Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

ماہا ویرا ڈریگن لینڈ آئی تھی۔ راج کو اس کی اطلاع مل چکی تھی۔ تبھی وہ اور وشہ بلیک ہول کے سامنے اس کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ جب اس میں سے ماہا ویرا آتی دکھائی دی۔

وہ تیزی سے آ کر کر اپنے بابا کے سینے سے لپٹی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

راج نے اس کی کمر سہلائی۔ وہ وشہ کے سینے سے لپٹی۔
راج نے اسے بغور دیکھا۔ جو مکمل طور پر بدلی بدلی لگ رہی تھی۔
کیسی کے رنگ میں رنگی۔
کسی کی محبت خود پر اوڑھے۔
بلکل پرائی۔

راج اس کے قریب آیا اور اپنے جگر کے ٹکڑے کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔

میری پرنسز کب اتنی بڑی ہو گئی مجھے تو پتہ ہی نا چلا،،، بلکہ نہیں اب یہ میری چھوٹی سی پرنسز کہاں رہی ،،اب تو یہ ایک کوئین بن چکی ہے تبھی اتنے بڑے بڑے کام کرتی پھر رہی ہے،، ہے ناں،،،
راج نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

ڈیڈ ،،، مجھے ،،،،مجھے ڈریگن بننا ہے اور اس غدار کر جلا کر بھسم کرنا ہے،،، جس کی وجہ سے آپ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی فیری ٹوپیا کے لوگوں کی نگاہوں میں اتنے برس گناہگار بنے رہے،،،
ماہا ویرا نے راج کو کہا تو راج نے ماہا ویرا کا ہاتھ تھاما اور اسے محل کی جانب لے کر گیا۔

جہاں وہ وقتی طور پر اذلان اور ایلا کو بھی لے آئے تھے۔ راج کو تمام صورت حال کا علم ہو چکا تھا ۔ کہ اینچینٹرس اسے ایک پیغام کے ذریعے تمام تفصیلات بتا چکی تھی۔ جس میں واضح یہ لکھا تھا کہ راج کو خود سے جڑے ہر وجود کی حفاظت کرنا ہوگی۔

کیونکہ سامر سب کو ختم کرنے کا ارادا رکھتا ہے تبھی راج نے یہ قدم اٹھایا تھا۔ کہ ازلان اور ایلا ، جمی اور اس کی بیوی سارا کو بھی ڈریگن لینڈ اپنے محل میں لگ آیا تھا۔

ایلا نے عائش اور روز کی وجہ سے رو رو کر اپنا بہت برا حال کر رکھا تھا۔ مگر ازلان نگ اسے یہ بول کر تسلی دے رکھی تھی کہ آب سب کچھ سنبھال لے گا۔

اور اب بس بے صبری سے انتظار تھا تو مایا وش اور اوشن کنگ کا۔
وہ کب سوارڈ لگ کر وہاں آتے اور اس شیطان کا سر قلم کرتے۔
مگر راج کو کیا معلوم تھا کہ ابھی کافی امتحان آنا باقی تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مایا وش مسہری پر تکیے سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے نیم دراز تھی۔ اپنے دونوں ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھے ہوئے تھے۔

محض چند گھنٹے،
محض چند گھنٹوں میں اسے اپنے اندر ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کے بارے میں علم ہو چکا تھا۔ وہ اوشن کنگ تھا۔ جس کی اولاد بے پناہ پراسرار طاقتوں کی مالک اب اس کی کوکھ میں تھی۔ یہ بہت جلدی تھا۔ مگر اسے معلوم تھا ایک مرمیڈ کی اولاد ہونے کی وجہ سے وہ بہت جلد اپنے پرنس یا پرنسز کو جنم دے دے گی۔

اور خود میں ہونے والی اس تبدیلی کی وجہ سے مایا وش خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہی تھی۔

آبدار باہر سے اندر آیا تھا۔ وہ لوگ اوشیانہ میں تھے۔ اور آبدار اپنی پاورز کی بدولت اپنے لوگوں کے جلد از جلد بہت کچھ کر کے آ رہا تھا۔ کہ تاشہ نے بہت مظالم ڈھائے تھے ان پر۔

اب جبکہ وہ اندر آیا تھا تو اس کے چہرے پر فکر کے سائے تھے۔ مایا وش نے آہٹ پر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

