید غائب دماغی تھی یا عشق کی خماری۔

مگر وہ کیسے آ سکتی ہے یہاں؟ وہ بول بیٹھا۔
کیا؟ کون؟ کس کی بات کر رہے ہیں آپ،،؟ اینچینٹرس نے جان بوجھ کر پوچھا۔
وہ چونکا اور سر جھٹکا۔ کسی کی نہیں،،

اب کی بار میں فیری ٹوپیا کی تمام پریوں کو دوعت نامہ بھیجوں گی شاید کوئی آپ کے دل کو لبھا پائے،، اینچینٹرس مسکرائی۔
وہ جبڑے بھینچ گیا۔ کاش بول پاتا۔ کہ ایل بنا پنکھوں والی پری لبھا چکی ہے تبھی تو یہ دل بے قابو ہوا چاہتا تھا۔ بے لگام جو اس کے خود کے بس میں نہیں۔
ایک پری زاد ایک ڈریگن پرنسز پر عاشق ہو گیا تھا خدا خیر ہی کرے۔ اس کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ کچھ الفاظ کب سے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ اس کے پاس اتنی پاورز تھیں کہ وہ دنیا کی ہر زبان سمجھ اور بول سکتا تھا۔ تبھی آج اس کا ایک ایک لفظ دل و دماغ میں ایک عذاب بن کر اترا تھا ۔ اس کی تکلیف اسے تکلیف دیتی تھی۔ اس کے آنسو اسے برے لگنے لگ گئے تھے۔ اس کی باتیں اس کے دل ودماغ پر گہرا اثر چھوڑتی تھیں۔

(((مجھے بہت پین ہوا،، تمھیں پتہ ہے میں بہت روئی بھی تھی،، جمی ڈیڈ نے کبھی مجھے رونے نہیں دیا،، اور ادھر میں اتنا روئی،، آئی ہیٹ ہم،،،ایک کنفیوزنگ بھی ہے بیربل،، اس کڈنیپر کروئیل مونسٹر نے ابھی تک بتایا ہی نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے،، نا مما اور ڈیڈ کا نمبر لیا نا انھیں پیسوں کے لئے فون کیا،، تت،،، تم نے بھی مجھے پین دیا،، میں کیسے بھول گئی،، کوئی بھی یہاں میرا اپنا نہیں ہے،، جو میرا اپنا ہوگا وہ مجھے ہارم نہیں پہنچائے گا،، آئی ہیٹ یو،،)))

وہ جو اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا اچانک بولا۔ اینچینٹرس میں اسے آزاد کر رہا ہوں،، میرا نہیں خیال کے جب تک میں اسے اپنے پاس رکھوں گا کسی اور جانب دھیان لگا پاؤں گا،، وہ بول کر خاموش ہوا۔ مگر جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔

اووہہہہہہہہ،،،، یہ تو بہت اچھی بات ہے کنگ ویام،، میں بہت خوش ہوئی آپ کے فیصلے سے،، اینچینٹرس واقعی خوش دکھائی دے رہی تھی۔

میں اس کے ہاتھ سے وہ رنگ اتارنے والا ہوں،، ویام نے نیا شوشا چھوڑا۔ اینچینٹرس چونکی۔

نہیں کنگ ویام،، اب ایسا ممکن نہیں،، وہ رنگ اس کے ہاتھ سے نہیں اتر سکتی،، اس رنگ میں اتنی پاورز ہیں کہ اس کے اترتے ہی وہ رنگ اس کی جان لے سکتی ہے،، اپنا چوسا گیا زہر واپس اسے دے سکتی ہے،، آپ سمجھ رہے ہیں نا میری بات،،
اینچینٹرس نے ویام کی جانب غور اے دیکھا جو اس بات سے بے چین سا ہوا تھا۔

لیکن اگر کسی اور نے وہ رنگ اس کے ہاتھ سے اتار دی یا اس نے خود نے،، ویام اسی بات سے تو بے چین ہوا تھا۔
نہیں،، ایسا ممکن نہیں،، تمھارے علاوہ اسے اس کے ہاتھ سے کوئی نہیں اتار سکتا،،، وہ خود بھی نہیں،، اینچینٹرس نے کہا تو اسے سکون آیا۔
تبھی وہ وہاں سے نکلا تھا۔

