No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پارٹی جب اپنے عروج پر تھی تو روزیلہ جسے اس گھر میں ہی پناہ دی گئی تھی۔ گولڈن امتزاج کی پیروں تک کی باربی فراک زیب تن کیے وہ پارٹی میں شامل ہوئی تھی۔ یہ لباس اسے مسکان بیگم نے دیا تھا۔ کالج کے اکثر لڑکوں کی نگاہ اسی نازک اندام بے تحاشا حسین لڑکی پر آن ٹھہری تھیں جس سے وہ سخت کنفیوز ہو رہی تھی۔
وہ اپنے ہٹ میں تھی تب تاشہ کے بھیجے گئے پہرے داروں نے عائش اور آبدار کا اس کی ماسی کے بیٹوں کا پتہ لگا کر اسے یہاں بھیجا تھا۔ اور اب وہ آج اس پارٹی میں موجود تھی مگر اپنے کزن برادرز میں سے ایک اس پر بہت مہربان تھا مگر ایک تو پوری پارٹی میں جس انداز سے اسے گھورتا رہا تھا اسکا ماتھا پسینے سے تر ہوتا رہا اور گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہو جاتی۔
کافی دیر ہو چکی تھی اسے یہاں تبھی وہ پارٹی ادھوری چھوڑ کر واپس اپنے روم میں چلی آئی تھی۔ یہ جانے بغیر کے وہ اس کا پیچھا کر رہا ہے۔
اس کی ڈوز کا ٹائم تھا۔ روز دن کے ایک مخصوص حصّے میں اسے وہ جادوئی موتی لینا ہی پڑتا تھا۔
وہ اپنے اس روپ کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔سخت مشکل اور تکلیف میں تھی اس کی ظالم ماں نے کتنا ظلم کیا تھا اس پر۔ ابھی نئی نئی اپنے اصل سے الگ ہوئی تھی ۔ ابھی انسانی روپ کی عادی نہیں ہو پا رہی تھی۔
وہ کمرے میں آئی تو پورا جسم لرز رہا تھا۔ ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ جلدی سے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا لاکٹ ڈھونڈنے کے لئے، مگر اتھل پتھل ہوتی سانس کے ساتھ آنکھیں حیرت و صدمے سے پھیل گئیں تھیں کہ لاکٹ گلے میں موجود ہی نہیں تھا۔
وہ گھبرائی تھی۔ اور لرزتا وجود لئے لاکٹ ڈھونڈنے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پیر مارے تھے۔ اب تو پانی کے بغیر سانس بھی اکھڑ چلی تھی۔ دم گھٹ رہا تھا تبھی اپنی سائیڈ زپ کھولتی فراک (نیچے سلیولیس ٹی شرٹ کے اوپر سے) اتار کر دور اچھالی تھی۔
بڑی مشکل سے اپنے جسم پر کنٹرول کر رکھا تھا۔ کہ اس کے پیر اس کی جل پری والی پونچھ میں نا بدل جائیں۔
وہ لمبے لمبے سانس بھرتی لاکٹ ڈھونڈ رہی تھی۔
عائش جو دروازے پر کھڑا اس کا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا بے اختیار ہاتھ میں پکڑا لاکٹ مٹھی میں دبایا۔ وہ لاکٹ کھول کر دیکھ چکا تھا۔ اس میں رکھے موتی اور ان کی حقیقت بھی اچھے سے جان چکا تھا۔
جب زندگی کی کوئی بھی سبیل نظر نا آئی تو روزیلہ پانی کی تلاش میں کمرے کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر بھاگی تھی۔ جانتی تھی عائش اور آبدار کی وجہ سے رائل پیلس میں جگہ جگہ بڑے دس دس فٹ گہرے پول بنائے گئے ہیں۔
رائل پیلس کی پچھلی جانب حدِ نظر لان کے بیچ و بیچ وہ بڑا سا پول تھا۔ وہ لڑکھڑاتے تیز قدموں سے بری طرح کھانستی باہر کی جانب لپکی تھی۔