آب،،، مایا وش نے اسے پکارا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جسے اس نے جلدی سے تھام لیا۔
کوئین ہمیں جلدی سے نکلنا ہے یہاں سے،،، ہمارے اپنوں کو ہماری ضرورت ہے،، روز کے بارے میں میں نے سب بتایا تھا آپ کو وہ اور عائش تاشہ کے قبضے میں ہیں،،،وہ سامر اور کائلہ فیری ٹوپیا پہنچ چکے ہیں،، اور ڈریگن لینڈ اور فیری ٹوپیا پر بھی خطرے منڈلا رہے ہیں تو ہمیں جانا ہوگا،،،،

آبدار نے جلدی جلدی اسے تفصیلات بتائیں۔ مایا وش مسہری سے نیچے اتری۔

مگر آب ہمیں تو اوشن سے سورج کی پہلی کرن سے بنا جادوئی موتی لانا ہے ناں،، اس کے بغیر سوارڈ مکمل نہیں ہوگی،، وہ مکمل نہیں ہوئی تو ہم کیسے مقابلہ کر پائے گے سامر کا،،،

مایا وش نے اس کے ہاتھ تھامتے کہا۔
تو اب،،، مجھے ڈر ہے کہ وہ تاشہ زخمی عائش کو کوئی نقصان نا پہنچا دے،،،

تو ٹھیک ہے آپ عائش اور روز کو بچانے جائیں گے،،اور میں وہ موتی لاؤں گی،،،
مایا وش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا۔

امپاسبل،،،،، وہ موتی مْردوں کی گھاٹی کے اس پار بحر مردار کے بیچ و بیچ ہے،، مردوں کی گھاٹی اور مردار کا مطلب سمجھتی ہیں کوئین،، کہ وہاں سے کوئی بھی زندہ لوٹ کر نہیں آتا،، تو میں اکیلے کیسے جانے دوں آپ کو ادھر،،،

آبدار نے ایگریسو ہوتے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بے بھرا تھا۔

میں اکیلی کہاں ہوں آب،، کوئی ہے میرے ساتھ،،
مایا وش نے نگاہیں جھکا کر کہا۔

کون،،،، آبدار نے حیرت سے اسے دیکھا۔

آپ کا سایہ،، یا آپ کے ہی وجود کا ایک حصہ،،، یہ دیکھیں مجھے کیا ملا،،، اور اس کے ملنے کا مطلب سمجھتے ہیں آپ ،،یہ دیکھیں،،
مایا وش نے اس کے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ہٹایا اور پیچھے ہوئی۔ اپنی آنکھیں بند کیں۔

آبدار نے ایک حیرت انگیز نظارہ دیکھا۔ مایا وش کی ٹانگیں غائب ہوئیں تھیں۔ اور ان کی جگہ ایک سات رنگی پونچھ نے لے لی۔

اس کا مطلب تھا کہ وہ اوشن کنگ کے وجود کا آدھا حصہ بن چکی ہے۔ جس کا مطلب تھا۔ اس کی رگوں میں اوشن کنگ کی محبت خون بن کر سرائیت کر چکی ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اس کی کوکھ میں اوشن کنگ کی اولاد پل رہی ہے۔

آبدار کے ہاتھ تو جیسے ہفت اقلیم کا خزانہ لگ گیا تھا۔ سر خوشی سے اسے بازوؤں میں بھر لیا۔
کوئین،،، اسے اپنے سینے سے میں بھینچا۔

اب تو میں آپ کو بلکل بھی کہیں نہیں جانے دے سکتا کوئین،،، مجھے خیال رکھنا ہوگا آپ کا ،،آپ ایسے کیسے،،

اششش ،،، اششششش آب چپ کریں،،، بلکل چپ،،،، مایا وش نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا۔
آپ اچھی طرح جانتے ہیں آب،،، اب دنیا کی کوئی بری طاقت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی،،کیونکہ یہ ہے میرے ساتھ،، تو بلکل بے فکر ہو جائیں،، یا تو مجھے وہ موتی لانے دیں،،یا عائش اور روز کو بچانے دیں،،

اس نے آبدار کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا۔ پھر ہی ہم ڈریگن لینڈ چلیں گے،، سوارڈ لے کر اور عائش اور روز کا مما بابا کے پاس لے کر،، مجھے اپنے مما بابا سے ملنا ہے آب جلد از جلد،، میں اب اور دور نہیں رہ پاؤں گی ان سے،،،
مایا وش نے بھرائی آواز میں کہا تھا۔

