No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اتنے برسوں کے بعد وہ دونوں بلکل آمنے سامنے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔ ایلا نے ازلان کی جانب قدم بڑھائے وہ اتنے ہی قدم پیچھے ہٹا۔ ایلا حیران ہوئی۔ مگر ازلان کی آنکھوں میں دکھ، بے بسی، غم وغصے کے تاثرات دیکھ ایلا نے بے بسی سے اپنے لب کاٹے۔
تب وہ ازلان کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر بھاگ کر اس کے کشادہ سینے سے لگی تھی۔ اس کی کمر پر دونوں ہاتھ باندھ کر اس کے سینے میں منہ دیا
ازلان غصے سے جھنجھلایا۔
ایلا دور رہو مجھ سے،، ہاؤ ڈئیر یو تمھاری ہمت کیسے ہوئی تھی مجھ سے اتنا بڑا اور اتنا بھیانک جھوٹ بولتے کہ تم نہیں رہو گی،، اتنے سال مجھے سے دور رہی مجھے پل پل اذیت سے دوچار کیا،، اتنے سال میں یہ سوچ کر پل پل تڑپتا رہا کہ میری محبت میری جینے کی وجہ تو مر گئی تو میں کیوں زندہ ہوں،، ایلا تم نے ایسا کیوں کیا میرے اور میرے بچوں کے ساتھ بتاؤ،،،
ازلان نے غصے سے اسے خود سے دور دھکیلنے کی کوشش کی مگر وہ ہنوز اس کے سینے میں منہ دئیے روتی رہی۔ تب ازلان نے خود سے قابو کھوتے اس کے گرد اپنی مضبوط بانہوں کا حصار قائم کیا تھا۔
تبھی وہاں راج وشہ مسکراتے ظاہر ہوئے تھے۔
اتنے برسوں بعد یہ منظر دیکھ بہت خوشی ہوئی،، راج نے کہا اور ازلان کے سینے سے لگا۔ وشہ نے ایلا کو گلے لگایا۔ وہ سب ہٹ کے اندر چلے گئے۔ تبھی ساحل کے پانی سے نکل کر عائش سرخ آنکھیں لیے باہر نکلا۔ اور ہٹ کی جانب آیا۔
ہمیں بھی آپ لوگوں کو دیکھ بہت خوشی ہوئی،، ایلا نے مسکرا کر کہا۔ تب اس کی نظر ان کے پیچھے چھپی ڈری سہمی ایک بے تحاشا خوبصورت پرنسز پر پڑی۔
کنگ راج یہ آپ کی بڑی بیٹی ہے،، ایلا اور ازلان نے ماہا ویرا کا ماتھا چومتے پوچھا۔
نہیں یہ ہماری چھوٹی پرنسز ہے،، راج نے مسکرا کر کہا۔ تب ازلان نے انھیں اور ایلا کو آبدار اور مایا وش کے بارے میں ساری تفصیلات بتائیں۔ جنھیں سن وشہ مایا وش کو یاد کر کے رونے لگی۔ راج کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ مگر ہونٹوں پر مسکان کہ اس کی پرنسز اور اس کا کنگ اس کی سب باتیں سمجھ کر اپنے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ اور اب جلد ہی کامیاب ہو کر بھی لوٹنے والے تھے۔
ایلا نے ماہا ویرا کو اپنے پاس بٹھایا۔ وہ روز کے گلے میں وہ نیکلس بھی تو دیکھ چکی تھی جو اسے اس عائش کی بیوی ثابت کر رہا تھا۔ مگر وہ خاموش تھی اور عائش کا انتظار تھا۔ تبھی عائش ہٹ میں داخل ہوا تھا۔
ماہا ویرا نے اسے ایک نظر دیکھ کر نگا جھکا لیں۔
عائش بھی اسے دیکھ نگاہیں جھکا لی تھیں۔ مگر وہ آ کر ازلان کے سینے سے لگا تھا۔
کیا ہوا عائش،، میرے پرنس،، ہوا کیا،، روز کدھر ہے،، بتاؤ مجھے،، ازلان اور ایلا پریشان ہوئے۔
ڈیڈ اس تاشہ نے مجھ پر وار کیا اور روز بیچ میں آ گئی،، ڈیڈ وہ نہیں رہی،، مار ڈالا اس ظالم چڑیل نے اپنی بیٹی کو،، عائش نے لال انگارہ آنکھوں سمیت ان کا بتایا۔ یہ سن کر ایلا رونے لگی۔ مگر اب ازلان نے اسے تسلی دی۔
