Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ماہا ویرا کو ایسے محسوس ہوا جیسے دروازے پر کوئی تھا ماہا ویرا نے سہم کر دروازے کی جانب دیکھا تھا۔ بہت ڈری سہمی تھی وہ۔ آج دو دن کے بعد اسے ہوش آیا تھا۔ وہ بیڈ سے نیچے اتری۔ حیرت سے خود کو دیکھا اس کے تن پہ سے لباس بھی بدلا گیا تھا۔

اور اب وہ ایک انتہائی خوبصورت جگماتے سرخ رنگ کے شاہی لباس میں تھی۔ ہاف سرخ آستینوں میں سے دودھیا گلابی بازو دمک رہے تھے۔ ہاتھ میں ایک انتہائی خوبصورت چھوٹے سے مگر چمکدار اور دمکتے کرسٹل کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ پیچھے سنہری بال کھلے تھے جبکہ سر پر بالوں کے درمیان ایک چھوٹا نفیس سا کراؤن جگمگا رہا تھا۔ وہ لونگ ٹیل فراک تھی جب وہ بیڈ سے اتری تو فراک پیچھے سے زمین کو لگی۔

اس نے ہلکے سے دروازے کو پش کیا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ مطلب دروازہ کھلا تھا۔۔ مگر دروازے کے آس پاس کوئی بھی تو نہیں تھا۔ وہ باہر نکلی۔ ایک طویل تر کوریڈور تھا۔ اس نے قدم آگے بڑھائے تو دہشت کے مارے چیخ نکلتے نکلتے بچی۔ سختی سے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی آواز کا گلا گھونٹا تھا۔ اب تو وہ اس سیاہ ہیولے سے بے تحاشا خوفزدہ ہونے لگی تھی۔ اور دیواروں پر لگی قد آور تصاویر اسی بلیک ہڈی والے سیاہ ہیولے کی تھی۔ جو کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہاتھ سے بنائی گئی ہیں۔ یا شاید محض اسے ہی ڈرانے کو وہ ادھر لگائی گئیں تھیں۔

وہ انھیں نظر انداز کرتی آگے بڑھی۔ کوریڈور سیڑھیوں پر اختتام پزیر ہوا تھا۔ وہ دبے قدموں سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔ اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ آج اس کی یہ دوسری کوشش تھی یہاں سے بھاگنے کی۔ وہ دل میں اب کی بار پکڑے نا جانے کی دعائیں مانگتی نیچے بڑے سے ہال سے صوفوں کے پیچھے چھپتی چھپاتی لاؤنج کے دروازے تک پہنچ چکی تھی۔ سہمی بڑی بڑی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔ جب یہ پکا یقین ہوا کے وہاں کوئی بھی نہیں تھا تو دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ مگر وہ کھل کر نا دیا۔

ماہا ویرا نے پھر ادھر ادھر دیکھا۔ اور ایک مرتبہ پھر دروازے پر طبع آزمائی فرمائی۔ مگر وہ کھلنا تو دور کی بات، ہل کر بھی نا دئیے۔

وہ کھڑکی سے روم میں آیا تھا۔ مگر اسے اس روم میں اس بیڈ پر نا پا کر کنگ ویام کے ماتھے پر ڈھیروں بل آئے تھے۔ وہ اسے ڈرانے، دھمکانے، اور اذیت دینے آیا تھا۔ وہ اسے پھر سے تکلیف دینے کے عزائم لے کر یہاں آیا تھا۔ اس کے ارادے اسے تڑپانے کے تھے۔ تاکہ کنگ راج اسے اس حالت میں دیکھ تڑپے۔۔ پورے گھر سے اس نے تمام پہرے داروں کو ہٹا دیا تھا۔ خدمتگار بھی اب اس ڈارک ہاؤس کے باہر تھے۔
اور ایسا اس نے کیوں کیا تھے؟
اسے کیوں اپنے اور اس کے بیچ کوئی نہیں چاہیئے تھا؟
کیوں وہ اسے تنہائی میں ملنے دیکھنے آیا تھا؟
نہیں جانتا تھا۔؟
اور اب وہ اس روم میں نہیں تھی تو اس کی رگیں تن گئیں تھیں۔