تو ٹھیک ہے کوئین،، آپ عائش اور روز کو بچائیں گی،، اور وہ موتی میں لاؤں گا،،
آبدار نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

اور یہ ہمیں جلدی کرنا ہوگا،،، مایا وش آب کے گلے لگی۔

یہ رکھیں کوئین،،،
آبدار نے مایا وش کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی سٹار فش تھمائی۔۔
یہ آپ کو آب تک لے کر جائے گی،،
آبدار نے اس کا چہرہ تھاما اور پورے چہرے پر اپنی محبت کی میر ثبت کی۔
مایا وش ہلکا سا مسکرائی۔
اور جلدی سے ان ہونٹوں پر ہلکی سی جسارت کر کے پیچھے ہٹی۔

اپنا خیال رکھیے گا،، میرے لیے اور اس کے لیے،، مایا وش نے اپنی جانب اشارہ کیا۔ آبدار نے اسے حسرت سے دیکھا۔
دونوں ایک ساتھ محل سے باہر نکلے اور اپنے اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

راج نے ماہا ویرا کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کر رکھے تھے۔ اور وہ جی کڑا کر کے اس آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔

مجھے معلوم ہے میری پرنسز بہت بہت بریو ہے،،،
راج نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔
ماہا ویرا نے اپنے ڈیڈ کی جانب دیکھ کر سر اثبات میں ہلایا۔

اگر کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوئی تو اپنے لباس پر لگے اس کرسٹل کو رب کر دینا،، اور باقی جو میں نے سمجھایا ہے بلکل ویسا کرنا،، اوکے،،،

ماہا ویرا نے ایک مرتبہ پھر اثبات میں سر ہلایا ور اس مرر کی جانب اب بے خوفی سے بڑھ گئی۔ وہ دوسرے مرر سے باہر نکلی تو فیری ٹوپیا کے محل کے شاہی گارڈن میں تھی۔

وہ چند قدم ہی آگے چلی تھی کہ حسب توقع وہ اس کے انتظار میں اسی رائیل گارڈن میں ہی چکراتی پھر رہی تھی۔
ایما چانک اس کے سامنے آئی تھی۔

پرنسز ،،تم آ گئیں،، چلو میرے ساتھ ،، میں تمھیں ایک ایسے آدمی کے پاس لے کر جاؤں گی جو تمھارے ہر مقصد کو پورا کرنے میں تمھاری مدد کرے گا،،

رئیلی،،،مگر تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤ گی،، وہ بھی سب سچ ،، اور تمھارا مقصد،، ہر بات،، مجھے یقین ہے تم مجھے مطمئین کرو گی تو ہی میں تم پر اعتبار و بھروسہ کرتے تمھارے ساتھ چلوں گی،،،،

ماہا ویرا نے سکون سے کہا۔ اور ادھر ہی ایک بڑے پھول پر سکون سے بیٹھ گئی۔ ایما بھج اس کے سامنے براجمان ہوگئی۔

میں شروع دن سے کنگ ویام سے اور اس کے خاندان سے نفرت کرتی ہوں،، اس کے باپ نے محض چند غلطیوں کی وجہ سے میرا پورا خاندان تباہ کر دیا،، اسی لئے میں نے ان سلطنتوں کے سب سے بڑے دشمن سامر اور بلیک وچ سے ہاتھ ملا لیا،، جس نے ویام کے پورے خاندان کو ختم کیا وہ کنگ راج اور کوئین مایا وش نہیں تھے بلکہ بلیک وچ اور سامر تھے،، معاف کرنا انکی وجہ سے تمھارے ماں باپ بدنام ہوئے،، مگر اس کنگ ویام نے کیا کیا بغیر کسی تصدیق کے تمھارے ماں باپ کو مجرم ٹھہراتا رہا،،، اور سزا تمھیں دی،، اسی لئے میں نے ہر چیز کا بدلہ لیا اس سے،، اس سامر کو میں ہی یہاں لے کر آئی،، اور فیری ٹوپیا کا پانی اور ہوا میں نے ہی زہر آلود کی،،،،

