No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ پنک فوریسٹ کے سرے پہ کھڑے تھے۔ آبدار نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ مایا وش نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ آبدار نے اسے اپنی جانب کھینچا۔ وہ اس کے حصار میں سمٹ گئی۔
نو میوزک،،،، مایا وش نے مسکرا کر سرگوشی کی۔ مگر آبدار گہرا مسکرایا۔
ایک ہی جھٹکے سے اسے اپنے بازو پر گرایا۔ اور ساتھ ہی ارد گرد فضا میں ایک خوبصورت میوزک کی مدھر آواز گونجی۔
مایا وش نے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا۔ مگر کچھ بھی تو نہیں تھا۔
آبدار نے پھر اسے جھٹکے سے سیدھا کیا اور گول گول گھما دیا۔ فضا میں تتلیان اڑنے لگیں اور ان کے پروں سے عجیب مدھر سی آواز آنے لگی۔
اب آبدار نے اسے گول گھماتے کبھی باؤ پر گراتے اس پنک گراؤنڈ میں قدم رکھے تھے۔ اب حیرت انگیز چور پر جہاں وہ قدم رکھتے ان کے قدموں کے نیچے وہ پنک پھول مسلے جانے کی بجائے انھیں پھولوں میں سے نکل کر پتے ان کے قدموں کو خود پر اٹھا لیتے تھے۔
گراونڈ میں موجود پنک بیل فلاور بھی ہوا کے دوش پر جھومنے لگے تھے جیسے۔
وہ اس کے قریب آ رہا تھا۔ جیسے اس کی روح میں سما رہا تھا۔ وہ دو جسم ایک جان تھے۔ جو ایک دوسرے کی آنکھوں میں مسکرا کر دیکھتے اپنا ہر سٹپ لے رہے تھے۔ تتلیان ان کے آس پاس حدِ نظر بکھری ہوئیں تھیں۔ کبھی اس کے بازوؤں کے نیچے سے اسے تھام کر اوپر اٹھاتا کبھی گول گھما کر کپل ڈانس کرتے اب وہ گراؤنڈ پار کر رہے تھے۔
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ آسمان نے اب جیسے سرخ اور اورنج امتزاج کی چادر خود پر اوڑھ رکھی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے بہت جلد وہ ونڈر ماونٹین کے قریب پہنچ گئے تھے۔ پنک گراؤنڈ ختم ہو چکا تھا وہ اپنی پہلی منزل کے بہت قریب تھے۔
آبدار ہم پہنچ گئے،، وہ خوشی سے اچھلتی اس کے سینے میں سمائی تھی۔ آبدار نے مسکرا کر اسے مزید اپنے سینے میں بھینچا۔ سامنے بے تحاشا خوبصورت ونڈر مائنٹین اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ ان کے سامنے تھا۔
پھولوں سے اٹا بڑا سیدھا اور خوبصورت راستہ تھا جو اوپر کی جانب جا رہا تھا۔ مایا وش اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی۔ وہ پہاڑ کے درمیانی حصے میں پہنچ چکے تھے۔ باقی پہاڑ کی نسبت یہاں درمیان میں ایک چھوٹا سا میدان سا تھا۔ پہاڑ سے یہان کا منظر بہت ہی حسین ترین تھا۔ پہاڑ کے اوپر سے حد نظر بڑے بڑے درخت نیچے کو جھکے ہوئے تھے اور ان پر لگے مختلف پھل ہوا گھنٹیوں کی طرح جھول رہے تھے۔
اس وقت وہ لوگ جہاں کھڑے تھے وہ ایک میدان تھا۔ اس کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا لکڑی کا سٹینڈ بنا ہوا تھا۔ اور اس پر ایک بے حد خوبصورت چمکدار جگمگاتی ایک رنگ سرزد ہوئی تھی۔
آبدار وہ دیکھیں وہ رنگ،، یہی تو چاہیے ہمیں،، ونڈر ماؤنٹین پر سراب کی انگوٹھی،، میں اس کو لے کر آتی ہوں،،، مایا وش بول کر اس رنگ کی جانب بڑھی جب آبدار نے اس کی کلائی تھامی۔
