Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش سٹڈی ٹیبل سے اٹھ کر اپنے بیڈ پر آئی تھی۔ ڈھیلی سی آف وائٹ فراک کے نیچے ٹراؤزر پہنے وہ بیڈ پر نیم دراز ہوئی تھی۔ ایک انتہائی خوبرو، خوبصورت سا چہرہ چھن سے تصور کے پردے پر لہرایا۔ ایک دلنشیں میٹھے نرم پرحدت سے لہجے نے چین سکون، نیند سب برباد کر دی تھی۔ اور وہ خوشبو دنیا کی انوکھی ترین خوشبو تھی۔ وہ پرتپش دہگتا لمس اس کی زندگی کا اب تک کا انوکھا ترین احساس تھا۔ مایا وش کے زہن میں جھماکا سا ہوا۔

وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ ہاں جس دن کائلہ نے اسے زخمی کیا تھا اس دن اگلی صبح اسے اپنے کمرے سے وہی خوشبو آئی تھی تو مطلب اسی نے اس کے زخم پر مرحم لگایا تھا۔ وہی خوشبو اسے رائیل پیلس میں محسوس ہوئی تھی مطلب رائیل پیلس میں بھی وہی اس کے پیچھے تھا۔ اس کی زندگی میں ہر جگہ وہی تو تھا۔ مایا وش نے اپنے گلے میں موجود اس لاکٹ کو مٹھی میں بھینچا۔ اسی دن جس دن یہ اس کے گلے میں آیا تھا۔ اسی دن مایا وش کو وہ تلوار ملی تھی۔ اور وہ اس خبیث چڑیل سے اپنی حفاظت کر پائی تھی۔ مایا وش نے لاکٹ کو دائیں ہاتھ میں تھام کر اپنے سامنے کر کے نرمی سے اس پر انگلی پھیری۔۔

“اس لاکٹ کا آپ کے گلے میں ہونے کا کیا مطلب ہے جانتی ہیں آپ،، کہ اب آپ میری بیوی ہیں،، اس کنگ کی کوئین ہیں،، میرے وجود کا کھویا ہوا حصہ،، آپ کے ملنے سے پہلے میری ہر تکلیف کی وجہ اور اب میرے چین و سکون، جینے کی وجہ”

بھاری گھمبیرتا سے بھرپور بوجھل لب و لہجے میں کی گئی جان لیوا سرگوشیاں پھر کانوں میں گونج اٹھیں۔ مایا وش کے لبوں نے میٹھی سی مسکان کو چھوا۔
ایسے کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ دل وجان سے روح سے ایک ہوں اور مایا وش کے دل ودماغ اور حواسوں پر وہ ستمگر بہت بری طرح سوار نا ہوا ہو۔ وہ جب سے اس سے ملی تھی دن رات پل پل اسی کے بارے میں تو سوچ رہی تھی۔
اس کے خیال وتصور سے جان چھڑانے کو سر جھٹک کر دائیں طرف کروٹ لی۔ وشہ کو ہوا میں نمی کا احساس ہوا مگر ہر خیال کی نفی کر کے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔

وہ ابھی ابھی بخارات میں تحلیل ہوا کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا۔ وہ پری پیکر اس کی مخالف سمت کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی۔ وہ بہت نرمی اور انتہائی خاموشی سے اس کی پشت پر آ کر نیم دراز ہوا تھا کوئی بھی آہٹ کیے بغیر۔

مگر ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ جو اسی کے وجود کا ایک حصہ تھی اس کی موجودگی کیسے نا پہنچان پاتی۔ اپنے پیچھے پشت پر بہت قریب ہی بیڈ پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ اور جب وہ لیٹا ہوگا تب بیڈ پر پڑتا دباؤ بھی اسے محسوس ہوا تھا۔ مایا وش نے تکیہ شدت سے مٹھیوں میں بھینچا۔ ابھی ابھی جو اسکے ہی بارے میں سوچ رہی تھی چوری پکڑے جانے کے ڈر سے چہرے پر ہوائیاں اڑیں تھیں۔ اب تو وہ خوشبو سوتے جاگتے اس کی سانسوں میں سمائی رہتی تھی کجا کہ وہ خوشبوؤں میں بسا اس کے بے تحاشا قریب ہو۔

