No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ نازک سی پری دھیمے سروں میں اڑتی فیری ٹاؤن کے حدِ نگاہ بڑے سے پھول میں داخل ہوئی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو تمام فیری گارڈینز نے گھٹنوں پر جھک کر اس کا تعظیماً استقبال کیا تھا۔
آپ کا سواگت ہے اینچینٹرس (گارڈین فیریز کی ملکہ) مگر وہ سب کو نظر انداز کرتی متفکر سی اڑ کر اس ننھی سی جان کے پاس پہنچی تھی جو ہوش وخرد سے بیگانہ ایک پھول پر لیٹا ہوا تھا۔ جس کے سرہانے شاہی وید کھڑا اس کا علاج کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بہت برا ہوا،، بہت ہی برا کیا کنگ راج اور کوئین وشہ نے فیری ٹوپیا کے ساتھ،، سب کچھ تباہ کر دیا اینچینٹرس،، سب برباد ہو گیا،، کچھ بھی نہیں بچا،، جو فیریز بچی ہیں وہ اتنی کمزور ہیں کہ اڑ بھی نہیں پا رہی ہیں،، وہ تو شکر ہے کہ ہم فیری ٹاؤن میں چلے آئے اور انھوں نے ادھر کا رخ نہیں کیا، نہیں تو وہ ہمیں بھی مار ڈالتے،، پرنس ویام کو کنگ نے بچا لیا،، اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر،، ہم اب کسی بھی صورر پرنس ویام کو نہیں کھو سکتے،، انھیں بچانا ہوگا ہمیں محفوظ رکھنا ہوگا، مگر کنگ راج اور کوئین وشہ کو خدا غارت کرے گا،،
فیری گارڈین ایمی نے اینچینٹرس کو تفصیل بتاتے آخر میں نفرت سے کہا تھا۔
اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے ایمی کہ وہ دونوں کنگ راج اور کوئین وشہ ہی تھے،، وہ کوئی بہروپیے بھی تو ہو سکتے ہیں،، اینچینٹرس نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا اور پرنس ویام کے سرہانے بیٹھ کر اس کا سر سہلایا۔
آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے اینچینٹرس،، گارڈین فیریز نے حیرت سے انھیں دیکھتے پوچھا تھا۔
کچھ نہیں ابھی میں وضاحت سے کچھ نہیں بتا سکتی مگر فی الحال آپ سب لوگ پرنس پر توجہ دیں، فیری ٹوپیا کی آخری امید اب یہی ہیں،، یہ زندہ اور سلامت رہیں گے تو فیری ٹوپیا سلامت رہے گا،، یہ بے تحاشا طاقت کے مالک ہیں، اسی لئے کنگ نے انھیں بچانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ ہی فیری ٹوپیا کے اگلے کنگ ہوں گے،،
اینچینٹرس کے یہ کہتے ہی سب فیری گارڈینز اپنے کنگ کی تعظیم میں جھکیں تھیں۔
معاف کیجئے گا اینچینٹرس آپ نے وضاحت سے نہیں بتایا، مگر پرنس ویام تو اپنے خاندان اور لوگوں کی موت کا زمہ دار کنگ راج اور کوئین وشہ کو ہی سمجھتے ہیں ناں،، تو یہ تو ان سے بے تحاشا نفرت کریں گے، اور ان سے کے لئے اپنے دل میں بدلے کے جزبات بھی رکھے گیں،، تو
آپ لوگ اس بارے میں فکر مت کریں،ابھی میرے پاس کوئی ایسا زریعہ نہیں جس سے میں ثابت کر پاؤں کہ یہ ان لوگوں نے نہیں کیا، مگر جلد یا بدیر سب پتہ چل جائے گا، کیونکہ میں وہ دیکھ پا رہی ہوں، جو آپ لوگ نہیں دیکھ سکتے،، اس نفرت کی بیج سے ہی تو محبت کا ایک تناور درخت بنے گا، اسی نفرت کی شروعات سے ہی تو محبت کی ایک لازوال داستان رقم ہو گی فیری ٹوپیا میں،، اور فیری ٹوپیا کو اس کی اگلی کوئین ملے گی،،
اینچینٹرس نے مسکراتے محبت سے پرنس ویام کا سر سہلاتے کہا تھا جیسے وہ یہ سب دیکھ پا رہی تھی۔
