No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ماہا ویرا اس پرندے کو نرمی سے تھامے اندر لائی تھی۔ لا کر اسے آرام سے صوفے پر رکھا۔ ایاس عجیب کلر فل پرندہ اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ اس کا سائز ایک کبوتر جتنا ہی تھا۔ شکل و صورت بھی کبوتروں جیسی تھی مگر آنکھیں بڑی بڑی الوؤں جیسی تھیں۔
اتنی ٹھنڈ میں اس نیکی نے اس کے دانت بجا ڈالے تھے۔ تبھی ہیٹر تیز کیا تھا۔
رین کوٹ نکال کر کھونٹی پر لٹکایا۔ الماری سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر وہ پھر اس پرندے تک آئی تھی۔ جو عجیب سی نظروں سے بغور اس کا معائنہ کرنے میں مصروف تھا۔
تم ٹھیک ہو جاؤ گے، لاؤ اپنا ونگ دکھاو مجھے،، ماہا ویرا نے نرمی سے اس کا پر کھولا جو زخمی تھا۔ ماہا نے اس پر نرمی سے مرحم لگایا۔ پھر دوسرا ونگ چیک کیا اور اس پر بھی مرحم لگایا۔
وہ پرندہ پہلے تو سکون سے بیٹھا رہا۔
تم میرے دوست بنو گے؟ میرا کوئی دوست نہیں،، میں تم سے اپنی سب باتیں کیا کروں گی،، اوکے،،تو آج سے ہم فرینڈز،،
ماہا ویرا اس کو مرحم لگا چکی تو چھوٹے سے ہاتھ سے اس کی پیٹھ سہلانے لگی۔ اس پرندے کو جیسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔ تبھی پیچھے مڑ کر ویرا کے ہاتھ پہ چونچ مار دی تھی۔
آؤچ،،، ماہا ویرا نے جلدی سے اپنی فنگر اپنے لبوں تلے دبائی۔
بڑے ہی کوئی احسان فراموش ہو بھئی،، ویرا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ جانے کیوں مگر ابھی ابھی جو اس چھوٹی سی لڑکی نے اس پرندے کے لئے کیا تھا اسے سوچ وہ پرندہ بھی اب سر جھکا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا جیسے اپنے اس ہی عمل پر شرمندہ ہو۔
اوووووووو،،،،،، تم سوری ہو،، اٹس اوکے،، ویرا نے پھر اس کا سر سہلایا۔ اور اسے اپنی گود میں بھر کر اس کا منہ بھی چوم ڈالا۔ وہ تو اتنی سی بات سے ہی خوش ہو گئی کیونکہ اسے لگا وہ برڈ اپنے عمل پر سوری ہے۔ وہ اٹھی ۔ آتش دان کے آگے چھوٹا سا ٹیبل رکھ کر، الماری سے ایک کپڑا لا کر اس کو اکھٹا سا کر کے درمیان میں اس برڈ کے لئے جگہ بنائی۔ اور اسے وہاں بٹھا دیا۔
یہ تمھاری جگہ ہے سونے کی،، ماہا ویرا نے کہتے ایک جمائی لی۔ اور ایک توبہ شکن انگڑائی توڑی۔ اب تم ایک گڈ نائٹ کِسّی لو اور سو جاؤ،، رائٹ،، وہ کہتی پھر اس کے سر پر جھکی وہاں اپنے نرم و نازک گداز لب رکھے اور لائٹ آف کر کے بیڈ پر جا کر لیٹ گئی اور سائیڈ لیمپ جلایا ۔ وہ پرندہ اسی کی جانب عجیب سی نگاہوں سے دیکھے گیا۔
ویرا اس کی جانب دیکھے گئی۔ جانے اسے کیوں لگا کہ جب تک وہ اس کی جانب رخ کیے رکھے گی وہ سوئے گا نہیں۔ تبھی اس نے دوسری جانب رخ کیا تھا۔
پانچ منٹ کے بعد وہ غنودگی میں جانے لگی تھی۔ جب آنکھیں بند ہوتے دیوار پر اس نے ایک پرندے کا سایہ لمحہ بہ لمحہ بڑے ہوتے ایک انسانی سائے میں بدلتے دیکھا۔ جس انسان کی کمر پر اس کے ونگز تھے۔ اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔ ایک دم ہی پوری آنکھیں کھل گئیں۔ تبھی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔
تھا تو وہی پرندہ اور سایہ بھی اسی کا تھا۔ مگر آگ کے سامنے بیٹھے ہونے کی وجہ سے سایہ بڑا سا تھا۔ ماہا ویرا کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔ اب نیند میں جانے کیا کیا خیال آنے لگے تھے۔ وہ پھر دوسری جانب کروٹ لے کر آنکھیں موند گئی۔
وہ جو اپنی اصل شکل میں واپس آیا تھا۔ بغور اس چھوٹی سی لڑکی کی پیٹھ کو دیکھا۔ جو انجانے میں ہی سہی اس کے وجود پر اپنے لمس چھوڑ گئی تھی۔
اس کے پرستان میں ایک سے بڑھ کر ایک پری تھی۔ انتہائی خوبصورت انتہائی نرم و نازک۔
مگر جو بات لاپروائی سے لیٹی اس لڑکی میں تھی شاید ہی کسی میں ہوتی۔ لباس کا خیال کیے بغیر وہ دوسری طرف کروٹ لیے کمفرٹر پر گھٹنا رکھے لیٹی تھی۔ ٹی شرٹ گستاخی کرتی اپنی جگہ سے سرک گئی تھی جس میں سے دودھیا گلابی کمر چاندی کی طرح دمک رہی تھی۔ سنہرے بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے۔ اور پچھلے گہرے گلے سے دلکشی صاف عیاں ہو رہی تھی۔ یونہی ٹراؤزر سے بھی سفید نازک گداز پنڈلیاں اپنے درشن کروانے میں مصروف تھیں۔
کیوں آخر کیوں کیا اس پاگل لڑکی نے ایسا کیا،، وہ غم وغصے سے پاگل ہوا۔ اب جو جزبات تھے عجیب سے احساسات، اس پاگل لڑکی کے دل میں کسی انجان مخلوق کے لئے اتنی نرمی، وہ بار بار سر جھٹکتا اپنی ہر سوچ اپنے ہر خیال کی بار بار تردید کرتا لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا۔
اب ماہا ویرا نے اپنے پیچھے تیز تر سانسوں کی زیر و بم سنی تو پھر سے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔ اب تو اس کے ہوش و حواس میں سانسوں کی وہ مدھم سی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس نے خوف کے مارے شیٹ مٹھیوں میں جکڑی۔ ایک مرتبہ پھر ہمت کر کے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور سہمی ہرنی جیسی بڑی بڑی سنہری آنکھوں سے چہار سو نگاہ دوڑائی تو دیکھا وہ پرندہ بڑی شان سے بیڈ پر اس کے پیچھے بیٹھا ہے۔
ماہا ویرا نے سینے پر ہاتھ رکھ کر معصومیت سے ایک لمبا سا سانس کھینچا۔
اففففففف،،،،،،،
ہیے یو وانٹ ٹو سلیپ ود می،،؟ دین کم آن،، ماہا ویرا نے پھر سے پھڑپھڑاتے پرندے کو اپنے ہاتھوں میں بھرا۔
وہ یوں مچل رہا تھا جیسے دانت پیس کر اس کی گرفت سے نکل جانا چاہتا تھا۔ (مگر افسوس اپنے ہی جال میں بری طرح پھنس چکا تھا)
ماہا ویرا چت لیٹی اور اسے اپنی بیلی پر بٹھا لیا۔
جانے کیوں مگر پرندے نے سختی سے آنکھیں بھینچیں تھیں۔ ماہا ویرا کو حیرانی ہوئی۔
واٹ ہیپنڈ ڈئیر فرینڈ،،؟ ماہا ویرا نے شہادت کی انگلی سے اس کی گردن گدگدائی۔ مگر وہ اپنی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں تھا۔
تمھیں شاید پین ہو رہا ہے کہیں پر،، ویری سیڈ،، وہ اداس ہو گئی۔
اوکے اب میں تمھیں ڈسٹرب نہیں کروں گی،، سو جاؤ،، اس نے اسے بیلی سے ہٹا کر نرمی سے اپنے ساتھ بیڈ پر رکھا اور آنکھیں موند لیں۔
کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند میں جا چکی تھی۔ کسی نے بہت قریب سے اس کی پلکوں کی جھالروں کو گالوں پر سایہ فگن دیکھا۔ اس کی آنکھیں شدتِ برداشت کی وجہ سے لال انگاراہو چکیں تھیں۔ وہ جھٹکے سے اس کے پہلو سے اٹھا تھا۔ اور جانے کیوں تن فن کرتا کھڑکی سے پری زاد بنا اڑ گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کافی دیر تک جب جیک کو رنجنا دکھائی نہیں دی تو اس کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ تیزی سے اندر داخل ہوا تھا آ کر بیڈ پر گہری نیند سوئی ہستی کو جھنجھوڑ ڈالا۔
سنجنا اٹھو،،، سنجنا،،،، ویک اپ،، وہ چلایا۔ اس نے مندی مندی آنکھوں سے خودپر جھکے جیک کو دیکھا اور اب کچھ یاد آ جانے پر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
جیک میں سنجنا نہیں ہوں،، وہ نکل گئی گھر سے باہر ،، روکو اسے،، وہ تقریباً دھاڑی۔
جیک سن کر انھیں پیروں واش روم کی جانب بھاگا تھا۔ واش روم کا بیرونی دروازہ کھلا تھا وہ بھی تعقب کرتا تیزی سے بھاگا۔
کچھ ہی دیر بعد تیزی سے بھاگنے کی وجہ سے وہ اسے اب دیکھ پا رہا تھا۔
سنجنا،،، وہ چلایا۔ مگر وہ چلتی رہی۔ وہ اور تیزی سے بھاگا تھا۔ سنجنا کا رخ لائٹ ہاؤس کی جانب تھا۔ بیچ میں گھنی خاردار جھاڑیاں تھیں۔
سنجنا کو مسلسل میوزک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ اندھیرے میں بس ناک کی سیدھ میں چلتی جا رہی تھی۔
سنجنا،، رک جاؤ،، جیک پھر چلایا۔ پھر جلد ہی وہ اس کے قریب چلا آیا تھا۔ اب وہ دیکھ سکتا تھا سنجنا کے سائے کے ساتھ ساتھ دو اور سائے تھے جو اس کے ہمقدم تھے۔
اس نے جھٹکے سے اس کا بازو تھام کر اسے اپنی جانب گھمایا تھا۔
سنجنا، واپس چلو،، اس نے انگلش میں کہتے اسے واپسی کے لئے گھسیٹنا چاہا۔ مگر ایک ان دیکھی طاقت تھی جو اسے مخالف سمت گھسیٹ رہی تھی۔
جانے دو مجھے،،، انتہائی بھیانک آواز میں وہ کوئی درندہ نما غراہٹ تھی جو سنجنا کے منہ سے ادا ہوئی تھی۔
نو،، کبھی نہیں،، تبھی جیک نے چرچ سے لایا ہوا فادر کا دیا گیا پانی اس کے سر پر انڈیلا تھا۔ وہ درد ناک انداز میں چلائی تھی۔ پھر جیک نے فادر کا دیا دھاگہ اپنے اور اس کے گرد لپیٹا تھا۔ اب اسے کسی صورت بھی سنجنا کو نہیں چھوڑنا تھا۔ سنجنا بری طرح مچلنے لگی۔
پھر پورا زور لگا کر چلائی۔
چھوڑو مجھے،،، میں نے کہا چھوڑو مجھے،، وہ بری طرح اسے مارتی اس کے کندھے پر اپنے دانت جما گئی تھی۔ جیک نے اذیت کی انتہا سے آنکھیں بند کیں۔ کیونکہ سنجنا اس کے کندھے پر زخم کر چکی تھی۔ پھر اس نے اپنے ناخنوں سے بری طرح اس کا سینا کھروچا تھا۔ جیک نے تب بھی اس کے گرد سے سلاخوں کی طرح باندھا اپنے بازوؤں کا حصار نہیں توڑا تھا۔
پھر یوں لگا کہ سنجنا کا وجود زلزلوں کی زد میں آیا تھا۔ بری طرح شدت سے جھٹکے کھا وہ پھر حلق کے بل چلائی تھی۔ تب اس کے منہ سے کالا دھواں نکل کر فضا میں تحلیل ہوا تھا اور وہ نڈھال ہو کر جیک کے بازوؤں میں گری۔ جیک نے اسے بازوؤں میں بھرا اور واپسی کی جانب رخ کیا۔
ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا جب پیچھے سے کچھ سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ ٹھٹھک کر رکا۔ اور سنجنا کی آواز جیسی آواز سن کر پیچھے دیکھا۔
سنو جیک،، پلیز میری مدد کرو،، مجھے یہاں سے گھر لے کر جاؤ، تمھارے بازوؤں میں رنجنا ہے،، سنجنا تو میں ہوں، اسے نیچے اتار دو،، میری ہیلپ کرو،، مجھے روک لو پلیز،،، سنجنا ہچکیوں سے روتی التجا کر رہی تھی۔
جیک کا کلیجہ منہ کو آیا۔ اور اگر وہی سنجنا ہوئی تو؟ تو کیا ہوگا،، وہ اپنے بازوؤں میں بھری ہستی کو نیچے اتارنے کو ہوا۔ کہ دفعتاً رنجنا بھاگتی وہاں چلی آئی۔
جیک وہ محض ایک چھلاوا ہے، اس کی بات مت سننا،، رنجنا چلائی۔
جیک نے جلدی سے اسے بازوؤں میں بھینچا اور قدم تیز ترین کیے۔ جیک اور رنجنا نے گھر پہنچ کر ہی سانس لیا اور جلدی سے کھڑکی دروازے بند کیے۔ جیک نے بیہوش سنجنا کو نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔
رنجنا نے دیکھا اس کی خود کی وائٹ شرٹ لہولہان ہو چکی تھی۔
جیک یہ کیا ہوا؟ رنجنا رو پڑی۔ تبھی سنجنا کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ جیک کی جانب نم آنکھیں لیے دیکھت رہی کیونکہ اسے سب یاد تھا کیا ہوا تھااس کے ساتھ یا کیا ہونے جا رہا تھا سنجنا کے دیکھنے سے وہ انجان تھا کیونکہ اس کی توجہ اب اپنے زخموں پر تھی۔
تم اپنی شرٹ ریموو کرو،، میں اینٹی بائیوٹک لیکوئیڈ سے یہ زخم صاف کر دیتی ہوں،، رنجنا نے انگلش میں اسے کہا اور الماری سے فرسٹ ایڈ باکس سے ڈیٹول اور کاٹن لے آئی۔
ابھی وہ ڈیٹول سے کاٹن بھگو کر اس کے زخم پر رکھتی جب بہت اچانک سنجنا نے اٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
لاؤ میرے دئیے گئے زخموں پر میں ہی مرحم لگاؤں گی،، سنجنا نے روتے ہوئے اردو میں کہا تھا۔ جیک پہلے چونکا پھر دلچسپی سے سوں سوں کرتے اسے بغور دیکھا۔ بہت اچانک کمر کے گرد بازو حمائل کر کے جیک نے اسے خود میں بھینچا تھا اور اس کے بازو اپنی گردن کے گرد حمائل کیے تھے۔ وہ بوکھلائی جبکہ رنجنا مسکراتی کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔
کیوں رو رہی ہو،،،،؟ بھاری گھمبیر لہجہ تھا اس کو چن سے تھام کر جھکی بھیگی پلکیں اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔
ااا،،،اگر،،،،،،،تت،،، تمہیں ،،،،کک،،، کچھ ہو جاتا،، تت،،، تو،،، وہ اس کے زخموں کو دیکھ کر بولی۔
سو،، سو واٹ؟ تو کیا ہوتا، تم کون سا مجھ سے محبت کرتی ہو جو تمھیں فرق پڑتا،، وہ مسکرا کر بولا نگاہوں کا فوکس اب بھٹک بھٹک کر گستاخیاں کرتا نازک پنکھڑیوں پر آن رکا تھا۔
سنجنا نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر اس ستمگر کو دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں ہی اس وقت دل کی حالت بیان کرتے تمام منہ بولتے جزبات شورش برپا کر رہے تھے۔ جیک نے اس کی کمر سے اٹھا کر اسے جھٹکے سے دیوار سے لگایا تھا۔ سنجنا کی غیر ہوتی حالت اور تیز ترین ہوتی دھڑکنوں کی پرواہ کیے بغیر اس نے اس کو ہونٹوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا تھا۔ ایک جنون سا تھا ایک شدت،،