آبدار جو کہ دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر سر کے نیچے رکھے اس کے قریب نیم دراز تھا بغور اسے دیکھا جو آف وائٹ لباس میں سونے کی طرح دمک رہی تھی۔ ہلکے سے جسم لرز رہا تھا۔ ٹراؤزر تھوڑا اوپر کو کھسکا ہوا تھا جن میں سے خوبصورت روئی کی طرح پنڈلیاں جھانک رہی تھی۔ بہت بے اختیاری میں انھیں چھونے کا من کیا۔ تو اپنے دل کی سنتے عمل کر بھی گزرا تبھی پیر کے انگوٹھے کی پشت سے پنڈلی کو چھوتا تھوڑا اوپر تک آیا۔

مایا وش کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔ جب پاؤں سے کوئی چیز رینگتی پنڈلی کی جانب آتی محسوس ہوئی۔ ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ دبائی۔
آبدار کو ایک اور شرارت سوجھی تھی۔ تبھی پچھلے گلے کی ڈوری پکڑ کر نرمی سے کھینچی تھی۔
اور ادھر مایا وش کی بس ہوئی تھی وہ اتنا ہی برداشت کر سکتی تھی۔

“یہ آپ ہیں ناں آبدار،،، مجھے معلوم ہے آپ میرے پیچھے ہیں تو یہ چھچھوری حرکتیں کرنا بند کریں،، مایا وش جی کڑا کر کے بولی۔

وہ بے تحاشا چونکا تھا۔ مگر پھر گہرا مسکراتا سکون سے خود کو غائب سے ظاہر کر دیا۔ ان تین جملوں میں اس نے یوں نہیں کہا تھا کہ آپ یہاں کیوں ہیں؟ یا جانے کو بھی نہیں بولا۔ تبھی رگ وپہ میں سرشاری دوڑی تھی۔

“تو پھر کیا کرے یہ کنگ کہ اس کی رگوں میں بہتی بےچینی و بے سکونی پر ٹھنڈے سکون کی پھوار پڑ جائے”؟ ایک مرتبہ پھر بھاری بوجھل سی معنی خیزی سرگوشی سے پوچھا تھا۔ مایا وشہ کی سانس حلق میں اٹکی۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ہلی نہیں تھی۔ وہ شاید اس کی جانب جھکا تھا تبھی پرحدت سانسوں سے مایا وش کی پچھلی گردن سلگ رہی تھی۔
ادھر آبدار کی نگاہیں پھر بھٹک کر اس کی نازک گداز کمر پر ٹھہریں تھیں۔

اا،،،،،،،اس دن آ،،،آپ ہی تھے ناں،، جس دن مم،، مجھے پشت پر چوٹ لگی تھی،، اور آپ نے ہی مم،،، میرے ذخم پر مرحم لگایا تھا ناں،، مایا وش اٹکتی سانس کے ساتھ پوچھ بیٹھی۔ وہ دلفریب مہک سانسوں سے روح میں اتر رہی تھی۔ عجیب سا احساس تھا۔ کم بخت دل بھی تو بغاوت کرتا ہمک ہمک کر بول رہا تھا کہ پیچھے مڑ کر اسے دیکھ ہی لو۔

آبدار کے لبوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہو رہی تھی۔ “ہاں وہ میں ہی تھا،، میرے علاوہ وہ گستاخی کون کر سکتا ہے آپ کے ساتھ کوئین،، آب نے بولتے اس کی کمر پر انگلی سے جل پری زاد کا ٹیٹو بنایا تھا۔ اس کے چھونے پر کمرے میں پھر روشنی کا جھماکا سا ہوا تھا۔ وشہ کا ٹیٹو جگمگایا۔ تکیہ مزید زور سے مٹھیوں میں بھینچا۔ یہ لمس یہ قربت جان لیوا تھی۔ تبھی اس نے کبوتر کی طرح زور سے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں۔

اور،، برتھ ڈے پارٹی میں بھی آ،،،، آپ ہی تھے میرے پیچھے،، را،،،، رائٹ،،
آف کورس،، میں ہی تھا اور اس دن میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا آپ کو،،
وہ دھیمے لہجے میں اس سے باتیں کرتی ہر بات جان لینا چاہتی تھی جبکہ آبدار کو اس کا یوں اس سے باتیں کرنا اس کو جانے کے لئے نہیں کہنا بے تحاشا سکون دے رہا تھا۔

