No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اس ایک چھوٹی سی سولہ سالہ جل پری کا پہرے داروں سے چھپتے چپھاتے کالے پانی کی تہہ میں موجود زندان کی جانب رخ تھا۔ کام مشکل تھا مگر وہ کر رہی تھی۔ روزیلہ اب سمجھدار ہو چکی تھی۔ اپنی ماں تاشہ سے کئی طرح کے سوال پوچھتی تھی۔ جن سے عاجز آ کر تاشہ اس سے کھنچی کھنچی رہتی تھی۔ اور خود کو اس سے دور دور رکھتی تھی۔ تبھی اب وہ خود ان سوالات کے جواب جاننے نکلی تھی۔
جب روزیلہ تہہ تک پہنچی تو ایک نئی پریشانی سر اٹھائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ زندان کے غار کے منہ کے آگے دیو ہیکل باکس جیلی فشز تھیں۔ جن کے الیکٹرک شاک والے ٹینٹیکلز نے پورے ایریے کو کور کر رکھا۔ یہ یقینا اس کے ماں کے جادوئی طاقتوں کا اثر تھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باکس جیلی فشز اتنی بڑی بڑی تھیں۔ اور ان کے ہانی کے ساتھ لہراتے ٹینٹیکلز میں اتنی پاور فل الیکٹرک شاک تھا کہ کوئی بھی جل پری یا پری زاد ان کی زد میں آتا تو جل کر بھسم ہو جاتا اور اس کی موت طے ہوتی۔
اسے ہر حال میں زندان میں قید اپنی ماسی سے ملنا تھا۔ تبھی وہ خوفزدہ سی آگے بڑھی۔ ٹینٹیکلز پانی میں لہرا رہے تھے۔ وہ ایک ایک کر کے ان سے بچتی بچاتی آگے بڑھی۔ کیونکہ وہ ابھی چھوٹی سی تھی۔تبھی آسانی سے ان کو پار کر پا رہی تھی۔
آخر کچھ پلوں کی محنت کے بعد وہ ان خطرناک ٹینٹیکلز سے بچ کر زندان کے منہ کے بلکل سامنے تھی۔ وہ ڈرتے جھجھکتے اندر داخل ہوئی۔
سب سے پہلے اسے ایلا کے وفادار زندان میں خستہ حالت میں پڑے دکھائی دئیے۔ سامنے ہی ایک بڑے سے غار کے منہ پر جادوئی جال گر ہوا تھا جس میں اسے ایلا اداس سی بیٹھی نظر آئی۔
ماسی،، وہ تڑپ کر تیرتی ہوئی آگے بڑھی اور اس جال کو تھاما۔
روزیلہ،، میری بچی،، تم یہاں کیوں آئی،، اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو،، ایلا نے جال میں سے ہاتھ نکال کر اس کا خوبصورت معصوم چہرہ تھاما۔۔
مجھے سچ جاننا ہے ماسی،، پورا سچ،، ماں آپ کے بارے میں جانے کیا کیا بولتی ہے، مجھے وہ جھوٹ لگتا ہے،، اور سچ مجھے اب آپ بتائیں گی ماسی،،
روزیلہ نے ضدی لہجے میں کہا۔ جیسے جب تک سب کچھ جان لے گی یہاں سے ہلے گی بھی نہیں۔۔
روز جاؤ یہاں سے،، تمھاری ماں کو پتا چلا تو بہت برا ہوگا،، ایلا جھنجھلا کر بولی۔
میں کچھ نہیں جانتی ماسی آپ مجھے سچ بتائیں پلیز،،
کونسا سچ،، روز، تمھاری ماں نے بلکل سچ کہا میرے بارے میں جو بھی کہا،، ایلا نے اپنی جان چھڑانی چاہی۔
نہیں،، آپ اب جھوٹ بول رہی ہیں، سچ بتائیں، ماسی مجھے جاننا ہے،، روزیلہ مزید ضدی ہوئی۔
تب ایلا کو اسے کسی صورت جاتے ہوئے نا دیکھ اس کو سب سچ بتانا ہی پڑا۔ کیونکہ اگر وہ مزید وہاں رکتی تو یقیناََ تاشہ کو اس کا علم ہو جاتا۔ ایلا نے تبھی اسے سب کچھ بتا دیا۔
روز اس نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا،، مجھے میری اولاد میرے بچوں میری محبت سے دور کر دیا، اوشیانہ کے لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی ہے،،