جیسے ابھی بھی وہ اس کو کھو دینے کے ڈر سے نا نکلا ہو۔ اور اسے محسوس کر کے اپنے دل سے یہ ڈر نکالنا چاہتا ہو۔
سنجنا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ بے جان ہو جائے گی۔ مگر وہ اس کے ہاتھ تھام کر پھر سے دیوار سے لگا گیا۔
خود کو سیراب کرنے کے بعد اسے شاید اس کی حالت پر رحم آیا تھا۔ وہ خود ہی نرمی سے پیچھے ہٹا۔ مگر اب اپنے اس عمل پر خود ہی سختی سے آنکھیں بھینچیں۔ پیچھے مڑ کر اپنی شرٹ اٹھائی۔
وہ دیوار سے لگی لمبے لمبے سانس بھرتی اپنی اٹکی سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آرام کرو سنجنا،، میں باہر ہی ہوں، وہ اس سے نگاہیں چراتا اپنی شرٹ اٹھا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
تبھی رنجنا روم میں داخل ہوئی تھی۔
اسے کیا ہوا؟ اس جیک کو تیزی سے باہر جاتے دیکھ پوچھا۔
کک،، کچھ نہیں،،، سنجنا بھاگ کر کمفرٹر میں دبکی تھی مبادا کہیں وہ اس کے سرخ زخمی ہونٹوں اور پاگل مچلتے دل کا احوال نا جان لے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ آگ کے الاؤ کے سامنے بیٹھی اپنے بھدے مکروہ چہرے سے مختلف شیطانی منتر پھونک رہی تھی۔ اس کا ایک چیلہ مر چکا تھا۔ ایک سے جو خبر ملی تھی وہ اچھی نہیں تھی۔ اس نے مایا وش کو بلایا مگر وہ خوف کے مارے اپنے کمرے میں ہی دبک کر بیٹھی رہی۔ آئی ہی نہیں۔ بلیک وچ کو اس کا یہ ڈر اچھا لگا۔
یہ باتیں بعد میں بھی معلوم کی جا سکتی تھیں۔ پہلے اس کے شکار کا یہاں پہنچنا بہت ضروری تھا۔ تاکہ اس کی طاقتیں بحال ہو سکیں اور وہ ایک ایک کو دیکھے۔
چلے کے دوران اس کی طاقت اور کالے سائے عروج پر تھے۔ شکار اس کی حدود میں پہنچ بھی گیا تھا۔ مگر پر آگ کا الاؤ دھماکے سے بھڑک کر ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ مطلب اس کا وار خالی گیا تھا۔
کیسے آخر کیسے؟
اس کے شکار کو تو اس کا جوڑی دار ہی بچا سکتا تھا۔اور آج تک ایسا ہوا نہیں تھا۔ تو کیا مایا وش نے کچھ کیا تھا۔ وہ غصے سے پاگل ہوئی اور اپنے آدھے گنجے سر سے بال نوچ نوچ کر پھینکنے شروع کر دئیے۔
دل کیا اس مایا وش کو ابھی جائے اور جلا کر خاک کر دے۔ مگر شیطانی دماغ نے ایک اور تانا بانا بنا تھا۔ تبھی وہ چڑیل مکروہ قہقہے لگاتی زور زور سے ہنانے لگی تھی۔
مایا وش جو چھپ چھپ کر خوف سے اسے دیکھ رہی تھی اس کا وار ناکام ہونے پر اطمینان کا سانس لیا۔ مگر پھر اس کے مکروہ قہقہے اس خوف میں مبتلا کر گئے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عائش اور آبدار اپنے پول سے باہر بیچ پر رکھے کاؤچ پر آنکھیں موندے نیم دراز تھے۔ برتھ ڈے پارٹی کی تمام ارینجمنٹس ایک دن پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ اب بس انویٹیشنز دینے تھے۔ وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے کسی اور دنیا میں ہی پہنچا تھا۔ جب سونگز سننے کے باوجود اسے کچھ اور بھی سنائی دیا۔
وہ چونکا اور آنکھیں کھولیں۔ ہینڈ فری ریمو کی۔
ہاں وہ نسوانی چیخوں کی آوازیں تھیں۔ آبدار جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
واٹ ہیپنڈ برو،، عائش نے پوچھا۔
کچھ سنائی دیا،، آب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
یس،، کسی لڑکی کی چیخنے کی آوازیں ہیں،، عائش نے لاپروائی سے کہا۔
وہ مصیبت میں ہوگی،، وی مسٹ سیو ہر،، آب نے پھر سے کہا۔
واٹ ایور،، بول کر وہ پھر سے ہینڈ فری کانوں میں لگانے والا تھا جب آب نے اسے کالر سے دبوچا اور اپنے ساتھ گھسیٹتا چلا گیا۔
وہ آواز کی سمت گئے۔ بیچ پر کچھ دور جا کر پانی کی لہروں میں وہ ایک لڑکی تھی جسے تین چار لڑکے دبوچ کر کھڑے تھے ان کے گھٹنوں تک پانی تھا اور وہ اس کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے۔
ہیے یو،، سٹے اوے فرام ہر،، آبدار کے ماتھے پر بل آئے تھے۔ عائش نے بھی انھیں گھورا۔
کیوں تم دونوں کی سسٹر ہے یہ،،؟ انھوں نے مزاق آڑایا۔
یس،، آبدار نے دانت پیس کر کہا۔
پھر ایک اشارا ہوا تھا۔ اور پانی میں موجود ان کی ٹانگوں پر سویاں سی چبھی تھیں۔ وہ تکلیف سے چلائے۔ اور بری طرح تڑپنے لگے۔ تب وہ پانی سے نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
لڑکی نے آب اور عائش کی جانب رخ کیا۔ وہ دونوں جانے کیوں اسے دیکھ کر چونکے تھے۔ وہ انھیں بہت بہت زیادہ غیر معمولی لگی۔ تھی تو انسان۔ مگر کوئی معمولی انسان نہیں تھا۔ وہ حسن کے معاملے بھی بہت خاص تھی۔ عائش بغور اسے دیکھے گیا۔
کون ہو تم،؟ آخر آب نے ہی پوچھا۔
مم،، میرا نام روز ہے،، وہ بول کر پھر رونے لگی۔
عائش نے ناگواریت سے اس کے آنسو دیکھے۔
یہاں کیسے پینچیں،،؟ یہ ہمارا علاقہ ہے، مطلب یہ سارا علاقہ ہماری ملکیت ہے،، آب نے اسے سمجھایا۔
میری ماں،، وہ بہت ظالم عورت ہے، یہان بھیج کر میرا سودا کرنا چاہتی ہے، محض اپنے عیش وعشرت کے لئے،، یہ کہتے لڑکی کی آنکھوں میں اپنی ماں کے لئے بے پناہ نفرت تھی۔ میں جہاں تھیں وہاں سے بھاگ آئی،، اور یہ لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے،، میں بھاگتی بھاگتی ادھر چلی آئی،، ہچکیوں کے دوران وہ بمشکل ہی بول پائی۔
تو تمھارا اس دنیا میں کوئی نہیں،، آب کو افسوس ہوا۔
اس نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
چلو ہمارے ساتھ،، آب نے اسے کہا۔ وہ چپ چاپ بغیر کوئی سوال جواب کیے ان کے ساتھ ہو لی۔ اور یہیں وہ غلطی کر چکی تھی۔
عائش بھی بھی کچھ نہیں بولا مگر ایک مرتبہ پیچھے مڑ کر اس لڑکی کو کڑے تیور لیے ضرور گھورا تھا۔ آبدار تو تھا ہی ایسا نرم دل۔
مگر یہ لڑکی،،
کچھ گڑبڑ تھی۔ ان لڑکوں سے بھاگ رہی تھی تو ان کے ساتھ اتنی چپ چاپ کیوں چلی آ رہی تھی۔ اسے کسے معلوم تھا کہ لازمی ہی یہ لوگ اس کے ساتھ کچھ نہیں کریں گے اور اسے محفوظ مقام تک پہنچا دیں گے۔
عائش نے اپنی پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اور اس لڑکی کا دماغ درست کرنے کا پلان سوچنے لگا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کائلہ اور مایا وش کالج میں داخل ہوئیں تو کافی سارے سٹوڈنٹس گراؤنڈ میں جمع تھے۔
کائلہ جس کا وار خالی گیا تھا جو بے تحاشا کمزور پڑ چکی تھی۔ مایا وش کی بھی جان چھوٹی ہوئی تھی کہ اس نے اپنے تمام کام بعد کے لئے بچا کر رکھے تھے۔
ابھی اس لڑکے کا بھی پتہ لگانا تھا جو مایا وش میں دلچسپی لینے کی جرأت کر رہا تھا۔
اس کے چیلے کو کس طاقت نے ختم کیا وہ بھی اور سنجنا کیسے بچ نکلی وہ بھی۔
وہ گراؤنڈ میں آئیں تو سنجنا ان کے سامنے آئی تھی اور مایا وش کو خود میں بھینچ ڈالا۔ مایا وش گھبرا گئی۔ نقاب کے بیچ ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہو گئے۔ جو اس بھیڑ میں کسی نے بغور دیکھے۔
یہ دیکھو وش رائل فیملی کے عائش اور آبدار کی کی کل گرینڈ برتھ ڈے بال پارٹی ہے،، میں جیک کے ساتھ جا رہی ہوں،، مگر تم بھی لازمی آؤ گی میرے ساتھ، اور اب میں انکار نہیں سنوں گی،، تمھیں آنا ہوگا،،، رائٹ،، سے یس،،
نو سنجنا،، میں کہین نہیں جاتی،،،،،، اور،،،،،،،
یہ لازمی آئے گی،،، کائلہ نے مایا وش کی بات بیچ میں ہی کاٹی،، یہ آئے گی تمھارے ساتھ،، مگر پھر تم بھی پرامس کرو،، پارٹی کے بعد اس کے ساتھ ہمارے گھر آؤ گی،، کائلہ نے اپنا ہاتھ سنجنا کے آگے بڑھایا۔ اس کی نگاہوں میں خباثت تھی۔
او یس،، میم، پرامس،، تھینکس اگر اس کے آنے کی یہی شرط ہے تو میں ضرور آؤں گی،، سنجنا نے جوش جزبات سے کائلہ کا ہاتھ تھاما۔
کائلہ ایک مکرہ فاتحانہ سی مسکراہٹ لیے اپنی کلاس میں چلی گئی۔ مایا وش کا رکا ہوا سانس بحال ہوا جسے یہ ڈر تھا کہ اس کی سنجنا کو بتائی گئی وارننگ کا زکر کوئی کائلہ کے سامنے نا کر دے۔
اسے وہاں رنجنا اور جیک آتے دکھائی دئیے تب سنجنا وہاں سے سرخ چہرہ لیے کھسک گئی جو صبح سے جیک سے منہ چھپاتی پھر رہی تھی۔
رنجنا مایا وش کے گلے لگی۔
تھینکس،، صرف کان میں اتنا ہی بول پائی۔
جیک نے بھی اس سے ہاتھ ملایا۔ جو وہاں کھڑے ایک شخص کو بے تحاشا ناگوار گزرا۔
تھینکس،، جیک بھی بس اتنا ہی بولا۔ اور احتیاطاً کوئی اور بات نہیں کی۔ جیک نے سنجنا اور رنجنا کو بتا دیا تھا کہ ضرور مایا وش کے ساتھ کوئی پرابلم ہے۔ اسی لئے عائش اور آب کو اس کے پیروں میں چین بندھی دکھائی دیتی ہے۔
تب سنجنا اور رنجنا کو کچھ اندازہ ہو گیا اس کے بارے میں کہ ضرور اس کے ساتھ کچھ پراسرار طاقتیں ہیں جن سے وہ چھپتی پھرتی ہے اور سنجنا کو بھی بچا لیا۔ مگر اب انھیں اس سب کا زکر کر کے اسے مصیبت میں نہیں ڈالنا تھا۔ تبھی وہ نارمل سی گفتگو کرتے کلاس میں جا چکے تھے۔
مگر اب مایا وش کے سر پر ایک اور عذاب مسلط ہو چکا تھا ایک تو پہلی مرتبہ کسی پارٹی میں جانے کا دوسرا پھر سے سنجنا کو مصیبت میں پھنستے دیکھنے کا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