پرنس ویام نے آہستگی سے اپنی سحر انگیز خوبصورت آنکھیں کھولیں تھیں۔ چھوٹے سے بچے پر کیا قیامت گزری تھی یہ تو اس کے معصوم چہرے سے عیاں ہوتے کرب و درد سے اندازہ ہو ہی جاتا تھا۔ وہ جھٹکے سے ساتھ کر بیٹھا تھا۔
اینچینٹرس مجھے اپنے مما بابا کے پاس جانا ہے،، وہ مچلا۔ اینچینٹرس نے اسے سختی سے اپنے سینے بھینچا تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اب اپنے کنگ کو سنبھالنا بہت بہت مشکل کام تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ ملائشیا سے واشنگٹن اپنے پیلس میں آئے تھے۔۔
جہاں ظفر جمی اور ماریہ ان سے ملنے آئے تھے۔ جمی کی بھی شادی ہو چکی تھی۔ مگر ابھی وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔
راستے میں ہی وشہ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی جس سے راج کافی پریشان اور ٹینس ہوا تھا۔
وہ سب راج اور وشہ کے روم میں بیٹھے تھے۔
وشہ بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی تھی۔ راج اس کے سرہانے بے چین سا بیٹھا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا۔ راج نے بغور اپنی کوئین کو دیکھا جو سفید پیروں تک کے لباس میں چاندی کی طرح دمک رہی تھی مگر آج چہرہ مرجھایا ہوا سا تھا۔ جس سے وہ کافی پریشان ہوا تھا۔
چھوٹی سی مایا وش وہیں آس پاس ہی کرولنگ کرتی کھیل رہی تھی۔ جمی اور اس کی وائف سیرہ مایا وش کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے
ڈاکٹر آئی تو انھوں نے سب کو باہر جانے کا کہا۔
راج ماریہ ظفر اور جمی دوسرے روم میں چلے آئے۔ سیرہ مایا وش کو لیے باہر لان میں چلی آئی تھی۔ مایا وش کھلکھلا کر سیرہ کے ساتھ کھیل کر ہنس رہی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ دو سیاہ سائے زمین پر اپنے ناپاک ترین ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے واشنگٹن کی سرزمین پر اترے تھے۔ زمین پر آتے ہی انھوں نے انسانی شکل اختیار کی تھی۔ انسانی شکل میں بھی ان کے مکرہ چہروں سے خباثت ہی ٹپک رہی تھی۔
وہ مسٹیریس پیلس سے تھوڑی دور کھڑے تھے۔ مگر اب ایک دوسرے کو راستہ صاف ہونے کا مخصوص اشارہ کرتے پیلس کے قریب تر ہوتے چلے گئے ۔ پچھلے لان کے طویل و دراز گیٹ پر کھڑے ہو کر اندر جھنکا تو ان میں سے ایک سائے کے منہ سے جیسے رال ٹپک تھی۔
سیرہ مایا وش کے ساتھ کھیل میں مصروف تھی۔ کہ اچانک سیرہ جیسے پتھرا سی گئی تھی۔ اور ننھی سی مایا وش کو سیرہ کا چہرہ انتہائی بھیانک نظر آنے لگا تو وہ اونچی اونچی آواز نہیں رونے لگی۔ اور کرول کرتے سیرہ سے دور ہونے لگی۔
مایا وش،،، میری جان،، میری پرنسس،، ادھر آؤ مما کے پاس،،
مایا وش نے مڑ کر دیکھا تو پچھلے لان کے گیٹ کے پاس اسے اپنے مما وشہ اور بابا راج کھڑے دکھائی دئیے۔
ادھر آؤ مما کی جان،، مائی پرنسز،، وش،،، گیٹ پہ کھڑی وشہ نے اسے پیار سے پچکارا تو وہ کرول کرتی ادھر جانے لگی۔
سیرا بے بسی کی انتہا پہ کھڑی اسے حسرت سے گیٹ کی جانب جاتے دیکھ رہی تھی۔ وہ چلانا چاہتی تھی۔ چیخ چیخ کر اندر وشہ کی پریشانی میں الجھے راج کو بتانا چاہتی تھی کہ ان کی گڑیا ق جیسے ساکن ہو گیا تھا۔ وہ چاہ کر بھی ہل نہیں پا رہی تھی بس پتھرائی نگاہوں سے مایا وش کو دور جاتے دیکھ رہی تھی۔ حدِ نگاہ آسمان تک سیاہی سی پھیلی تھی جو کسی بڑی انہونی کے ہونے کا اشارہ تھا۔