ایلا نے بے حد اداسی سے کہا۔
ہمیں انھیں روکنا ہوگا ماسی، اور یہ میں کروں گی، میں عائش اور آبدار کو ڈھونڈوں گی،، انھیں آپ سے ملواؤں گی، میں آپ کو آزاد کرواؤں گی،، وعدہ کرتی ہوں آپ سے،، روزیلہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔
مگر روز،،،،، آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
سبز، روشنی کا ایک جھماکا ہوا تھا اور ایلا جھٹکے سے اچھل کر دور جا کر گری تھی۔
ماں،،، روز چلائی۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی ایلا میری بچی کو میرے خلاف بھڑکانے کی، بہت بری ہو تم، تم نے اچھا نہیں کیا،،روزیلہ اس نے جو بھی تم سے کہا سب جھوٹ کہا،، اور تم اب اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہو جاؤ،،
ماں، بری وہ نہیں آپ ہیں،، یہ آپ نے کیا، وہ آپ تھیں، جنھوں نے غداری کی اوشیانہ سے، مجھے آپ کو ماں کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو رہی ہے، آزاد کریں ماسی کو ابھی اور اسی وقت،، نہیں تو بہت برا ہوگا،، روزیلہ چلائی۔ اور جال کے پاس ایلا کے قریب جانے کی کوشش کی۔
پیچھے سے تاشہ مکروہ قہقہے لگاتی ہنسی۔
پہرے دار پکڑو پرنسز کو،، تاشہ نے بے حسی سے کہا تب دو جل پری زاد نے آ کر روزیلہ کو دبوچ لیا۔
ماں یہ کہا کر رہی ہیں آپ چھوڑین مجھے اور ماسی کو،، روزیلہ پھر چلائی تھی۔
تاشہ آہستگی سے اپنی بیٹی کے پاس آئی تھی۔ اور غم وغصے سے اسے گھورا ۔ تب ہی ایک ہاتھ سے تاشہ نے اس کا منہ دبوچا تھا۔
اب بات دراصل یہ ہے پیاری پرنسز،، کہ میں جو جو بولتی جاؤں گی وہ تمھیں کرنا ہوگا، تمھیں اپنی ماسی کے بیٹوں کو پھانس کر یہاں میرے پاس لانا ہوگا، کسی بھی طرح، کسی بھی طرح ایک تمھارا کنگ بنے گا اور دوسرا بیچارا مرے گا ، ہاہاہاہاہاہاہاہا،،،،،،تب ملے گا مجھے سکون،،
وہ مکروہ قہقہے لگا رہی تھی روز، نے اپنی ماں کو نفرت سے دیکھا۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کے کہنے سے ایسا کچھ کروں گی،، روز کے لہجے میں بغاوت تھی۔ تبھی تاشہ نے ہاتھ میں پکڑے ترشول کا رخ ایلا کی جانب کیا تھا۔ اس میں سے نکلنے والی بجلی نے ایلا کی جان لینا شروع کی تھی۔ ایلا کی دلدوز چیخیں کالے پانیوں میں گونجیں۔
رک جائیں،، چھوڑ دیں انھیں،، آپ جو بولیں گی میں وہی کروں گی،، روزیلہ نے چیخ کر روتے ہوئے کہا۔
تاشہ نے ترشول پیچھے ہٹایا۔ اور پہرے داروں کو اشارہ کیا۔ وہ باہر کی جانب بڑھی۔ پہرے دار روزیلہ کو دبوچے وہاں سے باہر نکلنے۔ اس نے حسرت سے ایلا کے زخمی وجود کو دیکھا۔ وہ نیم جان سے ہاتھ اٹھا کر اسے روکنا چاہتی تھی۔ مگر روک نہیں پائی۔
مجھے معاف کر دیں ماسی،، میں مجبور ہوں، روز اپنے دل میں مخاطب ہوئی۔ معصومیت بھری آنکھوں سے انسو صاف کیے اور اپنی ماں کے پیچھے چل پڑی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
