No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
رنجو تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی تھی۔ ملگجہ سے اندھیرے میں وہ ہیولہ مسکراتی سسنجنا کا ہی تھا۔ اس کی آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتی تھی۔ کھڑکی کھلی تھی اور وہ اسے کھڑکی سے باہر آنے کا خفیف سا اشارہ کر رہی تھی۔
رنجو نے اٹھ کر ونڈو کی جانب جانا چاہا جب اپنے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی ساڑھی کا پلو کندھے سے ڈھلنکے سے بچایا۔ کیونکہ وہ پلو جیک مزے سے اپنے نیچے جان بوجھ کر دبائے گہری نیند میں تھا۔ مگر اب پلو کے کھینچے جانے کی وجہ سے فوراََ اس ہی آنکھ بھی کھل چکی تھی۔
اسے بیڈ سے نیچے اترے دیکھ وہ بھی اٹھ بیٹھا۔
واٹ ہیپنڈ،، وہ مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولا۔
جج،،، جیک،، وہ سنجنا ہے وہاں،، چھوڑو یہ مجھے جانا ہے وہ بلا رہی ہے،، رنجو نے ایک ٹرانس کے عالم میں کہا اور جیک کی گرفت سے اپنا پلو کھینچا۔۔۔
جیک کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔ اس طرف بغور دیکھا جدھر وہ اشارا کر رہی تھی۔ کچھ بھی تع نہیں تھا۔ کھڑکی بند تھی اور کوئی نہیں تھا وہاں۔
کوئی نہیں ہے وہاں،، رنجوو چپ چاپ بیڈ پر لیٹ کر سو جاؤ،،، جیک نے غرا کر کہا تھا۔ جانے اس کے ساتھ ہونے والے ان واقعات سے اس کا خون کیوں کھولتا تھا۔
جب اچانک رنجو نے اس کھینچ کر اپنا پلو چھڑایا۔ وہ بے وقوفی کر رہی تھی مگر حواس میں ہی کب تھی۔ وہ بھاگ کر کھڑکی کے پاس گئی تھی۔ اور بنا سوچے سمجھے کھڑکی کھول دی۔ اب کھڑکی پر کھڑے اس سیاہ ڈراؤنے ہیولے سے خباثت بھرا قہقہہ سنائی دیا تھا۔
جیک اس کے پیچھے لپکا۔ رنجو پر وار کیا گیا تھا۔ وہ ہیولہ اس کی گردن کاٹ دینا چاہتا تھا۔ مگر تبھی وہاں ایک روشنی کا جھماکا سا ہوا۔ اس روشنی کے جھماکے سے ایک ہاتھ نے نکل کر رنجو کو یچھے جیک کے اوپر دھکا دیا تھا۔ اور وہ وار جو اس کی گردن پر ہونے والا تھا۔ اب بازو پر کٹ آ چکا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے سیاہ ہیولے کو جیسے آگ دکھائی گئی تھی اور وہ چیختا چلاتا جل کر خاکستر ہوگیا۔
سفید روشنی سے ایک ہالہ سا بنا تھا۔ پل بھر کو رنجو اور جیک کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر میٹھی مسکان لیے سنجنا تھی۔۔
وہ روشنی بھی غائب ہو گئی۔ جیک سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔
آیییہہہہہہہہ،،،،،،، رنجو کے منہ سے سسکی سنائی دی وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے بازو پر رکھے ہوئے تھی۔ جیک چونکا۔ جلدی سے اسے اپنے سینے سے اٹھا کر خود بھی اٹھا۔ اور اسکے مچلنے کے باوجود اسے اپنے بازوؤں میں بھرا۔
وہ جانتا تھا وہ یہی کہیں موجود ہے ۔ اور اب نہیں چاہتی تھی کہ رنجو پر آنچ بھی آئے۔ اس کا رنجو کو جیک کی جانب دھکا دینا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ رنجو کو جیک کے سپرد کر گئی تھی۔ اس کی حفاظت میں دے کر گئی تھی۔ اس کے حوالے کر کے تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے۔ اپنے پاس اسے سینت سینت کر کسی قیمتی متاع کی طرح رکھے۔ وہ تو خوابوں میں بھی کئی مرتبہ اسے یہی بول چکی تھی۔
