No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
نوٹ۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جس کا حقیقی دنیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ تبھی ایک فینٹسی fairy tale ہے۔ یہ ناول میرے ان لاڈلے ریڈرز کے لئے جو اپنی تمام تر ٹینشنز اور ڈپریشنز بھلانے کے لئے میرے ناولز ریڈ کرتے ہیں۔ اور تصوراتی دنیا میں کھو جانا چاہتے ہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
گہری رات کا سناٹا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ہاں مگر چودھویں کے چاند نے اپنی دودھیا روشنی چہار سو پھیلا کر ایک عجیب اطمینان بھری ٹھنڈک اور روشنی ہر سو پھیلا رکھی تھی۔
ایسے میں ملائیشیا کے اکیس آئی لینڈز میں سے ایک جنت نظیر lankayan island کی بیچ پر ایک بہیوش شخص جو اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔ اسے ہوش آیا تو وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔
سنگاپور کے رائل خاندان کا اکلوتا چشم وچراغ ازلان سلطان جو ایڈونچر اور تھرل کے چکر میں اپنے دوستوں سے الگ ہو گیا تھا اور ایک چھوٹی سی بوٹ کے زریعے سمندروں کی منہ زور طوفانی لہروں میں بہہ کر حادثاتی طور پر یہاں پہنچ چکا تھا اب ہوش میں آتے ہی وہ بے حد گھبرایا تھا۔
ٹانگ کسی پتھر سے ٹکرانے سے زخمی ہو چکی تھی۔ اور اسے بے حد تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ خود کو بمشکل گھسیٹ کر پانی سے کچھ دور لایا تھا اور اتنے میں ہی اس گھبرو خوبصورت جوان کی جان ہلکان ہو چکی تھی۔ اس نے پھر گیلی ریت پر سر گرا کر آنکھیں موندیں تھیں۔ اور گہرے گہرے سانس بھرے۔
رائل خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں کچھ ہو بھی جاتا تو اس کی لاش تک نا ملتی اس کے گھر والوں کو۔ ایک بگڑا رئیس زادہ جسے دنیا کی ہر سہولت اور عیش وعشرت میسر تھی۔ اس کی اتنی درد ناک موت۔ اور یہ سوچ سوچتے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔ یوں نہیں تھا کہ وہ کوئی بزدل شخص تھا۔ ہاں مگر اب جو صورتحال اس کے ساتھ بن گئی تھی وہ کسی تیس مار خاں کے ساتھ بھی بنتی تو وہ بھی اس وقت چیخ چلا رہا ہوتا۔
مما،،،،، وہ کراہا۔
زخموں کی تاب نا لاتے وہ پھر نیم غنودگی میں جانے لگا تھا۔ جب کانوں میں ایک میٹھی نسوانی آواز سنائی دی۔
آپ ٹھیک ہیں، کچھ نہیں ہوگا آپ کو،، ٹھیک ہو جائیں گے آپ،،
اس نے زرا کی زرا آنکھیں کھولیں تھیں۔ اور جو منظر سامنے تھا۔ وہ اس قدر غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھا کہ ازلان سلطان کو لگا آج واقعی اس کا آخری وقت تھا کہ ویرانے کی کوئی چڑیل اس قدر بے تحاشا خوبصورت روپ لیے اس کے سر کے قریب اکڑوں حالت میں جھکی بیٹھی ہے۔
دد،،، دور،،،، ازلان سلطان کے لب پھڑپھڑائے۔ اور وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کون ہو تم؟ آخر بتاتی کیوں نہیں؟ ازلان نے ہزار مرتبہ کا پوچھا گیا سوال اس سے دوبارہ پوچھا۔ ایک ہفتہ ہو چلا تھا۔ اس لڑکی کو اس کی دیکھ بھال کرتے۔ اب تو اس کی ٹانگ بھی کچھ بہتر تھی۔