کہاں چل دئیے کنگ ویام،، اینچینٹرس نے پوچھا جبکہ جواب جانتی تھیں۔
اسے آزاد کرنے،، کنگ ویام نے کہا اور وہاں سے چل دیا۔ اب یہ تو وقت ہی طے کرنے والا تھا کہ وہ آزاد ہوگی کہ کسی کے دل کے نہا خانوں میں قید۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویر کو آج لباس تبدیل کرنے کو دیا گیا تھا۔ وہ نہا کر فریش سی باہر نکلی۔ یہ ٹی پنک کلر میں پیروں تک کی ایک لونگ فراک تھی۔ سلیولیس بازو میں وہ فریش فریش سی باہر آئی۔
آج تو وہ پہرے دار فیریز اس پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہو رہیں تھیں۔ تبھی اسے گھما پھرا کر وہ پورا ہاؤس دکھایا تھا۔ تاکہ اس کی اداسی کم ہو۔

شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ وہ اب بھی طویل ترین لان میں چہل قدمی کر رہی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہی وہاں ایک دہشت ناک سا سناٹا طاری ہو گیا تھا۔ مگر ماہا ویرا خوفزہ نہیں تھی وہ پہرے دار پریاں ایک جانب کھڑی اس کی حفاظت کر رہیں تھیں۔

وہ جانے کس گہرے خیال میں ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی کہ اسے پتہ نا چلا کہ وہ پہرے دار پریاں وہاں سے غائب تھیں۔ وہ تو پروں کی وہی عجیب و غریب پھڑپھڑاہٹ سن کر وہ یک دم اپنی جگہ فریز ہوئی تھی۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں کچلا۔ خوف ودہشت کے مارے اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جگہ کھڑی لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی۔
ویام اس کے پیچھے کھڑا بغور اسے لرزتے دیکھ رہا تھا۔

ماہا ویرا کے لئے منظر اچانک بہت ڈراؤنا ہو چکا تھا۔ اس نے زرا س سر موڑ کر دیکھا۔ وہ جو صبح سے اس کے ساتھ دو لڑکیاں تھیں وہ اچانک ہی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھیں۔ اب تو ماہا ویرا کی روح فنا ہوئی تھی جیسے۔ تبھی بغیر سوچے سمجھے اندر کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔
کنگ ویام کے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
ماہا ویرا نے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ لاک کر کے ہی سانس لیا تھا۔ دروازے سے پیٹھ لگا کر سہارا لیا اور لمبے لمبے سانس بھرنے لگی۔ اس سیاہ ہیولے کا خوف اس کے دل و دماغ میں جڑیں پکڑ چکا تھا۔ تبھی وہ اتنا خوفزدہ ہوتی تھی۔
کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو ماہا ویرا نے اپنی بند آنکھیں پٹ سے کھولیں تھیں۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ بہت قریب چلا آیا تھا۔ اور اسے سر تا پا غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے آزاد کرنے آیا تھا۔ مگر دل ہمک ہمک کر فرمائش کر رہا تھا کہ عمر بھر کے لئے اسے اپنے پاس کہیں چھپا کر رکھ لے۔ قید کر لے۔ ویام نے اس کے دائیں بائیں اپنے ہاتھ دروازے پر ٹکائے۔

ماہا ویرا ڈور میں گھسنے کو تھی۔
دد،،، دور،،، رہیے،،، سس،، سٹے، اوےےےے،،،، وہ سینے پر ہاتھ رکھے زور سے آنکھیں بند کر کے بولی تھی۔

ڈریگن پرنسز،، آزادی چاہیے،؟ اپنے پیرنٹس کے پاس جانا ہے،،؟ کنگ ویام کے سوال پر اس نے ایک مرتبہ پھر پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔ بلیک ہڈی میں کبھی اس کی آنکھیں دکھائی کب دیں تھیں مگر گھنی مونچھوں تلے سرخ لب ایک نظر دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی اور سر زور سے اثبات میں ہلایا۔

Then go ahead,,,and kiss me,,,,,,
وہ جانے خود کو آزما رہا تھا یا اس چھوٹی سی جان کو،، بہت بے اختیار لفظ تھے اور بے اختیار عمل۔
وہ دل وجان سے کانپ اٹھی تھی۔ پھر زور سے آنکھیں بند کیں تھیں۔ اور نفی میں سر ہلایا۔ مطلب اس بیہودہ فرمائش کے لئے صاف انکار تھا۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی سامنے والا اپنے فیصلے پر کس قدر بے قرار اور بے چین تھا۔