جیک نے اسے لا کر بیڈ پر لٹایا تھا۔ کچن میں سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا۔ اب وہ سپرٹ میں کاٹن ڈبو کر رنجو کا زخم صاف کرنا چاہتا تھا۔ جب رنجو نے سسکی سی بھر کر جیک سے اپنا بازو چھڑوایا۔
جیک کی تیوری چڑھی۔ کیا پرابلم ہے تمھارے ساتھ،،، وہ غرایا۔ رنجو جو کب سے خود پر ضبط کر رہی تھی۔ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہ خود کو بہت مضبوط ظاہر کرتی تھی۔ مگر ایک یہ شخص تھا جس کے سامنے ہمیشہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی چلی آئی تھی۔ اس کے رونے کی پرواہ کیے بغیر جیک نے اس کے بازو پر بینڈیج کر دی۔
اٹھ کر فرسٹ ایڈ باکس کچن میں رکھ کر آیا۔ دروازے کھڑکیاں اچھے سے بند کیں اور بیڈ کے قریب چلا آیا۔ جہاں وہ ہنوز گھٹنوں میں منہ دئیے رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ جیک بیڈ پر نیم دراز ہوا۔ اور اچانک ہی اسے کھینچ کر اپنے کشادہ سینے پر گرایا۔ وہ بوکھلائی تھی اور حیرت و صدمے سے گنگ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
مگر ادھر ان آنکھوں میں جزبوں کا طوفان سا امڈتا دیکھ رنجو کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔ زبان گنگ سی ہو کر تالو سے چپک گئی۔
جیک،،، رنجو پوری کی پوری لرز اٹھی۔ مگر جیک نے اپنی گرفت مضبوط ترین کی تھی۔ اپنے اور اس کے بیچ آزار بنتا وہ پلو پیچھے سرکایا۔ اور اس کی بیوٹی بون پر اپنے لب رکھے۔
رنجو مچلی۔ مگر وہ آج اس پر اپنا حق جتاتا چلا گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آبدار کب سے اپنے لب کاٹتا اسے روتا دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے لئے زمین پر اپنے کمرے میں آ چکا تھا۔ مگر ابھی مایا وش کو سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا تھا۔ مگر اس کا رونا کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔ ایک تو ماہا ویرا سے مختصر ملاقات کا دکھ اوپر سے یہاں پہنچ کر یہ سن کر صدمہ لگا کے اس کے مما بابا یہیں تھے مگر وہ واپس ڈریگن لینڈ جا چکے تھے۔
مایا وش سنبھال نہیں پا رہی تھی خود کو۔
آخر سب باری باری رائل پیلس میں ان سے ملنے آنے لگے۔ ازلان بے تحاشا خوش تھا۔ ایلا کمرے میں داخل ہوئی تو کافی دیر آبدار کے سینے سے لگ کر روتی رہی۔ وہ رائیل پیلس میں سب کو مل لیے تھے۔ ایلا اور ازلان آبدار سے باتیں کرتے رہے جب آبدار نے ازلان سے کہا۔
ڈیڈ ہمیں لنکیانا آئی لینڈ جانا ہے اپنے ہٹ میں ابھی ،، انتظام کروا دیں،، میں عائش سے مل کر آتا ہوں،،
اس نے مختصر سے الفاظ میں کہا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
آبدار کو عائش سے ملنے کی تمنا تھی۔ کہ دل ہمک ہمک کر بتا رہا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے بہت دکھی ہے۔ تبھی وہ ایلا اور ازلان کو مایا وش کے پاس چھوڑ کر عائش کے روم میں چلا آیا۔ ازلان اور ایلا نے اسے مختصراً بتا دیا تھا کہ روز کے ساتھ کیا ہوا۔