عائش اس کے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ اس کے قدم ٹھٹھک کر رکے تھے جب دیکھا کہ وہ تیز قدموں سے چلتی پول میں چھلانگ لگا چکی ہے۔ وہ زرا سا آگے ہوا تو دیکھا وہ پول کی گہرائی کی سطح پر لیٹی لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی۔ انسانی پیر بھی غائب تھے۔ ایک حسین وجمیل سنہرے جسم والی نازک سی جل پری نچلی سطح پر لیٹی لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی۔۔
عائش پانی میں کودا تھا۔
روزیلہ چونکی تھی۔ مگر اس اپنے ظالم سے کزن کو اپنی جانب آتا دیکھ اسے اپنی سنگین غلطیوں کا احساس ہوا تھا۔ وہ تیزی سے اس کی جانب آیا وہ اوپری سطح کی جانب تیری مگر اس کا ہاتھ عائش کی سخت گرفت میں پھنسا تھا۔ عائش نے اسے نیچے کھینچا اور فولادی ہاتھ سے گردن دبوچ کر اسے پول کی دیوار سے لگایا تھا۔ روزیلہ گردن چھڑانے کو بری طرح جھٹپٹائی۔
ایک ہی بار پوچھوں گا، سچ بتانا، نہیں تو گردن کی ہڈیاں چٹخا دوں گا،، اب بولو کون ہو تم،،؟ عائش نے سختی سے پوچھا۔ وہ جانتا تھا وہ پانی میں اب بولے گا تو سامنے والی کو اچھے سے سمجھ آ جائے گی۔
کک،، کوئی،، نن،، نہیں،،، گھٹی گھٹی آواز میں جواب آیا۔ عائش نے دباؤ بڑھایا۔ وہ کسی مچھلی کی طرح تڑپی۔
چھ،، چھوڑو مجھے ،،مم،، مر، جاؤں گی مم،، میں،،،
میرے سوال کا جواب نہیں دو گی تو سچ مچ مرو گی آئی سوئیر،، عائش نے اس کا سر دیوار سے پٹخا۔
وہ تو پہلے ہی اکھڑی سانس لیے پانی میں اتری تھی۔ اوپر سے اس ظالم بےرحم شخص نے نازک سی جان لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ تبھی وہ ہوش کھو بیٹھی تھی۔ پانی میں جسم ڈھلک سا گیا۔
ہیے یو،، ڈونٹ یو ڈئیر،، عائش جھنجھلایا۔ اور اسے لے کر نیچے سطح پر بیٹھا۔
ہیے یو،، اٹھو،،، اس نے نرمی سے اس کے گال تپھتپھائے۔ نگاہیں بار بار بھٹک سی رہیں تھیں۔ بہت عجیب و غریب احساسات تھے اس وقت عائش کے۔ اپنی پوری زندگی میں اب جب اپنی ہم جنس، اپنی نسل کا وجود نظر آیا وہ بھی صنفِ نازک تو عجیب ہی احساسات تھے۔
پانی میں گھٹنوں کے بل بیٹھا سانس لے رہا تھا بول رہا تھا تو اپنی حقیقت سے کیسے منہ موڑ سکتا تھا تبھی دل میں تجسس انگڑائیاں لے کر بیدار ہوا تھا کہ یہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ جہاں سے آئی تھی وہ کیسی جگہ تھی۔ کون کون تھا وہاں؟ اور کیا اس کا کوئی اپنا بھی ہوگا وہاں؟
عائش نے مٹھی میں بند لاکٹ کھول کر اس میں سے ایک موتی نکال کر اس کے نازک ہونٹوں کے درمیان رکھا تھا۔ گلاب کی پنکھڑیوں سے نازک لبوں کے پیچ وخم ایسے تھے کہ اسے بے اختیار نگاہیں چرانی پڑی تھیں۔ یہ کنٹرول کرنے کا عمل کم از کم عائش کے لئے بہت مشکل تھا مگر وہ کر رہا تھا۔ جانے کیوں؟