آ،،،،،،آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ جسے،،،،، ڈھونڈ رہے ہیں وہ میں ہوں،، مایا وش پوچھ بیٹھی۔
ایسے،،، آبدار نے پوری شدت سے اپنے پہلو پر چٹکی کاٹی تھی۔
آہہہہہہہہہہہہہہہہ،،،، مایا وش پیٹ پکڑ کر دہری ہوئی اور جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ،، مایا وش نے غصے سے اسے گھورا۔
آپ کے ساتھ نہیں میں تو اپنے ساتھ کر رہا ہوں،، آبدار نے لاپرواہی سے کہتے ایک مرتبہ پھر اپنی ویسٹ پر چٹکی کاٹی تھی۔
آہہہہہہہہہہہہہ،،، مایا وش کی دردکے مارے آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔
ہیے،،،،ہیے،،، آئم سوری،، پلیز، پلیز، آئم سوری،، میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا،، میں تو بس مزاق کر رہا تھا،،، آبدار نے مایاوش کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا اور انگوٹھوں کی پوروں سے بھیگی پلکیں صاف کیں۔

مایا وش نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔دونوں کے دلوں میں ایک حشر برپا ہوا تھا۔ جواں سینوں میں ایک طوفان سا اٹھا۔ وہ زیادہ تر ان اوشن بلو آئیز میں دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔ فوراََ نگاہیں جھکا گئی۔ آبدار کی پیاسی نگاہیں اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو رہی تھیں۔ پھر نگاہیں آ کر ان گلاب کی پنکھڑیوں پر آ کر ٹھہر گئیں۔ اب اسکی نگاہوں کا فوکس وہ نازک گداز سرخ لب تھے۔ جنھیں چھوکر اس کی پیاس میں ایسے اضافہ ہو چکا تھا جیسے تپتے صحراؤں میں بھٹکتے مسافر کو ٹھنڈے میٹھے پانی کا صرف ایک گھونٹ پلایا جائے اور وہ دوبارہ وہ پانی پینے کے لئے روح تک سے مچل جائے۔

مایا وش ان نگاہوں کا فوکس سمجھ کر دل و جاں سے کانپ گئی تھی۔ ان ہاتھوں کو چہرے سے ہٹا کر تیزی سے اپنی پہلے والی پوزیشن میں لیٹ گئی۔ سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا تھا۔ دل پسلیوں سے سر پٹخ رہا تھا۔ آبدار بھی بہت مشکل سے اپنے منہ زور جزبات پر کنٹرول کرتے ہوئے واپس اپنی پوزیشن میں لیٹ گیا تھا مگر جان بوجھ کر اس سے تھوڑا اور فاصلہ سمیٹتے ہوئے کہ اسے بے اختیاری سی لگ چکی تھی۔ وہ خود پر سے اختیار اور کنٹرول کھو رہا تھا اس نازک جان کے معاملے میں۔ اب کی بار اس نے مایا وش کی گھنے سیاہ لمبے بال اٹھا کر اپنے سینے پر پھیلا لیے تھے۔

کوئین جانتی ہیں آپ، کہ آپ کے بالوں اور آنکھوں کا رنگ سیاہ نہیں ہے،، آبدار نے اس کے بالوں کو اپنے چہرے پر گرا کر پوچھا تھا۔
جج،،، جانتی ہوں،،، مایا وش نے بمشکل کہا۔ وہ اب اپنے بالوں کی وجہ سے پریشان تھی۔ جن سے اب وہ کھیلنے میں مصروف تھا۔
ہممم یہ جب تک سیاہ ہیں جب تک آپ اس وچ کی قید میں ہیں،، مگر میں جلد آپ کو رہا کروا لوں گا،،چاہے اس سب میں میری جان ہی کیوں نا چلی جائے،، آئی پرامس،،،،
آبدار نے کہتے اسے پھر چھونا چاہا تھا جب وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی۔ چہرہ طیش و اشتعال سے لال بھبھوکا ہو چکا تھا اور آنکھیں لال انگارا۔
آبدار نے حیرت سے اسے دیکھا جو اب تک تو بلکل ٹھیک تھی اب ایسا کیا ہو گیا تھا یا اس نے ایسا کیا بول دیا تھا جو وہ یوں بھڑکی تھی۔