ایما اپنی مکرہ کہانی گڑھ کر پل بھر کو خاموش ہوئی تو ماہا ویرا تمسخرانہ سا ہنسی۔

اور تمھیں لگتا ہے کہ میں اتنی بیوقوف ہوں کہ تم اپنے منہ سے مجھے میرے ماں باپ کو پھنسانے کی بات کرو اور تب بھی میں تم جیسی غدار پر بھروسہ کروں گی،، تم لوگوں نے میرے ماں باپ کو اس لیے پھنسایا کہ تم لوگ کنگ راج کے دشمن بڑھا کر اسے کمزور کرنا چاہتے تھے بس،، مگر افسوس ایسا ہو نہیں پایا،،، مجھے زہر دلانے والی بھی تم ہی تھیں،،، اور اب تم میرے سامنے بیٹھ کر مجھے اپنی غداری کی کہانی سنا رہی ہو ،، مگر افسوس اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاؤ گی،،،،

ماہا ویرا شدید طیش اور غصے میں غرائی تھی۔ اسی طیش میں اس نے مخصوص منتر پڑھا تھا اور وہ ڈریگن میں بدل گئی۔

ایما نے تمسخرانہ سا اس ڈریگن کو دیکھا۔

اے پرنسز،، تمھیں تو میں اس سامر کی باندی بناؤ گی زندگی بھر کے لیے،، ایک شیطان کے جی بہلانے کا سامان،،، اب ساتھ چلتی ہو کہ گلے میں پٹا ڈال کر لے کر جاؤں بےبی ڈریگن،،،،،،،،
وہ اپنی اوقات پر آتی انتہائی حقارت سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

کنگ ویام جو جو کہ اپنی خواب گاہ میں لیٹا تھا اس کے دل نے بار بار گواہی دی تھی کہ وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے۔ اور ایسا کچھ نہیں کر سکتی۔

کچھ دیر بعد اس بات کی تصدیق بھی ہو گئی۔
ماہا ویرا نے ایک خاص طریقہ سے اینچینٹرس کو رائیل گارڈن میں بلایا تھا۔
آج پہلی مرتبہ ویام کے اندر سے آواز آئی تھی۔ وہ اسے رائیل گارڈن بلا رہی تھی۔ اس نے راستہ بھی بتایا کہ کس راستے سے جانا ہے۔

کنگ ویام اور اینچینٹرس چپکے سے گارڈن کی جانب گئے تھے۔ اور پھر جو انھوں نے دیکھا اور سنا وہ ناقابلِ یقین تھا۔

گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا آیا تھا اب تک۔ اور یہ طاقتیں یقیناً اسے اس شیطان کی مہیا کردہ تھیں جو اب تک اینچینٹرس بھی اس تک اتنے سالوں میں نہیں پہنچ پائی تھی۔ کنگ ویام دم بخود صدمے سے گنگ اپنی جگہ جم چکا تھا۔

ایما کی بکواس پر ماہا ویرا غم وغصے سے پاگل ہوئی تھی۔ جو ایک فیری ٹوپیا کوئین اور ڈریگن لینڈ پرنسز کو بڑی حقارت سے بےبی ڈریگن بولی رہی تھی ۔ وہ اپنے پیچھے سے اپنی میجک سٹک نکال کر یقیناً اپنے کسی مکرہ عزم کی تکمیل چاہتی تھی۔

مگر اس سے پہلے ہی کوئی بھی موقع دئیے بغیر بڑے جلالی انداز میں ماہا ویرا نے اپنی پوری طاقت لگا کر اس پر آگ اگلی تھی۔

اسے سوچنے کا موقع تک نا ملا اور اس غدار کی دلخراش چیخیں پورے محل میں گونجیں تھیں۔ کچھ دیر ہی لگی جب وہ غدار ایک ڈریگن کوئین سے الجھ کر اپنے منتقی عبرتناک انجام کو پہنچ چکی تھی۔ بہت جلد اس کی جگہ ایک راکھ کا ڈھیر پڑا تھا وہاں۔

وہ کام کر چکی تو ماہا ویرا بہت اوپر اڑی تھی۔ اور اس زہر کا اثر زائل کرنے کو جو کنگ راج نے سفوف دیا تھا وہ ہوا اور پانی ہر جگہ چھڑک دیا۔

یہ بھی کر چکی تو وہ رائل گارڈن میں کنگ ویام کے سامنے انسانی روپ میں اتری تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