عائش کی بھی حالت بہت بکھری ہوئی تھی۔ وہ سب سنگا پور رائیل پیلس کی جانب روانہ ہوئے۔ عائش بلکل بھی تیار نہیں تھا واپس چلنے کو مگر ازلان نے بمشکل اسے راضی کر ہی لیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ لوگ ایورا کے پاس سراب کی رنگ لیے کامیاب واپس لوٹے تھے۔ ایورا نے اس خوشی میں شاندار دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ اور اب وہ دونوں دعوت سے فارغ ہو کر نیلے پھول پر بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایورا وہاں چلی آئی۔
اینچینٹرس کا پیغام آیا ہے اوشن کنگ کے لئے،، ایورا نے کہا تو مایا وش اور آب پوری طرح ایورا کی جانب متوجہ ہوئے۔
آپ لوگوں کے پاس وقت بہت کم ہے چنانچہ آپ کو جلد ہی میّر آف لو لینے ڈریگن لینڈ جانا ہوگا اوشن کنگ،،
یہ سن کر مایا وش کے چہرے کے رنگ اڑے تھے۔
ایورا کیا مطلب آپ کا کہ انھیں جانا ہوگا میں بھی ان کے ساتھ جاؤں گی یہ اکیلے کہیں نہیں جائیں گے،،، ان کے ہر ایک قدم پر میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں،،،، مایا وش نے بے اختیار ہو کر کہا تھا۔ آبدار اس کی بے چینی پر گہرا مسکرایا اور ایورا فکر مند ہوئی۔
ڈریگن پرنسز بھول گئیں آپ کہ آپ ابھی قید میں ہیں ڈریگن لینڈ نہیں جا سکتی ہیں،، وہاں صرف اوشن کنگ جا سکتے ہیں اور یہ انھیں کا امتحان ہے کہ ان کو آپ کے لئے محبت کا ماپ لانا ہوگا،،
ایورا نے اس کی رونی شکل دیکھ کر اسے سمجھانا چاہا۔
اوشن کنگ،، آپ کے لئے اینچینٹرس نے خاص پیغام بھیجا ہے آپ وہ کرول میری الماری سے نکال لائیں میں ڈریگن پرنسز سے بات کرتی ہوں تب تک،،،
آبدار سر اثبات میں ہلاتا ایورا کے روم تک گیا۔
وہ ایورا کے روم میں آیا۔ اور جلدی سے ان کی الماری کھول کر وہ کرول نکالا اور کھول کر پڑھا۔
ڈریگن لینڈ کے ڈیپ فوریسٹ کے بیچ وبیچ بنے ایک سیاہ درخت سے ایک اکلوتی بچی ہوئی سیاہ رنگ کی بیری اپنی کوئین کے لئے لے کر آئیں،، محبت کا ماپ خود ہی مل جائے گا،،،
کافی مبہم سا پیغام تھا۔ مگر آبدار کو اب وہ بیری لانی تھی۔ ہر صورت پر ہر قسم پر۔
ادھر ایورا مایا وش کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
پرنسز ایک سوال پوچھوں گی اس کا سہی اور بلکل سچ جواب چاہئے،، اپنے ہی کنگ سے اس دوری کی وجہ،، ہر بار اپنے کنگ کی پیش قدمی قبول نا کرنے کی وجہ جاننی ہے اینچینٹرس کو،،
ایورا نے پوچھا تو مایا وش کا سر جھک گیا تھا۔ آنکھوں میں آئی نمی پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
وجہ بس یہ ہے کہ میں ابھی اس چڑیل بلیک وچ اور شیطان سامر کی قید میں ہوں ایورا،، ہم اگر وہ سوارڈ بنانے میں ناکام ہو گئے،، اور اگر میں اس سامر کی قید میں چلی گئی تو،،؟ ابھی میں اپنے کنگ سے دور ہوں تو شاید وہ تب میری جدائی کا صدمہ برداشت کر لیں،، اور اگر میں اس شیطان کی دسترس میں چلی گئی تو اس کے پاس رہنے سے بہتر مرنا پسند کروں گی،، ابھی یہ ملن مکمل نہیں ہوا ہے تو تب میرے مرنے پر آب کو کچھ نہیں ہوگا،، وہ زندہ تو رہیں گے،، اگر یہ ملن مکمل ہو گیا تو میں تو اس شیطان کی قید میں مر بھی نہیں پاؤں گی ایورا،،،