ادھر نیچے وہ اس دروازے کے ساتھ گھل کر ہلکان ہو رہی تھی۔ اپنے پیچھے پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز آئی تھی اس کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا۔ جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دروازے سے لگی۔ سامنے دیکھا تو ملگجے سے اندھیرے میں وہ سیاہ ہڈی پہنے سیاہ لباس میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔وہی ہڈی سے بس ہونٹ اور مونچھیں نظر آ رہی تھیں۔ ماہا ویرا نے اپنی چیخیں دبانے کو اپنے منہ پر دونوں ہاتھ زور سے رکھے تھے۔

کہیں جا رہی ہو ڈریگن پرنسز،،؟ وہی مخصوص بھاری آواز سنائی دی تھی۔ وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آ رہا تھا۔ بغور اس نازک چھوٹی سی جان کو دیکھا۔ جو اس سرخ شاہی دلہن والے لباس میں کچھ اور ہی چیز لگ رہی تھی اسے۔

ویرا نے زور سے نفی میں سر ہلایا۔ اس کا نائٹ مئیر اس کے سامنے تھا تبھی دہشت و خوف سے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔
“تو پھر اپنے روم سے باہر کیوں نکلیں،،؟ یہاں اس دروازے کے پاس کیا کر رہی ہو،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔

وہ اس کی آواز سننا چاہتا تھا۔ مگر وہ تو اپنے نازک لبوں کو ہاتھوں سے سختی سے بھینچ کر کھڑی تھی۔ وہ اس کے قریب آ چکا تھا۔ ویام نے جب دیوار کی دونوں جانب اپنے ہاتھ رکھ کر اس کا بھاگ نکلنے کا رستہ بند کیا تو اس نے زور سے آنکھیں بھی بند کر لیں تھیں۔
اپنے لبوں سے اپنے ہاتھ ہٹاؤ،، آج اس کے لہجے میں ایک ان دیکھی آنچ، درشتگی اور نفرت نہیں تھی۔ مگر ماہا ویرا ہنوز اس سے بے تحاشا خوف کھا رہی تھی۔
اس نے اس کے کہنے پر ہاتھ تو نیچے کر لیے۔ مگر اپنے نازک گداز ہونٹوں کو آپس میں فولڈ کیے سختی سے بھینچ رکھا تھا۔

(یہ احتیاط شاید اس لیے کہ اس دن وہ اپنے چلانے کے لئے منہ کھولنے کی دردناک سزا بھگت چکی تھی کہ جب اس نے چلانے کو منہ کھولا تھا تو اس نے اس کے گلے میں کوئی ایسی چیز انڈیلی تھی جس سے ماہ ویرا کو اتنی تکلیف ہوئی تھی کہ اس کی روح تک کانپ گئی تھی۔)

اس کی اس احتیاط پر کنگ ویام کے لبوں کو ایک میٹھی سی مسکان نے چھوا تھا۔ تبھی ہاتھ بڑھا کر شہادت کی انگلی سے نچلے لب کو اوپر والے لب کی قید سے آزاد کیا۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی تھی۔
جج،، جانے دیں مم،، مجھے،،، ا،،، اب،،، نہیں،،، نکلوں،،،، گی ،،،روم،،،، سے،،، اب،، نہیں،،،،، نکلوں گی،،،،
ماہا ویرا کے دل کی دھڑکن تیز تر ہو چکی تھی۔ سانس بھی بمشکل لے پا رہی تھی۔ اور اس خوف ودہشت کی اذیت اتنی ہی برداشت کر سکتی تھی وہ تبھی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر وہ زمین بوس ہوئی تھی۔

کنگ ویام جو اس کے ہلتے لب دیکھنے میں محو تھا۔ چونک کر اس کو دیکھا۔ جو اب زمین پر بائیں کروٹ گری ہوئی تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اس کے اوپر زرا سا جھکا تھا۔ سنہرے بال چہرے پر گرے تھے۔ ویام نے ہاتھ بڑھا کر چہرے سے نرمی سے بال پیچھے ہٹائے۔۔

