No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟ شاہ جب اہنے کمرے میں. آیا تو روحی تو دیکھ کر ہی اس کا پارہ ہائی ہو گیا..
نا جانے کیوں اسے سامنے کھڑی لڑکی سے چڑ سی تھی ۔
وہ میں صفائی کرنے آئی تھی ۔روحی نے چمکتی آنکھوں سے شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہو گئی؟ شاہ نے آبرو اچکاتے پوچھا
جی ہو گئی ہے میں جانے ہی والی تھی آپ نے روک لیا اور میری امی کب سے مجھے آوازیں دے رہی ہے اب میں جاؤ
روحی نے فرفر بولتے ہوئے پوچھا
اور بنا شاہ کا جواب سننے وہاں سے جانے لگی
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے باتیں سنانے کی..
شاہ نے غصے میں روحی کا بازوں پکڑ کر اسے دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔
روحی کو لگا دیوار کے ساتھ لگنے سے اس کی کمر لازمی زخمی ہو گئی ہو گئ ۔
درد کی شدت سے روحی نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی اور ہونٹوں کو پیوست کیے درد کو برداشت کرنے لگی..
شاہ کی انگلیاں اسے اپنے بازوں میں پیوست ہوتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی
ریان شاہ اس وقت اتنے غصے میں تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ روحی کے بہت قریب کھڑا تھا..
ایک معمولی سی ملازمہ مجھے باتیں سنائے گی…
ریان شاہ کو…
تمھاری یاد ہمت کیسے ہوئی ۔
ریان نے دھاڑے ہوئے کہا
ریان کی اس بات نے روحی کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا
اپنی درد کی پرواہ کیے بغیر روحی نے آنکھیں کھولی اور شاہ کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور دھکیلا…
میں شکر ادا کرتی ہوں کہ میں ایک ملازمہ کی بیٹی ہوں اور مجھے یہ ماننے میں کوئی قباحت نہیں ہے میری ماں محنت کرتی ہے
اور محنت کرنے میں کیسی شرم
روحی نے مضبوط لہجے میں کہا ریان کی بات سے اس کے آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے تھے
لیکن شاہ کے سامنے آنسو بہا کر خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
روحی نے غصے میں کہا اور بنا شاہ کی نظروں کی پرواہ کیے کمرے سے نکل گئی ۔
شاہ نے غصے سے اپنی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے سارے قیمتی پرفیوم کو ہاتھ مار کر زمین پر گرا دیا جو گرتے ہی چکنا چور ہو گئے..
شاہ نہیں جانتا تھا کیوں روحی کو دیکھتے ہی اسے غصہ آجاتا تھا ۔
شاہ نے واشروم جاتے ہی شاور اون کیا اور اس کے نیچے کھڑا ہو گیا
💖💖💖💖💖💖
روحی نے شاہ کے کمرے سے باہر آتے لمبا سانس لیا اور خود کو نارمل کیا کیونکہ وہ خود کی وجہ سے اپنی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی..
اندر جو کچھ ہوا اسے بھلانے میں روحی کو ایک سیکنڈ لگا اور پھر سے چہرے پر مسکراہٹ لیے کچن میں. اپنی ماں کے پاس چلی گی..
روحی تو آگئی جا بڑے شاہ کے کمرے میں پانی کا جگ رکھ آ
روحی کی ماں نے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا..
جی امی روحی نے مسکراتی ہوئے کہا اور جگ کو اٹھا کر باہر آگی..
روحی کی ماں شاہ فیملی کی کافی پرانی اور پر اعتماد ملازمہ تھی اور روحی کو شاہ کی ماں صفیہ بیگم نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرح پالا تھا
صفیہ بیگم ایک سلجھی ہوئی خاتون تھیں ۔
روحی قاسم شاہ جو ریان کا باپ ہے اس کے روم میں داخل ہوئی اور ٹیبل پر جگ رکھ کر جانے لگی..