اس کے پاؤں ظاہر ہوئے تو عائش نے اسے بازوؤں میں بھرا اور لے کر اوپری سطح پر آیا۔ وہ اسے لئے پول سے باہر آیا۔ نگاہ بار بار بھٹک کر بند آنکھوں کی گھنیری مڑی پلکوں پر ٹھہر رہی تھی۔
کون ہو گی یہ اور کہاں سے آئی،،؟ آب کو بتاؤں،،نہیں وہ تو پہلے ہی اپنی تکلیفوں میں الجھا رہتا، میں خود ہی نمٹوں گا،، ایک مرتبہ ہوش آ جائے محترمہ کو پھر ہوش ٹھکانے لگاؤں گا،،
وہ دل ہی دل میں خود سے ہی مخاطب تھا۔ کمرے میں لا کر اسے بیڈ پر نرمی سے لٹایا۔ وہ اب بھی اسے سر تا پا بغور دیکھے جا رہا تھا۔ جھک کر اس کا لاکٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور مٹھی بند کر دی۔
“اگر کسی برے مقصد کے تحت یہاں آئی ہو تو آئی سوئیر میں تمھاری اس نازک چھوٹی سی جان کی بھی پرواہ نہیں کروں گا،، ادھیڑ کر رکھ دوں گا تمھیں،، وہ اس پر جھکا دانت پیس کر بولتا اپنی بدلتی سوچ اور بدلتے احساسات سے سخت خائف ہو کر بری طرح جھنجھلایا تھا تبھی پیر پٹختا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج ماہی بے آب کی طرح تڑپتا پھر رہا تھا۔ بلیک مررز میں جو نظارا اس نے دیکھا تھا وہ ناقابلِ قبول تھا۔ اس کی ننھی سی پرنسز کو وہ سیاہ نقاب پوش اٹھا کر لے گیا تھا۔ کیوں اور کس لئے یہ نہیں جانتا تھا مگر اتنا تو ضرور معلوم تھا کہ وہ بلیک وچ یا سامر نہیں تھے اگر ہوتے تو اسے معلوم پڑ جاتا۔
وشہ سے چھپتا چپاتا وہ اپنے طور معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر اس بغیر بتائے زمین پر آنا پڑا۔ وشہ کو بتا دیتا تو اس نے ہزار طرح کے سوالات پوچھنے تھے اور اگر ویرا کا پتہ چل جاتا تو اب کی بار راج کو معلوم تھا وہ بلکل یہ بات برداشت نہیں کر پائے گی۔ تبھی ہول اٹھ رہے تھے۔
زمین پر آیا تو جمی ہر طرح سے اس کا پتہ لگانے کی کوشش کر کر کے ناکام ہو چکا تھا جبکہ سیرا پر رو رو کر اب غشی طاری ہو رہی تھی۔
راج نے بھی آ کر اسے ڈھونڈنے کی کوششیں شروع کر دیں تھیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ویرا کی آنکھ کھلی تھی۔ زہن پر تاریکی سی چھائی تھی۔ مگر آنکھ کھلتے ہی محسوس ہوا جیسے وہ بہت نرم گرم بستر میں لیٹی ہے۔ سکھ کا لمبا سا سانس کھینچا کہ اپنے کمرے میں ہی ہے۔ مگر جب وہ سب کچھ یاد آتا چلا گیا جو اس پر بیت گیا تھا وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔
جہاں وہ لیٹی تھی تھا تو بستر ہی مگر یہ کمرا انتہائی بھیانک قسم کا تھا۔ سیاہ اندھیرے میں ڈوبا۔ اور اسے اندھیرے سے بہت خوف آتا تھا۔ زرا سا غور کیا تو معلوم ہوا کہ کمرے میں کوئی کھڑکی دروازہ نہیں ہے بس کمرے کے ایک کونے پر سے سیڑھیاں نیچے سے اوپر کی جانب جا رہیں تھیں۔ مطلب یہ کمرا بیسمینٹ تھا۔ وہ بری طرح ڈر کر سہمی تھی۔
کوئی ہے،،،،،،،،؟ مجھے باہر نکالو یہاں سے،،،،،؟ ڈیڈ،،،،، مما،،، کوئی تو بچا لو،، پلیز،،،،،،، وہ روتی ہوئی چلائے گئی۔