مایا وش پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اور اس کی یہ باتیں پیچھے کھڑے آب نے من و عن سنیں تھیں۔ اس کے ماتھے پر ان گنت بل آئے تھے۔
ایورا نے افسوس سے سر ہلایا۔ اور ان کے کامیاب ہونے کی دعا دی۔ اور وہاں سے چلی گئی۔ مایا وش دیکھ چکی تھی کہ آب نے سب کچھ سن لیا تھا۔ وہ دم بخود سی بیٹھی رہی پھر آبدار ناراض ہو کر اس سے دور ہوتا چلا گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سلطان رائل پیلس کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا۔ شادی کی تیاریاں زوروشور سے ہونے لگی تھیں۔
ازلان ، ایلا روز کی قربانی کبھی فراموش نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اب راج اور وشہ کی خواہش پر جلد از جلد یہ شادی کر دینا چاہتے تھے۔
عائش جب سے آیا تھا اپنے کمرے میں بند تھا۔ وہ تو باہر نکلا ہی نہیں۔ اسے بھی اب پتہ تھا کہ راج لوگ کیوں اور کس مقصد سے یہاں آئے ہیں۔ مگر ابھی وہ خاموش تھا۔ بہت خاموش اور یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی تھی۔ پھر ازلان اسے زبردستی اپنے ساتھ راج کے کمرے میں لے گیا۔
راج اور وشہ کو شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اب وہ سب بیٹھے شادی کے بارے میں ہی باتیں کر رہے تھے۔
جب اچانک راج کو کچھ غیر معمولی سا احساس ہوا۔ وہ سب کے درمیان سے اٹھا۔ وشہ نے سوالیہ نگاہوں سے راج کی جانب دیکھا۔
وشہ مجھے لگتا ہے مجھے گرینڈ فادر نے آواز دی،، وہ اٹھ کر وہاں موجود ایک آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔
جی گرینڈ فادر،،، راج نے ان کا ہیولہ دیکھ پوچھا۔
راج فوراََ ڈریگن لینڈ پہنچو،، اور جا کر ڈیپ فوریسٹ کے سیاہ درخت سے ماہا ویرا کے لئے وہ اکلوتی بچی ہوئی بیری لے کر آؤ،، گرینڈ فادر کی بارعب آواز آئینے میں سے گونجی جو سب کو سنائی دی۔
لیکن کیوں گرینڈ فادر،، راج نے اچنبھے سے پوچھا۔
کیونکہ وہ پرنسز کی خوشی کے لئے بہت ضروری ہے اس لئے،، اور میں کہہ رہا ہوں اس لئے،، گرینڈ فادر نے کہا اور وہاں سے غائب ہو گئے۔
راج نے پیچھے مڑ کر ان کو دیکھا۔ وشہ کے پاس آ کر اس کے بازو تھامے۔
مجھے جانا ہوگا ابھی،، وشہ میری بات غور سے سنو،، میں جلد از جلد آنے کی کوشش کروں گا۔ مگر یہ شادی رکنی نہیں چاہیے،، میں وقت پر پہنچوں نا پہنچوں شادی کی رسمیں جاری رکھنا اور پرنسز کا خیال رکھنا،،
وہ عائش کی جانب مڑا۔ بیٹا اپنی پرنسز کو تمھارے حوالے کر کے جا رہا ہوں،، اس کا خیال رکھنا بہت زیادہ،،
راج نے عائش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر عجلت میں کہا تھا مگر اس کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ ہی نہیں پایا۔ وہ سب سے ملکر مرر کی جانب بڑھا تھا اور اس میں غائب ہو گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مایا وش وہیں گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ جب ایورا اس کے پاس آئی۔