جب وہ بیہوش ہوا تھا اس کے بعد اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ مگر جب آنکھ کھلی تو شدید حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں کیونکہ وہ لکڑی کے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے ہٹ میں تھا۔ وہ تو اکیلی تھی۔ ازلان نے ہزار مرتبہ پوچھا کہ کیا تمھارے گھر والے بھی ادھر رہتے ہیں اس نے جواب نہیں دیا۔ نا وہ زیادہ بولتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ان کہی داستانیں تھیں۔ وہ بس ازلان کا چہرہ دیکھتی رہتی۔
اگر وہ پہلے دن اس کے اوپر جھکی ہوئی نا بولتی تو وہ تو اسے گونگی ہی تصور کر لیتا۔ مگر اب نہیں ۔
اور ازلان کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ خود تو اس کو وہاں لانے سے رہی کہاں وہ کسرتی جسم کا مالک گبرو جوان اور کہاں وہ بہت نازک سی جان۔ تو یہ سب کیسے ہوا۔ دل میں ہزاروں سوال تھے۔ کہ وہ کون تھی؟ اکیلی یہاں کیا کر رہی تھی آخر؟ اس کے گھر والے کہاں تھے؟ وہ یہاں تک کیسے پہنچی؟ چڑیل بھی نہیں تھی۔ پاؤں بھی سیدھے تھے۔ اور ایک مرتبہ ازلان کے سامنے اسے بری طرح چوٹ بھی لگی تھی۔اس کا لباس بھی عام نہیں تھا۔ عجیب کسی ست رنگی چمکتی پھسلن زدہ سی چیز کی شرٹ تھی۔ اور اسی چیز کی میکسی۔
اس آنکھوں میں اتنی الجھن دیکھ کر ایلا مسکرا دیتی تھی۔
اب بھی وہ اس کا سوال نظر انداز کر گئی۔ اور پتھر کے اوپر ایک جڑی بوٹی کا لیپ پسینے لگی۔مگر ازلان کی برداشت اب جواب دے چکی تھی اس کی ڈھٹائی پر،، تبھی بھنا کر بستر سے اٹھ کر اس کی جانب آیا تھا۔
اسے بازوؤں سے دبوچ کر ہٹ کی دیوار سے لگایا تھا۔ وہ جو اس سب کے لئے تیار نہیں تھی بوکھلا گئی۔ مگر آنکھوں میں خوف کی بجائے سنجیدگی تھی۔
تم آخر بتاتی کیوں نہیں ہو کہ کون ہو،،؟ گھر والے کہاں ہے تمھارے؟ مجھے جانتی بھی ہو کون ہون میں،، یہاں میرے ساتھ اکیلی پڑی ہو، اگر میں نے کچھ کر دیا تمھارے ساتھ تو،؟
ازلان نے غصے سے اپنی پکڑ سخت ترین کرتے اسے سچ اگلوانے کے لئے ڈرایا۔ مگر وہ تو مسکرا دی تھی۔
نہیں کر پاؤ گے کچھ بھی،، وہ اطمینان سے بولی۔ اور پہلی مرتبہ اتنا طویل جملہ بولا۔
واٹ،،؟ ازلان کو صدمہ ہی تو لگا۔
اگر میں تم جیسے بھاری بھرکم وہیل جیسے شخص کو یہاں لا سکتی ہوں تو اپنی حفاظت بھی اچھے سے کر سکتی ہوں،، وہ پھر سکون سے بولی۔
تم جانتی نہیں ہو مجھے، کتنا بڑا عیاش آدمی ہوں میں منٹوں میں تمھیں مسل ڈالوں گا،،، غصے سے پاگل ہوتے ازلان نے اس کا نازک جبڑا ہاتھ میں دبوچا۔ اور جو منہ میں آیا بک ڈالا۔
(مگر نہیں جانتا تھا وہ جو سامنے ہے وہ اتنی پراسرار طاقتوں کی مالک ہے کہ اس کی پچھلی تمام زندگی کا کچھہ چھٹہ اپنی آنکھوں کے سامنے کھول چکی تھی)
اچھا کوشش کر کے دیکھ لو،، ایلا نے سکون سے کہا۔ اب تو ازلان غصے سے عقل و ہوش کھو بیٹھا تھا تبھی اسے اس بستر پر پٹخا جس پر سے ابھی خود اٹھا تھا۔ اور اس کی جانب بڑھا۔ وہ مسکرائی۔ ازلان نے اس کے بازو دبوچے۔
مگر وہ تو کسی چکنی مچھلی کی طرح اس کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ ازلان کی ٹانگ میں درد ہوا تھا وہ واپس نڈھال سا اسی بستر پر چھت کی جانب منہ کر کے ڈھے گیا جس پر اب وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔
سنو مت تھکاؤ خود کو،، میں وہ ہوں جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے، میں بتاؤں بھی تو تم یقین نہیں کرو گے،، اسی لئے جانے دو اس بات کو،، جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ اور اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاؤ، تمھیں ایک بوٹ دے دی جائے گی، اور سمت بتا دی جائے گی، تم پہنچ جاؤ گے اپنی منزل پر،،
یہ کہتے ہوئے اس کی بڑی بڑی نگاہوں کے سرخ ڈوروں میں ایک اداسی اور نمی سی اتری تھی۔
تم کیوں کر رہی ہو میرے لئے یہ سب،، ازلان نے اس کی سرخ آنکھوں میں ہلکورے لیتی نمی میں ڈوبتے پوچھا تھا۔
یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ،، وہ اس کی جانب سے رخ موڑ گئی تھی۔
مگر مجھے پتہ ہے،، ازلان نے بہت اچانک اسے کھینچ کر اپنے سینے پر گرایا تھا۔ اس کی کمر کے گرد سختی سے بازو حمائل کیے مبادا وہ دوبارہ کہیں اس کی گرفت سی چکنے گھڑے کی طرح پھسل نا جائے۔
مجھ سے محبت کرتی ہو تم،، اور اب تو میں بھی مرتے دم تک تمھارا پیچھا نہیں چھوڑنے والا،، تو شرافت سے مجھے بتا دو کون ہو تم، بڑا ضدی ہوں، حقیقت جانے بغیر ایک انچ بھی نہیں ہلا پاؤ گی مجھے یہاں سے، نا میں اب یہاں سے جاؤں گا،، اگر گیا تو تم ساتھ جاؤ گی میرے،، میری بن کر، پوری طرح،،
بہکا سا لہجہ تھا۔ بہت جلد وہ اپنے دل کی کیفیات کو سمجھتا نتیجے پر پہنچا تھا۔ مگر سامنے والی کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں میں شدت اور مسلسل اضافہ ہی ہو رہا تھا۔
ایسا نہیں ہو سکتا،، میں کہیں نہیں جا سکتی، تم جاؤ یہان سے آج ہی،، وہ کربناک لہجے میں بولی تھی۔ ہاں مگر اس بات کی نفی نہیں کی تھی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی ہے۔ اور ازلان یہی سوچ کر گہرا مسکرایا تھا۔ تبھی بڑے حق سے اس کی نم آنکھوں پر محبت کی مہر ثبت کی تھی۔ پورے چہرے پر محبت کے پھول بکھیرے۔
میرا نام ازلان سلطان ہے اور تمھارا،؟
میرا نام کو،، میرا مطلب ہے ایلیا ہے،، اور مجھے پیار سے ایلا کہتے ہیں،، اور تم میری حقیقت نہیں،،،
میں جاننا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت،، ازلان نے اس کی بات کاٹی تھی۔ اب تو وہ چڑیل بھی ہوتی تو وہ الٹا اس سے چمٹ جاتا کجا کہ وہ اسے واپس لوٹنے کی بات کر رہی تھی۔
وہ اسے ہاتھ تھام کر آہستگی سے چلتے بیچ پر سمندر کی شورش زدہ لہروں تک لائی تھی۔ ایک بڑے پتھر پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پانی میں ہاتھ مارے۔ پتھر کے نیچے پانی بہت زیادہ گہرا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں ایک بڑی سیپ تھی اور دوسرے میں سمندری گہری سبز گھاس۔
یہ لو یہ کھاؤ،، ایلا نے سیپ کھول کر اس کے سامنے کی۔ ایک لجلجی سی ہلتی چیز اس کی آنکھوں کے سامنے آئی۔ ازلان نے متلی والا منہ بنایا۔
ہیے،، یہ تو مسلز ہیں، اووووووووو یخ،،، ہمارے مذہب میں یہ سب گند مند نہیں کھاتے ہم لوگ،، ازلان نے برے برے منہ بنائے تو ایلا ہنس دی۔