یہ ایک جزیرہ تھا۔ جہاں روز عائش کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔

عائش،،، پلیز خدا کے لیے آنکھیں کھولیں،،،
وہ بری طرح روتی اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔ روز نے اپنی پاورز سے عائش کے زخم ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ صد شکر کے وہ زیادہ گہرے نہیں تھے۔ وہ آکٹوپس انھیں یہاں پھینک گئے تھے۔ جہاں جزیرے کے درمیان ایک بڑا سا شیشے کا واٹر ٹینک پڑا تھا۔

جس کا مطلب تھا کہ اگر انھیں انسان بننے میں دقت ہے تو وہ اس ٹینک میں تو جا سکتے ہیں مگر سمندر میں نہیں اتر سکتے۔

انھیں سمندر کی جانب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ آکٹوپس ساحل سمندر پر کڑا پہرہ دے رہے تھے۔
شاید تاشہ اب سمندر میں تھی۔

جب عائش نے دھیرے دھیرے سے آنکھوں کھولیں تو روز کو اپنے سینے پر سر رکھے بہت بری طرح روتے دیکھا۔ وہ ہمت کر کے ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوا۔

وہ جو رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ اس کے حرکت کرنے پر بوکھلا کر اٹھی۔ عائش نے اس کو دیکھا جو متوحش سی اسے کھونے کے ڈر سے بال بکھرائے، سرخ ناک سوجی متورم آنکھیں لیے عائش کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے بیٹھی تھی۔

عائش آپ ٹھیک تو ہیں ناں،، آپ کو کچھ ہوا تو نہیں ناں،، اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں جی نہیں پاتی مر جاتی عائش،،، میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی،،،

وہ اس کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روتی اتنا خوبصورت اظہار کر گئی کہ عائش کے تکلیف سے چور زخموں اور جسم و جاں کو جیسے کسی نے راحت پہنچائی تھی۔ اتنی تکلیف میں بھی وہ گہرا مسکرا دیا تھا۔

فکر مت کرو روز بےبی،،، اپنی گولڈن نائٹ منائے بغیر یا تمھاری روح میں اترے بغیر کہیں نہیں جاؤں گا اور نا مجھے کچھ ہو سکتا ہے،،،،،
وہ دانتوں تلے لب دبا کر شرارت سے بولا۔

روز نے حیرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا جو اتنی سیریس سچویشن میں بھی اپنی ہانکنے سے باز نہیں آیا تھا۔

اس نے اس کے کندھے پر ایک مکا جڑا۔
عائش بہت ہی کوئی گندے انسان ہیں آپ،، روز نے جھلا کر کہا۔

آں ہاں،،، انسان نہیں ہوں اس چھوٹی سی جل پری کا جل پری زاد ہوں،،
عائش نے اس کی چھوٹی سی ناک کھینچی۔ وہ اس کا دھیان بٹانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

مگر خود متفکر تھا یہ سوچ کر کے وہ لوگ یہاں سے کیسے نکلیں گے۔ اسے چوٹ لگی تھی۔ وہ کمزور پڑ چکا تھا۔وہ سامنے سے وار کرتی تو وہ مقابلہ کرتا۔مگر اس بزدل نے تو پیٹھ پر وار کیا تھا کہ وہ اپنا بچاؤ بھی نا کر پایا۔ مگر دل میں کہیں یہ بھی پختہ امید تھی کہ آب انھیں ڈھونڈ نکلے گا۔ اور اس تاشہ کے چنگل سے بچا لے جائے گا انھیں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اینچینٹرس نے فرطِ جذبات میں اسے سینے میں بھینچ رکھا تھا۔

مجھے معلوم تھا کوئین،، کہ آپ فیری ٹوپیا کی کوئین ہونے کے ناطے اپنا فرض ضرور پورا کریں گی،،، مجھے آپ پر ناز ہے،،،
اینچینٹرس نے کہا تو ماہا ویرا مسکرا دی۔

دیکھے بغیر ہی اپنا وجود کسی کی پرتپش نگاہوں کے حصار میں مقید سا ہوتا محسوس ہوا۔ پر دقت تو یہ کہ وہ بس خاموشی سے کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر بس اسے دیکھے جا رہا تھا۔

فیری ٹوپیا کے لوگ جو اب بلکل صحت یاب تھے اس کے ارد گرد اکٹھے ہونا شروع ہو چکے تھے۔