جب اسے اپنے قریب تر قاسم شاہ کی آواز سنائی دی..
روحی آواز سن کر ایک دم اچھل پڑی کیونکہ جب وہ کمرے میں آئی تو اس وقت کوئی نہیں تھا
ارے تم تو ڈر گئ ہو پلیز مجھے پانی دینا قاسم نے گہری نظروں سے روحی کو دیکھتے ہوئے کہا اور سامنے پڑے بڑے سے صوفے پر جا کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا…
جی ابھی دیتی ہوں روحی نے جلدی سے کہا اور گلاس میں پانی ڈالا اور قاسم شاہ کی طرف بڑھی..
جب اس نے پانی کا گلاس قاسم شاہ کو پکڑایا تو قاسم نےگلاس پکڑتے ہوئے اپنا ہاتھ روحی کے ہاتھ سے ٹچ کیا ۔
روحی نے گھبرا کر جلدی سے پانی کا گلاس قاسم شاہ کو پکڑایا اور خود کمرے سے نکل گئ ۔
روحی کو قاسم شاہ ہمیشہ سے کچھ عجیب لگا تھا قاسم شاہ جن نظروں سے روحی کو دیکھتا تھا اسے بلکل بھی پسند نہیں تھا
💖💖💖💖💖💖💖
آرزو کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو اپنے کمرے میں پایا..
ہوش میں آتے ہی اسے اپنا نکاح یاد آیا اور اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی
عرشمان آرزو کے کمرے میں ہی موجود اور اس کے تاثرات نوٹ کررہا تھا لیکن شاید آرزو عرشمان کی موجودگی سے لاعلم تھی ۔اس لیے اس نے نوت نہیں کیا
کیوں رو رہی ہو؟
عرشمان نے سرد لہجے میں پوچھا اسے آرزو کا رونا اچھا نہیں لگا.
اپنے کمرے میں کسی دوسرے وجود کی آواز سن کر آرزو نے حیرانگی سے سامنے کھڑے عرشمان کو دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
آرزو خاموش نظروں سے عرشمان کو تکتی رہی اس نے جواب نہیں دیا
جان عرشمان میری ایک بات کو اپنے چھوٹے سے دماغ میں اچھے سے بیٹھا لو
آج سفیان آرہا ہے تم اس کے ساتھ کہی نہیں جاؤ گی اگر وہ زرا سا بھی تمھارے قریب آیا یا اس نے تمہیں چھونے کی کوشش کی تو بےبی تم اچھے سے جانتی ہو پھر میں کیا کروں گا
عرشمان کا لہجہ دھمکی آمیز تھا ۔
اس نے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں. آرزو کا چہرہ بھرا اور اس کے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیا
آرزو نے آنکھیں بند کر لی تھیں ابھی بھی وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی
عرشمان آرزو سے پیچھے ہٹا اور ایک نظر اس کے روئے ہوئے سرخ چہرے پر ڈال کر کمرے سے نکل گیا ۔
تم بہت برے ہو عرشمان
آرزو نے بند آنکھوں سے آنسوؤں بہاتے ہوئے دل میں کہا ایک اور امتحان اس کا منتظر تھا.
💖💖💖💖💖💖
کہاں جا رہی ہو؟
آکف پارکنگ ایریا میں آیا تو اس نے ایزل سے پوچھا ۔جو اپنے خیالوں میں گم ناجانے کیسے یہاں پہنچ گئ تھی ۔
وہ میں بس گھر جا رہی ہوں
ایزل نے جلدی سے کہا اور وہاں سے جانے لگی ۔
چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں تھوڑی دیر میں اندھیرا ہو جائے گا اور تمہیں بس بھی نہیں ملے گی..
آکف نے سنجیدگی بسے کہا ۔
شکریہ سر لیکن میں چلی جاؤ گی ایزل نے سرد لہجے میں کہا….
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی
آکف نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا
ایزل وہاں سے نکل کر سڑک پر لمبے لمبے ڈاگ بڑھتے چل رہی تھی..