انڈیا کے شہر گوا کے خوبصورت بیچ پر بنا یہ چھوٹا سا کاٹیج تھا۔ جس میں کائلہ(بلیک وچ) بے چینی سے ادھر ادھر گھومتی مایا وش کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اپنے خاص کام کی تیاری کر رہی تھی۔تبھی آج مایا وش کو اکیلے کالج بھیجا تھا۔ ساتھ بوریا بستر بھی سمیٹ کر بیٹھی تھی۔ یہاں سے اب انھیں کہیں دور جانا تھا۔ آج مایا وش کے فرسٹ ائر سٹینڈرڈ کا رزلٹ تھا اور اب اس نے سیکنڈ ائر میں جانا تھا۔
اسنے مایا وش اور اس کے ملکوتی غیر معمولی حسن کو دنیا اور انسانوں سے اب تک چھپا کر رکھا تھا۔وہ یوں کہ اسے پابند کر دیا تھا کہ وہ ہمیشہ گاؤن پہنے اور اپنا چہرہ نقاب کے پیچھے ڈھانپ کر رکھے۔ اسی ایسا ہی کیا تھا ۔ آج تک کوئی اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔
اور جب سے وہ زیادہ سوال کرنے لگی تھی اس کی سزاؤں میں اضافہ کیے رکھا۔ اب مایا وش بڑی ہو چکی تھی۔ ڈر کے مارے سوال نہیں پوچھتی تھی۔ کیونکہ اس کے پیروں اور وجود کو جادوئی زنجیروں سے باندھا گیا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ قید میں ہے۔ اور کئی طرح کی بار بار کوششوں کے باوجود وہ رہا نہیں ہو پائی تھی۔ اور نا کبھی ہو سکتی تھی۔ کوئی امید کا سرا ہاتھ نہیں آتا تھا۔ وہ آج تک یہ نہیں جان پائی تھی کہ اس کا اس دنیا میں آنے کا کیا مقصد ہے۔ وہ کیوں ہے یہاں۔ اور اتنی عجیب زندگی کیوں گزار رہی ہے۔باقی لوگوں کی طرح اس کی زندگی نارمل کیون نہیں ہے۔اس کے ماں باپ کہاں ہیں ۔ یہ تو طے تھا کہ کائلہ اس کی ماں نہیں تھی کم از کم۔ تو پھر وہ آخر کون تھی۔
کبھی کبھی اسے اپنے وجود میں عجیب طرح کی سنسناہٹ محسوس ہوتی تھی۔ کبھی جب کائلہ اسے بے تحاشا اذیتیں دیتی تھی تو خود بخود جیسے ان زخموں پر مرحم کے پھاہے رکھ دئیے جاتے تھے اور کبھی یونہی بیٹھے بیٹھے خودبخود جسم کے کسی حصے پہ زخم لگ جاتا تھا۔
کائلہ اب مایا وش کی پوری پوری نگرانی کرتی تھی۔ وہ اس طرح کے جگہ بدلنے کے بعد وہ مایا کے ساتھ ہی جس سکول میں اسے داخل کرواتی اسی میں خود ایک میوزک ٹیچر بن کر جاتی تھی۔ یوں مایا وش پر بھی نظر رکھی جا سکتی تھی اور اپنا نیا شکار پھانسنے میں بھی آسانی ہوتی تھی۔
مایا وش کالج سے نکلی۔ پورا جسم خوف سے لرز رہا تھا۔
ہیے مایا وش،، تم تو بول رہی تھی کہ مجھے اپنے ساتھ آج گھر لے کر چلو گی تو اکیلی کیوں جا رہی ہو،، اس کی دوست پریا نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
مایا وش کی آنکھوں میں نمی اتری۔ کتنی بہترین اور بےغرض دوست تھی وہ اس کی۔ پیاری سی پریا ۔ مگر جانتی تھی اگر کائلہ کے حکم کے مطابق وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی تو پریا کبھی لوٹ کے گھر واپس نہیں جا پائے گی۔ وہیں کہیں غائب کر دی جائے گی۔
مایا وش نے ایک سرد سی لمبی سانس کھینچی۔ دل میں سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ کم از کم اب پریا نہیں ۔ آخر کیا کرے گی کائلہ؟ اسے ہی مارے گی ناں۔ جتنا چاہے مارے۔ مگر اب وہ کسی اپنی عزیز دوست کو کچھ نہیں ہونے دے گی۔