کیا ہوا آب،،؟ اس نے پیچھے مڑ کر آبدار کو دیکھا جو کچھ الجھا ہوا تھا۔
یہ،، سب اتنا آسان نہیں ہو سکتا کوئین،، یہ رنگ ہمیں اتنی آسانی سے تو نہیں مل سکتی،، کچھ تو ہے جو ہم سے چھوٹ رہا ہے،، آبدار نے گہرے لہجے میں کہا۔
جو جیسا دکھتا ہے ویسا نہیں ہوتا،، یہ سراب ہے ہماری آنکھوں کو دھوکہ یہ رنگ یہاں نہیں ہے،، مایا وش نے قدرے سرد لہجے میں کہتے اس رنگ کی جانب دیکھا۔ تم ہماری منزل نہیں ہو، ایسا ہی ہے ناں،، اس کے کہنے کی دیر تھی جب وہ رنگ اور وہ لکڑی کا سٹینڈ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔
آبدار نے مایا وش کو اپنے سینے میں بھینچا وہ یقینا اس سراب کو ہاتھ لگاتی تو وہ بھی راکھ کا ڈھیر بن جاتی،،
اب کیا ہوگا آب،، مایا وش کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ اس کے سینے میں سے منہ نکال کر چہرہ اوپر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ جس کے ماتھے پر مایا وش کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بے شمار بل آئے تھے۔
کچھ نہیں ہوگا،، ہم منزل کے بہت قریب ہیں بزدل کوئین گھبراتے نہیں ہیں،، وہ اس کی چھوٹی سی ناک چومتا بولا تھا۔ وہ پھر اسے بزدل بول رہا تھا۔ مایا وش نے جھنجھلا کر اس کے سینے میں منہ چھپایا۔ وہ مسکرایا اور اس کی پیٹھ سہلا کر اسے تسلی دی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جیک تیزی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ ماتھے کی رگیں پھولیں ہوئیں تھیں اور چہرہ حدِ برداشت سے لہو چھلکا رہا تھا۔
رنجو کھڑکی کی جانب رخ کیے روئے جا رہی تھی۔ انڈیا جانے کی ارینجمنٹس تو وہ کئی دنوں سے کر چکی تھی۔ مگر فیصلے پر تصدیق کی مہر رات لگی تھی۔
جیک وقتا فوقتا ایک نگاہ اس کا ہلکے سے لرزتا وجود دیکھ رہا تھا۔
ائیر پورٹ کے باہر گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ تو رنجو کو ہوش آیا۔ وہ جلدی سے سیدھی ہوئی۔ خاموشی سے گاڑی سے اتری۔ مل
میں چلی جاؤں گی،، ہینڈ بیگ کندھے پر پہنتی وہ جیک کی شکایتی نظروں سے نگاہیں چرا گئی تھی۔
مگر جیک تیزی سے گاڑی سے باہر آیق تھا۔ وہ اس کے پیچھے چلتا ائیر پورٹ کے اندر آیا تھا۔ جانے کیوں جیسے جیسے وہ قدم اندر کی جانب لے رہی تھی ان دونوں کا ہی دل ڈوب رہا تھا۔
اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی۔ وہ لگیج گھسیٹتی اندر کی جانب بڑھی جب جیک اس کے پیچھے ہی لپکا۔
رنجووو،، ول یو میری می،، اس کی اس بے ساختہ بات پر رنجنا کے قدم وہیں جم گئے تھے۔
کیوں؟ صرف اس لیے کہ میری شکل آپ کی سنجنا سے ملتی ہے،، وہ کاٹ دار لہجے بولی تھی۔
شاید ہاں،، میں تمھاری شکل میں اپنی سنجنا کو ڈھونڈ لیا کروں گا، تم میرے وجود کی خوشبو میں اسے ڈھونڈ لیا کرنا،،
اس نے اس بات سے انکار نہیں کیا تھا اور سیدھے سبھاؤ قبول کیا تھا کہ ایسا ہی ہے۔