ٹھیک ہے پھر یہ کھاؤ،، سمندری گھاس اس کے آگے کی۔
واٹ،، ازلان چلایا۔ تمھیں کیا میں دریائی گھوڑا لگتا ہون جو یہ گندی بدبو دار گھس کھاؤں گا،، چھییییییییییی،،،،،،،،، وہ گندے گندے منہ بنا رہا تھا۔ جب بہت اچانک ایلا نے اس کے منہ میں وہ گھاس ٹھونسی اور اسے لے کر سمندر کی گہرائی میں کود گئی۔
وہ سمندر کی گہرائی میں اترے تو ازلان کو دو چیزوں سے شدید حیرت کے جھٹکے لگے۔ ایک تو وہ پانی میں سانس لے پا رہا تھا دوسرا ایک حیرت انگیز نظارا تھا اس کے سامنے۔
سمندر میں ایک تیز روشنی کا جھماکا سا ہوا تھا۔
اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک بے حد حسین و نازک جل پری میں بدل گئی۔
ایلا مایوسی سے اور بغور اس کے تاثرات دیکھ کر جانچ رہی تھی۔ جو اب حیرت زدہ رہنے کے بعد گہرا مسکرا رہا تھا۔ وہ تیرتا اس کے قریب تر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے۔ اور کمر کو نرمی سے تھاما۔ وہ جانتا تھا اگر وہ پانی میں اس وقت سانس لے پا رہا ہے تو بول بھی پائے گا۔۔
اوووووو،،،، اس کا مطلب مجھے ایک جل پری سے محبت ہو گئی ہے،، ویری کول،،،
تمھیں یہ سب آسان لگ رہا ہے،، ایلا نے اداسی سے کہا۔
بہت آسان،، تم جو بھی ہو جیسی بھی ہو، مجھے ہر حال میں قبول ہو، اور یہی تو ہوتی ہے محبت، اور میں جانتا ہوں، مجھے بھی دیکھتے ہی تمھیں ایک آدم زاد سے محبت ہو گئی، یہ تمھارے لیے کافی مشکل ہے، مگر اب ہم ایک ہو کر رہے گے، میں تمھارے بغیر نہیں جی سکتا بلکل بھی ایلا،، ازلان نے اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔
اور ایک محبت کی انوکھی ترین داستان کا آغاز ہوا تھا۔
ازلان اسے سنگاپور اپنے گھر لایا تھا یہ بول کر کے وہ ملائشیا رہتی ہے۔ انسانی رسموں رواج کے مطابق ان دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ پھر ازلان نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت lankayan island پر ہی گزارا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ڈریگن لینڈ کے کنگ راج اور کوئین وشہ دونوں اپنی پرنسز کو اٹھائے مرر کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔
گرینڈ فادر یہ پرنسز،، راج نے وہ گل گوتھنا سا وجود ان کے سامنے کیا۔ پرنسز اب جاگ رہی تھی۔ سنہری بال سنہری بڑی آنکھیں۔ گرینڈ فادر نے حسرت سے اس پری کو دیکھا۔
بلیک وچ کا کیا بنا کنگ راج،،
گرینڈ فادر میں نے اسے بہت ڈھونڈا،، مگر وہ نہیں ملی مجھے لگتا ہے طاقتیں جانے کے بعد وہ مر کھپ گئی ہو گی،،
گرینڈ فادر غور سے اس کی بات سن رہے تھے۔
مگر راج اور وشہ کے چہروں پر آج عجیب سی کشمکش اور فکروں کے سایے تھے۔
کیا بات ہے کنگ پریشان کیوں ہو،، کوئین بھی الجھی ہوئی ہے،،
گرینڈ فادر ہم اس لئے الجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے ہاں پرنسز پیدا ہوئی ہے تو اس کا پرنس کون ہوگا، ڈریگن لینڈ کا مستقبل کیا ہو گا،، کون ہوگا اس کا اگلا تخت نشین،، پرنسز بھی تب ہی اس تخت کی جانشین بن سکتی ہے، جب اس کا جوڑا مکمل ہو، ہمارے لوگوں کے اگلے کنگ اور کوئین کون ہوں گے،،