“پریا یار ابھی مجھے کوئی ضروری کام یاد آ گیا، میں تمھیں کل لے جاؤں گی اپنے گھر، اوکے،، اس نے نرمی سے کہا تو پریا نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہاتھ ہلا کر اسے گڈ بائے بولا۔
مایا وش خوف سے کانپتی لرزتا وجود لیے اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ جس کا ڈرائیور ایک سیاہ لباس میں موجود پراسرار سا شخص تھا۔ یہ مایا وش نہیں جانتی تھی وہ بلیک وچ کا ایک شیطانی چیلہ تھا۔ جو بلیک وچ کی غیر موجودگی میں اس پر نظر رکھنے کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔
گاڑی کاٹیج کے دروازے پر جھٹکے سے رکی تھی۔
مایا وش گاڑی سے اتر کر کاٹیج داخل ہوئی تھی۔ کائلہ نے اسے ایک نظر دیکھا۔ اس کے پیچھے دیکھا۔
پریا کہاں ہے،،، اس نے خونخوار لہجے میں پوچھا۔
مایا وش انگلیاں نے اپنا نقاب ہٹایا۔ اور خوف کے مارے گبھراہٹ میں اپنی نازک انگلیاں چٹخانے لگی۔
اس کا اس قدر بے اختیار اور بے تحاشا حسن دیکھ کر ایک مرتبہ پھر وہ خبیث چڑیل جی جان سے جلی۔
میں نے پوچھا پریا کدھر ہے؟ وہ اپنی مکروہ آواز میں دھاڑی۔
مم،، میں نہیں لائی،، ا،،، اسے ساتھ،، وہ مم،،، میری،، بب،، بہت اچھی،، دوست،، ہے،، آپ،، اسے کک،، کچھ کر،، دیتی،، اسی لئے،، مم،، میں نن،، نہیں لائی اسے ساتھ،،،
مایا وش نے پسینے سے تر پیشانی لیے کہا۔ کائلہ کی آنکھوں میں شعلے سے لپکے تھے۔
تو تم میری حکم عدولی کرو گی اب مایا وش،، اپنی ماں کی،، جانتی ہو اس بغاوت کی کیا سزا ملے گی تمھیں،، وہ پھنکارتی اس کے قریب آئی تھی۔ شکار ہاتھ سے جانے پر وہ سر کچلی ناگن کی طرح تڑپ اٹھی تھی۔ کیونکہ انھیں نکلنا تھا۔ وقت نہیں تھا اس کے پاس اور مایا وش نے شکار ہاتھ سے نکال دیا تھا۔
وہ جھٹکے سے اس کے قریب آئی تھی۔ اور اپنی بیلٹ سے کنجر نکال کر بجلی کی سی تیزی سے اس کے دونوں بازوؤں پر بڑے بڑے کٹ لگائے تھے۔
مایا وش کی چیخیں پورے کاٹیج میں گونجیں تھیں۔
کائلہ اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر اندر لے کر گئی تھی۔ اور اس کا جبڑا طرح دبوچا۔
اپنا یہ ڈرامہ بند کرو، اور جلدی سے تیار ہو کر باہر آؤ ہم سنگا پور جا رہے ہیں، سنگاپور انٹرنیشل کالج میں ایڈمیشن ہوا ہے تمھارا، اور اگر ادھر کوئی گڑبڑ کی تم نے تو انجام اس بھی زیادہ برا اور بھیانک ہوگا،، سمجھیں،،،
کائلہ اسے بالوں سے پکڑ کر بستر پر پٹخ کر گئی تھی۔ مایا وش اپنے بازو تھامے دبی دبی سسکیوں سے رونے لگی۔
پھر کائلہ کے جانے کے بعد کمرے کی ہر چیز تہس نہس کی۔ پھر نئی جگہ۔ اجنبی پرائے لوگ۔ اپنے دوستوں کو کھونے کا غم ، جو بمشکل اس کے دوست بن پاتے تھے۔
پھر ایک نئی زندگی، بے معنی بے مطلب کی، پھر نئے شکار اور وہی قید کی دردناک اذیتیں۔ وہ اپنے کمر سے نیچے تک جھولتے بال مٹھیوں میں جکڑے بلکتی ہوئی پھر بیڈ پر گری۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ سب بڑے سے ڈائننگ ہال میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح مسکان بیگم کے دائیں بائیں ان کے چہیتے جان سے پیارے شہزادے بیٹھے تھے۔