“پرنسز اوشن کنگ ڈریگن لینڈ جا رہے ہیں،، ایورا نے بتایا تو مایا وش نے جھٹکے سے اپنے سر اٹھا کر بے یقینی سے ایورا کو دیکھا۔
پھر بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ اور باہر کی جانب بھاگی۔
آبدار،،، مایا وش نے چلا کر اسے پکارا جو ناراض ہو کر اسے ملے بتائے بغیر ہی ڈریگن لینڈ چلا تھا۔ اسے بیل کی اونچائی سے نیچے اترنا تھا۔ اس نے بلکل انتظار نہیں کیا اور ڈریگن میں بدلی اڑ کر نیچے اتری تھی۔
یہ منظر دور دور تک سارے علاقے میں دیکھا گیا تھا۔ اور فیری ٹوپیا میں ایک ڈریگن کو دیکھ کر پھر سے خوف و ہراس پھیل چکا تھا۔ کئی پریاں محل کی جانب اڑیں تھیں کنگ ویام کو اس ڈریگن کی اطلاع دینے کے لئے۔
مایا وش نیچے اتر کر اپنی شکل میں واپس آئی۔ سامنے ہی وہ اس کی جانب سے پیٹھ کیے کھڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک بڑا بلیک کلر کا ہول تھا جس میں اس نے داخل ہونا تھا۔
مایا وش بھاگ کر اس کے پاس گئی تھی۔ اس کے ہول میں قدم رکھنے سے پہلے مایا وش پیچھے سے آ کر اس سے زور سے لپٹی۔
آبدار،،، آئم سوری،،،، سو سوری پلیزززززز،،،،، پر یوں ناراض ہ کر مت جائیں ناں،، مجھ سے یوں ناراض مت ہوں،، پلیزززززز،،، مایا وش کے آنسو اس کی کمر پر گرے تھے۔
وہ جو کسی سے بھی الجھنا نہیں چاہتا تھا حالانکہ اپنی کوئین کے بھی نہیں،، اب اپنی آنکھیں زور سے میچیں تھیں۔ جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔ مٹھیاں پری شدت سے بند کر رکھیں تھیں۔
جب اپنی شرٹ بھیگتی محسوس ہوئی تو آبدار نے مایا وش کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے گھمایا تھا۔ اب اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بہت قریب کر کے اپنی لال انگارا آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھیں۔
ایورا سے آپ نے جو کہا ،، وہ آپ کی سوچنے کی بھی ہمت کیسے ہوئی کوئین،، اتنا کمزور سمجھ رکھا ہے کیا اس اوشن کنگ کو،، جو وہ آپ کو یونہی خود سے دور کسی شیطان کی دسترس میں جانے بھی دے گا،،، اتنی فضول سوچ کے تحت آپ نے خود سے دور رکھا مجھے،، ہاؤ ڈئیر یو،،؟ اس نے ایک ہاتھ سے مایا وش کا جبڑا دبوچا تھا۔
آبدار کا غم وغصہ کسی صورت بھی کم نہیں ہو پا رہا تھا۔ نا اپنے اشتعال پر قابو تھا۔ تبھی اچانک طوفانی ہوائیں چلنے لگیں تھیں۔ پانی کی تیز بوچھاڑوں نے ان دونوں کو بھگو ڈالا تھا۔
مایا وش جانتی تھی کہ اسے اپنے کنگ کا غصہ کیسے دور کرنا ہے۔ مایا وش نے کسی بھی چیز، کی پرواہ کیے بغیر ایک قدم آگے بڑھ کر اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کیے تھے۔ اس کے دونوں پیروں پر پاؤں رکھ کر خود کو اوپر اٹھایا اور آبدار کے ہونٹوں پر اپنے نازک لب رکھے۔
آبدار کو جو اپنی کوئین سے یہ ہر گز بھی توقع نہیں تھی۔ حیرت سے اس کی بند آنکھوں کو دیکھا اور اپنے ہونٹوں پر بہت نرم وگداز گستاخیاں ہوتیں محسوس ہوئیں تو آبدار کا تمام غم وغصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔
آبدار نے اس کی کمر میں بازع حمائل کر کے اسے سہارا دئیے خود میں بھینچا۔ اور اب آنکھیں بند کر کے اس کی سانس کے ساتھ تال میل بنانے لگا۔
یہ شروع تو مایا وش نے کیا تھا۔ مگر اب آبدار کی شدت سے وہ نڈھال سی ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی اس نے اب خود کو اپنے کنگ سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
آبدار نے خود ہی اس کے لرزتے کانپتے وجود پر رحم کھاتے اسے آزادی بخشی اور بہت نرمی سے اس کے چہرے سے وہ قیمتی موتی چنے۔
اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا کر آنکھیں بند کیں۔ مایا وش کی تو اس کی ناقابلِ برداشت گستاخیوں پر پہلے ہی آنکھیں بند تھیں۔
یہ کیا تھا کوئین،،، آبدار نے سکون سے کہتے اسے چھیڑا۔
آئم سوری آب،، آئندہ میں کبھی بھی اس طرح کا کوئی بھی خیال اپنے زہن میں نہیں لاؤں گی،، وہ روتی گئی۔
نا کریں کوئین،، میں جا نہیں پاؤں گا،، آبدار نے بے بسی سے لب کچلتے کہا۔
آب اکیلے مت جائیں ناں،،کیا کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ جا پاؤں،،، اب ایک پل بھی میں آپ سے دور نہیں رہنا چاہتی آب،،
مایا وش پھر رو پڑی تھی۔ آب نے پھر لبوں سے وہ آنسو چنے۔
مجھ پر بھروسہ رکھیں کوئین،، کچھ نہیں ہوگا،، آپ ایورا کے پاس، رہیں گی،، میں جلد لوٹنے کی کوشش کروں گا،، وعدہ رہا،، بھروسہ ہے ناں اپنے کنگ پر،،،
آب نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
اس نے بھیگی پلکوں سمیت اثبات میں سر ہلایا۔ آبدار نے اس کی بھیگی پلکوں پر اپنے لب رکھے۔
جب لوٹوں گا تو مکمل طور پر میری ہونے کے لئے خود کو تیار رکھنا کوئین،، کہ اب یہ کنگ اپنی کوئین سے ایک پل کی بھی دوری برداشت نہیں کرے گا،،
یہ کہتے آب کی گرفت اس کی کمر پر بہت شدت بھری تھی۔ مایا وش نے اپنی آنکھیں زور سے بند کیں۔
آبدار نے پھر پل بھر کے لئے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔ اور پیچھے ہوا۔
اپنا خیال رکھنا کوئین،، میرے لئے،، سرسراتے جملے تھے جو وہ اس کے کان میں بول کر اسے ایک سائیڈ کر ہول میں داخل ہوا تھا۔
آبدار،،، مایا وش چلائی۔مگر ہول فورا سے پہلے غائب ہو چکا تھا۔ مایا وش پھر بلک بلک کر رو دی۔
مگر ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اس پر ایک جال گرایا گیا تھا۔ مایا وش مچلی۔
کون ہے؟ سامنے آؤ،،، چھوڑو مجھے،،، مایا وش اس جال میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔ مگر وہ کچھ پریاں تھیں جو مایا وش کو جال سمیت اٹھا کر محل کی جانب مڑیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جس دن سے وہ شادی کر کے آئے تھے۔ جیک اپنی جاب کے سلسلے میں شہر سے باہر ہی تھا۔ رنجو سکون میں ہی رہی۔۔ ویسے بھی وہ اب تک اپنے اپنے رومز میں ہی رہ رہے تھے۔ اب جبکہ رشتہ بدلا تھا تو ظاہر سی بات تھی ایک دوسرے کے حوالے سے احساسات بھی بدل چکے تھے۔
ایگزیم شروع ہونے کے ساتھ آدھی رات تک پڑھائی کے چکر میں دماغ سن ہو چکا تھا اور اب پیٹ میں چوہے بھی کود رہے تھے۔ شام تو کچھ ڈھنگ سے کھایا بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے نائٹ ڈریس کے اوپر شال اوڑھتی باہر کچن کی جانب آئی تھی۔