پھر آب نے بہت جلد اپنی طاقت کو استعمال کرتے روز کے بارے میں سب معلوم بھی کر لیا تھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو دل دھک سے رہ گیا۔ بہت بری حالت بنا رکھی تھی اس نے اپنی اور اپنے کمرے کی۔ وہ بیڈ پر آنکھوں پر بازو رکھے نیم دراز تھا۔
آہٹ پر چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔ آبدار کو دیکھ کر وہ تڑپ کر آب کی جانب لپکا اور اس کھ سینے سے لگ گیا۔۔
عائش آب کے گلے سے لگا ہوا تھا اور اس کی آنکھوں کی نمی آبدار کی شرٹ بھگو رہی تھی۔ ایسے کیسے ممکن تھا کہ وہ جو ایک دوسرے کے وجود کا حصہ تھے ایک وقت میں ایک ہی کوکھ میں رہے تھے تو آبدار کو اس کو اس کی تکلیف محسوس نا ہوتی۔
آب مجھے وہ چاہیے،، مجھے روز چاہیے آب،، زندگی میں پہلی مرتبہ وہ کسی چیز کے لئے رو رہا تھا۔ آبدار نے زبردستی اسے خود سے الگ کیا۔
وہ زندہ ہے،، مگر تاشہ نے اسے اپنے قبضے میں کر رکھا ہے، اس پر جادو کر رکھا ہے وہ جب تک پانی میں ہے بیہوش ہے، پانی سے نکل کر ہی ہوش میں آ سکتی ہے،، تم فارم ہاؤس پہنچو،، میں اسے وہان لے کر آتا ہوں،،
آب نے اطمینان سے اس کا چہرہ تھام کر کہا تھا۔
عائش نے ایک نظر اسے دیکھا اور فوراََ وہان سے نکل گیا۔
آب نے پانی میں چھلانگ لگائی تھی۔
وہ اوشیانہ آیا تھا۔ بغیر کسی ڈر اور خوف کے۔ اوشیانہ میں ہر طرف ہلچل مچ چکی تھی۔ جب تاشہ کو علم ہوا کہ اوشن کنگ نے اوشیانہ کا پتا لگا لیا اور وہ اسی جانب آ رہا ہے تو اوشیانہ سے بھاگ کھڑی ہوئی اور جا کر سیپ نگر میں چھپ گئی تھی۔
آب محل آیا تھا۔ روز وہیں تھیں ۔ اپنھ کمرے میں مگر بے ہوش تھی۔ پہرے داروں نے اسے تمام تفصیلات سھ آگاہ کر دیا تھا۔ تبھی وہ اسے لئے زمین کی جانب بڑھا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عائش فارم ہاؤس آیا تھا۔ اتنے دنوں میں آج کھل کر سانس لی تھی اس نے۔ نہیں تو رگوں میں وحشت ہی وحشت بھری پڑی تھی۔ اس کو کھو دینے کا احساس سوہان روح تھا جس نے پل پل اسے اذیت سے دو چار کیا تھا۔۔
مگر اب جب سے آب نے اس کے سہی سلامت ہونے کی خبر دی تھی سب سے بڑھ کر وہ اس کی دسترس میں آنے والی تھی تو اس کی رگ و پہ میں سکون دوڑ گیا تھا۔ اس کو کھونے کے بعد احساس ہوا وہ اس کھ بغیر کچھ نہیں ۔ نا جی سکتا ہے۔ نا مر سکتا ہے وہ ہھ تو عائش کا وجود ہے۔ اس قدر وہ اس کے روم روم میں بس چکی تھی۔
عائش فارم ہاؤس کے پول کے پاس رکھی آرام دہ چئیر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اطمینان سے بیٹھا تھا۔ جب گیٹ سے اسے پانی کی لہریں اندر آتی دکھائی دیں۔
اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ وہ پانی کی لہریں آب میں بدلیں۔ اور اس کی گود میں عائش کے جینے کی وجہ تھی۔ جو ابھی انسانی شکل میں واپس نہیں آئی تھی اور ہوش میں بھی نہیں تھی۔
آب اسے لئے عائش کے پاس پہنچا۔
عائش اس کے منہ میں وہ موتی ڈالو،، آب نے کہا۔