وہ کبھی عائش اور کبھی آبدار کے منہ میں کھانے کے نوالے ڈال رہیں تھیں۔ دونوں فورتھ ائیر کے سٹوڈنٹس تھے۔ لاکھ چڑنے کے باوجود اپنی دادو کی اس عادت سے دامن نہیں بچا سکتے تھے۔ اسے لئے اب چپ چاپ ساتھ ساتھ خود ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ سے کھا لیتے تھے۔
میڈ اندر سے باؤل میں قورمہ ڈال کر لائی تھی۔ جب اس کی نگاہ سامنے اٹھی۔ ان کے چھوٹے پرنس کے بازوؤں پر سے شرٹ لمحہ بہ لمحہ خون آلود ہو رہی تھی۔ اس نے ایک دلخراش چیخ ماری۔
وہ جو درد برداشت کرتا چہرہ لال بھبھوکا ہو چکا تھا۔ کہ مسکان بیگم کو معلوم نا پڑے کے اس کے ساتھ پھر وہ اذیت ناک عمل دہرایا جا رہا ہے۔ مگر میڈ کی چیخ پر سب اس کی جانب متوجہ ہوئے اور اس کی نگاہوں کے تعاقب میں سب کی نگاہیں اس کے بازوؤں پر اٹھیں۔
ارے یہ کیا،، دادو کی جان یہ کیا ہوا ہے بازوؤں پر،، مسکان بیگم حواس باختہ سی ہوئیں۔ ازلان اور حماد سلطان بھی چونکے۔
تبھی وہ جھٹکے سے اٹھ کر کچھ کہے سنے بغیر اپنے کمرے میں آیا تھا۔ آ کر شرٹ اتاری۔ بازوؤں پر بڑے بڑے کٹ تھے۔ اس نے اذیت سے لب بھینچے۔
وئیر آر یو ڈیم اٹ،،،،،،،،، لبوں سے آہستگی سے پھسلا۔ شرٹ بیڈ پر پٹخی۔ بچپن سے لے کر اب تک وہ کس قدر اذیت سے گزرا تھا وہی جانتا تھا۔ اور اب تو کئی عرصے سے اسے پاگلوں کی طرح ڈھنڈتا پھرا تھا۔ گلی گلی نگر نگر، مگر وہ جو ان دیکھی انجانی تھی جانے کس عذاب میں پھنسی تھی۔ کہ مل کر نہیں دی۔
اس کو ڈھونڈنا، اس کا ملنا کس قدر ضروری ہو گیا تھا یہ تو وہی جانتا تھا۔ اب تو دل و جاں ایک الگ ہی لے پر جھومتے اس کی طلب میں تڑپ رہے تھے مر رہے تھے بے جان ہو رہے تھے۔
وہ گم صم سا جھٹکے سے بیڈ پر لیٹا۔
صرف ایک مرتبہ، بس ایک مرتبہ کہیں سے میرے سامنے آ جاؤ،،، ڈیم اٹ،، اس نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ تخت پر سرد وسپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تھا۔ اتنے سرد تاثرات سے اس کی خوبصورتی ماند پڑ جایا کرتی تھی۔
اپنے اندر پلتے غم و غصے کے طوفان کو اس نے کبھی تھمنے نا دیا۔ بلکہ وقت کے ساتھ اب وہ طوفان ایک ابلتے لاوے کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ وہ ہر روز اپنے دل کے زخم کھروچ کر انھیں تازہ رکھتا تھا کہ دل میں بھڑکی بدلے کی آگ کہیں ماند نا پڑ جائے۔
اس کے بلاوے پر آج کافی عرصے بعد اینچینٹرس فیری ٹاؤن سے محل آئی تھیں۔ آ کر اپنے کنگ کے سامنے تعظیم جھکیں۔ بدلے میں کنگ ویام بھی تخت سے اٹھ کر اس کے سامنے جھکا تھا۔ اور ہاتھ بڑھا کر ان کا ہاتھ احترام سے تھام کر انھیں تخت پر بٹھایا۔
پیچھے کھڑی فیری گارڈینز میں سے ایک فیری نے یہ منظر خونخوار نگاہوں سے دیکھا۔
ویام نے اینچینٹرس کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی گود میں اپنا سر رکھا تھا۔