کچن سے پہلے ہی کھٹر پٹر کی آواز پر وہ چونکی تھی۔ کچن میں آ کر دیکھا تو جیک اپنے لئے کچھ بنا رہا تھا۔ آہٹ پر اس نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا۔
ہائے،،، جیک نے اسے وش کیا۔ اپنے حلیے کے پیشِ نظر وہ واپس جانے لگی۔
کچھ چاہیے تھا کیا؟ واپس آؤ رنجو،،، جیک نے اسے پکارا تو مجبوراً اسے واپس آنا پڑا۔
میں نوڈلز بنا رہا ہوں تم بھی کھا لینا،،
وہ سوسیجز بھی فرائی کر رہا تھا۔ رنجو نے اس کی جانب دیکھا۔
فکر مت کرو تمھارے نوڈلز میں نہیں بس اپنے نوڈلز میں ڈالوں گا یہ،، وہ مسکرایا۔
رنجو حیران ہوئی وہ اس کی آنکھوں کے ہی معنی و مطلب سمجھ رہا تھا۔
اس نے مہارت سے نوڈلز سرو کیے اور اس کے سامنے چئیر پر بیٹھ گیا۔ دونوں چپ چاپ اپنے اپنے نوڈلز کے ساتھ انصاف کرنے لگے۔
ایگزیم کی تیاری کیسی چل رہی ہے،، جیک نے ہی بات شروع کی۔
کافی اچھی ہے،، وہ نوڈلز کے باؤل پر جھکی ہوئی تھی۔۔ جلد ہی پیٹ بھر گیا وہ نیپکن سے اپنا چہرہ صاف کر رہی تھی۔ جب کانوں میں ایک آواز سنائی دی۔
رنجناااااااااااا،،،،،
کسی نے اسے پکارا تھا۔ رنجو نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔
ہاں،،،، رنجو نے جیک سے پوچھا۔
کیا،، جیک نے جوابی سوال کیا۔
تم نے مجھے ابھی ابھی پکارا جیک،،، رنجنا نے کہا تھا مگر جیک کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا تھا۔ وہ ایک جست میں اس تک پہنچا تھا۔
اگر آواز آ بھی رہی ہے رنجو تو اپنے کان بند کر لو،،، اس نے دانت پیس کر اسے دیوانہ وار جھنجھوڑ ڈالا تھا۔
مگر ہوا کیا جیک،، مجھے پکارا بھی اور اب بول رہے ہو کان بھی بند کر لو؟
کچھ نہیں ہوا تم چلو میرے ساتھ،، وہ اسے بازو سے تھام کر اس کے روم میں لے کر گیا تھا۔ وہ سلسلہ جو سنجنا کی زندگی نگل گیا تھا اب وہ وہی سب کچھ کم از کم رنجو کے ساتھ تو ہر گز نہیں ہونے دے گا۔
اس نے اس کے روم میں گھس کر لاک لگایا تو رنجو شاکڈ رہ گئی۔
جیک یہ کیا بدتمیزی ہے روم کیوں لاک،،،،،
شٹ اپ رنجو،،، اب وائف ہو میری تو تمھیں میرے اور اپنے ایک روم شئیر کرنے سے کیا پرابلم ہے،، وہ غرایا۔
جیک ابھی کہ ابھی اپنے روم میں جاؤ،،، وہ بھی جھنجھنا کر بولی تھی۔
جیک نے تیزی سے اس کے بازو دبوچے تھے۔ ریشمی شال ڈھلک کر زمین بوس ہو گئی۔ جیک نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سختی سے دیوار سے لگایا تھا۔ وہ بوکھلا ہی تو گئی۔
اور اگر میں تمھاری یہ ساری جھجھک کچھ گھنٹوں میں دور کر دوں تو پھر تو تمھیں میرے روم شئیر کرنے سے کوئی پرابلم نہیں ہو گی ناں،،
وہ اس کے کندھے سے جھٹکے سے سٹیپ نیچے کھسکاتا بولا تھا۔
رنجو گھگھیا گئی۔ مم،،،، مجھے اب بھی کک،،،، کوئی پرابلم نہیں تت،،،، تم روم شئیر کر سکتے ہو،، پر دور ہٹو مجھ سے،،،
وہ سختی سے آنکھیں بند کیے ہوئے اس کی گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔
جیک نے اسے نرمی سے چھوڑا۔ رنجو سیکنڈز میں بیڈ پر لیٹ کر کمفرٹر میں گم ہوئی تھی۔ جیک نے اچھی طرح کھڑکیاں دروازے لاک کر کے چیک کیے اور بیڈ پر آ کر نیم دراز ہو گیا۔
آنکھوں سے وحشت سی ٹپک رہی تھی۔ ایک نظر کمفرٹر پر ڈالی۔ اتنی ٹینشن میں بھی اس گھٹڑی کو دیکھ اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
اب تو قسم کھا لی تھی کہ کم از کم رنجو پر آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مایا وش اس جال میں بری طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔ ان پریوں نے مایا وش کو جال سمیت لا کر محل کے دربار میں پھینکا۔
سامنے ہی تخت پر کنگ ویام ٹانگ پر تانگ رکھے بیٹھا اب اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے کو اس کے بالوں نے کور کر رکھا تھا۔
مایا وش اٹھی کر بیٹھی تھی اور سر جھٹک کر بال پیچھے کیے تھے۔ اور جال میں سے سامنے تخت کی جانب دیکھا تھا۔
کنگ ویام جال میں اس لڑکی کو دیکھ تخت پر سے بے اختیار اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔ اسے لگا کے سامنے اس کے جینے کی وجہ ہے۔ اس لڑکی میں کسی کی اتنی شباہت تھی کہ وہ تو پگلا ہی گیا تھا۔
اے چھوڑو اسے،، ویام دھاڑا تھا۔ اور تیزی سے تخت سے نیچے اتر کر مایا وش تک پہنچا۔ جھپٹ کر اس پر سے وہ جادوئی جال اتارا جس کی وجہ سے وہ ڈریگن میں نہیں بدل سکتی تھی۔
ویام نے اسے بازوؤں سے تھام کر اٹھایا تھا۔
ماہا ویرا،، کنگ ویام کے لبوں سے ادا ہوا تو مایا وش یہ نام سن کر چونکی تھی۔
میں ماہا ویرا نہیں ہوں،، چھوڑو مجھے،، مایا وش نے غصے سے اس کے ہاتھ جھٹکے۔ مگر کنگ ویام نے بے قابو ہوتے اس کے کندھے سے ہلکے سے شرٹ نیچے کھسائی تھی۔
یہ کیا،، کمینے انسان ،،دور ہٹو مجھ سے،، مایا وش غرائی۔ مگر سامنے والا اس کا آدھا ڈریگن اور آدھا مرمیڈ ٹیٹو دیکھ حیران ہوا تھا۔
یہ کیا بدسلوکی ہے کنگ ویام یہ ماہا ویرا نہیں ان کی بڑی بہن ہیں،،
تبھی وہاں اینچینٹرس داخل ہوئیں تھیں۔ سب تقریباً تعظیماً جھکے تھے۔ اینچینٹرس کے کہنے پر کنگ ویام شرمسار ہوا تھا۔ مگر تبھی وہاں اس کا ایک خاص غلام جو کہ اس نے کچھ خاص مقصد سے کہیں بھیج رکھا تھا وہ ہانپتا حاضر ہوا تھا۔
کنگ ویام اپنے غلام تک آیا۔ وہ اس کے سامنے جھکا۔
کیا خبر لائے ہو روپی،،،، کنگ ویام نے پوچھا.
بہت بری خبر ہے کنگ ویام،، وہ،،،،،، وی آج رات کوئین کی اس اوشن پرنس سے شادی کی تمام رسمیں ادا کر دیں جائیں گی،،
یہ سنتے ہی کنگ ویام کی آنکھوں نے لہو چھلکایا تھا۔
جبکہ مایا وش کے پاس کھڑی اینچینٹرس بھی یہ سرگوشی اپنے کرسٹل باؤل کی وجہ سے سن چکی تھی۔
ویام جھٹکے سے پیچھے مڑا جہان مایا وش اب بھی کھڑی ادھر ادھر دیکھتی حیرت میں ڈوبی تھی۔ مگر اب اس کے پاس اینچینٹرس کھڑی تھی۔
اینچینٹرس،،، خاص مہمان کا خاص خیال رکھا جائے،، مجھے کچھ ضروری کام سے جانا پڑے گا ابھی،،،،
یہ کہتے وہ جھٹکے سے محل سے اڑا تھا اینچینٹرس کا چہرہ خوف سے سفید پڑا۔ اب جانے انسانی دنیا میں کہا قہر برپا ہونے جا رہا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