کوئی بات نہیں یہ کام میں خود کر لیتا ہوں،، وہ لاپروائی سے بول تھا۔ ماہا ویرا اس کی باتوں حرکتوں سے اس سے پہلے سے بھی زیادہ خوفزدہ ہو چکی تھی۔ مگر جائے فرار کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ تبھی آنکھوں سے آنسو لڑھک کر گالوں پر بہہ نکلے۔۔ کنگ ویام مزید بے چین ہوا تھا تبھی اس کے چہرے پر جھک کر وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے تھے۔
ماہا ویرا کو ایک سلگتا لمس اپنے چہرے پر رینگتا محسوس ہوا تو وہ بند آنکھوں سے ہی ہاتھ چلانے لگی۔ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلنے کی کوشش کی۔ جس کا الٹا ہی اثر ہوا تھا شاید۔

کہ کنگ ویام نے اس کے دونوں بازو اپبی سخت گرفت میں لے کر دروازے سے لگائے تھے۔ کندھے پر لب رکھے۔ اور اپنا لمس چھوڑتا کندھے سے کان تک آیا۔
وہ یہ سب گستاخیاں پورے حق سے کرنے میں مشغول تھا۔ وہ اسی کی تو تھی۔ دل و جاں سے، جام و وجود سے، اور اگر اس کے سینے پر آدھا ڈریگن اور آدھا پری زاد کا ٹیٹو بنا تھا تو وہ روح سے بھی صرف اسی کی تھی۔

جب کہ ماہا ویرا کو لگا ایک اور وکی شیر گل ہے جو اسے نوچنا چاہتا ہے۔ تبھی وہ بری طرح مچلی تھی۔
لیو می،، چھوڑیں مجھے،،، مگر ایک انچ بھی خود کو اس کی گرفت سے آزاد نہیں کروا پا رہی تھی۔ تبھی آنسو موتیوں کی صورت گرنے لگے تھے۔ مگر سامنے والا بلکل اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا شاید تبھی مسلسل اس کی نرم گداز گلابی گردن پر جھکا ہوا تھا۔
ویام کے ہونٹوں نے اس کی بیوٹی بون کو چھوا تو ماہا ویرا پھر سے مچلی۔
مگر بے تحاشا برداشت کرتے وہ بری طرح ناکام ہوا تھا۔ تبھی ایک ہاتھ کمر کے گرد لپیٹ کر دوسرا بالوں میں پھنسا کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
وہ اس کے چہرے پر بکھرے موتی چن رہا تھا۔ جب کہ وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔

چھوڑیں مم،،، مجھے،،، جانے دیں،،، مم،،،،،، مت کریں،، میرے،، سس،،،، ساتھ ایسا،،، جانے دیں م،،،،
کنگ ویام نے اس کے لرزتے کانپتے ہونٹوں کی جنبش دیکھی تھی۔ وہ چاہتا تھا یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بھی پی ہی جائے۔ تبھی اس نے سیکنڈ نا لگایا تھا ایسے کرتے۔ بہت نرمی سے ان ہونٹوں کو اپنی پرشدت مہکتی گرفت میں لے کر اس کی سانسوں کی خوشبو اپنے سینے میں اتاری تھی۔

ماہا ویرا اس وحشی گرفت میں پھڑپھڑائی تھی۔
وہ تو اسے آزادی دینے آیا تھا۔ اسے یہاں سے بھیجنے آیا تھا۔ مگر اپنے منہ زور بے لگام جزبات پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔

ماہا ویرا کی سانس بند ہو رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا دھیرے دھیرے اس کی جسم سے جان نکل رہی ہے۔ وہ قطرہ قطرہ نیم جان ہو رہی تھی۔ مگر نہیں جانتی تھی۔ کنگ ویام نے خود جادو سے سے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کیا تھا۔ اس کا بازوؤں میں بھرے اب بھی وہ اسے آزاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مگر وہ جانتا تھا جب ماہا ویرا کی آنکھ کھلے گی تو وہ اپنے مان باپ کے گھر میں ہوگی۔ اور یہ سوچ کنگ ویام کی جان نکالنے کو کافی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️