کیا ہوا کنگ ویام آپ کو،، یوں بلاوا بھیجنے کی خاص وجہ،،؟
اینچینٹرس، مجھے راج کی پرنسز کا پتہ چاہیے، میں ڈریگن لینڈ محل میں ہو آیا ہوں، وہ وہاں نہیں ہے، اپنے لاکٹ کے کرسٹل میں دیکھ کر بتائیے کہ وہ کہاں ہے؟
یہ کہتے ویام نے نگاہیں نیچی کیے زمین کو گھورا تھا مبادا کہیں اس نگاہوں سے نکلتے بھڑکتے شعلے اینچینٹرس نا دیکھ لے۔ مگر اس کا لہجہ اس قدر سرد تھا کہ ایک مرتبہ تو اینچینٹرس کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اینچینٹرس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
مگر ویام،،،
یہ فیری ٹوپیا کے کنگ کا حکم ہے، جیسا کہا ہے ویسا کیجئے ،، لہجہ سرد اور دو ٹوک تھا۔
مگر اس سب میں اس چھوٹی سی جان کا کیا قصور،،؟
میرے بہن بھائیوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا اینچینٹرس،،میرا حکم سمجھیں اور مجھے بتائیں،
ویام نے اس کی بات کاٹی اور اٹھ کر ان کی جانب سے پیٹھ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔
اینچینٹرس نے بے بسی کے احساس سے اسے دیکھا۔
اے کاش وہ ان بہروپوں کا پتہ لگا سکتیں مگر اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ان کا ہر طریقہ آزمانے کے بعد بھی وہ اب تک بے بس تھین۔ کہ دشمن اس قدر طاقت ور تھے ان تک پہنچنے سے پہلے راج اور وشہ کا چہرہ سامنے آ کر ان کا ہر جادوئی کرسٹل ٹوٹ جاتا تھا۔
پھر اینچینٹرس کو کنگ کا حکم بجا لاتے ہوئے اسے راج کی پرنسز کا پتہ دینا پڑا۔ کرسٹل میں بھی وہ پرنسز، دکھ پائی جو کہ آزاد تھی۔ کسی کی قید میں نہیں تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
نیو یارک کے براؤن سٹون پیلس میں آج غیر معمولی سی ہلچل سی تھی۔ ماہا ویرا بےبی کا برتھ ڈے تھا اور اس کی ٹاپ کرنے کی کوشی میں گرینڈ پارٹی تو اس سے چھپ کر اسے سرپرائز دینے کے لئے بالا ہی بالا سب تیاریاں مکمل کی جا رہی تھی۔
وہ ایک جان لیوا انگڑائی لے کر اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھی۔ کل ہی اس کا میٹرک کمپلیٹ ہوا تھا۔ اس نے ٹاپ کیا تھا۔ مگر کسی نے ڈھنگ سے اسے کونگریٹس تک نہیں دی تھی۔ تبھی وہ سب سے ناراض اب روم میں بہت لیٹ سو کر اٹھی تھی۔ چھوٹا سا منہ پھولا ہوا تھا۔
دن کے تین بج چکے تھے اسے اپنے روم میں ڈیرا جمائے بیٹھے۔ مگر مجال ہے جو کسی نے اس کی خبر لی تھی۔ اس کا مزید پارہ ہائی ہوا۔
تجسس بھی ہوا کہ آخر مسئلہ کیا ہے کہ وہ جسے ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھنے والے لوگوں نے مڑ کر خبر تک نا لی تھی۔
اس نے اٹھ کر روم سے باہر جھانکا۔ ہو کا عالم تھا۔ وہ یونہی ملگجے سے حلیے میں نیچے اتر کر آئی۔ اس کا بری طرح موڈ خراب ہوا۔ بڑے سے لاؤنج میں اندھیرا دیکھ کر۔ کسی کو بھی نا پا کر۔
جمی ڈیڈ،،؟
سیرا مام،،
وشہ مما،،
راج ڈیڈ؟
وہ آوازیں لگا رہی تھی مگر کسی نے کوئی رسپانس نا دیا۔