آپ جائیے یہاں سے،، ابھی کہ ابھی،، مایا وش نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ وہ اپنے لب کاٹ کر جانے کیا برداشت کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
مگر کوئین،،
میں نے کہا جائیں یہاں سے،، مایا وش اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھی۔
لیکن ہوا کیا،، وہ کہتا اٹھکر اس کی جانب آیا تھا جب وہ تیزی سے پیچھے ہٹی۔
کچھ نہیں ہوا،، بس آپ جائیں یہاں سے،، نہیں تو میں اپنے آپ کو نقصان پہنچا گی،،
مایا وش نے اپنی تلوار اپنی کلائی پر رکھی تھی۔
آبدار کو ایک پل نا لگا ایگریسو مونسٹر بنتے تبھی ماتھے کی تیوری چڑھی تھی۔
یہ کیا پاگل پن ہے وش،، آبدار نے تیز لہجے میں کیا تھا۔
جائیں یہاں سے،،
اس کی ایک ہی تکرار پر آبدار نے بےبسی سے اسے دیکھا۔ پانی میں تحلیل ہوا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ مایا وش زمین پر بیٹھ کر تڑپ تڑپ کر روئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ چھپ چھپا کر رائل پیلس سے نکلی تھی۔ رات کے گہری تاریکی ہر طرف چھائی تھی۔ ایسے میں اسے باہر نکلتے خوف بھی محسوس ہو رہا تھا۔ مگر جانا ضروری تھا کہ روزیلہ کو پیغام موصول ہوا تھا کہ اس کے لئے کوئی پیغام آیا ہے۔ اسی لئے اسے نکلنا ہی پڑا۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی بدنصیبی اس کے تعاقب میں ہے۔ عائش نے اپنے روم کی ونڈو سے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔ وہ تو پہلے ہی اس پر شک کر رہا تھا۔ پاگل نہیں تھا اپنے ڈیڈ کو آب کو اشارہ کرتے بھی دیکھ چکا تھا تبھی چہرے پر خطرناک تاثرات لئے وہ فوراً روم سے باہر نکلا تھا۔ اور اب پانی میں تحلیل ہوا اس کے تعاقب میں تھا۔

وہ رائل پیلس سے نکل کر تیزی سے چلتی اپنے ہٹ کی جانب گئی تھی جو کہ سمندر کی لہروں پر ہی بنا ہوا تھا۔ لکڑی سے بنایا گیا چھوٹا سا ہٹ ساحل سمندر پر بنا ہوا تھا جس کے نیچے پانی کی لہریں گزرتی تھیں۔ وہ ہٹ تک پہنچی۔ ہٹ میں داخل ہوئی۔

تاشہ کے بھیجے گئے پہرے دار اس کی تعظیم میں جھکے تھے۔
کیسی ہیں پرنسز،،
میں ٹھیک ہوں،، کیا پیغام تھا؟ وہ بے چینی سے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی بولی۔

ہمیں نہیں دیا پیغام کوئین تاشہ نے، بلکہ وہ خود اپنی بیٹی سے ملنے آئی ہیں،، چلیں ہمارے ساتھ،، وہ بول کر ہٹ کا دروازہ کھول کر پانی میں اترے تھے۔
جبکہ عائش وہیں جیسے پتھر کا بن چکا تھا۔ سر پر آسمان گرا تھا۔ حیرت و صدمے سے اس چہرے کی معصومیت کو دیکھا جس نے شروع دن سے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ جس نے اس کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کیا تھا مگر وہ تو سراسر دھوکہ اور فریب تھا۔ اصلی روز تو اب اس کے سامنے تھی۔

وہ خاموشی سے ان کا تعاقب کرتا رہا تھا۔ کچھ ہی دور جا کر وہ تینوں پانی کی گہرائی میں اترے تھے۔ عائش بھی پانی کے ساتھ پانی بنا ان کے پیچھے گیا تھا۔
سامنے ہی تاشہ بڑی وہیل مچھلی پر سوار اس کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ لپک کر اس کی جانب بڑھی۔
ماں کو دیکھ کر روز کے چہرہ بلکل کسی تاثر سے عاری سپاٹ سا تھا۔ جبکہ تاشہ نے آگے بڑھ کر اسے سینے میں بھینچا تھا۔

میری بچی،، میں نے اپنی پرنسز کو بہت یاد کیا،، تاشہ نے اس کا چہرہ چوما تھا۔ مگر وہ جانتی تھی یہ سب دکھاوا تھا جھوٹ تھا۔
آپ کو کچھ کہنا تھا،، روزیلہ نے سپاٹ سے لہجے میں پوچھا۔
ہاں،، میں نے سنا کہ ایلا کے بیٹے مل گئے تمھیں،، تمھیں یہ پتہ چلا کہ ان میں سے اوشن کنگ کون ہے،،
نہیں ماں،، مجھے ابھی یہ معلوم نہیں ہوا،، روزیلہ کا دل کیا اپنی ماں کی اس قدر بے حسی پر دھاڑیں مار مار کر روئے جس نے ایک بار بھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ کس حال میں تھی اور انسانوں کی دنیا میں کیسے رہ رہی تھی۔ بس اسے تو اوشیانہ کے تخت کی پڑی تھی۔