تبھی چھت پہ سے دروازہ کھلا تھا۔ وہ پھر سہمی تھی۔ دو خوبصورت لڑکیاں نیچے اتری تھیں مگر سیڑھیاں اتر کر نہیں اڑ کر۔ وہ حیران ہو کر مزید خوفزدہ ہوئی تھی۔
پرنسز،، خاموش ہو جائیں،، کنگ کو یہ شور شرابہ پسند نہیں ہے، یہ لیں آپ کھانا کھائیں،،
ارے بھاڑ میں گیا تمھارا کنگ اور یہ کھانا،، کون ہو تم لوگ،، مجھے یہاں کیوں لائے ہو،، جانے تو مجھے،، نہیں تو ایسا پولیس کیس بنواؤں گی کہ ساری زندگی جیل میں سڑو گے تم لوگ،،،
ماہا ویرا غرائی تھی۔ جبکہ وہ دونوں نرمی سے مسکرا دی تھیں۔
پرنسز کھانا کھا لیں،، ایک نے بیڈ پر کھانا رکھا۔
میں صرف اپنے جمی اور راج ڈیڈ کی پرنسز ہوں، خبردار مجھے پرنسز کہا،، یہ کہتے ماہا ویرا نے کھانے کی ٹرے دیوار پر پھینک کر ماری تھی۔
پرنسز،،،
نکالو مجھے یہاں سے،، ماہا ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا تھا۔
پرنسز،،
وہ اب پھر پورا زور لگا کر چلائی تھی۔ سبز روشنی کا جھماکا ہوا وہ پریاں اچھل کر دور جا کر گریں۔ ان کے پر اچھے خاصے جل چکے تھے۔ وہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چکیں گئیں۔
پھر ماہا ویرا نے وہاں آنے والی ہر خدمتگار پری کا یہی حال کیا تھا۔ یہ جانے بغیر کے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی شامت بلا رہی ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کیب گھنی جھاڑیوں درختوں کو پار کرتی لائٹ ہاؤس کے قریب ویرانے میں چلی جا رہی تھی۔ یہ ایسا بھیانک اور خوفناک علاقہ تھا یہاں تو کوئی دن میں آنا پسند نا کرے۔ اور یہ نقاب پوش لڑکی اسے یہ ایڈریس بتا کر اب کتنے اطمینان سے بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی۔
ڈرائیور کو جھرجھری سی آئی۔ آنکھوں، ہاتھوں سے جس قدر حسین لگ رہی تھی۔
ارے یہ بھی کوئی چڑیل تو نہیں،،، وہ بری طرح گھبرایا۔ سونے پہ سہاگہ وہ جانتا تھا ان کی گاڑی کا تعاقب کیا جا رہا تھا تبھی اس نے سپیڈ بڑھائی۔ سامنے ہی ہٹ نظر آیا۔ مگر اس نے گاڑی بہت دور ہی کھڑی کر دی۔
میڈم اتر جائیں،، اس نے بولا تو وہ جو اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ اب جانے اس کا کیا حشر ہونے والا تھا۔ گاڑی سے اتر کر پیسے ادا کیے۔ ڈرائیو گاڑی گھما کر منٹوں میں اس پراسرار جگہ سے رفوچکر ہوا تھا۔ وہ پیدل ہٹ کی جانب چلنے لگی۔ پیچھے سے آہٹ محسوس ہوئی۔
آبدار بھی گاڑی سے اتر کر پیدل ہی اس کے پیچھے چلنے لگا تھا۔
کک،، کون،،، کون ہے،،؟ مایا وش پیچھے مڑی تھی۔ ایک سیاہ لباس میں سیاہ نقاب پوش اطمینان سے کھڑا اسے ملگجے اندھیرے میں نہار رہا تھا۔ صرف چاند کی چاندنی ہر سو پھیلی تھی۔
کون ہیں آپ،، وہ ایک قدم پیچھے ہوئی بولی۔
آپ کے ہی وجود کا حصہ ہوں کوئین،،،
وہ بولا تو اس کا لہجہ اور وہ نیلی آنکھیں۔۔۔ مایا وش کو یاد آیا کالج میں سٹاف روم میں اس نقاب پوش سے ملتی جلتی تھیں۔ مطلب وہ یہی تھا۔ اور اب اس کے پیچھے یہاں تک آن پہنچا تھا۔