چلئیے کوئین آپ کا محل آپ کا انتظار کر رہا ہے،،، اینچینٹرس نے ماہا ویرا کا ہاتھ تھاما اور اسے محل کی جانب لے گئی۔ وہ جہاں جہاں سے گزر رہے تھے لوگ عقیدت اور شکریہ کے طور پر اس کے شاہی لباس کی پوشاک چوم رہے تھے۔

وہ محل میں آئے۔ دونوں تخت پر بیٹھے۔ پریاں اس کے لیے پھول اور تحائف کا رہیں تھیں۔ جسے وہ ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیے جا رہی تھی۔

کوئین خواب گاہ میں چلیں مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے،،،
ویام نے سنجیدگی سے مگر بہت غیر معمولی لہجے میں اپنے دل میں کہا جو ماہا ویرا کو اچھے سے سنائی دے گیا۔ ماہا ویرا کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔
وہ یوں بن گئی جیسے کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔

کوئین میں نے کچھ کہا ہے آپ سے،،، ماہا ویرا کو پھر اپنے اندر سے بھاری بوجھل آواز سنائی دی تو وہ جان بوجھ کر ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی جانب متوجہ ہو گئی جو اس کی پوشاک پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔

وہ تخت سے اٹھ کر ان کی جانب گئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگی۔ وہ بچے اپنی کوئین کا منہ چوم رہے تھے۔

ادھر کنگ جو کچھ زیادہ ہی بے چین تھا۔ اپنی جگہ سے اٹھا۔
تخلیہ،،،،، ہم کچھ دیر آرام کرنا چاہیں گے،،
وہ اٹھا اور ماہا ویرا کی کلائی تھامے اسے اپنی خواب گاہ کی جانب لایا تھا۔

لوگوں نے کلیپنگ کی تھی۔ ماہا ویرا کا چہرہ شرم و حیا سے سرخ پڑ چکا تھا۔ اس نے اپنے پاگل کنگ کی پیٹھ کو بری طرح گھورا۔

وہ اسے اپنی خواب گاہ میں لایا تھا۔ یہ شاید اسی کا اشارا تھا کہ تمام کھڑیاں اور دروازے اپنے آپ بند ہو چکے تھے۔

کنگ ویام نے اسے اپنے روبرو کیا تھا۔ ماہا ویرا کے بازو ویام کی دہکتی گرفت میں تھے۔
صرف ایک سوال کوئین،،، کیوں کیا یہ سب اور کس کے لیے،،،
اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کا ویام نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔ وہ کیا جاننا چاہتا تھا۔ اسے اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا۔ مگر اس کے منہ سے سننا تھا شاید۔

ماہا ویرا کی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔ اب کیا بولتی۔ جب اس کو مرنے کی بدعا دی تھی اور وہ فوراً تکلیف سے تڑپتا زمین پر گرا تھا بس وہی لمحہ تھا اس پر اپنا دل کھلی کتاب کی طرح عیاں ہوا تھا۔ جس کا خالاصہ یہ تھا کہ ہزار گریز کے بعد بھی وہ بھی اس ظالم ستمگر سے اتنی ہی محبت کرتی تھی جتنی کہ وہ کرتا تھا۔

تبھی اس نے یہ سب کیا۔ مگر اپنے ماں باپ کو بے گناہ ثابت کیے بغیر تو وہ بھی یہ رشتہ کبھی آگے نا بڑھا پاتی۔

چھوڑیں مجھے ویام،، وہ مم میرا فرض تھا ایک کوئین ہونے کی،،،

اششششش ،،، تو آپ نے خود کو کوئین سمجھ کر اپنا یہ فرض نبھایا،، ماہا ویرا مانتی ہیں آپ اپنے آپ کو اس کنگ کی کوئین،،،
بھاری گھمبیرتا سے بھرپور بوجھل آواز ماہا ویرا کی سٹک گم ہوئی تھی تبھی لہجہ لڑکھڑا رہا تھا۔

تت،، تو ظاہر ہے، مم میں یہاں کیوں ہوں،،اسی لئے کہ فیری ٹوپیا کی کوئین ہوں،،،،
ماہا ویرا نے نگاہیں چرا کر بات بدلنے کی کوشش کی۔