عائش نے اس کے منہ میں وہ موتی رکھا۔ جلد ہی اس کی مچھلی نما پونچھ غائب ہو کر انسانی ٹانگوں میں بدلی تھی۔ آب نے اسے عائش کی گود میں تھمایا۔
میری بہن کا خیال رکھنا،، ورنہ ممی نہیں چھوڑیں گی تمھیں،، آب کہتا ایک آنکھ ونک کرتا جا چکا تھا۔
وہ کسمسا رہی تھی۔ ہوش میں آ رہی تھی۔ عائش اطمینان سے اسے لئے اندر اپنے روم میں آیا تھا۔ روز مکمل ہوش میں آ چکی تھی۔ اور خود کو جن بازوؤں میں پایا ایک خواب سا ہی محسوس ہوا۔
تبھی روز نے ہاتھ آگے بڑھا کر عائش کا چہرہ چھوا تھا۔ مگر عائش نے اسے جب بیڈ پر پٹخا تو وہ ہڑبڑا گئی۔ اور جب اسے اپنی شرٹ اتارتے دیکھا تب تو روز کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آب روز کو عائش کو سونپ کر واپس لوٹا۔ ازلان نے ان کے جاانے کے تمام انتظامات مکمل کروا دئیے تھے۔
وہ روم میں داخل ہوا تو اس کی کوئین اب بھی منہ بسورے بیڈ پر کسلمندی سے لیٹی ہوں تھی۔ آب مسکرایا۔
آب نے آ کر اسے اپنے روبرو کھڑا کیا۔ ابھی وہ اسے سامر کا بتا کر ہراساں ہر گز نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر اگلے سفر پر نکلنا بھی بے حد ضروری تھا۔
آر یو ریڈی کوئین فار نیکسٹ رائڈ،،، آب نے اس کے گرد حمائل کر کے پوچھا۔ وہ اس کے پر اسرار سھ انداز پر چونکی۔ مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔
دین لیٹس گو،،،،، آب نے کہتے اسے ساتھ لیا۔ اور باہر نکلا۔ باہر شام کے گہرے سائے چار سو پھیل چکے تھے۔ سب نے انھیں گلے لگا کر پھر سے رخصت کیا۔ آب اسے بیچ پر لایا اور اپنی پرائیویٹ بوٹ پر سوار ہوا۔
آب ہم کدھر جا رہے ہیں،،، مایا وش نے معصومیت سے پوچھا۔
اوووو،،، ہم اوشیانہ جا رہے ہیں،، اوشن کے تخت کے کراؤن کا بلو کرسٹل لینے،، ہے ناں آب،،،
وہ آب کی طرف دیکھ کر بولی۔ مگر آب نے نا ہاں کی نا ناں بس اس کے بالوں پر بوسہ دے کر سامنے دیکھنے لگا۔
رات کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ جب وہ ملائیشیا لینکیانہ بیچ پر اترے۔
“آب ہمیں اوشن کے تخت کے کراؤن کا بلو کرسٹل چاہیے ہمیں اوشن میں اس کو تلاش کرنا چاہیے،، آپ مجھے لے کر یہان کیوں آئے،،،
مایا وش اس بے انتہا خوبصورت (لینکیان، ملائیشیا) بیچ کو دیکھ اور سامنے بنے اس قدرت کے شہکار لکڑی کے بنے ہٹ کو دیکھ کر حیران ہوئی۔ جو رات کے اندھیرے میں بھی موتی جڑے ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں جگنوؤں کی مانند جگمگا رہا تھا۔
وہ ہٹ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی کے استقبال کے اعزاز میں اسے پھولوں سے لاد دیا گیا ہو اور سمندر سے نکل کر وہ جس راہ گزر سے گزر رہے تھے وہ پھولوں سے سجائی گئی تھی۔ اس راہ گزر کو سمندر کی ست رنگی سپیوں سے بھی سجایا گیا تھا۔
آب اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا۔ اور ایک نظر اس کی تحیر سے پھیلی خوبصورت آنکھیں دیکھیں۔
جانتیں ہیں کوئین یہ کونسی جگہ ہے،، یہ وہ جگہ ہیں جہاں میرے بابا اور مما نے ایک ساتھ اپنی زندگی کی نئی شروعات کی،، یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ کا کنگ اس دنیا میں آیا اور اب،،،