ایک ڈریگن پرنسز ہونے کے باوجود اتنی کومل نازک اور حساس دل کی مالک کیوں تھی وہ آخر؟ کنگ ویام یہ بات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
وہ جو اسے اذیتیں دینے آیا تھا اب نرمی اور پورے حق سے اس کا گداز نرم وجود اپنے بازوؤں میں بھرا تھا۔ وہ اسے لئے اس مخصوص کمرے میں آیا تھا۔ بہت آرام سے اسے بیڈ پر اتارا۔

اب بیڈ پر لٹا کر سر تا پیر اسے غور سے دیکھا تھا۔
جادوگرنی تو کہیں سے نہیں لگتی تھی نا ہی چڑیل تھی،، ہاں بنا پنکھوں والی بے تحاشا نازک اور حسین پری ضرور لگتی تھی۔ جسے آج وہ بنا پنکھوں والی چمگادڑ کا نام دے چکا تھا۔
وہ اس کے قریب نیم دراز ہوا تھا۔ شہادت کی انگلی سے اس کے ہونٹوں کو چھوا۔ وہ جو کچھ بھی کر رہا تھا بلکل غیر ارادی طور پر کر رہا تھا۔

اب اس نے اس کے تکیے پر بکھرے بالوں کو مٹھی میں بھرا تھا۔ بالوں سے اٹھتی مہک بہت سوندھی اور دلفریب سی تھی جیسے دل و دماغ پر ایک سرور سا طاری ہوا ہو۔ اب اس نے دو انگلیوں سے اس کی بازو کی نرماہٹ محسوس کی تھی۔ جب ان منہ زور جزبات نے دل و دماغ پر طاری ہو کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بلکل مفقود کر دی تو مکمل اس پر جھکا تھا۔ مڑی ہوئی پلکوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا۔ اب چہرے کے ایک ایک نقش کو وہ اپنے ہونٹوں سے چھو کر محسوس کر رہا تھا۔

شدتِ برداشت سے آنکھیں لال انگارا ہو چکیں تھیں۔ کچھ پل وہ بلکل ساکت سا ہو کر اس کے گداز لبوں کی جانب دیکھتا رہا۔ پھر اپنے دل کی آواز پر سر تسلیم خم کرتا جھکا اور ان لبوں کو ہلکا سا چھو کر فورا پیچھے ہٹ گیا۔ دل پر ایک طوفان سا گزرا تھا۔
وہ کسمسائی تھی۔ اور اپنے اوپر وزن سا محسوس کر کے پٹ سے آنکھیں بھی کھول دیں تھیں۔ چاروں طرف دیکھا کوئی بھی تو نہیں تھا۔

مگر اپنی بیلی پر اس دن والے اس رنگ برنگے پرندے کو دیکھ اس کی آنکھیں حیرت سے ضرور پھیل گئیں تھیں۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥

عائش دو دن سے انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔ جس فارم ہاؤس پر اسے بغیر لاکٹ کے چھوڑ کر آیا تھا۔ وہاں اسے تڑپانے کو جان بوجھ کر بس برائے نام پانی رکھ چھوڑا تھا۔ سکون میں تو خود بھی نہیں تھا۔

وہ ضرور سکون میں رہتا اگر اس کے چہرے سے بے پناہ معصومیت اور آنکھوں سے سچائی نا چھلکتی۔ نا کالج میں سکون تھا۔ نا جم میں نا پانی میں نا اپنے کمرے میں ۔ بار بار وہ معصوم چہرہ آنکھوں کے پردے کے آگے لہراتا تو وہ بے چین سا ہو جاتا۔ اب بھی بیڈ پر اوندھا لیٹا خود سے ہی جھنجھلا رہا تھا۔ اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
“رائٹ میں ایک ہی مرتبہ اس سے سچائی اگلواؤں گا اور اسے وہاں پھینک آؤں گا جہاں سے وہ آئی ہے،، وہ خود سے بول کر جھٹکے سے اٹھا۔ کار کی چابی، والٹ وغیرہ اٹھایا اور تیزی سے باہر نکلا۔
اسے ایسے بے چین اور جھنجھلایا ہوا ازلان بھی دیکھ چکے تھے۔ باپ تھے سو بیٹے کے تیور خوب پہچانتے تھے۔