مایا وش مڑ کر تیزی سے ہٹ کی جانب بھاگی تھی۔ پیچھے وہ مسکرایا اور اس کے پیچھے آیا۔
مایا وش ہٹ کے اندر داخل ہو کر ڈور لاک کر چکی تھی۔ وہ سامنے ہی اس کے انتظار میں راکنگ چئیرپر بیٹھی جھول رہی تھی۔ پورا فرش، اس کا منہ اور کپڑے خون آلود تھے۔ مایا وش نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے کائلہ کو دیکھا جو پھر طاقتور دکھائی دے رہی تھی۔ یقینا وہ کسی اور کے زریعے اپنا کام پورا کر چکی تھی۔ تبھی اب اطمینان سے بیٹھی تھی۔
کیا دیکھ رہی ہو مایا وش،، تم کیا سمجھتی ہو،، تم سنجنا کو بچا لو گی تو کوئی اور میرے ہاتھ نہیں لگے گی،،، وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی۔
ہاہاہاہاہاہاہا،،، مکروہ قہقہے لگانے لگی۔ دے چکی ہوں میں بلی،، اور یہ گوشت اور خون پی کر پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور بن چکی ہوں،، اور اب میری نافرمانی کرنے کی تو ایسی سزا دوں گی تمھیں کہ تم مرو گی تو نہیں، مگر زندہ رہنے کے قابل بھی نہیں رہو گی،، کائلہ نے یہ بولا تو مایا وش بوکھلا کر خوفزدہ سی اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔ دروازہ کھولا۔ مگر کائلہ نے فضا میں ہاتھ بلند کیا ایک آگ کا گولہ سا تھا جو بن چکا تھا مکروہ قہقہے لگاتے وہ گولہ اس نے مایا وش کی جانب پھینکا تھا۔ جو کہ اس کی کمر پر بجا دیا۔
مایا وش کی دلخراش چیخیں فضا میں بلند ہوئیں اور وہ اوندھے منہ اپنے کمرے کے بیچ فرش پر ڈھے گئی۔ کائلہ نے ایک حقارت آمیز نگاہ اس پر ڈالی اور دروازہ لاک کرتی اسے یونہی زخموں سے چور بند کر کے اپنے کمرے میں اطمینان سے چکی گئی۔
وہ جو باہر سے اندر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس ہٹ کی حدود میں آتے جیسے اس کی تمام پاورز جا چکیں تھیں۔ نا وہ پانی میں تحلیل ہو پا رہا تھا۔ ہاں بس اتنا تھا کہ جیسے اس کی پاورز کام نہیں کر رہیں تھیں وہ بھی نا کسی کو دکھائی دے رہا تھا نا محسوس ہو رہا تھا۔ آبدار غصے سے پاگل ہوا۔
مگر پھر اسے اپنی کوئین کی چیخ سنائی دی اور آبدار کو اپنی پشت پر ایسی تکلیف ہوئی کہ اس کی روح تک کانپ گئی۔ وہ وہیں زمین پر گھٹنوں کے بل گرا تھا۔ آنکھیں اور مٹھیاں پورے زور سے بھینچے لب کاٹتے وہ یہ درد برداشت کر رہا تھا۔ پھر اس نازک جان کا خیال آتے ہی وہ تڑپ اٹھا۔ لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اندر جانے کا رستہ ڈھونڈنے لگا۔
آخر جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک رستہ نظر آ ہی گیا۔ وہ جھاڑیاں پیچھے کرتا اندر داخل ہوا تھا۔ ایک چھوٹی سی روشنی اسے رستہ دکھا رہی تھی۔ اس نے غور کیا تو وہ ایک ہمنگ برڈ تھی جو اندھیرے میں دمک رہی تھی۔ اور اس کے آگے آگے اڑتی اسے راستہ دکھاتی وشہ کے روم تک گئی اور وہاں سے غائب ہو گئی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ اپنی کوئین کے بغیر وہ ادھورا ہے،اس کی پاورز ادھوری ہیں اور یہاں اس قدر پراسرار کالی طاقتیں تھیں، اس قدر منفی اثرات تھے کہ وہ مقابلہ نہیں کر پایا تھا۔کچھ کمر ابھی بھی بری طرح جل رہی تھی جس کا مطلب تھا وہ بھی بے تحاشا تکلیف میں ہوگی۔