آج اسے زیادہ دیر ہو گی تھی بس کا انتظار کرنا بےکار تھا کیونکہ وہ جا چکی تھی..
ایزل اپنی بھابھی کے بارے میں سوچ رہی تھی
جب کچھ لڑکے اس کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے.
ایزل نے بر وقت اپنے قدموں کو بریک لگائی ورنہ سامنے کھڑے لڑکوں میں جا لگتی وہ لڑکے دیکھنے میں ہی نشے میں دھت لگ رہے تھے..
ایزل نے ایک ناگوار نگاہ ان لڑکوں پر ڈالی اور سائیڈ سے جانے لگی جب ان میں سے ایک نے ایزل کا ہاتھ پکڑا..
ہاتھ چھوڑو میرا ایزل نے غصے سے کہا جبکہ دل اس کا سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا ۔
ایزل اس سے پہلے اپنا ہاتھ چھڑواتی کسی نے پیچھے سے آکر اس کا ہاتھ اُس لڑکے کے ہاتھ سے الگ کیا..
ایزل نے اپنے محسن کی طرف دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ آکف مرتضی تھا..
گاڑی میں بیٹھو آکف نے سرد لہجے میں. ایزل کو کہا
لیکن میں…
اس سے پہلے ایزل اپنی بات پوری کرتی آکف نے سرخ آنکھیں ایزل کے سہمے ہوئے چہرے پر گاڑھی آکف کی آنکھوں کی سرد مہری دیکھ کر ایزل کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی محسوس ہوئی..
ایزل خاموشی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گی۔
آکف ان لڑکوں کی طرف بڑھا لیکن ان سب نے اپنے ہاتھ سلنڈر کرنے والے انداز میں اٹھا دیے اور وہاں سے چلے گئے ۔
آکف گاڑی میں آکر بیٹھ گیا
اور اپنی سیٹ بیلٹ باندھنے کے بعد ایزل کو بھی باندھنے کا کہا..
ایزل نے اپنی بیلٹ باندھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی وہ اتنی مہنگی کار میں نہیں بیٹھی تھی اور اسکے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھے ۔
مجھ سے نہیں ہو رہا ایزل نے معصومیت سے کہا جبکہ ایزل کی بات سن کر آکف کے ہونٹ ہلکی سی مسکراہٹ میں ڈھلے…
آکف ایزل کی طرف مڑا اور اس کی سیٹ بیلٹ باندھنے لگا
اپنے قریب تر آکف کو محسوس کرکے ایزل کو عجیب لگ رہا تھا اس کے پرفیوم کی خوشبو ایزل کا دماغ چکرا رہی تھی ۔
آکف بیلٹ باندھ کر پیچھے ہو گیا اور اس نے گاڑی سٹارٹ کر دی ۔
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی آکف نے گھر کا ایڈریس پوچھا ایزل نے راستہ بتایا اور پھر سے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی..
جب اس کا گھر آیا تو اپنا بیگ پکڑ کر گاڑی سے نکل گئی..