اور اگر آج سنجنا زندہ ہوتی تو کیا تمھیں اس جہنم میں جانے دیتی جہاں تم منہ اٹھا کر چل پڑی ہو رنجو،، مرنے کے بعد کم از کم اس کی روح کو تکلیف مت پہنچاو،، شادی کر لو مجھ سے،، بس یہ رشتہ دنیا کی نگاہوں میں معتبر ہونے دو،، اسے اکسیپٹ کرنے کے لئے جتنا چاہے ہم وقت لے سکتے ہیں،، میں خود کو سنجنا کی جگہ رکھ کر تمھیں سہارا دینا چاہتا ہوں،،
جیک نے جو اس کے دل میں تھی ہر بات بتا دی تھی۔
رنجنا نے بری طرح اپنے لب کاٹے تھے۔ اپنا لگیج گھسیٹا اور واپس آ کر جھٹکے سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔ جیک سنجیدگی سے واپس آ کر گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کا رخ سیدھا کورٹ کی جانب کیا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ویام کے سامنے ایک خونخوار ڈریگن تھا جو آگ اگلنے کو بلکل تیار تھا۔ ماہا ویرا ہنوز اس کے سینے سے چپکی آنکھیں بند کیے کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔
راج بہت بری طرح دھاڑ رہا تھا۔ ابھی اس نے آگ اگل کر سب کچھ خاکستر کرنے کے ارادے سے منہ کھولا ہی تھا۔ کہ سینکڑوں کی تعداد میں پہاڑ پر چھپی بیٹھی پریاں اور پری زاد ویام اور راج کے درمیان آ کر راج کے سامنے اپنے گھٹنوں پر جھکے تھے۔
کنگ راج آپ کو ہمارے کنگ ویام تک پہنچنے کے لئے پہلے ہمیں موت کے گھاٹ اتارنا ہوگا،،ہم اپنے کنگ کی جگہ آپ کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں،، آپ ہماری جان لے لیں،، مگر ہمارے کنگ کو بخش دیں،،
ان سینکڑوں لوگوں نے ایک زبان ہو کر کہا تھا۔ جنھیں اینچینٹرس نے ہی حفظ ماتقدم کے طور پر انھیں کنگ ویام کے پیچھے بھیجا تھا یہی حکم دے کر کہ اگر کنگ راج ویام کو نقصان پہنچانے کہ کوشش کرے تو وہ لوگ بیچ میں آ کر یہ بولیں۔ اور وہ اتنا بھی جانتی تھی کہ راج کبھی کسی بے گناہ کی جان نہیں لے سکے گا۔ یہ لوگ تو پھر ہزاروں کی تعداد میں اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھے تھے۔
راج بری طرح اپنا سر پٹختا انسانی شکل میں واپس آیا تھا۔
پرنسز دور ہٹو اس سے اور میرے پاس آؤ،، راج کی دھاڑ پوری وادی میں گونجی تھی۔ ویام کی گرفت بے ساختہ اپنی کوئین کی کمر پر سخت ہوئی تھی۔ وہ جو اب تک ویام کی اس جان لیوا پکار کے زیر اثر تھی بری طرح روتے مزید اس کے سینے میں گھسی اور زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔
اگر تم لوگ نہیں چاہتے کہ میں تمھارے اس پاگل کنگ کو راکھ کا ڈھیر بنا تو میری پرنسز کو میرے پاس لاؤ،،
راج اب بھی بری طرح چلا رہا تھا۔ یہ سوچ کر ہی وہ طیش میں آگ کا گولہ بنا ہوا تھا کہ کنگ ویام اب بھی محض اس کی نازک سی حساس دل پرنسز کو محض بدلے اور انتقام کی تو بھینٹ چڑھانا چاہتا ہے۔
ویام کھڑا بری طرح اپنے لب کاٹ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اپنی کوئین کو اپنے ساتھ لے جانے والا تھا مگر اب کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
جب کسی میں اتنی جرات نا ہوئی کے ویام کے دسترس سے اسے نکالے تو راج ہی شدید اشتعال میں آگے بڑھا۔ اور ماہا ویرا کا بازو کھینچ کر اسے ویام کی پناہوں سے پیچھے کھینچا۔