وہ جھنجھلائی پیر پٹختی واپس جانے ہی والی تھی جب اشانک دھیر ساری لائٹس آن ہوئیں۔ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ مبہوت سی کھڑی لاؤنج کی سجاوٹ دیکھتی رہی۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،، سب نے اس کے دوستوں نے مل کر کلیپنگ کی اور اسے وش کیا۔
اوووو، یسسسسس،،،، وہ چیخیں مارتی بھاگ کر سیرہ اور وشہ سے لپٹی۔
واؤ،،، ائم سو ہیپی مما،، سو اکسائیٹڈ،، وہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔
پگر مسکراتی وشہ اور سیرہ کا ہاتھ تھام کر کیک کاٹا۔ اب وہ سب کو کیک کھلا رہی تھی۔ وہ تیار نہیں تھی۔ تبھی اس کے دوست اس پر حملہ آور ہوئے تھے۔ انھوں نے س کا منہ کیک سے رنگ ڈالا۔ اس نے بھی جم کر مقابلہ کیا۔
ان کی کھلکھلاہٹیں اور قہقہے پورے پیلس میں گونج رہے تھے۔ ایسے میں ایک سایہ دور کھڑا اپنی سرخ آنکھوں سے ان سب کو گھور رہا تھا۔
وہ جمی کے پاس آئی اور لاڈ سے اس کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔
یہ سب کب کیا آپ لوگوں نے ڈیڈ،،
جب میری پرنسز کو منہ پھولا ہوا تھا اور اس نے اپنے آپ کو اپنے روم میں بند کیا ہوا تھا،، جمی نے اس کی چھوٹی سی ناک دبائی۔ تب وہ منہ بناتی راج تک آئی اور اس کے سینے سے لپٹی۔
ٹھینکس ڈیڈ سو ہیپی،،،، وہ اچھلی۔ راج مسکرا دیا۔
مگر کون جانتا تھا کہ ان خوشیوں کھلکھلاہٹوں کی عمر کتنی طویل ہے؟
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سنگا پور انٹرنیشنل کالج کے آڈیٹوریم میں اس وقت ایک بھونچال سا برپا تھا۔ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ کالج کو خیر باد کہنے والے سٹوڈنٹس کو الوداع اور نیو قمرز کو ویلکم کیا جا رہا تھا۔ سٹیج پر تھرڈ ائیر کے سٹوڈنٹس اب پرفام کر رہے تھے جو کہ اب فورتھ ائیر میں پروموٹ ہوئے تھے۔
ایسے میں عائش سٹیج سے اتر کر اب ایک کونے میں سینکڑوں لڑکیوں کے چمگھٹے میں سگرٹ لبوں کے درمیان دبائے لاپرواہی سے کھڑا تھا۔
یہ وہ تھیں جو اس حسین ترین اور طاقتور مرد سے دوستی کرنے کی خواہشمند تھیں۔ مگر وہ اپنی من پسند لڑکی کے علاوہ کسی کو گھاس ڈالنا پسند نہیں کرتا تھا۔ تبھی سامنے سے ایک تیز تراز اور حسین لڑکی آتی دکھائی دی تھی۔
ہائے بیوٹیفل،، اس نے آتے ہی عائش کے سامنے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا۔
ہائے،، عائش نے لاپروائی سے ہینڈ شیک کر کے ہاتھ پیچھے کھینچا۔
آئی ایم رجا،، اسنے اپنا تعارف کروایا۔
آئی ایم عائش،، اس نے کہتے دوسری جانب دیکھا۔ لڑکیوں نے ٹھنڈی آہیں بھریں۔ ہر کوئی ان اوشن بلو آئیز میں ڈوب کر مر جانا چاہتی تھی۔
بٹ میں نے تو سنا ہے آپ کو لپ اسٹک رمور بھی کہتے ہیں یا لور بوائے،، اس نے کہا تو عائش قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔ یعنی وہ مکمل ہوم ورک کر کے عائش کو جاننے آئی تھی۔
ایسے میں یونی کے گیٹ سے کائلہ اور وہ بلیک گاؤن میں ڈری سہمی اندر آتی دکھائی دی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