تمھیں سن کر حیرت ہوگی کنگ،، مگر یہ جان لو کہ ڈریگن لینڈ کا اگلا تخت نشین ایک آدم زاد ہوگا،، کیونکہ ڈریگن لینڈ کے لئے قدرت نے آگے کچھ اور ہی سوچ رکھا ہے،،
گرینڈ فادر کی بات سن کر راج اور وشہ بری طرح چونکے۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں گرینڈ فادر،،؟
سچ کہہ رہا ہوں کنگ راج،، مگر اس میں ایک خاص بات یہ ہوگی کہ اس کا باپ تو ایک انسان ہوگا مگر وہ ایک جل پری زاد ہوگا،، سمندر کا بے تاج بادشاہ،، پراسرار طاقتوں کا مالک۔ مون آف لیونر نائٹ میں پیدا ہوا آدم زاد،، اس کے سینے پر جل پری زاد کا ٹیٹو ہوگا،، پرنسز اور ڈریگن لینڈ کے لئے بے فکر ہو جاؤ راج،، بس پرنسز کی ابھی فکر کرو، اپنی جان سے بڑھ کر اس کی حفاظت کرو، کیونکہ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا، آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے، کسی انہونی کہ ہونے کی آہٹ سنائی دیتی ہے مجھے ہر وقت،،
گرینڈ فادر کے چہرے پر فکروں کے سائے تھے۔
گرینڈ فادر کی پہلی بات سن کر راج اور وشہ پر سکون ہو گئے،،مگر ان کے خدشے اور دھڑکے سن کر دونوں فکر مند ہوئے۔
ٹھیک ہے گرینڈ فادر،، ہم بہت خوش ہیں اپنی پرنسز کے لیے۔
مرر میں سے ہیولا غائب ہو گیا۔
وہ دونوں قدم قدم چلتے پہلی مرتبہ پرنسز کو لے کر عوام کے سامنے شاہی دربار میں آئے۔۔
اور اب تخت پر بیٹھے تھے۔ وشہ کی گود میں اس کی ننھی پری تھی۔۔
تبھی اس کو وہی بوڑھا نظر آیا جس نے اسے پرنسز کی پیدائش کی دعا دی تھی۔۔
وہ بوڑھا نگاہیں جھکائے کوئین کے پاس آیا۔۔
بابا تمھاری دعا پوری ہو گئی دیکھو پرنسز ہی آئی ہے۔۔ وشہ نے مسکرا کر کہا۔۔
جبکہ وہ بوڑھا کوئین کی گود میں بس اس بے تحاشا خوبصورت ننھی سی جان کو دیکھے جا رہا تھا۔ جو ماں کے دوپٹے کو ہاتھ میں لئے ہوئے تھی۔۔
سلامت رہے ہماری پرنسز ہمیشہ،،، اس نے ہماری پر زور دیا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
جشن کا سا سماں تھا۔۔ لوگ ناچ گا رہے تھے۔۔
دعوت عام کا اہتمام تھا۔۔
منظر بہت مکمل اور بھر پور تھا۔۔
تخت پر بیٹھے کنگ اور کوئین گود میں اپنی پرنسز کو لئے بے تحاشا خوش تھے۔اور ان کے سامنے ان کے خوشحال اور جشن مناتے لوگ۔۔
راج نے جھک کر عقیدت سے اپنی کوئین کے ماتھے پر لب رکھے۔ کوئین نے سکون سے اس کہ کندھے پر اپنا سر ٹکا دیا۔۔پرنسز آدھی کنگ اور آدھی کوئین کی گود میں تھی۔۔ جو کھیلتی کھیلتی گہری پرسکون نیند میں چلی گئی۔۔
آپ کے کنگ راج نے پرنسز کے لئے جو نام منتخب کیا ہے وہ ہے مایا وشہ،، راج نے اعلان کیا تو سارے لوگوں نے دعائیں دے کر پرنسز کے سلامت رہنے کی دعائیں دیں۔ وشہ نے مسکرا کر راج کو دیکھا جانتی تھی۔ اس کے کنگ کو اس سے اس قدر محبت ہے کہ اپنی بیٹی کا نام بھی اس نے اسی سے منسوب کیا ہے۔
لوگوں کی بھیڑ میں کھڑا وہ بوڑھا شخص زیرِ لب بڑبڑایا۔
مایا وش،،،،،
جشن اختتام پذیر ہوا تو راج اور وشہ اپنی خواب گاہ میں چلے آئے تھے۔ وشہ نے پرنسز کو پریوں کی بنائی گئی پھولوں کی کاٹ میں لٹایا۔
راج کسی بہت گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔ وشہ پرنسز کو لٹا کر راج کے قریب آئی اور اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھا۔