ویام،،،،،، کنگ ویام،،، نہیں میں کہیں نہیں جاؤں گی،،،،، چھوڑ دیں مجھے ڈیڈ،، مجھے اپنے کنگ کے ساتھ جانا ہے،، جانے دیں مجھے،، نہیں،،، کنگ ویام روکیں مجھے،،،
وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی۔ اپنا ہاتھ ویام کی جانب بڑھا رہی تھی۔ مگر راج اسے ساتھ گھسیٹتا لیے چلا گیا۔ اپنی جگہ واپس آ کر راج نے ماہا ویرا پر پھونک ماری۔
وہ ایک دلخراش چیخ مارکر زمین پر گری۔ ویام اس کی جانب لپکا تھا مگر بیچ میں اس کے لوگ آ گئے اور اسے وہیں روک دیا۔۔ وہ اگر راج سے نہیں الجھ رہا تھا یا کچھ بھی نہیں بول پایا تھا وہ صرف اور صرف اپنے لوگوں کے لئے۔
مگر سینے میں جو ادھورے ملن کی تشنگی اور اس کے پھر سے دور جانے کے خیال نے اندر صفِ ماتم بچھا دی تھی اس کا درد تکلیف اور غم ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ اسے دور جاتے دیکھ رہا تھا جسے اب چاہتا تھا ایک پل کے لئے بھی وہ اس کی دسترس سے دور نا ہو۔ جو خود اس کی پناہوں سے دور ہوتی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے ماہا ویرا ایک چھوٹی سی ڈریگن میں بدلی تھی۔۔ راج بھی ایک دھاڑ کے ساتھ ڈریگن میں بدلا۔ راج نے اپنی ننھی سی ڈریگن پرنسز کی گردن کو اپنے منہ میں بھرا اور اسے اٹھائے وہاں سے محل کی جانب اڑا تھا۔
ویام نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے تھے۔ مگر اپنے لوگوں کے لئے فی الحال اسے سنبھلنا تھا۔ تبھی وہ سب کو واپسی کا حکم دیتا خود بھی واپسی کے لئے اڑا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آبدار اور مایا وش مسلسل چلتے رہے تھے۔ رات کے سیاہی گہری ہو گئی تھی۔ وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ مایا وش کو خوف محسوس ہوا تھا۔ کیونکہ پہاڑ کے اس پار نیچے زمین تو تھی ہی نہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پہاڑ بس خلا میں جھول رہا ہے۔ پہاڑ کے نیچے انھیں سیارے ستارے گردش کرتے نظر آئے۔ پہاڑ کی اترائی کے بلکل درمیان میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔
انھوںنے دو چار قدم ابھی نیچے اتارے تھے کہ اینچینٹرس کی وہی چھوٹی پریاں ایک کرول لیے وہاں حاضر ہوئیں تھیں۔
آبدار نے کرول تھام لیا یقینا اینچینٹرس یا ایورا کا کوئی پیغام ہوگا۔ آبدار نے کرول کھول کر دیکھا تو اس میں واقعی ایک پیغام لکھا تھا۔
اوشن کنگ اور پیاری ڈریگن کوئین یہ جو سامنے جھونپڑی نظر آ رہی آپ لوگوں کی منزل کا پہلا انعام اسی جھونپڑی میں ہی ہے،، مگر اس میں ایک الٹے سر والی وچ رہتی ہے جو بےحد شیطان ہے،،،، وہ اپنی گردن چاروں طرف گھما لیتی ہے،،، یہ سراب کے جال اسی کے بچھائے ہوئے ہیں،، اب مشکل یہ ہے کہ آپ کو اسی کی انگھوٹی اسی کے دیکھے بغیر چرانی ہوگی،، یہ کیسے کرنا ہے یہ آپ لوگ سوچ لیں۔ وہ رنگ چرا کر فورا پہاڑ کے اِس پار پنک گراونڈ کے پاس آ جانا کیونکہ وہ چڑیل اس طرف نہیں آ سکتی۔ نیک تمنائیں۔
اینچینٹرس،،