انسان شکریہ ہی ادا کر دیتا ہے آکف نے جاتی ہوئی ایزل کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا ۔
لیکن ایزل کو اپنی بھابھی کی اتنی ٹینشن تھی کہ وہ شکریہ ادا کرنا بھول گی ۔
💖💖💖💖💖💖
ہیلو ڈیڈ کیسے ہیں آپ؟
مان نے فون کان سے لگاتے ہی اپنے باپ سے پوچھا؟
بیٹا جی لگتا ہے آپ واپسی کا راستہ بھول گئے ہو ۔میں نے سوچا آپ کو یاد کروا دوں ۔
شاداب نے میٹھا سا طنز کرتے ہوئے کہا ۔
باپ کی بات سن کر مان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔
ڈیڈ میں کل واپس آرہا ہوں مان نے سنجیدگی سے کہا ۔
چلو یہ تو اچھی بات ہے میں نے سوچا تمہیں بتا دو آرزو کی منگنی کی ڈیٹ فائنل کر دی ہے
لیکن سفیان نکاح کرنا چاہتا ہے مجھے اور علیدان کو تو اس میں کسی قسم کی قباحت نظر نہیں آئی تم بھی بتا دو تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں؟
شاداب ملک نے بھی سنجیدگی سے پوچھا
ڈیڈ یہ آرزو کی پوری زندگی کا معاملہ ہے اور میں اس وقت تک آپ کو ہاں نہیں کرسکتا جب تک میں لڑکے کے بارے میں خود سب کچھ نا جان لوں
اور سب سے اہم بات آرزو کی پسندیدگی ہے میں اس سے بھی پوچھوں گا اگر وہ راضی ہوئی تو مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن پہلے میں اپنی بہن سے بات کروں گا
مان نے کہا
ٹھیک ہے بیٹا تم ویسے بھی کل آرہے ہو تو خود ہی آکر تسلی کر لینا شاداب نے خوشی سے کہا..
اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ان کو مان کی بات بہت پسند آئی تھی ہر ایک بھائی کو ایسا ہی ہونا چاہیے..
آج شاداب ملک کو اپنے بیٹے کی سوچ پر فخر محسوس ہو رہا تھا…
💖💖💖💖💖💖
صائم بیٹا تمھاری طبعیت ٹھیک ہے؟ کوثر نے اپنے بیٹے سے پوچھا جو پیچھلے کچھ دنوں سے ان کو بے چین سا لگا تھا..
ماما میں ٹھیک ہوں آپ نے کومل کے بارے میں بات کرنی تھی؟
صائم نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا وہ خود اپنی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا اپنی ماں کو کیا بتاتا ۔
ہاں مان کے واپس آتے ہی رابعہ کہہ رہی تھی کہ کومل اور مان کا بھی نکاح علیدان اور فضا کے ساتھ کر دیا جائے…
کوثر بیگم نے کہا
ماما مان کومل کو اپنی فرینڈ مانتا ہے اور جتنا میں اسے جانتا ہوں وہ کومل سے نکاح نہیں کرے گا..
اپ لوگوں نے مان سے بات کی؟ صائم نے سنجیدگی سے پوچھا
بیٹا رابعہ کہہ رہی تھی مان کا مسئلہ نہیں ہے
کوثر نے کہا
ماما مان کا ہی تو مسئلہ ہے اور آپ لوگ اسے کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے رہے ہو
اور یہ بات تو وہ خود آپ لوگوں کو آکر بتا دے گا ۔اس لیے آپ دونوں بہنیں کومل اور مان کی شادی کا خواب نا دیکھے..
صائم نے اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
لیکن بیٹا رابعہ تو شروع سے کہتی آئی ہے کہ میری دونوں بیٹیاں اس کی بہو بنے گئیں کوثر نے پریشانی سے کہا ۔
ماما یہی تو بات ہے ماں باپ اپنی خوشی دیکھتے ہیں اور زبردست اپنے بچوں کی شادیاں ان کی مرضی کے خلاف کر دیتے ہیں تو پھر ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں..
جھگڑے ہوتے ہیں بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے اس لیے بچوں کی خوشی دیکھنی چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں..
لیکن یہاں بات کسی نارمل انسان کی نہیں ہو رہی بلکہ مان کی ہورہی ہے جو سر پھیرا ہونے کے ساتھ ضدی بھی ہے..
صائم نے اپنی ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا
اب میں چلاتا ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے صائم نے کہا اور وہاں سے چلا گیا پیچھے اس کی باتوں نے اس کی ماں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
💖💖💖💖💖💖
اب ریان شاہ کیسا لگا آپ لوگوں کو؟ 😅😅
وہ صرف مہرو کے ساتھ ہی اچھا ہے ورنہ ملک سے کم نہیں…