ایک حادثہ
ایک مصیبت
ایک ناگہانی آفت
جو اپنے ساتھ سب کچھ اجاڑ کر سب کچھ تباہ و برباد کر کے لے جانے والی تھی۔
مایا وش کرول کرتے وشہ کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اس نے اچک کر مایا وش کو گود میں بھرا۔ کچھ غیر معمولی اور اپنے جسم پر تکلیف ہونے کے احساس سے وہ ننھی سی جان اس کالے سائے کی گود میں گلا پھاڑ پھاڑ کر روئی تھی۔
مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ وہ اپنے عزائم میں کامیابی پر مکروہ قہقہے لگاتے وہاں سے پل بھر میں غائب ہو چکے تھے۔
سیرہ کو ہوش آیا تھا۔ اور اس کی دلخراش چیک پورے پیلس میں گونجی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سنگا پور کے سینٹوسا بیچ پر یہ بہت ہی بڑے ورلڈ کلاس لگژری اور شاندار سے سلطان رائل پیلس کا منظر تھا۔ جہاں ملازمین کی فوج میں ایک غیر معمولی سی ہلچل سی تھی۔
رات ازلان سلطان اپنے چھوٹے چھوٹے بیٹوں کے ہمراہ یہاں پہنچا تھا۔ اور تب سے اپنے کمرے میں بند تھا۔ بڑی ماں کے کمرے سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھی۔ حماد سلطان اور ان کی اہلیہ مسکان بیگم کا حکم تھا کہ ازلان سلطان کو ڈسٹرب نا کیا جائے بلکہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر بس بچوں کا خیال رکھا جائے۔
اندر عائش اور آبدار نے ادھم مچا رکھا تھا۔ وہ کسی صورت مسکان اور بڑی ماں کے قابو نہیں آ رہے تھے کسی صورت نہیں۔
ان کے گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے کی وجہ سے مسکان اور بڑی ماں نے انھیں باہر کھیلنے کی اجازت دے تھی۔ تب وہ پورے پیلس میں گھومتے پھرے تھے اور ملازمین کی فوج ان کے پیچھے ہلکان ہو رہی تھی۔
وہ دونوں اب بال سے کھیل رہے تھے۔ ایک جیسے کپڑے، ایک جیسا قد و قامت، مگر صد شکر کے ان کی شکلیں آپس میں اتنی نہیں ملتی تھیں۔
یہ میری بال ہے عائش چیٹر،،، فوراً مجھے واپس کرو،، آبدار چلایا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں میں جھگڑا بھی ہو گیا تھا۔ ایلا تو کبھی انھیں جھگڑا نہیں کرنے دیتی تھی۔ مگر یہاں وہ لوگ آزاد تھے نا دونوں پر کسی کی روک ٹوک کرنے کی جرات تھی۔
او رئیلی،، آئی نو یہ تمھاری بال ہے،، ہمت ہے تو لے کر دکھاؤ آب،، وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔
عائش بہت بری بات ہے مما نے یہ سکھایا تھا تمھیں،، آبدار نے ہی صلح جو لہجہ اختیار کیا تھا۔
نو نہیں سکھایا تھا بٹ آئی لائک دس بال سو مچ،، سو یہ میں رکھوں گا،، عائش نے لاپروائی سے کندھے اچکاتے ضدی سے لہجے میں کہا تھا۔
بٹ اب میں یہ تمھیں تو بلکل نہیں دوں گا عائش،، کیونکہ یہ مما نے مجھے دی تھی تم اپنی لاس کر چکے ہو تو یہ مجھے دو،،
آبدار بھی غصے سے چلایا تھا۔
وہ کھیلتے کھیلتے باہر لان کے اس حصے میں چلے آئے تھے۔ جو ان ڈائریکلٹلی ایک بڑے سے واٹر پول کے ذریعے باہر بیچ سے جڑا تھا۔ بیچ اور پول کے درمیان صرف ایک بڑی گلاس والا تھی جو ان کو الگ الگ کرتی تھی۔ پہرے دار دونوں شہزادوں کو دیکھ کر چاک و چوبند ہو چکے تھے۔ جو اب بال کے پیچھے لڑتے جھگرتے باہر پول کے قریب تر آ چکے تھے۔