(ابھی وہ دونوں یہ کب جانتے تھے کہ وہ دونوں ایک ہو گے ایک دوسرے سے جڑے گے ایک دوسرے سے پختہ بندھن میں بندھے گے تو ان کی جوڑی مکمل ہوگی ان کی پاورز مکمل ہوں گی)
اسے اندر آتے دیر ہو چکی تھی۔ وہ اس کمرے میں داخل ہوا تو عجیب سے کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا۔ روشنی نا ہونے کے برابر تھی اور اس کی زندگی اس کے جینے کی وجہ نڈھال نیم جان غنودگی کے عالم میں فرش پر اوندھے منہ بے حال پڑی تھی۔ پیچھے کمر سے فراک لہولہان تھی۔
وہ تڑپ کر آگے بڑھا۔
کوئین،،،،،،، وش،،،، آب نے نرمی سے کمر سے بال پیچھے ہٹاتے اسے پکارا۔ بال بھی خون آلود ہو چکے تھے۔ آبدار نے بے دردی سے اپنے لب کچلے۔ کمر میں ہاتھ ڈال کر نرمی سے کسی گڑیا کی طرح اسے بانہوں میں بھرا اور بیڈ پر اوندھے منہ ہی لٹا دیا۔
مایا وش کو اپنے وجود پر کسی کا نرم گرم لمس محسوس ہوا تو نیم بے ہوشی میں اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر کھول نہیں پائی۔
آبدار اس کے قریب ہی نیم دراز اب اس کے کندھے تھام کر اس کے بالوں میں منہ دیا تھا۔
ائم سوری، کوئین،، میں آپ کو اس تکلیف سے نہیں بچا پایا،، مگر میری جان اب ایسا نہیں ہوگا، میں آپ سے روح سے تو جڑا ہوں آج رسموں رواجوں اور اس کائنات کے قانون کے مطابق خود کو آپ سے دل وجان سے جوڑتا ہوں،،
یہ بول کر آبدار نے مٹھی میں تھاما لاکٹ مایا وش کے گلے میں پہنایا تھا۔ دونوں کے سینوں پر ان کے ٹیٹو جگمگائے تھے۔ پل بھر کو روشنی کا جھماکا سا ہوا تھا اور پورا کمرا روشنی میں نہا گیا۔ ان کے ٹیٹو میں بھی کچھ تبدیلی آئی تھی۔
آبدار اس کے بہت قریب تھا۔ اور اب زخم دیکھنا چاہتا تھا۔ تاکہ اپنی زندگی کے درد کی دوا کر سکے اس کے زخموں پر مرحم لگا سکے۔ تبھی وہ بلا جھجھک اس کی فراک کی زپ کھولتا چلا گیا تھا۔
نیم بہیوشی میں مایا وش کو کمر پر سرسراتا لمس اور زپ کھلتی محسوس ہوئی۔ اسے لگا کائلہ کی کوئی چیلی ہے جو زخم دے کر اب مرحم لگانے چلی آئی ہے، تو اسے اب اس مرحم کی کوئی ضرورت نہیں ہے تبھی وہ بری طرح مچلی تھی۔
دد،، ،دور،،،،،،، رہو،،،،،، مم،،،، مجھ،،،،،، سے،،،،
اس کے مچلنے پر آبدار نے اس کے دونوں بازوؤں پر مضبوط گرفت بنائی تھی۔ وہ اتنی کمزور ہو چکی تھی کی زرا سی سخت گرفت میں تمام مزاحمت دم توڑ گئی۔ اور وہ بند آنکھوں سے سسکیوں سے رونے لگی۔ تکلیف بھی تو ناقابلِ برداشت تھی۔