جلد از جلد پتا کرو روزیلہ،، وقت نہیں میرے پاس،، پتہ کر کے اسے اپنے حسن کے جال میں پھنساؤ،، اور دوسرے کو میرا دیا گیا زہر دے دینا،، اپنا مقصد جلد پورا کرو جس کے لئے میں نے تمھیں ان کے پاس بھیجا تھا،،
تاشہ کا لہجہ شہد میں ڈوبا ہوا تھا مگر آنکھوں میں خباثت تھی۔

میں جلد کوشش کروں گی،، روزیلہ نے اپنی جان چھڑانے کو ماں کی ہاں میں ہاں ملائی۔ جانتی جو تھی اس کی بےحس ماں پر کسی چیز کا اثر نہیں ہونے والا تھا۔ نا اس کے منتوں کا نا کسی فریاد کا۔
اووو، میری پیاری بیٹی،، مجھے فخر ہے تم پر،، اب میں چلتی ہوں،، اپنا کام احتیاط سے کرنا،،
وہ اس کا منہ چوم کر چلی گئی۔

روزیلہ نے سرد سی سانس بھری۔تیر کر ہٹ میں جانے کی بجائے رخ رائیل پیلس کی جانب تھا۔ وہ جلدی سے گلاس وال کے نیچے سے رائیل پیلس کے پول میں داخل ہوئی۔ آہستگی سے پول سے نکل کر اب اس کا رخ پورچ سے گزر کر بیک سائیڈ کی جانب بنے اپنے کمرے کی طرف تھا۔
عائش کی نگاہوں سے شعلے سے لپک رہے تھے۔ اور روزیلہ کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی موت اس کے بلکل پیچھے ہے۔

ایک کار کے پاس سے گزرتے بہت اچانک اسے کسی نے دبوچ کر اس کے ہاتھ کمر پر باندھ کر اس کا چہرہ کار کی بونٹ سے لگایا تھا۔ اس نے چلانے کو منہ کھولا تھا مگر عائش نے اس کا سکارف گلے سے نکال کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا تھا۔ وہ بری طرح مچلی مگر عائش نے اپنی بلیٹ نکال کر اس کے ہاتھ بھی باندھ دئیے تھے۔ تیزی سے کار کے پچھلی جانب کا دروازہ کھول کر عائش نے اسے اندر دھکیلا تھا۔ پیچھے ہٹتے وقت اس کے گلے سے وہ لاکٹ نوچنا نہیں بھولا تھا۔

دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔ روزیلہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اور جس طرح کے سامنے والے کے تیور تھے وہ جان چکی تھی کہ وہ سب کچھ جان گیا ہوگا۔ اور اس کا پیچھا بھی کیا ہوگا۔ اور اب اس کے جس طرح کا جارحانہ عزائم تھے روزیلہ کو اپنا دل گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔

وہ جھٹکے سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اور تیزی سے وہاں سے گاڑی نکالی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ڈریگن لینڈ اور اس کے لوگوں میں ایک ان دیکھی بے چینی اور اداسی سی پھیلی تھی۔
ادھر خواب گاہ میں وشہ نے رو رو کر اور چلا چلا کر برا حال کیا ہوا تھا۔

راج اسے بتائے بغیر تین چار دن سے جانے کہاں غّائب تھا۔ اور مرر میں گرینڈ فادر بھی نہیں آئے تھے کوئی اطلاع دینے کوئی خبر دینے۔ وہ جانتی تھی ضرور کوئی بات ہے جو اس سے چھپائی جا رہی ہے۔ تبھی اب وہ پریشان ہو رہی تھی۔

