Black Mirrors Have Eyes Season 2 By Wahiba Fatima Readelle50094

Black Mirrors Have Eyes Season 2 By Wahiba Fatima Readelle50094 Last updated: 17 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Mirrors Have Eyes Season 2

By Wahiba Fatima

گہری رات کا سناٹا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ہاں مگر چودھویں کے چاند نے اپنی دودھیا روشنی چہار سو پھیلا کر ایک عجیب اطمینان بھری ٹھنڈک اور روشنی ہر سو پھیلا رکھی تھی۔ ایسے میں ملائیشیا کے اکیس آئی لینڈز میں سے ایک جنت نظیر lankayan island کی بیچ پر ایک بہیوش شخص جو اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔ اسے ہوش آیا تو وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔

سنگاپور کے رائل خاندان کا اکلوتا چشم وچراغ ازلان سلطان جو ایڈونچر اور تھرل کے چکر میں اپنے دوستوں سے الگ ہو گیا تھا اور ایک چھوٹی سی بوٹ کے زریعے سمندروں کی منہ زور طوفانی لہروں میں بہہ کر حادثاتی طور پر یہاں پہنچ چکا تھا اب ہوش میں آتے ہی وہ بے حد گھبرایا تھا۔ ٹانگ کسی پتھر سے ٹکرانے سے زخمی ہو چکی تھی۔ اور اسے بے حد تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ خود کو بمشکل گھسیٹ کر پانی سے کچھ دور لایا تھا اور اتنے میں ہی اس گھبرو خوبصورت جوان کی جان ہلکان ہو چکی تھی۔ اس نے پھر گیلی ریت پر سر گرا کر آنکھیں موندیں تھیں۔ اور گہرے گہرے سانس بھرے۔

رائل خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں کچھ ہو بھی جاتا تو اس کی لاش تک نا ملتی اس کے گھر والوں کو۔ ایک بگڑا رئیس زادہ جسے دنیا کی ہر سہولت اور عیش وعشرت میسر تھی۔ اس کی اتنی درد ناک موت۔ اور یہ سوچ سوچتے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔ یوں نہیں تھا کہ وہ کوئی بزدل شخص تھا۔ ہاں مگر اب جو صورتحال اس کے ساتھ بن گئی تھی وہ کسی تیس مار خاں کے ساتھ بھی بنتی تو وہ بھی اس وقت چیخ چلا رہا ہوتا۔ مما،،،،، وہ کراہا۔ زخموں کی تاب نا لاتے وہ پھر نیم غنودگی میں جانے لگا تھا۔ جب کانوں میں ایک میٹھی نسوانی آواز سنائی دی۔ آپ ٹھیک ہیں، کچھ نہیں ہوگا آپ کو،، ٹھیک ہو جائیں گے آپ،،

اس نے زرا کی زرا آنکھیں کھولیں تھیں۔ اور جو منظر سامنے تھا۔ وہ اس قدر غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھا کہ ازلان سلطان کو لگا آج واقعی اس کا آخری وقت تھا کہ ویرانے کی کوئی چڑیل اس قدر بے تحاشا خوبصورت روپ لیے اس کے سر کے قریب اکڑوں حالت میں جھکی بیٹھی ہے۔ دد،،، دور،،،، ازلان سلطان کے لب پھڑپھڑائے۔ اور وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گیا۔