میں نہیں دوں گا آب،، جو مرضی کرو تم،، عائش اب بھی ڈھٹائی سے بولا تھا۔
آبدار نے غصے سے سرخ ننھے سے چہرے سے اسے بری طرح گھورا اور پھر اسے غصے سے دور دکھا دے دیا۔ عائش کا پیر پھسلا تھا اور وہ سات فٹ گہرے پول میں گرا تھا نا صرف خود گرا تھا بلکہ خود کو بچاتے وقت ہاتھ پاوں چلاتے ہوئے اس کے ہاتھ آبدار کی شرٹ آئی تھی۔ جسے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تو اس کے ساتھ آبدار بھی پانی میں گرتا چلا گیا۔
پیلس کے بڑے لاؤنج سے باہر آتے بڑی ماں اور مسکان بیگم کے لبوں سے دلخراش چیخیں برآمد ہوئیں تھیں۔ بڑی ماں تو بیہوش ہی ہوئیں تھیں۔ تمام سرونٹس کی جان لبوں پر آئی اور وہ سب تیزی سے پول کی جانب بھاگے تھے۔ یہ چیخ و پکار سن کر لائبریری سے حماد سلطان بھی باہر بھاگے تھے۔ اور اس دوران اوپر کے پورشن میں ازلان سلطان کی بھی آنکھ کھل گئی تھی جو رات ساری رات اپنی زندگی کے اجاڑ ہونے کا سوگ مناتے صبح کے پانچ بجے سوئے تھے۔
ازلان تیزی سے نیچے آیا تھا۔
سب لوگ پول کے پاس پہنچے تو اگلا منظر دیکھ آنکھیں حیرت کی انتہا سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔ وہ دونوں پانچ پانچ سالہ بچے کسی ماہر تیراک کی طرح زیرِ آب پانی میں تیرنے مصروف تھے۔
ازلان کے ماتھے پر ڈھیروں بل آئے تھے سب کو پول کے گرد چمگھٹا لگائے دیکھ۔
What’s the he’ll is going on Hare,,?
وہ دھاڑا تھا۔ سب اپنی اپنی جگہ سے اچھلے تھے۔ وہ آگے بڑھا
You all get lost from here right now,,
سب سرونٹس اور گارڈز ادھر ادھر بکھرے اپنی اپنی جگہ پر گئے تھے۔
“سب تماشہ دیکھ رہے ہیں، کوئی خیال نہیں رکھ سکتا ان کا، اور اب بھی انھیں بچانے کی بجائے کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہو، ڈیڈ بےوقوفوں کی فوج پال رکھی ہے آپ نے، بزدلوں کی جو ان معصوم جانوں کو بھی نہیں بچا سکتے، وہ ہنوز چلا رہا تھا۔
حماد نے گارڈز کو گھورا۔ مگر وہ تو جیسے حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتے اب تک سکتے میں تھے جیسے۔
سرونٹس بھی ورطہ حیرت میں گم اب آپس میں چہ میگوئیاں سی کر رہے تھے کہ یہ کیسے اور کس طرح ہوا۔ اتنے چھوٹے بچے آخر پانی میں ڈوبنے کی بجائے تیر کیسے سکتے ہیں۔
کیسے آخر کیسے۔
ازلان نے پول کے پاس جھک کر دونوں کو اشارہ کیا تو وہ اوپری سطح تک آئے۔ ازلان نے انھیں باہر نکالا۔ اور سینے سے لگایا۔
حماد سلطان ماں جی کی جانب متوجہ ہوئے۔ سرونٹس انھیں اندر لے گئیں تھیں۔
میرے منع کرنے کے باوجود پانی میں کیوں گرے آپ لوگ،، ازلان نے انھیں اپنے سامنے کھڑا کر کے ناراضگی سے کہا دونوں نے سر جھکا لیا۔
مجھے آب نے پش کیا ڈیڈ،، تب گرا میں،، روندو عائش نے شکایت لگائی۔ آبدار نے ادے گھورا۔ وہ اب بھی اپنی غلطی نہیں مان رہا تھا۔
عائش نے میری بال لی ڈیڈ،، وہ بال جو ممی نے مجھے دی تھی،، آبدار نے سنجیدگی سے کہا۔
بٹ ڈیڈ،،
شٹ اپ بوتھ اف یو،، نو مور آرگیو،، ازلان نے تیزی سے ان کی بات کاٹی۔
ازلان میرے بچے کیوں ڈانٹ رہے ہو معصوموں کو ارے دیکھ تو لو وہ ٹھیک تو ہیں،، کہیں چوٹ تو نہیں لگی،، مسکان نے فکر مندی سے کہا۔
مما یہ بلکل ٹھیک ہیں،، آپ آرام کریں، میں انھیں چینج کروا دیتا ہوں،،
ازلان سنجیدگی سے کہتا انھیں گود میں اٹھائے اپنے روم میں چلا گیا۔