روزیلہ نے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔ سانس تک لینا مشکل ہو رہا تھا۔ بڑے سے باتھ ٹب میں وہ اس دن کی قید تھی۔ کچھ دیر باہر نکلتی۔ پھر سینے میں سانس الجھنے لگتی تو باتھ ٹب میں پناہ لے لیتی۔ وہ نازک جان بلکل مرجھا سی گئی تھی۔ اب بھی باتھ ٹب میں لیٹی لمبے لمبے سانس، بھر رہی تھی۔ جب وہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر ایک مرتبہ پھر اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ روزیلہ اسے پھر سے سامنے دیکھ کر سہم گئی تھی۔

عائش کرسی گھسیٹ کر لایا تھا اور لا کر باتھ ٹب کے پاس ٹانگ جما کر اس کے سامنے براجمان ہوا۔ اور اس کے تاثرات جس طرح کے تھے روزیلہ کو اپنی موت بلکل سامنے نظر آ رہی تھی۔ ادھر اس نے بغوراسے دیکھا تھا جو نازک سی کومل سی جل پری بلکل مرجھا سی گئی تھی۔ مگر اس نے اس کی یہ پس مردہ حالت دیکھ کر بے اختیار نگاہیں چرائیں تھیں۔

ایک مرتبہ پوچھوں گا،، بلکل سچ سچ بتانا، مجھے تمھارے منہ سے تمام تفصیل جاننی ہے یہاں کیوں اور کس لئے ہو، اگر میرے ہاتھوں بے موت مرنا نہیں چاہتیں تو بغیر کومے اور فل سٹاپ کے شروع ہو جاؤ،،
عائش نے چٹکی بجا کر اسے شروع ہونے کو بولا تھا۔ وہ ہلکے سے لرزتی کانپتی باتھ ٹب کے پانی سے کمر تک باہر نکلی تھی۔

وہ،،،،، ایلا،،، مم،،، ماسی،، زندہ ،،،ہیں،،،، اور ماں،،،، کی قید،،،،،، میں ہیں،،،،
وہ دھیرے دھیرے سب کچھ بتاتی چلی گئی۔ اپنی ماں کی غداری کی داستان، اس کی بغاوت اور سرکشی کی داستان،،
عائش غم وغصے سے پاگل سا ہوا تھا۔ یعنی وہ اتنے سال ماں کے ہونے کے باوجود اس سے دور رہے تھے۔ اور اس کے بابا نے جو ان کی ماں سے بے پناہ محبت کی تھی آج تک نا دوبارہ اپنا گھر بسا پائے نا ہی خوش رہ پائے۔ صرف اور صرف اس کی ماں کی وجہ سے۔

وہ طیش کے عالم میں اٹھا اور اسے بالوں سے جکڑ کر باتھ ٹب سے باہر گھسیٹا تھا۔
کتنے آرام سے اپنی ماں کی رام کہانی سنا رہی ہو، ہمارے خاندان کو پل پل تڑپا کر تمھاری ماں کتنے سکون میں ہے اب میں تمھیں بتاتا ہوں کہ پل پل تڑپ کر مرنا کہتے کسے ہیں روز جان،،
وہ اسے گھسیٹتا باہر لے جا رہا تھا۔ وہ جانتی تھی باہر وہ اس سلگتی دھوپ میں تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔

نہیں ،،عائش چھوڑیں مجھے،، میرا کوئی قصور نہیں،، نہیں معلوم تھا مجھے کچھ بھی،، وہ میری ماں ہیں،، مگر میں نہیں دینا چاہتی تھی ان کا ساتھ،، صرف ماسی کی جان بچانے کی خاطر یہاں چلی آئی،، چھوڑ دیں مجھے،، رحم کریں مجھ پر،،
وہ اڈیت سے چٹختی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر خود کو چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔ مگر چھڑا نہیں پائی۔ اس اوشن پرنس میں بہت طاقت تھی اور وہ بے تحاشا کمزور ہو چکی نیم جان سی جل پری تھی۔