کیا ہوا راج آپ کس گہری سوچ میں ہیں،، وشہ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
وشہ، تم جانتی ہو انسانی دنیا میں جب میں تمھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے نگر نگر کی خاک چھان رہا تھا تو ایک دن میری ملاقات ایک جل پری سے ہوئی تھی، اس کا نام ایلا تھا، اور وہ اوشن کے تخت کی اگلی جانشین تھی، پھر ہماری دوستی ہو گئی، اس کی شادی اوشن کے پرنس سے ہونے والی تھی مگر اس کی زندگی میں ایک آدم زاد چلا آیا ہوگا اور اب مجھے لگتا ہے کہ ہماری پرنسز کا مستقبل کوئین ایلا سے ہی جڑا ہے تو پرنسز کے فیوچر کو محفوظ بنانے کے لئے مجھے اپنی دوست مرمیڈ کوئین ایلا سے ملنا چاہیے،، تاکہ اگر اس کے ہاں پرنس کی پیدائش ہوئی ہو تو ہم ڈریگن لینڈ کی رسموں کے مطابق ان کی شادی کر کے ان کی پاورز اور روحیں ایک دوسرے سے جوڑ دیں،،
کیا واقعی راج آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا،، اور اب بتا ہی رہے ہیں تو تفصیل سے بتائیں پلیز،،
ہممم یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اٹھارا کا ہوا اور تمھاری تلاش شروع کی، میں اس سے ملا تھا، وہ کچھ پریشان تھی،، اور مجھ سے کچھ مدد چاہتی تھی مگر میں جب واشنگٹن سے نیو یارک گیا تو اسے بھول ہی گیا، مگر اب ہم صبح ہی اس سے ملنے چلیں گے،،
وہ کہاں ہے راج،، وشہ کو تجسس ہوا تھا۔ آخر اوشن کوئین ایلا سے ان کی پرنسز کا فیوچر جو جڑا تھا۔
پوری کائنات میں اوشن تو ایک ہی ہے میری پاگل کوئین اور وہ صرف زمین پر ہے تو ہمیں زمین پر ہی جانا پڑے گا ناں،، راج نے لاڈ سے وشہ کی چھوٹی سی ناک دباتے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے راج ہم ضرور جائیں گے اور اسی بہانے ڈیڈ، جمی بھائی اور مما سے بھی مل لیں گے۔
اس ماریہ کا نام تو مت ہی لو کوئین،، اور فی الحال اپنے کنگ پر توجہ دو، کیوں نا ایک مرتبہ پھر کوشش کی جائے،، راج نے برا سا منہ بناتے اینڈ میں شرارت سے کہا۔
کس چیز کی کوشش راج،، وہ متجسس تھی۔ مگر نہیں جانتی تھی راج کی اگلی بات سن کر چھپنے کی جگہ ڈھونڈھے گی۔
ڈریگن لینڈ کے پرنس کو اس دنیا میں لانے کی کوشش،، مایا وشہ کو اس کا بھائی دینے کی کوشش،،، راج نے سنجیدگی سے کہتے اس کو اپنی بانہوں کو حصار میں لیا۔ وشہ جو کہ غور سے اس کی بات سن رہی تھی اس کی شرارت سمجھ کر اپنے کنگ کے سینے پر جھلا کر مکے برسائے۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اور اس کے گرد بانہوں کا گھیرا مزید تنگ کیا۔۔
اے کاش ان کی یہ خوشیاں یونہی برقرار رہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ دو منحوس بھیانک کالے سائے شیطان لوسیفر کو خوش کر کے اس سے اپنی طاقتیں دوگنی کروا کر اس خوبصورت سی دنیا فیری ٹوپیا میں اچانک داخل ہوئے تھے۔ جہاں بس پری اور پری زاد کا ایک جہان آباد تھا۔
جہاں جنت نظیر نظارے تھے۔ ہر طرف پرسکون بہتے جھرنے، اڑتی تتلیاں، رنگ برنگے بادلوں سے اٹھکیلیاں کرتی پریاں تھیں جو پھولوں سے نکل نکل کر ہر سو پھیل کر رنگ بکھیر رہیں تھیں۔