آب نے بولتے بولتے دانتوں تلے لب دبایا۔
اور اب،، اب کیا؟ آب،، دیکھیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں،، ہمارے پاس وقت نہیں ہے،، ہمیں اوشیانہ جانا چاہیے اس تخت کے کراؤن کا بلو کرسٹل،،،،
اششششششش،،،،،،چپ بلکل چپ،،،،، آبدار نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا تھا۔ اسے ہٹ کے باہر رکھے بینچ پر بٹھایا اس کے سامنے بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے۔ اس کی جانب غور سے دیکھا۔
یو نو واٹ کوئین،، وہ کراؤن ہمیں کہیں بھی ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں،، وہ میرا ہے،، آئی مین مجھے ملے گا،،
او رائیلی آب،، کب،،؟ اور کیسے،،؟ مایا وش کھسک کر اس کے مزید قریب ہوئی۔
وہ کراؤن ہماری دنیاؤں میں ایک کنگ کو کیسے ملتا ہے کیا یہ آپ نہیں جانتی ہیں کوئین،،
آبدار نے الٹا اس سے پوچھا مگر وہ نفی میں سر ہلا گئی آبدار نے ایک سرد سی آہ بھری۔
“وہ کراؤن اوشن کنگ کو تب ملے گا جب اوشیانہ کے کنگ کا اس کی کوئین کے ساتھ ادھورا رہ جانے والا ملن پورا ہوگا،، مطلب یہ کہ آج رات آپ کو پوری طرح جان و روح سے میرا ہونا ہوگا،،
مایا وش کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ آبدار نے مایا وش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا۔ مایا وش کے گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔ ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے تو آبدار اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
سوچنے کے لئے اور فیصلہ لینے کے لئے آپ کے پاس کافی وقت ہے کوئین،، جب خود کو دل وجان سے راضی پائیں تو ہٹ کے اندر میرے پاس چلی آنا،،
آبدار نے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا اسے اور اٹھ کر اندر چلا گیا۔
مایا وش نے زور سے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں ایک دوسرے کے ساتھ مسلیں۔
آخر تکلیف کیا ہے مایا وش تمھیں،، تم انھیں کی تو ہو۔ دل نے اس پر اور اس کی جھجھک پر سو بار لعنت بھیجی۔
آخر وہ کچھ سوچ کر اٹھی۔ اور ہمت کر کے قدم ہٹ کی جانب بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہو رہی تھی جیسے جیسے وہ قدم آگے بڑھا رہی تھی۔ اس کے جسم پر موجود لباس تبدیل ہوا تھا۔
اب وہ ایک بہت ہی خوبصورت موتی جڑے ست رنگی نیلے لباس میں تھی جس پر چھوٹے چھوٹے سمندری موتی جڑے ہوئے تھے۔
وہ جانتی تھی یہ سارا اہتمام آج اس خاص رات کے لیے ہے۔ مایا وش کا دل جیسے اس کے کانوں میں بج رہا تھا۔ مگر وہ پھر بھی ہمت کر کے ہٹ میں داخل ہو گئی۔
دلہن کی طرح سجائے گئے ہٹ کے بیچ وبیچ وہ نیلے رنگ کی مسہری تھی۔ جس پر آب آنکھوں پر بازو رکھے نیم دراز تھا۔
وہ بہت چپکے سے آگے بڑھی اور نرمی سے مسہری پر بیٹھ کر دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے پہلو میں اس کی مخالفت سمت کروٹ لیے لیٹ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