میری آنکھوں میں دیکھ کر بولیں یہ سب،،، ویام نے اس کا چہرا دونوں ہاتھوں میں بھرا کر اپنے روبرو کیا تھا۔ ماہا ویرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان نگاہوں کے تقاضے اور ان میں اٹھتے جزبوں کی شورش سے وہ پاگل ہوئی تھی۔

کوئی خوش فہمی پالنے کی کوشش مت کیجئے،، آپ کیا سمجھتے ہیں یہ سب میں نے آپ کے لئے کیا،، بلکل نہیں،، کوئی دلچسپی نہیں مجھے آپ سے،،اور نا ہی میں آپ سے محبت کرتی ہوں،، اس سمجھے آپ،،

وہ بلکل الٹ بولے گئی۔ ویام اس کی بے وقوفی پر گہرا مسکرایا۔

میں نے ایسا تو پوچھا ہی نہیں کوئین کے آپ مجھ محبت کرتی ہیں کہ نہیں،،،
وہ اس کے چہرے کے مزید قریب آیا تھا۔ ماہا ویرا اب بری طرح بوکھلائی تھی۔ کتنا آسان تھا اس ایما کو جلا کر خاکستر کرنا۔
اور کتنا مشکل تھا اس بندے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنا۔

آپ دد،،، دور ہٹیں مجھ سے،، وہ گھبرائی تھی۔ اس کے لمس سے،،اس کی نگاہوں کی لپک سے،، اس کے جزبوں سے،، اس کے جسم و جاں سے پھوٹتے محبت کی روشنی سے،، اپنی کیفیت سے ،، اپنے ٹوٹتے جسم و جاں سے۔

وہ تو اب بلکل ناممکن ہے کوئین،، مجھے صرف اتنا بتائیے،،، مانتی ہیں آپ اپنے آپ کو میری کوئین،،،
ویام نے اس کی کمر کے گرد بازوؤں حمائل کر کے اسے خود میں بھینچا تھا۔

اب دامن بچانا ناممکن تھا۔ اس نے آہستگی سے نگاہیں جھکا کر اثبات میں سر ہلایا۔

تو پھر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے،،،
یہ بول کر ویام نے اس کی گردن میں چہرہ چھپایا تھا۔
ماہا ویرا کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔ جب اس کی جسارتیں بڑھنے لگیں۔

ویام ،،، ماہا نے بے بسی سے اسے پکارا کہ ماہا ویرا کی برداشت سے باہر تھا اس کنگ کو جھیلنا۔ مگر ویام نے اپنی گرفت مضبوط تر کی تھی۔

کسی غیر معمولی احساس کے تحت ویام پیچھے ہٹا تھا۔ محل سے اٹھنے والی کان پھاڑ چیخ وپکار سن کر دونوں کے ہی چہروں سے رنگ اڑے تھے۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے خواب گاہ سے باہر بھاگے تھے۔

وہ دونوں راہداری سے باہر بھاگ رہے تھے۔ جب ایک خنجر ویام کے سینے میں پیوست ہوا تھا۔
ویام،،،،، ماہا ویرا کی دلخراش چیخ بہت دلسوز تھی۔ تڑپ کر ویام کے اوپر جھکنے لگی۔ جب اس کے پیٹ سے کوئی رسی نما چیز لپٹتی محسوس ہوئی۔

کوئین،،،،،،،،
ویام نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ مگر اسے کسی گڑیا کی طرح پیچھے کھینچ لیا گیا۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے ویام۔کی نگاہوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک تاریک سے کمرے میں پایا۔ وہ بیڈ کراؤن سے بندھی ہوئی تھی۔

عجیب بدبودار اور گندی سی جگہ تھی۔ گھپ اندھیرا۔ اور سیاہ کمرے کے بیچ و بیچ بیڈ پر بندھی وہ۔
بری طرح مچلی۔ کوئی منتر کام نہیں کر رہا تھا۔نا وہ ڈریگن بن پا رہی تھی۔

تبھی قدموں کی چاپ پر وہ بری طرح سہمی تھی۔ اور اندھیرے میں گھور گھور کر اس جانب دیکھنے کی کوشش کی جہاں سے چاپ سنائی دے رہی تھی۔

ماہا ویرا کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑ گیا جب اس سفید پتلیوں والے مردے اور آدھے ڈھانچے نما بھیانک کیڑوں زدہ شیطان کو لمحہ با لمحہ اپنے قریب آتے دیکھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️