جہاں پیلے ایسے نظارے تھے وہان اب کنگ راج اور کوئین وشہ نے آکر ہر طرف تباہی پھیلا تھی۔ راج ڈریگن بنا منہ سے آگ اگل کر ہر چیز جگہ اور پری جلا کر خاکستر کر رہا تھا۔وہاں تو سب تھی ہء پریاں اور پری زاد جو جل جل کر راکھ بنتے گر رہے تھے۔ اور وشہ تیزی سے آگے بڑھتی اپنی جادوئی چیخ سے ہر چیز بھسم کرتی راکھ کا ڈھیر بنا رہی تھی۔
شاہی محل میں بھگدڑ مچ چکی تھی۔ کنگ اور کوئین جانتے تھے وہ ڈریگن کنگ راج اور کوئین وشہ کا مقابلہ نہیں کر سکے گے۔ وہ تو ان کے اتنے اچھے دوست تھے تو اب کیا ہوا تھا کہ انھوںنے فیری ٹوپیا پر حملہ کر دیا تھا۔ یقینا وہ فیری ٹوپیا پر بھی قبضہ کر کے یہاں بھی حکومت کرنا چاہتے تھے۔ مفر اس کے لئے ان کی معصوم رعایا کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہر چیز جلا کر خاکستر کر دینے کی کیا ضرورت تھی۔
دور کھڑا سب سے چھوٹا پرنس ویام اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو روتا دیکھ رہا تھا۔ ہر طرح دھواں اور چیخ و پکار تھی۔ ایک ڈریگن اب محل کے اوپر اڑ رہا تھا۔ اور وشہ محل میں داخل ہو چکی تھی۔
کنگ راج بھی اب اپنے انسانی روپ میں محل میں اتر کر وشہ کے ہمقدم ہوا تھا۔
پرنس ویام کو اس کے باپ نے اپنا پورا جادو لگا کر طلسمی چادر اوڑھا کر سب کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا تھا۔
صرف اسے ہی کیوں؟اس کے بہن بھائی میں سے کسی کو کیوں نہیں؟ یہ تو وہ ننھا سا بچہ بلکل بھی نہیں سمجھ پایا تھا۔
مگر اب پرنس ویام نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو پھوٹ پھوٹ کر کنگ راج اور کوئین وشہ کے قدموں میں گرتے دیکھا تھا۔ پرنس ویام کے دل میں غم وغصے اور نفرت کا ایک طوفان سا اٹھا تھا۔ مگر صد افسوس وہ اتنا چھوٹا تھا کہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔
رحم کریں ہم پر، کنگ راج،، کوئین وشہ ہماری معصوم رعایا پر،، کیوں کر رہے ہو، اپ لوگ یاسا، آخر کیا گستاخی ہوئی ہم سے،، کوئین کاشیہ نے وشہ کے سامنے جھکتے کہا تھا جس کے لبوں پر استہزیہ سی مسکراہٹ تھی۔
ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس تم لوگوں کی یہ ننھی منی جانوں کے علاوہ،، یہ بول کر وشہ نے ہاتھ بلند کیا تھا۔ ایک کوندا سا لپکا تھا اور کوئین کاشیہ کے پر جل کر راکھ ہوئے تھے۔ وہ جھٹکے سے محل کے مخملیں فرش پر گری تھی اور پھر اٹھ نہیں پائی۔
اپنی ماں کی اتنی دردناک موت پر ویام کے بہن بھائیوں کی دلخراش چیخیں فضا میں بلند ہوئیں تو ویام کا پورا وجود لرز گیا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ دردناک منظر دیکھ رہا تھا۔
پھر ایک ایک کر اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے باپ اور بہن بھائیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ وہ چیختا چلاتا بیہوش ہو چکا تھا۔
کنگ راج اور کوئین وشہ بھیانک اور مکروہ قہقہے لگاتے وہاں کی ہر چیز تہس نہس کر کے وہاں سے واپس لوٹ گئے تھے۔
But that’s not the end of the story it was the beginning,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