عائش نے اسے باہر پول کے پاس پھینکا تھا۔ مرو ادھر،، تڑپو،، تمھاری ماں کو بھی ایسی جگہ لے جا کر ماروں گا جہاں اسے پانی کی بوند تک نصیب نہیں ہوگی،، سمجھیں،،،
وہ دھاڑا تھا۔

روزیلہ نے مزاحمت بند کر کے اذیت کی انتہا سے بہت زور سے آنکھیں بھینچیں تھیں۔ موت اگر طے تھی وہ اب اس ستمگر سے اپنی جان کی بھیک بلکل بھی نہیں مانگے گی۔ قطعی نہیں۔
وہ اسے وہیں چھوڑ کر گاڑی لے کر نکل آیا تھا۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥

سکون تو کہیں ایسے بھی نہیں آیا تھا غصے سے پاگل ہوتے اسے وہاں پھینک تو دیا تھا۔ مگر اب اتنی اذیت میں تھا کہ جیسے دل کو کوئی اپنے پیروں تلے کچل رہا تھا۔ تبھی وہ آدھے رستھ سے گاڑی کا یو ٹرن لیتے واپس چلا آیا تھا۔ گاڑی جھٹکے سے فارم ہاؤس کے گیٹ پر رکی تھی۔ وہ تیزی سے باہر نکلا۔ جیسے کوئی قیمتی متاع سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل چلی تھی۔

وہ تیزی سے اس طویل وعریض فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوا تھا۔
وہ جو بے تحاشا بگڑا ہوا تھا۔ جسے نے اپنی حقیقت سے اپنے اصل سے پوری طرح انکار کر کے منہ موڑ لیا تھا۔ جس کی زندگی میں کوئی بھی کسی بھی قسم کی چیز معنی ہی نہیں رکھتی تھی۔ بےحس تھا۔ جسے کافی سارے بےہودہ القابات سے نوازا جاتا تھا۔
آج جانے ایسا کیا ہوا تھا کہ اس کی تمام سوئی حسیات انگڑائی لے کر بیدار ہوئیں تھیں۔ آخر ایک نازک سی جل پری کو آب و ساگر کے بغیر دھوپ میں تڑپتا مرنے کے لئے چھوڑ کر گیا تھا تو کیسے نا اب اسے اس کا ضمیر جھنجھوڑتا۔
آخر اس نے کسی کی کیے کی سزا اسے دی ہی کیوں تھی۔ اگر روز کی ماں نے اس کی ماں کو قید کیا تھا تو اس میں اس چھوٹی سی جان کا کیا قصور تھا۔

تبھی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا فارم ہاؤس کی بیک سائیڈ پر سوکھے واٹر سوئمنگ پول کے پاس پہنچا تھا جہاں وہ اسے مرنے کے لئے چھوڑ کر گیا تھا۔ اور حسبِ توقع وہ تیز دھوپ میں بہت بری حالت میں سوئمنگ پول کے کنارے پڑی اب بے جان ہو چکی تھی۔ دھوپ اور گرمی نے اس کے جسم پر پورے وجود پر دراڑیں بنا دی تھیں۔ وہ تڑپ کر اس کے پاس بیٹھا اور اس کا سر اپنی گود میں بھرا۔
روز،،،،،، پلیز آنکھیں کھولو،، اس نے شدت سے اس کا چہرہ تھتھپایا۔ وہ سانس نہیں لے رہی تھی۔ نا کوئی ری ایکشن تھا۔ وجود جیسے دھوپ میں جھلس چکا تھا۔ اس نے اس کی سختی سے بھینچے نازک ہونٹوں کے درمیان وہ سمندری موتی رکھا۔ تبھی اس خوبصورت جل پری کی مچھلی نما پونچھ غائب ہو کر اس کے پیر واضح ہوئے تھے۔