یہ پڑھ کر آبدار اور مایا وش پریشان ہوئے تھے۔ کرول غائب ہو گیا۔
اب کیا ہوگا آب،، وہ گھبرائی۔
اگر کسی طرح ہم اس وچ کا دھیان بٹا سکیں،، خاص کر وہ اوپر کی جانب دیکھتی ہو تو میں زیر زمین تیر کر اس کی جھونپڑی میں نکل کر وہ انگوٹھی چرا سکتا ہوں،،
آبدار نے کہا تو مایا وش کے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔ اس نے سوچا تھا کبھی وہ ڈریگن نہیں بنے گی۔ مگر اب وقت آن پہنچا تھا کہ وہ یہ کر گزرے جو کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ٹھیک ہے آپ یہ کریں آب،، اس وچ کا دھیان میں بھٹکاؤں گی،، مایا وش نے جی کڑا کر کے کہا۔
آبدار نے اس کی جانب تعجب سے دیکھا۔
وہ کیسے کوئین،،
آپ جائیں میں کرتی ہوں،، وہ اس کے سامنے تو بلکل بھی ڈریگن نہیں بننا چاہتی تھی۔ جانے کیوں۔ تبھی اسے جانے کو بولا۔
نو،، اگر اس نے آپ کو کوئی نقصان پہنچایا تو،؟ آبدار کو اس کو لے کر الگ ہی خدشے تھے۔
اگر ہمیں اپنی پہلی جیت کو پانا ہے تو یہ خطرہ تو اٹھانا ہی پڑت گا ناں آب،، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، جانتے ہیں ناں آپ،، وہ رنگ لے کر آپ پہاڑ کے اس پار نکلنا اور اپنے بازو پر ہلکے سے چٹکی کاٹنا جو سائن ہوگا کہ اپ کامیابی سے اس پار پہنچ گئے میں آپ کے پیچھے ہی آ جاؤں گی،، وعدہ رہا،، مایا وش نے کہا۔
آبدار نے سر ہلایا۔۔ بہت بے اختیار کسی خدشے کے تحت اس کی گردن میں ہاتھ ڈالا کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر میٹھی سی گستاخی کر کے وہ پیچھے ہٹا۔ اور زرا سا نیچے جھک کر پہاڑ پر اپنا ہاتھ لہرایا۔ ہاتھ میں سے نکلنے والی ریز زمین پر پڑی تو وہاں موجود پتھر بھی پانی کی طرح لہرانے لگے۔
آبدار نے سر نیچے جھکا کر زمین کے اندر چھلانگ لگائی تھی۔ وہ جھونپڑی کی جانب تیرا۔
مایا وش نے نے لرزتی پلکوں سے آنکھیں بند کیں۔ زعا دماغ کا کھیل تھا۔
میں ڈریگن پرنسز ڈریگن بننا چاہتی ہوں،، دماغ نے کہا۔ وجود زلزلے نما جھٹکوں کی ضد میں آیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ ڈریگن بن کر اوپر اڑی تھی۔ جھونپڑی کے دروازے میں بیٹھی وہ ڈراؤنی شکل کی وچ چونکی تھی۔ کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تھا۔ اوپر سر اٹھایا تو ایک ڈریگن ہوا میں اڑ رہا تھا۔ وہ مکار وچ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی آخر یہ ہے کیا چیز۔
وہ اوپر دیکھے گئی۔ اور اس ڈریگن کے سینے پر چمکتے ٹیٹو کو دیکھ جلد سمجھ بھی گئی کہ یہ کون ہے۔ آبدار چھونپڑی کے اندر سے زمین سے نمودار ہوا تھا۔ چپکے سے اسے دیکھا جو آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی۔
اس نے دیکھا اس جھونپڑی کے بیچ و بیچ ایک چھوٹا سا میز پڑا ہے جس پر ایک بہت چمکدار رنگ پڑی تھی۔ وہ بہت دھیرے اور چپکے سے آگے بڑھا۔
اے ڈریگن پرنسز جاؤ یہاں سے نہیں تو دردناک موت دوں گی،، وہ آسمان کی جانب رخ کیے چلائی تھی۔