راج کو مرر سے اپنی بچی کی حالت دکھائی دی تھی۔ ایک مرتبہ اسے کوئی نقاب پوش اٹھا کر لے جا رہا تھا اور دوسری مرتبہ تب جب اسے کوئی زہر پلایا جا رہا تھا۔ اور وہ تکلیف سے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔ راج نے اپنی سر توڑ کوشش کی تھی ماہا ویرا کو ڈھونڈنے کی ۔ ڈریگن لینڈ اور فیری ٹوپیا میں ہر جگہ۔ مگر وہ نہیں ملی تب اسے پتہ چلا تھا کہ کنگ ویام ان سے بے تحاشا نفرت کرتا ہے
کیوں؟ وہ ساری وجوہات بھی معلوم ہوئیں۔ مگر وہ جانتا تھا یہ سب اس خبیث چڑیل بلیک وچ کی ہی سازش ہوگی۔ وہ فیری ٹوپیا میں ویام سے بات کرنے گیا تھا۔ مگر اس نے اس سے ملنے سے صاف انکار کر دیا۔ بلکہ وہ خود فیری ٹوپیا موجود ہی نہیں تھا جس سے یہ روشن امکان تھا۔ کہ ہو سکتا ہے ماہا ویرا کنگ ویام کے پاس ہو۔

وہ ماہا ویرا کو ڈھونڈنے میں اپنی جان توڑ کوششیں کر رہا تھا۔ جب اسے گرینڈ فادر کا میسج موصول ہوا کہ وہ اس سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ فورا ڈریگن لینڈ لوٹ آئے۔ تبھی وہ لوٹ آیا تھا۔ اس ڈریگن کنگ کا تو جسیے کسی نے کلیجہ ہی نوچ لیا تھا۔ تبھی وہ زخمی بنا دھاڑتا پھرتا تھا۔
وشہ سے ملنے سے پہلے وہ مخصوص کمرے میں مرر کے سامنے آیا تھا۔
یس گرینڈ فادر،، راج نے دکھ بھرے لہجے میں کہا تھا۔
اچھی خبر ہے راج،، خوش ہو جاؤ،، ڈریگن لینڈ کی اگلی کوئین کو اس کا کنگ مل گیا ہے،، مگر وہ بے خبر ہے،، جاؤ اسے راستہ دکھاؤ،،
گرینڈ فادر کی بات پر راج نے حیرت سے انھیں دیکھا۔
میں تمھاری بڑی بیٹی مایا وش کی بات کر رہا ہوں راج،،
گرینڈ فادر نے کہا تو راج کی آنکھوں میں چمک سی آئی۔
گرینڈ فادر آپ کو معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے تو ہمیں بتایا کیوں نہیں،، راج کا صدمے کے مارے برا حال ہوا۔
کیسی باتیں کرتے ہو راج، اگر معلوم ہوتا تو بتا نا دیتا،، مگر اب کچھ ایسا ہوا ہے کہ ڈریگن لینڈ سے پرنسز کی تلوار غائب ہو کر اسے ملی ہے، جس کا یہی مطلب یہی اشارہ ہے کہ اس کا کنگ اسے ملا ہے اور اس تلوار کے زریعے میں اس تک پہنچا، مگر ابھی وہ بلیک وچ اور سامر کے ایسے کالے جادو کے زیرِ اثر ہے کہ نا ہم اس سے مل سکتے ہیں،، نا وہ ڈریگن لینڈ آ سکتی ہے،، ہاں مگر اسے اس سب سے نجات کا طریقہ ضرور بتایا جا سکتا ہے،، گرینڈ فادرنے تفصیل بتائی۔

کیسا طریقہ گرینڈ فادر،، راج نے پوچھا۔
اسے اور اس کے کنگ کو سفید روشنی سے بنی تلوار بنانی پڑے گی،،
پھر گرینڈ فادر نے راج کو تمام تفصیل بتائی تھی۔ وہ بغور سنتا رہا۔ اتنے دنوں بعد کچھ سکون سا آیا۔
گرینڈ فادر ماہا ویرا،، راج نے سر جھکا کر کہا۔
اس کی بھی فکر مت کرو راج،، وہ بھی مل جائے گی، وہ سہی سلامت ہے، پریشان مت ہو کیونکہ میں وہ دیکھ پا رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ پا رہے،، ٹھیک ہے ناں،، گرینڈ فادر نے کہا مگر وہ مطمئن نہیں تھا۔
مگر وہ بہت تکلیف میں نظر آتی ہے گرینڈ فادر،، راج نے بے بسی سے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔

نہیں وہ ٹھیک ہے جاؤ، کوئین سے ملو، اسے مطمئین کرو اور پھر جیسا کہا زمین پر جا کر بلکل ویسا کرو،،
جو حکم گرینڈ فادر،، وہ جھکا۔ مرر سے ہیولہ غائب ہوا۔ وہ جلدی سے وشہ سے ملنے کو خواب گاہ کی جانب گیا۔ کیونکہ اس کے پاس وقت نہیں تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️