اس نے جلدی سے اسے بازوؤں میں بھرا۔
روزیلہ،، میری جان کچھ نہیں ہوگا تمھیں،، وہ اسے بلا رہا تھا اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر روز کا سر ڈھلک کر اس کے کندھے سے جا لگا۔ وہ اسے اندر اپنے بیڈ روم کے واش روم لایا تھا۔ باتھ ٹب میں اسے اپنے بازوؤں میں بھرے ہوئے ہی بیٹھ کر شاور فل پاور کے ساتھ آن کیا تھا۔

وہ اسے اپنے سینے سے لگائے بیٹھا رہا۔ اور پانی سے لمحہ بہ لمحہ روزیلہ کے جسم کی دراڑیں بھرتی چلی گئیں۔اور اس کا جسم ان ہیل ہونے لگا۔ مگر وہ سانس اب بھی نہیں لے رہی تھی۔ وہ جو مسلسل اس کا بے تحاشا حسین اور معصوم چہرہ بغور دیکھ رہا تھا اس بات پر اب چونکا تھا کہ اس نے ابھی تک سانس نہیں لیا تھا۔
روز،،،، وہ دھاڑا۔
تب بلکل اچانک بغیر سوچے سمجھے اس نے اس کے گداز سرخ ہونٹوں پر اپنے لب رکھ کر اس کا سانس ان ہیل کیا تھا۔ چند پلوں کی کوشش کے بعد روزیلہ نے جھٹکے سے ایک لمبا سانس بھرا تھا۔
اسے سانس لیتے دیکھ وہ نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔ اور سکون کا سانس لیا۔ جبکہ روزیلہ اس قدر ڈر چکی تھی۔ پچھلے کچھ وقت کے لئے اس قدر تکلیف برداشت کی تھی کہ ہوش بحال ہوتے ہی وہ اتنی بدحواس ہوئی کہ شدت سے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑے پھوٹ پھوٹ کر روتے اسی ستمگر اور ظالم کے سینے میں منہ دیا تھا۔

وہ جو اب اس کے اتنے قریب ہونے اور سہی سلامت ہونے پر سکون محسوس کر رہا تھا اس کے اتنے تڑپنے پر اپنی آنکھیں بھی نم ہوئیں تھیں۔ اس نے سکون سے اس کی کمر سہلاتے اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔
ہیے،، ریلکیس روزیلہ، کچھ نہیں ہوا ہے ،،تم ٹھیک ہو،، گہرے گہرے سانس لو،، اس نے اس کا چہرہ تھام کر اپنے قریب تر کیا اور اسے بغور دیکھا۔
سرخ معصوم چہرہ، بڑی بڑی آنکھوں میں سرخ ڈورے، تکلیف سے تھرتھراتے نازک سرخ لب،
سانس اب بھی اٹک اٹک کر لے رہی تھی۔
تبھی ایک مرتبہ پھر اس نے اس کہ گردن کے گرد ہاتھ لپیٹا تھا اس کے نیم وا لرزتے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کے سینے میں اپنی سانس اتار کر اس کی سانس بحال کی تھی۔ روزیلہ نے اس کی کمر پر سے اس کی شرٹ بری طرح مٹھیوں میں جکڑ رکھی تھی۔

عائش یہ عمل کر کے سکون محسوس کر رہا تھا۔ جبکہ وہ بے تحاشا رو رہی تھی۔

عائش،،، عائش بیٹا،، وئیر آر یو،،، کیا کرتے پھر رہے ہو تم،، میں پوچھتا ہوں روز کدھر ہے،،
باہر سے آتی ازلان کی آواز پر وہ نرمی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشتا پیچھے ہٹ کر باتھ ٹب سے نکلا تھا۔
وہ چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ تب ازلان اندر داخل ہوا تھا۔
عائش کیا ہے یہ سب،، میں پوچھتا ہوں یہ ہو کیا رہا ہے یہاں،، ازلان روز کی ایسی دگرگوں حالت دیکھ کر دھاڑا تھا۔
عائش نے ایک چور نگاہ اس نازک جان پر ڈالی۔