پیچھے مسکان بیگم نے حسرت سے اس کی پیٹھ کو دیکھا۔ ہنستے کھیلتے ازلان سلطان کو کسی کی نظر ہی لگ گئی تھی جیسے،، جب سے ملائشیا سے لوٹا تھا بہت گم صم تھا۔ خاموش، سنجیدہ دکھی سا۔ مسکان کو ہول پڑ رہے تھے مگر وہ بتا بھی تو کچھ نہیں رہا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کونگریٹس مسٹر راج،، آپ پھر سے ڈیڈ بننے والے ہیں،،
ڈاکٹر روم سے باہر آ کر بولی تھی۔ ایک سرشاری تھی جو راج کے جسم و جاں میں دوڑی تھی۔ تبھی آسودگی سے مسکرایا تھا۔
کونگریٹس راج،، جمی اس سے سر خوشی سے بغلگیر ہوا تھا۔ ظفر اور ماریہ بھی مسکرا دئیے۔
ڈاکٹر میری وائف ٹھیک تو ہے ناں،، راج نے متفکر سا پوچھا تو وہ مسکرا دی۔
یس مسٹر راج، شی از ایبسلوئٹلی فائن،، بس ویکنس ہے وہ ہو جاتی ہے ایسی صورت حال میں،،
ڈاکٹر میڈیسن لکھ کر جا چکی تھی۔
ابھی راج اندر کی جانب قدم بڑھاتا جب صرف اسے، سیرہ کی چیخیں سنائیں دی تھیں۔ وہ اندھا دھند باہر کی جانب بھاگا تھا۔ باقی سب بھی گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگے۔ راج باہر آیا تو سیرہ کانوں پر ہاتھ رکھے بری طرح چلا رہی تھی ساتھ راج کو آوازیں بھی دے رہی تھی۔
اور اس کے پاس کیا کہیں بھی مایا وش موجود نہیں تھی اور یہ محسوس کر کے راج کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔
سیرہ،،،،،،، بھابھی،،، کیا ہوا ہے مایا وش کدھر ہے،،
راج وہ بہت بھیانک تھے،، بہت،،،،، میں کچھ نہیں کر سکی،،وہ،،،،،، وہ مایا وش کو لے گئے راج مم،،،، مجھے معاف کر دو،، میں اس کی حفاظت نہیں کر پائی،، سیرہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔
یہ سن کر جمی اور ظفر دروازے کی جانب بھاگے تھے۔ بلکہ راج چھت کی جانب، سب نے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔ مگر اسے اس وقت کسی کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کون اس کا سچ جان جائے گا کون نہیں۔ اسے بس اپنی پرنسز کی فکر تھی۔ بس وہ چاہیے تھی اسے اور کچھ نہیں۔
ہاں یہ اس کی لاپرواہی تھی کہ وشہ میں الجھ کر اس کی نے اپنی بچی سے توجہ ہٹا لی تھی اور تو اور گارڈینز کو بھی ساتھ نہیں لایا تھا۔
اور یہ ڈریگن لینڈ تو تھا نہیں جہاں پر پتہ گرنے کی خبر اسے ہوا کرتی تھی۔ اور یہی اس کی سب سے بڑہ بھول تھی۔
وہ چھت پر ڈریگن بن کر ہوا میں تحلیل ہو کر اڑا تھا۔
مگر اسے بہت دیر ہو چکی تھی شاید،، تبھی وہ چند منٹوں کے بعد ناکام ہی لوٹ آیا تھا۔ کیونکہ مایا وش کا کہیں نام ونشان تک نہیں تھا۔ وہ چھت سے نیچے لان میں آیا تھا۔ جمی اور ظفر بھی ناکام لوٹ آئے تھے۔ سیرہ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگ رہا تھا وہ تو بس زمین پر بیٹھی جانے کیا کیا بولے جا رہی تھی۔
سیرہ بتاؤ وہ کون تھے اور کیسے دکھتے تھے، جو میری بچی کو لے کر گئے،، راج نے سیرہ کو جھنجھوڑا۔ مگر وہ کچھ بول نہیں رہی تھی۔
مایا وش،، وہ دھاڑا۔
تبھی دھاڑ کی آواز پر اس کے پیچھے کچھ گرنے کی آواز آئی تھی۔ راج نے پیچھے مڑ کر دیکھا وشہ ہوش و خرد سے بیگانہ زمین بوس ہو چکی تھی۔
وہ بے چین سا وشہ کی جانب لپکا
Continue,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤
