No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کنگ ویام ڈریگن لینڈ میں محل سے تھوڑا دور اترا تھا۔ اور اب اس کا رخ محل کی جانب تھا۔ مگر اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔ محل کے آس پاس گول دائرے کی شکل میں وہ ہلکا اورنج سا حصار تھا۔
کنگ ویام غصے سے پاگل ہوا تھا۔ یہ یقینا اس کنگ راج کا کام تھا جس نے یہ حصار قائم کیا ہوگا۔ تاکہ کنگ ویام ماہا ویرا سے دور رہے۔ اب اگر وہ ایک قدم بھی اس حصار کے اندر رکھتا تو نا تو وہ خود سلامت رہتا نا اس کے پر۔
کنگ ویام نے اپنے طال مٹھیوں میں جکڑے۔ اور گھٹنوکے بل زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ مگر جیسے ہی نظر اپنے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پر گئی تو ایک دھیمی سی مسکان نے اس کے لبوں کو چھوا۔ تمام غم وغصہ کہیں جا سویا۔
کوئی بات نہیں کنگ راج،، میں محل میں نہیں آ سکتا تو کیا ہوا؟ میری کوئین تو مجھ تک پہنچ سکتی ہے ناں،، اور وہ آئے گی،، ضرور آئے گی،، میرے لئے اپنی جان اپنا وجود ہتھیلی پر سجائے سر کے بل چل کر آئے گی،،
وہ دل میں خود سے باتیں کرتا اس چھوٹی سی وادی میں اترا تھا۔
وہان گھاس پر لیٹ کر اس نے اپنی رنگ کو دیکھا تھا۔
“اسے میرے پاس ہونا چاہئے ،، وہ میری کوئین ہے،، میرا دل اس کی قربت کے لئے دھڑک رہا ہے،، اسے میرے پاس لے آؤ اس دنیا کی سب سے طاقتور رنگ،،،
ویام نے رنگ والا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر ٹیٹو پر رکھ کر آنکھیں موند کر ایک جزب کے عالم میں کہا تھا۔
ایک جھماکے کے ساتھ رنگ سے کافی ساری روشنیاں نکل کر باہر آئیں تھیں۔ ویام گہرا مسکرا کر وہیں نیم دراز ہو گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ماہا ویرا محل کے دربار میں وشہ کے پاس بیٹھی تھی۔ وشہ دریگن لینڈ کی خواتین کے مسئلے مسائل سن رہی تھی۔ کئی خدمتگار ان کے آگے پیچھے پھر رہیں تھیں۔
ماہا ویرا،،،،،،،،،،،،،،،، ماہا ویرا ایک چھوٹے سے بچے کی جانب متوجہ تھی۔ جب اسے اپنے کانوں میں بھاری سی سرگوشی نما پکار سنائی دی۔
یس ڈیڈ،،،،، وہ با آواز بلند بولی تو سب نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
کیا ہوا پرنسز،،، وشہ نے نرمی سے پوچھا۔
مما مجھے راج ڈیڈ نے آواز دی،،، ماہا ویرا نے ادھر ادھر دیکھا۔
نہیں تو،،، راج تو کسی ضروری کام سے ونڈرنگ ووڈ میں گئے ہیں،، وشہ نے اسے نرمی سے بتایا۔ اور اپنے کام کی جانب متوجہ ہو گئی۔
ماہا ویرا بھی سر جھٹک کر پھر اس بچے کی جانب متوجہ ہو گئی۔
ماہا ویرا مائی کوئین،،،،،،،،،،، میرے پاس آئیں،،،،،
وہ جان لیوا بھاری سرگوشی پھر اسے اپنے اندر سے سنائی دی۔
مما،، کیا آپ نے مجھے آواز دی،،، ماہا ویرا نے وشہ کو پھر مخاطب کیا۔
نہیں پرنسز،،، میں نت نہیں پکارا،،، وشہ اسے ماہا ویرا کی شرارت سمجھ کر مسکرائی۔
مما مجھے کوئی پکار رہا ہے،، اب اسے عجیب سی بے کلی نے آن گھیرا تھا۔
اور وہ پکارنے والا میری پرنسز کا بیڈ روم ہے،، جاؤ پرنسز جا کر آرام کرو میرا بچہ،، وشہ نے اسے پیار سے پچکارا۔ تو وہ بسورتی سی شکلیں بنا کر اپنی خواب گاہ میں چلی آئی۔ وہ اس وقت براؤن کلر کے شاہی لباس میں تھی۔ سلیولیس بازو کندھوں پر ڈوریاں بندھی ہوئیں تھیں۔ بال کمر کے نیچےبتک کھلے تھے جب کے ایک چھوٹا سا نفیس سا کراؤن سر پر سجا تھا۔
افففففففففف،،، میرے کان بج رہے ہیں،، وہ جھنجھلائی۔ اور آ کر اوندھے منہ بیڈ پر گری۔
کوئین،،،، میری بانہوں میں آئیں،، میری یہ بانہیں تڑپ رہی ہیں آپ کو بانہوں میں بھرنے کے لئے،،، کیا آپ کا جسم نہیں ٹوٹتا اس کنگ کی قربت کے لئے،،،
ماہا ویرا کے بہت سختی سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود اسے یہ آوازیں سنائیں دیں۔ اس نے تڑپ کر شیٹ مٹھیوں میں جکڑی۔ گلاب بدن میں جیسے کانٹے سے اگ رہے تھے۔ وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔ اور بری طرح اپنے بازو سہلائے۔
اور اب تو اسے یوں لگا جیسے پورے جسم میں کوئی سویاں سی چبھو رہا تھا۔
کوئین،،، میرے پاس آئیں،،
شٹ اپ ،،، جسٹ شٹ اپ،،،، وہ مچلی۔ اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے۔ مگر
محل سے باہر آئیں کوئین،،مجھ تک پہنچے،،،،نہیں تو سکون نہیں آئے گا،،،،سکون تو یہاں ہے اس کنگ کے پاس،،
یہ آوازیں اب ماہا ویرا کے جسم سے اس کی جان نکال رہی تھیں۔ وہ جو بے تحاشا ڈرپوک تھی۔ بزدل تھی ابھی تک ایک بھی قدم محل سے باہر نہیں نکالا تھا۔ اب اپنے کمرے سے نکل کر راہداریوں سے ہوتی ہوئی محل سے باہر نکلی تھی۔ ابھی شام کا وقت تھا۔ وہ تمام خدمتگاروب سے نظر بچا کر باہر تک پہنچی۔
جب وہ نیچے محل کے بڑے بیرونی گیٹ تک پہنچی تو دربان اسے دیکھ کر حیران ہوئے تھے۔
پرنسز کدھر جانا ہے آپ کو،،،،؟ ایک دربان مودبانہ اس کے سامنے سر جھکا کر بولا۔
انھیں بولیں کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں کوئین،، شاہی وید نے مشورہ دیا بس رائیل گارڈن تک جانا چاہتی ہیں،، اس آواز نے اسے گائیڈ کیا۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ،، شاہی وید نے کہا بس یہ گارڈن تک جانا چاہتی ہوں،، ماہا ویرا نے سکون سے کہا۔ مگر جو بے چینی تھی ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہو چکے تھے۔
مگر پرنسز آپ اکیلی کیوں جا رہی ہیں باہر،، اپنی خدمت گاروں کو اپنے ساتھ لے کر جائیے،،،
کنگ راج کے مطابق پرنسز اکیلی باہر کہیں نہیں جاتی تھی۔ مگر اب پرنسز کو یوں اکیلے باہر جاتے دیکھ انھیں بھی عجیب لگا تھا۔
کوئین،،، انھیں بولیں کہ یہ آپ کا حکم ہے،، ہٹ جاؤ راستے سے اور جانے دو مجھے،، اب کی بار اس آواز میں درشتگی تھی۔
میں نے کہا یہ میرا حکم ہے،، ہٹ جاؤ سامنے سے،، جانے دو مجھے،، یہ گارڈن تک ہی تو جانا ہے،، تو اتنا وبال کیوں مچا رہیں آپ لوگ،،
وہ غصے سے چلائی تھی۔ دربان بھی گھبرا گئے اور سر تسلیم خم کرتے ایک جانب ہٹ گئے۔
اب ماہا ویرا کے قدموں میں تیزی تھی۔ وہ رائیل گارڈن تک آئی۔
آگے بڑھیں کوئین،،،،،،،،،، وہ چلتی گئی مگر رائیل گارڈن کو پار کرتے ہی ایک بڑے دیوار سامنے تھی ۔
ماہا ویرا جھنجھلا کر آگے بڑھی اور بے بسی سے اس دیوار پر مکے برسائے۔ دیوار کے ساتھ لگے پودے سے پھول بھی بری طرح نوچ کر پھینک دئیے۔ اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔ ایک مرتبہ پھر تن بدن میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئی تو بری طرح اپنے بازو سہلائے۔
کوئین،،، گھبرائیں تو مت،، آج آپ میری بانہوں میں ضرور پہنچیں گی،، اس آواز نے اسے تسلی دی۔ تبھی فضا میں ڈھیر سارے پرندوں کی پھڑپھراہٹ کی آواز سنائی دی۔
وہ پرندے زمین پر اترے اور عجیب طریقے سے آپس میں یون جڑ گئے کہ وہ ایک قالین کا منظر پیش کرنے لگے۔ ماہا ویرا جلدی سے ان پر سوار ہو کر بیٹھ گئی۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اوپر اڑے۔ اور ماہا ویرا کو دیوار سے پار زمین پر اتار کر وہاں سے غائب ہو گئے۔
ماہا ویرا نے ادھر ادھر دیکھا۔
کوئین ان جگنوؤں کو فولو کریں،،، پھر آواز آئی۔ اب اندھیرا سا پھیلنے لگا تھا۔ تبھی جھاڑیوں میں سے بیشمار چھوٹے چھوٹے دمکتے جگمگاتے جگنو باہر نکلے تھے۔ اور ایک جانب اڑنے لگے۔ وہ ان کی پیچھے دیوانہ وار چلتی رہی۔
وہ رستہ شاہی باغ سے آگے ایک بہت حسین و خوبصورت وادی کی جانب جاتا تھا۔ شام کے بعد کا وقت تھا۔ ملگجا اندھیرا چہار سو پھیلا تھا۔ لہذا ہیروں کی طرح جگمگاتے ننھے ننھے چھوٹے چھوٹے جگنو پھولوں کی جھاڑیوں سے نکل کر اب ماہا ویرا کے آس پاس گھوم رہے تھے۔ پہلے تو وہ بے تحاشا خوفزدہ ہوئی۔ مگر اپنی ہی جان اپنے بس میں کب تھی۔ وہ تو بس چلتی جا رہی تھی۔
کوئین،، اپنے کنگ کے پاس آئیں،،، جو جانے کتنی صدیوں سے آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں،،،، ماہا ویرا کو جیسے اپنے دماغ کے اندر پھر آواز سنائی دی۔ براؤن شاہی لباس کے بازو پر بندھی ڈوری کے نیچے اس کا ٹیٹو پھر جگمگایا۔
اس کے ہاتھ میں موجود رنگ پھر جگمگانے لگی۔ ایک جھرجھری سی تھی جو تن بدن میں دوڑ گئی تھی۔ اس کا جسم بری طرح ٹوٹنے لگا۔ ایک ان دیکھی طاقت نے اسے پھر اپنی جانب کھینچا۔
ماہا ویرا نے ادھر ادھر دیکھا۔
چلتی جائیں کوئین،، جلدی پہنچیں مجھ تک،،۔میں مر جاؤں گا آپ کی اس جدائی سے،، آواز دلسوز درد میں ڈوبی جزبوں سے بھر پور تھی۔ جو اسے اپنے اندر سے ہی آ رہی تھی۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتی گئی۔
وادی میں اتری تو خوبصورت نیلے پھولوں سے سجے پہاڑ سے نیلے رنگ کے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا۔ چشمے کے آس پاس درختوں کا جھنڈ تھا۔ اور ان درختوں کے بیچون بیچ ایک بے انتہا خوبصورت سر سبز چھوٹا سا میدان تھا۔ جس پر نرم گداز گھاس تھی۔ گھاس پر شبنم کے قطرے سچے موتیوں کی طرح جگمگا رہے تھے۔ درختوں کے جھنڈ میں ٹمتماتے جگنو اڑ رہے تھے۔
وہ زرا سا آگے بڑھی اور ٹھٹھک کر رک بھی گئی وہ جو کوئی بھی تھا اس نرم گھاس پر دونوں ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھے آسمان کی جانب رخ کیے چت لیٹا ہوا تھا۔ ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔
رک کیوں گئیں کوئین،،آج آپ کے یہ قدم جو اس کنگ تک آتے ہیں رکنے نہیں چاہیں،، آگے بڑھیں،، قریب آئیں،، بہت قریب،،، آج آپ کو میرے قریب آنا ہے بہت قریب،،، میری روح میں سمانا ہے،،
اس شخص کی مدھر سی سحر طاری کرتی جسم میں پھریری سی دوڑاتی سرگوشیاں اس ماحول میں عجیب سی جلترنگ پیدا کر رہی تھیں۔ ماہا ویرا بغیر ڈرے آگے بڑھی۔ اس کے پاس جا کر رکی۔ ویام نے سر کے نیچے سے ہاتھ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔ جو اس نے تھام بھی لیا۔
ویام نے نرمی سے ہاتھ کھینچ کر پہلے اسے اپنے پاس بٹھایا پھر کمر میں ہاتھ ڈالا کر اسے اپنے پہلو میں لٹا لیا۔ اب ماہا ویرا کا سر اس کے بازو پر تھا وہ اس کے پہلو سے لگی آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔ ان دونوں کے ٹیٹو اور ہاتھوں میں پہنی رنگز جگمگا رہی تھیں۔
آ،،،، آپ،،،، کون،، ہیں،،؟ ماہا ویرا کو اب اس کے پہلو میں لیٹے احساس ہوا تھا کہ پوچھ تو لے کہ وہ کس کے پاس یوں ماہی بے آب کی طرح تڑپتی چلی آئی تھی۔ وہ شرٹ لیس تھا۔ اور اس کے جسم سے اٹھتی مہک مسحور کن تھی۔ حواسوں پر پر چھاتی۔ پاگل کرتی۔
میں آپ کا کنگ ہوں کنگ ویام،، اور آپ میری کوئین ہیں ماہا ویرا،، جانتی ہیں ناں آپ،، اس کی سرگوشی جان لیوا تھی۔
مطلب میں آپ کی وائف ہوں،، ماہا ویرا کا جسم بری طرح ٹوٹ رہا تھا۔ تبھی وہ اس کے مزید پہلو میں گھسی اور کروٹ بدل کر اس کے دل کے مقام پر اپنا چہرہ رکھ لیا۔ مقابل گہرا مسکرایا تھا۔ مگر ابھی اس کی مزید تڑپ دیکھنے کا خواہشمند بھی تھا۔
ہاں،، آپ میری وائف ہیں،، میرے وجود کا ایک حصہ،، میری محبت،، فیری ٹوپیا کی کوئین،، اس کنگ کے دل کی اکلوتی ملکہ،، ویام ایک جزب کے عالم میں آنکھیں موندے بولے گیا۔
چونکا تو تب جب اپنے سینے پر ایک روئی جیسا نرم،،، پھولوں جیسا ملائم چھوٹا سا بوجھ محسوس ہوا۔ اس نے نرمی سے آنکھیں کھولیں تو وہ اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ جمائے اس کے سینے پر لیٹی بغور اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔ اس کے بالوں کی گھنی سنہری آبشار ویام کے دائیں کندھے پر پھیلی ہوئی تھی۔ جن سے آتی معطر سی بھینی بھینی خوشبو ویام کے حواسوں پر طاری ہو چکی تھی۔
آپ جانتی ہیں ناں کہ آپ صرف اور صرف اس کنگ کی ہیں ،، اس کنگ کی ملکیت ہیں،،
ویام نے بھی کہتے اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ اس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر نگاہ بھٹکی اور حسین و معصوم پورے چہرے کا طواف کرتی نیم وا لبوں تک جا ٹھہری۔
ماہا ویرا کے سامنے ایک پری زاد کنگ تھا۔ جو ان دنیاؤں میں ایک حسین ترین مرد تھا۔ یا وہ اسے ہی بے تحاشا خوبصورت لگ رہا تھا۔ اپنی پوری زندگی میں اس نے کوئی اتنا خوبصورت و ھسین نہیں دیکھا ہوگا۔ اس کی سبز بڑی بڑی آنکھیں ماہا ویرا کے لبوں پر ٹھہری ہوئیں تھیں۔ جانے کیوں مگر وہ شقہتی تھی جو وہ سوچ رہا ہے کر گزرے۔۔
اچانک ماہا ویرا نے جھک کر اس کی بڑی بڑی آنکھوں پر اپنے نرم گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب رکھے تھے۔ ویام نے آنکھیں موند لیں۔
اب اس کی برداشت کی بھی حد پار ہو چکی تھی۔ تبھی ویام نے اس کی نازک کمر پر اپنے ہاتھ رکھے تھے۔ اور وہ ہاتھ رینگتے اس کے کندھوں تک آئے۔ ویام نے اس کے کندھوں پر ہلکا سا دباؤ بڑھا کر اسے اپنے اوپر جھکایا اور اس کے دل کے مقام پر بنے اس جگمگاتے ٹیٹو پر اپنے لب رکھے۔
اور اس کی اس گستاخی پر ماہا ویرا نے بہت زور سے اپنی آنکھیں بند کر کے لمبے لمبے سانس کھینچے تھے۔ ویام نے اس کی بند آنکھیں اور لرزتی پلکیں غور سے دیکھیں اور مسکرایا۔
ابھی سے ہی سانس تھمنے لگا کوئین،، ابھی تو اس کنگ نے سانس تھمنے جیسا کچھ کیا ہی نہیں،، اس کی یہ سرگوشیاں ہی تو ماہا ویرا کے جسم سے اس کی جان کھینچ رہیں تھیں۔
ویام نے نرمی سے کروٹ بدلی تھی۔ اب منظر مکمل بدل گیا تھا۔ وہ مکمل اس پر کسی کالی گھٹا کی طرح چھایا ہوا تھا۔ اس کے پروں نے مکمل طور پر ان دونوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ وہ اس کے چہرے کے بہت قریب اب ماہا ویرا کے ایک ایک معصوم نقوش کو اپنے دل میں نقش کر رہا تھا۔
کوئین،، معلوم ہوا کہ طلب کسے کہتے ہیں،،؟ اس کی پچھلی گردن پر ہاتھ لپیٹ کر انگوٹھے سے اس کا نچلا لب رب کیا۔ ماہا ویرا نے جو پہلے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے ہوئے تھے۔ اب بری طرح مچل کر دونوں ہاتھ اس کی گردن کے گرد حمائل کیے تھے۔
ویام کی گرم پر حدت سانسوں سے ماہا ویرا کو پورا چہرہ جھلس رہا تھا۔ اور پورا جسم ہلکے سے کپکپا رہا تھا۔ ماہا ویرا نے ہاتھوں کے دباؤ سے اس کا چہرا مزید اپنے اوپر جھکایا۔ اور آنکھیں بند کر لیں۔
مگر ویام گہرا مسکرایا۔ اپنی کوئین کا اس کے لئے تڑپنا مچلنا اسے سکون دے رہا تھا۔ وہ مکمل اس کی دسترس میں تھی۔ مگر اب تو یہ خواہش تھی کہ پہلی پیش قدمی اس کی کوئین ہی کرے۔
جب ویام نے کوئی پیش قدمی نہیں کی بلکہ بہت ہلکے سے اس کے لبوں پر پھونک ماری تو ماہا ویرا نے نرمی سے آنکھیں کھولیں۔
وہ ایک شرم ایک جھجھک جو آڑے آ رہی تھی۔ ویام کے اس عمل نے اسے پوری طرح بےبس کیا تھا۔ تبھی ماہا ویرا نے زرا سا سر اٹھا کر تنی رگوں والی چٹانی گردن پر اپنے لب رکھے تھے۔
اور اب تو کنگ ویام نے بھی خود کو روکنے کی زرا سی بھی کوشش ہر گز نہیں کی تھی۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر وہ ان نیم وا لبوں کو بہت شدت سے اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے گیا تھا۔
ماہا ویرا نے سختی سے آنکھیں بند کیں تھیں۔ مگر وہ اس کا گردن میں اپنی نرم و ملائم بانہوں کا ہار ڈالے اس کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی۔
اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنے سینے میں اتارتے وہ اپنی پوری شدتیں اس کے وجود پر بکھیر رہا تھا۔ کمر سہلاتا ہاتھ بازو تک آیا تھا اور ایک جھٹکے سے بازو کی ڈوری کھلی۔ ماہا ویرا کا سانس بند ہو چکا تھا اور نازک لب پر کٹ آ چکا تھا۔ تبھی اس کا چہرا اس کی شدتین برداشت کرتے سرخ ہو چکا تھا۔
ویام نے نرمی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشی تو وہ بری طرح کھانسنے لگی۔ مگر ویام کا اب اسے اپنی دسترس سے آزاد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھی۔ تبھی بھیگے لب اس کے کندھے پر رکھے تو ماہا ویرا کو لگا وہ بے جان ہو جائے گی۔
اس سے پہلے کنگ ویام اور گہرائیوں میں اترتا فضا میں ایک خونخوار غصیلے ڈریگن کی دھاڑ سنائی دی تھی۔ وہ دھاڑ دل دہلا دینے والی تھی اور وہ خونخوار درندے نما دریگن مسلسل فضا میں چلاتا اڑ رہا تھا جیسے کسی کو خبردار کہنا چاہتا ہو۔
ویام بری طرح چونکا تھا۔ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔ ایک نظر بے حال ہوئی بکھرے سے حلیے والی اپنی کوئین کو دیکھا۔ جو گھاس پر پڑی لمبے لمبے سانس بھرتی اپنا سینا سہلا رہی تھی۔ تاکہ سانس درست ہو جائے۔ اس نے بازو سے کھینچ کر ماہا ویرا کو اٹھا کر بٹھایا وہ بے حال سی پھر اس کے سینے سے لگی۔ مگر ویام نے میجک سٹک گھمائی تھی۔ ماہا ویرا کا لباس درست ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں آس پاس فضا میں ایک بھونچال سا برپا ہوا تھا اور ایک دہشتناک ڈریگن دھاڑ سے زمین پر اترا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
راج ونڈرنگ ووڈ سے کوئی ضروری کام نمٹا کر واپس آیا تھا۔ ماہا ویرا کے لئے وہ گرین بیریز لایا تھا۔ جلدی سے دربار میں داخل ہوا تو وشہ اپنی خدمتگاروں کے ساتھ تھی۔
کوئین،، پرنسز کدھر ہیں،، راج نے پوچھا۔
وہ تو اپنی خواب گاہ میں ہے،، کچھ تھکی ہوئی لگ رہی تھی تو سونے چلی گئی،، وشہ نے جواب دیا۔
راج سر ہلاتا اس کی خواب گاہ تک آیا۔ مگر اس کو اس کے کمرے میں نا پا کر راج کے صحیح معنوں میں طوطے اڑے تھے۔
کچھ ہی دیر میں اس نے پورا محل چھان مارا تھا۔ مگر وہ کہیں نا ملی تھی تو دربانوں کی شامت آئی تھی۔
تب ایک دربان سے پتہ چلا کے وہ رائیل گارڈن کی جانب گئی تھی۔ راج اور پہرے داروں نے اسے ہر جانب ڈھونڈا تھا۔ یہ بات وشہ سے چھپائی گئی تھی۔
جب ماہا ویرا کہیں نہیں ملی تو راج کا غم وغصہ اور اشتعال اپنی آخری حدوں تک پہنچا تھا۔ وہ ڈریگن بن کر اڑا تھا۔ تب بلو ویلی میں اونچائی سے ہی اسے جگنو ایک جگہ اکھٹے ہونے کی وجہ سے روشنی کا جمگھٹا سا دکھائی دیا۔ ان جگنوؤں کا ایک جگہ اکھٹا ہونے کا مطلب تھا کہ کوئی گیر ماورائی جوڑا ایک دوسرے کے قریب تھا۔۔
تبھی وہ اشتعال و طیش میں بری طرح پاگل ہوتا زمین پر تھیک ویام کے سامنے اترا تھا۔ ماہا ویرا اس کے سینے میں منہ دئیے ہوئے دبکی ہوئی تھر تھر کانپ رہی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