مایا وش نے جان بوجھ کر اسے اکسانے کو اس کی جانب رخ کر کے آگ اگلی۔ وہ وچ غصے سے بولا گئی اور جو کبھی بھی اس جھونپڑی کو چھوڑ کر کہیں نہیں ہلی تھی۔ اب اپنی جھاڑو اٹھا کر اس پر سوار ہوئی اور ہوا میں اڑی۔
میرے ہاتھوں مرو گی ڈریگن پرنسز،،، وہ مکروہ قہقہے لگاتی مایا وش کے پیچھے پیچھے تیزی سے اڑنے لگی۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی گھما کر مایا وش پر وار کرنے لگی۔ مایا وش تیزی سے ادھر ادھر ہو کر اپنا بچاؤ کرنے لگی۔
آبدار نے وہ رنگ اٹھائی تھی۔ اور زیرِ زمین تیر کر جھونپڑی سے باہر آیا تھا۔ فضا میں اڑتی اپنی ڈریگن کوئین کو ایک نظر دیکھ گہرا مسکرایا تھا۔ اپنے بازوپر ہلکے سے چٹکی کاٹی۔ پھر وہ نیچے سے تیر کر پہاڑ کے اس طرف پنک گراونڈ کے پاس نکل آیا۔ مگر کچھ ہی دیر میں اسے اپنی کمر پر تیزاب گرنے جتنا درد محسوس ہوا تو شدید درد سے کراہ اٹھا۔
مایا وش کو سائن مل چکا تھا۔ تبھی وہ پہاڑ کے اس طرف اڑی تھی۔ مگر بے دھیانی میں تھوڑی بے احتیاطی کر بیٹھی۔ وہ بھول گئی تھی وہ چڑیل اس طرف نہیں آ سکتی مگر اس کا کیا گیا وار تو اس طرف آ سکتا ہے ۔ وہ پہاڑ کے اس جانب آتے اپنی رفتار آہستہ کر بیٹھی تھی جب اس چڑیل کا وار اسے اپنی کمر پر جھیلنا پڑا۔
وہ فضا میں بری طرح ہچکولے کھاتی پہاڑ کے اس طرف جھٹکے سے پھولوں پر گری تھی۔ درد سے تڑپتے انسانی شکل میں واپس آئی۔ اس کی دلخراش چیخوں سے پنک گراؤنڈ بھی لرز گیا تھا۔
آبدار نے غم و غصے سے اسے زمین پر گرتے دیکھا تھا۔ ایک معمولی سی وچ نے اوشن کنگ ایک اگریسو مونسٹر کے غصے اور قہر کو ہوا دی تھی۔جو چیز انھیں چاہیے تھی وہ تو مل ہی چکی تھی۔ اب آبدار تیزی سے زمین کی طرف اشارہ کیا پہاڑ کے اس پار جھونپڑی میں ایک دیو ہیکل وہیل وش نمودار ہوئی تھی اور اس وچ کو ثابت نگل کر پھر سے پہاڑ کے اندر غائب ہو گئی۔
سارا سراب غائب ہو گیا تھا۔ منظر بدل چکا تھا۔ وہ جو حسین وادی کا حصہ اس مکار چڑیل کے قبضے میں تھا اب آزاد ہو کر بہت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔
آبدار تڑپ کر اس کے پاس آیا تھا۔ مایا وش کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا جو بری طرح تڑپ رہی تھی۔
آب،،، میری کمر ،،،،، جل رہی ہے ،،،،،، کچھ کریں،،، مایا وش نے آب کی شرٹ مٹھیوں میں بری طرح جکڑی بے تحاشا روتے اسے کہا تھا۔ آبدار نے ادھر ادھر دیکھا۔
مایا وش کا سر زمین پر رکھا۔ اٹھا اور ایک بہت بڑے سے پھول کی پتی کھینچ کر نکالی۔ اسے لے کر مایا وش کے پاس بیٹھا مایا وش کو اٹھا کر اس کی کمر اپنے سینے سے لگائی۔ وہ پتی کسی چادر کی طرح اپنے اور مایا وش کے گرد گردنوں تک لپیٹی۔
اب آبدار نے تیزی سے اپنی شرٹ اتاری اور مایا وش کی کمر سے بھی تیزی سے ڈوریاں کھول کر اس کی برہنہ کمر اپنے سینے میں بھینچی تھی۔
وہ جانتا تھا وہ ایک دوسرے کے زخموں کا مرحم ہیں ہر درد کی دوا ہر تکلیف کا چین سکون ۔ ایک دوسرے کے لئے ان ہیلر ہیں ایک دوسرے کے لئے راحت کا سامان ہیں۔
اور ہوا بھی یہی مایا وش کے بری طرح درد سے لرزتے کانپتے وجود کو زرا سی راحت ہوئی تو وہ لمبے لمبے سانس بھرتی آبدار کے کندھے سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔
فیری ٹوپیا کے اس آخر کونے میں رات نے ایک عجیب ہی سماں باندھ رکھا تھا۔ گہری تاریک رات کی خاموشی میں بیل فلاورز ہوا کے دوش پر لہراتے جھوم رہے تھے۔
دو محبت کرنے والے دلوں کے ٹیٹو جگمگائے تو پنک گراونڈ سے ٹمٹماتے جگنو نکل کر ان کے آس پاس رقص کرنے لگے۔
مایا وش زیادہ دیر سکون سے بیٹھ نہیں سکی کے آب کا ایک بازو اپنے کندھوں پر اور ایک ویسٹ پر لپٹتا محسوس ہوا تو وہ کسمسائی۔ یوں بھی وہ جس صورت حال میں اس کی بانہوں میں سمٹی ہوئی تھی مایا وش کے اب چودہ طبق روشن ہونا اور آبدار کا مدہوش ہونا بنتا تھا۔
آب،،،،، پلیز،،،،، نہیں،،،،، لرزتے لبوں سے بمشکل ادا ہوا۔ آبدار نے ایگریسولی اسے اپنے بازو پر گرایا تھا۔
اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو،، اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے وہ اب بھی غصے میں تھا۔
تو،،، مایا وش کو جانے کیا سوجھا اس کی جانب دیکھ کر پوچھ بیٹھی۔
تو میں آپ کی جان لے لیتا،، اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر ایک جھٹکے سے اپنے چہرے کے قریب کیا تھا۔ اس کی سانسوں کی حدت سے مایا وش کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
مجھے پتہ ہے آپ نہیں لے سکتے میری جان،، وہ اترا کر بولی تھی۔
گمان ہے آپ کا کوئین،، جس دن آپ کے وجود کو اپنے وجود کا حصہ بناؤں گا،، اس دن شاید آپ کی جان جائے میرے ہاتھوں،، اس کے سرسراتے لہجے میں اتنی شدت اتنا جنون تھا کچھ اس کے کے ہاتھ نے مایا وش کا پہلو سہلایا تھا کہ مایا وش کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے اور پہلو تو یوں دہک اٹھا تھا جیسے جل جائے گا۔
آبدار نے اپنے ہونٹ اس کے گداز ہونٹوں پر رکھے تھے۔ آج اس کے لمس میں پہلے سے کئی گناہ زیادہ شدت اور جنون تھا۔ مایا وش مچلی تھی۔ مگر اس کی چٹانی گرفت میں ہل بھی نہیں پائی۔ وہ ان نرم لبوں پر اپنی شدت اپنے جنون کی داستان لکھ دینا چاہتا تھا۔ ایک طویل بوسہ اس کے لبوں پر ثبت کر کے وہ نرمی سے پیچھے ہٹا اور اس کا سرخ چہرہ اور محبت کی بارش میں بھیگے لب دیکھے۔
مایا وش نے گھبرا اس کی گردن میں بازو حمائل کر کے اس کے ہی سینے میں پناہ ڈھونڈنے چاہی تھی۔
آئی نیڈ یو مایا وش،، وہ اپنی ہی کیفیت و بے بسی سے جھنجھلا رہا تھا۔ تبھی آج جزبوں سے چور لہجے میں اسے پکارا تھا کہ شاید اس کی ظالم بے حس کوئین کو اس پر رحم آ جائے۔ مگر اس نے ظلم کی انتہا کرتے اس کے سینے میں منہ دئیے ہی نفی میں سر ہلایا تھا۔ آبدار نے بے بسی کی انتہا سے اپنے لب کچلے۔
وہ جو آج کس وقت سے بھاگ دوڑ کر رہے تھے مایا وش بہت جلد اس کی بانہوں میں گہری نیند سو گئی تھی۔ آبدار نے لیٹ کر اسے اپنے سینے پر گرایا۔ کمر کے پیچھے ہاتھ لیجا کر اس کا لباس درست کیا اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے آنکھیں موند لیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