آبدار نے اس کی زخمی کمر دیکھی تھی تب بہت بے اختیار ہو کر آب نے اس کے زخم پر پورے حق سے اپنے نیم وا لب رکھے۔ حیرت انگیز طور پر جہاں آبدار نے اپنے لبوں کا لمس چھوڑا تھا وہاں سے زخم منہدم ہو چکا تھا۔ اب آبدار نے جا بجا اپنے لبوں کا مہکتا لمس چھوڑا تھا۔ نرمی سے سٹیپ کی ہک بھی کھول دیں۔ ایک سکون کا احساس تھا جو رگ و جاں میں اتر رہا تھا۔
ادھر مایا وش کو تکلیف میں کمی کا احساس ہوا تو وہ اب نیم بیہوشی سے گہری پرسکون نیند میں جا چکی تھی۔ آبدار نے دیکھا زخم کے نشان تک مٹ چکے تھے۔ مگر وہ اب بھی گستاخیاں کیے جا رہا تھا۔ ان نرماہٹوں کو اپنی روح میں اتار رہا تھا۔ جیسے صدیوں سے پیاسا ہو۔ کیا یہ بات معمولی تھی کہ اس پوری کائنات میں وہ صرف اس کے لئے تھی یا وہ خود اس کے لئے تھا۔ کتنا انتظار کیا تھا اس کے ملنے کا اب مل گئی تھی تو وہ چاہتا تھا کہ ایک پل کے لئے بھی وہ اسے خود سے دور نا کرے۔ ایک بھی کھروچ نا آنے دے اسے ، بس یونہی صدا بانہوں میں بھر کر رکھے۔
میں آپ کا چہرہ ابھی نہیں دیکھوں گا کوئین، آپ کے ہوش و ہواس میں یہ کام کرنا ہے،، وہ اس کے کان میں سرگوشی کیے مدہوش سا ہوا۔
وہ تمام رات اسے بانہوں میں بھرے اس کی پشت اپنے سینے سے لگائے اس کے بالوں میں منہ دئیے پرسکون سا ہو کر لیٹا رہا تھا۔ صبح روشنی پھیلنے سے پہلے وہ کچھ سوچ کر اٹھا تھا اور پھر ایک مرتبہ پھر جھک کر چاندی کی طرح دمکتی کمر پر اپنے تشنہ لب رکھے اور بڑی مشکل سے وہاں سے نکلا۔
صبح مایا وش کی آنکھ کھلی تھی۔۔ سب یاد آتا گیا۔ رات کی وہ تکلیف، کائلہ کا ظلم سب یاد آتا گیا۔ جھٹکے سے اٹھی۔
اففففففففف،،، سسکی سی بھر کر اپنے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فراک کھسکنے سے روکی۔ بکھرا سا لباس تھا۔ زپ کھلی تھی اور تکلیف کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ وہ حیرت میں ڈوبی۔ اٹھ کر آئینے تک آئی ۔ اور سینے پر کراس بنا کر بازو رکھتے ہوئے پیچھے مڑ کر اپنی کمر دیکھی۔ زخم کا کا نشان تک نہیں تھا۔ بس فراک خون آلود تھی۔۔
آنکھیں بند کر کے چوٹ لگنے کا بعد کا مرحلہ یاد کرنا چاہا۔ زہن پہ زور دیا۔
ہاں کوئی موجود تھا یہاں۔ وہ تو فرش پر گری تھی۔ بیڈ پر کیسے آئی۔ اور زخم کیسے آرام آیا۔ ہاں یاد آیا رات بند آنکھوں سے محسوس کیا تھا جیسے کوئی مرحم لگا رہا تھا زخموں پر۔ وہ کسی چیز کا روئی سے بھی زیادہ نرم لمس تھا جس نے اسے رگوں تک میں راحت پہنچائی تھی۔
کائلہ سے پوچھوں؟
اونہہہ بے وقوف سوچ بھی کیسے سکتی ہو مایا وش کہ وہ خبیث چڑیل درد دے کر دوا کرے گی تو کون تھا رات پھر اس کے پاس۔
ہان وہ نقاب پوش اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
کہیں وہ تو نہیں،،،،،؟
نہیں نہیں،، ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے،، مگر وہ پراسرار طاقتوں کا مالک دکھائی دیتا تھا۔ اس دن کالج میں بھی اس نے کائلہ کے چیلے کو مار ڈالا تھا۔
آخر کون تھا وہ،،،،؟
❤️💗❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