یہ تو آپ اس سے ہی پوچھیں ڈیڈ،، کہ ہماری ماں کے زندہ ہونے کے باوجود اس کی ماں نے انہیں اتنے برس کیوں ہم سب سے دور رکھا،،
عائش نے دانت پیس کر کہا تھا۔ وہاں رکا نہیں اور ازلان سلطان کو حیران پریشان چھوڑ کر خود وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔

اس کی اس بات پر روزیلہ کے رونے میں شدت آئی تھی۔ کہ اب سامنے کھڑے باپ جیسے مہرباں شخص کو اپنی ماں کی کالے کرتوت بتانے تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️♥

آب،،، دد،، دار،، یہ کیا،،، مایا وش اس کی گرفت میں بری طرح مچلی تھی۔ مگر وہ آج اپنی کوئین کی گستاخیوں پر اسے بخشنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔
تبھی کندھے سے شرٹ پیچھے کر کے وہ اس کے وجود پر اپنے لمس کے پھول بکھیرنے لگا تھا۔
آبدار،، مایا وش نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تھی مطلب اس کے جنون کو پھر سے آواز دی تھی تبھی ٹینٹیکلز نے مایا وش کی کلائیوں کو جکڑ کر بیڈ سے لگایا تھا۔
آبدار نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے کندھوں سے تھام رکھا تھا اور اب اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم رہا تھا۔ مایا وش کو لگا وہ بے جان ہو جائے گی۔
آبدار،، چھوڑیں مجھے،، وہ بری طرح کسمسائی۔ وہ جو پوری طرح اس پر حاوی تھا اس کے یوں کسمسانے پر دل میں ایک بھونچال سا پربا ہوا۔ آبدار نے پھر جس طرح سے خود سے جڑے اس کے وجود کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا مایا وش کا دل کیا یہیں ڈوب کے مر جائے۔
وہ کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔

آبدار کی نگاہوں کا فوکس اب اس کے نرم و گداز لب تھے۔ مایا وش نے اس کے ارادے بھانپ کر نفی میں سر ہلایا تھا۔
آب،،،،،،،
اس کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی۔ جب اسے شدت وجنون کی ملی جلی کیفیت سے چپ کروا دیا گیا۔ مایا وش اب اس کی شدتیں سہتی اس سے الجھ کر پچھتا رہی تھی۔ مایا وش نے اب مچلنے کی جرأت ہر گز نہیں کی تھی۔ مگر وہ اپنے ہاتھ آزاد کروانے کی پوری کوشش کرتی رہی جس کا اس کے کنگ پر کچھ الٹا ہی اثر ہوا تھا۔

وہ پوری طرح بے بس ہوئی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔ آبدار نے اپنی پوری ول پاور لگا کر خود کو روکا اور نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھا۔ جبکہ وہ وہیں پڑی لمبے لمبے سانس بھرتی رہی۔

ابھی سے سانس اٹک گئی کوئین، جبکہ یہ تو ایک چھوٹی سی سزا تھی،، اپنے کنگ پر بھروسہ نا کرنے کی،، بغیر لڑے ہار ماننے کی،، خود کو بےبس سمجھنے کی،، میں چاہتا ہوں، اس سزا کے بعد آہ ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ آپ صرف اس کنگ کے آگے بےبس ہیں،، اور اس دنیا یا کسی بھی دنیا کی کسی چیز کے سامنے نہیں،، سمجھیں آپ،،
آبدار نے کہا تو مایا وش نے حیرت سے اس کی پشت کو دیکھا جو بغیر اد کے بتائے اس کے دل کے ہر راز کو پا گیا تھا۔

تبھی وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
آبدار نے بری طرح اپنے دانتوں تلے اپنے لب کچلے۔ آبدار نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ تیور لیے مایا وش کا بازو تھامے اسے بیڈ سے نیچے اتار کر اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ کٹی ڈال کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئی۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